عیسیٰ بن ایوب کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے ارشاد التصفيح للنساء سے مراد یہ ہے کہ وہ اپنے داہنے ہاتھ کی دونوں انگلیاں اپنے بائیں ہاتھ کی ہتھیلی پر ماریں۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: Saying Tasbih applies to men during prayer and clapping applies to women. Anyone who makes a sign during his prayer, a sign which is intelligible by implication, should repeat it (i. e. his prayer). (Abu Dawud commented on the Hadith saying, this is a result of confusion. )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سبحان الله کہنا مردوں کے لیے ہے یعنی نماز میں اور تالی بجانا عورتوں کے لیے ہیں، جس نے اپنی نماز میں کوئی ایسا اشارہ کیا کہ جسے سمجھا جاسکے تو وہ اس کی وجہ سے اسے لوٹائے یعنی اپنی نماز کو۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث وہم ہے ١ ؎۔
Muaiqib reported the Prophet ﷺ as saying ; Do not remove pebbles while you are praying; if you do it out of sheer necessity, do it only once to smooth the pebbles.
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ ام سلمہ ؓ کی روایت جس میں عصر کے بعد دو رکعتوں کے پڑھنے کا ذکر ہے اور ام المومنین عائشہ و جابر ؓ کی روایتیں جن میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اپنی ایک بیماری میں بیٹھ کر نماز پڑھائی تو لوگ آپ کے پیچھے کھڑے ہو کر پڑھنے لگے تو آپ ﷺ نے اشارہ سے انہیں بیٹھ جانے کے لئے کہا دونوں روایتیں اس کے مخالف ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٥٤٥٥) (ضعیف) (محمد بن اسحاق مدلس ہیں اور عنعنہ سے روایت کی ہے، نیز یونس سے بہت غلطیاں ہوئی ہیں تو ہوسکتا ہے کہ یہاں انہیں سے غلطی ہوئی ہو )
ابوذر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم میں کوئی نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو رحمت اس کا سامنا کرتی ہے، لہٰذا وہ کنکریوں پر ہاتھ نہ پھیرے ١ ؎۔
Abu Hurairah said that the Messenger of Allah ﷺ forbade putting hands on the waist during prayer. Abu Dawud said; The word Ikhtisar means to put one’s hands on one’s waist.
Notes · وضاحت
١ ؎: کنکریوں پر ہاتھ پھیرنے سے مراد انہیں برابر کرنا ہے تاکہ ان پر سجدہ کیا جاسکے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ١٦٣ (٣٧٩)، سنن النسائی/السھو ٧ (١١٩٢)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٦٣ (١٠٢٧)، (تحفة الأشراف: ١١٩٩٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٥٠، ١٦٣)، سنن الدارمی/الصلاة ١١٠ (١٤٢٨) (ضعیف) (ابوالأحوص لین الحدیث ہیں )
معیقیب ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم نماز پڑھنے کی حالت میں (کنکریوں پر) ہاتھ نہ پھیرو، یعنی انہیں برابر نہ کرو، اگر کرنا ضروری ہو تو ایک دفعہ برابر کرلو ۔
