28. Surah Al-Qasas

القصصThe Stories · 88 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayah 28:41

وَ جَعَلْنٰهُمْ اَئِمَّةً یَّدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ١ۚ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ لَا یُنْصَرُوْنَ Open ayah 28:41 in the Quran reader

اور کیا ہم نے ان پیشوا کہ بلاتے ہیں دوزخ کی طرف5 اور قیامت کے دن ان کو مدد نہ ملے گی6

5 یعنی یہاں ضلالت و طغیان میں پیش پیش تھے اور لوگوں کو دوزخ کی طرف بلاتے تھے وہاں بھی ان کو دوزخیوں کے آگے امام بنا کر رکھا جائے گا۔ (يَـقْدُمُ قَوْمَهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ فَاَوْرَدَهُمُ النَّارَ ۭ وَبِئْسَ الْوِرْدُ الْمَوْرُوْدُ ) 11 ۔ ہود :98) 6 یعنی یہاں کے لشکر وہاں کام نہ دیں گے نہ کسی طرف سے کوئی مدد پہنچ سکے گی۔ اپنے لاؤ لشکر سمیت جہنم میں جھونک دیے جائیں گے۔ کوئی بچانے والا نہ ہوگا۔
Ayah 28:42

وَ اَتْبَعْنٰهُمْ فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا لَعْنَةً١ۚ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ هُمْ مِّنَ الْمَقْبُوْحِیْنَ۠ Open ayah 28:42 in the Quran reader

اور پیچھے رکھ دی ہم نے ان پر اس دنیا میں پھٹکار اور قیامت کے دن ان پر برائی ہے7

7 یعنی آخرت کی برائی اور بدانجامی تو الگ رہی، دنیا ہی میں لوگ رہتی دنیا تک ایسوں پر لعنت بھیجتے رہیں گے۔
Ayah 28:43

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ مِنْۢ بَعْدِ مَاۤ اَهْلَكْنَا الْقُرُوْنَ الْاُوْلٰى بَصَآئِرَ لِلنَّاسِ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةً لَّعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 28:43 in the Quran reader

اور دی ہم نے موسیٰ کو کتاب بعد اس کے کہ ہم غارت کرچکے پہلی جماعتوں کو8 سجھانے والی لوگوں کو اور راہ بتانے والی اور رحمت تاکہ وہ یاد رکھیں1

8 نزول تورات کے بعد دنیا میں ایسے غارت کے عذاب کم آئے۔ بجائے اہلاک سماوی کے جہاد کا طریقہ مشروع کردیا گیا۔ کیونکہ کچھ لوگ احکام شریعت پر قائم رہا کیے۔ 1 یعنی تورات جو موسیٰ (علیہ السلام) کو دی گئی تھی۔ بڑی فہم و بصیرت عطا کرنے والی، لوگوں کو راہ ہدایت پر چلانے والی، اور مستحق رحمت بنانے والی کتاب تھی تاکہ لوگ اسے پڑھ کر اللہ کو یاد رکھیں۔ احکام الٰہی سیکھیں اور پندو نصیحت حاصل کریں، سچ تو یہ ہے کہ قرآن کریم کے بعد ہدایت میں تورات شریف ہی کا درجہ ہے اور آج جب کہ اس کے پیرؤں نے اسے ضائع کردیا، قرآن ہی اس کے ضروری علوم و ہدایات کی حفاظت کر رہا ہے۔
Ayah 28:44

وَ مَا كُنْتَ بِجَانِبِ الْغَرْبِیِّ اِذْ قَضَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسَى الْاَمْرَ وَ مَا كُنْتَ مِنَ الشّٰهِدِیْنَۙ Open ayah 28:44 in the Quran reader

اور تو نہ تھا غرب کی طرف جب ہم نے بھیجا موسیٰ کو حکم2 اور نہ تھا دیکھنے والا

2 یعنی کوہ طور کے غرب کی جانب جہاں موسیٰ کو نبوت اور تورات ملی۔
Ayah 28:45

وَ لٰكِنَّاۤ اَنْشَاْنَا قُرُوْنًا فَتَطَاوَلَ عَلَیْهِمُ الْعُمُرُ١ۚ وَ مَا كُنْتَ ثَاوِیًا فِیْۤ اَهْلِ مَدْیَنَ تَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِنَا١ۙ وَ لٰكِنَّا كُنَّا مُرْسِلِیْنَ Open ayah 28:45 in the Quran reader

لیکن ہم نے پیدا کیں کئی جماعتیں پھر دراز ہوئی ان پر مدت3 اور تو نہ رہتا تھا مدین والوں میں کہ ان کو سناتا ہماری آیتیں پر ہم رہے ہیں رسول بھیجتے4

