36. Surah Yaseen

يسYaseen · 83 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayahs 36:41–42

وَ اٰیَةٌ لَّهُمْ اَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّیَّتَهُمْ فِی الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ Open ayah 36:41 in the Quran reader

اور ایک نشانی ہے ان کے واسطے کہ ہم نے اٹھا لیا ان کی نسل کو اس بھری ہوئی کشتی میں

وَ خَلَقْنَا لَهُمْ مِّنْ مِّثْلِهٖ مَا یَرْكَبُوْنَ Open ayah 36:42 in the Quran reader

اور بنادیا ہم نے ان کے واسطے کشتی جیسی چیزوں کو جس پر سوار ہوتے ہیں8

8 یعنی حضرت نوح کے زمانہ میں جب طوفان آیا تو آدم کی نسل کو اس بھری ہوئی کشتی پر سوار کرلیا جو حضرت نوح نے بنائی تھی۔ ورنہ انسان کا تخم باقی نہ رہتا۔ پھر اسی کشتی کے نمونہ کی دوسری کشتیاں اور جہاز تمہارے لیے بنا دیے جن پر تم آج تک لدے پھرتے ہو۔ یا کشتیوں جیسی دوسری سواریاں پیدا کردیں جس پر سوار ہوتے ہو۔ مثلاً اونٹ، جن کو عرب " سفائن البر " (خشکی کی کشتیاں) کہا کرتے تھے۔
Ayahs 36:43–44

وَ اِنْ نَّشَاْ نُغْرِقْهُمْ فَلَا صَرِیْخَ لَهُمْ وَ لَا هُمْ یُنْقَذُوْنَۙ Open ayah 36:43 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہیں تو ان کو ڈبا دیں، پھر کوئی نہ پہنچے ان کی فریاد کو اور نہ چھڑائے جائیں

اِلَّا رَحْمَةً مِّنَّا وَ مَتَاعًا اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 36:44 in the Quran reader

مگر ہم اپنی مہربانی سے اور ان کا کام چلانے کو ایک وقت تک9

9 یعنی یہ مشت استخواں انسان ! دیکھو کیسے خوفناک سمندروں کو کشتی کے ذریعہ عبور کرتا ہے۔ جہاں بڑے بڑے جہازوں کی حقیقت ایک تنکے کے برابر نہیں۔ اگر اللہ اس وقت غرق کرنا چاہے تو کون بچا سکتا ہے اور کون ہے جو فریاد کو پہنچے۔ مگر یہ اس کی مہربانی اور مصلحت ہے کہ اس طرح سب بحری سواریوں کو غرق نہیں کردیتا۔ کیونکہ اس کی رحمت و حکمت مقتضی ہے کہ ایک معین وقت تک دنیا کا کام چلتا رہے۔ افسوس ہے کہ بہت لوگ ان نشانیوں کو نہیں سمجھتے نہ اس کی نعمتوں کو قدر کرتے ہیں۔
Ayahs 36:45–46

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اتَّقُوْا مَا بَیْنَ اَیْدِیْكُمْ وَ مَا خَلْفَكُمْ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 36:45 in the Quran reader

اور جب کہیے ان کو بچو اس سے جو تمہارے سامنے آتا ہے اور جو پیچھے چھوڑتے ہو شاید تم پر رحم ہو

وَ مَا تَاْتِیْهِمْ مِّنْ اٰیَةٍ مِّنْ اٰیٰتِ رَبِّهِمْ اِلَّا كَانُوْا عَنْهَا مُعْرِضِیْنَ Open ayah 36:46 in the Quran reader

اور کوئی حکم نہیں پہنچتا ان کو اپنے رب کے حکموں سے جس کو وہ ٹلاتے نہ ہوں1

1 سامنے آتا ہے جزاء کا دن اور پیچھے چھوڑے اپنے اعمال یعنی جب کہا جاتا ہے کہ قیامت کی سزا اور بداعمالیوں کی شامت سے بچنے کی فکر کرو تاکہ خدا کی رحمت تمہاری طرف متوجہ ہو تو نصیحت پر ذرا کان نہیں دھرتے۔ ہمیشہ خدائی احکام سے روگردانی کرتے رہتے ہیں۔
Ayah 36:47

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ١ۙ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنُطْعِمُ مَنْ لَّوْ یَشَآءُ اللّٰهُ اَطْعَمَهٗۤ١ۖۗ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 36:47 in the Quran reader

اور جب کہئے ان کو خرچ کرو کچھ اللہ کا دیا کہتے ہیں منکر ایمان والوں کو ہم کیوں کھلائیں ایسے کو کہ اللہ چاہتا تو اس کو کھلا دیتا2 تم لوگ تو بالکل بہک رہے ہو صریح3