Narrated Umm Qays bint Mihsan (RA) : Hilal ibn Yasaf said: I came to ar-Raqqah (a place in Syria). One of my companions said to me: Do you want to see any of the Companions of the Prophet ﷺ ? I said: A good opportunity. So we went to Wabisah. I said to my friend: Let us first see his mode of living. He had a cap with two ears stuck (to his head), and wearing a brown silken robe. He was resting on a staff during prayer. We asked him (about resting on the staff) after salutation; He said: Umm Qays daughter of Mihsan said to me that when the Messenger of Allah ﷺ became aged and the flesh grew increasingly on him, he took a prop at his place of prayer and rested on it.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العمل في الصلاة ٨ (١٢٠٧)، صحیح مسلم/المساجد ١٢ (٥٤٦)، سنن الترمذی/الصلاة ١٦٧ (٣٨٠)، سنن النسائی/السھو ٨ (١١٩٣)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٦٢ (١٠٢٦)، (تحفة الأشراف: ١١٤٨٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٢٦، ٥/٤٢٥، ٤٢٦)، سنن الدارمی/الصلاة ١١٠ (١٤٢٧) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے نماز میں الاختصار سے منع فرمایا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں:الاختصار کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنا ہاتھ اپنی کمر پر رکھے ١ ؎۔
Zaid bin Arqam said ; One of us used to speak to the man standing by his side during prayer. Then the Quranic verse “ And stand up with devotion to Allah”
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ یہ یہودیوں کا فعل ہے اور بعض روایتوں میں ہے کہ ابلیس کو زمین پر اسی ہیئت میں اتارا گیا تھا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٤٥٤٦)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/العمل في الصلاة ١٧ (١٢٢٠)، صحیح مسلم/المساجد ١١ (٥٤٥)، سنن الترمذی/الصلاة ١٦٩ (٣٨٣)، سنن النسائی/الافتتاح ١٢ (٨٨٩)، مسند احمد (٢/٢٣٢، ٢٩٠، ٢٩٥، ٣٣١، ٣٩٩)، سنن الدارمی/الصلاة ١٣٨ (١٤٦٨) (صحیح )
ہلال بن یساف کہتے ہیں کہ میں رقہ ١ ؎ آیا تو میرے ایک دوست نے مجھ سے پوچھا: کیا تمہیں کسی صحابی سے ملنے کی خواہش ہے؟ میں نے کہا: کیوں نہیں؟ (ملاقات ہوجائے تو) غنیمت ہے، تو ہم وابصہ ؓ کے پاس گئے، میں نے اپنے ساتھی سے کہا: پہلے ہم ان کی وضع دیکھیں، میں نے دیکھا کہ وہ ایک ٹوپی سر سے چپکی ہوئی دو کانوں والی پہنے ہوئے تھے اور خز ریشم کا خاکی رنگ کا برنس ٢ ؎ اوڑھے ہوئے تھے، اور کیا دیکھتے ہیں کہ وہ نماز میں ایک لکڑی پر ٹیک لگائے ہوئے تھے، پھر ہم نے سلام کرنے کے بعد ان سے (نماز میں لکڑی پر ٹیک لگانے کی وجہ) پوچھی تو انہوں نے کہا: مجھ سے ام قیس بنت محصن نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی عمر جب زیادہ ہوگئی اور بدن پر گوشت چڑھ گیا تو آپ ﷺ نے اپنی نماز پڑھنے کی جگہ میں ایک ستون بنا لیا جس پر آپ ٹیک لگاتے تھے۔
Abdullah bin Amr said: It has been narrated to me that the Messenger of Allah ﷺ said: The Prayer of a man in sitting condition is half the prayer (wins him half the reward of prayer). I came to him and found him prayer in sitting condition. I placed my hand on my head (in surprise). He said: what is the matter, Abdullah bin Amr? I said; Messenger of Allah ﷺ you have been reported to me as saying: the prayer of a man in sitting condition is half the prayer, but you are praying in sitting condition. He said: yes, but I am not like one of you.
