زید بن وہب جہنی بیان کرتے ہیں کہ وہ اس فوج میں شامل تھے جو علی (رض) کے ساتھ تھی، اور جو خوارج کی طرف گئی تھی، علی نے کہا : اے لوگو ! میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے : میری امت میں کچھ لوگ ایسے نکلیں گے کہ وہ قرآن پڑھیں گے، تمہارا پڑھنا ان کے پڑھنے کے مقابلے کچھ نہ ہوگا، نہ تمہاری نماز ان کی نماز کے مقابلے کچھ ہوگی، اور نہ ہی تمہارا روزہ ان کے روزے کے مقابلے کچھ ہوگا، وہ قرآن پڑھیں گے، اور سمجھیں گے کہ وہ ان کے لیے (ثواب) ہے حالانکہ وہ ان پر (عذاب) ہوگا، ان کی صلاۃ ان کے حلق سے نیچے نہ اترے گی، وہ اسلام سے نکل جائیں گے، جس طرح تیر شکار سے نکل جاتا ہے، اگر ان لوگوں کو جو انہیں قتل کریں گے، یہ معلوم ہوجائے کہ ان کے لیے ان کے نبی اکرم ﷺ کی زبانی کس چیز کا فیصلہ کیا گیا ہے، تو وہ ضرور اسی عمل پر بھروسہ کرلیں گے (اور دوسرے نیک اعمال چھوڑ بیٹھیں گے) ان کی نشانی یہ ہے کہ ان میں ایک ایسا آدمی ہوگا جس کے بازو ہوگا، لیکن ہاتھ نہ ہوگا، اس کے بازو پر پستان کی گھنڈی کی طرح ایک گھنڈی ہوگی، اس کے اوپر کچھ سفید بال ہوں گے تو کیا تم لوگ معاویہ اور اہل شام سے لڑنے جاؤ گے، اور انہیں اپنی اولاد اور اسباب پر چھوڑ دو گے (کہ وہ ان پر قبضہ کریں اور انہیں برباد کریں) اللہ کی قسم مجھے امید ہے کہ یہی وہ لوگ ہیں (جن کے بارے میں نبی اکرم ﷺ کا فرمان ہے) اس لیے کہ انہوں نے ناحق خون بہایا ہے، لوگوں کی چراگاہوں پر شب خون مارا ہے، چلو اللہ کے نام پر۔ سلمہ بن کہیل کہتے ہیں : پھر زید بن وہب نے مجھے ایک ایک مقام بتایا (جہاں سے ہو کر وہ خارجیوں سے لڑنے گئے تھے) یہاں تک کہ وہ ہمیں لے کر ایک پل سے گزرے۔ وہ کہتے ہیں : جب ہماری مڈبھیڑ ہوئی تو خارجیوں کا سردار عبداللہ بن وہب راسبی تھا اس نے ان سے کہا : نیزے پھینک دو اور تلواروں کو میان سے کھینچ لو، مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں وہ تم سے اسی طرح صلح کا مطالبہ نہ کریں جس طرح انہوں نے تم سے حروراء کے دن کیا تھا، چناچہ انہوں نے اپنے نیزے پھینک دئیے، تلواریں کھینچ لیں، لوگوں (مسلمانوں) نے انہیں اپنے نیزوں سے روکا اور انہوں نے انہیں ایک پر ایک کر کے قتل کیا اور (مسلمانوں میں سے) اس دن صرف دو آدمی شہید ہوئے، علی (رض) نے کہا : ان میں مخدج یعنی لنجے کو تلاش کرو، لیکن وہ نہ پا سکے، تو آپ خود اٹھے اور ان لوگوں کے پاس آئے جو ایک پر ایک کر کے مارے گئے تھے، آپ نے کہا : انہیں نکالو، تو انہوں نے اسے دیکھا کہ وہ سب سے نیچے زمین پر پڑا ہے، آپ نے نعرہ تکبیر بلند کیا اور بولے : اللہ نے سچ فرمایا اور اس کے رسول نے ساری باتیں پہنچا دیں۔ پھر عبیدہ سلمانی آپ کی طرف اٹھ کر آئے کہنے لگے : اے امیر المؤمنین ! قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں کیا آپ نے اسے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے ؟ وہ بولے : ہاں، اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں، یہاں تک کہ انہوں نے انہیں تین بار قسم دلائی اور وہ (تینوں بار) قسم کھاتے رہے۔
Salamah bin kuhail said: Zaid bin Wahb al-Juhani told that he was in the army which proceeded to (fight with) the Khawarij in the company of Ali. All then said: O people! I heard the Messenger of Allah ﷺ say: there will appear from among my community people who recite the Quran, and your recitation has no comparison with their recitation, and your prayer has no comparison with their prayer, and your fasts have no comparison with their fasts. They will recite the Quran thinking that it is beneficial for them, while it is harmful for them. Their prayer will not pass their collar-bones. They will swerve from Islam as an arrow goes through the animal shot at. If the army that is approaching them knows