مطرف بن عبداللہ سے روایت ہے کہ عمران بن حصین ؓ سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو اپنی بیوی کو طلاق دیدے پھر اس کے ساتھ صحبت بھی کرلے اور اپنی طلاق اور رجعت کے لیے کسی کو گواہ نہ بنائے تو انہوں نے کہا کہ تم نے سنت کے خلاف طلاق دی اور سنت کے خلاف رجعت کی، اپنی طلاق اور رجعت دونوں کے لیے گواہ بناؤ اور پھر اس طرح نہ کرنا۔
Narrated Mutarrif ibn Abdullah (RA) : Imran ibn Husayn was asked about a person who divorces his wife, and then has intercourse with her, but he does not call any witness to her divorce nor to her restoration. He said: You divorced against the sunnah and took her back against the sunnah. Call someone to bear witness to her divorce, and to her return in marriage, and do not repeat it.
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الطلاق ٥ (٢٠٢٥)، (تحفة الأشراف: ١٠٨٦٠) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے والمطلقات يتربصن بأنفسهن ثلاثة قروء ولا يحل لهن أن يکتمن ما خلق الله في أرحامهن اور جن عورتوں کو طلاق دے دی گئی ہے وہ تین طہر تک ٹھہری رہیں اور ان کے لیے حلال نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے رحم میں جو پیدا کردیا ہے اسے چھپائیں (سورۃ البقرہ: ٢٢٨) یہ اس وجہ سے کہ جب آدمی اپنی بیوی کو طلاق دے دیتا تھا تو رجعت کا وہ زیادہ حقدار رہتا تھا گرچہ اس نے تین طلاقیں دے دی ہوں پھر اسے منسوخ کردیا گیا اور ارشاد ہوا الطلاق مرتان یعنی طلاق کا اختیار صرف دو بار ہے۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : Divorced women shall wait concerning themselves for three monthly periods. Nor is it lawful for them to hide what Allah hath created in their wombs. This means that if a man divorced his wife he had the right to take her back in marriage though he had divorced her by three pronouncements. This was then repealed (by a Quranic verse). Divorce is only permissible twice.
بنی نوفل کے غلام ابوحسن نے ابن عباس ؓ سے اس غلام کے بارے میں فتویٰ پوچھا جس کے نکاح میں کوئی لونڈی تھی تو اس نے اسے دو طلاق دے دی اس کے بعد وہ دونوں آزاد کردیئے گئے، تو کیا غلام کے لیے درست ہے کہ وہ اس لونڈی کو نکاح کا پیغام دے؟ ابن عباس ؓ نے کہا: ہاں رسول اللہ ﷺ نے اسی کا فیصلہ دیا ہے۔
Narrated Umar ibn Mutab (RA) : Abu Hasan, a client of Banu Nawfal asked Ibn Abbas (RA) : A slave had a wife who was a slave-girl. He divorced her by two pronouncements. Afterwards both of them were freed. Is it permissible for him to ask her in marriage again? He said: Yes. This is a decision given by the Messenger of Allah ﷺ .