2 یعنی اور احکام الٰہی تو کیا مانتے، فقیروں مسکینوں پر خرچ کرنا تو ان کے نزدیک بھی کار ثواب ہے لیکن یہ ہی مسلم بات جب پیغمبر اور مومنین کی طرف سے کہی جاتی ہے تو نہایت بھونڈے طریقہ سے تمسخر کے ساتھ یہ کہہ کر اس کا انکار کردیتے ہیں کہ جنہیں خود اللہ میاں نے کھانے کو نہیں دیا ہم انہیں کیوں کھلائیں۔ ہم تو اللہ کی مشیت کے خلاف کرنا نہیں چاہتے اگر اس کی مشیت ہوتی تو ان کو فقیر و محتاج اور ہمیں غنی و تونگر نہ بناتا۔ خیال کرو اس حماقت اور بےحیائی کا کیا ٹھکانہ ہے۔ کیا خدا کسی کو دینا چاہے تو اس کی یہ ہی ایک صورت ہے کہ خود بلا واسطہ رزق اس کے ہاتھ پر رکھ دے۔ اگر وسائط سے دلانا بھی اس کی مشیت سے ہے تو تم نے یہ فیصلہ کیسے کرلیا کہ اللہ ان کو روٹی دینا نہیں چاہتا۔ یہ تو اس کا امتحان ہے کہ اغنیا کو فقراء کی اعانت پر مامور فرمایا اور ان کے توسط سے رزق پہنچانے کا سامان کیا جو اس امتحان میں ناکامیاب رہا اسے اپنی بدبختی اور شقاوت پر رونا چاہیے۔ (تنبیہ) بعض سلف کے اقوال سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیات بعض زنادقہ کے حق میں ہیں۔ اس صورت میں ان کے اس قول کو تمسخر پر حمل نہ کیا جائے گا بلکہ حقیقت پر رکھینگے۔ 3 اگر یہ جملہ کفار کے قول کا تتمہ ہے تو مطلب یہ ہوگا کہ اے گروہ مومنین ! تم صریح گمراہی میں پڑے ہو۔ ایسے لوگوں کا پیٹ بھرنا چاہتے ہو جن کا خدا پیٹ بھرنا نہیں چاہتا۔ لیکن ظاہر یہ ہے کہ یہ حق تعالیٰ کی طرف سے ان کفار کو خطاب ہے کہ کس قدر بہکی بہکی باتیں کرتے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " یہ گمراہی ہے نیک کام میں تقدیر کے حوالے کرنا اور اپنے مزے میں لالچ پر دوڑنا۔ "
Ayah 36:48

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 36:48 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کب ہوگا یہ وعدہ اگر تم سچے ہو4

4 یعنی یہ قیامت اور عذاب کی دھمکیاں کب پوری ہوں گی۔ اگر سچے ہو تو جلد پوری کر کے دکھلا دو ۔
Ayahs 36:49–50

مَا یَنْظُرُوْنَ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً تَاْخُذُهُمْ وَ هُمْ یَخِصِّمُوْنَ Open ayah 36:49 in the Quran reader

یہ تو راہ دیکھتے ہیں ایک چنگھاڑ کی جو ان کو آپکڑے گی جب آپس میں جھگڑ رہے ہونگے

فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ تَوْصِیَةً وَّ لَاۤ اِلٰۤى اَهْلِهِمْ یَرْجِعُوْنَ۠ Open ayah 36:50 in the Quran reader

پھر نہ کرسکیں گے کہ کچھ کہہ ہی مریں اور نہ اپنے گھر کو پھر کر جاسکیں گے5

5 یعنی قیامت ناگہاں آپکڑے گی اور وہ اپنے معاملات میں غرق ہوں گے۔ جس وقت پہلا صور پھونکا جائے گا سب ہوش و حواس جاتے رہیں گے اور آخر مر کر ڈھیر ہوجائیں گے۔ اتنی فرصت بھی نہ ملے گی کہ فرض کرو مرنے سے پہلے کسی کو کچھ کہنا چاہیں تو کہہ گزریں یا جو گھر سے باہر تھے وہ گھر واپس جاسکیں۔
Ayah 36:51

وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَاِذَا هُمْ مِّنَ الْاَجْدَاثِ اِلٰى رَبِّهِمْ یَنْسِلُوْنَ Open ayah 36:51 in the Quran reader

