42. Surah Ash-Shura

الشورىConsultation · 53 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayah 42:41

وَ لَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهٖ فَاُولٰٓئِكَ مَا عَلَیْهِمْ مِّنْ سَبِیْلٍؕ Open ayah 42:41 in the Quran reader

اور جو کوئی بدلہ لے اپنے مظلوم ہونے کے بعد سو ان پر بھی نہیں کچھ الزام6

6 یعنی مظلوم ظالم سے بدلہ لینا چاہے تو اس میں الزام اور گناہ کچھ نہیں۔ ہاں معاف کردینا افضل و احسن ہے۔
Ayah 42:42

اِنَّمَا السَّبِیْلُ عَلَى الَّذِیْنَ یَظْلِمُوْنَ النَّاسَ وَ یَبْغُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 42:42 in the Quran reader

الزام تو ان پر ہے جو ظلم کرتے ہیں لوگوں پر7 اور دھوم اٹھاتے ہیں ملک میں ناحق ان لوگوں کے لیے ہے عذاب دردناک

7 یعنی ابتداء ظلم کرتے ہیں یا انتقام لینے میں حد استحقاق سے بڑھ جاتے ہیں۔
Ayah 42:43

وَ لَمَنْ صَبَرَ وَ غَفَرَ اِنَّ ذٰلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ۠ Open ayah 42:43 in the Quran reader

اور البتہ جس نے سہا) تحمل کیا (اور معاف کیا بیشک یہ کام ہمت کے ہیں8

8 یعنی غصہ کو پی جانا اور ایذائیں برداشت کر کے ظالم کو معاف کردینا بڑی ہمت اور حوصلہ کا کام ہے۔ حدیث میں ہے کہ جس بندہ پر ظلم ہو اور وہ محض اللہ کے واسطے اس سے درگز کرے تو ضرور ہے کہ اللہ اس کی عزت بڑھائے گا اور مدد کرے گا۔
Ayah 42:44

وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ وَّلِیٍّ مِّنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ وَ تَرَى الظّٰلِمِیْنَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ یَقُوْلُوْنَ هَلْ اِلٰى مَرَدٍّ مِّنْ سَبِیْلٍۚ Open ayah 42:44 in the Quran reader

اور جس کو راہ نہ سجھائے اللہ تو کوئی نہیں اس کا کام بنانے والا اس کے سوا9 اور تو دیکھے گناہ گاروں کو جس وقت دیکھیں گے عذاب کہیں گے کسی طرح پھرجانے کی بھی ہوگی کوئی راہ10

9 یعنی اللہ کی توفیق و دستگیری ہی سے آدمی کو عدل و انصاف اور صبر و غفر کی اعلیٰ خصلتیں حاصل ہوسکتی ہیں وہ ان بہترین اخلاق کی طرف راہ نہ دے تو کون ہے جو ہاتھ پکڑا کر اخلاقی پستی اور رسوائی کے گڑھے سے ہم کو نکال سکے۔ 10 یعنی کوئی ایسی سبیل بھی ہے کہ ہم دنیا کی طرف پھر واپس کردیے جائیں اور اس مرتبہ وہاں سے خوب نیک بن کر حاضر ہوں۔
Ayah 42:45

وَ تَرٰىهُمْ یُعْرَضُوْنَ عَلَیْهَا خٰشِعِیْنَ مِنَ الذُّلِّ یَنْظُرُوْنَ مِنْ طَرْفٍ خَفِیٍّ١ؕ وَ قَالَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ الْخٰسِرِیْنَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ اَهْلِیْهِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ فِیْ عَذَابٍ مُّقِیْمٍ Open ayah 42:45 in the Quran reader

اور تو دیکھے ان کو کہ سامنے لائے جائیں آگ کے آنکھیں جھکائے ہوئے ذلت سے دیکھتے ہوں گے چھپی نگاہ سے11 اور کہیں وہ لوگ جو ایمان دار تھے مقرر ٹوٹے والے وہی ہیں جنہوں نے گنوایا اپنی جان کو اور اپنے گھر والوں کو قیامت کے دن1 سنتا ہے گنہگار پڑے ہیں سدا کے عذاب میں

11 یعنی ایک سہمے ہوئے مجرم کی طرح خوف اور ذلت و ندامت کے مارے نیچی نظر سے دیکھتے ہوں گے۔ کسی سے پوری طرح آنکھ نہیں ملا سکیں گے۔ 1 یعنی بدبخت اپنے ساتھ اپنے متعلقین اور گھر والوں کو بھی لے ڈوبے۔ سبھی کو تباہ و برباد کر کے چھوڑا۔
Ayah 42:46

