عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ تشہد کے بعد یہ کہتے تھے: اللهم إني أعوذ بک من عذاب جهنم وأعوذ بک من عذاب القبر وأعوذ بک من فتنة الدجال وأعوذ بک من فتنة المحيا والممات یعنی اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں جہنم کے عذاب سے، تیری پناہ چاہتا ہوں قبر کے عذاب سے، تیری پناہ چاہتا ہوں دجال کے فتنہ سے اور تیری پناہ چاہتا ہوں زندگی اور موت کے فتنے سے ۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Prophet ﷺ used to say after the tashahhud: O Allah, I seek refuge in Thee from the punishment in Hell, and I seek refuge in Thee from the punishment in the grave, and I seek refuge in Thee from the trial of antichrist, and I seek refuge in Thee from the trial of life and death.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٢٥ (٥٨٨)، سنن الترمذی/الدعوات ٧٧ (٣٤٩٤)، سنن النسائی/الجنائز ١١٥ (٢٠٦٥)، سنن ابن ماجہ/الدعاء ٣ (٣٨٤٠)، (تحفة الأشراف: ٥٧٢١)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/القرآن ٨(٣٣)، مسند احمد (١/٢٤٢، ٢٥٨، ٢٩٨، ٣١١)، ویأتي برقم (١٥٤٢) (حسن صحیح )
محجن بن ادرع ؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ مسجد میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ ایک شخص نے اپنی نماز پوری کرلی، اور تشہد میں بیٹھا ہے اور کہہ رہا ہے: اللهم إني أسألك يا الله الأحد الصمد الذي لم يلد ولم يولد ولم يكن له کفوا أحد أن تغفر لي ذنوبي إنك أنت الغفور الرحيم اے تنہا و اکیلا، باپ بیٹا سے بےنیاز، بےمقابل ولا مثیل اللہ! میں تجھ سے یہ سوال کرتا ہوں کہ تو میری گناہوں کو بخش دے، بیشک تو بہت بخشش کرنے والا مہربان ہے یہ سن کر آپ نے تین مرتبہ یہ فرمایا: اسے بخش دیا گیا، اسے بخش دیا گیا ۔
Narrated Mihjan ibn al-Adra: The Messenger of Allah ﷺ entered the mosque and saw a man who had finished his prayer, and was reciting the tashahhud saying: O Allah, I ask you, O Allah, the One, the eternally besought of all, He begetteth not, nor was He begotten, and there is none comparable unto Him, that you may forgive me my sins, you are Most Forgiving, Merciful. He (the Prophet) said: He was forgiven (repeating three times. )
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/السھو ٥٨ (١٣٠٢)، (تحفة الأشراف: ١١٢١٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٣٨) (صحیح )
علی بن عبدالرحمٰن معاوی کہتے ہیں عبداللہ بن عمر ؓ نے مجھے نماز میں کنکریوں سے کھیلتے ہوئے دیکھا، جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو مجھے اس سے منع کیا اور کہا: تم نماز میں اسی طرح کرو جیسے رسول اللہ ﷺ کرتے تھے، میں نے عرض کیا: رسول اللہ ﷺ کیسے کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: جب آپ ﷺ نماز میں بیٹھتے تو اپنی داہنی ہتھیلی اپنی داہنی ران پر رکھتے اور اپنی تمام انگلیاں سمیٹ لیتے اور شہادت کی انگلی جو انگوٹھے سے متصل ہوتی ہے، اشارہ کرتے ١ ؎ اور اپنی بائیں ہتھیلی بائیں ران پر رکھتے۔
Abdur-Rahman al-Muawl said: Abdullah bin Umar (RA) saw me playing with pebbles during prayer. When he finished his prayer, he forbade me (to do so) and said: Do as the Messenger ﷺ used to do. I asked him: How would the Messenger of Allah ﷺ do? He said: When he sat during the prayer (for reciting the tashahhud), he placed his right hand on his right thigh, and clenched all his fingers, and pointed with the finger which is adjacent to the thumb, and he placed his left hand on his left thigh.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے سلام پھیرنے تک برابر شہادت کی انگلی سے اشارہ کرنے کا ثبوت ملتا ہے، اشارہ کرنے کے بعد انگلی کے گرا لینے یا لا إله پر اٹھانے اور إلا الله پر گرا لینے کی کوئی دلیل حدیث میں نہیں ہے۔
عبداللہ بن زبیر ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز میں بیٹھتے تو اپنا بایاں پاؤں داہنی ران اور پنڈلی کے نیچے کرتے اور داہنا پاؤں بچھا دیتے اور بایاں ہاتھ اپنے بائیں گھٹنے پر رکھتے اور اپنا داہنا ہاتھ اپنی داہنی ران پر رکھتے اور اپنی انگلی سے اشارہ کرتے، عبدالواحد نے ہمیں شہادت کی انگلی سے اشارہ کر کے دکھایا۔
Abdullah bin al-Zubair said: When the Messenger of Allah ﷺ sat during the prayer ( at the tashahhud), he placed his left foot under his right thigh and shin and spread his right foot and placed his left hand on his left knee and placed his right hand on his right thigh, and he pointed with his forefinger.
