Ayah 69:417 یعنی قرآن کے کلام اللہ ہونے کی نسبت کبھی کبھی یقین کی کچھ جھلک تمہارے دلوں میں آتی ہے، مگر بہت کم جو نجات کے لیے کافی نہیں۔ آخر اس کو شاعری وغیرہ کہہ کر اڑا دیتے ہو۔ کیا واقعی انصاف سے کہہ سکتے ہو کہ یہ کسی شاعر کا کلام ہوسکتا ہے اور شعر کی قسم سے ہے۔ شعر میں وزن و بحر وغیرہ ہونا لازم ہے۔ قرآن میں اس کا پتہ نہیں۔ شاعروں کا کلام اکثر بےاصل ہوتا ہے اور اس کے اکثر مضامین محض وہمی اور خیالی ہوتے ہیں، حالانکہ قرآن کریم میں تمام تر حقائق ثابتہ اور اصول محکمہ کو قطعی دلیلوں اور یقینی حجتوں کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔
Ayah 69:428 یعنی پوری طرح دھیان کرو تو معلوم ہوجائے کہ یہ کسی کاہن کا کلام نہیں۔ کاہن عرب میں وہ لوگ تھے جو بھوت پریت، جنوں اور چڑیلوں سے تعلق یا مناسب رکھتے تھے۔ وہ ان کو غیب کی بعض جزئی باتیں ایک مقضی و مسجع کلام کے ذریعہ سے بتلاتے تھے۔ لیکن جنوں کا کلام معجز نہیں ہوتا کہ ویسا دوسرا نہ کرسکے، بلکہ ایک جن کسی کاہن کو ایک بات سکھلاتا ہے دوسرا جن بھی ویسی بات دوسرے کاہن کو سکھلا سکتا ہے اور یہ کلام یعنی قرآن ایسا معجز ہے کہ سب جن و انس مل کر بھی اس کے مشابہ کلام نہیں بنا سکتے۔ دوسرے کاہنوں کے کلام میں محض قافیہ اور سجع کی رعایت کے لیے بہت الفاظ بھرتی کے بالکل بیکار اور بےفائدہ ہوتے ہیں، اور اس کلام معجز نظام میں ایک حرف یا ایک شوشہ بھی بیکار و بےفائدہ نہیں۔ پھر کاہنوں کی باتیں چند مبہم، جزئی اور معمولی خبروں پر مشتمل ہوتی ہیں۔ لیکن علوم و حقائق پر مطلع ہونا اور ادیان و شرائع کے اصول و قوانین اور معاش معاد کے دستور و آئین کا معلوم کرلینا اور فرشتوں کے اور آسمانوں کے چھپے ہوئے بھیدوں پر سے آگاہی پانا ان سے نہیں ہوسکتا۔ بخلاف قرآن کریم کے وہ ان ہی مضامین سے پر ہے۔
Ayah 69:439 اسی لیے سارے جہان کی تربیت کے اعلیٰ اور محکم ترین اصول اس میں بیان ہوئے ہیں۔
Ayahs 69:44–4710 حضرت شاہ عبدالقادر (رح) لکھتے ہیں " یعنی اگر جھوٹ بناتا اللہ پر تو اول اس کا دشمن اللہ ہوتا اور ہاتھ پکڑتا یہ دستور ہے گردن مارنے کا کہ جلاد اس کا داہنا ہاتھ اپنے بائیں ہاتھ پر پکڑ رکھتا ہے تاکہ سرک نہ جائے حضرت شاہ عبدالعزیز (رح) فرماتے ہیں " کہ " تقول " کی ضمیر رسول کی طرف لوٹتی ہے یعنی اگر رسول بالفرض کوئی حرف اللہ کی طرف منسوب کر دے یا اس کے کلام میں اپنی طرف سے ملا دے جو اللہ نے نہ کہا ہو تو اسی وقت اس پر یہ عذاب کیا جائے (العیاذ باللہ) کیونکہ اس کی تصدیق اور سچائی آیات بینات اور دلائل وبراہین کے ذریعہ سے ظاہر کی جا چکی ہے۔ اب اگر اس قسم کی بات پر فوراً عذاب اور سزا نہ کی جائے تو وحی الٰہی سے امن اٹھ جائے گا اور ایسا التباس و اشتباہ پڑجائے گا جس کی اصلاح ناممکن ہوجائے گی۔ جو حکمت تشریع کے منافی ہے۔ بخلاف اس شخص کے جس کا رسول ہونا آیات وبراہین سے ثابت نہیں ہوا، بلکہ کھلے ہوئے قرائن و دلائل اعلانیہ اس کی رسالت کی نفی کرچکے ہیں تو اس کی بات بھی بیہودہ اور خرافات ہے کوئی عاقل اس کو درخور اعتناء نہ سمجھے گا اور نہ بحمد اللہ دین الٰہی میں کوئی التباس و اشتباء واقع ہوگا۔ ہاں ایسے شخص کی معجزات وغیرہ سے تصدیق ہونا محال ہے، ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو جھوٹا ثابت کرنے اور رسوا کرنے کے لیے ایسے امور بروئے کار لائے جو اس کے دعوئے رسالت کے مخالف ہوں۔ اس کی مثال یوں سمجھو کہ جس طرح بادشاہ ایک شخص کو کسی منصب پر مامور کر کے اور سند و فرمان وغیرہ دے کر کسی طرف روانہ کرتے ہیں۔ اب اگر اس شخص سے اس خدمت میں کچھ خیانت ہوئی یا بادشاہ پر کچھ جھوٹ باندھنا اس سے ثابت ہوا تو اسی وقت بلا توقف اس کا تدارک کرتے ہیں۔ لیکن اگر سڑک کوٹنے والا مزدور یا جھاڑو دینے والا بھنگی بکتا پھرے کہ گورنمنٹ کا میرے لیے یہ فرمان ہے یا میرے ذریعہ سے یہ احکام دیے گئے ہیں تو کون اس کی بات پر کان دھرتا ہے اور کون اس کے دعوں سے تعرض کرتا ہے۔ بہرحال آیت ہذا میں حضور ﷺ کی نبوت پر استدلال نہیں کیا گیا۔ بلکہ یہ بتلایا گیا ہے کہ قرآن کریم خالص اللہ کا کلام ہے جس میں ایک حرف یا ایک شوشہ نبی کریم ﷺ بھی اپنی طرف سے شامل نہیں کرسکتے۔ اور نہ باوجود پیغمبر ہونے کے آپ ﷺ کی یہ شان ہے کہ کوئی بات اللہ کی طرف منسوب کردیں جو اس نے نہ کہی ہو۔ تورات سفر استثناء کے اٹھارویں باب میں بیسواں فقرہ یہ ہے " لیکن وہ نبی ایسی گستاخی کرے کہ کوئی بات میرے نام سے کہے جسکے کہنے کا میں نے اسے حکم نہیں دیا اور معبودوں کے نام سے کہے تو وہ نبی قتل کیا جائے۔ " خلاصہ یہ ہے کہ جو نبی ہوگا اس سے ایسا ممکن نہیں (وَلَىِٕنِ اتَّبَعْتَ اَھْوَاۗءَھُمْ بَعْدَ الَّذِيْ جَاۗءَكَ مِنَ الْعِلْمِ ۙ مَا لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ وَّلِيٍّ وَّلَا نَصِيْرٍ ) 2 ۔ البقرۃ :120)
Ayahs 69:48–501 یعنی خدا سے ڈرنے والے اس کلام کو سن کر نصیحت حاصل کریں گے اور جن کے دل میں ڈر نہیں وہ جھٹلائیں گے لیکن ایک وقت آنے والا ہے کہ یہ ہی کلام اور ان کا یہ جھٹلانا سخت حسرت و پیشمانی کا موجب ہوگا۔ اس وقت پچھتائیں گے کہ افسوس کیوں ہم نے اس سچی بات کو جھٹلایا تھا جو آج یہ آفت دیکھنی پڑی۔
Ayahs 69:51–522 یعنی یہ کتاب تو ایسی چیز ہے جس پر یقین سے بھی بڑھ کر یقین رکھا جائے کیونکہ اس کے مضامین سرتاپا سچ اور ہر طرح کے شک و شبہ سے بالاتر ہیں۔ لازم ہے کہ آدمی اس پر ایمان لا کر اپنے رب کی تسبیح وتحمید میں مشغول ہو۔