انس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب اپنے بستر پر آتے تو یہ دعا پڑھتے الحمد لله الذي أطعمنا وسقانا وکفانا وآوانا فکم ممن لا کا في له ولا مئوي تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے ہم کو کھلایا اور پلایا، دشمن کے شر سے بچایا، ہم کو پناہ دی، کتنے بندے تو ایسے ہیں جنہیں نہ کوئی بچانے والا ہے، اور نہ کوئی پناہ دینے والا ہے ۔
Anas said: When the Messenger of Allah ﷺ went to his bed, he would say: Praise be to Allah who has fed us, given us drink, satisfied us and given us refuge. Many there are who have no one to provide sufficiency for them, or give them refuge.
ابوالازہر انماری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ رات میں جب اپنی خواب گاہ پر تشریف لے جاتے تو یہ دعا پڑھتے : بسم الله وضعت جنبي اللهم اغفر لي ذنبي وأخسئ شيطاني وفک رهاني واجعلني في الندي الأعلى اللہ کے نام پر میں نے اپنے پہلو کو ڈال دیا (یعنی لیٹ گیا) اے اللہ میرے گناہ بخش دے، میرے شیطان کو دھتکار دے، مجھے گروی سے آزاد کر دے اور مجھے اونچی مجلس میں کر دے، (یعنی ملائکہ، انبیاء و صلحاء کی مجلس میں) ۔
Narrated Abul Azhar al-Anmari (RA) : When the Messenger of Allah ﷺ went to his bed at night, he would say: in the name of Allah, I have laid down my side for Allah. O Allah! forgive me my sin, drive away my devil, free me from my responsibility, and place me in the highest assembly. Abu Dawud said: Abu Hammam al-Ahwazi transmitted it from Thawr. He mentioned Abu Zuhair al-Anmari (instead of Abu al-Azhar).
نوفل (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ان سے کہا : قل يا أيها الکافرون پڑھو (یعنی پوری سورۃ) اور پھر اسے ختم کر کے سو جاؤ، کیونکہ یہ سورة شرک سے براءت ہے ۔
Farwah bin Nawfal quoted his father as saying that the Prophet ﷺ said to Nawfal (his father): Say, O infidels! and then sleep at its end, for it is a declaration of freedom from polytheism.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الدعوات ٢٢ (٣٤٠٣) ، (تحفة الأشراف : ١١٧١٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٤٥٦) ، سنن الدارمی/فضائل القرآن ٢٢ (٣٤٧٠) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ہر رات جب اپنے بچھونے پر سونے آتے تو اپنی ہتھیلیوں کو ملاتے پھر ان میں پھونکتے اور ان میں قل هو الله أحد قل أعوذ برب الفلق اور قل أعوذ برب الناس پڑھتے، پھر ان کو جہاں تک وہ پہنچ سکتیں اپنے بدن پر پھیرتے، اپنے سر، چہرے اور جسم کے اگلے حصے سے پھیرنا شروع کرتے، ایسا آپ تین بار کرتے۔
Aishah said: Every night when he prophet ﷺ went to his bed, he joined his hands and breathed into them, reciting into them: ”say: he is Allah, One” and say ; I seek refuge in the Lord of the dawn and Say: I seek refuge in the Lord of men. Then he would wipe as much of his body as he could with his hands, beginning with his head, his face and the front of his body, doing that three times.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الدعوات ١٢ (٦٣١٩) ، سنن الترمذی/الدعوات ٢١ (٣٤٠٢) ، سنن ابن ماجہ/الدعاء ١٥ (٣٨٧٥) ، (تحفة الأشراف : ١٦٥٣٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/١١٦، ١٥٤) (صحیح )
عرباض بن ساریہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سونے سے پہلے المسبحات ١ ؎ پڑھتے تھے، اور فرماتے تھے : ان میں ایک آیت ایسی ہے جو ہزار آیتوں سے افضل ہے ۔
Narrated Irbad ibn Sariyah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ used to recite al-Musabbihat before going to sleep, and say: They contain a verse which is better than a thousand verses.
