38. Surah Saad

صThe letter Saad · 88 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayah 38:41

وَ اذْكُرْ عَبْدَنَاۤ اَیُّوْبَ١ۘ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَسَّنِیَ الشَّیْطٰنُ بِنُصْبٍ وَّ عَذَابٍؕ Open ayah 38:41 in the Quran reader

اور یاد کر ہمارے بندے ایوب کو جب اس نے پکارا اپنے رب کو کہ مجھ کو لگا دی شیطان نے ایذا اور تکلیف2

2 قرآن کریم کے تتبع سے ظاہر ہوتا ہے کہ جن امور میں کوئی پہلو شر یا ایذاء کا یا کسی مقصد صحیح کے فوت ہونے کا ہو ان کو شیطان کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔ جیسے موسیٰ (علیہ السلام) کے قصہ میں آیا۔ " وما انسانیہ الا الشیطان ان اذکرہ " (کہف، رکوع 9) کیونکہ اکثر اس قسم کی چیزوں کا سبب قریب یا بعید کسی درجہ میں شیطان ہوتا ہے۔ اسی قاعدہ سے حضرت ایوب نے اپنی بیماری یا تکلیف یا آزار کی نسبت شیطان کی طرف کی گویا تواضعاً وتأدباً یہ ظاہر کیا کہ ضرور مجھ سے کچھ تساہل یا کوئی غلطی اپنے درجہ کے موافق صادر ہوئی ہے جس کے نتیجہ میں یہ آزار پیچھے لگا۔ یا حالت مرض و شدت میں شیطان القائے وساوس کی کوشش کرتا ہوگا اور یہ اس کی مدافعت میں تعب و تکلیف اٹھاتے ہوں گے۔ اس کو نصب و عذاب سے تعبیر فرمایا۔ واللہ اعلم۔ (تنبیہ) حضرت ایوب کا قصہ " سورة انبیاء " میں گزر چکا۔ وہاں ملاحظہ کرلیا جائے مگر واضح رہے کہ قصہ گویوں نے حضرت ایوب کی بیماری کے متعلق جو افسانے بیان کیے ہیں ان میں مبالغہ بہت ہے۔ ایسا مرض جو عام طور پر لوگوں کے حق میں تنفر اور استقدار کا موجب ہو انبیاء (علیہم السلام) کی وجاہت کے منافی ہے کما قال تعالیٰ (لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ اٰذَوْا مُوْسٰى فَبَرَّاَهُ اللّٰهُ مِمَّا قَالُوْا ۭ وَكَانَ عِنْدَ اللّٰهِ وَجِيْهًا) 33 ۔ الاحزاب :69) لہذا اسی قدر بیان قبول کرنا چاہیے جو منصب نبوت کے منافی نہ ہو۔
Ayahs 38:42–43

اُرْكُضْ بِرِجْلِكَ١ۚ هٰذَا مُغْتَسَلٌۢ بَارِدٌ وَّ شَرَابٌ Open ayah 38:42 in the Quran reader

لات مار اپنے پاؤں سے یہ چشمہ نکلا نہانے کو ٹھنڈا اور پینے کو

وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اَهْلَهٗ وَ مِثْلَهُمْ مَّعَهُمْ رَحْمَةً مِّنَّا وَ ذِكْرٰى لِاُولِی الْاَلْبَابِ Open ayah 38:43 in the Quran reader

اور بخشے ہم نے اس کو اس کے گھر والے اور ان کے برابر ان کے ساتھ اپنی طرف کی مہربانی سے اور یاد رکھنے کو عقل والوں کے3