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الطلاق ١٩ (٣٤٥٧)، سنن ابن ماجہ/الطلاق ٣٢ (٢٠٨٢)، (تحفة الأشراف: ٦٥٦١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٢٩، ٣٣٤) (ضعیف )
عثمان بن عمر کہتے ہیں کہ ہمیں علی نے خبر دی ہے آگے سابقہ سند سے اسی مفہوم کی روایت مذکور ہے لیکن عنعنہ کے صیغے کے ساتھ ہے نہ کہ أخبرنا کے صیغے کے ساتھ، اس میں ہے کہ ابن عباس ؓ نے کہا: تیرے لیے ایک طلاق باقی رہ گئی ہے، اللہ کے رسول اللہ ﷺ نے اسی کا فیصلہ فرمایا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد بن حنبل کو کہتے سنا کہ عبدالرزاق کہتے ہیں کہ ابن مبارک نے معمر سے پوچھا کہ یہ ابوالحسن کون ہیں؟ انہوں نے ایک بھاری چٹان اٹھا لی ہے؟ ١ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوالحسن وہی ہیں جن سے زہری نے روایت کی ہے، زہری کہتے ہیں کہ وہ فقہاء میں سے تھے، زہری نے ابوالحسن سے کئی حدیثیں روایت کی ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوالحسن معروف ہیں اور اس حدیث پر عمل نہیں ہے۔
The aforesaid tradition (No. 2182) has also been transmitted by Ali (ibn al-Mubarak) through a different chain of narrators to the same effect. This version adds: Ibn Abbas said: There remained one more pronouncement of divorce for you. The Messenger of Allah ﷺ took the same decision. Abu Dawud said: I heard Ahmad bin Hanbal say: Abd al-Razzaq said that Ibn al-Mubarak said to Mamar: Who is this Abu al-Hasan ? He bore a big rock. Abu Dawud said: Al-Zuhri has narrated (traditions) on the authority of this Abu al-Hasan. Al-Zuhri said: He was lawyer, and al-Zuhri narrated many traditions from Abu al-Hasan. Abu Dawud said: Abu al-Hasan is well known narrator. This tradition is not practiced.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس جملہ سے اس روایت میں جو کچھ ہے اس کا انکار مقصود ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ٦٥٦١، ١٨٩٣٤) (ضعیف) (عمر بن معتب کی وجہ سے یہ روایت بھی ضعیف ہے )
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: لونڈی کی طلاق دو ہیں اور اس کے قروء دو حیض ہیں ۔ ابوعاصم کہتے ہیں: مجھ سے مظاہر نے بیان کیا وہ کہتے ہیں: مجھ سے قاسم نے انہوں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے اسی کے مثل روایت کیا ہے، لیکن اس میں ہے کہ اس کی عدت دو حیض ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ مجہول حدیث ہے۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : The Prophet ﷺ said: The divorce of a slave-woman consists in saying it twice and her waiting period is two menstrual courses (qur) Abu Asim said: A similar tradition has been narrated to me by Muzahir and al-Qasim on the authority of Aisha (RA) from the Prophet ﷺ , except that he said: And her waiting period (iddah) is two courses. Abu Dawud said: This tradition is obscure.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الطلاق ٧ (١١٨٢)، سنن ابن ماجہ/الطلاق ٣٠ (٢٠٨٠)، (تحفة الأشراف: ١٧٥٥٥)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الطلاق ١٧ (٢٣٤٠) (ضعیف )
عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: طلاق صرف انہیں میں ہے جو تمہارے نکاح میں ہوں، اور آزادی صرف انہیں میں ہے جو تمہاری ملکیت میں ہوں، اور بیع بھی صرف انہیں چیزوں میں ہے جو تمہاری ملکیت میں ہوں ۔ ابن صباح کی روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ (تمہارے ذمہ) صرف اسی نذر کا پورا کرنا ہے جس کے تم مالک ہو۔
Amr bin Shuaib on his fathers authority said that his grandfather (Abdullah ibn Amr ibn al-As): The Prophet ﷺ said: There is no divorce except in what you possess; there is no possession, there is no sale transaction till you possess. The narrator Ibn as-Sabbah added: There is no fulfilling a vow till you possess.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٨٧٣٦، ٨٨٠٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٨٩، ١٩٠)، سنن الترمذی/الطلاق ٦ (١١٨١)، ق ١٧ (٢٠٤٧) (حسن )
اس سند سے بھی عبداللہ بن عمرو ؓ سے اسی مفہوم کی روایت مروی ہے اس میں اتنا اضافہ ہے: جس نے گناہ کرنے کی قسم کھالی تو اس قسم کا کوئی اعتبار نہیں نیز جس نے رشتہ توڑنے کی قسم کھالی اس کا بھی کوئی اعتبار نہیں ۔
The above tradition has also been transmitted by Amr bin Shuaib through a different chain of narrators to the same effect. This version adds “If anyone swears an oath to do an act of disobedience to GOD, his oath is not valid, and if anyone swears an oath to sever relationship, his oath is not valid (i. e., he must not fulfill it)
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/ الطلاق ١٧ (٢٠٤٧)، (تحفة الأشراف: ٨٧٣٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٨٥) (حسن )
اس سند سے بھی عبداللہ بن عمرو ؓ سے یہی روایت آئی ہے اس میں اتنا اضافہ ہے کہ وہی نذر ماننا درست ہے جس کے ذکر سے اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود ہو ۔
The above tradition has also been transmitted by Amr bin Shuaib through a different chain of narrators. This version adds The Prophet ﷺ said “There is no vow except in an act which seeks the pleasure of Allah, the Exalted.
