جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کون ہے جو کعب بن اشرف ١ ؎ کے قتل کا بیڑا اٹھائے؟ کیونکہ اس نے اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف پہنچائی ہے ، یہ سن کر محمد بن مسلمہ ؓ کھڑے ہوگئے اور بولے: اللہ کے رسول! میں، کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں اس کو قتل کر دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں ، محمد بن مسلمہ ؓ نے کہا: پھر آپ مجھے اجازت دیجئیے کہ میں کچھ کہہ سکوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں، کہہ سکتے ہو ، پھر انہوں نے کعب کے پاس آ کر کہا: اس شخص (یعنی محمد ﷺ ) نے ہم سے صدقے مانگ مانگ کر ہماری ناک میں دم کر رکھا ہے، کعب نے کہا: ابھی کیا ہے؟ تم اور اکتا جاؤ گے، اس پر انہوں نے کہا: ہم اس کی پیروی کرچکے ہیں اب یہ بھی اچھا نہیں لگتا کہ اس کا ساتھ چھوڑ دیں جب تک کہ اس کا انجام نہ دیکھ لیں کہ کیا ہوتا ہے؟ ہم تم سے یہ چاہتے ہیں کہ ایک وسق یا دو وسق اناج ہمیں بطور قرض دے دو، کعب نے کہا: تم اس کے عوض رہن میں میرے پاس کیا رکھو گے؟ محمد بن مسلمہ نے کہا: تم کیا چاہتے ہو؟ کعب نے کہا: اپنی عورتوں کو رہن رکھ دو، انہوں نے کہا: سبحان الله! تم عربوں میں خوبصورت ترین آدمی ہو، اگر ہم اپنی عورتوں کو تمہارے پاس گروی رکھ دیں تو یہ ہمارے لیے عار کا سبب ہوگا، اس نے کہا: اپنی اولاد کو رکھ دو، انہوں نے کہا: سبحان الله! جب ہمارا بیٹا بڑا ہوگا تو لوگ اس کو طعنہ دیں گے کہ تو ایک وسق یا دو وسق کے بدلے گروی رکھ دیا گیا تھا، البتہ ہم اپنا ہتھیار تمہارے پاس گروی رکھ دیں گے، کعب نے کہا ٹھیک ہے۔ پھر جب محمد بن مسلمہ ؓ کعب کے پاس گئے اور اس کو آواز دی تو وہ خوشبو لگائے ہوئے نکلا، اس کا سر مہک رہا تھا، محمد بن مسلمہ ؓ ابھی بیٹھے ہی تھے کہ ان کے ساتھ تین چار آدمی جو اور تھے سبھوں نے اس کی خوشبو کا ذکر شروع کردیا، کعب کہنے لگا کہ میرے پاس فلاں عورت ہے جو سب سے زیادہ معطر رہتی ہے، محمد بن مسلمہ ؓ نے کہا: کیا تم اجازت دیتے ہو کہ میں (تمہارے بال) سونگھوں؟ اس نے کہا: ہاں، تو محمد بن مسلمہ ؓ نے اپنا ہاتھ اس کے سر میں ڈال کر سونگھا، پھر دوبارہ اجازت چاہی اس نے کہا: ہاں، پھر انہوں نے اپنا ہاتھ اس کے سر پر رکھا، پھر جب اسے مضبوطی سے پکڑ لیا تو (اپنے ساتھیوں سے) کہا: پکڑو اسے، پھر ان لوگوں نے اس پر وار کیا یہاں تک کہ اسے مار ڈالا۔
Jabir reported: The Messenger of Allah ﷺ said: Who will pursue Kaab bin Al-Ashraf, for he has caused trouble to Allah and His Messenger? Muhammad bin Maslamah stood up and said: I (shall do), Messenger of Allah. Do you want that I should kill him? He said: Yes. He said: So permit me to say something (against you). He said: Yes say. He then came to him (Kaab bin al-Ashraf) and said to him: This man has asked us for sadaqah (alms) and has put us into trouble. He (Kaab) said: You will be more grieved. He (Muhammad bin Maslamah) said: We have followed him and we do not like to forsake him until we see what will be the consequences of his matter. We wished if you could lend us one or two wasqs. Kaab said: What will you mortgage with me? He asked: what do you want from us? He replied: your Women. They said: Glory be to Allah: You are the most beautiful of the Arabs. If we mortgage our women with you, that will