3 جب اللہ نے چاہا کہ ان کو چنگا کرے، حکم دیا کہ زمین پہ پاؤں ماریں۔ پاؤں مارنا تھا کہ قدرت نے وہاں سے ٹھنڈے پانی کا چشمہ نکال دیا۔ اسی سے نہایا کرتے اور پانی پیتے۔ وہ ہی ان کی شفاء کا سبب ہوا۔ اور ان کے گھرانے کے لوگ جو چھت کے نیچے دب کر مرگئے تھے اللہ نے اپنی مہربانی سے ان سے دگنے عطا کیے تاعقلمند لوگ ان واقعات کو دیکھ کر سمجھیں کہ جو بندہ مصائب میں مبتلا ہو کر صبر کرتا اور خدائے واحد کی طرف رجوع ہوتا ہے حق تعالیٰ اس کی کس طرح کفالت و اعانت فرماتے ہیں۔
Ayah 38:44

وَ خُذْ بِیَدِكَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِّهٖ وَ لَا تَحْنَثْ١ؕ اِنَّا وَجَدْنٰهُ صَابِرًا١ؕ نِعْمَ الْعَبْدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ Open ayah 38:44 in the Quran reader

اور پکڑا اپنے ہاتھ میں سینکوں کا مٹھا پھر اس سے مارلے اور قسم میں جھوٹا نہ ہو4 ہم نے اس کو پایا جھیلنے والا بہت خوب بندہ تحقیق وہ ہے رجوع رہنے والا،

4 حضرت ایوب نے حالت مرض میں کسی بات پر خفا ہو کر قسم کھائی کہ تندرست ہوگئے تو اپنی عورت کو سو لکڑیاں ماریں گے۔ وہ بی بی اس حالت کی رفیق تھی اور چنداں قصور وار بھی نہ تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی مہربانی سے قسم سچی کرنے کا ایک حیلہ ان کو بتلا دیا جو ان ہی کے لیے مخصوص تھا۔ آج اگر کوئی اس طرح کی قسم کھا بیٹھے تو اس کے پورا کرنے کے لیے اتنی بات کافی نہ ہوگی (تنبیہ) جس حیلہ سے کسی حکم شرعی یا مقصد دینی کا ابطال ہوتا ہو وہ جائز نہیں۔ جیسے اسقاط زکوٰۃ وغیرہ کے حیلے لوگوں نے نکالے ہیں۔ ہاں جو حیلہ حکم شرعی کو باطل نہ کرے بلکہ کسی معروف کا ذریعہ بنتا ہو اس کی اجازت ہے۔ والتفصیل یطلب من مظانہ۔
Ayah 38:45

وَ اذْكُرْ عِبٰدَنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ اُولِی الْاَیْدِیْ وَ الْاَبْصَارِ Open ayah 38:45 in the Quran reader

اور یاد کر ہمارے بندوں کو ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب ہاتھوں والے اور آنکھوں والے5

5 یعنی عمل اور معرفت والے جو ہاتھ پاؤں سے بندگی کرتے اور آنکھوں سے خدا کی قدرتیں دیکھ کر یقین و بصیرت زیادہ کرتے ہیں۔
Ayah 38:46

اِنَّاۤ اَخْلَصْنٰهُمْ بِخَالِصَةٍ ذِكْرَى الدَّارِۚ Open ayah 38:46 in the Quran reader

ہم نے امتیاز دیا ان کو ایک چنی ہوئی بات کا وہ یاد اس گھر کی6

6 انبیاء کا امتیاز یہ ہے کہ ان کے برابر خدا کو اور آخرت کو یاد رکھنے والا کوئی نہیں۔ اسی خصوصیت کی وجہ سے اللہ کے ہاں ان کو سب سے ممتاز مرتبہ حاصل ہے۔
Ayahs 38:47–48

وَ اِنَّهُمْ عِنْدَنَا لَمِنَ الْمُصْطَفَیْنَ الْاَخْیَارِؕ Open ayah 38:47 in the Quran reader

اور وہ سب ہمارے نزدیک ہیں چنے ہوئے نیک لوگوں میں

وَ اذْكُرْ اِسْمٰعِیْلَ وَ الْیَسَعَ وَ ذَا الْكِفْلِ١ؕ وَ كُلٌّ مِّنَ الْاَخْیَارِؕ Open ayah 38:48 in the Quran reader