اور پھونکی جائے صور پھر تبھی وہ قبروں سے اپنے رب کی طرف پھیل پڑیں گے6

6 یعنی دوسری مرتبہ صور پھونکا جائے گا تو سب زندہ ہو کر اپنی قبروں سے اٹھ کھڑے ہوں گے اور فرشتے ان کو جلد جلد دھکیل کر میدان حشر میں لے جائیں گے۔
Ayah 36:52

قَالُوْا یٰوَیْلَنَا مَنْۢ بَعَثَنَا مِنْ مَّرْقَدِنَا١ؐٚۘ هٰذَا مَا وَعَدَ الرَّحْمٰنُ وَ صَدَقَ الْمُرْسَلُوْنَ Open ayah 36:52 in the Quran reader

کہیں گے اے خرابی ہماری کس نے اٹھا دیا ہم کو ہماری نیند کی جگہ سے7 یہ وہ ہے جو وعدہ کیا تھا رحمان نے اور سچ کہا تھا پیغمبروں نے8

7 شاید نفخہ اولی اور نفخہ ثانیہ کے درمیان ان پر نیند کی حالت طاری کردی جائے۔ یا قیامت کا ہولناک منظر دیکھ کر عذاب قبر کو اہوں سمجھیں گے اور نیند سے تشبیہ دیں گے۔ یا " مرقد " بمعنی " مضجع " کے ہو۔ نیند کی کیفیت سے تجرید کرلی جائے۔ واللہ اعلم۔ 8 یہ جواب اللہ کی طرف سے اس وقت ملے گا یا مستقبل کو حاضر قرار دے کر اب جواب دے رہے ہیں۔ یعنی کیا پوچھتے ہو کس نے اٹھا دیا۔ ذرا آنکھیں کھولو۔ یہ وہ ہی اٹھانا ہے جس کا وعدہ خدائے رحمان کی طرف سے کیا گیا تھا اور پیغمبر جس کی خبر برابر دیتے رہے تھے۔
Ayah 36:53

اِنْ كَانَتْ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً فَاِذَا هُمْ جَمِیْعٌ لَّدَیْنَا مُحْضَرُوْنَ Open ayah 36:53 in the Quran reader

بس ایک چنگھاڑ ہوگی پھر اسی دم وہ سارے ہمارے پاس پکڑے چلے آئیں9

9 یعنی کوئی متنفس نہ بھاگ سکے گا نہ روپوش ہو سکے گا۔
Ayah 36:54

فَالْیَوْمَ لَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْئًا وَّ لَا تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 36:54 in the Quran reader

پھر آج کے دن ظلم نہ ہوگا کسی جی پر ذرا اور وہی بدلہ پاؤ گے جو کرتے تھے10

10 یعنی نہ کسی کی نیکی ضائع ہوگی نہ جرم کی حیثیت سے زیادہ سزا ملے گی۔ ٹھیک ٹھیک انصاف ہوگا اور جو نیک و بد کرتے تھے فی الحقیقت عذاب وثواب کی صورت میں وہ ہی سامنے آجائے گا۔
Ayahs 36:55–57

اِنَّ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ الْیَوْمَ فِیْ شُغُلٍ فٰكِهُوْنَۚ Open ayah 36:55 in the Quran reader

تحقیق بہشت کے لوگ آج ایک مشغلہ میں ہیں باتیں کرتے

هُمْ وَ اَزْوَاجُهُمْ فِیْ ظِلٰلٍ عَلَى الْاَرَآئِكِ مُتَّكِئُوْنَ Open ayah 36:56 in the Quran reader

وہ اور ان کی عورتیں سایوں میں تختوں پر بیٹھے ہیں تکیہ لگائے

لَهُمْ فِیْهَا فَاكِهَةٌ وَّ لَهُمْ مَّا یَدَّعُوْنَۚۖ Open ayah 36:57 in the Quran reader

ان کے لئے وہاں ہے میوہ اور ان کے لیے ہے جو کچھ مانگیں1

1 بہشت میں ہر قسم کے عیش و نشاط کا سامان ہوگا۔ دنیا کی مکروہات سے چھوٹ کر آج یہ ہی ان کا مشغلہ ہوگا۔ وہ اور ان کی عورتیں آپس میں گھل مل کر اعلیٰ درجہ کے خوشگوار سایوں میں مسہریوں پر آرام کر رہے ہوں گے۔ ہمہ قسم کے میوے اور پھل وغیرہ ان کے لیے حاضر ہوں گے۔ بس خلاصہ یہ ہے کہ جس چیز کی جنتیوں کے دل میں طلب اور تمنا ہوگی وہ ہی دی جائے گی، اور منہ مانگی مرادیں ملیں گی۔ یہ تو جسمانی لذائذ کا حال ہوا، آگے روحانی نعمتوں کی طرف " سلام قولا من رب رحیم " سے اک ذرا سا اشارہ فرماتے ہیں۔
Ayah 36:58