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (تحفة الأشراف: ٨٧٣٦)، ویأتی ہذا الحدیث فی الأیمان برقم: (٣٢٧٣) (حسن )
محمد بن عبید بن ابوصالح (جو ایلیاء میں رہتے تھے) کہتے ہیں کہ میں عدی بن عدی کندی کے ساتھ نکلا یہاں تک کہ میں مکہ آیا تو انہوں نے مجھے صفیہ بنت شیبہ کے پاس بھیجا، اور انہوں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے حدیثیں یاد کر رکھی تھیں، وہ کہتی ہیں: میں نے عائشہ ؓ کو کہتے سنا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: زبردستی کی صورت میں طلاق دینے اور آزاد کرنے کا اعتبار نہیں ہوگا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ غلاق کا مطلب غصہ ہے ١ ؎۔
Muhammad ibn Ubayd ibn Abu Salih who lived in Ayliya said: I went out with Adi ibn Adi al-Kindi till we came to Makkah. He sent me to Safiyyah daughter of Shaybah who remembered a tradition (that she had heard) from Aisha (RA) . She said: I heard Aisha (RA) say: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: There is no divorce or emancipation in case of constraint or duress (ghalaq). Abu Dawud said: I think ghalaq means anger.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس باب کے الفاظ کی روایت تین طرح ہے: على غيظ، على غضب، على غلطٍ اور حدیث میں غلاق،إغلاق جس کے معنی مؤلف نے غضب کے لئے ہیں، حالانکہ کوئی بھی آدمی بغیر غیظ و غضب کے طلاق نہیں دیتا، اس طرح تو کوئی طلاق واقع ہی نہیں ہوگی، اس لئے إغلاق کا معنی ” زبردستی “ لینا بہتر ہے، اور تحقیقی بات یہی ہے کہ زبردستی لی گئی طلاق واقع نہیں ہوتی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٧٨٥٥)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الطلاق ١٦ (٢٠٤٦)، مسند احمد (٦/٢٧٦) (حسن) (اس کے راوی محمد بن عبید ضعیف ہیں، لیکن دوسرے رواة کی متابعت و تقویت سے یہ حدیث حسن ہے، ملاحظہ ہو: ا رواء الغلیل: ٢٠٤٧، و صحیح ابی داود: ٦ ؍ ٣٩٦ )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تین چیزیں ایسی ہیں کہ انہیں چاہے سنجیدگی سے کیا جائے یا ہنسی مذاق میں ان کا اعتبار ہوگا، وہ یہ ہیں: نکاح، طلاق اور رجعت ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: There are three things which, whether undertaken seriously or in jest, are treated as serious: Marriage, divorce and taking back a wife (after a divorce which is not final)
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الطلاق ٩(١١٨٤)، سنن ابن ماجہ/الطلاق ١٣(٢٠٣٩)، (تحفة الأشراف: ١٤٨٥٤) (حسن) (شواہد اور آثار صحابہ سے تقویت پاکر یہ حدیث حسن ہے، ورنہ عبدالرحمن بن حبیب کو نسائی نے منکرالحدیث کہا ہے اور حافظ ابن حجرنے لین الحدیث، ملاحظہ ہو: ارواء الغلیل ١٨٢٥ )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رکانہ اور اس کے بھائیوں کے والد عبد یزید نے رکانہ کی ماں کو طلاق دے دی، اور قبیلہ مزینہ کی ایک عورت سے نکاح کرلیا، وہ عورت رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اپنے سر سے ایک بال لے کر کہنے لگی کہ وہ میرے کام کا نہیں مگر اس بال برابر لہٰذا میرے اور اس کے درمیان جدائی کرا دیجئیے، یہ سن کر آپ ﷺ کو غصہ آگیا، آپ نے رکانہ اور اس کے بھائیوں کو بلوا لیا، پھر پاس بیٹھے ہوئے لوگوں سے پوچھا کہ: کیا فلاں کی شکل اس اس طرح اور فلاں کی اس اس طرح عبد یزید سے نہیں ملتی؟ ، لوگوں نے کہا: ہاں (ملتی ہے) ، نبی اکرم ﷺ نے عبد یزید سے فرمایا: اسے طلاق دے دو ، چناچہ انہوں نے طلاق دے دی، پھر فرمایا: اپنی بیوی یعنی رکانہ اور اس کے بھائیوں کی ماں سے رجوع کرلو ، عبد یزید نے کہا: اللہ کے رسول میں تو اسے تین طلاق دے چکا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: مجھے معلوم ہے، تم اس سے رجوع کرلو ، اور آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی يا أيها النبي إذا طلقتم النساء فطلقوهن لعدتهن (سورۃ الطلاق: ١) اے نبی! جب تم عورتوں کو طلاق دو تو ان کی عدت میں طلاق دو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: نافع بن عجیر اور عبداللہ بن علی بن یزید بن