عبداللہ بن زبیر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب تشہد پڑھتے تو اپنی انگلی سے اشارے کرتے تھے اور اسے حرکت نہیں دیتے تھے ١ ؎۔ ابن جریج کہتے ہیں کہ عمرو بن دینار نے یہ اضافہ کیا ہے کہ مجھے عامر نے اپنے والد کے واسطہ سے خبر دی ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو اسی طرح تشہد پڑھتے دیکھا ہے اور نبی اکرم ﷺ اپنا بایاں ہاتھ اپنی بائیں ران پر رکھتے تھے۔
Narrated Abdullah ibn az-Zubayr: The Prophet ﷺ used to point with his finger (at the end of the tashahhud) and he would not move it. Ibn Juraij said: And Amr bin Dinar added: He (Ziyad) said: Amir informed me from his father that he saw the Prophet ﷺ supplicating like that. And the Prophet ﷺ would brace himself with his left hand on his left knee.
Notes · وضاحت
١ ؎: اور اسے حرکت نہیں دیتے تھے کا جملہ شاذ ہے جیسا کہ تخریج سے ظاہر ہے اس کے برخلاف صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ نبی کریم ﷺ اپنی انگلی کو اٹھانے کے بعد اسے حرکت دے دے کر دعا کرتے اور فرماتے تھے کہ یہ شہادت کی انگلی شیطان پر لوہے سے بھی زیادہ سخت ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/السہو ٣٥ (١٢٧١)، (تحفة الأشراف: ٥٢٦٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣) (شاذ) ( ولا يحركها کے جملہ کے ساتھ شاذ ہے) قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ وَزَادَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ: قَالَ أَخْبَرَنِي عَامِرٌ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ ﷺ يَدْعُو كَذَلِكَ، وَيَتَحَامَلُ النَّبِيُّ ﷺ بِيَدِهِ الْيُسْرَى عَلَى فَخْذِهِ الْيُسْرَى (صحیح )
اس طریق سے بھی عبداللہ بن زبیر ؓ سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے: آپ کی نظر اشارہ سے آگے نہیں بڑھتی تھی اور حجاج کی حدیث (یعنی پچھلی حدیث) زیادہ مکمل ہے۔
Abdullah bin al-Zubair narrated the above mentioned tradition on the authority of his father saying: He kept his look fixed on the finger he was pointing.
نمیر خزاعی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو اپنا داہنا ہاتھ اپنی داہنی ران پر رکھے ہوئے اور شہادت کی انگلی کو اٹھائے ہوئے دیکھا، آپ نے اسے تھوڑا سا جھکا رکھا تھا۔
Narrated Abu Malik Numayr al-Khuzai (RA) : I saw the Prophet (peace be upon him placing his right hand on his right thigh and raising his forefinger curving it a little.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/السھو ٣٦ (١٢٧٢)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٢٧ (٩١١)، (تحفة الأشراف: ١١٧١٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٧١) (ضعیف) (اس کے راوی مالک لین الحدیث ہیں )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے: آدمی کو نماز میں اپنے ہاتھ پر ٹیک لگا کر بیٹھنے سے ، اور ابن شبویہ کی روایت میں ہے: آدمی کو نماز میں اپنے ہاتھ پر ٹیک لگانے سے منع کیا ہے ، اور ابن رافع کی روایت میں ہے: آدمی کو اپنے ہاتھ پر ٹیک لگا کر نماز پڑھنے سے منع کیا ہے ، اور انہوں نے اسے باب الرفع من السجود میں ذکر کیا ہے، اور ابن عبدالملک کی روایت میں ہے کہ آدمی کو نماز میں اٹھتے وقت اپنے دونوں ہاتھ پر ٹیک لگانے سے منع کیا ہے ١ ؎۔
Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : The Messenger of Allah ﷺ prohibited, according to the version of Ahmad ibn Hanbal, that a person should sit during prayer while he is leaning on his hand. According to the version of Ibn Shibwayh, he prohibited that a man should lean on his hand during prayer. According to the version of Ibn Rafi, he prohibited that a man should pray while he is leaning on his hand, and he mentioned this tradition in the chapter on Raising the head after prostration. According to the version of Ibn AbdulMalik, he prohibited that a man should lean on his hand when he stands up after prostration.