what (reward) has been decided for them at the tongue of their prophet ﷺ , they would leave (other good) activities. The sign of that is that among them there will be a man who has an upper arm, but not hand; on his upper arm there will be something like the nipple of a female breast, having white hair thereon. Will you go to Mu;awiyah and the people of Syria, and leave them behind among your children and property? I swear by Allah, I hope these are the same people, for they shed the blood unlawfully, and attacked the cattle of the people so go on in the name of Allah. Salamah bin kuhail said: Zaid bin Wahb then informed me of all the halting places one by one, (saying): Until we passed a bridge. When we fought with each other, Abdullah bin Wahb al-Rasibi, who was the leader of the Khawarij, said to them: Throw away the lances and pull out the swards from their sheaths, for I am afraid they will adjure you as they had adjured on the day of Harura. So they threw away their lances and pulled out their swords, and the people pierced them with their lances. They were killed (lying one on the other). On that day only two persons of the partisans (of Ali) were afflicted. Ali said: search for the man with the crippled hand. but they could not find it. Then ‘All got up himself and went to the people who had been killed and were lying on one another. He said: Take them out. They found him just near the ground. So he shouted: Allah is Most Great! He said: Allah spoke the truth, and His Messenger has conveyed. Ubaidat al-Salmani stood up to him, saying: Commander of the Faithful! Have you heard it from the Messenger of Allah ﷺ ? He said: Yes, by him, there is no god but He. He put to swear thrice and he swore.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/ الزکاة ٤٨ (١٠٦٦) ، (تحفة الأشراف : ١٠١٠٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٩٠) (صحیح )
ابوالوضی کہتے ہیں کہ علی (رض) نے کہا : مخدج (لنجے) کو تلاش کرو، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی، اس میں ہے : لوگوں نے اسے مٹی میں پڑے ہوئے مقتولین کے نیچے سے ڈھونڈ نکالا، گویا میں اس کی طرف دیکھ رہا ہوں، وہ ایک حبشی ہے چھوٹا سا کرتا پہنے ہوئے ہے، اس کا ایک ہاتھ عورت کے پستان کی طرح ہے، جس پر ایسے چھوٹے چھوٹے بال ہیں، جیسے جنگلی چوہے کی دم پر ہوتے ہیں۔
Ali said: search for the man with crippled hand. he then mentioned the rest of the tradition. This version has: They took him out from beneath the slain in the dust. Abu al-wadi said: As if I am looking at an ABYSSINIAN WITH A SHIRT ON HIM. HE HAD ONE OF HIS HANDS LIKE THE NIPPLE OF THE FEMALE BREAST, HAVING HAIR ON IT LIKE THE HAIR ON THE TAIL OF THE JERBOA.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٠١٥٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/١٣٩، ١٤٠، ١٤١) (صحیح الإسناد )
ابومریم کہتے ہیں کہ یہ مخدج (لنجا) مسجد میں اس دن ہمارے ساتھ تھا ہم اس کے ساتھ رات دن بیٹھا کرتے تھے، وہ فقیر تھا، میں نے اسے دیکھا کہ وہ مسکینوں کے ساتھ آ کر علی (رض) کے کھانے پر لوگوں کے ساتھ شریک ہوتا تھا اور میں نے اسے اپنا ایک کپڑا دیا تھا۔ ابومریم کہتے ہیں : لوگ مخدج (لنجے) کو نافعا ذا الثدية (پستان والا) کا نام دیتے تھے، اس کے ہاتھ میں عورت کے پستان کی طرح گوشت ابھرا ہوا تھا، اس کے سرے پر ایک گھنڈی تھی جیسے پستان میں ہوتی ہے اس پر بلی کی مونچھوں کی طرح چھوٹے چھوٹے بال تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : لوگوں کے نزدیک اس کا نام حرقوس تھا۔