Notes · وضاحت
١ ؎: ایک شہر کا نام ہے جو شام میں دریائے فرات پر واقع ہے۔ ٢ ؎: ایک قسم کا لباس جس میں ٹوپی اسی سے بنی ہوتی ہے۔
زید بن ارقم ؓ کہتے ہیں کہ ہم میں سے جو چاہتا نماز میں اپنے بغل والے سے باتیں کرتا تھا تو یہ آیت کریمہ نازل ہوئی وقوموا لله قانتين اللہ کے لیے چپ چاپ کھڑے رہو (سورۃ البقرہ: ٢٣٨) تو ہمیں نماز میں خاموش رہنے کا حکم دیا گیا اور بات کرنے سے روک دیا گیا۔
Abdullah bin Buraidah said: Imran bin Hussain asked the prophet ﷺ about the prayer a man offers in sitting condition. He replied: his prayer in standing condition is better than his prayer in sitting condition, and his prayer in sitting condition is half the prayer he offers in standing condition, and his prayer in lying condition is half the prayer he offers in sitting condition.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العمل في الصلاة ٢ (١٢٠٠)، و تفسیر البقرة ٤٢ (٤٥٣٤)، صحیح مسلم/المساجد ٧ (٥٣٩)، سنن الترمذی/الصلاة ١٨٥ (٤٠٥)، و تفسیر البقرة (٢٩٨٦)، سنن النسائی/السھو ٢٠ (١٢٢٠)، (تحفة الأشراف: ٣٦٦١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٦٨) (صحیح )
عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ مجھ سے بیان کیا گیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: بیٹھ کر پڑھنے والے شخص کی نماز آدھی نماز ہے ، میں آپ ﷺ کے پاس آیا تو میں نے آپ کو بیٹھ کر نماز پڑھتے دیکھا تو میں نے (تعجب سے) اپنا ہاتھ اپنے سر پر رکھ لیا، آپ ﷺ نے پوچھا: عبداللہ بن عمرو! کیا بات ہے؟ ، میں نے کہا: اللہ کے رسول! مجھ سے بیان کیا گیا ہے کہ آپ نے فرمایا ہے: بیٹھ کر نماز پڑھنے والے کو نصف ثواب ملتا ہے اور آپ بیٹھ کر نماز پڑھ رہے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں سچ ہے، لیکن میں تم میں سے کسی کی طرح نہیں ہوں ١ ؎۔
Imran bin Husain said: I had a fistula; so I asked the prophet ﷺ . He said: offer prayer in standing condition; if you are unable to do so, then in sitting condition: if you are then at your side (i. e, in lying condition).
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی میرا معاملہ تمہارے جیسا نہیں ہے مجھے بیٹھ کر پڑھنے میں بھی پورا ثواب ملتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ١٦ (٧٣٥)، سنن النسائی/قیام اللیل ١٨ (١٦٦٠)، (تحفة الأشراف: ٨٩٣٧)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٤١ (١٢٢٩)، موطا امام مالک/ صلاة الجماعة ٦ (١٩)، مسند احمد (٢/١٦٢، ١٩٢، ٢٠١، ٢٠٣)، سنن الدارمی/الصلاة ١٠٨ (١٤٢٤) (صحیح )
عمران بن حصین ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے بیٹھ کر نماز پڑھنے والے شخص کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا: آدمی کا کھڑے ہو کر نماز پڑھنا بیٹھ کر نماز پڑھنے سے افضل ہے اور بیٹھ کر نماز پڑھنے میں کھڑے ہو کر پڑھنے کے مقابلہ میں نصف ثواب ہے ١ ؎ اور لیٹ کر پڑھنے میں بیٹھ کر پڑھنے کے مقابلہ میں نصف ثواب ملتا ہے ۔
Aishah said: I never saw the Messenger of Allah ﷺ reciting the Quraan in his prayer at night in sitting condition until he became old. Then he used to sit in it (the prayer) and recite the Quran until forty or thirty verses remained, then he stood and recited them and prostrated himself.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے تندرست آدمی نہیں بلکہ مریض مراد ہے کیونکہ انس ؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ کچھ لوگوں کے پاس آئے جو بیماری کی وجہ سے بیٹھ کر نماز پڑھ رہے تھے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ” بیٹھ کر نماز پڑھنے والے کا ثواب کھڑے ہو کر نماز پڑھنے والے کے آدھا ہے “۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تقصیر الصلاة ١٧ (١١١٥)، ١٨ (١١١٦)، ١٩ (١١١٧)، سنن الترمذی/الصلاة ١٦٢ (٣٧١)، سنن النسائی/قیام اللیل ١٩ (١٦٦١)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٤١ (١٢٣١)، (تحفة الأشراف: ١٠٨٣١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٤٣٣، ٤٣٥، ٤٤٢، ٤٤٣) (صحیح )
عمران بن حصین ؓ کہتے ہیں کہ مجھے ناسور تھا ١ ؎، میں نے نبی اکرم ﷺ سے پوچھا تو آپ نے فرمایا: تم کھڑے ہو کر نماز پڑھو، اگر کھڑے ہو کر پڑھنے کی طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر پڑھو اور اگر بیٹھ کر پڑھنے کی طاقت نہ ہو تو (لیٹ کر) پہلو کے بل پڑھو ۔
Aishah, wife of the prophet ﷺ , said: when the prophet ﷺ prayed sitting, he recited the Quran in sitting condition. When the amount of his recitation remained about thirty or forty verses he stood up and recited them standing. He then bowed and prostrated and then did so in the second Rak’ah of the prayer. Abu Dawud said: Alqamah bin Waqqas narrated this tradition on the authority of Aisha (RA) from the Prophet ﷺ to the same effect.
