Sunan Abu Dawood

All 5,295 hadiths in order · Page 49 of 265

964Sunan Abu Dawood

چوتھی رکعت میں تورک کا بیان

حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ اللَّيْثِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيِّ، وَيَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا مَعَ نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِهَذَا الْحَدِيثِ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَبَا قَتَادَةَ، قَالَ: فَإِذَا جَلَسَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ جَلَسَ عَلَى رِجْلِهِ الْيُسْرَى، فَإِذَا جَلَسَ فِي الرَّكْعَةِ الْأَخِيرَةِ قَدَّمَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَجَلَسَ عَلَى مَقْعَدَتِهِ.

محمد بن عمرو بن عطاء سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے اصحاب کی ایک جماعت کے ساتھ (ایک مجلس میں) بیٹھے ہوئے تھے، پھر انہوں نے یہی مذکورہ حدیث بیان کی، اور ابوقتادہ کا ذکر نہیں کیا کہا: جب آپ ﷺ دو رکعت کے بعد (تشہد کے لیے) بیٹھتے تو اپنے بائیں پیر پر بیٹھتے اور جب اخیر رکعت کے بعد بیٹھتے تو اپنا بایاں پیر (دائیں جانب) آگے نکال لیتے اور اپنے سرین پر بیٹھتے۔

Muhammad bin Amr bin Ata was sitting in the company of a few Companions of the Messenger of Allah ﷺ . He then narrated his tradition, but he did not mention the name of Abu Qatadah. He said: When he ( the Prophet) sat up the two rak’ahs he sat on his left foot; and when sat up after the last rak’ah he put out his left foot and sat on his hip.

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٧٣٠، (تحفة الأشراف: ١١٨٩٧) (صحیح )
965Sunan Abu Dawood

چوتھی رکعت میں تورک کا بیان

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ،حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو الْعَامِرِيِّ، قَالَ: كُنْتُ فِي مَجْلِسٍ، بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ فِيهِ: فَإِذَا قَعَدَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ قَعَدَ عَلَى بَطْنِ قَدَمِهِ الْيُسْرَى وَنَصَبَ الْيُمْنَى، فَإِذَا كَانَتِ الرَّابِعَةُ أَفْضَى بِوَرِكِهِ الْيُسْرَى إِلَى الْأَرْضِ وَأَخْرَجَ قَدَمَيْهِ مِنْ نَاحِيَةٍ وَاحِدَةٍ.

محمد بن عمرو عامری کہتے ہیں کہ میں ایک مجلس میں تھا، پھر انہوں نے یہی حدیث بیان کی جس میں ہے کہ جب آپ ﷺ دو رکعت پڑھ کر بیٹھتے تو اپنے بائیں قدم کے تلوے پر بیٹھتے اور اپنا داہنا پیر کھڑا رکھتے پھر جب چوتھی رکعت ہوتی تو اپنی بائیں سرین کو زمین سے لگاتے اور اپنے دونوں قدموں کو ایک طرف نکال لیتے۔

Muhammad bin Amr al-Amir said: I was sitting in the company ( of the Companions). He then narrated this tradition saying: When he (the Prophet) sat up after two rak’ahs, he sat on the sole of his left foot and raised his left foot. When he sat up after four rak’ahs, he placed his left hip on the ground and put out his both feet on one side.

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٧٣٣، (تحفة الأشراف: ١١٨٩٧) (صحیح )
966Sunan Abu Dawood

چوتھی رکعت میں تورک کا بیان

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ، حَدَّثَنِي زُهَيْرٌ أَبُو خَيْثَمَةَ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْحُرِّ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عَبَّاسٍ أَوْ عَيَّاشِ بْنِ سَهْلٍ السَّاعِدِيِّ، أَنَّهُ كَانَ فِي مَجْلِسٍ فِيهِ أَبُوهُ، فَذَكَرَ فِيهِ، قَالَ: فَسَجَدَ فَانْتَصَبَ عَلَى كَفَّيْهِ وَرُكْبَتَيْهِ وَصُدُورِ قَدَمَيْهِ وَهُوَ جَالِسٌ، فَتَوَرَّكَ وَنَصَبَ قَدَمَهُ الْأُخْرَى، ثُمَّ كَبَّرَ فَسَجَدَ، ثُمَّ كَبَّرَ فَقَامَ وَلَمْ يَتَوَرَّكْ، ثُمَّ عَادَ فَرَكَعَ الرَّكْعَةَ الْأُخْرَى فَكَبَّرَ كَذَلِكَ، ثُمَّ جَلَسَ بَعْدَ الرَّكْعَتَيْنِ حَتَّى إِذَا هُوَ أَرَادَ أَنْ يَنْهَضَ لِلْقِيَامِ قَامَ بِتَكْبِيرٍ، ثُمَّ رَكَعَ الرَّكْعَتَيْنِ الْأُخْرَيَيْنِ فَلَمَّا سَلَّمَ سَلَّمَ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: لَمْ يَذْكُرْ فِي حَدِيثِهِ مَا ذَكَرَ عَبْدُ الْحَمِيدِ فِي التَّوَرُّكِ وَالرَّفْعِ إِذَا قَامَ مِنْ ثِنْتَيْنِ.

عباس بن سہل یا عیاش بن سہل ساعدی سے روایت ہے کہ وہ ایک مجلس میں تھے، جس میں ان کے والد سہل ساعدی ؓ بھی موجود تھے تو اس مجلس میں انہوں نے ذکر کیا کہ آپ ﷺ نے سجدہ کیا تو اپنی دونوں ہتھیلیوں پر اور اپنے دونوں گھٹنوں اور دونوں پاؤں کے سروں پر سہارا کیا، اور جب آپ ﷺ (سجدے سے سر اٹھا کر) بیٹھے تو تورک کیا یعنی سرین پر بیٹھے اور اپنے دوسرے قدم کو کھڑا رکھا پھر الله أكبر کہا اور سجدہ کیا، پھر الله أكبر کہہ کر کھڑے ہوئے اور تورک نہیں کیا، پھر آپ ﷺ لوٹے اور دوسری رکعت پڑھی تو اسی طرح الله أكبر کہا، پھر دو رکعت کے بعد بیٹھے یہاں تک کہ جب قیام کے لیے اٹھنے کا ارادہ کرنے لگے تو الله أكبر کہہ کر اٹھے، پھر آخری دونوں رکعتیں پڑھیں، پھر جب سلام پھیرا تو اپنی دائیں جانب اور بائیں جانب پھیرا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عیسیٰ بن عبداللہ نے اپنی روایت میں تورک اور دو رکعت پڑھ کر اٹھتے وقت ہاتھ اٹھانے کا ذکر نہیں کیا ہے، جس کا ذکر عبدالحمید نے کیا ہے۔

Abbas or Ayyash bin Sahl al-Saeed that he attended a company in which his father was also present. He then narrated this tradition saying: He (the Prophet) prostrated himself, he depended on his palms, knees and the toes of his feet. When he sat up, he sat on his hips, and raised his other foot. He then uttered the takbir (Allah is most great) and prostrated himself. He uttered the takbir and stood up and did not sit on his hips. Then he repeated (the same) and offered the second rak’ah; he uttered the takbir in the same manner, and sat up after two rak’ahs. When he was about to stand up, he stood up after saying the takbir. Then he offered the last two rak’ahs. When he saluted, he saluted on his right and left sides. Abu Dawud said: in this tradition there is no mention of sitting on hips and raising hands when he stood after two rak’ahs as narrated by Abu al-Hamid.

