Relief from Sorrow and Distress

رنج و غم کے ازالے کے لئے

رنج و غم کے ازالے کے لئے

اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ عَبْدُكَ، اِبْنُ عَبْدِكَ، اِبْنُ اَمَتِكَ، نَاصِیَتِیْ بِیَدِكَ، مَاضٍ فِیَّ حُكْمُكَ، عَدْلٌ فِیَّ قَضَاؤُكَ، اَسْاَلُكَ بِكُلِّ اسْمٍ هُوَ لَكَ، سَمَّیْتَ بِهِ نَفْسَكَ اَوْ عَلَّمْتَهُ اَحَدًا مِّنْ خَلْقِكَ اَوْ اَنْزَلْتَهُ فِیْ كِتَابِكَ اَوِ اسْتَأْثَرْتَ بِهِ فِیْ عِلْمِ الْغَیْبِ عِنْدَكَ اَنْ تَجْعَلَ الْقُرْآنَ رَبِیْعَ قَلْبِیْ وَ نُوْرَ صَدْرِیْ وَ جَلَاءَ حُزْنِیْ وَ ذَهَابَ هَمِّیْ

Allāhumma Innī ‘Abduka, Ibnu ‘Abdika, Ibnu Amatika, Nāṣiyatī Biyadika, Māḍin Fiyya Ḥukmuka, ‘Adlun Fiyya Qaḍā’uka, As’aluka Bikullismin Huwa laka, Sammaita bihi Nafsaka, aw ‘Allamtahu Aḥada(n)m min Khalqika, aw Anzaltahu fī Kitābika, Awista’tharta bihi fī ‘Ilmil Ghaibi ‘Indaka, an Taj‘alal Qur’āna Rabi‘a Qalbī, wa Nūra ṣadrī, wa Jalā’a Ḥuznī, wa Dhahāba Hammī.

O Allah, verily I am Your servant, the son of Your servant, the son of your maid-servant. My forelock is in Your hands, Your command continuously prevails over me, Your Decree concerning me is just. I beseech You by every one of Your names: those which You use to refer to Yourself, or have revealed in Your book, or have taught to any one of Your creation, or have chosen to keep hidden with You in the unseen, to make the Qur’ān the springtime of my heart, the light of my chest, the dispelling of my grief, and the deportation of my anxiety.

اے الله! بے شک میں تیرا بنده اور تیرے بندے کا بیٹا اور تیری بندی کا بیٹا ہوں، میری پیشانی تیرے قابو میں ہے، میرے حق میں تیرا حکم جاری ہے، تیرا فیصله میرے بارے میں انصاف پر مبنی ہے، میں سوال کرتا ہوں تیرے ہر اس نام کے ساتھ جو تو نے اپنے لیے رکھا یا تو نے اپنی مخلوق میں سے کسی کو سکھایا یا تو نے اپنی کتاب میں اتارا یا تو نے اسے اپنے پاس علم غیب میں رکھنے کو ترجیح دی که تو قرآن کو میرے دل کی بہار اور سینے کا نور اور میرے غم کو دور کرنے والا اور میری فکر کو لے جانے والا بنا دے

Musnad Aḥmad, Vol: 6, 3712

مسند احمد، ج: 6، 3712 صحیح

Background & narration

‘Abdullāh bin Mas‘ūd (r.a) narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said, ‘When anyone is afflicted with sorrow or distress, he should say: O Allah, verily I am Your servant, the son of Your servant, the son of your maid-servant. My forelock is in Your hands, Your command continuously prevails over me, Your Decree concerning me is just. I beseech You by every one of Your names: those which You use to refer to Yourself, or have revealed in Your book, or have taught to any one of Your creation, or have chosen to keep hidden with You in the unseen, to make the Qur’ān the springtime of my heart, the light of my chest, the dispelling of my grief, and the deportation of my anxiety.’ [Musnad Aḥmad, Vol: 6, 3712]

حضرت عبد الله بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: جب کسی کو کوئی غم یا تکلیف پہنچے تووہ کہے اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ عَبْدُکَ، اِبْنُ عَبْدِکَ، اِبْنُ اَمَتِکَ، نَاصِیَتِیْ بِیَدِکَ، مَاضٍ فِیَّ حُکْمُکَ، عَدْلٌ فِیَّ قَضَاؤُکَ، اَسْاَلُکَ بِکُلِّ اسْمٍ ھُوَ لَکَ، سَمَّیْتَ بِهِ نَفْسَکَ اَوْ عَلَّمْتَهُ اَحَدًا مِّنْ خَلْقِکَ اَوْ اَنْزَلْتَهُ فِیْ کِتَابِکَ اَوِ اسْتَأْثَرْتَ بِهِ فِیْ عِلْمِ الْغَیْبِ عِنْدَکَ اَنْ تَجْعَلَ الْقُرْآنَ رَبِیْعَ قَلْبِیْ وَ نُوْرَ صَدْرِیْ وَ جَلَاءَ حُزْنِیْ وَ ذَھَابَ ھَمِّیْ۔ اے الله! بے شک میں تیرا بنده اور تیرے بندے کا بیٹا اور تیری بندی کا بیٹا ہوں، میری پیشانی تیرے قابو میں ہے، میرے حق میں تیرا حکم جاری ہے، تیرا فیصله میرے بارے میں انصاف پر مبنی ہے، میں سوال کرتا ہوں تیرے ہر اس نام کے ساتھ جو تو نے اپنے لیے رکھا یا تو نے اپنی مخلوق میں سے کسی کو سکھایا یا تو نے اپنی کتاب میں اتارا یا تو نے اسے اپنے پاس علم غیب میں رکھنے کو ترجیح دی که تو قرآن کو میرے دل کی بہار اور سینے کا نور اور میرے غم کو دور کرنے والا اور میری فکر کو لے جانے والا بنا دے۔ تو الله اس کی تکلیف و غم کو دور کردے گا اور اس کی جگه اسے خوشی عطا کرے گا۔ (مسند احمد، ج: 6، 3712) صحیح

Found in