رکانہ کی حدیث جسے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے اپنے دادا سے روایت (حدیث نمبر: ٢٢٠٦) کیا ہے کہ رکانہ نے اپنی بیوی کو طلاق بتہ دے دی، پھر بھی نبی اکرم ﷺ نے اس سے رجوع کرا دیا، زیادہ صحیح ہے کیونکہ رکانہ کے لڑکے اور ان کے گھر والے اس بات کو اچھی طرح جانتے تھے کہ رکانہ نے اپنی بیوی کو طلاق بتہ دی تھی تو نبی اکرم ﷺ نے اسے ایک ہی شمار کیا ١ ؎۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : Abd Yazid, the father of Rukanah and his brothers, divorced Umm Rukanah and married a woman of the tribe of Muzaynah. She went to the Prophet ﷺ and said: He is of no use to me except that he is as useful to me as a hair; and she took a hair from her head. So separate me from him. The Prophet ﷺ became furious. He called on Rukanah and his brothers. He then said to those who were sitting beside him. Do you see so-and-so who resembles Abdu Yazid in respect of so-and-so; and so-and-so who resembles him in respect of so-and-so? They replied: Yes. The Prophet ﷺ said to Abdu Yazid: Divorce her. Then he did so. He said: Take your wife, the mother of Rukanah and his brothers, back in marriage. He said: I have divorced her by three pronouncements, Messenger of Allah. He said: I know: take her back. He then recited the verse: O Prophet, when you divorce women, divorce them at their appointed periods. Abu Dawud said: The tradition narrated by Nafi bin Ujair and Abdullah bin Yazid bin Rukanah from his father on the authority of his grandfather reads: Rukanah divorced his wife absolutely (i. e. irrevocable divorce). The Prophet ﷺ restored her to him. This version is sounder (than other versions), for they (i. e. these narrators) are the children of his man, and the members of the family are more aware of his case. Rukanah divorced his wife absolutely (i. e. three divorces in one pronouncement) and the Prophet ﷺ made it a single divorce.
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث حسن ہے، اور مؤلف نے جس حدیث (نمبر: ٢٢٠٦) کی طرف اشارہ کیا ہے وہ ضعیف ہے، نیز اولاد رکانہ واقعہ کے بیان میں خود مضطرب ہیں، یاد رہے کہ عہد نبوی میں ” تین طلاق “ اور ” طلاقہ بتہ “ ہم معنی الفاظ تھے، عہد نبوی و عہد صحابہ کے بعد لوگوں نے ” طلاق بتہ “ کا یہ معنی بنادیا کہ جس میں ایک دو، تین طلاق دہندہ کی نیت کے مطابق طے کیا جائیگا (تفصیل کے لے دیکھئے تنویر الآفاق )
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٦٢٨١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٦٥) (عندہ ” داود بن حصین “ مکان ” بعض بنی أبی رافع “ (حسن )
مجاہد کہتے ہیں: میں ابن عباس ؓ کے پاس تھا کہ ایک آدمی آیا اور ان سے کہنے لگا کہ اس نے اپنی بیوی کو تین طلاق دے دی ہے، ابن عباس ؓ خاموش رہے، یہاں تک کہ میں نے سمجھا کہ وہ اسے اس کی طرف لوٹا دیں گے، پھر انہوں نے کہا: تم لوگ بیوقوفی تو خود کرتے ہو پھر آ کر کہتے ہو: اے ابن عباس! اے ابن عباس! حالانکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ومن يتق الله يجعل له مخرجا ١ ؎ اور تو اللہ سے نہیں ڈرا لہٰذا میں تیرے لیے کوئی راستہ بھی نہیں پاتا، تو نے اپنے پروردگار کی نافرمانی کی لہٰذا تیری بیوی تیرے لیے بائنہ ہوگئی، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے يا أيها النبي إذا طلقتم النساء فطلقوهن ، في قبل عدتهن ٢ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو حمید اعرج وغیرہ نے مجاہد سے، مجاہد نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے۔ اور اسے شعبہ نے عمرو بن مرہ سے عمرو نے سعید بن جبیر سے سعید نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے۔ اور ایوب و ابن جریج نے عکرمہ بن خالد سے عکرمہ نے سعید بن جبیر سے سعید نے ابن عباس ؓ سے، اور ابن جریج نے عبدالحمید بن رافع سے ابن رافع نے عطاء سے عطاء نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے۔ نیز اسے اعمش نے مالک بن حارث سے مالک نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے اور ابن جریج نے عمرو بن دینار سے عمرو نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے۔ ان سبھوں نے تین طلاق کے بارے میں کہا ہے کہ ابن عباس ؓ نے ان کو تین ہی مانا اور کہا کہ وہ تمہارے لیے بائنہ ہوگئی جیسے اسماعیل کی روایت میں ہے جسے انہوں نے ایوب سے ایوب نے عبداللہ بن کثیر سے روایت کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور حماد بن زید نے ایوب سے ایوب نے عکرمہ سے عکرمہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ جب ایک ہی منہ سے (یکبارگی یوں کہے کہ تجھے تین طلاق دی) تو وہ ایک شمار ہوگی۔ اور اسے اسماعیل بن ابراہیم نے ایوب سے ایوب نے عکرمہ سے روایت کیا ہے اور یہ ان کا اپنا قول ہے البتہ انہوں نے ابن عباس کا ذکر نہیں کیا بلکہ اسے عکرمہ کا قول بتایا ہے۔
Mujahid said “I was with Ibn Abbas”. A man came to him and said that he divorced his wife by three pronouncements. I kept silence and thought that he was going to restore het to him. He then said “A man goes and commits a foolish act and then says “O, Ibn Abbas! Alaah has said “And for those who fear Allaah, He (ever) prepares a way out. ” Since you did not keep duty to Allaah I do not find a way out for you. You disobeyed your Lord and your wife was separated from you. Allaah has said “O Prophet! When you divorce women divorce them in the beginning of their waiting period. ” Abu Dawud said “This tradition has been transmitted by Humaid Al A’raj and by others from Mujahid on the authority of Ibn Abbas. Shu’bjh narrated it from Amr bin Murrah from Saeed bin Jubair on the authority of Ibn Abbas. Ayyub and Ibn ‘Jubair both narrated it from “’Ikrimah bin Khalid from Saeed bin Jubair on the authority of Ibn Abbas. Ibn Juraij narrated it from Abd Al Hamid bin Rafi from Ata from Ibn Abbas. Al Amash narrated it from Malik bin Al Harith on the authority of Ibn Abbas. They all said about the divorce by three pronouncements. He allowed it and said” (Your wife) has been separated from you similar to the tradition narrated by Ismail from Ayub from Abd Allaah bin Kathir. ” Abu Dawud said “Hammad bin Zaid narrated it from Ayyub from Ikrimah on the authority of Ibn Abbas. This version adds If he said “You are divorced three times saying in one pronouncement, it constitutes a single (divorce). Ismail bin Ibrahim narrated it from Ayyub from Ikrimah. This is his (Ikrimah’s) statement. He did not mention the name of Ibn Abbas. He narrated it as a statement of Ikrimah. ”
Notes · وضاحت
١ ؎: جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے، وہ اس کے لئے راستہ نکال دیتا ہے۔ ٢ ؎: اے نبی! جب تم عورتوں کو طلاق دو تو انہیں ان کی عدت کے شروع میں دو۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داودٔ (تحفة الأشراف: ٦٤٠١)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الکبری/ التفسیر (١١٦٠٢) (صحیح )
ابوداؤد کہتے ہیں: ابن عباس ؓ کا قول اگلی والی حدیث میں ہے جسے محمد بن ایاس نے روایت کیا ہے کہ ابن عباس، ابوہریرہ اور عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ سے باکرہ (کنواری) کے بارے میں جسے اس کے شوہر نے تین طلاق دے دی ہو، دریافت کیا گیا تو ان سب نے کہا کہ وہ اپنے اس شوہر کے لیے اس وقت تک حلال نہیں ہوسکتی، جب تک کہ وہ کسی اور سے نکاح نہ کرلے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور مالک نے یحییٰ بن سعید سے یحییٰ نے بکیر بن اشبح سے بکیر نے معاویہ بن ابی عیاش سے روایت کیا ہے کہ وہ اس واقعہ میں موجود تھے جس وقت محمد بن ایاس بن بکیر، ابن زبیر اور عاصم بن عمر کے پاس آئے، اور ان دونوں سے اس کے بارے میں دریافت کیا تو ان دونوں نے ہی کہا کہ تم ابن عباس اور ابوہریرہ ؓ کے پاس جاؤ میں انہیں ام المؤمنین عائشہ ؓ کے پاس چھوڑ کر آیا ہوں، پھر انہوں نے یہ پوری حدیث بیان کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور ابن عباس ؓ کا یہ قول کہ تین طلاق سے عورت اپنے شوہر کے لیے بائنہ ہوجائے گی، چاہے وہ اس کا دخول ہوچکا ہو، یا ابھی دخول نہ ہوا ہو، اور وہ اس کے لیے اس وقت تک حلال نہ ہوگی، جب تک کہ کسی اور سے نکاح نہ کرلے اس کی مثال صَرْف والی حدیث کی طرح ہے ١ ؎ اس میں ہے کہ پھر انہوں یعنی ابن عباس نے اس سے رجوع کرلیا۔