وَ مَا كَانَ لَهُمْ مِّنْ اَوْلِیَآءَ یَنْصُرُوْنَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ سَبِیْلٍؕ Open ayah 42:46 in the Quran reader

اور کوئی نہ ہوئے ان کے حمایتی جو مدد کرتے ان کی اللہ کے سوا اور جس کو بھٹکائے اللہ اس کے لیے کہیں نہیں راہ2

2 یعنی نہ دنیا میں ہدایت کی، نہ آخرت میں نجات کی۔
Ayah 42:47

اِسْتَجِیْبُوْا لِرَبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ١ؕ مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ یَّوْمَئِذٍ وَّ مَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِیْرٍ Open ayah 42:47 in the Quran reader

مانو اپنے رب کا حکم اس سے پہلے کہ آئے وہ دن جس کو پھرنا نہیں اللہ کے یہاں سے3 نہیں ملے گا تم کو بچاؤ اس دن اور نہ ملے گا الوپ (مکر جانا) ہوجانا4

3 یعنی جیسے دنیا میں عذاب موخر ہوتا اور ٹلتا چلا جاتا ہے، اس دن نہیں ٹلے گا۔ 4 یعنی مکر جانے سے کچھ فائدہ نہ ہوگا۔ اور ابن کثیر نے یوں معنی کیے ہیں کہ کوئی موقع ایسا نہ ملے گا جب تم پہچانے نہ جاؤ۔
Ayah 42:48

فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ حَفِیْظًا١ؕ اِنْ عَلَیْكَ اِلَّا الْبَلٰغُ١ؕ وَ اِنَّاۤ اِذَاۤ اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَةً فَرِحَ بِهَا١ۚ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ فَاِنَّ الْاِنْسَانَ كَفُوْرٌ Open ayah 42:48 in the Quran reader

پھر اگر وہ منہ پھیریں تو تجھ کو نہیں بھیجا ہم نے ان پر نگہبان تیرا ذمہ تو بس یہی ہے پہنچا دینا5 اور ہم جب چکھاتے ہیں آدمی کو اپنی طرف سے رحمت اس پر پھولا نہیں سماتا اور اگر پہنچتی ہے ان کو کچھ برائی بدلے میں اپنی کمائی کی تو انسان بڑا ناشکرا ہے6

5 یعنی آپ ذمہ دار نہیں کہ زبردستی منوا کر چھوڑیں۔ آپ کا فرض پیغام الٰہی پہنچا دینا ہے۔ وہ آپ ادا کر رہے ہیں۔ یہ نہیں مانتے تو جائیں جہنم میں۔ 6 یعنی ان کے اعراض سے آپ غمگین نہ ہوں۔ انسان کی طبیعت ہی ایسی واقع ہوئی ہے (الا من شاء اللہ) کہ اللہ انعام و احسان فرمائے تو اکڑنے اور اترانے لگتا ہے۔ پھر جہاں اپنی کرتوت کی بدولت کوئی افتاد پڑگئی، بس سب نعمتیں بھول جاتا ہے اور ایسا ناشکرا بن جاتا ہے کہ گویا کبھی اس پر اچھا وقت آیا ہی نہ تھا۔ خلاصہ یہ کہ فراخی اور عیش کی حالت ہو یا تنگی اور تکلیف کی۔ اپنی حد پر قائم نہیں رہتا البتہ مومنین قانتین کا شیوہ یہ ہے کہ سختی پر صبر اور فراخی کی حالت میں منعم حقیقی کا شکر ادا کرتے ہیں اور کسی حال اس کے انعامات و احسانات کو فراموش نہیں کرتے۔
Ayahs 42:49–50

لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ؕ یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ اِنَاثًا وَّ یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ الذُّكُوْرَۙ Open ayah 42:49 in the Quran reader

اللہ کا راج ہے آسمانوں میں اور زمین میں پیدا کرتا ہے جو چاہے بخشتا ہے جس کو چاہے بیٹیاں اور بخشتا ہے جس کو چاہے بیٹے

اَوْ یُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَّ اِنَاثًا١ۚ وَ یَجْعَلُ مَنْ یَّشَآءُ عَقِیْمًا١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌ قَدِیْرٌ Open ayah 42:50 in the Quran reader

یا ان کو دیتا ہے جوڑے بیٹے اور بیٹیاں اور کردیتا ہے جس کو چاہے بانجھ وہ ہے سب کچھ جانتا کرسکتا7