Notes · وضاحت
١ ؎: باء اور نون دونوں کے ساتھ اس لفظ کا استعمال ہوتا ہے باسور مقعد کے اندرونی حصہ میں ورم کی بیماری کا نام ہے اور ناسور ایک ایسا خراب زخم ہے کہ جب تک اس میں فاسد مادہ موجود رہے تب تک وہ اچھا نہیں ہوتا۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/ الصلاة ١٥٧ (٣٧٢)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٣٩ (١٢٢٣)، (تحفة الأشراف: ١٠٨٣٢) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو رات کی نماز کبھی بیٹھ کر پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا یہاں تک کہ آپ عمر رسیدہ ہوگئے تو اس میں بیٹھ کر قرآت کرتے تھے پھر جب تیس یا چالیس آیتیں رہ جاتیں تو انہیں کھڑے ہو کر پڑھتے پھر سجدہ کرتے۔
Aishah said: The Messenger of Allah ﷺ used to pray standing at night for a long time, and used to pray sitting at night for a long time. When he prayed standing, he bowed standing, and when he prayed sitting, he bowed sitting.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تقصیرالصلاة ٢٠ (١١١٨)، صحیح مسلم/المسافرین ١٦ (٧٣١)، سنن الترمذی/الصلاة ١٦٣ (٣٧٢)، سنن النسائی/قیام اللیل ١٦ (١٦٥٠)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٤٠ (١٢٢٧)، (تحفة الأشراف: ١٦٩٠٣، ١٦٨٦٧)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/ صلاة الجماعة ٧ (٢٣)، مسند احمد (٦/٤٦، ٨٣، ١٢٧، ٢٣١) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ بیٹھ کر نماز پڑھتے تو بیٹھ کر قرآت کرتے تھے، پھر جب تیس یا چالیس آیتوں کے بقدر قرآت رہ جاتی تو کھڑے ہوجاتے، پھر انہیں کھڑے ہو کر پڑھتے، پھر رکوع کرتے اور سجدہ کرتے، پھر دوسری رکعت میں (بھی) اسی طرح کرتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث علقمہ بن وقاص نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے، انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح روایت کی ہے۔
Abdullah bin Shaqiq said: I asked Aisha (RA) whether the Messenger of Allah ﷺ recited a whole Surah (of the Quran) in one Rak’ah of the prayer. She replied: (He recited from among) the Mufassal surahs. I asked: Did he pray (at night) sitting? She replied: (he prayed sitting) when the people made him old.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/ تقصیر الصلاة ٢٠ (١١١٩)، صحیح مسلم/المسافرین ١٦ (٧٣١)، سنن الترمذی/الصلاة ١٥٨ (٣٧٤)، سنن النسائی/قیام اللیل ١٦ (١٦٤٩)، (تحفة الأشراف: ١٧٧٠٩، ١٧٧٣٢)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/صلاة الجماعة ٧ (٢٣)، مسند احمد (٦/١٧٨) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رات میں کبھی دیر تک کھڑے ہو کر نماز پڑھتے اور کبھی دیر تک بیٹھ کر، جب کھڑے ہو کر پڑھتے تو رکوع بھی کھڑے ہو کر کرتے اور جب بیٹھ کر پڑھتے تو رکوع بھی بیٹھ کر کرتے۔
Narrated Wail ibn Hujr (RA) : I said that I should look at the prayer of the Messenger of Allah ﷺ how he prays. The Messenger of Allah ﷺ stood up and faced the qiblah (i. e. the direction of Kabah) and uttered the takbir (Allah is most great); then he raised his hands till he brought them in front of his ears; then he caught hold of his left hand with his right hand (i. e. folded his hands). When he was about to bow, he raised them (his hands) in a like manner. Then he sat, stretched out his left foot (to sit on it), placed his left hand on his left thigh, and kept away the tip of his right elbow from his right thigh, joined two fingers, formed a ring, to do so. And the narrator Bishr made a ring with the thumb and the middle finger.