Takhrij · تخریج
انظرحدیث رقم: ٧٣٣، (تحفة الأشراف: ١١٨٩٢) (ضعیف) (اس کے راوی عیسیٰ لین الحدیث ہیں اور ان کی یہ روایت سابقہ صحیح روایت کے خلاف ہے )
967Sunan Abu Dawood

چوتھی رکعت میں تورک کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، أَخْبَرَنِي فُلَيْحٌ، أَخْبَرَنِي عَبَّاسُ بْنُ سَهْلٍ، قَالَ: اجْتَمَعَ أَبُو حُمَيْدٍ، وَأَبُو أُسَيْدٍ، وَسَهْلُ بْنُ سَعْدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ، فَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ، وَلَمْ يَذْكُرِ الرَّفْعَ إِذَا قَامَ مِنْ ثِنْتَيْنِ وَلَا الْجُلُوسَ، قَالَ: حَتَّى فَرَغَ، ثُمَّ جَلَسَ فَافْتَرَشَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى، وَأَقْبَلَ بِصَدْرِ الْيُمْنَى عَلَى قِبْلَتِهِ.

فلیح کہتے ہیں: عباس بن سہل نے مجھے خبر دی ہے کہ ابوحمید، ابواسید، سہل بن سعد اور محمد بن مسلمہ اکٹھا ہوئے، پھر انہوں نے یہی حدیث ذکر کی اور دو رکعت پڑھ کر کھڑے ہوتے وقت ہاتھ اٹھانے کا ذکر نہیں کیا اور نہ ہی بیٹھنے کا، وہ کہتے ہیں: یہاں تک کہ آپ ﷺ فارغ ہوگئے پھر بیٹھے اور اپنا بایاں پیر بچھایا اور اپنے داہنے پاؤں کی انگلیاں قبلہ کی جانب کیں۔

Abbas bin Sahl said: Abu Humaid, Abu usaid, Sahl bin Saad and Muhammad bin Maslamah got together. Then he narrated this tradition. He did not mention the raising of hands when he stood after two rak’ahs, nor did he mention sitting. He said: When he finished (his prostration), he spread his foot (on the ground) and turned the toes of his right feet towards the qiblah (and then he sat on his left foot).

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٧٣٣، (تحفة الأشراف: ١١٨٩٢) (صحیح )
968Sunan Abu Dawood

تشہد کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ، حَدَّثَنِي شَقِيقُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: كُنَّا إِذَا جَلَسْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ، قُلْنَا: السَّلَامُ عَلَى اللَّهِ قَبْلَ عِبَادِهِ السَّلَامُ عَلَى فُلَانٍ وَفُلَانٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَقُولُوا السَّلَامُ عَلَى اللَّهِ، فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ السَّلَامُ، وَلَكِنْ إِذَا جَلَسَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلْ: التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، فَإِنَّكُمْ إِذَا قُلْتُمْ ذَلِكَ أَصَابَ كُلَّ عَبْدٍ صَالِحٍ فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، أَوْ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، ثُمَّ لِيَتَخَيَّرْ أَحَدُكُمْ مِنَ الدُّعَاءِ أَعْجَبَهُ إِلَيْهِ فَيَدْعُوَ بِهِ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ جب ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز میں بیٹھتے تو یہ کہتے تھے السلام على الله قبل عباده السلام على فلان وفلان یعنی اللہ پر سلام ہو اس کے بندوں پر سلام سے پہلے یا اس کے بندوں کی طرف سے اور فلاں فلاں شخص پر سلام ہو تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم ایسا مت کہا کرو کہ اللہ پر سلام ہو، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ خود سلام ہے، بلکہ جب تم میں سے کوئی نماز میں بیٹھے تو یہ کہے التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبرکاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين آداب، بندگیاں، صلاتیں اور پاکیزہ خیرات اللہ ہی کے لیے ہیں، اے نبی! آپ پر سلام، اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں نازل ہوں، اور سلام ہو ہم پر اور اللہ کے تمام نیک و صالح بندوں پر کیونکہ جب تم یہ کہو گے تو ہر نیک بندے کو خواہ آسمان میں ہو یا زمین میں ہو یا دونوں کے بیچ میں ہو اس (دعا کے پڑھنے) کا ثواب پہنچے گا (پھر یہ کہو) : أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں پھر تم میں سے جس کو جو دعا زیادہ پسند ہو، وہ اس کے ذریعہ دعا کرے ۔

Abd Allah bin Masud said: when we (prayed and) sat up during prayer along the Messenger of Allah (may peach be upon him), we said: “Peace be to Allah before it is supplicated for His servants; peace be to so and so. “The Messenger of Allah ﷺ said: Do not say “Peace be to Allah, ”for Allah Himself is peace. When one of you sits (during the prayer), he should say: The adoration of the tongue are due to Allah, and acts of worship and all good things. Peace be upon you, O Prophet, and Allah’s mercy and His blessings. Peace be upon us and upon Allah’s upright servants. When you say that, it reaches every upright servant in heavens and earth or between heavens and earth. I testify that there is no god but Allah, and I testify that Muhammad is His servant and Messenger. Then he may choose any supplication which pleases him and offer it.