سَلٰمٌ١۫ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِیْمٍ Open ayah 36:58 in the Quran reader

سلام بولنا ہے رب مہربان سے2

2 یعنی اس مہربان پروردگار کی طرف سے جنتیوں کو سلام بولا جائے گا خواہ فرشتوں کے ذریعہ سے یا جیسا کہ ابن ماجہ کی ایک روایت میں ہے بلاواسطہ خود رب کریم سلام ارشاد فرمائیں گے اس وقت کی عزت و لذت کا کیا کہنا۔ اللہم ارقنا ھذہ النعمۃ العظمی بحرمتہ نبیک محمد ﷺ ۔
Ayah 36:59

وَ امْتَازُوا الْیَوْمَ اَیُّهَا الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 36:59 in the Quran reader

اور تم الگ ہوجاؤ آج اے گناہ گارو3

3 یعنی جنتیوں کے عیش و آرام میں تمہارا کوئی حصہ نہیں۔ تمہارا مقام دوسرا ہے جہاں رہنا ہوگا۔
Ayahs 36:60–61

اَلَمْ اَعْهَدْ اِلَیْكُمْ یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ اَنْ لَّا تَعْبُدُوا الشَّیْطٰنَ١ۚ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 36:60 in the Quran reader

میں نے نہ کہہ رکھا تھا تم کو اے آدم کی اولاد کہ نہ پوجیو شیطان کو وہ کھلا دشمن ہے تمہارا

وَّ اَنِ اعْبُدُوْنِیْ١ؔؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ Open ayah 36:61 in the Quran reader

اور یہ کہ پوجو مجھ کو یہ راہ ہے سیدھی4

4 یعنی اسی دن کے لیے تم کو انبیاء (علیہم السلام) کی زبانی بار بار سمجھایا گیا کہ شیطان لعین کی پیروی مت کرنا جو تمہارا صریح دشمن ہے وہ جہنم میں پہنچائے بغیر نہ چھوڑے گا۔ اگر ابدی نجات چاہتے ہو تو یہ سیدھی راہ پڑی ہوئی ہے اس پر چلے آؤ اور اکیلے ایک خدا کی پرستش کرو۔
Ayahs 36:62–64

وَ لَقَدْ اَضَلَّ مِنْكُمْ جِبِلًّا كَثِیْرًا١ؕ اَفَلَمْ تَكُوْنُوْا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 36:62 in the Quran reader

اور وہ بہکالے گیا تم میں سے بہت خلقت کو پھر کیا تم کو سمجھ نہ تھی

هٰذِهٖ جَهَنَّمُ الَّتِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ Open ayah 36:63 in the Quran reader

یہ دوزخ ہے جس کا تم کو وعدہ تھا

اِصْلَوْهَا الْیَوْمَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ Open ayah 36:64 in the Quran reader

جا پڑو اس میں آج کے دن بدلہ اپنے کفر کا5

5 یعنی افسوس اتنی نصیحت و فہمائش پر بھی تم کو عقل نہ آئی اور اس ملعون نے ایک خلقت کو گمراہ کر چھوڑا کیا تمہیں اتنی سمجھ نہ تھی کہ دوست دشمن میں تمیز کرسکتے۔ اور اپنے نفع و نقصان کو پہچانتے۔ دنیا کے کاموں میں تو اس قدر ہوشیاری اور ذہانت دکھلاتے تھے مگر آخرت کے معاملہ میں اتنے غبی بن گئے کہ موٹی موٹی باتوں کے سمجھنے کی لیاقت نہ رہی۔ اب اپنی حماقتوں کا خمیازہ بھگتو۔ یہ دوزخ تیار ہے جس کا بصورت کفر اختیار کرنے کے تم سے وعدہ کیا گیا تھا۔ کفر کا ٹھکانہ یہ ہی ہے۔ چاہیے کہ اپنے ٹھکانے پر پہنچ جاؤ۔
Ayah 36:65

اَلْیَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰۤى اَفْوَاهِهِمْ وَ تُكَلِّمُنَاۤ اَیْدِیْهِمْ وَ تَشْهَدُ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 36:65 in the Quran reader

آج ہم مہر لگا دیں گے ان کے منہ پر اور بولیں گے ہم سے ان کے ہاتھ اور بتلائیں گے ان کے پاؤں جو کچھ وہ کماتے تھے6