7 یعنی سختی ہو یا نرمی سب احوال خدا کے بھیجے ہوئے ہیں۔ آسمان و زمین میں سب جگہ اسی کی سلطنت اور اسی کا حکم چلتا ہے جو چیز چاہے پیدا کرے اور جو چیز جس کو چاہے دے، جس کو چاہے نہ دے۔ دنیا کے رنگا رنگ حالات کو دیکھ لو۔ کسی کو سرے سے اولاد نہیں ملتی، کسی کو ملتی ہے تو صرف بیٹیاں، کسی کو صرف بیٹے، کسی کو دونوں، جڑواں یا الگ الگ۔ اس میں کسی کا کچھ دعویٰ نہیں۔ وہ مالک حقیقی ہی جانتا ہے کہ کس شخص کو کس حالت میں رکھنا مناسب ہے اور وہ ہی اپنے علم و حکمت کے موافق تدبیر کرتا ہے کسی کی مجال نہیں کہ اس کے ارادہ کو روک دے یا اس کی تخلیق و تقسیم پر حرف گیری کرسکے، عاقل کا کام یہ ہے کہ ہر قسم کے نرم و گرم حالات میں اسی کی طرف رجوع کرے اور ہمیشہ اپنی ناچیز حقیقت کو پیش نظر رکھ کر تکبر یا کفران نعمت سے باز رہے۔
Ayah 42:51

وَ مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ اِلَّا وَحْیًا اَوْ مِنْ وَّرَآئِ حِجَابٍ اَوْ یُرْسِلَ رَسُوْلًا فَیُوْحِیَ بِاِذْنِهٖ مَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیٌّ حَكِیْمٌ Open ayah 42:51 in the Quran reader

اور کسی آدمی کی طاقت نہیں کہ اس سے باتیں کرے اللہ مگر اشارہ سے یا پردہ کے پیچھے سے یا بھیجے کوئی پیغام لانے والا پھر پہنچا دے اس کے حکم سے جو وہ چاہے1 تحقیق وہ سب سے اوپر ہے حکمتوں والاف 2

1 کوئی بشر اپنی عنصری ساخت اور موجودہ قویٰ کے اعتبار سے یہ طاقت نہیں رکھتا کہ خداوند قدوس اس دنیا میں اس کے سامنے ہو کر مشافہۃً کلام فرمائے اور وہ تحمل کرسکے۔ اسی لیے کسی بشر سے اس کے ہمکلام ہونے کی تین صورتیں ہیں (الف) بلاواسطہ پردہ کے پیچھے سے کلام فرمائے، یعنی نبی کی قوت سامعہ استماع کلام سے لذت اندوز ہو مگر اس حالت میں آنکھیں دولت دیدار سے متمتع نہ ہو سکیں۔ جیسے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو طور اور خاتم الانبیاء ﷺ کو لیلۃ الاسراء میں پیش آیا۔ (ب) بواسطہ فرشتہ کے حق تعالیٰ کلام فرمائے مگر فرشتہ متجسد ہو کر آنکھوں کے سامنے نہ آئے۔ بلکہ براہ راست نبی کے قلب پر نزول کرے اور قلب ہی سے ادراک فرشتہ کا اور صوت کا ہوتا ہو۔ جو اس ظاہرہ کو چنداں دخل نہ رہے۔ میرے خیال میں یہ صورت ہے جس کو عائشہ صدیقہ کی حدیث میں " یاتینی فی مثل صلصلۃ الجرس " سے تعبیر فرمایا ہے اور صحیح بخاری کے ابو اب بدء الخلق میں وحی کی اس صورت میں بھی اتیان ملک کی تصریح موجود ہے۔ اس کو حدیث میں " وہو اشدہ علی " فرمایا اور شاید وحی قرآنی بکثرت اسی صورت میں آتی ہو جیسا کہ " نزل بہ الروح الامین علی قلبک۔ " اور " فانہ نزلہ علی قلبک باذن اللہ " میں لفظ " قلبک " سے اشارہ ہوتا ہے۔ اور چونکہ یہ معاملہ بالکل پوشیدہ طور پر اندر ہی اندر ہوتا تھا پیغمبر کے وجود سے باہر کوئی علیحدہ ہستی نظر نہ آتی تھی اور نہ اس طرح کلام ہوتا تھا جیسے ایک آدمی دوسرے سے بات کرتا ہو کہ پاس بیٹھنے والے سامعین بھی سمجھ لیں اس لیے اس قسم کو خصوصیت کے ساتھ آیت ہذا میں لفظ " وحیا " سے تعبیر کیا۔ کیونکہ لغت میں " وحی " کا لفظ اخفاء اور اشارہ سریہ پر دلالت کرتا ہے۔ (ج) تیسری صورت یہ ہے کہ فرشتہ متجسد ہو کر نبی کے سامنے آجائے اور اس طرح خدا کا کلام و پیام پہنچا دے جیسے ایک آدمی دوسرے سے خطاب کرتا ہے۔ چناچہ حضرت جبرائیل ایک دو مرتبہ اپنی اصل صورت میں حضور ﷺ کے پاس آئے۔ اور اکثر مرتبہ حضرت دحیہ کلبی ؓ کی صورت میں آتے تھے۔ اور کبھی کسی غیر معروف آدمی کی شکل میں بھی تشریف لائے ہیں۔ اس وقت آنکھیں فرشتہ کو دیکھتیں اور کان ان کی آواز سنتے تھے اور پاس بیٹھنے والے بھی بعض اوقات گفتگو سنتے اور سمجھتے تھے۔ عائشہ صدیقہ کی حدیث میں جو دو قسمیں بیان ہوئی ہیں، ان میں سے یہ دوسری صورت ہے۔ اور میرے خیال اسی کو آیہ ہذا میں " اویرسل رسولًا فیوحی باذنہ مایشآئُ " سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔ باقی حجاب والی صورت چونکہ بالکل نادر بلکہ اندر تھی اس لیے عائشہ کی حدیث میں اس سے تعرض نہیں کیا گیا۔ 2 یعنی اس کا علو مانع ہے کہ بےحجابکلام کرے اور حکمت مقتضی ہے کہ بعض صورتیں ہم کلامی کی اختیار کی جائیں۔
Ayah 42:52