Notes · وضاحت
وضاحت: السلام عليك أيها النبي بصیغۂ خطاب آپ ﷺ کی حیات میں کہا جاتا تھا لیکن آپ ﷺ کی وفات کے بعد صحابہ کرام بصیغۂ غائب کہتے تھے جیسا کہ صحیح سند سے مروی ہے: أن الصحابة کانوا يقولون والنبي ﷺ حي: ” السلام عليك أيها النبي “ فلما مات قالوا: ” السلام على النبي “ ” نبی اکرم ﷺ جب باحیات تھے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنھم ” السلام علیک ایہا النبی “ کہتے تھے اور جب آپ کی وفات ہوگئی تو السلام علی النبی کہنے لگے، اسی معنی کی ایک اور حدیث عبداللہ بن مسعود ؓ سے صحیح سند کے ساتھ مروی ہے نیز ام المؤمنین عائشہ ؓ لوگوں کو السلام علی النبی کہنے کی تعلیم دیتی تھیں (مسندالسراج: ٩/١-٢، والفوائد: ١١/٥٤ بسندین صحیحین عنہا)، (ملاحظہ ہو: صفۃ صلاۃ النبی للألبانی ١٦١-١٦٢ )
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ١٤٨ (٨٣١)، ١٥٠ (٨٣٥)، والعمل فی الصلاة ٤ (١٢٠٢)، والاستئذان ٣ (٦٢٣٠)، ٢٨ (٦٢٦٥)، والدعوات ١٧ (٦٣٢٨) والتوحید ٥ (٧٣٨١)، صحیح مسلم/الصلاة ١٦ (٤٠٢)، سنن النسائی/التطبیق ١٠٠ (١١٦٣، ١١٦١)، والسھو ٤١ (١٢٧٨)، ٤٣ (١٢٨٠)، ٥٦ (١٢٩٩)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٢٤ (٨٩٩)، (تحفة الأشراف: ٩٢٤٥)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة ١٠٣ (٢٨٩)، والنکاح ١٧ (١١٠٥)، مسند احمد (١/٣٧٦، ٣٨٢، ٤٠٨، ٤١٣، ٤١٤، ٤٢٢، ٤٢٣، ٤٢٨، ٤٣١، ٤٣٧، ٤٣٩، ٤٤٠، ٤٥٠، ٤٥٩، ٤٦٤)، سنن الدارمی/الصلاة ٨٤ (١٣٧٩) (صحیح )
969Sunan Abu Dawood

تشہد کا بیان

حَدَّثَنَا تَمِيمُ بْنُ الْمُنْتَصِرِ، أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ يَعْنِي ابْنَ يُوسُفَ،عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كُنَّا لَا نَدْرِي مَا نَقُولُ إِذَا جَلَسْنَا فِي الصَّلَاةِ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ عُلِّمَ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ. قَالَ شَرِيكٌ: وَحَدَّثَنَا جَامِعٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي شَدَّادٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، بِمِثْلِهِ، قَالَ: وَكَانَ يُعَلِّمُنَا كَلِمَاتٍ، وَلَمْ يَكُنْ يُعَلِّمُنَاهُنَّ كَمَا يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ: اللَّهُمَّ أَلِّفْ بَيْنَ قُلُوبِنَا، وَأَصْلِحْ ذَاتَ بَيْنِنَا، وَاهْدِنَا سُبُلَ السَّلَامِ، وَنَجِّنَا مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ، وَجَنِّبْنَا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ، وَبَارِكْ لَنَا فِي أَسْمَاعِنَا وَأَبْصَارِنَا وَقُلُوبِنَا وَأَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا، وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ، وَاجْعَلْنَا شَاكِرِينَ لِنِعْمَتِكَ مُثْنِينَ بِهَا قَابِلِيهَا وَأَتِمَّهَا عَلَيْنَا.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ ہم کو معلوم نہ تھا کہ جب ہم نماز میں بیٹھیں تو کیا کہیں، پھر رسول اللہ ﷺ کو بتایا گیا، پھر راوی نے اسی طرح کی روایت ذکر کی۔ شریک کہتے ہیں: ہم سے جامع یعنی ابن شداد نے بیان کیا کہ انہوں نے ابو وائل سے اور ابو وائل نے عبداللہ بن مسعود ؓ سے اسی کے مثل روایت کی ہے اس میں (اتنا اضافہ) ہے کہ آپ ﷺ ہمیں چند کلمات سکھاتے تھے اور انہیں اس طرح نہیں سکھاتے تھے جیسے تشہد سکھاتے تھے اور وہ یہ ہیں: اللهم ألف بين قلوبنا وأصلح ذات بيننا واهدنا سبل السلام ونجنا من الظلمات إلى النور وجنبنا الفواحش ما ظهر منها وما بطن و بارک لنا في أسماعنا وأبصارنا وقلوبنا وأزواجنا وذرياتنا وتب علينا إنك أنت التواب الرحيم واجعلنا شاکرين لنعمتک مثنين بها قابليها وأتمها علينا اے اللہ! تو ہمارے دلوں میں الفت و محبت پیدا کر دے، اور ہماری حالتوں کو درست فرما دے، اور راہ سلامتی کی جانب ہماری رہنمائی کر دے اور ہمیں تاریکیوں سے نجات دے کر روشنی عطا کر دے، آنکھوں، دلوں اور ہماری بیوی بچوں میں برکت عطا کر دے، اور ہماری توبہ قبول فرما لے تو توبہ قبول فرمانے والا اور رحم و کرم کرنے والا ہے، اور ہمیں اپنی نعمتوں پر شکر گزارو ثنا خواں اور اسے قبول کرنے والا بنا دے، اور اے اللہ! ان نعمتوں کو ہمارے اوپر کامل کر دے ۔

Narrated Abdullah ibn Masud (RA) : We did not know what we should say when we sat during prayer. The Messenger of Allah ﷺ was taught (by Allah). He then narrated the tradition to the same effect. Sharik reported from Jami, from Abu Wail on the authority of Abdullah ibn Masud something similar. He said: He used to teach us also some other words, but he did not teach them as he taught us the tashahhud: O Allah, join our hearts, mend our social relationship, guide us to the path of peace, bring us from darkness to light, save us from obscenities, outward or inward, and bless our ears, our eyes, our hearts, our wives, our children, and relent toward us; Thou art the Relenting, the Merciful. And make us grateful for Thy blessing and make us praise it while accepting it and give it to us in full.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود (ضعیف) (شریک کی وجہ سے یہ سند ضعیف ہے )
970Sunan Abu Dawood

تشہد کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْحُرِّ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ، قَالَ: أَخَذَ عَلْقَمَةُبِيَدِي فَحَدَّثَنِي، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ أَخَذَ بِيَدِهِ، وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ بِيَدِ عَبْدِ اللَّهِفَعَلَّمَهُ التَّشَهُّدَ فِي الصَّلَاةِ، فَذَكَرَ مِثْلَ دُعَاءِ حَدِيثِ الْأَعْمَشِ، إِذَا قُلْتَ هَذَا أَوْ قَضَيْتَ هَذَا فَقَدْ قَضَيْتَ صَلَاتَكَ، إِنْ شِئْتَ أَنْ تَقُومَ فَقُمْ، وَإِنْ شِئْتَ أَنْ تَقْعُدَ فَاقْعُدْ.