be a disgrace for us. He said “The mortgage your children. ” They said “Glory be to Allaah, a son of us may abuse saying “You were mortgaged for one or two wasqs. ” They said “We shall mortgage or coat of mail with you. By this he meant arms”. He said “Yes, when he came to him, he called him and he came out while he used perfume and his head was spreading fragrance. When he at with him and he came there accompanied by three or four persons who mentioned his perfume. He said “I have such and such woman with me. She is most fragrant of the women among the people. He (Muhammad bin Maslamah) asked “Do you permit me so that I may smell? He said “Yes. He then entered his hand through his hair and smell it. ” He said “May I repeat?” He said “Yes. He again entered his hand through his hair. When he got his complete control, he said “Take him. So he struck him until they killed him. ”
Notes · وضاحت
١ ؎: کعب بن اشرف یہودیوں کا سردار تھا، نبی اکرم ﷺ کی ہجو کرتا تھا، دوسروں کو بھی اس پر ابھارتا تھا اس کے ساتھ ساتھ عہد شکنی کا مجرم بھی تھا اسی لئے آپ نے اس کے قتل کا حکم دیا۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ایمان نے کسی کو دھوکہ سے قتل کرنے کو روک دیا، کوئی مومن دھوکہ سے قتل نہیں کرتا ١ ؎۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: Faith prevented assassination. A believer should not assassinate.
Notes · وضاحت
١ ؎: معلوم ہوا کہ غفلت میں پڑے ہوئے شخص کو قتل کرنا درست نہیں اسی لئے کہا جاتا ہے کہ کعب بن اشرف کے قتل کا واقعہ اس حدیث میں فتک ( غفلت میں قتل) کی ممانعت سے قبل کا ہے یا کعب کا قتل اس کی عہد شکنی اور نبی اکرم ﷺ کی مسلسل ہجو کرنے اور اس پر دوسروں کو ابھارنے کی وجہ سے تھا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٣٦١٥)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحج ٧٦ (٣٢٧٨) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب جہاد یا حج و عمرہ سے لوٹتے تو ہر بلندی پر چڑھتے وقت تین بار الله اکبر کہتے، اور اس کے بعد یہ دعا پڑھتے: لا إله إلا الله، وحده لا شريك له، له الملک وله الحمد وهو على كل شيء قدير، آيبون تائبون عابدون ساجدون لربنا حامدون، صدق الله وعده، ونصر عبده، وهزم الأحزاب وحده اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، وہ تن تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے، اور اسی کے لیے حمد ہے، او وہ ہر چیز پر قادر ہے، ہم لوٹنے والے ہیں، توبہ کرنے والے ہیں، عبادت کرنے والے ہیں، سجدہ کرنے والے ہیں، اپنے پروردگار کی تعریف کرنے والے ہیں، اللہ نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا، اپنے بندے کی مدد کی، اور اکیلے ہی جتھوں کو شکست دی ۔
Abdullah bin Umar (RA) said “When the Messenger of Allah ﷺ returned from an expedition, Hajj or ‘Umrah on every rising piece of ground he would say three times “Allaah is Most Great” and he would say “There is no god bt Allaah alone who has no partner, to Whom the dominion belongs, to Whom praise is due, and Who is Omnipotent, serving, prostrating ourselves before our Lord and expressing praise. Allaah alone has kept his word, helped His servant and routed the confederate.