اور یاد کر اسماعیل کو اور الیسع کو اور ذوالکفل کو اور ہر ایک تھا خوبی والاف 7

7 حضرت اسماعیل اور ذوالکفل کا ذکر پہلے گزر چکا اور " الیسع " کہتے ہیں کہ حضرت الیاس کے خلیفہ تھے ان کو بھی اللہ نے نبوت عطا فرمائی۔
Ayah 38:49

هٰذَا ذِكْرٌ١ؕ وَ اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ لَحُسْنَ مَاٰبٍۙ Open ayah 38:49 in the Quran reader

یہ ایک مذکور ہوچکا8 اور تحقیق ڈر والوں کے لیے ہے اچھا ٹھکانا

8 یعنی یہ مذکور تو انبیاء کا تھا۔ آگے عام متقین کا انجام سن لو۔
Ayah 38:50

جَنّٰتِ عَدْنٍ مُّفَتَّحَةً لَّهُمُ الْاَبْوَابُۚ Open ayah 38:50 in the Quran reader

باغ ہیں سدا بسنے کے کھول رکھے ہیں ان کے واسطے دروازے9

9 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " جب بہشت میں داخل ہوں گے ہر کوئی بدون بتائے اپنے گھر میں چلا جائے گا۔ "
Ayah 38:51

مُتَّكِئِیْنَ فِیْهَا یَدْعُوْنَ فِیْهَا بِفَاكِهَةٍ كَثِیْرَةٍ وَّ شَرَابٍ Open ayah 38:51 in the Quran reader

تکیہ لگائے ہوئے بیٹھے ان میں منگوائیں گے ان میں میوے بہت اور شراب10

10 یعنی قسم قسم کے میوے، پھل اور پینے کی چیزیں حسب خواہش غلمان حاضر کریں گے۔
Ayah 38:52

وَ عِنْدَهُمْ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ اَتْرَابٌ Open ayah 38:52 in the Quran reader

اور ان کے پاس عورتیں ہیں نیچی نگاہ والیاں ایک عمر کی11

11 یعنی سب عورتیں نوجوان ایک عمر ہوں گی یا شکل و شمائل میں خوبو میں اپنے ازواج کی ہم عمر معلوم ہوں گی۔
Ayahs 38:53–54

هٰذَا مَا تُوْعَدُوْنَ لِیَوْمِ الْحِسَابِ Open ayah 38:53 in the Quran reader

یہ وہ ہے جو تم سے وعدہ کیا گیا حساب کے دن پر

اِنَّ هٰذَا لَرِزْقُنَا مَا لَهٗ مِنْ نَّفَادٍۚۖ Open ayah 38:54 in the Quran reader

یہ ہے روزی ہماری دی ہوئی اس کو نہیں نبڑنا1

1 یعنی غیر منقطع اور لازوال نعمتیں ہیں جن کا سلسلہ کبھی ختم نہ ہوگا۔ " رزقنا اللہ منہا یفضلہ وکرمہ فانہ اکرم الاکرمین وارحم الراحمین "
Ayah 38:55

هٰذَا١ؕ وَ اِنَّ لِلطّٰغِیْنَ لَشَرَّ مَاٰبٍۙ Open ayah 38:55 in the Quran reader

یہ سن چکے2 اور تحقیق شریروں کے واسطے ہے برا ٹھکانا

2 یعنی پرہیزگاروں کا انجام سن چکے۔ آگے شریروں کا انجام سن لو۔
Ayahs 38:56–57

جَهَنَّمَ١ۚ یَصْلَوْنَهَا١ۚ فَبِئْسَ الْمِهَادُ Open ayah 38:56 in the Quran reader