Notes · وضاحت
١ ؎ : مسبحات وہ سورتیں ہیں جو لفظ یُسَبِّحُ یا سَبَّحَ سے شروع ہوتی ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الدعوات ٢٢ (٣٤٠٩) ، (تحفة الأشراف : ٩٨٨٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/١٢٨) (ضعیف) (اس کے رواة بقیہ اور ابن ابی بلال ضعیف ہیں )
عبداللہ بن عمر (رض) ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب اپنی خواب گاہ میں آتے تو کہتے : الحمد لله الذي کفاني وآواني وأطعمني وسقاني والذي من على فأفضل والذي أعطاني فأجزل الحمد لله على كل حال اللهم رب کل شىء ومليكه وإله كل شىء أعوذ بک من النار تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے ہر آفت سے بچایا اور ٹھکانا عطا کیا، اور جس نے مجھے کھلایا، اور پلایا اور جس نے مجھ پر احسان کیا اور بڑا احسان کیا، اور جس نے مجھے دیا، اور بہت دیا، اللہ کے لیے ہر حال میں حمد و شکر ہے، اے اللہ ! اے ہر چیز کو پالنے والے اور ہر چیز کے مالک ! اے ہر چیز کے حقیقی معبود ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں آگ سے ۔
Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : When the Messenger of Allah ﷺ went to his bed, he would say: Praise be to Allah Who has given me sufficiency, has guarded me, given me food and drink, been most gracious to me, and given to me most lavishly. Praise be to Allah in every circumstance. O Allah! Lord and King of everything, God of everything, I seek refuge in Thee from Hell.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٧١١٩) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/١١٧) (صحیح الإسناد )
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص کسی جگہ لیٹے اور اس میں اللہ کو یاد نہ کرے تو قیامت کے دن اسے حسرت و ندامت ہوگی، اور جو شخص ایسی جگہ بیٹھے جس میں اللہ کو یاد نہ کرے تو قیامت کے دن اسے حسرت و ندامت ہوگی ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: If anyone lies on his side where he does not remember Allah, deprivation will descend on him on the Day of Resurrection; and if anyone sits in a place where he does not remember Allah, deprivation will descend on him on the Day of Resurrection.
عبادہ بن صامت (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص نیند سے بیدار ہوا اور بیدار ہوتے ہی اس نے لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملک وله الحمد وهو على كل شىء قدير سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر ولا حول ولا قوة إلا بالله کہا پھر دعا کی رب اغفر لي کہ اے ہمارے رب ! ہمیں بخش دے (ولید کی روایت میں ہے، اور دعا کی) تو اس کی دعا قبول کی جائے گی، اور اگر وہ اٹھا اور وضو کیا، پھر نماز پڑھی تو اس کی نماز مقبول ہوگی ۔
Ubadah bin al-Samit reported the Messenger of Allah ﷺ as saying; If anyone is alarmed while asleep and he says when awakes: there is no god but Allah alone Who has no partner, to whom dominion belongs, to whom praise is due, and who has power over everything (omnipotent). Glory be to Allah, and praise be to Allah, and there is no god but Allah, and then he prays: O my Lord, forgive me. Abu Dawud said: Al-Walid’s version has; and he prays, his prayer will be answered. If he gets up, performs ablution, and prays, his prayer will be accepted.