3 یعنی تو اس وقت کے واقعات تو ایسی صحت و صفائی اور بسط و تفصیل سے بیان کر رہا ہے جیسے وہیں " طور " کے پاس کھڑا دیکھ رہا ہو۔ حالانکہ تمہارا موقع پر موجود نہ ہونا ظاہر ہے اور ویسے بھی سب جانتے ہیں کہ تم امیّ ہو۔ کسی عالم کی صحبت میں بھی نہیں رہے۔ نہ ٹھیک ٹھیک صحیح واقعات کا کوئی جید عالم مکہ میں موجود تھا۔ پھر غور کرنے کا مقام ہے کہ یہ عالم کہاں سے آیا۔ حقیقت یہ ہے کہ اقوام دنیا پر مدتیں اور قرن گزر گئے، مرور دہور سے وہ علوم محرف و مندرس ہوتے جا رہے تھے اور وہ ہدایات مٹتی جا رہی تھیں۔ لہذا اس علیم وخبیر کا ارادہ ہوا کہ ایک امی کی زبان سے بھولے ہوئے سبق یاد دلائے جائیں اور ان عبرتناک و موعظت آمیز واقعات کا ایسا صحیح فوٹو دنیا کے سامنے پیش کردیا جائے جس پر نظر کر کے بےاختیار ماننا پڑے کہ اس کا پیش کرنے والا موقع پر موجود تھا اور اپنی آنکھوں سے من و عن کیفیات کا مشاہدہ کر رہا تھا۔ پس ظاہر ہے کہ تم تو وہاں موجود نہ تھے، بجز اس کے کیا کہا جائے کہ جو خدا آپ کی زبان سے بول رہا ہے اور جس کے سامنے ہر غائب بھی حاضر ہے۔ یہ بیان اسی کا ہوگا۔ 4 یعنی موسیٰ (علیہ السلام) کو " مدین " جا کر جو واقعات پیش آئے ان کا اس خوبی و صحت سے بیان تو یہ ظاہر کرتا ہے کہ گویا اس وقت تم شان پیغمبری کے ساتھ وہیں سکونت پذیر تھے اور جس طرح آج اپنے وطن مکہ میں اللہ کی آیات پڑھ کر سنا رہے ہو، اس وقت " مدین " والوں کو سناتے ہو گے حالانکہ یہ چیز صریحاً منفی ہے۔ بات صرف اتنی ہے کہ ہم ہمیشہ سے پیغمبر بھیجتے رہے ہیں جو دنیا کو غفلت سے چونکاتے اور گذشتہ عبرتناک واقعات یاد دلاتے رہیں۔ اسی عام عادت کے موافق ہم نے اس زمانہ میں تم کو رسول بنا کر بھیجا کہ پچھلے قصے یاد دلاؤ۔ اور خواب غفلت سے مخلوق کو بیدار کرو۔ اس لیے ضروری ہوا کہ ٹھیک ٹھیک واقعات کا صحیح علم تم کو دیا جائے اور تمہاری زبان سے ادا کرایا جائے۔
Ayah 28:46

وَ مَا كُنْتَ بِجَانِبِ الطُّوْرِ اِذْ نَادَیْنَا وَ لٰكِنْ رَّحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اَتٰىهُمْ مِّنْ نَّذِیْرٍ مِّنْ قَبْلِكَ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 28:46 in the Quran reader

اور تو نہ تھا طور کے کنارے جب ہم نے آواز دی لیکن یہ انعام ہے تیرے رب کا5 تاکہ تو ڈر سنا دے ان لوگوں کو جن کے پاس نہیں آیا کوئی ڈر سنانے والا تجھ سے پہلے تاکہ وہ یاد رکھیں6

5 یعنی جب موسیٰ (علیہ السلام) کو آواز دی ( اِنِّىْٓ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ ) 28 ۔ القصص :30) تم وہاں کھڑے سن نہیں رہے تھے۔ یہ حق تعالیٰ کا انعام ہے کہ آپ کو ان واقعات و حقائق پر مطلع کیا اور تمہارے ساتھ بھی اسی نوعیت کا برتاؤ کیا جو موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ ہوا تھا۔ گویا " جبل النور " (جہاں غار حرا ہے) اور " مکہ " میں " جبل طور " اور " مدین " کی تاریخ دوہرا دی گئی۔ 6 یعنی عرب کے لوگوں کو یہ چیزیں بتلا کر خطرناک عواقب سے آگاہ کردیں۔ ممکن ہے وہ سن کر یاد رکھیں اور نصیحت پکڑیں۔ (تنبیہ) (مَّآ اُنْذِرَ اٰبَاۗؤُهُمْ فَهُمْ غٰفِلُوْنَ ) 36 ۔ یس :6) سے شاید آبائے اقربین مراد ہوں گے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
Ayah 28:47