قاسم بن مخیمرہ کہتے ہیں کہ علقمہ نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھ سے بیان کیا کہ عبداللہ بن مسعود ؓ نے ان کا ہاتھ پکڑا (اور انہیں نماز میں تشہد کے کلمات سکھائے) اور رسول اللہ ﷺ نے عبداللہ بن مسعود ؓ کا ہاتھ پکڑا اور ان کو نماز میں تشہد کے کلمات سکھائے، پھر راوی نے اعمش کی حدیث کی دعا کے مثل ذکر کیا، اس میں (اتنا اضافہ) ہے کہ جب تم نے یہ دعا پڑھ لی یا پوری کرلی تو تمہاری نماز پوری ہوگئی، اگر کھڑے ہونا چاہو تو کھڑے ہوجاؤ اور اگر بیٹھے رہنا چاہو تو بیٹھے رہو۔

Narrated Abdullah ibn Masud (RA) : Alqamah said that Abdullah ibn Masud caught hold of his hand saying that the Messenger of Allah ﷺ caught hold of his (Ibn Masuds) hand and taught him the tashahhud during prayer. He then narrated the (well known) tradition (of tashahhud). This version adds: When you say this or finish this, then you have completed your prayer. If you want to stand up, then stand, and if you want to remain sitting, then remain sitting.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٩٤٧٤)، وانظر رقم (٩٦٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٤٢٢) (شاذ) (إذا قلت ... الخ کا اضافہ شاذ ہے صحیح بات یہ ہے کہ یہ ٹکڑا ابن مسعود کا اپنا قول ہے )
971Sunan Abu Dawood

تشہد کا بیان

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، سَمِعْتُ مُجَاهِدًا يُحَدِّثُ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي التَّشَهُّدِ: التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ الصَّلَوَاتُ الطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ. قَالَ: قَالَ ابْنُ عُمَرَ: زِدْتَ فِيهَاوَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ. قَالَ ابْنُ عُمَرَ: زِدْتُ فِيهَاوَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ.

عبداللہ بن عمر ؓ تشہد کے سلسلہ میں رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ تشہد یہ ہے: التحيات لله الصلوات الطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبرکاته آداب بندگیاں، اور پاکیزہ صلاتیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اے نبی! آپ پر سلام، اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں نازل ہوں، اور سلام ہو ہم پر اور اللہ کے تمام نیک و صالح بندوں پر، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں ۔ راوی کہتے ہیں کہ ابن عمر ؓ کہتے ہیں: اس تشہد میں وبرکاته اور وحده لا شريك له کا اضافہ میں نے کیا ہے ١ ؎۔

Ibn Umar reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: The adoration of the tongue are due to Allah, and acts of worship, all good things. Peace be upon you, O Prophet, and Allah’s mercy and His blessings. Ibn Umar said: I added: “And Allah’s blessings, peace be upon us, and upon Allah’s upright servants. I testify that there is not god but Allah. “Ibn Umar said: I added to it: He is alone, no one is His associate, and I testify that Muhammad is His servant and His Messenger.

Notes · وضاحت
١ ؎: تشہد میں یہ دونوں اضافے نبی اکرم ﷺ سے ثابت ہیں ایسا ہرگز نہیں کہ ابن عمر ؓ نے اپنی طرف سے ان کا اضافہ خود کردیا ہو بلکہ آپ نے اپنے اس تشہد میں ان کا اضافہ ان صحابہ کرام ؓ سے لے کر کیا ہے جنہوں نے نبی اکرم ﷺ سے انہیں روایت کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، وراجع: موطا امام مالک/الصلاة ١٣(٥٣)، (تحفة الأشراف: ٧٣٩٦) (صحیح )
972Sunan Abu Dawood

تشہد کا بیان

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ. ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَاهِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ، قَالَ: صَلَّى بِنَا أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ، فَلَمَّا جَلَسَ فِي آخِرِ صَلَاتِهِ، قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: أُقِرَّتِ الصَّلَاةُ بِالْبِرِّ وَالزَّكَاةِ، فَلَمَّا انْفَتَلَ أَبُو مُوسَى أَقْبَلَ عَلَى الْقَوْمِ، فَقَالَ: أَيُّكُمُ الْقَائِلُ كَلِمَةَ كَذَا وَكَذَا، قَالَ: فَأَرَمَّ الْقَوْمُ، فَقَالَ: أَيُّكُمُ الْقَائِلُ كَلِمَةَ كَذَا وَكَذَا، فَأَرَمَّ الْقَوْمُ، قَالَ: فَلَعَلَّكَ يَا حِطَّانُ أَنْتَ قُلْتَهَا، قَالَ: مَا قُلْتُهَا، وَلَقَدْ رَهِبْتُ أَنْ تَبْكَعَنِي بِهَا، قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: أَنَا قُلْتُهَا، وَمَا أَرَدْتُ بِهَا إِلَّا الْخَيْرَ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى: أَمَا تَعْلَمُونَ كَيْفَ تَقُولُونَ فِي صَلَاتِكُمْ ؟ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَنَا، فَعَلَّمَنَا، وَبَيَّنَ لَنَا سُنَّتَنَا، وَعَلَّمَنَا صَلَاتَنَا، فَقَالَ: إِذَا صَلَّيْتُمْ فَأَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ، ثُمَّ لِيَؤُمَّكُمْ أَحَدُكُمْ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَإِذَا قَرَأَ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 7، فَقُولُوا: آمِينَ، يُحِبُّكُمُ اللَّهُ، وَإِذَا كَبَّرَ وَرَكَعَ فَكَبِّرُوا وَارْكَعُوا، فَإِنَّ الْإِمَامَ يَرْكَعُ قَبْلَكُمْ وَيَرْفَعُ قَبْلَكُمْ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَتِلْكَ بِتِلْكَ، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقُولُوا: اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، يَسْمَعُ اللَّهُ لَكُمْ، فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَالَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، وَإِذَا كَبَّرَ وَسَجَدَ فَكَبِّرُوا وَاسْجُدُوا، فَإِنَّ الْإِمَامَ يَسْجُدُ قَبْلَكُمْ وَيَرْفَعُ قَبْلَكُمْ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَتِلْكَ بِتِلْكَ. فَإِذَا كَانَ عِنْدَ الْقَعْدَةِ فَلْيَكُنْ مِنْ أَوَّلِ قَوْلِ أَحَدِكُمْ أَنْ يَقُولَ التَّحِيَّاتُ الطَّيِّبَاتُ الصَّلَوَاتُ لِلَّهِ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، لَمْ يَقُلْ أَحْمَدُ: وَبَرَكَاتُهُ، وَلَا قَالَ: وَأَشْهَدُ، قَالَ: وَأَنَّ مُحَمَّدًا.