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رات کی نیند سے جب بیدار ہوتے یہ دعا پڑھتے : لا إله إلا أنت سبحانک اللهم أستغفرک لذنبي وأسألک رحمتک اللهم زدني علما ولا تزغ قلبي بعد إذ هديتني وهب لي من لدنک رحمة إنك أنت الوهاب تیرے سوا کوئی سچا معبود نہیں ہے، پاک و برتر ہے تیری ذات، اے پروردگار ! میں تجھ سے اپنے گناہ کی معافی چاہتا ہوں، تیری رحمت کا خواستگار ہوں، اے اللہ ! میرے علم میں اضافہ فرما، اور ہدایت مل جانے کے بعد میرے دل کو کجی سے محفوظ رکھ، مجھے اپنی رحمت سے نواز، بیشک تو بڑا نواز نے والا ہے ۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : When the Messenger of Allah ﷺ awake at night, he said: There is no god but thou, glory be to Thee, O Allah, I ask Thy pardon for my sin and I ask Thee for Thy mercy. O Allah! advance me in knowledge: do not cause my heart to deviate (from guidance) after Thou hast guided me, and grant me mercy from thyself; verily thou art the grantor.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٦١١٨) (ضعیف) (اس کے راوی عبداللہ بن ولید مصری لین الحدیث ہیں )
علی (رض) کہتے ہیں کہ فاطمہ (رض) نبی اکرم ﷺ کے پاس چکی پیسنے سے اپنے ہاتھ میں پہنچنے والی تکلیف کی شکایت لے کر گئیں، اسی دوران رسول اللہ ﷺ کے پاس کچھ قیدی لائے گئے تو وہ آپ کے پاس لونڈی مانگنے آئیں، لیکن آپ نہ ملے تو ام المؤمنین عائشہ (رض) کو بتا کر چلی آئیں، جب رسول اللہ ﷺ تشریف لائے تو عائشہ (رض) نے آپ کو بتایا (کہ فاطمہ آئی تھیں ایک خادمہ مانگ رہی تھیں) یہ سن کر آپ ہمارے پاس تشریف لائے، ہم سونے کے لیے اپنی خواب گاہ میں لیٹ چکے تھے، ہم اٹھنے لگے تو آپ نے فرمایا : اپنی اپنی جگہ پر رہو (اٹھنا ضروری نہیں) چناچہ آپ آ کر ہمارے بیچ میں بیٹھ گئے، یہاں تک کہ میں نے آپ کے قدموں کی ٹھنڈک اپنے سینے میں محسوس کی، آپ نے فرمایا : کیا میں تم دونوں کو اس سے بہتر چیز نہ بتاؤں جو تم نے مانگی ہے، جب تم سونے چلو تو (٣٣) بار سبحان اللہ کہو، (٣٣) بار الحمدللہ کہو، اور (٣٤) بار اللہ اکبر کہو، یہ تم دونوں کے لیے خادم سے بہتر ہے ۔
Ali said: Fatimah complained to the Prophet ﷺ of the effect of the grinding stone on her hand. Then some slaves (prisoners of war) were brought to him. So she went to him to ask for (one of) them, but she did not find him. She mentioned the matter to Aisha (RA) . When the prophet ﷺ came, she informed him. He (the prophet) visited us (Ali) when we had gone to bed, and when we were about to get up, he said: stay where you are. He then came and sat down between us (her and me), and I felt the coldness of his feet on my chest. He then said; “Let me guide to something better than what you have asked. When you go bed, say: Glory be to Allah” thirty-three times. ”Praise be to Allah” thirty-three times, and “ Allah is most Great” thirty-four times. That will be better for you than a servant.