دوزخ ہے جس میں ان کو ڈالیں گے سو کیا بری آرام کرنے کی جگہ ہے

هٰذَا١ۙ فَلْیَذُوْقُوْهُ حَمِیْمٌ وَّ غَسَّاقٌۙ Open ayah 38:57 in the Quran reader

یہ ہے اب اس کو چکھیں3 گرم پانی اور پیپ4

3 یعنی لو ! یہ حاضر ہے۔ اب اس کا مزہ چکھیں۔ 4 " غساق " سے بعض نے کہا دوزخیوں کے زخموں کی پیپ اور ان کی آلائش مراد ہیں۔ جس میں سانپوں بچھوؤں کا زہر ملا ہوگا۔ اور بعض کے نزدیک " غساق " حد سے زیادہ ٹھنڈے پانی کو کہتے ہیں جس کے پینے سے سخت اذیت ہو۔ گویا " حمیم " کی پوری ضد۔ واللہ اعلم۔
Ayahs 38:58–60

وَّ اٰخَرُ مِنْ شَكْلِهٖۤ اَزْوَاجٌؕ Open ayah 38:58 in the Quran reader

اور کچھ اور اسی شکل کی طرح طرح کی چیزیں

هٰذَا فَوْجٌ مُّقْتَحِمٌ مَّعَكُمْ١ۚ لَا مَرْحَبًۢا بِهِمْ١ؕ اِنَّهُمْ صَالُوا النَّارِ Open ayah 38:59 in the Quran reader

یہ ایک فوج ہے دھنستی آرہی ہے تمہارے ساتھ جگہ نہ ملیو ان کو یہ ہیں گھسنے والے آگ میں

قَالُوْا بَلْ اَنْتُمْ١۫ لَا مَرْحَبًۢا بِكُمْ١ؕ اَنْتُمْ قَدَّمْتُمُوْهُ لَنَا١ۚ فَبِئْسَ الْقَرَارُ Open ayah 38:60 in the Quran reader

وہ بولے بلکہ تم ہی ہو کہ جگہ نہ ملیو تم کو تم ہی پیش لائے ہمارے یہ بلا سو کیا بری ٹھہرنے کی جگہ ہے5

5 یہ گفتگو دوزخیوں کی آپس میں ہوگی، جس وقت فرشتے ان کو یکے بعد دیگرے لا لا کر دوزخ کے کنارے پر جمع کریں گے۔ پہلا گروہ سرداروں کا ہوگا بعدہ ان کے مقلدین و اتباع کی جماعت آئے گی۔ اس کو دور سے آتے ہوئے دیکھ کر پہلے لوگ کہیں گے کہ لو ! یہ ایک اور فوج دھنستی اور کھپتی ہوئی تمہارے ساتھ دوزخ میں گرنے کے لیے چلی آرہی ہے۔ خدا کی مار ان پر۔ یہ بھی یہیں آکر مرنے کو تھے۔ خدا کرے ان کو کہیں کشادہ جگہ نہ ملے۔ اس پر وہ جواب دیں گے کہ کم بختو ! تمہی پر خدا کی مار ہو خدا تم کو ہی کہیں آرام کی جگہ نہ دے، تم ہی تھے جن کے اغواء واضلال کی بدولت آج ہم کو یہ مصیبت پیش آئی۔ اب بتاؤ کہاں جائیں۔ جو کچھ ہے یہی جگہ ٹھہرنے کی ہے جس طرح ہو یہاں ہی سب مرو کھپو۔
Ayah 38:61

قَالُوْا رَبَّنَا مَنْ قَدَّمَ لَنَا هٰذَا فَزِدْهُ عَذَابًا ضِعْفًا فِی النَّارِ Open ayah 38:61 in the Quran reader

