43. Surah Az-Zukhruf

الزخرفOrnaments of gold · 89 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayah 43:80

اَمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّا لَا نَسْمَعُ سِرَّهُمْ وَ نَجْوٰىهُمْ١ؕ بَلٰى وَ رُسُلُنَا لَدَیْهِمْ یَكْتُبُوْنَ Open ayah 43:80 in the Quran reader

کیا خیال رکھتے ہیں کہ ہم نہیں جانتے ان کا بھید اور ان کا مشورہ کیوں نہیں اور ہمارے بھیجے ہوئے ان کے پاس لکھتے رہتے ہیں2

2 یعنی ان کے دلوں کے بھید ہم جانتے اور ان کے خفیہ مشورے ہم سنتے ہیں اور حکومت کے انتظامی ضابطہ کے موافق ہمارے فرشتے (کراماً کاتبین) ان کے سب اعمال و افعال لکھتے جاتے ہیں۔ یہ ساری مثل قیامت میں پیش ہوگی۔
Ayah 43:81

قُلْ اِنْ كَانَ لِلرَّحْمٰنِ وَلَدٌ١ۖۗ فَاَنَا اَوَّلُ الْعٰبِدِیْنَ Open ayah 43:81 in the Quran reader

تو کہہ اگر ہو رحمان کے واسطے اولاد تو میں سب سے پہلے پوجوں3

3 یعنی اس سے بڑا ظلم کیا ہوگا کہ اللہ کے لیے بیٹے اور بیٹیاں تجویز کی جائیں۔ آپ کہہ دیجئے کہ اگر بفرض محال خدا کے اولاد ہو تو پہلا شخص میں ہوں جو اس کی اولاد کی پرستش کرے۔ کیونکہ میں دنیا میں سب سے زیادہ خدا کی عبادت کرنے والا ہوں۔ اور جس کو جس قدر علاقہ خدا کے ساتھ ہوگا اسی نسبت سے اس کی اولاد کے ساتھ ہونا چاہیے۔ پھر جب میں باوجود اول العابدین ہونے کے کسی ہستی کو اس کی اولاد نہیں مانتا تو تم کون سے اللہ کا حق ماننے والے ہو جو اس کی فرضی اولاد تک کے حقوق پہچانو گے۔ (تنبیہ) بعض مفسرین نے آیت کا یہ مطلب لیا ہے کہ اگر تمہارے اعقاد میں اللہ کی کوئی اولاد ہے تو یاد رکھو ! کہ تمہارے مقابلہ میں اس اکیلے خدا کی عبادت کرنے والا ہوں جو اولاد و احفاد سے منزہ و مقدس ہے۔ بعض نے " عابد " کے معنی لغتہ جامد (منکر) کے بتلائے ہیں یعنی اس فاسد عقیدہ کا سب سے پہلا انکار کرنے اور رد کرنے والا میں ہوں۔ بعض کے نزدیک " ان " نافیہ ہے۔ یعنی رحمان کے کوئی اولاد نہیں۔ مگر یہ کچھ زیادہ قوی نہیں اور بھی احتمالات ہیں جن کے استیعاب کا یہاں موقع نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
Ayah 43:82

سُبْحٰنَ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا یَصِفُوْنَ Open ayah 43:82 in the Quran reader

پاک ذات ہے وہ رب آسمانوں کا اور زمین کا صاحب عرش کا ان باتوں سے جو یہ بیان کرتے ہیں4

4 یعنی جن باتوں کی نسبت یہ لوگ اس کی طرف کرتے ہیں۔ مثلاً اولاد وغیرہ، اس سے خدا تعالیٰ کی ذات برتر اور منزہ ہے۔ اس کی ذات میں یہ امکان ہی نہیں کہ معاذ اللہ کسی کا باپ یا بیٹا بنے۔
Ayah 43:83

فَذَرْهُمْ یَخُوْضُوْا وَ یَلْعَبُوْا حَتّٰى یُلٰقُوْا یَوْمَهُمُ الَّذِیْ یُوْعَدُوْنَ Open ayah 43:83 in the Quran reader

اب چھوڑ دے ان کو بک بک کریں اور کھیلیں یہاں تک کہ ملیں اپنے اس دن سے جس کا ان کو وعدہ دیا ہے5

5 یعنی غفلت و حماقت کے نشہ میں جو کچھ بکتے ہیں بکنے دیجئے۔ یہ لوگ چند روز اور دنیا کے کھیل تماشے میں گزار لیں، آخر وہ موعود دن آنا ہے جس میں ایک ایک کر کے ان کی گستاخیوں اور شرارتوں کا مزہ چکھایا جائے گا۔
Ayah 43:84