Abu Maryam said: This man with the crippled hand was on that day with us in the mosque. We would sit with him by day and by night, and he was a poor man. I saw him attending the meals of Ali (Allah be pleased with him) which he took with the people, and I clothed him with a cloak of mine. Abu Maryam said: The man with the crippled hand was called Nafi Dhu al-Thadyah (Nafi, man of nipple). He had in his hand something like a female breast with a nipple at it ends like the nipple of the female breast. If had some hair on it like the whiskers of cat. Abu Dawud said: Hw was known among the people by the name of Harqus.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٠٣٣٣) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی نعیم حافظہ کے کمزور راوی ہیں )
عبداللہ بن عمرو (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جس کا مال لینے کا ناحق ارادہ کیا جائے اور وہ (اپنے مال کے بچانے کے لیے) لڑے اور مارا جائے تو وہ شہید ہے ۔
Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As: The Prophet ﷺ said: If the property of anyone is designed to be taken away without any right and he fights and is killed, he is a martyr.
سعید بن زید (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جو اپنا مال بچانے میں مارا جائے وہ شہید ہے اور جو اپنے بال بچوں کو بچانے یا اپنی جان بچانے یا اپنے دین کو بچانے میں مارا جائے وہ بھی شہید ہے ۔
Narrated Saeed ibn Zayd: The Prophet ﷺ said: He who is killed while protecting his property is a martyr, and he who is killed while defending his family, or his blood, or his religion is a martyr.
انس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ لوگوں میں سب سے بہتر اخلاق والے تھے، ایک دن آپ نے مجھے کسی ضرورت سے بھیجا تو میں نے کہا : قسم اللہ کی، میں نہیں جاؤں گا، حالانکہ میرے دل میں یہ بات تھی کہ اللہ کے نبی اکرم ﷺ نے حکم دیا ہے، اس لیے ضرور جاؤں گا، چناچہ میں نکلا یہاں تک کہ جب میں کچھ بچوں کے پاس سے گزر رہا تھا اور وہ بازار میں کھیل رہے تھے کہ اچانک رسول اللہ ﷺ نے میرے پیچھے سے میری گردن پکڑ لی، میں نے آپ ﷺ کی طرف مڑ کر دیکھا، آپ ہنس رہے تھے، پھر آپ ﷺ نے فرمایا : اے ننھے انس ! جاؤ جہاں میں نے تمہیں حکم دیا ہے میں نے عرض کیا : ٹھیک ہے، میں جا رہا ہوں، اللہ کے رسول، انس کہتے ہیں : اللہ کی قسم، میں نے سات سال یا نو سال آپ ﷺ کی خدمت کی، لیکن مجھے نہیں معلوم کہ آپ نے کبھی میرے کسی ایسے کام پر جو میں نے کیا ہو یہ کہا ہو کہ تم نے ایسا اور ایسا کیوں کیا ؟ اور نہ ہی کسی ایسے کام پر جسے میں نے نہ کیا ہو یہ کہا ہو کہ تم نے ایسا اور ایسا کیوں نہیں کیا ؟۔
Anas said: The Messenger of Allah ﷺ was one of the best of men in character. One day he sent me to do something, and I said: I swear by Allah that i will not go. But in my heart I felt that I should go to do what the prophet of Allah ﷺ had commanded me; so I went out and came upon some boys who were playing in the street. All of a sudden the Messenger of Allah ﷺ who had come up behind caught me by the back of the neck, and when I looked at him he was laughing. He said: Go where I ordered you, little Anas. I replied: Yes, I am going, Messenger of Allah! Anas said: I swear by Allah, I served him for seven or nine years, and he never said to me about a thing which I had done: Why did you do such and such? Nor about a thing which I left: Why did not do such and such?