وہ بولے اے رب ہمارے جو کوئی لایا ہمارے پیش یہ سو بڑھا دے اس کو دونا عذاب آگ میں6

6 یعنی آپس میں لعن طعن کر کے پھر حق تعالیٰ سے عرض کریں گے کہ اے پروردگار ! جو اپنی شقاوت سے یہ بلا اور مصیبت ہمارے سر پر لایا۔ اس کو دوزخ میں دوگنا عذاب دیجئے۔ شاید سمجھیں گے کہ ان کا دگنا عذاب دیکھ کر ذرا دل ٹھنڈا ہوجائے گا۔ حالانکہ وہاں تسلی کا سامان کہاں ؟ ایک دوسرے کو کیا سنا اور پھٹکارنا یہ بھی ایک مستقل عذاب ہوگا۔
Ayahs 38:62–63

وَ قَالُوْا مَا لَنَا لَا نَرٰى رِجَالًا كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِّنَ الْاَشْرَارِؕ Open ayah 38:62 in the Quran reader

اور کہیں گے کیا ہوا کہ ہم نہیں دیکھتے ان مردوں کو کہ ہم ان کو شمار کرتے تھے برے لوگوں میں

اَتَّخَذْنٰهُمْ سِخْرِیًّا اَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الْاَبْصَارُ Open ayah 38:63 in the Quran reader

کیا ہم نے ان کو ٹھٹھے میں پکڑا تھا یا چوک گئیں ان سے ہماری آنکھیں7

7 وہاں دیکھیں گے کہ سب جان پہچان والے لوگ ادنیٰ و اعلیٰ دوزخ میں جانے کے واسطے جمع ہوئے ہیں۔ مگر جن مسلمانوں کو پہچانتے تھے اور سب سے زیادہ برا جان کر مذاق اڑایا کرتے تھے وہ اس جگہ نظر نہیں آتے، تو حیران ہو کر کہیں گے کہ کیا ہم نے غلطی سے ان کے ساتھ ٹھٹھا کیا تھا وہ اس قابل نہ تھے کہ آج دوزخ کے نزدیک رہیں، یا اسی جگہ کہیں ہیں پر ہماری آنکھیں چوک گئیں۔ ہمارے دیکھنے میں آتے۔
Ayah 38:64

اِنَّ ذٰلِكَ لَحَقٌّ تَخَاصُمُ اَهْلِ النَّارِ۠ Open ayah 38:64 in the Quran reader

یہ بات ٹھیک ہونی ہے جھگڑا کرنا آپس میں دوزخیوں کا8

8 یعنی بظاہر یہ بات خلاف قیاس ہے کہ اس افراتفری میں ایک دوسرے سے جھگڑیں۔ عذاب کا ہولناک منظر کیسے دوسری طرف متوجہ رہنے دے گا۔ لیکن یاد رکھو ! ایسا ہو کر رہے گا۔ یہ بالکل یقینی چیز ہے جس میں شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔ اور حقیقت میں یہ ان کے عذاب کی تکمیل ہے۔
Ayahs 38:65–66

قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا مُنْذِرٌ١ۖۗ وَّ مَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّا اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُۚ Open ayah 38:65 in the Quran reader

تو کہہ میں تو یہی ہوں ڈر سنا دینے والا اور حکم کوئی نہیں مگر اللہ اکیلا دباؤ والا

رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا الْعَزِیْزُ الْغَفَّارُ Open ayah 38:66 in the Quran reader

رب آسمانوں کا اور زمین کا اور جو ان کے بیچ میں ہے زبردست گناہ بخشنے والاف 9

9 میرا کام تو اتنا ہی ہے کہ تم کو اس آنے والی خوفناک گڑھے سے ہوشیار کر دوں اور جو بھیانک مستقبل آنے والا ہے اس سے بیخبر نہ رہنے دوں۔ باقی سابقہ جس حاکم سے پڑنے والا ہے وہ تو وہ ہی اکیلا خدا ہے جس کے سامنے کوئی چھوٹا بڑا دم نہیں مار سکتا۔ ہر چیز اس کے آگے دبی ہوئی ہے۔ آسمان و زمین اور ان کے درمیان کوئی چیز نہیں جو اس کے زیر تصرف نہ ہو۔ جب تک چاہے ان کو قائم رکھے جب چاہے توڑ پھوڑ کر برابر کر دے۔ اس عزیز و غالب کا ہاتھ کون پکڑ سکتا ہے۔ اس کے زبردست قبضہ سے کون نکل کر بھاگ سکتا ہے اور ساتھ ہی اس کی لامحدود و رحمت و بخشش کو کس کی مجال ہے، محدود کر دے۔
Ayahs 38:67–68