حطان بن عبداللہ رقاشی کہتے ہیں کہ ابوموسیٰ اشعری ؓ نے ہمیں نماز پڑھائی تو جب وہ اخیر نماز میں بیٹھنے لگے تو لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا: نماز نیکی اور پاکی کے ساتھ مقرر کی گئی ہے تو جب ابوموسیٰ اشعری نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کی جانب متوجہ ہوئے اور پوچھا (ابھی) تم میں سے کس نے اس اس طرح کی بات کی ہے؟ راوی کہتے ہیں: تو لوگ خاموش رہے، پھر انہوں نے پوچھا: تم میں سے کس نے اس اس طرح کی بات کی ہے؟ راوی کہتے ہیں: لوگ پھر خاموش رہے تو ابوموسیٰ اشعری نے کہا: حطان! شاید تم نے یہ بات کہی ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے نہیں کہی ہے اور میں تو ڈرتا ہوں کہ کہیں آپ مجھے ہی سزا نہ دے ڈالیں۔ راوی کہتے ہیں: پھر ایک دوسرے شخص نے کہا: میں نے کہی ہے اور میری نیت خیر ہی کی تھی، اس پر ابوموسیٰ ؓ نے کہا: کیا تم لوگ نہیں جانتے کہ تم اپنی نماز میں کیا کہو؟ بیشک رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطبہ دیا اور ہم کو سکھایا اور ہمیں ہمارا طریقہ بتایا اور ہمیں ہماری نماز سکھائی اور فرمایا: جب تم نماز پڑھنے کا قصد کرو، تو اپنی صفوں کو درست کرو، پھر تم میں سے کوئی شخص تمہاری امامت کرے تو جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو اور جب وہ غير المغضوب عليهم ولا الضالين کہے تو تم آمین کہو، اللہ تم سے محبت فرمائے گا ١ ؎ اور جب وہ الله أكبر کہے اور رکوع کرے تو تم بھی الله أكبر کہو اور رکوع کرو کیونکہ امام تم سے پہلے رکوع میں جائے گا اور تم سے پہلے سر اٹھائے گا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تو یہ اس کے برابر ہوگیا ٢ ؎ اور جب وہ سمع الله لمن حمده کہے تو تم اللهم ربنا لک الحمد کہو، اللہ تمہاری سنے گا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی زبانی ارشاد فرمایا ہے سمع الله لمن حمده یعنی اللہ تعالیٰ نے اس شخص کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی، اور جب تکبیر کہے اور سجدہ کرے تو تم بھی تکبیر کہو اور سجدہ کرو کیونکہ امام تم سے پہلے سجدہ کرے گا اور تم سے پہلے سر اٹھائے گا ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تو یہ اس کے برابر ہوجائے گا، پھر جب تم میں سے کوئی قعدہ میں بیٹھے تو اس کی سب سے پہلی بات یہ کہے: التحيات الطيبات الصلوات لله السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبرکاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله آداب، بندگیاں، پاکیزہ خیرات، اور صلاۃ و دعائیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اے نبی! آپ پر سلام، اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں نازل ہوں، اور سلام ہو ہم پر اور اللہ کے تمام نیک و صالح بندوں پر، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں ۔ احمد نے اپنی روایت میں: وبرکاته کا لفظ نہیں کہا ہے اور نہ ہی أشهد کہا بلکہ وأن محمدا کہا ہے۔

Narrated Abu Musa al-Ashari (RA) : Hittan ibn Abdullah ar-Ruqashi said: Abu Musa al-Ashari led us in prayer. When he sat at the end of his prayer, one of the people said: Prayer has been established by virtue and purity. When Abu Musa returned (from his prayer or finished his prayer), he gave his attention to the people, and said: Which of you is the speaker of such and such words? The people remained silent. Which of you is the speaker of such and such words? The people remained silent. He said: You might have said them, Hittan. He replied: I did not say them. I was afraid you might punish me. One of the people said: I said them and I did not intend by them (anything) except good. Abu Musa said: Do you not know how you utter (them) in your prayer? The Messenger of Allah ﷺ addressed us, and taught us and explained to us our way of doing and taught us our prayer. He said: When you pray a (congregational) prayer, straighten your rows, then one of you should lead you in prayer. When he says the takbir (Allah is Most Great), say the takbir, and when he recites verses Not of those upon whom is Thy anger, nor of those who err (i. e. the end of Surah i. ), say Amin; Allah will favour you. When he says Allah is most great, and bows, say Allah is most great and bow, for the imam will bow before you, and will raise (his head) before you. The Messenger of Allah ﷺ said: This is for that. When he says Allah listens to the one who praises Him, say: O Allah, our Lord, to Thee be praise, Allah be praised, Allah will listen to you, for Allah, the Exalted, said by the tongue of His Prophet ﷺ : Allah listens to the one who praises Him. When he says Allah is most great and prostrates, say: Allah is most great and prostrate, for the imam prostrates before you and raises his head before you. The Messenger of Allah ﷺ said: This is for that. When he sits, each one of you should say The adorations of the tongue, all good things, and acts of worship are due to Allah. Peace be upon you, O Prophet, and Allahs mercy and His blessings. Peace be upon us and upon Allahs upright servants. I testify that there is no god but Allah, and I testify that Muhammad is His servant and Messenger. This version of Ahmad does not mention the words and His blessings nor the phrase and I testify; instead, it has the words that Muhammad.

Notes · وضاحت
١ ؎: مسلم کی روایت میں يجبكم ہے یعنی: اللہ تمہاری دعا قبول کرلے گا۔ ٢ ؎: یعنی امام تم سے جتنا پہلے رکوع میں گیا اتنا ہی پہلے وہ رکوع سے اٹھ گیا اس طرح تمہاری اور امام کی نماز برابر ہوگئی۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ١٦ (٤٠٤)، سنن النسائی/الإمامة ٣٨ (٨٣١)، والتطبیق ٢٣ (١٠٦٥)، ١٠١ (١١٧٣)، والسھو ٤٤ (١٢٨١)، سنن ابن ماجہ/اقامة الصلاة ٢٤ (٩٠١)، (تحفة الأشراف: ٨٩٨٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٤٠١، ٤٠٥، ٤٠٩)، سنن الدارمی/الصلاة ٧١ (١٣٥١) (صحیح )
973Sunan Abu Dawood

تشہد کا بیان

حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ،حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَبِي غَلَّابٍ يُحَدِّثُهُ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ، بِهَذَا الْحَدِيثِ، زَادَفَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا، وَقَالَ فِي التَّشَهُّدِ بَعْدَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ زَادَ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَقَوْلُهُ فَأَنْصِتُوا لَيْسَ بِمَحْفُوظٍ لَمْ يَجِئْ بِهِ إِلَّا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ فِي هَذَا الْحَدِيثِ.