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ آیت کریمہ لا يستأذنک الذين يؤمنون بالله واليوم الآخر اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان و یقین رکھنے والے تو کبھی بھی تجھ سے اپنے مالوں اور اپنی جانوں کو لے کر جہاد کرنے سے رکے رہنے کی اجازت طلب نہیں کریں گے۔۔۔ (سورۃ التوبہ: ٤٤) کو سورة النور کی آیت إنما المؤمنون الذين آمنوا بالله ورسوله سے غفور رحيم تک باایمان لوگ تو وہی ہیں جو اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول پر یقین رکھتے ہیں اور جب ایسے معاملہ میں جس میں لوگوں کے ساتھ جمع ہونے کی ضرورت ہوتی ہے نبی کے ساتھ ہوتے ہیں تو جب تک آپ سے اجازت نہ لیں کہیں نہیں جاتے، جو لوگ ایسے موقع پر آپ سے اجازت لے لیتے ہیں حقیقت میں یہی ہیں جو اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول پر ایمان لا چکے ہیں، پس جب ایسے لوگ آپ سے اپنے کسی کام کے لیے اجازت طلب کریں تو آپ ان میں سے جسے چاہیں اجازت دے دیں اور ان کے لیے اللہ سے بخشش کی دعا مانگیں، بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے (سورۃ النور: ٦٢) نے منسوخ کردیا ہے ١ ؎۔
Ibn Abbas said “The verse “Those who believe in Allaah and the Last Day ask thee for no exemption from fighting with their goods and persons” was abrogated by the verse “Only those are believers who believe in Allaah and His Messenger. . . . For Allaah is Oft-Forgiving, Most Merciful. ”
Notes · وضاحت
١ ؎: باب اور اثر ابن عباس ؓ کا مطلب یہ ہے کہ پہلے کسی صورت میں جہاد سے چھٹی لے کر گھر آجانے کی اجازت نہیں تھی، پھر بعد میں اجازت لے کر آنے کی رخصت مل گئی۔ ابتدائے اسلام میں منافقوں کی عام روش یہ تھی کہ وہ جہاد کے لئے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلتے نہیں تھے، اور اگر نکلتے بھی تو طرح طرح کے بہانے کر آپ ﷺ سے اجازت لے کر راستہ ہی سے واپس آجاتے تھے، تو اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ نازل فرمائی: إنما يستأذنک الذين لا يؤمنون بالله واليوم الآخر ( سورة التوبہ: ٤٥ )، جب یہ آیت اتری تو جہاد سے راستہ سے واپس آنے کو ممنوع قرار دے دیا گیا، گو آپ ﷺ کی اجازت ہی سے کیوں نہ ہو۔ پھر جب اسلام طاقتور ہوگیا گو آپ ﷺ اور مجاہدین کی کثرت ہوگئی تو اللہ تعالیٰ نے سورة نور کی آیت: إنما المؤمنون الذين آمنوا بالله ورسوله سے غفور رحيم تک نازل فرمائی، تو پہلی آیت منسوخ ہوگئی اور بوقت ضرورت اجازت لے کر جہاد سے واپس آجانے کو جائز قرار دے دیا گیا۔
جریر ؓ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا تم مجھے ذو الخلصہ ١ ؎ سے آرام نہیں پہنچاؤ گے؟ ٢ ؎، یہ سن کر جریر ؓ وہاں آئے اور اسے جلا دیا پھر انہوں نے قبیلہ احمس کے ایک آدمی کو جس کی کنیت ابوارطاۃ تھی رسول اللہ ﷺ کے پاس بھیجا کہ وہ آپ کو اس کی خوشخبری دیدے۔
Jarir (bin Abd Allaah) said “The Messenger of Allah ﷺ said to me “Why do you not give me rest from Dhu Al Khulasah? He went there and burned it. He then sent a man from Ahmas to the Prophet ﷺ to give him good tidings. His surname was Artah.
Notes · وضاحت
١ ؎: ایک گھر تھا جس میں دوس اور خثعم کے بت رہتے تھے، اور بعضوں نے کہا خود بت کا نام تھا۔ ٢ ؎: تم مجھے ذوالخلصہ سے آرام نہیں پہنچاؤ گے کا مطلب ہے کہ کیا تم اسے برباد نہیں کروگے کہ خس کم جہاں پاک۔
کعب بن مالک ؓ کہتے ہیں نبی اکرم ﷺ جب سفر سے آتے تو پہلے مسجد میں جاتے اور اس میں دو رکعت نماز پڑھتے، پھر لوگوں سے ملاقات کے لیے بیٹھتے (اس کے بعد ابن السرح نے پوری حدیث بیان کی، اس میں ہے کہ) رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کو ہم تینوں ١ ؎ سے بات کرنے سے منع فرما دیا، یہاں تک کہ مجھ پر جب ایک لمبا عرصہ گزر گیا تو میں اپنے چچا زاد بھائی ابوقتادہ ؓ کے باغ میں دیوار پھاند کر گیا، میں نے ان کو سلام کیا، اللہ کی قسم انہوں نے جواب تک نہیں دیا، پھر میں نے اپنے گھر کی چھت پر پچاسویں دن کی نماز فجر پڑھی تو ایک پکارنے والے کی آواز سنی جو پکار رہا تھا: کعب بن مالک! خوش ہوجاؤ، پھر جب وہ شخص جس کی آواز میں نے سنی تھی میرے پاس آیا، تو میں نے اپنے دونوں کپڑے اتار کر اس کو پہنا دیئے، اور میں مسجد نبوی کی طرف چل پڑا، رسول اللہ ﷺ وہاں تشریف فرما تھے، مجھ کو دیکھ کر طلحہ بن عبیداللہ ؓ اٹھ کھڑے ہوئے اور دوڑ کر مجھ سے مصافحہ کیا اور مجھے مبارکباد دی ٢ ؎۔