ابوسلورد بن ثمامہ کہتے ہیں کہ علی (رض) نے ابن اعبد سے کہا : کیا میں تم سے اپنے اور رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی فاطمہ (رض) سے متعلق واقعہ نہ بیان کروں، فاطمہ رسول اللہ ﷺ کو اپنے گھر والوں میں سب سے زیادہ پیاری تھیں اور میری زوجیت میں تھیں، چکی پیستے پیستے ان کے ہاتھ میں نشان پڑگئے، مشکیں بھرتے بھرتے ان کے سینے میں نشان پڑگئے، گھر کی صفائی کرتے کرتے ان کے کپڑے گرد آلود ہوگئے، کھانا پکاتے پکاتے کپڑے کالے ہوگئے، اس سے انہیں نقصان پہنچا (صحت متاثر ہوئی) پھر ہم نے سنا کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس غلام اور لونڈیاں لائی گئی ہیں، تو میں نے فاطمہ سے کہا : اگر تم اپنے والد کے پاس جاتیں اور ان سے خادم مانگتیں تو تمہاری ضرورت پوری ہوجاتی، تو وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں، لیکن وہاں لوگوں کو آپ کے پاس بیٹھے باتیں کرتے ہوئے پایا تو شرم سے بات نہ کہہ سکیں اور لوٹ آئیں، دوسرے دن صبح آپ خود ہمارے پاس تشریف لے آئے (اس وقت) ہم اپنے لحافوں میں تھے، آپ فاطمہ کے سر کے پاس بیٹھ گئے، فاطمہ نے والد سے شرم کھا کر اپنا سر لحاف میں چھپالیا، آپ نے پوچھا : کل تم محمد کے اہل و عیال کے پاس کس ضرورت سے آئی تھیں ؟ فاطمہ دو بار سن کر چپ رہیں تو میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں آپ کو بتاتا ہوں : انہوں نے میرے یہاں رہ کر اتنا چکی پیسی کہ ان کے ہاتھ میں گھٹا پڑگیا، مشک ڈھو ڈھو کر لاتی رہیں یہاں تک کہ سینے پر اس کے نشان پڑگئے، انہوں نے گھر کے جھاڑو دیئے یہاں تک کہ ان کے کپڑے گرد آلود ہوگئے، ہانڈیاں پکائیں، یہاں تک کہ کپڑے کالے ہوگئے، اور مجھے معلوم ہوا کہ آپ کے پاس غلام اور لونڈیاں آئیں ہیں تو میں نے ان سے کہا کہ وہ آپ کے پاس جا کر اپنے لیے ایک خادمہ مانگ لیں، پھر راوی نے حکم والی حدیث کے ہم معنی حدیث ذکر کی اور پوری ذکر کی۔
Ali said to Ibn Abad (RA) : should I not tell you about me and about Fatimah, daughter of the Messenger of Allah ﷺ . She was dearest to him of his family. When she was with me, she pulled mill-stone which affected her hand; she carried water with the water-bag which affected the upper portion of her chest: She swept the house so much so that her clothes became dusty; and she cooked food by which her clothes became black, and it harmed her. We heard that some slaves had been brought to the prophet ﷺ . I said: if you go to your father and ask him for a servant, that will be sufficient for you. She came to him and found some people talking to him. She felt shy and returned. Next morning he visited us when we were in our quilt. He sat beside her head, and she took her head into the quilt out of shame from her father. He asked: What need had you with me, O family of Muhammad? She kept silence twice. I then said: I swear by Allah, I shall tell you. She pulls the mile-stone which has affected her hand; she carrys water with the water-bag which has affected the upper portion of her chest; she sweeps the house by which her clothes have become dusty, and she cooks food by which her clothes have become black. We were told that some slaves or servants had come to you. So I said to her; ask him for a servant. He then mentioned the rest of the tradition to the same effect as mentioned by al-Hakam rather more perfectly.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم : (٢٩٨٨) ، (تحفة الأشراف : ١٠٢٤٥) (ضعیف) (اس کے راوی ابوالورد لین الحدیث ہیں، لیکن اصل واقعہ صحیح ہے )
اس سند سے بھی علی (رض) کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے میں نے یہ تسبیح جب سے رسول اللہ ﷺ سے سنی پڑھنے میں کبھی ناغہ نہیں کیا سوائے جنگ صفین والی رات کے، مجھے اخیر رات میں یاد آئی تو میں نے اسے اسی وقت پڑھ لیا ۔
Narrated Ali ibn Abu Talib: The tradition (No 5045, about Tasbih Fatimah) has been transmitted by Ali to the same effect through a different chain of narrators. This version adds: Ali said: I did not leave them (Tasbih Fatimah) since I heard them from the Messenger of Allah ﷺ except on the night of Siffin, for I remembered them towards the end of the night and then I uttered them.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم : (٢٩٨٨) ، (تحفة الأشراف : ١٠١٢٢) (ضعیف) (شبث کی وجہ سے یہ روایت سنداً ضعیف ہے ورنہ اصل واقعہ صحیح ہے )