Notes · وضاحت
١ ؎: عبدالرزاق کے تلامذہ نے اسے چار وجوہ پر روایت کیا ہے جس میں دوسری اور تیسری وجہ پہلی وجہ کے مخالف نہیں البتہ چوتھی پہلی کے صریح مخالف ہے اور ترجیح پہلی وجہ کو حاصل ہے کیونکہ اس کے روایت کرنے والے احمد بن حنبل ہیں جو حفظ وضبط اور اتقان میں مشہور ائمہ میں سے ہیں اس کے برخلاف ابن عبدالملک کو اگرچہ نسائی وغیرہ نے ثقہ کہا ہے لیکن مسلم نے انہیں ثقہ کثیر الخطا کہا ہے ایسی صورت میں ثقہ کی مخالفت سے ان کی روایت منکر ہوگی اسی وجہ سے تخریج میں ابن عبدالملک کی روایت کو منکر کہا گیا ہے، رہی وہ حدیث جس میں یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ اپنے دونوں ہاتھوں پر ٹیک لگائے بغیر تیر کی مانند اٹھتے تھے تو وہ من گھڑت اور موضوع ہے، سجدے سے دونوں ہاتھ ٹیک کر اٹھنے کے مسنون ہونے کی دلیل صحیح بخاری میں مالک بن حویرث ؓ کی روایت ہے جس میں ہے: وإذا رفع رأسه عن السجدة الثانية واعتمد على الأرض ثم قام یعنی رسول اللہ ﷺ جب دوسرے سجدہ سے اپنا سر اٹھاتے تو بیٹھتے اور زمین پر ٹیک لگاتے پھر کھڑے ہوتے۔
Takhrij · تخریج
تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٧٥٠٤)، وقد أخرجہ: حم (٢/١٤٧) (صحیح )
اسماعیل بن امیہ کہتے ہیں میں نے نافع سے اس شخص کے بارے میں پوچھا جو نماز پڑھ رہا ہو اور وہ اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو ایک دوسرے میں پیوست کئے ہوئے ہو، تو انہوں نے کہا: ابن عمر ؓ کا کہنا ہے کہ یہ غضب کی شکار مغضوب عليهم قوم یہود کی نماز ہے۔
Ismall bin Umayyah said: I asked about a man who intertwines his fingers while he is engaged in prayer. He said that Ibn Umar had said: This is the prayer of those who earn the anger of Allah.
Takhrij · تخریج
تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٧٥٠٤) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک شخص کو اپنے بائیں ہاتھ پر ٹیک لگائے نماز میں بیٹھے ہوئے دیکھا (ہارون بن زید نے اپنی روایت میں کہا ہے کہ بائیں پہلو پر پڑا ہوا دیکھا پھر (آگے) دونوں (الفاظ میں) متفق ہیں تو انہوں نے اس سے کہا: اس طرح نہ بیٹھو کیونکہ اس طرح وہ لوگ بیٹھتے ہیں جو عذاب دیئے جائیں گے۔
Nafi said: Ibn Umar saw a man resting on his left hand while he was sitting during prayer. The version of Harun bin Zaid goes: He was lying on his left side. the agreed version goes: he said to him: Do not sit like this, because those who are punished sit like this.