Kaab bin Malik said “When the Prophet ﷺ arrived from a journey, he first went to a mosque where he prayed two rak’ahs after which he sat in it and gave audience to the people. The narrator Ibn Al Sarh then narrated the rest of the tradition. He said “The Messenger of Allah ﷺ forbade the Muslims to speak to any three of us. When considerable time had passed on me, I ascended the wall of Abu Qatadah who was my cousin. I saluted him, but, I swear by Allaah he did not return my salutation. I then offered the dawn prayer on the fiftieth day on the roof of one of our houses. I then hear d a crier say “Kaab bin Mailk, have good news”. When the man whose voice I heard came to me giving me good news, I took off my garments and clothed him. I went on till I entered the mosque. The Messenger of Allah ﷺ was sitting there. Talhah bin Ubaid Allaah stood up and hastened to me till he shook hands with me and greeted me.
Notes · وضاحت
١ ؎: ہم تینوں سے مراد کعب بن مالک، ہلال بن امیہ اور مرارہ بن ربیع ؓ ہیں، یہ لوگ بغیر کسی عذر شرعی کے غزوہ تبوک میں نہیں گئے، جب رسول اکرم ﷺ غزوہ سے واپس آئے تو ان لوگوں نے خدمت اقدس میں حاضر ہو کر صاف صاف کہہ دیا کہ اللہ کے رسول ہمارے پاس کوئی عذر نہیں تھا، محض سستی کی وجہ سے ہم لوگ اس غزوہ میں شریک نہیں ہوئے، اسی بناء پر آپ ﷺ نے یہ حکم صادر فرمایا تھا کہ ان تینوں سے کوئی بات نہ کرے۔ ٢ ؎: یہ توبہ قبول ہونے کی مبارکبادی تھی۔
ابوبکرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس جب کوئی خوشی کی بات آتی یا آپ ﷺ کو کوئی خوشخبری سنائی جاتی تو اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے سجدہ میں گرپڑتے ١ ؎۔
Narrated Abu Bakrah (RA) : When anything came to the Prophet ﷺ which caused pleasure (or, by which he was made glad), he prostrated himself in gratitude to Allah.
Notes · وضاحت
١ ؎: اسے سجدہ شکر کہتے ہیں، جو ائمہ اسلام شافعی، احمد، اور محمد کے نزدیک مسنون اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک مکروہ ہے، یہ حدیث ان کے خلاف حجت ہے۔
سعد ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مکہ سے نکلے، ہم مدینہ کا ارادہ کر رہے تھے، جب ہم عزورا ١ ؎ کے قریب ہوئے تو آپ ﷺ اترے، پھر آپ نے دونوں ہاتھوں کو اٹھایا، اور کچھ دیر اللہ سے دعا کی، پھر سجدہ میں گرپڑے، اور بڑی دیر تک سجدہ ہی میں پڑے رہے، پھر کھڑے ہوئے اور دونوں ہاتھ اٹھا کر کچھ دیر تک اللہ سے دعا کی، پھر سجدے میں گرپڑے اور دیر تک سجدہ میں پڑے رہے، پھر اٹھے اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر کچھ دیر دعا کی، پھر دوبارہ آپ سجدے میں گرپڑے، اور فرمایا: میں نے اپنے رب سے دعا کی اور اپنی امت کے لیے سفارش کی تو اللہ نے مجھے ایک تہائی امت دے دی، میں اپنے رب کا شکر ادا کرتے ہوئے سجدہ میں گرگیا، پھر سر اٹھایا، اور اپنی امت کے لیے دعا کی تو اللہ نے مجھے اپنی امت کا ایک تہائی اور دے دیا تو میں اپنے رب کا شکر ادا کرنے کے لیے پھر سجدہ میں گرگیا، پھر میں نے اپنا سر اٹھایا، اور اپنی امت کے لیے اپنے رب سے درخواست کی تو اللہ نے جو ایک تہائی باقی تھا اسے بھی مجھے دے دیا تو میں اپنے رب کا شکریہ ادا کرنے کے لیے سجدے میں گرپڑا ۔
Narrated Saad ibn Abu Waqqas (RA) : We went out with the Messenger of Allah ﷺ from Makkah making for Madina. When we were near Azwara, he alighted, then raised his hands, and made supplication to Allah for a time, after which he prostrated himself, remaining a long time in prostration. Then he stood up and raised his hands for a time, after which he prostrated himself, remaining a long time in prostration. He then stood up and raised his hands for a time, after which he prostrated himself. Ahmad mentioned it three times. He then said: I begged my Lord and made intercession for my people, and He gave me a third of my people, so I prostrated myself in gratitude to my Lord. Then I raised my head and begged my Lord for my people, and He gave me a third of my people, so I prostrated myself in gratitude to my Lord. Then I raised my head and begged my Lord for my people and He gave me the remaining third, so I prostrated myself in gratitude to my Lord. Abu Dawud said: When Ahmad bin Salih narrated this tradition to us, he omitted the name of Ashath bin Ishaq, but Musa bin Sahl al-Ramli narrated it to us through him.