عبداللہ بن عمرو (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : دو خصلتیں یا دو عادتیں ایسی ہیں جو کوئی مسلم بندہ پابندی سے انہیں (برابر) کرتا رہے گا تو وہ ضرور جنت میں داخل ہوگا، یہ دونوں آسان ہیں اور ان پر عمل کرنے والے لوگ تھوڑے ہیں (١) ہر نماز کے بعد دس بار سبحان الله اور دس بار الحمد الله اور دس بار الله اکبر کہنا، اس طرح یہ زبان سے دن اور رات میں ایک سو پچاس بار ہوئے، اور قیامت میں میزان میں ایک ہزار پانچ سو بار ہوں گے، (کیونکہ ہر نیکی کا ثواب دس گنا ہوتا ہے) اور سونے کے وقت چونتیس بار الله اکبر ، تینتیس بار الحمد الله ، تینتیس بار سبحان الله کہنا، اس طرح یہ زبان سے کہنے میں سو بار ہوئے اور میزان میں یہ ہزار بار ہوں گے، میں نے رسول اللہ ﷺ کو ہاتھ (کی انگلیوں) میں اسے شمار کرتے ہوئے دیکھا ہے، لوگوں نے کہا : اللہ کے رسول ! یہ دونوں کام تو آسان ہیں، پھر ان پر عمل کرنے والے تھوڑے کیسے ہوں گے ؟ تو آپ نے فرمایا : (اس طرح کہ) تم میں ہر ایک کے پاس شیطان اس کی نیند میں آئے گا، اور ان کلمات کے کہنے سے پہلے ہی اسے سلا دے گا، ایسے ہی شیطان تمہارے نماز پڑھنے والے کے پاس نماز کی حالت میں آئے گا، اور ان کلمات کے ادا کرنے سے پہلے اسے اس کا کوئی (ضروری) کام یاد دلا دے گا، (اور وہ ان تسبیحات کو ادا کئے بغیر اٹھ کر چل دے گا) ۔
Narrated Abdullah ibn Amr (RA) : The Prophet ﷺ said: There are two qualities or characteristics which will not be returned by any Muslim without his entering Paradise. While they are easy, those who act upon them are few. One should say: Glory be to Allah ten times after every prayer, Praise be to Allah ten times and Allah is Most Great ten times. That is a hundred and fifty on the tongue, but one thousand and five hundred on the scale. When he goes to bed, he should say: Allah is Most Great thirty-four times, Praise be to Allah thirty-three times, and Glory be to Allah thirty-three times, for that is a hundred on the tongue and a thousand on the scale. (He said:) I saw the Messenger of Allah ﷺ counting them on his hand. The people asked: Messenger of Allah! How is it that while they are easy, those who act upon them are few? He replied: The Devil comes to one of you when he goes to bed and he makes him sleep, before he utters them, and he comes to him while he is engaged in prayer and calls a need to his mind before he utters them.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الدعوات ٢٥ (٣٤١٠) ، سنن النسائی/السہو ٩١ (١٣٤٩) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٣٢ (٩٢٦) ، (تحفة الأشراف : ٨٦٣٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/١٦٠، ٢٠٥) (صحیح )
زبیر کی بیٹیوں ام الحکم یا ضباعہ میں سے کسی ایک سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس کچھ قیدی آئے تو میں، میری بہن اور نبی اکرم ﷺ کی صاحبزادی فاطمہ تینوں آپ کے پاس گئیں، اور ہم جس محنت و مشقت سے دو چار تھے اسے ہم نے بطور شکایت آپ کے سامنے پیش کیا، ہم نے آپ سے درخواست کی کہ ہمیں قیدی دیئے جانے کا آپ حکم فرمائیں، تو آپ نے فرمایا : بدر کی یتیم لڑکیاں تم سے سبقت لے گئیں، (وہ پہلے آئیں اور پا گئیں اب قیدی نہیں بچے) پھر آپ نے تسبیح کے واقعہ کا ذکر کیا اس میں في كل دبر صلاة کے بجائے على أثر کل صلاة کہا اور سونے کا ذکر نہیں کیا۔
Umm al-Hakam or Dubaah, daughter of al-Zubair, said: The Messenger of Allah ﷺ got some prisoners of war (slaves). I my sister and Fatimah, daughter of the prophet ﷺ , went to the prophet ﷺ . We complained to him about our condition, and asked him to command for giving us some prisoners (slaves). The Messenger of Allah ﷺ said; The orphans of Badr came before you (and took the slaves). The transmitter then mentioned the story of glorifying Allah after every prayer. He did not mention sleeping.