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے پوچھا: کیا رسول اللہ ﷺ پوری سورت ایک رکعت میں پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا: (ہاں) مفصل کی، پھر میں نے پوچھا: کیا آپ بیٹھ کر نماز پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا: جس وقت لوگوں (کے کثرت معاملات) نے آپ ﷺ کو شکستہ (یعنی بوڑھا) کردیا۔
Abdullah bin Umar (RA) said: A Sunnah of the prayer is that you should raise your right foot, and make your left foot lie (on the ground).
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ١٦ (٧٣٢)، (تحفة الأشراف: ١٦٢٢٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٧١، ٢٠٤) (صحیح) الشطر الثاني منہ
وائل بن حجر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: میں ضرور رسول اللہ ﷺ کے طریقہ نماز کو دیکھوں گا کہ آپ کس طرح نماز پڑھتے ہیں؟ چناچہ آپ ﷺ (نماز کے لیے) کھڑے ہوئے تو قبلہ کا استقبال کیا پھر تکبیر (تکبیر تحریمہ) کہہ کر دونوں ہاتھ اٹھائے یہاں تک کہ انہیں پھر اپنے دونوں کانوں کے بالمقابل کیا پھر اپنا بایاں ہاتھ اپنے داہنے ہاتھ سے پکڑا، پھر جب آپ نے رکوع کرنا چاہا تو انہیں پھر اسی طرح اٹھایا، (رفع یدین کیا) وہ کہتے ہیں: پھر آپ ﷺ بیٹھے تو اپنے بائیں پیر کو بچھا لیا اور اپنے بائیں ہاتھ کو اپنی بائیں ران پر رکھا اور اپنی داہنی کہنی کو اپنی داہنی ران سے اٹھائے رکھا اور دونوں انگلیاں (یعنی چھنگلیا اور اس کے قریب کی انگلی) بند کرلی اور (بیچ کی انگلی اور انگوٹھے سے) حلقہ بنا لیا اور میں نے آپ ﷺ کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا۔ اور بشر (راوی) نے بیچ کی انگلی اور انگوٹھے سے حلقہ بنا کر اور کلمے کی انگلی سے اشارہ کر کے بتایا ١ ؎۔
(There is another chain) reported from Yahya who said: I heard Al-Qasim saying: Abdullah bin Abdullah informed me that he heard Abdullah bin Umar (RA) saying: From the Sunnah of the prayer is to lay your left foot on the ground, and raise your right foot.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے اور اس کے علاوہ جتنی حدیثیں اس سلسلے میں آئی ہیں، ان سب سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ شروع ہی سے آپ اسی طرح (انگلی کے) اشارہ کی شکل پر بیٹھتے ہی تھے نہ یہ کہ جب أشہدان لاإلہ إلاللہ پڑھتے تب انگلی سے اشارہ کرتے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم (٧٢٦)، (تحفة الأشراف: ١١٧٨١) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نماز کی سنت یہ ہے کہ تم اپنا دایاں پیر کھڑا رکھو اور بایاں پیر موڑ کر رکھو۔
(There is another chain) from Yahya with his chain and similar (to the previous hadith). Abu Dawud said: Hammad bin Zaid also said (the wording): From the Sunnah (narrating) from Yahya just as Jarir did.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ١٤٥ (٨٢٧)، سنن النسائی/التطبیق ٩٦ (١١٥٧)، (تحفة الأشراف: ٧٢٦٩)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصلاة ١٢(٥١) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں نماز کی سنت میں سے یہ ہے کہ تم اپنا بایاں پیر بچھائے رکھو اور داہنا پیر کھڑا رکھو۔
(There is another chain) from Yahya bin Saeed that Al-Qasim bin Muhammad saw them sitting in Tashah-hud, so he mentioned the Hadith.