انس (رض) کہتے ہیں کہ میں نے دس سال مدینہ میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت کی، میں ایک کمسن بچہ تھا، میرا ہر کام اس طرح نہ ہوتا تھا جیسے میرے آقا کی مرضی ہوتی تھی، لیکن آپ ﷺ نے کبھی بھی مجھ سے اف تک نہیں کہا اور نہ مجھ سے یہ کہا : تم نے ایسا کیوں کیا ؟ یا تم نے ایسا کیوں نہیں کیا ؟۔
Narrated Anas ibn Malik: I served the Prophet ﷺ at Madina for ten years. I was a boy. Every work that I did was not according to the desire of my master, but he never said to me: Fie, nor did he say to me: Why did you do this? or Why did you not do this?
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٤٢٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/١٩٥) (صحیح )
ہلال بیان کرتے ہیں کہ ابوہریرہ (رض) نے ہم سے بیان کرتے ہوئے کہا : نبی اکرم ﷺ ہمارے ساتھ مجلس میں بیٹھا کرتے تھے، آپ ﷺ ہم سے باتیں کرتے تھے تو جب آپ اٹھ کھڑے ہوتے تو ہم بھی اٹھ کھڑے ہوتے یہاں تک کہ ہم آپ ﷺ کو دیکھتے کہ آپ اپنی ازواج میں سے کسی کے گھر میں داخل ہوگئے ہیں، چناچہ آپ ﷺ نے ہم سے ایک دن گفتگو کی، تو جب آپ ﷺ کھڑے ہوئے ہم بھی کھڑے ہوگئے، تو ہم نے ایک اعرابی کو دیکھا کہ اس نے آپ ﷺ کو پکڑ کر اور آپ کے اوپر چادر ڈال کر آپ کو کھینچ رہا ہے، آپ ﷺ کی گردن لال ہوگئی ہے، ابوہریرہ کہتے ہیں : وہ ایک کھردری چادر تھی، آپ ﷺ اس کی طرف مڑے تو اعرابی نے آپ سے کہا : میرے لیے میرے ان دونوں اونٹوں کو (غلے سے) لاد دو ، اس لیے کہ نہ تو تم اپنے مال سے لادو گے اور نہ اپنے باپ کے مال سے تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : نہیں ١ ؎ اور میں اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں، نہیں اور میں اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں، نہیں اور میں اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں ٢ ؎ میں تمہیں نہیں دوں گا یہاں تک کہ تم مجھے اپنے اس کھینچنے کا بدلہ نہ دے دو لیکن اعرابی ہر بار یہی کہتا رہا : اللہ کی قسم میں تمہیں اس کا بدلہ نہ دوں گا۔ پھر راوی نے حدیث ذکر کی، اور کہا : آپ ﷺ نے ایک شخص کو بلایا اور اس سے فرمایا : اس کے لیے اس کے دونوں اونٹوں پر لاد دو : ایک اونٹ پر جو اور دوسرے پر کھجور پھر آپ ﷺ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : واپس جاؤ اللہ کی برکت پر بھروسہ کر کے ٣ ؎۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ used to sit with us in meetings and talk to us. When he stood up we also used to stand up and see him entering the house of one of his wives. One day he talked to us and we stood up as he stood up and we saw that an Arabi (a nomadic Arab) caught hold of him and gave his cloak a violent tug making his neck red. Abu Hurairah said: The cloak was coarse. He turned to him and the Arabi said to him: Load these two camels of mine, for you do not give me anything from your property or from your fathers property. The Prophet ﷺ said to him: No, I ask Allahs forgiveness; no, I ask Allahs forgiveness; no, I ask Allahs forgiveness. I shall not give you the camel-load until you make amends for the way in which you tugged at me. Each time the Arabi said to him: I swear by Allah, I shall not do so. He then mentioned the rest of the tradition. He (the Prophet), then called a man and said to him: Load these two camels of his: one camel with barley and the other with dates. He then turned to us and said: Go on your way with the blessing of Allah.
