56. Surah Al-Waaqia

الواقعةThe Inevitable · 96 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayahs 56:81–82

اَفَبِهٰذَا الْحَدِیْثِ اَنْتُمْ مُّدْهِنُوْنَۙ Open ayah 56:81 in the Quran reader

اب کیا اس بات میں تم سستی کرتے ہو

وَ تَجْعَلُوْنَ رِزْقَكُمْ اَنَّكُمْ تُكَذِّبُوْنَ Open ayah 56:82 in the Quran reader

اور اپنا حصہ تم یہی لیتے ہو کہ اس کو جھٹلاتے ہو12

12 یعنی کیا یہ ایسی دولت ہے جس سے منتفع ہونے میں تم سستی اور کاہلی کرو۔ اور اپنا حصہ اتنا ہی سمجھو کہ ان کو اور اس کے بتلائے ہوئے حقائق کو جھٹلاتے رہو، جیسے بارش کو دیکھ کر کہہ دیا کرتے ہو کہ فلاں ستارہ فلاں برج میں آگیا تھا اس سے بارش ہوگئی۔ گویا خدا سے کوئی مطلب ہی نہیں۔ اسی طرح اس باران رحمت کی قدر نہ کرنا جو قرآن کی صورت میں نازل ہوئی ہے اور یہ کہہ دینا کہ وہ اللہ کی اتاری ہوئی نہیں، سخت بدبختی اور حرماں نصیبی ہے۔ کیا ایک نعمت کی شکر گزاری یہ ہی ہے کہ اس کو جھٹلایا جائے۔
Ayahs 56:83–87

فَلَوْ لَاۤ اِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُوْمَۙ Open ayah 56:83 in the Quran reader

پھر کیوں نہیں جس وقت جان پہنچے حلق کو

وَ اَنْتُمْ حِیْنَئِذٍ تَنْظُرُوْنَۙ Open ayah 56:84 in the Quran reader

اور تم اس وقت دیکھ رہے ہو

وَ نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْهِ مِنْكُمْ وَ لٰكِنْ لَّا تُبْصِرُوْنَ Open ayah 56:85 in the Quran reader

اور ہم اس کے پاس ہیں تم سے زیادہ پر تم نہیں دیکھتے

فَلَوْ لَاۤ اِنْ كُنْتُمْ غَیْرَ مَدِیْنِیْنَۙ Open ayah 56:86 in the Quran reader

پھر کیوں نہیں اگر تم نہیں ہو کسی کے حکم میں

تَرْجِعُوْنَهَاۤ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 56:87 in the Quran reader

تو کیوں نہیں پھیر لیتے اس روح کو، اگر ہو تم سچے1

1 یعنی ایسی بےفکری اور بےخوفی سے اللہ کی باتوں کو جھٹلاتے ہو، گویا تم کسی دوسرے کے حکم اور اختیار میں نہیں، یا کبھی مرنا اور خدا کے ہاں جانا ہی نہیں۔ اچھا جس وقت تمہارے کسی عزیز و محبوب کی جان نکلنے والی ہو، سانس حلق میں اٹک جائے، موت کی سختیاں گزر رہی ہوں اور تم پاس بیٹھے اس کی بےبسی اور درماندگی کا تماشا دیکھتے ہو، اور دوسری طرف خدا یا اس کے فرشتے تم سے زیادہ اس کے نزدیک ہیں جو تمہیں نظر نہیں آتے اگر تم کسی دوسرے کے قابو میں نہیں تو اس وقت کیوں اپنے پیارے کی جان کو اپنی طرف نہیں پھیر لیتے اور کیوں بادل نخواستہ اپنے سے جدا ہونے دیتے ہو دنیا کی طرف واپس لا کر اسے آنے والی سزا سے کیوں بچا نہیں لیتے۔ اگر اپنے دعو وں میں سچے ہو تو ایسا کر دکھاؤ۔
Ayahs 56:88–91

فَاَمَّاۤ اِنْ كَانَ مِنَ الْمُقَرَّبِیْنَۙ Open ayah 56:88 in the Quran reader

سو جو اگر وہ مردہ ہوا مقرب لوگوں میں

فَرَوْحٌ وَّ رَیْحَانٌ١ۙ۬ وَّ جَنَّتُ نَعِیْمٍ Open ayah 56:89 in the Quran reader