قُلْ هُوَ نَبَؤٌا عَظِیْمٌۙ Open ayah 38:67 in the Quran reader

تو کہہ یہ ایک بڑی خبر ہے

اَنْتُمْ عَنْهُ مُعْرِضُوْنَ Open ayah 38:68 in the Quran reader

کہ تم اس کو دھیان میں نہیں لاتے10

10 یعنی قیامت اور اس کے احوال کوئی معمولی چیز نہیں۔ بڑی بھاری اور یقینی خبر ہے جو میں تم کو دے رہا ہوں (عَنِ النَّبَاِ الْعَظِيْمِ ۝ ۙ الَّذِيْ هُمْ فِيْهِ مُخْـتَلِفُوْنَ ۝ۭ ) 78 ۔ النبأ :2-1) مگر افسوس ہے کہ تم اس کی طرف سے بالکل بےفکر ہو۔ جو کچھ تمہاری خیر خواہی کو کہا جاتا ہے دھیان نہیں لاتے۔ بلکہ الٹا مذاق اڑاتے ہو کہ کب آئے گی۔ کیونکر آئے گی اور اتنی دیر کیوں ہی ہو رہی ہے اسے جلد کیوں نہیں بلا لیتے۔ وغیرہ ذالک۔
Ayahs 38:69–70

مَا كَانَ لِیَ مِنْ عِلْمٍۭ بِالْمَلَاِ الْاَعْلٰۤى اِذْ یَخْتَصِمُوْنَ Open ayah 38:69 in the Quran reader

مجھ کو کچھ خبر نہ تھی اوپر کی مجلس کی جب وہ آپس میں تکرار کرتے ہیں

اِنْ یُّوْحٰۤى اِلَیَّ اِلَّاۤ اَنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 38:70 in the Quran reader