اس سند سے بھی ابوموسیٰ ؓ سے یہی حدیث مروی ہے، اس میں (سلیمان تیمی) نے یہ اضافہ کیا ہے کہ جب وہ قرآت کرے تو تم خاموش رہو، اور انہوں نے تشہد میں أشهد أن لا إله إلا الله کے بعد وحده لا شريك له کا اضافہ کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: آپ کا قول: فأنصتوا محفوظ نہیں ہے، اس حدیث کے اندر یہ لفظ صرف سلیمان تیمی نے نقل کیا ہے۔

This tradition has also been transmitted by Hittan bin Abdullah al-Ruqashi through a different chain of narrators. This version adds: When he ( the imam) recites the Quran, keep silence (and listen attentively). And in the tashahhud this version adds after the words “I testify that there is no god but Allah” the words “He is alone, and there is no associate of Him. ” Abu Dawud said: His word And keep silence is not guarded; it has been narrated by Sulaiman al-Taimi alone in his version.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ٨٩٨٧) (صحیح )
974Sunan Abu Dawood

تشہد کا بیان

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، وَطَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ كَمَا يُعَلِّمُنَا الْقُرْآنَ، وَكَانَ يَقُولُ: التَّحِيَّاتُ الْمُبَارَكَاتُ الصَّلَوَاتُ الطَّيِّبَاتُ لِلَّهِ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں تشہد اسی طرح سکھاتے تھے جس طرح قرآن سکھاتے تھے، آپ کہا کرتے تھے: التحيات المبارکات الصلوات الطيبات لله السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبرکاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا رسول الله آداب، بندگیاں، پاکیزہ صلاۃ و دعائیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اے نبی! آپ پر سلام، اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں نازل ہوں، اور سلام ہو ہم پر اور اللہ کے تمام نیک و صالح بندوں پر، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں ۔

Ibn Abbas said: The Messenger of Allah ﷺ used to teach us the tashahhud as he would teach us the Quran, and would say: The blessed adoration of the tongue, acts of worship (and) all good things are due to Allah. Peace be upon you, O Prophet, and Allah’s mercy and His blessings. Peace be upon us and upon Allah’s upright servants. I testify that there is no god but Allah, and I testify that Muhammad is Allah’s Messenger ﷺ .

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ١٦ (٤٠٣)، سنن الترمذی/الصلاة ١٠٤ (٢٩٠)، سنن النسائی/التطبیق ١٠٣ (١١٧٥)، والسھو ٤٢ (١٢٧٩)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٢٤ (٩٠٠)، (تحفة الأشراف: ٥٧٥٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٩٢) (صحیح )
975Sunan Abu Dawood

تشہد کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ،حَدَّثَنِي خُبَيْبُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ سَمُرَةَ، عَنْ أَبِيهِ سُلَيْمَانَ بْنِ سَمُرَةَ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، أَمَّا بَعْدُأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ فِي وَسَطِ الصَّلَاةِ أَوْ حِينَ انْقِضَائِهَا فَابْدَءُوا قَبْلَ التَّسْلِيمِ، فَقُولُوا: التَّحِيَّاتُ الطَّيِّبَاتُ وَالصَّلَوَاتُ وَالْمُلْكُ لِلَّهِ، ثُمَّ سَلِّمُوا عَلَى الْيَمِينِ، ثُمَّ سَلِّمُوا عَلَى قَارِئِكُمْ، وَعَلَى أَنْفُسِكُمْ. قَالَ أَبُو دَاوُد: سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى كُوفِيُّ الْأَصْلِ كَانَ بِدِمَشْقَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: دَلَّتْ هَذِهِ الصَّحِيفَةُ عَلَى أَنَّ الْحَسَنَ سَمِعَ مِنْ سَمُرَةَ.

سمرہ بن جندب ؓ سے روایت ہے، انہوں نے اما بعد کے بعد کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ جب تم نماز کے بیچ میں یا اخیر میں بیٹھو تو سلام پھیرنے سے قبل یہ دعا پڑھو: التحيات الطيبات والصلوات والملک لله پھر دائیں جانب سلام پھیرو، پھر اپنے قاری پر اور خود اپنے اوپر سلام کرو۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ صحیفہ (جسے سمرہ نے اپنے بیٹے کے پاس لکھ کر بھیجا تھا) یہ بتارہا ہے کہ حسن بصری نے سمرہ سے سنا ہے ١ ؎۔

Narrated Samurah ibn Jundub (RA) : The Messenger of Allah ﷺ commanded us (to recite) when we sit in the middle of the prayer or at its end before the salutation: The adorations of the tongue, all good things, acts of worship, and the Kingdom are due to Allah. Then give salutation to the right side; then salute your reciter (i. e. the imam) and yourselves. Abu Dawud said: Sulaiman bin Musa hails from Kufah and he lives in Damascus. Abu Dawud said: This collection of traditions indicates that al-Hasan (al-Basri) heard traditions from Samurah (b. Jundub).

Notes · وضاحت
١ ؎: اس جملے کا باب سے تعلق یہ ہے کہ یہ الفاظ جنہیں سلیمان بن سمرہ نے اپنے والد سمرہ ؓ سے روایت کیا ہے اس صحیفہ کے الفاظ ہیں جنہیں سمرہ نے املا کرایا تھا اور جنہیں ان سے ان کے بیٹے سلیمان نے روایت کیا ہے، ابوداود کا مقصد یہ ہے کہ جس طرح سلیمان بن سمرہ کا سماع اپنے والد سمرہ سے ثابت ہے اسی طرح حسن بصری کا سماع بھی ثابت ہے کیونکہ یہ دونوں طبقہ ثالثہ کے راوی ہیں تو جب سلیمان اپنے والد سمرہ سے سن سکتے ہیں تو حسن بصری کے سماع کے لئے بھی کوئی چیز مانع نہیں، بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ حسن بصری نے سمرہ سے صرف عقیقہ والی حدیث سنی ہے اور باقی حدیثیں جو سمرہ سے وہ روایت کرتے ہیں وہ اسی صحیفہ میں لکھی ہوئی حدیثیں ہیں سمرہ سے ان کی سنی ہوئی نہیں ہیں ابو داود نے اسی خیال کی تردید کی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٤٦١٧) (ضعیف) (اس کے راوی سلیمان بن موسیٰ ضعیف ہیں )
976Sunan Abu Dawood

تشہد کے بعد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود پڑھنے کا بیان

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، قَالَ: قُلْنَا: أَوْ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَمَرْتَنَا أَنْ نُصَلِّيَ عَلَيْكَ، وَأَنْ نُسَلِّمَ عَلَيْكَ، فَأَمَّا السَّلَامُ فَقَدْ عَرَفْنَاهُ، فَكَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ ؟ قَالَ: قُولُوا: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَآلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَآلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ.