تو راحت ہے اور روزی ہے اور باغ نعمت کا

وَ اَمَّاۤ اِنْ كَانَ مِنْ اَصْحٰبِ الْیَمِیْنِۙ Open ayah 56:90 in the Quran reader

اور جو اگر وہ ہوا داہنے والوں میں

فَسَلٰمٌ لَّكَ مِنْ اَصْحٰبِ الْیَمِیْنِؕ Open ayah 56:91 in the Quran reader

تو سلامتی پہنچے تجھ کو داہنے والوں سے2

2 یعنی تم ایک منٹ کے لیے نہیں روک سکتے۔ اس کو اپنے ٹھکانے پر پہنچنا ضروری ہے۔ اگر وہ مردہ مقربین میں سے ہوگا تو اعلیٰ درجہ کی روحانی و جسمانی راحت و عیش کے سامانوں میں پہنچ جائے گا۔ اور " اصحاب یمین " میں سے ہو تب بھی کچھ کھٹکا نہیں۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " یعنی خاطر جمع رکھ ان کی طرف سے۔ " یا یہ مطلب ہے کہ اصحاب یمین کی طرف سے اس کو سلام پہنچنے گا۔ یا اس کو کہا جائے گا کہ تیرے لیے آئندہ سلامتی ہی سلامتی ہے، اور تو " اصحاب یمین " میں شامل ہے۔ بعض احادیث میں ہے کہ موت سے پہلے ہی مرنے والے کو یہ بشارتیں مل جاتی ہیں۔ اور اسی طرح مجرموں کو ان کی بدحالی کی اطلاع دے دی جاتی ہے۔
Ayahs 56:92–94

وَ اَمَّاۤ اِنْ كَانَ مِنَ الْمُكَذِّبِیْنَ الضَّآلِّیْنَۙ Open ayah 56:92 in the Quran reader

اور جو اگر وہ ہوا جھٹلانے والوں بہکنے والوں میں سے

فَنُزُلٌ مِّنْ حَمِیْمٍۙ Open ayah 56:93 in the Quran reader

تو مہمانی ہے جلتا پانی

وَّ تَصْلِیَةُ جَحِیْمٍ Open ayah 56:94 in the Quran reader

اور ڈالنا آگ میں3

3 یعنی اس کا انجام یہ ہوگا کہ مرنے سے پہلے خبر سنا دی جائے گی۔
Ayah 56:95

اِنَّ هٰذَا لَهُوَ حَقُّ الْیَقِیْنِۚ Open ayah 56:95 in the Quran reader

بیشک یہ بات ہے لائق یقین کے4

4 یعنی تمہاری تکذیب سے کچھ نہیں ہوتا۔ جو کچھ اس صورت میں مومنین اور مجرمین کی خبر دی گئی ہے بالکل یقینی ہے، اسی طرح ہو کر رہے گا۔ خواہ مخواہ شبہ پیدا کر کے اپنے نفس کو دھوکا نہ دو ۔ بلکہ آنے والے وقت کی تیاری کرو۔
Ayah 56:96

فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِیْمِ۠ Open ayah 56:96 in the Quran reader

سو بول پاکی اپنے رب کے نام سے جو سب سے بڑا5

5 یعنی تسبیح وتحمید میں مشغول رہو کہ یہ ہی وہاں کی بڑی تیاری ہے اس نیک مشغلہ میں لگ کر مکذبین کی دل آزار بیہودہ گیوں سے بھی یکسوئی رہتی ہے اور ان کے باطل خیالات کا رد بھی ہوتا ہے۔ یہاں سورت کے خاتمہ پر جی چاہتا ہے کہ وہ حدیث نقل کردی جائے جس پر امام بخاری نے اپنی کتاب کو ختم فرمایا ہے۔ " عن ابی ہریرۃ قال قال رسول اللہ ﷺ کَلِمَتَانِ خَفِیْفَتَانِ عَلَی اللِّسَانِ ۔ ثَقِیْلَتَانِ فِی الْمِیْزَانِ حَبِیْبَتَانِ اِلَی الرَّحْمٰنِ سُبْحَان اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ سُبْحَان اللّٰہِ الْعَظِیمِ " تم سورة الواقعہ وللّٰہ الحمد والمنۃ۔