Notes · وضاحت
١ ؎: جحفہ کے پاس ایک گھاٹی کا نام ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٣٨٧٠) (اس کے راوی ابن عثمان مجہول اور اشعث لین الحدیث ہیں) (ضعیف )
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ناپسند فرماتے تھے کہ آدمی سفر سے رات میں اپنے گھر واپس آئے۔
Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ disapproved that a man should come to his family during the night (after returning from a journey).
جابر ؓ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: سفر سے گھر واپس آنے کا اچھا وقت یہ ہے کہ آدمی شام میں آئے ۔
Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : The Prophet ﷺ said: The best time for a man to go in to his family on return from a journey is at the beginning of the night.
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم ﷺ کے ساتھ سفر میں تھے، جب ہم بستی میں جانے لگے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ٹھہرو ہم رات میں جائیں گے، تاکہ پراگندہ بال والی کنگھی کرلے، اور جس عورت کا شوہر غائب تھا وہ زیر ناف کے بالوں کو صاف کرلے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: زہری نے کہا: ممانعت عشاء کے بعد آنے میں ہے، ابوداؤد کہتے ہیں: مغرب کے بعد کوئی حرج نہیں ہے۔
Jabir bin Abd Allaah said “We were on a journey with the Messenger of Allah ﷺ . When we were going to come to our family, he said “Stay till we enter during the night, so that the disheveled woman combs herself and the woman whose husband has been away cleans herself. Abu Dawud aid “Al Zuhri said “ (this prohibition applies) when one arrives after the night prayer. Abu dawud said “There is no harm in coming (to one’s family) after the sunset prayer.
سائب بن یزید ؓ کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم ﷺ غزوہ تبوک سے مدینہ آئے تو لوگوں نے آپ کا استقبال کیا، تو میں بھی بچوں کے ساتھ آپ سے جا کر ثنیۃ الوداع پر ملا۔
Al Saiib bin Yazid said “When the Prophet ﷺ turned from the battle of Tabuk to Madeenah, the people received him, I met him along with the children at Thaniyyat Al Wada’.
انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ قبیلہ اسلم کا ایک جوان نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں جہاد کا ارادہ رکھتا ہوں لیکن میرے پاس مال نہیں ہے جس سے میں اس کی تیاری کرسکوں، آپ ﷺ نے فرمایا: فلاں انصاری کے پاس جاؤ اس نے جہاد کا سامان تیار کیا تھا لیکن بیمار ہوگیا، اس سے جا کر کہو کہ رسول اللہ ﷺ نے تمہیں سلام کہا ہے، اور یہ کہو کہ جو اسباب تم نے جہاد کے لیے تیار کیا تھا وہ مجھے دے دو ، وہ شخص اس انصاری کے پاس آیا اور آ کر اس نے یہی بات کہی، انصاری نے اپنی بیوی سے کہا: جتنا سامان تو نے میرے لیے جمع کیا تھا وہ سب اسے دیدے، اس میں سے کچھ مت رکھنا، اللہ کی قسم اس میں سے کچھ نہیں رکھے گی تو اللہ اس میں برکت دے گا ١ ؎۔
Anas bin Malik (RA) said “A youth of Aslam said “Messenger of Allah ﷺ , I wish to go on an expedition, but I have no property to make myself equipped. He said “go to so and so Ansari who prepared equipment (for the battle), but he fell ill and tell him that the Messenger of Allah ﷺ has conveyed his regards to you, and then tell him “Give him all the equipment you have made. He came to him and told him that. He said to his wife “O so and so, give him all the equipment I have made and do not detain anything from him. I swear by Allaah, if you detain anything from him, Allaah will not bless it.