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : (٢٩٨٧) ، (تحفة الأشراف : ١٥٩١٢، ١٨٣١٤) (صحیح )
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ ابوبکر صدیق (رض) نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھے کچھ ایسے کلمات بتائیے جنہیں میں جب صبح کروں اور جب شام کروں تو کہہ لیا کروں، آپ نے فرمایا : کہو اللهم فاطر السموات والأرض عالم الغيب والشهادة رب کل شىء ومليكه أشهد أن لا إله إلا أنت أعوذ بک من شر نفسي وشر الشيطان وشرکه اے اللہ ! آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے، پوشیدہ اور موجود ہر چیز کے جاننے والے، ہر چیز کے پالنہار اور مالک ! میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، میں تیری ذات کے ذریعہ اپنے نفس کے شر سے، شیطان کے شر سے، اور اس کے شرک سے پناہ مانگتا ہوں آپ نے فرمایا : جب صبح کرو اور جب شام کرو اور جب سونے چلو تب اس دعا کو پڑھ لیا کرو ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : Abu Bakr as-Siddiq said: Messenger of Allah! command me something to say in the morning and in the evening. He said: Say O Allah, Creator of the heavens and the earth, Who knowest the unseen and the seen, Lord and Possessor of everything. I testify that there is no god but Thee; I seek refuge in Thee from the evil within myself, from the evil of the devil, and his (incitement to) attributing partners (to Allah). He said: Say this in the morning.
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب صبح کرتے تو فرماتے : اللهم بك أصبحنا وبک أمسينا وبک نحيا وبک نموت وإليك النشور اے اللہ ہم نے صبح کی تیرے نام پر اور شام کی تیرے نام پر، جیتے ہیں تیرے نام پر، مرتے ہیں تیرے نام پر، اور مر کر تیرے ہی پاس ہمیں پلٹ کر جانا ہے اور جب شام کرتے تو فرماتے : اللهم بك أمسينا وبک نحيا وبک نموت وإليك النشور اے اللہ ! ہم نے تیرے ہی نام پر شام کی، اور تیرے ہی نام پر ہم جیتے ہیں، تیرے ہی نام پر مرتے ہیں اور تیری ہی طرف ہمیں پلٹ کر جانا ہے ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ used to say in the morning: O Allah, by Thee we come to the morning, by Thee we come to the evening, by Thee are we resurrected. In the evening he would say: O Allah, by Thee we come to the evening, by Thee we die, and to Thee are we resurrected.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٢٧٥٦) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/الدعوات ١٣ (٣٣٩١) ، سنن ابن ماجہ/الدعاء ١٤ (٣٨٦٨) ، مسند احمد (٢/٣٥٤، ٥٢٢) (صحیح )
انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص صبح کے وقت اور شام کے وقت یہ دعا پڑھے اللهم إني أصبحت أشهدک وأشهد حملة عرشک وملائكتک وجميع خلقک أنك أنت الله لا إله إلا أنت وأن محمدا عبدک ورسولک اے اللہ ! میں نے صبح کی، میں تجھے اور تیرے عرش کے اٹھانے والوں کو تیرے فرشتوں کو اور تیری ساری مخلوقات کو گواہ بناتا ہوں کہ : تو ہی اللہ ہے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، محمد ﷺ تیرے بندے اور رسول ہیں تو اللہ تعالیٰ اس کا ایک چوتھائی حصہ جہنم سے آزاد کر دے گا، پھر جو دو مرتبہ کہے گا اللہ اس کا نصف حصہ آزاد کر دے گا، اور جو تین بار کہے گا تو اللہ اس کے تین چوتھائی حصے کو آزاد کر دے گا، اور اگر وہ چار بار کہے گا تو اللہ اسے پورے طور پر جہنم سے نجات دیدے گا۔
Narrated Anas ibn Malik: The Prophet ﷺ said: If anyone says in the morning or in the evening: O Allah! in the morning we call Thee, the bearers of Thy Throne, Thy angels and all Thy creatures to witness that thou art Allah (God) than Whom alone there is no god, and that Muhammad is Thy Servant and Messenger, Allah will emancipate his fourth from Hell; if anyone says twice, Allah will emancipate his half; if anyone says it thrice, Allah will emancipate three-fourth; and if he says four times, Allah will emancipate him from Hell.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٦٠٣) (ضعیف) (اس کے راوی عبدالرحمان بن عبدالمجید مجہول ہیں )
بریدہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جو شخص صبح کے وقت یا شام کے وقت کہے : اللهم أنت ربي لا إله إلا أنت خلقتني وأنا عبدک وأنا على عهدک ووعدک ما استطعت أعوذ بک من شر ما صنعت أبوء بنعمتک وأبوء بذنبي فاغفر لي إنه لا يغفر الذنوب إلا أنت اے اللہ ! تو میرا رب ہے، تیرے سوا میرا کوئی معبود برحق نہیں ہے، تو نے ہی مجھے پیدا کیا ہے، میں تیرا بندہ ہوں، میں تیرے ساتھ اپنے اقرار پر قائم ہوں اور تیرے وعدے پر مضبوطی سے طاقت بھر جما ہوا ہوں، اس شر سے جو مجھ سے سرزد ہوئے ہوں تیری پناہ چاہتا ہوں، تیری نعمتوں کا اقرار کرتا ہوں اور اپنے گناہوں کا اعتراف کرتا ہوں تو مجھے معاف کر دے، تیرے سوا کوئی اور گناہ معاف نہیں کرسکتا اور اسی دن یا اسی رات میں مرجائے تو جنت میں داخل ہوگا۔
Narrated Buraydah ibn al-Hasib: The Prophet ﷺ said: If anyone says in the morning or in the evening: O Allah! Thou art my Lord; there is no god but Thee, Thou hast created me, and I am Thy servant and hold to Thy covenant and promise as much as I can; I seek refuge in Thee from the evil of what I have done: I acknowledge Thy favour to me, and I acknowledge my sin; pardon me, for none but Thee pardons sins, and dies during the daytime or during the night. he will go to Paradise.