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ٧٢٦٩) (صحیح )
اس طریق سے بھی یحییٰ سے اسی سند سے اسی کے مثل مروی ہے ابوداؤد کہتے ہیں: حماد بن زید نے یحییٰ سے من السنة کا لفظ روایت کیا ہے جیسے جریر نے کہا ہے۔
انظر حدیث رقم: (٩٥٨)، (تحفة الأشراف: ٧٢٦٩) (صحیح )
اس طریق سے بھی یحییٰ سے اسی سند سے اسی کے مثل مروی ہے ابوداؤد کہتے ہیں: حماد بن زید نے یحییٰ سے من السنة کا لفظ روایت کیا ہے جیسے جریر نے کہا ہے۔
انظر حدیث رقم: (٩٥٨)، (تحفة الأشراف: ٧٢٦٩) (صحیح )
یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ قاسم بن محمد نے (اپنے ساتھیوں کو) تشہد میں بیٹھنے کی کیفیت دکھائی پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔
انظر حدیث رقم (٩٥٨)، (تحفة الأشراف: ٧٢٧٩، ١٩١٢٠٤) (صحیح )
ابراہیم نخعی کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب نماز میں (تشہد کے لیے) بیٹھتے تو اپنا بایاں پیر بچھاتے یہاں تک کہ آپ کے قدم کی پشت سیاہ ہوگئی تھی۔
It was reported from Ibrahim that he said: When the Prophet ﷺ would sit in the prayer, he would place his left foot horizontally - so much so that the upper-part of his foot became black.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٧٢٦٩، ١٨٤٠٤) (ضعیف) (سند میں انقطاع ہے، ابراہیم نخعی کی اکثر روایتیں تابعین سے ہوتی ہیں )
محمد بن عمرو کہتے کہ میں نے ابو حمید ساعدی ؓ سے رسول اللہ ﷺ کے دس اصحاب کی موجودگی میں سنا، اور احمد بن حنبل کی روایت میں ہے کہ محمد بن عمرو بن عطاء کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے دس اصحاب کی موجودگی میں، جن میں ابوقتادہ بھی تھے، ابوحمید کو یہ کہتا سنا کہ میں تم لوگوں میں سب سے زیادہ رسول اللہ ﷺ کے طریقہ نماز کو جانتا ہوں، لوگوں نے کہا: تو آپ پیش کیجئے، پھر راوی نے حدیث ذکر کی اس میں ہے جب آپ ﷺ سجدہ کرتے تو پاؤں کی انگلیاں کھلی رکھتے پھر الله أكبر کہتے اور سجدے سے سر اٹھاتے اور اپنا بایاں پاؤں موڑتے اور اس پر بیٹھتے پھر دوسری رکعت میں ایسا ہی کرتے، پھر راوی نے حدیث ذکر کی اس میں ہے یہاں تک کہ جب آپ ﷺ اس (آخری) سجدے سے فارغ ہوتے جس کے بعد سلام پھیرنا رہتا ہے تو بایاں پاؤں ایک طرف نکال لیتے اور بائیں سرین پر ٹیک لگا کر بیٹھتے۔ احمد نے اپنی روایت میں اضافہ کیا ہے: پھر لوگوں نے ان سے کہا: آپ نے سچ کہا، آپ اسی طرح نماز پڑھتے تھے، لیکن ان دونوں نے یہ نہیں ذکر کیا کہ دو رکعت پڑھ کر آپ ﷺ کس طرح بیٹھے تھے؟ ١ ؎۔
Abu Humaid al-Saeedi said (in the presence of ten compansions of the prophet): I am more informed than any of you regarding the manner in which the Messenger of Allah ﷺ offered his prayer. They said: Present it. The narrator then reported the tradition, saying: he bent the toes of his feet turning them towards the Qiblah when he prostrated, then he uttered “ Allah is most great, ” and raised (his head), and bent his left foot and sat on it, and he did the same in the second Rakah. The narrator then transmitted the tradition, and added: In the prostration (i. e., the Rakah) which ended at the salutation, he sat on the hips at the left side. ahmad (b. Hanbal) added: they said: You are right. This is how he used to pray. They (Ahmed and Musaddad) did not mention in their versions how he sat after offering two rak’ahs of prayer.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ان دونوں نے پہلے تشہد میں بیٹھنے کی کیفیت کا ذکر نہیں کیا ہے۔