Notes · وضاحت
١ ؎: مذکورہ حدیث سے باب پر استدلال اس طرح ہے کہ جب ابتداء میں سامان جہاد مانگنا جائز ہے تو واپسی میں بدرجہ اولیٰ جائز ہونا چاہیے کہ ضرورت اس وقت سخت ہوتی ہے، ابتداء تو اگر آدمی کے پاس زادراہ نہیں ہے تو جہاد واجب کہاں؟۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإمارة ٣٨ (١٨٩٤)، (تحفة الأشراف: ٣٢٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٢٠٧) (صحیح )
کعب بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ سفر سے دن ہی میں آتے، (حسن کہتے ہیں) چاشت کے وقت آتے اور جب سفر سے آتے تو پہلے مسجد میں آ کر دو رکعت پڑھتے پھر اس میں بیٹھتے۔
Kaab bin Malik said “The Prophet ﷺ used to arrive from a journey in the daytime. Al Hasan said “During the forenoon. ” When he arrived from a journey he went first to the mosque where he prayed two rak’ahs after which he sat in it and gave audience to the people.
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم:(٢٧٧٣)، (تحفة الأشراف: ١١١٣٢) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جس وقت حجۃ الوداع سے واپس آئے اور مدینہ میں داخل ہوئے تو مسجد نبوی کے دروازہ پر اپنی اونٹنی کو بٹھایا پھر مسجد میں داخل ہوئے اور اندر جا کر دو رکعتیں پڑھیں پھر اپنے گھر گئے۔ نافع کہتے ہیں: عبداللہ بن عمر ؓ بھی ایسا ہی کرتے تھے۔
Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : When the Messenger of Allah ﷺ arrived from his hajj, he entered Madina, and made (his camel) kneel down at the gate of his mosque; and he entered it and offered two rakahs of prayer; he then returned to his home. Nafi said: Ibn Umar also used to do so.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٨٤١٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٢٩) (حسن صحیح )
ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قسامہ سے بچو تو ہم نے کہا: قسامہ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ایک چیز کئی آدمیوں میں مشترک ہوتی ہے پھر تقسیم کرنے والا آتا ہے اور ہر ایک کے حصہ میں تھوڑا تھوڑا کم کردیتا ہے (اور اسے تقسیم کی اجرت کے طور پر خود لے لیتا ہے) ۔
Narrated Abu Saeed al-Khudri (RA) : The Messenger of Allah ﷺ said: Beware of the wages of a distributor of booty (qusamah). We asked: What is qusamah (wages of a distributor)? He said: It means a thing which is shared by the people, and then it is reduced.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٤٢٩٦) (ضعیف) (اس کے راوی زبیر بن عثمان لین الحدیث ہیں )
عطاء بن یسار نے نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح کی حدیث روایت کی ہے، اس میں ہے کہ آپ نے فرمایا: ایک شخص لوگوں کی مختلف جماعتوں پر مقرر ہوتا ہے تو وہ اس کے حصہ سے بھی لیتا ہے اور اس کے حصہ سے بھی لیتا ہے ۔
Narrated Ata ibn Yasar (RA) : Ata reported a similar tradition (to No 2777) from the Prophet ﷺ . This version adds: a man is appointed on groups of people, and takes (wages) from the share of this, and from the share of this.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٩٠٩٢) (ضعیف) (یہ مرسل روایت ہے، عطاء تابعی ہیں )
عبیداللہ بن سلمان نے بیان کیا ہے کہ ایک صحابی نے ان سے کہا کہ جب ہم نے خیبر فتح کیا تو لوگوں نے اپنے اپنے غنیمت کے سامان اور قیدی نکالے اور ان کی خریدو فروخت کرنے لگے، اتنے میں ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس جس وقت آپ نماز سے فارغ ہوئے آیا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! آج میں نے اس وادی میں جتنا نفع کمایا ہے اتنا کسی نے نہ کمایا ہوگا، آپ ﷺ نے فرمایا: تباہی ہو تیرے لیے، کیا نفع کمایا تو نے؟ بولا: میں برابر بیچتا اور خریدتا رہا، یہاں تک کہ میں نے تین سو اوقیہ نفع کمائے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں تجھے ایک ایسے شخص کے بارے میں بتاتا ہوں جس نے (تجھ سے) زیادہ نفع کمایا ہے اس نے پوچھا: وہ کون ہے؟ اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: وہ جس نے فرض نماز کے بعد دو رکعت (سنت کی) پڑھی ۔