کعب بن عجرہ ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے یا لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم آپ پر درود وسلام بھیجا کریں، آپ پر سلام بھیجنے کا طریقہ تو ہمیں معلوم ہوگیا ہے لیکن ہم آپ پر درود کس طرح بھیجیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: کہو: اللهم صل على محمد وآل محمد کما صليت على إبراهيم و بارک على محمد وآل محمد کما بارکت على آل إبراهيم إنک حميد مجيد یعنی اے اللہ! محمد اور آل محمد پر درود بھیج ١ ؎ جس طرح تو نے آل ابراہیم پر بھیجا ہے اور محمد اور آل محمد پر اپنی برکت ٢ ؎ نازل فرما جس طرح تو نے آل ابراہیم پر نازل فرمائی ہے، بیشک تو لائق تعریف اور بزرگ ہے ۔

Kaab bin Ujrah said: We said or the people said: Messenger of Allah, you have commanded us to invoke blessing on you and to salute you. As regards salutation we have already learnt it. How should we invoke blessing? He said: Say: “O Allah, bless Muhammad and Muhammad’s family as Thou didst bless Abraham and Abraham’s family. O Allah, grant favours to Muhammad and Muhammad’s family as Thou didst grant favours to Abraham; Thou art indeed praiseworthy and glorious.

Notes · وضاحت
١ ؎: نبی اکرم ﷺ پر اللہ تعالیٰ کے درود بھیجنے کی وضاحت ابوالعالیہ نے اس طرح کی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے درود بھیجنے کا مطلب نبی اکرم ﷺ کی مدح و ستائش اور تعظیم کرنا اور فرشتوں وغیرہ کے درود بھیجنے کا مطلب اللہ تعالیٰ سے اس مدح و ستائش اور تعظیم میں طلب زیادتی ہے، ابوالعالیہ کے اس قول کو حافظ ابن حجر نے فتح الباری میں نقل کرنے کے بعد اس مشہور قول کی تردید کی ہے جس میں اللہ تعالیٰ کے درود کا معنیٰ رحمت بتایا گیا ہے۔ ٢ ؎: برکت کے معنیٰ بالیدگی و بڑھوتری کے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ جو بھلائیاں تو نے آل ابراہیم کو عطا کی ہیں وہ سب نبی اکرم ﷺ کو عطا فرما اور انہیں قائم و دائم رکھ اور انہیں بڑھا کر کئی گنا کر دے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/أحادیث الأنبیاء ١٠ (٣٣٧٠)، و تفسیر الأحزاب ١٠ (٤٧٩٧)، والدعوات ٣٢ (٦٣٥٧)، صحیح مسلم/الصلاة ١٧ (٤٠٦)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٣٤ (٤٨٣)، سنن النسائی/السھو ٥١ (١٢٨٨)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٢٥ (٩٠٤)، (تحفة الأشراف: ١١١١٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٤١، ٢٤٤)، سنن الدارمی/الصلاة ٨٥ (١٣٨١) (صحیح )
977Sunan Abu Dawood

تشہد کے بعد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود پڑھنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ.

اس سند سے بھی شعبہ نے یہی حدیث روایت کی ہے اس میں یوں ہے: صل على محمد وعلى آل محمد کما صليت على إبراهيم اے اللہ! محمد اور آل محمد پر اپنی رحمت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم (علیہ السلام) پر اپنی رحمت نازل فرمائی ۔

This tradition has also been reported by Shubah through a different chain of narrators. This version adds: Bless Muhammad and Muhammad’s family as Thou didst bless Abraham.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ١١١١٣) (صحیح )
978Sunan Abu Dawood

تشہد کے بعد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود پڑھنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا ابْنُ بِشْرٍ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ الْحَكَمِ، بِإِسْنَادِهِ بِهَذَا، قَالَ: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ الزُّبَيْرُ بْنُ عَدِيٍّ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، كَمَا رَوَاهُ مِسْعَرٌ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَسَاقَ مِثْلَهُ.

اس طریق سے بھی حکم سے اسی سند سے یہی حدیث مروی ہے اس میں یوں ہے: اللهم صل على محمد وعلى آل محمد کما صليت على إبراهيم إنک حميد مجيد اللهم بارک على محمد وعلى آل محمد کما بارکت على آل إبراهيم إنک حميد مجيد اے اللہ! محمد اور آل محمد پر اپنی رحمت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم (علیہ السلام) پر اپنی رحمت نازل فرمائی، بیشک تو بڑی خوبیوں والا بزرگی والا ہے، اے اللہ! محمد اور آل محمد پر اپنی برکت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم (علیہ السلام) پر اپنی برکت نازل فرمائی، بیشک تو بڑی خوبیوں والا بزرگی والا ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے زبیر بن عدی نے ابن ابی لیلیٰ سے اسی طرح روایت کیا ہے جیسے مسعر نے کیا ہے، مگر اس میں یہ ہے: كما صليت على آل إبراهيم إنک حميد مجيد و بارک على محمد اور آگے انہوں نے اسی کے مثل بیان کیا ہے۔

This has been transmitted by al-Hakam through a different chain of narrators. This version has: O Allah, bless Muhammad and Muhammad’s family as didst bless Abraham. Thou art indeed praiseworthy and glorious. O Allah grant favours of Muhammad and Muhammad’s family as Thou didst grant favour to Abraham’s family. Thou art indeed praiseworthy and glorious. Abu Dawud said: This tradition has been narrated by al-Zubair bin Adi as narrated by Mis’ar, except that his version goes: As Thou didst bless Abraham’s family. Thou art indeed praiseworthy and glorious. And grant favours to Muhammad. He then narrated the tradition in full.

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٩٧٦، (تحفة الأشراف: ١١١١٣) (صحیح )
979Sunan Abu Dawood

تشہد کے بعد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود پڑھنے کا بیان

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ. ح وحَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ، أَنَّهُمْ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ ؟ قَالَ: قُولُوا: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ.