Notes · وضاحت
١ ؎ : مطلب یہ ہے کہ جو میں تمہیں دوں گا وہ یقیناً میرا اپنا مال نہیں ہوگا۔ ٢ ؎ : اگر معاملہ اس طرح نہ ہو۔ ٣ ؎ : اس حدیث میں نبی اکرم ﷺ کے کمال اخلاق و حلم کا بیان ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/القسامة ١٨ (٤٧٨٠) ، (تحفة الأشراف : ١٤٨٠١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٢٨٨) (ضعیف )
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : راست روی، خوش خلقی اور میانہ روی نبوت کا پچیسواں حصہ ہے ١ ؎۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Prophet ﷺ said: Good way, dignified good bearing and moderation are the twenty-fifth part of Prophecy.
Notes · وضاحت
١ ؎ : مطلب یہ ہے کہ یہ خصلتیں اللہ تعالیٰ نے انبیاء (علیہم السلام) کو عطا کی ہیں، لہٰذا انہیں اپنانے میں ان کی پیروی کرو، یہ معنیٰ نہیں کہ نبوت کوئی ذو اجزاء چیز ہے، اور جس میں یہ خصلتیں پائی جائیں گی اس کے اندر نبوّت کے کچھ حصے پائے جائیں گے کیونکہ نبوت کوئی کسبی چیز نہیں ہے بلکہ یہ اللہ کی طرف سے ایک اعزاز ہے وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اس اعزاز سے نوازتا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ٥٤٠٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٢٩٦) (حسن )
معاذ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے اپنا غصہ پی لیا حالانکہ وہ اسے نافذ کرنے پر قادر تھا تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے سب لوگوں کے سامنے بلائے گا یہاں تک کہ اسے اللہ تعالیٰ اختیار دے گا کہ وہ بڑی آنکھ والی حوروں میں سے جسے چاہے چن لے ۔
Narrated Muadh ibn Jabal (RA) : The Messenger of Allah ﷺ said: if anyone suppresses anger when he is in a position to give vent to it, Allah, the Exalted, will call him on the Day of Resurrection over the heads of all creatures, and ask him to choose any of the bright and large eyed maidens he wishes. Abu Dawud said: The name if the transmitter Abu Marhum is Abdur-Rahman bin Maimun
نبی اکرم ﷺ کے اصحاب کے فرزندوں میں سے ایک شخص اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اسی طرح فرمایا، آپ نے فرمایا : اللہ اسے امن اور ایمان سے بھر دے گا اور اس میں یہ واقعہ مذکور نہیں کہ اللہ اسے بلائے گا، البتہ اتنا اضافہ ہے، اور جو خوب (تواضع و فروتنی میں) صورتی کا لباس پہننا ترک کر دے، حالانکہ وہ اس کی قدرت رکھتا ہو، تو اللہ تعالیٰ اسے عزت کا جوڑا پہنائے گا، اور جو اللہ کی خاطر شادی کرائے گا ١ ؎ تو اللہ اسے بادشاہت کا تاج پہنائے گا ۔
Suwaid bin Wahb quoted a son of a Companion of the Prophet ﷺ who said his father reported the Messenger of Allah ﷺ said: He then mentioned a similar tradition described above. This version has: Allah will fill his heart with security and faith. He did not mention the words Allah will call him. This version further adds: He who gives up wearing beautiful garments when he is able to do so (out of humility, as Bishrs version has) will be clothed by Allah with the robe of honour, and he who marries for Allahs sake will be crowned by Allah with the crown of Kingdom.