Narrated A man from the Companions of the Prophet: Ubaydullah ibn Salman reported on the authority of a man from the Companions of the Prophet ﷺ : When we conquered Khaybar, they (the people) took out their spoils which contained equipment and captives. The people began to buy and sell their spoils. When the Messenger of Allah ﷺ prayed, a man came to him and said: Messenger of Allah, I have gained today so much so that no one gained from this valley. He asked: Woe unto you, how much did you gain? He replied: I kept on selling and buying until I gained three hundred uqiyahs. The Messenger of Allah ﷺ said: I tell you a man who gained better than you. He asked: What is that, Messenger of Allah? He replied! Two rakahs (of supererogatory prayer) after the (obligatory) prayer.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٥٦٣٢) (ضعیف) (اس کے راوی عبیداللہ بن سلمان مجہول ہیں )
ذوالجوشن ابوشمر ضبابی ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے اہل بدر سے فارغ ہونے کے بعد آپ کے پاس اپنے قرحاء نامی گھوڑے کا بچھڑا لے کر آیا، اور میں نے کہا: محمد! میں آپ کے پاس قرحا کا بچہ لے کر آیا ہوں تاکہ آپ اسے اپنے استعمال میں رکھیں، آپ ﷺ نے فرمایا: مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے، البتہ اگر تم بدر کی زرہوں میں سے ایک زرہ اس کے بدلے میں لینا چاہو تو میں اسے لے لوں گا ، میں نے کہا: آج کے دن تو میں اس کے بدلے گھوڑا بھی نہ لوں گا، آپ ﷺ نے فرمایا: تو پھر مجھے بھی اس کی حاجت نہیں ١ ؎۔
Narrated Dhul-Jawshan (RA) : A man of ad-Dabab, said: When the Prophet ﷺ became free from the people of Badr I brought to him a colt of my mare called al-Qarha I said: Muhammad, I have brought a colt of a al-Qarha, so that you may take it. He said: I have no need of it. If you wish that I give you a select coat of mail from (the spoils of) Badr, I shall do it. I said: I cannot give you today a colt in exchange. He said: Then I have no need of it.
Notes · وضاحت
١ ؎: ذی الجوشن اس وقت مسلمان نہ تھے کافروں کے ملک میں رہتے تھے اس کے باوجود آپ ﷺ نے انہیں زرہ دینا منظور کیا اور مفت میں کسی مشرک کا تعاون گوارہ نہیں کیا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٣٥٤٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٨٤) (ابواسحاق اور ذی الجوشن کے درمیان سند میں انقطاع ہے) (ضعیف )
سمرہ بن جندب ؓ کہتے ہیں أما بعد، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص مشرک کے ساتھ میل جول رکھے اور اس کے ساتھ رہے تو وہ اسی کے مثل ہے ١ ؎۔
Narrated Samurah ibn Jundub (RA) : To proceed, the Messenger of Allah ﷺ said: Anyone who associates with a polytheist and lives with him is like him.
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ آپ ﷺ نے تغلیظاً اور تشدیداً فرمایا تاکہ آدمی مشرک کی صحبت سے بچے یا مراد یہ ہے کہ جب اس کے ساتھ رہے گا تو اسی کی طرح ہوجائے گا کیونکہ صحبت کا اثر یقینی طور پر پڑتا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٤٦٢١)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/السیر ٤٢ (١٦٠٥) (حسن لغیرہ) (سند میں متعدد ضعیف ہیں لیکن دوسرے طریق جس کی تخریج حاکم نے کی ہے سے تقویت پاکر یہ حسن ہے (المستدرک ١/١٤١-١٤٢) ( ملاحظہ ہو الصحیحة: ٢٣٣٠ )