مجھ کو تو یہی حکم آتا ہے کہ اور کچھ نہیں میں تو ڈر سنا دینے والا ہوں کھول کر11

11 ملاء اعلیٰ (اوپر کی مجلس) ملائکہ مقربین وغیرہم کی مجلس ہے جن کے توسط سے تدابیر الٰہیہ اور تصریفات کونیہ ظہور پذیر ہوتی ہیں۔ یعنی ملاء اعلیٰ میں نظام عالم کے فناء وبقاء کے متعلق جو تدبیریں یا بحثیں اور قیل و قال ہوتی ہے۔ مجھے اس کی کیا خبر تھی جو تم سے بیان کرتا۔ اللہ تعالیٰ نے جن اجزاء پر مطلع فرما دیا وہ بیان کردیے۔ جو کچھ کہتا ہوں اسی کی وحی و اعلام سے کہتا ہوں۔ مجھ کو یہ ہی حکم ملا ہے کہ سب کو اس آنے والے خوفناک مستقبل سے خوب کھول کھول کر آگاہ کروں۔ رہا یہ کہ وہ وقت کب آئے گا اور قیامت کب قائم ہوگی ؟ نہ اندازے کے لیے اس کی ضرورت ہے نہ اس کی اطلاع کسی کو دی گئی ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ چند انبیاء (علیہم السلام) کے ایک اجتماع میں قیامت کا ذکر چلا کہ کب آئے گی سب نے حضرت ابراہیم پر حوالہ کیا انہوں نے فرمایا کہ مجھے علم نہیں۔ پھر سب نے حضرت موسیٰ پر حوالہ کیا ان کی طرف سے بھی وہ ہی جواب ملا۔ آخر سب نے حضرت مسیح (علیہ السلام) کی طرف رجوع کیا فرمایا " وجہ الساعۃ " (عین قیامت کے وقوع کی گھڑی) تو مجھے بھی معلوم نہیں البتہ حق تعالیٰ نے مجھ سے یہ وعدہ کیا ہے الخ اور ایک حدیث میں ہے کہ حضرت موسیٰ نے حضرت جبرائیل سے قیامت کے آنے کا وقت دریافت کیا۔ فرمایا۔ " ما المسؤول عنہا باعلم من السائل " یعنی میں تم سے زیادہ نہیں جانتا۔ معلوم ہوا کہ ملاء الاعلیٰ میں قیامت کے متعلق اس قسم کی کچھ بحث و تکرار رہتی ہے۔ اور اس کے علاوہ اور بہت مسائل ہیں جن میں ایک طرح کی تکرار اور قیل و قال ہوتی ہے۔ جیسا کہ ایک حدیث میں اللہ تعالیٰ کا آپ سے کئی مرتبہ سوال کرنا۔ " فیم یختصم الملاء الاعلی " اور آپ کا جواب دینا مذکور ہے۔ مگر وہاں کے مباحثات کا علم بجز وحی الٰہی کے اور کس طرح ہوسکتا ہے۔ یہ ہی ذریعہ ہے جس سے اہل نار کے تخاصم پر آپ کو اطلاع ہوئی۔ اسی سے ملاء الاعلیٰ کے اختصام کی خبر لگی اور جو تخاصم ابلیس کا آدم کے معاملہ میں ہوا جس کا ذکر آگے آتا ہے وہ بھی اسی ذریعہ سے معلوم ہوا۔
Ayah 38:71

اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اِنِّیْ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنْ طِیْنٍ Open ayah 38:71 in the Quran reader

جب کہا تیرے رب نے فرشتوں کو میں بناتا ہوں ایک انسان مٹی کا1

1 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " ایک یہ بھی تکرار تھی فرشتوں کی جو بیان فرمایا۔ "
Ayah 38:72

فَاِذَا سَوَّیْتُهٗ وَ نَفَخْتُ فِیْهِ مِنْ رُّوْحِیْ فَقَعُوْا لَهٗ سٰجِدِیْنَ Open ayah 38:72 in the Quran reader

پھر جب ٹھیک بنا چکوں اور پھونکوں اس میں ایک اپنی جان2 تو تم گر پڑو اس کے آگے سجدہ میں

2 یعنی ڈھانچہ ٹھیک تیار کر کے اپنی طرف سے ایک روح پھونکوں۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " کہ " روحی " (اپنی جان) اس لیے فرمایا کہ آب و خاک سے نہیں بنی۔ عالم غیب سے آئی۔ " کچھ مضمون روح کے متعلق سورة " بنی اسرائیل " میں گزرا ہے۔ وہاں روح کی اس اضافت پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ ملاحظہ کرلیا جائے۔
Ayahs 38:73–74

فَسَجَدَ الْمَلٰٓئِكَةُ كُلُّهُمْ اَجْمَعُوْنَۙ Open ayah 38:73 in the Quran reader

پھر سجدہ کیا فرشتوں نے سب نے اکٹھے ہو کر

اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ اِسْتَكْبَرَ وَ كَانَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 38:74 in the Quran reader

مگر ابلیس نے3 غرور کیا اور تھا وہ منکروں میں4

3 یہ قصہ سورة " بقرہ "، " اعراف " وغیرہ کئی سورتوں میں گزر چکا اعراف کے فوائد میں ہم نے مفصل بحث کی ہے اسے ایک مرتبہ دیکھ لیا جائے۔ 4 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " یہ (ابلیس اصل سے) جن تھا جو اکثر خدا کے حکم سے منکر ہے۔ لیکن اب (اپنی کثرت عبادت وغیرہ کے سبب سے) رہنے لگا تھا فرشتوں میں۔ "
Ayah 38:75