Takhrij · تخریج
تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٨٥١٣)، وقد أخرجہ: حم (٢/١١٦) (حسن )
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ پہلی دو رکعتوں میں یعنی پہلے تشہد میں اس طرح ہوتے تھے گویا کہ گرم پتھر پر (بیٹھے) ہیں۔ شعبہ کہتے ہیں کہ ہم نے پوچھا: کھڑے ہونے تک؟ تو سعد بن ابراہیم نے کہا: کھڑے ہونے تک ١ ؎۔
Narrated Abdullah ibn Masud (RA) : The Prophet ﷺ was in the first two rakahs as though he were on heated stones. The narrator Shubah said: We said: Till he (the Prophet) got up.
Notes · وضاحت
١ ؎: مطلب یہ ہے کہ آخری قعدہ کی بہ نسبت پہلے قعدہ میں آپ جلدی کھڑے ہوجاتے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ١٥٨ (٣٦٦)، سنن النسائی/التطبیق ١٠٥ (١١٧٧)، (تحفة الأشراف: ٩٦٠٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٨٦، ٤١٠، ٤٢٨، ٤٣٦، ٤٦٠) (ضعیف) (ابوعبیدہ کا اپنے والد سے سماع نہیں ہے )
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ اپنے دائیں اور بائیں السلام عليكم ورحمة الله، السلام عليكم ورحمة الله کہتے ہوئے سلام پھیرتے یہاں تک کہ آپ کی گال کی سفیدی دکھائی دیتی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ سفیان کی روایت کے الفاظ ہیں اور اسرائیل کی حدیث سفیان کی حدیث کی مفسر نہیں ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اسے زہیر نے ابواسحاق سے اور یحییٰ بن آدم نے اسرائیل سے، اسرائیل نے ابواسحاق سے، ابواسحاق نے عبدالرحمٰن بن اسود سے، انہوں نے اپنے والد اسود اور علقمہ سے روایت کیا ہے، اور ان دونوں نے عبداللہ بن مسعود ؓ سے ١ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: شعبہ ابواسحاق کی اس حدیث کے مرفوع ہونے کے منکر تھے۔
Narrated Abdullah ibn Masud (RA) : The Prophet ﷺ used to give the salutation to his left and right sides until the whiteness of his cheek was seen, (saying: Peace be upon you, and mercy of Allah twice. Abu Dawud said: This is a version of the tradition reported by Abu Sufyan. The version of Israil did not explain it. Abu Dawud said: This tradition has been narrated by Zubayr from Abu Ishaq and Yahya ibn Adam from Israil from Abu Ishaq from Abdur Rahman ibn al-Aswad from his father from Alqamah on the authority of Abdullah ibn Masud. Abu Dawud said: Shubah used to reject this tradition, the tradition narrated by Abu Ishaq as coming from the Prophet ﷺ .
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ ترجمہ اس صورت میں ہوگا جب علقمہ کا عطف عن أبيه پر ہو اور اگر علقمہ کا عطف عن عبدالرحمن پر ہو تو ترجمہ یہ ہوگا کہ ابواسحاق نے اسے عبدالرحمن سے اور انہوں نے اپنے والد سے اور اسی طرح ابواسحاق نے علقمہ سے اور انہوں نے عبداللہ سے روایت کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ١٠٩ (٢٩٥)، سنن النسائی/السھو ٧١ (١٣٢٣، ١٣٢٤، ١٣٢٥، ١٣٢٦)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٢٨ (٩١٤)، (تحفة الأشراف: ٩١٨٢، ٩٥٠٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٩٠، ٤٠٦، ٤٠٩، ٤١٤، ٤٤٤، ٤٤٨)، سنن الدارمی/الصلاة ٨٧ (١٣٨٥) (صحیح )
وائل بن حجر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی آپ اپنے دائیں جانب السلام عليكم ورحمة الله وبرکاته اور اپنے بائیں جانب السلام عليكم ورحمة الله وبرکاته کہتے ہوئے سلام پھیر رہے تھے۔
Narrated Wail ibn Hujr (RA) : I offered prayer along with the Prophet ﷺ . He would give the salutation to his right side (saying): Peace be upon you and mercy of Allah; and to his left side (saying): Peace be upon you and mercy of Allah.
