79. Surah An-Naazi'aat

النازعاتThose who drag forth · 46 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayahs 79:39–41

فَاِنَّ الْجَحِیْمَ هِیَ الْمَاْوٰىؕ Open ayah 79:39 in the Quran reader

سو دوزخ ہی ہے اس کا ٹھکانا

وَ اَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ وَ نَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوٰىۙ Open ayah 79:40 in the Quran reader

اور جو کوئی ڈرا ہو اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے اور روکا ہو اس نے اپنے جی کو خواہش سے

فَاِنَّ الْجَنَّةَ هِیَ الْمَاْوٰىؕ Open ayah 79:41 in the Quran reader

سو بہشت ہی ہے اس کا ٹھکانا3

3 یعنی جو اس بات کا خیال کر کے ڈرا کہ مجھے ایک روز اللہ کے سامنے حساب کے لئے کھڑا ہونا ہے اور اسی ڈر سے اپنے نفس کی خواہش پر نہ چلا بلکہ اسے روک کر اپنے قابو میں رکھا اور احکام الہٰی کے تابع بنایا تو اس کا ٹھکانا بہشت کے سوا کہیں نہیں۔
Ayah 79:42

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَیَّانَ مُرْسٰىهَاؕ Open ayah 79:42 in the Quran reader

تجھ سے پوچھتے ہیں وہ گھڑی کب ہوگا قیام اس کا4

4 یعنی آخر وہ گھڑی کب آئے گی اور قیامت کب قائم ہوگی۔
Ayahs 79:43–44

فِیْمَ اَنْتَ مِنْ ذِكْرٰىهَاؕ Open ayah 79:43 in the Quran reader

تجھ کو کیا کام اس کے ذکر سے

اِلٰى رَبِّكَ مُنْتَهٰىهَاؕ Open ayah 79:44 in the Quran reader

تیرے رب کی طرف ہے پہنچ اس کی5

5 یعنی اس کا وقت ٹھیک متعین کر کے بتلانا آپ کا کام نہیں کتنے ہی سوال جواب کرو۔ آخرکار اس کا علم خدا ہی پر حوالہ کرنا ہے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " پوچھتے پوچھتے اسی تک پہنچنا ہے، پیچھے سب بیخبر ہیں۔
Ayah 79:45

اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُنْذِرُ مَنْ یَّخْشٰىهَاؕ Open ayah 79:45 in the Quran reader

تو تو ڈر سنانے کے واسطے ہے اس کو جو اس سے ڈرتا ہے6

6 یعنی آپ کا کام قیامت کی خبر سنا کر لوگوں کو ڈرا دینا ہے۔ اب جس کے دل میں اپنے انجام کی طرف سے کچھ خوف ہوگا یا خوف آخرت کی استعداد ہوگی وہ سن کر ڈرے گا اور ڈر کر تیاری کرے گا۔ گویا آپ کا ڈرانا نتیجہ کے اعتبار سے صرف ان ہی لوگوں کے حق میں ہوا جو اس سے منتفع ہونے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ ورنہ نااہل لوگ تو انجام سے غافل ہو کر ان ہی فضول بحثوں میں پڑے ہوئے ہیں کہ قیامت کس تاریخ، کس دن، کس سن میں آئے گی۔
Ayah 79:46

كَاَنَّهُمْ یَوْمَ یَرَوْنَهَا لَمْ یَلْبَثُوْۤا اِلَّا عَشِیَّةً اَوْ ضُحٰىهَا۠ Open ayah 79:46 in the Quran reader

ایسا لگے گا جس دن دیکھیں گے اس کو کہ نہیں ٹھہرے تھے دنیا میں مگر ایک شام یا صبح اس کی7

7 یعنی اب تو شور مچا رہے ہیں کہ قیامت کے آنے میں دیر کیوں ہے جلد کیوں نہیں آجاتی۔ مگر اس وقت معلوم ہوگا کہ بہت جلد آئی۔ بیچ میں دیر کچھ نہیں لگی۔