Abu Dawud said “The opinion of Ibn Abbas has been mentioned in the following tradition. “Ahmad bin Salih and Muhammad bin Yahya narrated this is the version of Ahmad (bin Salih)” from Abd Ar Razzaq from Mamar from Al Zuhri from Abu Salamah din Abd Al Rahman bin Awf and Muhammad bin Abd Al Rahman bin Thawban from Muhammad bin Iyas that Ibn Abbas, Abu Hurairah and Abd Alah bin Amr bin Al ‘As were asked about a virgin who is divorced three times by her husband. They all said “She is not lawful for him until she marries a man other than her former husband. ”Abu Dawud said “Malik narrated from Yahya bin Saeed from Bukair bin Al Ashajj from Muawiyah bin Abi Ayyash who was present on this occasion when Muhammad bin Iyas bin Al Bukair came to Ibn Al Zubair and Asim in Umar. He asked them about this matter. They replied “Go to Ibn Abbas and Abu Hurairah, I have left them with Aisha (RA) (may Allaah be pleased with her). He then narrated the rest of the tradition. ” Abu Dawud said “The statement of Ibn Abbas goes “The divorce by three pronouncements separates the wife from husband whether the marriage has been consummated or not, the previous husband is not lawful for her until she marries a man other than her husband”. This statement is like the tradition which deals with the exchange of money. In this tradition the narrator said “Ibn Abbas withdrew his opinion. ”
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جس طرح وہ نقدی کو نقدی سے بیچنے کے متعلق کہتے تھے کہ اس میں ربا صرف ادھار کی صورت میں ہے نقد کی صورت میں نہیں پھر انہوں نے اس سے رجوع کرلیا تھا اسی طرح یہ معاملہ بھی ہے اس سے بھی انہوں نے بعد میں رجوع کرلیا تھا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٦٤٣٤)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المغازی ١٠ (٣٩٩١ تعلیقًا) (صحیح )
طاؤس سے روایت ہے کہ ایک صاحب جنہیں ابوصہبا کہا جاتا تھا ابن عباس ؓ سے کثرت سے سوال کرتے تھے انہوں نے پوچھا: کیا آپ کو معلوم ہے کہ جب آدمی اپنی بیوی کو دخول سے پہلے ہی تین طلاق دے دیتا، تو رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر ؓ کے زمانے نیز عمر ؓ کے ابتدائی دور خلافت میں اسے ایک طلاق مانا جاتا تھا؟ ابن عباس ؓ نے جواب دیا: ہاں کیوں نہیں؟ جب آدمی اپنی بیوی کو دخول سے پہلے ہی تین طلاق دے دیتا تھا، تو اسے رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر ؓ کے زمانے میں نیز عمر ؓ کے ابتدائی دور خلافت میں ایک ہی طلاق مانا جاتا تھا، لیکن جب عمر ؓ نے دیکھا کہ لوگ بہت زیادہ ایسا کرنے لگے ہیں تو کہا کہ میں انہیں تین ہی نافذ کروں گا ١ ؎۔
Tawus said A man called Abu Al Sahba used to ask Ibn Abbas questions frequently. He asked “Do you know that when a man divorced his wife by three pronouncement before sexual intercourse with her, they (the people) made it a single divorce during the time of the Messenger of Allah ﷺ , of Abu Bakr and in the early phase of the caliphate of Umar?” Ibn “Abbas said “Yes, when a man divorced his wife by three pronouncement before sexual intercourse they made it a single divorce during the time of the Messenger of Allah ﷺ , of Abu Bakr and in the early phase of the caliphate of Umar. When he saw that the people frequently divorced (by three pronouncements) he said “Make them operative on them (i. e., on women)”.