عمرو بن سلیم زرقی انصاری کہتے ہیں کہ مجھے ابو حمید ساعدی ؓ نے خبر دی ہے کہ لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! ہم آپ پر درود کس طرح بھیجیں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم لوگ کہو: اللهم صل على محمد وأزواجه وذريته كما صليت على آل إبراهيم و بارک على محمد وأزواجه وذريته كما بارکت على آل إبراهيم إنک حميد مجيد اے اللہ! محمد اور ان کی بیویوں اور ان کی اولاد پر اپنی رحمت نازل فرما جیسا کہ تو نے اپنی رحمت آل ابراہیم پر نازل فرمائی، اور محمد اور ان کی بیویوں اور ان کی اولاد پر اپنی برکت نازل فرما جیسا کہ تو نے آل ابراہیم پر نازل فرمائی، بیشک تو بڑی خوبیوں والا بزرگی والا ہے ۔

Abu Humaid al-Said said: Some people asked: Messenger of Allah, how should we invoke blessings on you? He said: Say, ” O Allah, bless Muhammad, his wives and his off springs, as Thou didst bless Abraham’s family, and grant favours to Muhammad’s family, his wives and off springs, as Thou didst grant favours to Abraham’s family. Thou art indeed praiseworthy and glorious.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/أحادیث الأنبیاء ١٠ (٣٣٦٩)، والدعوات ٣٣ (٦٣٦٠)، صحیح مسلم/الصلاة ١٧ (٤٠٧)، سنن النسائی/السھو ٥٥ (١٢٩٥)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٢٥ (٩٠٥)، (تحفة الأشراف: ١١٨٩٧)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/قصر الصلاة ٢٢ (٦٦)، مسند احمد (٥/٤٢٤) (صحیح )
980Sunan Abu Dawood

تشہد کے بعد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود پڑھنے کا بیان

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُجْمِرِ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ هُوَ الَّذِي أُرِيَ النِّدَاءَ بِالصَّلَاةِ، أَخْبَرَهُ،عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَجْلِسِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، فَقَالَ لَهُ بَشِيرُ بْنُ سَعْدٍ: أَمَرَنَا اللَّهُ أَنْ نُصَلِّيَ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَكَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ ؟ فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تَمَنَّيْنَا أَنَّهُ لَمْ يَسْأَلْهُ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قُولُوا، فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ زَادَ فِي آخِرِهِفِي الْعَالَمِينَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ.

ابومسعود انصاری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس سعد بن عبادہ ؓ کی مجلس میں تشریف لائے تو بشیر بن سعد ؓ نے آپ ﷺ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ نے ہم کو آپ پر درود بھیجنے کا حکم دیا ہے تو ہم آپ پر درود کس طرح بھیجیں؟ یہ سن کر رسول اللہ ﷺ خاموش رہے یہاں تک کہ ہم نے آرزو کی کہ کاش انہوں نے نہ پوچھا ہوتا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: تم لوگ کہو ۔ پھر راوی نے کعب بن عجرہ ؓ کی حدیث کے ہم معنی حدیث ذکر کی اور اس کے اخیر میں في العالمين إنک حميد مجيد کا اضافہ کیا ہے۔

Abu Masud al-Ansari said: The Messenger of Allah ﷺ came to us in a meeting of Saad bin Ubadah. Bashir bin Saad said to him: Allah has commanded us to invoke blessings on you, Messenger of Allah. How should we invoke blessings on you? The Messenger of Allah ﷺ kept silence so much so that we wished he would not ask him. Then the Messenger of Allah ﷺ said: Say. He then narrated the tradition like that of Kaab bin Ujrah. This version adds in the end: In the universe, Thou art praiseworthy and glorious.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ١٧ (٤٠٥)، سنن الترمذی/تفسیر الأحزاب (٣٢٢٠)، سنن النسائی/السہو ٤٩ (١٢٨٦)، (تحفة الأشراف: ١٠٠٠٧)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/قصر الصلاة ٢٢ (٦٧)، مسند احمد (٤/١١٨، ١١٩، ٥/ ٢٧٤)، سنن الدارمی/الصلاة ٨٥ (١٣٨٢) (صحیح )
981Sunan Abu Dawood

تشہد کے بعد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود پڑھنے کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو، بِهَذَا الْخَبَرِ، قَالَ: قُولُوا: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ.

اس سند سے بھی عقبہ بن عمرو (ابومسعود انصاری ؓ) سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے: آپ ﷺ نے فرمایا: یوں کہو اللهم صل على محمد النبي الأمي وعلى آل محمد اے اللہ! نبی امی محمد اور آپ کی آل پر اپنی رحمت نازل فرما ۔

This tradition has also been reported by Uqbah bin Amr through a different chain of narrators. This version adds: Say, O Allah, bless Muhammad, the Prophet, the unlettered, and Muhammad’s family.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ١٠٠٠٧) (حسن )
982Sunan Abu Dawood

تشہد کے بعد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود پڑھنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ يَسَارٍ الْكِلَابِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو مُطَرِّفٍ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ كَرِيزٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْهَاشِمِيُّ، عَنْ الْمُجْمِرِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَكْتَالَ بِالْمِكْيَالِ الْأَوْفَى، إِذَا صَلَّى عَلَيْنَا أَهْلَ الْبَيْتِ، فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَأَزْوَاجِهِ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ، وَذُرِّيَّتِهِ، وَأَهْلِ بَيْتِهِ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جسے یہ بات خوش کرتی ہو کہ اسے پورا پیمانہ بھر کردیا جائے تو وہ ہم اہل بیت پر جب درود بھیجے تو کہے: اللهم صل على محمد النبي وأزواجه أمهات المؤمنين وذريته وأهل بيته كما صليت على آل إبراهيم إنک حميد مجيد ۔

Abu Hurairah reported the Prophet ﷺ as sayings: if anyone would like to have the fullest measure granted to him when he invokes blessings on us, the members of the prophet’s family, he should say: O Allah, bless Muhammad, the unlettered Prophet, his wives who are the mother of the faithful, his off springs, and the people of his house as Thou didst bless the family of Abraham. Thou art indeed praiseworthy and glorious.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٤٦٤٥) (ضعیف) (اس کے راوی حبان الکلابی میں کلام ہے )
983Sunan Abu Dawood

تشہد کے بعد کیا دعا پڑھے

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَائِشَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا فَرَغَ أَحَدُكُمْ مِنَ التَّشَهُّدِ الْآخِرِ فَلْيَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنْ أَرْبَعٍ: مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، وَمِنْ شَرِّ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آخری تشہد سے فارغ ہو تو چار چیزوں سے اللہ کی پناہ مانگے: جہنم کے عذاب سے، قبر کے عذاب سے، زندگی اور موت کے فتنے سے اور مسیح دجال کے شر سے ۔

Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: When one of you finishes the last tashahhud, he should seek refuge in Allah from four things: the punishment in Hell, the punishment in the grave, the trail of life and death, and the evil of Antichrist.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٢٥ (٥٨٨)، سنن النسائی/السھو ٦٤ (١٣١١)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٢٦(٩٠٩)، (تحفة الأشراف: ١٤٥٨٧)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجنائز ٨٧ (١٣٧٧)، مسند احمد (٢/٢٣٧)، سنن الدارمی/الصلاة ٨٦ (١٣٨٣) (صحیح )