وَ هُوَ الَّذِیْ فِی السَّمَآءِ اِلٰهٌ وَّ فِی الْاَرْضِ اِلٰهٌ١ؕ وَ هُوَ الْحَكِیْمُ الْعَلِیْمُ Open ayah 43:84 in the Quran reader

اور وہی ہے جس کی بندگی ہے آسمان میں اور اس کی بندگی ہے زمین میں اور وہی ہے حکمت والا سب سے خبردار6

6 نہ آسمان میں فرشتے اور شمس و قمر معبود بن سکتے ہیں نہ زمین میں اصنام و اوثان وغیرہ۔ سب زمین و آسمان والوں کا معبود اکیلا وہ ہی خدا ہے جو فرش سے عرش تک کا مالک اور تمام عالم کون میں اپنے علم و اختیار سے متصرف ہے۔
Ayah 43:85

وَ تَبٰرَكَ الَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ۚ وَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ١ۚ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 43:85 in the Quran reader

اور بڑی برکت ہے اس کی جس کا راج ہے آسمانوں میں اور زمین میں اور جو کچھ ان کے بیچ میں ہے اور اسی کے پاس ہے خبر قیامت کی7 اور اسی تک پھر کر پہنچ جاؤ گے8

7 یعنی قیامت کب آئے گی ؟ اس کا علم صرف اسی مالک کو ہے۔ 8 یعنی وہاں پہنچ کر سب کی نیکی بدی کا حساب ہوجائے گا۔
Ayah 43:86

وَ لَا یَمْلِكُ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهِ الشَّفَاعَةَ اِلَّا مَنْ شَهِدَ بِالْحَقِّ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 43:86 in the Quran reader

اور اختیار نہیں رکھتے وہ لوگ جن کو یہ پکارتے ہیں سفارش کا مگر جس نے گواہی دی سچی اور ان کو خبر تھی9

9 یعنی اتنی سفارش کرسکتے ہیں کہ جس نے ان کے علم کے موافق کلمہ اسلام کہا اس کی گواہی دیں۔ بغیر کلمہ اسلام کسی کے حق میں ایک حرف سفارش کا نہیں کہہ سکے۔ اور اتنی سفارش بھی صالحین کریں گے جو سچائی کو جانتے اور اس کو زبان و دل سے مانتے ہیں۔ دوسروں کو اجازت نہیں۔
Ayah 43:87

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَهُمْ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ فَاَنّٰى یُؤْفَكُوْنَۙ Open ayah 43:87 in the Quran reader

اور اگر تو ان سے پوچھے کہاں کو کس نے بنایا تو کہیں گے اللہ نے پھر کہاں سے الٹ جاتے ہیں10

10 یعنی جب بنانے والا ایک اللہ ہے تو بندگی کا مستحق کوئی دوسرا کیوں کر ہوگیا۔ عبادت نام ہے انتہائی تذلل کا۔ وہ اسی کا حق ہونا چاہیے جو انتہائی عظمت رکھتا ہے۔ عجیب بات ہے مقدمات کو تسلیم کرتے ہیں اور نتیجہ سے انکار۔
Ayah 43:88

وَ قِیْلِهٖ یٰرَبِّ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ قَوْمٌ لَّا یُؤْمِنُوْنَۘ Open ayah 43:88 in the Quran reader

قسم ہے رسول کے اس کہنے کی کہ اے رب یہ لوگ ہیں کہ یقین نہیں لاتے11

11 یعنی نبی کا یہ کہنا بھی اللہ کو معلوم ہے اور اس کی اس مخلصانہ التجاء اور درد بھری آواز کی اللہ قسم کھاتا ہے کہ وہ اس کی ضرور مدد کرے گا۔ اور اپنی رحمت سے اس کو غالب و منصور کرے گا۔
Ayah 43:89

فَاصْفَحْ عَنْهُمْ وَ قُلْ سَلٰمٌ١ؕ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 43:89 in the Quran reader

سو تو منہ پھیر لے ان کی طرف سے اور کہہ سلام ہے12 اب آخر کو معلوم کرلیں گے13

12 یعنی غم نہ کھا، اور زیادہ ان کے پیچھے نہ پڑ۔ فرض تبلیغ ادا کر کے ادھر سے منہ پھیر لے اور کہہ دے کہ اچھا نہیں مانتے تو ہمارا سلام لو۔ 13 یعنی آخرکار ان کو پتہ لگ جائے گا کہ کس غلطی میں پڑے ہوئے تھے۔ چناچہ کچھ تو دنیا ہی میں لگ گیا۔ اور پوری تکمیل آخرت میں ہونے والی ہے۔ تم سورة الزخرف بعون اللہ و توفیقہ فللہ الحمد والمنتہ۔