6 یعنی آج اگر یہ لوگ اپنے جرموں کا زبان سے اعتراف نہ بھی کریں تو کیا ہوتا ہے، ہم منہ پر مہر لگا دیں گے اور ہاتھ پاؤں کان آنکھ حتی کہ بدن کی کھال کو حکم دیا جائے گا کہ ان کے ذریعہ سے جن جرائم کا ارتکاب کیا تھا بیان کریں۔ چناچہ ہر ایک عضو اللہ کی قدرت سے گویا ہوگا اور ان جرموں کی شہادت دے گا۔ کما قال تعالیٰ ۔ (حَتّىٰٓ اِذَا مَا جَاۗءُوْهَا شَهِدَ عَلَيْهِمْ سَمْعُهُمْ وَاَبْصَارُهُمْ وَجُلُوْدُهُمْ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ ) 41 ۔ فصلت :20) وقال تعالیٰ فی موضع آخر۔ ( قَالُوْٓا اَنْطَقَنَا اللّٰهُ الَّذِيْٓ اَنْــطَقَ كُلَّ شَيْءٍ وَّهُوَ خَلَقَكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ ) 41 ۔ فصلت :21)
Ayahs 36:66–67

وَ لَوْ نَشَآءُ لَطَمَسْنَا عَلٰۤى اَعْیُنِهِمْ فَاسْتَبَقُوا الصِّرَاطَ فَاَنّٰى یُبْصِرُوْنَ Open ayah 36:66 in the Quran reader

اور اگر چاہیں مٹا دیں ان کی آنکھیں پھر دوڑیں راستہ پانے کو پھر کہاں سے سوجھے

وَ لَوْ نَشَآءُ لَمَسَخْنٰهُمْ عَلٰى مَكَانَتِهِمْ فَمَا اسْتَطَاعُوْا مُضِیًّا وَّ لَا یَرْجِعُوْنَ۠ Open ayah 36:67 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہیں صورت مسخ کردیں ان کی جہاں کی تہاں پھر نہ آگے چل سکیں اور نہ وہ الٹے پھر سکیں7

7 یعنی جیسے انہوں نے ہماری آیتوں سے آنکھیں بند کرلی ہیں اگر ہم چاہیں تو دنیا ہی میں بطور سزا کے ان کی ظاہری بینائی چھین کر نپٹ اندھا کردیں کہ ادھر ادھر جانے کا راستہ بھی نہ سوجھے اور جس طرح یہ لوگ شیطانی راستوں سے ہٹ کر اللہ کی راہ پر چلنا نہیں چاہتے، ہم کو قدرت ہے کہ اس کی صورتیں بگاڑ کر بالکل اپاہج بنادیں کہ پھر یہ کسی ضرورت کے لیے اپنی جگہ سے ہل نہ سکیں۔ پر ہم نے ایسا نہ چاہا اور ان جوارح و قویٰ سے ان کو محروم نہ کیا۔ یہ ہماری طرف سے مہلت اور ڈھیل تھی آج وہ ہی آنکھیں اور ہاتھ پاؤں گواہی دیں گے کہ ان بیہودوں نے ہم کو کن نالائق کاموں میں لگایا تھا۔
Ayah 36:68

وَ مَنْ نُّعَمِّرْهُ نُنَكِّسْهُ فِی الْخَلْقِ١ؕ اَفَلَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 36:68 in the Quran reader

اور جس کو ہم بوڑھا کریں اوندھا کریں اس کی پیدائش میں پھر کیا ان کو سمجھ نہیں8

8 یعنی آنکھیں چھین لینا اور صورت بگاڑ کر اپاہج بنادینا کچھ مستبعد مت سمجھو۔ دیکھتے نہیں ؟ ایک تندرست اور مضبوط آدمی زیادہ بوڑھا ہو کر کس طرح دیکھنے، سننے اور چلنے پھرنے سے معذور کردیا جاتا ہے۔ گویا بچپن میں جیسا کمزور ناتواں اور دوسروں کے سہارے کا محتاج تھا، بڑھاپے میں پھر اسی حالت کی طرف پلٹا دیا جاتا ہے تو کیا جو خدا پیرانہ سالی کی حالت میں ان کی قوتیں سلب کرلیتا ہے، جوانی میں نہیں کرسکتا ؟
Ayah 36:69

وَ مَا عَلَّمْنٰهُ الشِّعْرَ وَ مَا یَنْۢبَغِیْ لَهٗ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ وَّ قُرْاٰنٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 36:69 in the Quran reader