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الدعاء ١٤ (٣٨٧٢) ، (تحفة الأشراف : ٢٠٠٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٣٥٦) (صحیح )
عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب شام کرتے تو یہ دعا پڑھتے تھے : أمسينا وأمسى الملک لله والحمد لله لا إله إلا الله وحده لا شريك له ہم نے شام کی، اور ملک نے شام کی جو اللہ تعالیٰ کا ہے، تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، اللہ واحد کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، اور نہ ہی کوئی اس کا شریک ہے۔ جریر کی روایت میں اتنا اضافہ ہے : زبید کہتے تھے کہ ابراہیم بن سوید کی روایت میں ہے لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملک وله الحمد وهو على كل شىء قدير رب أسألک خير ما في هذه الليلة وخير ما بعدها وأعوذ بک من شر ما في هذه الليلة وشر ما بعدها رب أعوذ بک من الکسل ومن سوء الکبر أو الکفر رب أعوذ بک من عذاب في النار و عذاب في القبر اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے ملک ہے، اسی کے لیے تمام تعریفیں ہیں، وہ ہر چیز پر قادر ہے، اے رب ! اس رات اور اس کے بعد کی رات کی بھلائی کا طلب گار ہوں، اور اس رات اور اس کے بعد کی رات کی برائی سے پناہ مانگتا ہوں، اے اللہ میں پناہ مانگتا ہوں سستی اور کاہلی سے، اور بڑھاپے، یا کفر سے یا غرور کی برائی سے، اے رب میں پناہ مانگتا ہوں آگ کے عذاب سے، قبر کے عذاب سے اور جب صبح ہوتی تو بھی یہی کہتے فرق صرف یہ ہوتا کہ أمسينا وأمسى الملک لله کے بجائے أصبحنا وأصبح الملک لله ہم نے صبح کی اور ملک نے صبح کی جو اللہ تعالیٰ کا ہے کہتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے شعبہ نے سلمہ بن کہل سے، سلمہ نے ابراہیم بن سوید سے روایت کیا ہے اس میں من سوء الکبر ہے انہوں نے من سوء الکفر کا ذکر نہیں کیا ہے۔
Abdullah (bin Masud) told that when the evening came, the prophet ﷺ would say: we have come to the evening, and in the evening the dominion belongs to Allah: “Praise be to Allah; there is no god but Allah alone who has no partner”. The version of Jarir adds: Zubaid said that Ibrahim bin Suwaid said: There is no god but Allah alone who has no partner; to him belongs the dominion, to him praise is due, and He is omnipotent. O Allah! I ask thee for the good of what this night contains, and the good of what comes after it; and I seek refuge in Thee from the evil of what this night contains, and from the evil of what comes after it. My Lord! I seek refuge in Thee from indolence, the evil of old age or of disbelief. My Lord! I seek refuge in Thee from a punishment in Hell and a punishment in the grave. In the morning he said that also: we have come to the morning, and in the morning the dominion belongs to Allah. Abu Dawud said: Shubah transmitted from Salamah bin Kuhail, from Ibrahim bin Suwaid, saying: from the evil of old age. He did not mention the evil of disbelief.
ابو سلام کہتے ہیں کہ وہ حمص کی مسجد میں تھے کہ ایک شخص کا وہاں سے گزر ہوا، لوگوں نے کہا، یہ نبی اکرم ﷺ کے خادم رہے ہیں، راوی کہتے ہیں : تو ابو سلام اٹھ کر ان کے پاس گئے، اور ان سے عرض کیا کہ آپ رسول اللہ ﷺ سے سنی ہوئی کوئی ایسی حدیث ہم سے بیان فرمائیے، جس میں آپ کے اور رسول اللہ ﷺ کے درمیان کسی اور شخص کا واسطہ نہ ہو، تو انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے : جس نے جب صبح کے وقت اور شام کے وقت یہ دعا پڑھی رضينا بالله ربا وبالإسلام دينا وبمحمد رسولا ہم اللہ کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے اور محمد ﷺ کے رسول ہونے سے راضی و خوش ہیں تو اللہ پر اس کا یہ حق بن گیا کہ وہ بھی اس سے راضی و خوش ہوجائے۔
Narrated A man: Abu Sallam told that he was in the mosque of Hims. A man passed him and the people said about him that he served the Prophet ﷺ . He (Abu Sallam) went to him and said: Tell me any tradition which you heard from the Messenger of Allah ﷺ and there were no man between him and you. He said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: If anyone says in the morning and in the evening: I am pleased with Allah as Lord, with Islam as religion, with Muhammad as Prophet, Allah will certainly please him.
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الدعاء ١٧ (٣٨٧٠) ، (تحفة الأشراف : ١٢٠٥٠، ١٥٦٧٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٣٣٧، ٥/٣٦٧) (ضعیف) (اس کے راوی سابق بن ناجیہ لین الحدیث ہیں )