جابر بن سمرہ ؓ کہتے ہیں جب ہم رسول اللہ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھتے تھے تو ہم میں سے کوئی سلام پھیرتا تو اپنے ہاتھ سے اپنے دائیں اور بائیں اشارے کرتا، جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: تم لوگوں کا کیا حال ہے کہ تم میں سے کوئی (نماز میں) اپنے ہاتھ سے اشارے کرتا ہے، گویا اس کا ہاتھ شریر گھوڑے کی دم ہے، تم میں سے ہر ایک کو بس اتنا کافی ہے (یا یہ کہا: کیا تم میں سے ہر ایک کو اس طرح کرنا کافی نہیں؟ ) ، اور آپ ﷺ نے اپنی انگلی سے اشارہ کیا کہ دائیں اور بائیں طرف کے اپنے بھائی کو سلام کرے۔
Jabir bin Samurah said: When we prayed behind the Messenger of Allah ﷺ , one of us gave the salutation and pointed with his hand to the man to his right side and left side. When he finished his prayer, he said: What is the matter that one of you points with his hand (during prayer) just like the tails of restive horses. It is sufficient for one of you, or is it not sufficient for one of you to say in this manner? And he pointed with his finger; one should salute his brother at his right and left side.
اس طریق سے بھی مسعر سے اس مفہوم کی حدیث مروی ہے اس میں ہے: آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تم میں سے کسی کو یا ان میں سے کسی کو کافی نہیں ہے کہ وہ اپنا ہاتھ اپنی ران پر رکھے پھر اپنے دائیں اور بائیں اپنے بھائی کو سلام کرے ۔
The aforesaid tradition has also been narrated by Mis’ar through a different chain of transmitters to the same effect. This version adds: Is it not sufficient for one of you or for one of them that he puts his hand on his thigh, and then gives the salutation to his brother to his right and left sides.
جابر بن سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اس حال میں کہ لوگ نماز میں اپنے ہاتھ اٹھائے ہوئے تھے تو آپ نے فرمایا: مجھے کیا ہوگیا ہے کہ میں تمہیں اپنے ہاتھ اٹھائے ہوئے دیکھ رہا ہوں، گویا کہ وہ شریر گھوڑوں کی دم ہیں؟ نماز میں سکون سے رہا کرو ۔
Jabir bin Samurah said: The Messenger of Allah ﷺ entered upon us while the people were raising their hands. The narrator Zubair said: I think ( they were raising the hands) during prayer. He (the prophet) said: What is the matter, I see you raising your hands as if they are the tails of restive horses! Maintain tranquility during prayer.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/ الصلاة ٢٧ (٤٣٠)، سنن النسائی/السہو ٥ (١١٨٥)، (تحفة الأشراف: ٢١٢٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٨٦، ٨٨، ٩٣، ١٠١، ١٠٢، ١٠٧) (صحیح )
سمرہ بن جندب ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ہمیں امام کے سلام کا جواب دینے اور آپس میں دوستی رکھنے اور ایک دوسرے کو سلام کرنے کا حکم دیا ہے۔
Narrated Samurah ibn Jundub (RA) : The Prophet ﷺ commanded us to respond to the salutation of the imam. and to love each other, and to salute each other.
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٣٠ (٩٢٢)، (تحفة الأشراف: ٤٥٩٧) (ضعیف) (اس کے روای سعید شامی ضعیف ہیں اور قتادہ اور حسن بصری مدلس ہیں نیز: حسن بصری کا سمرة سے حدیث عقیقہ کے سوا سماع ثابت نہیں )
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ذکر کے لیے آواز اس وقت بلند کی جاتی تھی جب لوگ فرض نماز سے سلام پھیر کر پلٹتے تھے، رسول اللہ ﷺ کے عہد میں یہی دستور تھا، ابن عباس کہتے ہیں: جب لوگ نماز سے پلٹتے تو مجھے اسی سے اس کا علم ہوتا اور میں اسے سنتا تھا۔
Ibn Abbas said: To raise the voice for making the mention of Allah after the people had finished their obligatory prayer was for in vogue the time of the Messenger of Allah ﷺ . Ibn Abbas said: I used to know by it when they finished the prayer and would listen to it (making the mention of Allah).
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ١٥٥ (٨٤١)، صحیح مسلم/المساجد ٢٣ (٥٨٣)، (تحفة الأشراف: ٦٥١٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٦٧) (صحیح )