Notes · وضاحت
١ ؎: مگر عمر ؓ کا یہ حکم واجب العمل نہیں ہوسکتا، کیونکہ حدیث صحیح سے رسول اکرم ﷺ کے عہد مبارک میں تین طلاق کا ایک طلاق ہونا ثابت ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٥٧٦٣) (ضعیف) (اس سند میں غیر واحد مبہم رواة ہیں، مگر اس میں غیرمدخول بہا کا لفظ ہی منکر ہے باقی باتیں اگلی روایت سے ثابت ہیں )
طاؤس سے روایت ہے کہ ابوصہباء نے ابن عباس ؓ سے پوچھا: کیا آپ کو معلوم ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر ؓ کے زمانے میں نیز عمر ؓ کے دور خلافت کے ابتدائی تین سالوں میں تین طلاقوں کو ایک ہی مانا جاتا تھا؟ ابن عباس ؓ نے جواب دیا: ہاں ١ ؎۔
Tawus said: Abu al-Sahba said to Ibn Abbas (RA) : Do you know that a divorce by three pronouncements was made a single one during the time of the Prophet ﷺ , and of Abu Bakr and in the early days of the caliphate of Umar? He replied: Yes.
Notes · وضاحت
١ ؎: ائمہ حدیث اور علما ظاہر کا اسی پر عمل ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الطلاق ٢ (١٤٧٢)، سنن النسائی/الطلاق ٨ (٣٤٣٥)، (تحفة الأشراف: ٥٧١٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣١٤) (صحیح )
علقمہ بن وقاص لیثی کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب ؓ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے، ہر آدمی کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی چناچہ جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہوگی تو اسی کی ہجرت اللہ اور رسول کے لیے مانی جائے گی، اور جس نے دنیا حاصل کرنے یا کسی عورت سے نکاح کرنے کی غرض سے ہجرت کی ہوگی تو اس کی ہجرت اسی چیز کے لیے مانی جائے گی جس کے لیے اس نے ہجرت کی ۔
Umar bin Al Khattab reported the Messenger of Allah ﷺ as saying “Actions are to be judged only by intentions and a man will have only what he intended. When one’s emigration is to Allaah and His Messenger, his emigration is to Allaah and His Messenger but his emigration is to a worldly end at which he aims or to a woman whom he marries, his emigration is to that for which he emigrated.