اور ہم نے نہیں سکھایا اس کو شعر کہنا اور یہ اس کے لائق نہیں یہ تو خالص نصیحت ہے اور قرآن ہے صاف1

1 یعنی اوپر جو کچھ بیان ہوا وہ حقائق واقعہ ہیں۔ کوئی شاعرانہ تخیلات نہیں۔ اس پیغمبر کو ہم نے قرآن دیا ہے جو نصیحتوں اور روشن تعلیمات سے معمور ہے کوئی شعر و شاعری کا دیوان نہیں دیا جس میں نری طبع آزمائی اور خیالی تک بندیاں ہوں، بلکہ آپ کی طبع مبارک کو فطری طور پر اس فن شاعری سے اتنا بعید رکھا گیا کہ باوجود قریش کے اس اعلیٰ خاندان میں سے ہونے کے جس کی معمولی لونڈیاں بھی اس وقت شعر کہنے کا طبعی سلیقہ رکھتی تھیں۔ آپ نے مدت العمر کوئی شعر نہیں بنایا۔ یوں رجز وغیرہ کے موقع پر کبھی ایک آدھ مرتبہ زبان مبارک سے مقفی عبارت نکل کر بےساختہ شعر کے سانچہ میں ڈھل گئی ہو وہ الگ بات ہے۔ اسے شاعری یا شعر کہنا نہیں کہتے۔ آپ خود تو شعر کیا کہتے کسی دوسرے شاعر کا شعر یا مصرح بھی زندگی بھر میں دو چار مرتبہ سے زائد نہیں پڑھا۔ اور پڑھتے وقت اکثر اس میں ایسا تغیر کردیا کہ شعر شعر نہ رہے۔ محض مطلب شاعر ادا ہوجائے۔ غرض آپ کی طبع شریف کو شاعری سے مناسبت نہیں دی گئی تھی کیونکہ یہ چیز آپ کے منصب جلیل کے لائق نہ تھی۔ آپ حقیقت کے ترجمان تھے اور آپ کی بعثت کا مقصد دنیا کو اعلیٰ حقائق سے بدون ادنیٰ ترین کذب و غلو کے روشناس کرنا تھا۔ ظاہر ہے کہ یہ کام ایک شاعر کا نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ شاعریت کا حسن و کمال کذب و مبالغہ، خیالی بلند پروازی اور فرضی نکتہ آفرینی کے سوا کچھ نہیں۔ شعر میں اگر کوئی جز محمود ہے تو اس کی تاثیر اور دلنشینی ہوسکتی ہے۔ سو یہ چیز قرآن کی نثر میں اس درجہ پر پائی جاتی ہے کہ ساری دنیا کے شاعر مل کر یہ بھی اپنے کلاموں کے مجموعہ میں پیدا نہیں کرسکتے۔ قرآن کریم کے اسلوب بدیع کو دیکھتے ہوئے کہہ سکتے ہیں کہ گویا نظم کی اصل روح نکال کر نثر میں ڈال دی گئی ہے۔ شاید یہ ہی وجہ ہے کہ بڑے بڑے فصیح و عاقل دنگ ہو کر قرآن کو شعر یا سحر کہنے لگے تھے۔ حالانکہ شعر و سحر کو قرآن سے کیا نسبت ؟ کیا شاعری اور جادوگری کی بنیاد پر دنیا میں کبھی قومیت و روحانیت کی ایسی عظیم الشان اور لازوال عمارتیں کھڑی ہوئی ہیں جو قرآنی تعلیم کی اساس پر آج تک قائم شدہ دیکھتے ہو۔ یہ کام شاعروں کا نہیں پیغمبروں کا ہے کہ خدا کے حکم سے مردہ قلوب کو ابدی زندگی عطا کرتے ہیں، حق تعالیٰ نے عرب کو یہ کہنے کا موقع نہیں دیا کہ آپ پہلے سے شاعر تھے شاعری سے ترقی کر کے نبی بن بیٹھے۔
Ayah 36:70

لِّیُنْذِرَ مَنْ كَانَ حَیًّا وَّ یَحِقَّ الْقَوْلُ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 36:70 in the Quran reader

تاکہ ڈر سنائے اس کو جس میں جان ہو اور ثابت ہو الزام منکروں پر2

2 یعنی زندہ دل آدمی قرآن سن کر اللہ سے ڈرے اور منکروں پر حجت تمام ہو۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " جس میں جان ہو یعنی نیک اثر پکڑتا ہو اس کے فائدہ کو اور منکروں پر الزام اتارنے کو۔ "
Ayah 36:71