قَالَ یٰۤاِبْلِیْسُ مَا مَنَعَكَ اَنْ تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِیَدَیَّ١ؕ اَسْتَكْبَرْتَ اَمْ كُنْتَ مِنَ الْعَالِیْنَ Open ayah 38:75 in the Quran reader

فرمایا اے ابلیس کس چیز نے روک دیا تجھ کو کہ سجدہ کرے اس کو جس کو میں نے بنایا اپنے دونوں ہاتھوں سے5 یہ تو نے غرور کیا یا تو بڑا تھا درجہ میں6

5 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " یعنی بدن کو ظاہر کے ہاتھ سے اور روح کو غیب (باطن) کے ہاتھ سے۔ اللہ غیب کی چیزیں ایک طرح کی قدرت سے اور ظاہر کی چیزیں دوسری طرح کی قدرت سے بناتا ہے اس انسان میں دونوں طرح کی قدرت خرچ کی۔ " ( سورة " مائدہ " میں پارہ ششم کے ختم کے قریب "ۘبَلْ يَدٰهُ مَبْسُوْطَتٰنِ ۙ يُنْفِقُ كَيْفَ يَشَاۗءُ " کا فائدہ ملاحظہ کرلیا جائے) ہمارے نزدیک اللہ تعالیٰ کی نعوت وصفات میں سلف کا مسلک ہی اقوی و احوط ہے۔ 6 یا جان بوجھ کر اپنے کو بڑا بنانا چاہا۔ یا واقعے میں تو اپنا مرتبہ ہی اونچا سمجھتا ہے۔
Ayah 38:76

قَالَ اَنَا خَیْرٌ مِّنْهُ١ؕ خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَّارٍ وَّ خَلَقْتَهٗ مِنْ طِیْنٍ Open ayah 38:76 in the Quran reader

بولا میں بہتر ہوں اس سے مجھ کو بنایا تو نے آگ سے اور اس کو بنایا مٹی سے7

7 سورة اعراف میں اس کا بیان گزر چکا۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ آگ ہے گرم پر جوش اور مٹی سرد ہے خاموش۔ ابلیس نے آگ کو اچھا سمجھا اللہ نے اس مٹی کو پسند رکھا۔ "
Ayah 38:77

قَالَ فَاخْرُجْ مِنْهَا فَاِنَّكَ رَجِیْمٌۚۖ Open ayah 38:77 in the Quran reader

فرمایا تو تو نکل یہاں سے کہ تو مردود ہوا8

8 یعنی بہشت میں فرشتوں کی صحبت میں جانا تھا۔ اب نکالا گیا۔
Ayah 38:78

وَّ اِنَّ عَلَیْكَ لَعْنَتِیْۤ اِلٰى یَوْمِ الدِّیْنِ Open ayah 38:78 in the Quran reader

اور تجھ پر میری پھٹکار ہے اس جزا کے دن تک9

9 یعنی اس وقت تک تیرے اعمال کی بدولت پھٹکار بڑھتی جائے گی۔ بعدہ کیا ہوگا ؟ اس کا تو پوچھنا ہی کیا ہے۔ آگے آتا ہے " لَاَمْلَــــَٔنَّ جَهَنَّمَ مِنْكَ وَمِمَّنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ اَجْمَعِيْنَ " وہاں جو لعنت ہوگی یہاں کی لعنتیں اس کے سامنے گرد ہوجائیں گی۔
Ayah 38:79

قَالَ رَبِّ فَاَنْظِرْنِیْۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 38:79 in the Quran reader

بولا اے رب مجھ کو ڈھیل دے جس دن تک کہ مردے جی اٹھیں10

10 یعنی صور کے دوسرے نفخہ تک۔