عبداللہ بن کعب بن مالک (جو کہ اپنے والد کعب ؓ کے نابینا ہوجانے کے بعد ان کے قائد تھے) کہتے ہیں کہ میں نے (اپنے والد) کعب بن مالک سے سنا، پھر انہوں نے جنگ تبوک والا اپنا قصہ سنایا اس میں انہوں نے بیان کیا کہ جب پچاس دنوں میں سے چالیس دن گزر گئے تو رسول اللہ ﷺ کا قاصد آیا اور کہنے لگا کہ رسول اللہ ﷺ تمہیں حکم دیتے ہیں کہ تم اپنی بیوی سے علیحدہ رہو، میں نے پوچھا: کیا میں اسے طلاق دے دوں یا کیا کروں؟ اس نے کہا: نہیں بلکہ اس سے علیحدہ رہو اس کے قریب نہ جاؤ، چناچہ میں نے اپنی بیوی سے کہہ دیا: تم اپنے میکے چلی جاؤ ١ ؎ اور جب تک اللہ تعالیٰ اس معاملہ کا فیصلہ نہ فرما دے وہیں رہنا۔
Abdullah bin Kaab reported “I heard Kaab bin Malik. He then narrated his story about the battle of Tabuk. (Narrating the story) he added “When forty out of fifty days passed”, the messenger of the Messenger of Allah ﷺ came and said “The Messenger of Allah ﷺ has commanded you to keep away from your wife. He said “So, I (Kaab bin Malik)” said “Should I divorce her or what should I do? He said “No, but only keep away from her and do not go near her”. So, I said to my wife “Go to your people and live with them until Allaah, the exalted makes a decision in this matter. ”
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی انہوں نے اپنے اس قول سے طلاق کی نیت نہیں کی تو اس سے طلاق نہیں مراد لی گئی، اگر وہ طلاق کی نیت کرتے تو طلاق واقع ہوجاتی، کنائی الفاظ سے اسی وقت طلاق واقع ہوتی ہے جب اس کی نیت کی ہو۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں (اپنے عقد میں رہنے یا نہ رہنے کا) اختیار دیا تو ہم نے آپ ﷺ ہی کو اختیار کیا، پھر آپ نے اسے کچھ بھی شمار نہیں کیا ١ ؎۔
Aishah said The Messenger of Allah ﷺ gave us our choice and we chose him so that was not reckoned anything (i. e., divorce)
Notes · وضاحت
١ ؎ : یعنی اسے طلاق قرار نہیں دیا، اکثر علماء کی یہی رائے ہے کہ جب شوہر بیوی کو اختیار دے اور وہ شوہر ہی کو اختیار کرلے تو کوئی طلاق واقع نہ ہوگی اور زید بن ثابت اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک ایک طلاق پڑجائے گی، مگر پہلی بات ہی ثابت ہے۔
حماد بن زید کہتے ہیں کہ میں نے ایوب سے پوچھا: کیا آپ کو معلوم ہے کہ کسی اور نے بھی أمرک بيدك کے سلسلہ میں وہی بات کہی ہے جو حسن نے کہی تو انہوں نے کہا: نہیں، مگر وہی روایت ہے جسے ہم سے قتادہ نے بیان کیا، قتادہ نے کثیر مولی ابن سبرہ سے کثیر نے ابوسلمہ سے ابوسلمہ نے ابوہریرہ ؓ سے ابوہریرہ ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ ایوب کہتے ہیں: تو کثیر ہمارے پاس آئے تو میں نے ان سے دریافت کیا، وہ بولے: میں نے تو کبھی یہ حدیث بیان نہیں کی، پھر میں نے قتادہ سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا: ہاں کیوں نہیں انہوں نے اسے بیان کیا تھا لیکن وہ بھول گئے۔
Hammad ibn Zayd said: I asked Ayyub (RA) : Do you know anyone who narrates the tradition narrated by Al-Hasan about uttering the words (addressing wife). Your matter is in your hand? He replied: No, except something similar transmitted by Qatadah from Kathir, the client of Samurah, from Abu Salamah on the authority of Abu Hurairah from the Prophet ﷺ . Ayyub said: Kathir then came to us; so I asked him (about this matter). He replied: I never narrated it. I mentioned it to Qatadah who said: Yes (he narrated it) but he forgot.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الطلاق ٣ (١١٧٨)، سنن النسائی/الطلاق ١١(٣٤٣٩)، (تحفة الأشراف: ١٤٩٩٢) (ضعیف) (اس کے راوی کثیر لین الحدیث ہیں )
حسن سے أمرک بيدك کے سلسلہ میں مروی ہے کہ اس سے تین طلاق واقع ہوگی ١ ؎۔
Qatadah reported on the authority of Al Hasan the uttering of the words “Your matter is in your hand” amounts to three pronouncements of divorce.
Notes · وضاحت
١ ؎: أمرک بيدك کے معنی ہیں: تمہارا معاملہ تمہارے ہاتھ میں ہے، یعنی تمہیں اختیار ہے، بعض کے نزدیک اس سے ایک طلاق واقع ہوتی ہے، اور حسن بصری سے مروی ہے کہ اس سے تین طلاق واقع ہوگی، لیکن ام المومنین عائشہ ؓ کی مذکورہ حدیث نمبر (٢٢٠٣) سے معلوم ہوا کہ کچھ واقع نہیں ہوگا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود وانظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ١٤٩٩٢، ١٨٥٣٧) (صحیح )