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا خَلَقْنَا لَهُمْ مِّمَّا عَمِلَتْ اَیْدِیْنَاۤ اَنْعَامًا فَهُمْ لَهَا مٰلِكُوْنَ Open ayah 36:71 in the Quran reader

کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ہم نے بنا دئیے ان کے واسطے اپنے ہاتھوں کی بنائی ہوئی چیزوں سے چوپائے پھر وہ ان کے مالک ہیں3

3 آیات تنزیلیہ کے بعد پھر آیات تکوینیہ کی طرف توجہ دلاتے ہیں۔ یعنی ایک طرف قرآن کی پندو نصیحت کو سنو، اور دوسری طرف غور سے دیکھو کہ اللہ کے کیسے کیسے انعام و احسان تم پر ہوئے ہیں، اونٹ، گائے، بکری، گھوڑے، خچر وغیرہ جانوروں کو تم نے نہیں بنایا اللہ نے اپنے دست قدرت سے پیدا کیا ہے۔ پھر تم کو محض اپنے فضل سے ان کا مالک بنادیا کہ جہاں چاہو بیچو اور جو چاہو کام لو۔
Ayahs 36:72–73

وَ ذَلَّلْنٰهَا لَهُمْ فَمِنْهَا رَكُوْبُهُمْ وَ مِنْهَا یَاْكُلُوْنَ Open ayah 36:72 in the Quran reader

اور عاجز کردیا ان کو ان کے آگے پھر ان میں کوئی ہے ان کی سواری اور کسی کو کھاتے ہیں

وَ لَهُمْ فِیْهَا مَنَافِعُ وَ مَشَارِبُ١ؕ اَفَلَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 36:73 in the Quran reader

اور ان کے واسطے چارپایوں میں فائدے ہیں اور پینے کے گھاٹ پھر کیوں شکر نہیں کرتے4

4 دیکھو کتنے بڑے بڑے عظیم الجثہ قوی ہیکل جانور انسان ضعیف البنیان کے سامنے عاجز و مسخر کردیے۔ ہزاروں اونٹوں کی قطار کو ایک خورد سال بچہ نکیل پکڑ کر جدھر چاہے لے جائے ذرا کان نہیں ہلاتے۔ کیسے کیسے شہ زور جانوروں پر آدمی سواری کرتا ہے اور بعض کو کاٹ کر اپنی غذا بناتا ہے۔ علاوہ گوشت کھانے کے ان کی کھال، ہڈی اون وغیرہ سے کس قدر فوائد حاصل کیے جاتے ہیں ان کے تھن کیا ہیں گویا دودھ کے چشمے ہیں ان ہی چشموں کے گھاٹ سے کتنے آدمی سیراب ہوتے ہیں۔ لیکن شکر گزار بندے بہت تھوڑے ہیں۔
Ayahs 36:74–75

وَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اٰلِهَةً لَّعَلَّهُمْ یُنْصَرُوْنَؕ Open ayah 36:74 in the Quran reader

اور پکڑتے ہیں اللہ کے سوا اور حاکم کہ شاید ان کی مدد کریں

لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَهُمْ١ۙ وَ هُمْ لَهُمْ جُنْدٌ مُّحْضَرُوْنَ Open ayah 36:75 in the Quran reader

نہ کرسکیں گے ان کی مدد اور یہ ان کی فوج ہو کر پکڑے آئیں گے5

5 یعنی جس خدا نے یہ نعمتیں مرحمت فرمائیں اس کا یہ شکر ادا کیا کہ اس کے مقابل دوسرے احکام اور معبود ٹھہرا لیے جنہیں سمجھتے ہیں کہ آڑے وقت میں کام آئیں گے اور مدد کریں گے سو یاد رکھو ! وہ تمہاری تو کیا اپنی مدد بھی نہیں کرسکتے۔ ہاں جب تم کو مدد کی ضرورت ہوگی اس وقت گرفتار ضرور کرا دیں گے تب پتہ لگے گا کہ جن کی حمایت میں عمر بھر لڑتے رہے تھے وہ آج کس طرح آنکھیں دکھانے لگے۔
Ayah 36:76

فَلَا یَحْزُنْكَ قَوْلُهُمْ١ۘ اِنَّا نَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ Open ayah 36:76 in the Quran reader

اب تو غمگین مت ہو ان کی بات سے ہم جانتے ہیں جو وہ چھپاتے ہیں اور جو ظاہر کرتے ہیں6

6 یعنی جب خود ہمارے ساتھ ان کا یہ معاملہ ہے تو آپ ان کی بات سے غمگین و دلگیر نہ ہوں۔ اپنا فرض ادا کر کے ہمارے حوالہ کریں۔ ہم ان سکے ظاہری و باطنی احوال سے خوب واقف ہیں ٹھیک ٹھیک بھگتان کردیں گے۔
Ayah 36:77