Notes · وضاحت
١ ؎ : من زوج لله میں مفعول محذوف ہے، اصل عبارت یوں ہے من زوج من يحتاج إلى الزواج یعنی جو کسی ایسے شخص کی شادی کرائے گا جو شادی کا ضرورت مند ہو، بعض لوگوں نے کہا ہے کہ اس کا مفعول كريمته ہے یعنی جو اپنی بیٹی کی شادی کرے گا، اور بعض لوگوں نے کہا ہے کہ من زوَّج کے معنی من أعطى لله اثنين من الأشياء کے ہیں، یعنی جس نے اللہ کی خاطر کسی کو دو چیز دی۔
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم لوگ پہلوان کس کو شمار کرتے ہو ؟ لوگوں نے عرض کیا : اس کو جسے لوگ پچھاڑ نہ سکیں، آپ نے فرمایا : نہیں، بلکہ پہلوان وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھتا ہو ۔
Abdullah (bin Masud) reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: Whom do you consider a wrestler among you? The people replied: (the man) whom the men cannot defeat in wrestling. He said: No, it is he who controls himself when he is angry.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/البر والصلة ٣٠ (٢٦٠٨) ، (تحفة الأشراف : ٩١٩٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٣٨٢) (صحیح )
معاذ بن جبل (رض) کہتے ہیں کہ دو شخصوں نے نبی اکرم ﷺ کے پاس گالی گلوج کی تو ان میں سے ایک کو بہت شدید غصہ آیا یہاں تک کہ مجھے ایسا محسوس ہونے لگا کہ مارے غصے کے اس کی ناک پھٹ جائے گی، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : مجھے ایک ایسا کلمہ معلوم ہے کہ اگر وہ اسے کہہ دے تو جو غصہ وہ اپنے اندر پا رہا ہے دور ہوجائے گا عرض کیا : کیا ہے وہ ؟ اللہ کے رسول ! آپ نے فرمایا : وہ کہے اللهم إني أعوذ بک من الشيطان الرجيم اے اللہ ! میں شیطان مردود سے تیری پناہ مانگتا ہوں تو معاذ اسے اس کا حکم دینے لگے، لیکن اس نے انکار کیا، اور لڑنے لگا، اس کا غصہ مزید شدید ہوتا چلا گیا۔
Narrated Muadh ibn Jabal (RA) : Two men reviled each other in the presence of the Prophet ﷺ and one of them became excessively angry so much so that I thought that his nose will break up on account of excess of anger. The Prophet ﷺ said: I know a phrase which, if he repeated, he could get rid of this angry feeling. They asked: What is it, Messenger of Allah? He replied: He should say: I seek refuge in Thee from the accursed devil. Muadh then began to ask him to do so, but he refused and persisted in quarrelling, and began to enhance his anger.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الدعوات ٥٢ (٣٤٥٢) ، (تحفة الأشراف : ١١٣٤٢) ، وقد أ خرجہ : مسند احمد (٥/٢٤٠، ٢٤٤) (ضعیف )
سلیمان بن صرد کہتے ہیں کہ دو شخصوں نے نبی اکرم ﷺ کے پاس گالی گلوج کی تو ان میں سے ایک کی آنکھیں سرخ ہوگئیں، اور رگیں پھول گئیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مجھے ایک ایسا کلمہ معلوم ہے کہ اگر وہ اسے کہہ دے تو جو غصہ وہ اپنے اندر پا رہا ہے دور ہوجائے گا، وہ کلمہ أعوذ بالله من الشيطان الرجيم ، تو اس آدمی نے کہا : کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ مجھے جنون ہے ١ ؎۔
Sulaiman bin Surad said: Two men reviled each other in the presence of Prophet ﷺ . Then the eyes of one of them became red and his jugular veins swelled. The Messenger of Allah ﷺ said: I know a phrase by repeating which the man could get rid of the angry feelings: I seek refuge in Allah from the accursed devil. The man said: Do you see insanity in me.