وَ كَذٰلِكَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا١ؕ مَا كُنْتَ تَدْرِیْ مَا الْكِتٰبُ وَ لَا الْاِیْمَانُ وَ لٰكِنْ جَعَلْنٰهُ نُوْرًا نَّهْدِیْ بِهٖ مَنْ نَّشَآءُ مِنْ عِبَادِنَا١ؕ وَ اِنَّكَ لَتَهْدِیْۤ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍۙ Open ayah 42:52 in the Quran reader

اور اسی طرح بھیجا ہم نے تیری طرف ایک فرشتہ اپنے حکم سے3 تو نہ جانتا تھا کہ کیا ہے کتاب اور نہ ایمان4 لیکن ہم نے رکھی ہے یہ روشنی اس سے راہ سجھا دیتے ہیں جس کو چاہیں اپنے بندوں میں5 اور بیشک تو سجھاتا ہے سیدھی راہ6

3 مترجم محقق قدس اللہ روحہ ' نے اس جگہ روح سے مراد فرشتہ لیا ہے۔ یعنی جبرائیل امین۔ اور یہ بعض مفسرین کی رائے ہے لیکن ظاہر یہ ہے کہ یہاں خود قرآن کریم کو روح سے تعبیر فرمایا کیونکہ اس کی تاثیر سے مردہ قلوب زندہ ہوتے ہیں۔ اور انسان کو ابدی حیات نصیب ہوتی ہے۔ دیکھ لو جو قومیں کفر و ظلم اور بداخلاقی کی موت مرچکی تھیں کس طرح قرآن نے ان میں جان تازہ ڈال دی۔ 4 یعنی ایمان اور اغمال ایمانیہ کی یہ تفاصیل جو بذریہ وحی اب معلوم ہوئیں پہلے سے کہاں معلوم تھیں۔ گو نفس ایمان کے ساتھ ہمیشہ سے متصف تھے۔ 5 یعنی قرآن کی روشنی میں جن بندوں کو ہم چاہیں سعادت و فلاح کے راستہ پر لے چلتے ہیں۔ 6 یعنی آپ تو سب بندوں کو قرآن کریم کے ذریعہ سے اللہ تک پہنچنے کی سیدھی راہ بتلاتے رہتے ہیں کوئی اس پر چلے یا نہ چلے۔
Ayah 42:53

صِرَاطِ اللّٰهِ الَّذِیْ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ اَلَاۤ اِلَى اللّٰهِ تَصِیْرُ الْاُمُوْرُ۠ Open ayah 42:53 in the Quran reader

راہ اللہ کی اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں اور زمین میں7 سنتا ہے اللہ ہی تک پہنچتے ہیں سب کام8

7 یعنی سیدھی راہ وہ جس پر چل کر آدمی خدائے واحد تک پہنچتا ہے۔ جو اس راہ سے بھٹکا خدا سے الگ ہوا۔ 8 یعنی جب سب کاموں کا انجام اسی کی طرف ہے تو چاہیے کہ آدمی شروع سے اس انجام کو سوچ لے اور اپنے اختیار سے ایسے راستہ پر چلے جو سیدھا اس کی بارگاہ تک پہنچنے والا ہو۔ اللہم اہدنا الصراط المستقیم وثبتنا علیہ۔ تم سورة الشوریٰ ۔