اَوَ لَمْ یَرَ الْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰهُ مِنْ نُّطْفَةٍ فَاِذَا هُوَ خَصِیْمٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 36:77 in the Quran reader

کیا دیکھتا نہیں انسان کہ ہم نے اس کو بنایا ایک قطرہ سے پھر تبھی وہ ہوگیا جھگڑنے بولنے والاف 7

7 یعنی انسان اپنی اصل کو یاد نہیں رکھتا کہ وہ ایک ناچیز قطرہ تھا، خدا نے کیا سے کیا بنادیا۔ اس پانی کی بوند کو وہ زور اور قوت گویائی عطا کی کہ بات بات پر جھگڑنے اور باتیں بنانے لگا۔ حتیٰ کہ آج اپنی حد سے بڑھ کر خالق کے مقابلہ میں خم ٹھونک کر کھڑا ہوگیا۔
Ayah 36:78

وَ ضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَّ نَسِیَ خَلْقَهٗ١ؕ قَالَ مَنْ یُّحْیِ الْعِظَامَ وَ هِیَ رَمِیْمٌ Open ayah 36:78 in the Quran reader

اور بٹھلاتا ہے ہم پر ایک مثل اور بھول گیا اپنی پیدائش، کہنے لگا کون زندہ کرے گا ہڈیوں کو جب کھوکھری ہوگئیں8

8 یعنی دیکھتے ہو ! خدا پر کیسے فقرے چسپاں کرتا ہے۔ گویا اس قادر مطلق کو عاجز مخلوق کی طرح فرض کرلیا ہے جو کہتا ہے کہ آخر جب بدن گل سڑ کر صرف ہڈیاں رہ گئیں وہ بھی بوسیدہ پرانی اور کھوکھلی، تو انہیں دوبارہ کون زندہ کرے گا۔ ایسا سوال کرتے وقت اسے اپنی پیدائش یاد نہیں رہی ورنہ اس قطرہ ناچیز کو ایسے الفاظ کہنے کی جرأت نہ ہوتی۔ اپنی اصل پر نظر کر کے کچھ شرماتا اور کچھ عقل سے کام لے کر اپنے سوال کا جواب بھی حاصل کرلیتا جو اگلی آیت میں مذکور ہے۔
Ayah 36:79

قُلْ یُحْیِیْهَا الَّذِیْۤ اَنْشَاَهَاۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ١ؕ وَ هُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِیْمُۙ Open ayah 36:79 in the Quran reader

تو کہہ ان کو زندہ کرے گا جس نے بنایا ان کو پہلی بار اور وہ سب بنانا جانتا ہے9

9 یعنی جس نے پہلی مرتبہ ان ہڈیوں میں جان ڈالی اسے دوسری بار جان ڈالنا کیا مشکل ہے۔ بلکہ پہلے سے زیادہ آسان ہونا چاہیے۔ (وہو اہوں علیہ) اور اس قادر مطلق کے لیے تو سب ہی چیز آسان ہے پہلی مرتبہ ہو یا دوسری مرتبہ، وہ ہر طرح بنانا جانتا ہے اور بدن کے اجزاء اور ہڈیوں کے ریزے جہاں کہیں منتشر ہوگئے ہوں ان کا ایک ایک ذرہ اس کے علم میں ہے۔
Ayah 36:80

اِ۟لَّذِیْ جَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الشَّجَرِ الْاَخْضَرِ نَارًا فَاِذَاۤ اَنْتُمْ مِّنْهُ تُوْقِدُوْنَ Open ayah 36:80 in the Quran reader

جس نے بنادی تم کو سبز درخت سے آگ پھر اب تم اس سے سلگاتے ہو10

10 یعنی اول پانی سے سرسبز و شاداب درخت تیار کیا پھر اسی تروتازہ درخت کو سکھا کر ایندھن بنادیا جس سے اب تم آگ نکال رہے ہو۔ پس جو خدا ایسی متضاد صفات کو ادل بدل سکتا ہے کیا وہ ایک چیز کی موت وحیات کے الٹ پھیر پر قادر نہیں ؟ (تنبیہ) بعض سلف نے " شجر اخضر " (سبزدرخت) سے خاص وہ درخت مراد لیے ہیں جن کی شاخوں کو آپس میں رگڑنے سے آگ نکلتی ہو۔ جیسے بانس کا درخت ہے یا عرب میں مرخ اور عفار تھے۔ واللہ اعلم۔