Notes · وضاحت
١ ؎ : غالباً اس نے یہ سمجھا کہ أعوذ بالله من الشيطان الرجيم پڑھنا جنون ہی کے ساتھ مخصوص ہے، یا ہوسکتا ہے کہ وہ کوئی منافق یا غیر مہذب اور غیر مہذب بدوی رہا ہو۔
ابوذر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم سے فرمایا : جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے اور وہ کھڑا ہو تو چاہیئے کہ بیٹھ جائے، اب اگر اس کا غصہ رفع ہوجائے (تو بہتر ہے) ورنہ پھر لیٹ جائے ۔
Narrated Abu Dharr (RA) : The Messenger of Allah ﷺ said to us: When one of you becomes angry while standing, he should sit down. If the anger leaves him, well and good; otherwise he should lie down.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١٢٠٠١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/١٥٢) (صحیح )
بکر سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ابوذر کو بھیجا آگے یہی حدیث مروی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : دونوں حدیثوں میں یہ زیادہ صحیح ہے۔
Bakr said: The Prophet ﷺ sent Muadh for some of his work. He then transmitted the rest of the tradition mentioned above. Abu Dawud said: This tradition is sounder of the two traditions.
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ١٢٠٠١، ١٨٤٥٩) (صحیح )
ابو وائل قاص کہتے ہیں کہ ہم عروہ بن محمد بن سعدی کے پاس داخل ہوئے، ان سے ایک شخص نے گفتگو کی تو انہیں غصہ کردیا، وہ کھڑے ہوئے اور وضو کیا، پھر لوٹے اور وہ وضو کئے ہوئے تھے، اور بولے : میرے والد نے مجھ سے بیان کیا وہ میرے دادا عطیہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : غصہ شیطان کے سبب ہوتا ہے، اور شیطان آگ سے پیدا کیا گیا ہے، اور آگ پانی سے بجھائی جاتی ہے، لہٰذا تم میں سے کسی کو جب غصہ آئے تو وضو کرلے ۔
Narrated Atiyyah as-Saadi: Abu Wail al-Qass said: We entered upon Urwah ibn Muhammad ibn as-Saadi. A man spoke to him and made him angry. So he stood and performed ablution; he then returned and performed ablution, and said: My father told me on the authority of my grandfather Atiyyah who reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: Anger comes from the devil, the devil was created of fire, and fire is extinguished only with water; so when one of you becomes angry, he should perform ablution.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ٩٩٠٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٢٢٦) (ضعیف) (عروة بن محمد لین الحدیث ہیں )
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو دو کاموں میں جب بھی اختیار کا حکم دیا گیا تو آپ نے اس میں آسان تر کو منتخب کیا، جب تک کہ وہ گناہ نہ ہو، اور اگر وہ گناہ ہوتا تو آپ لوگوں میں سب سے زیادہ اس سے دور رہنے والے ہوتے، اور رسول اللہ ﷺ نے اپنی خاطر کبھی انتقام نہیں لیا، اس صورت کے علاوہ کہ اللہ تعالیٰ کی حرمت کو پامال کیا جاتا ہو تو آپ اس صورت میں اللہ تعالیٰ کے لیے اس سے بدلہ لیتے ١ ؎۔
Aishah said: The Messenger of Allah ﷺ was never given his choice between two things without taking the easier (or lesser) of them provided it involved no sin, for if it did, no one kept farther away from it than he. And the Messenger of Allah ﷺ never took revenge on his own behalf for anything unless something Allah had forbidden has been transgressed, in which event he took revenge for it for Allah’s sake.
Notes · وضاحت
١ ؎ : مثلاً زنا میں رجم کرتے یا کوڑے لگاتے اور چوری میں ہاتھ کاٹتے۔
عبداللہ بن زبیر (رض) سے اللہ کے فرمان خذ العفو عفو کو اختیار کرو کی تفسیر کے سلسلے میں روایت ہے، وہ کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کو حکم دیا گیا کہ وہ لوگوں کے اخلاق میں سے عفو کو اختیار کریں۔
Explaining the Quranic verse “hold to forgiveness”, Abdullah bin Al-Zubair said: The prophet of Allah ﷺ was commanded to hold to forgiveness from the conduct of the people.