وَ لَوْ لَاۤ اَنْ تُصِیْبَهُمْ مُّصِیْبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ فَیَقُوْلُوْا رَبَّنَا لَوْ لَاۤ اَرْسَلْتَ اِلَیْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِعَ اٰیٰتِكَ وَ نَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 28:47 in the Quran reader

اور اتنی بات کے لیے کبھی آن پڑے ان پر آفت ان کاموں کی وجہ سے جن کو بھیج چکے ہیں ان کے ہاتھ تو کہنے لگیں اے رب ہمارے کیوں نہ بھیج دیا ہمارے پاس کسی کو پیغام دے کر تو ہم چلتے تیری باتوں پر اور ہوتے ایمان والوں میں7

7 یعنی پیغمبر کا ان میں بھیجنا خوش قسمتی ہے۔ اگر بدون پیغمبر بھیجے اللہ تعالیٰ ان کی کھلی ہوئی بےعقلیوں اور بےایمانیوں پر سزا دینے لگتا تب بھی ظلم نہ ہوتا، لیکن اس نے احسان فرمایا اور کسی قسم کی معقول عذر داری کا موقع نہیں چھوڑا۔ ممکن تھا سزا دہی کے وقت کہنے لگتے کہ صاحب ہمارے پاس پیغمبر تو بھیجا نہیں جو ہم کو ہماری غلطیوں پر کم ازکم متنبہ کردیتا، ایک دم پکڑ کر عذاب میں دھر گھسیٹا۔ اگر کوئی پیغمبر آتا تو دیکھ لیتے ہم کیسے نیک اور ایماندار ثابت ہوتے۔
Ayah 28:48

فَلَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوْا لَوْ لَاۤ اُوْتِیَ مِثْلَ مَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰى١ؕ اَوَ لَمْ یَكْفُرُوْا بِمَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰى مِنْ قَبْلُ١ۚ قَالُوْا سِحْرٰنِ تَظٰهَرَا١ٙ۫ وَ قَالُوْۤا اِنَّا بِكُلٍّ كٰفِرُوْنَ Open ayah 28:48 in the Quran reader

پھر جب پہنچی ان کو ٹھیک بات ہمارے پاس سے کہنے لگے کیوں نہ ملا اس رسول کو جیسا ملا تھا موسیٰ کو8 کیا ابھی منکر نہیں ہوچکے اس سے جو موسیٰ کو ملا تھا اس سے پہلے9 کہنے لگے دونوں جادو ہیں آپس میں موافق اور کہنے لگے ہم دونوں کو نہیں مانتے10

8 یعنی رسول نہ بھیجتے تو کہتے رسول کیوں نہ بھیجا۔ اب رسول تشریف لائے جو تمام پیغمبروں سے شان و رتبہ میں بڑھ کر ہیں تو کہتے ہیں کہ صاحب ! ہم تو اس وقت مانتے جب دیکھتے کہ ان سے موسیٰ (علیہ السلام) کی طرح " عصاء " اور " ید بیضاء " وغیرہ کے معجزات ظاہر ہوتے اور ان کے پاس بھی تورات کی طرح ایک دم ایک کتاب اترتی یہ کیا کہ دو دو چار چار آیتیں پیش کرتے ہیں۔ 9 یعنی موسیٰ کے معجزات اور کتاب ہی کو کہاں سب نے مان لیا تھا ؟ شبہ نکالنے والے ان کو بھی " سحر مفتری " کہتے رہے جیسا کہ ابھی ایک دو رکوع پہلے گزرا بس جن کو ماننا منظور نہیں ہوتا وہ ہر بات میں کچھ نہ کچھ احتمالات نکال لیتے ہیں۔ 10 حضرت شاہ صاحب ' لکھتے ہیں " مکہ کے کافر حضرت موسیٰ کے معجزے سن کر کہنے لگے کہ ویسا معجزہ اس نبی کے پاس ہوتا تو ہم مانتے، جب " یہود " سے پوچھا " تورات " کی باتیں اس نبی کے موافق اور اپنی مرضی کے خلاف سنیں، مثلاً یہ کہ بت پرستی کفر ہے، آخرت کا جینا برحق ہے اور جو جانور اللہ کے نام پر ذبح نہ ہو مردار ہے (اور عرب میں ایک نبی آخرالزمان آئیں گے جن کی یہ نشانیاں ہوں گی وغیرہ وغیرہ) تب لگے دونوں کو جواب دینے۔ " کہ " تورات " اور " قرآن " دونوں جادو اور موسیٰ و محمد (علیہما الصلوٰۃ والسلام) دونوں جادوگر ہیں۔ (العیاذ باللہ) جو ایک دوسرے کی تصدیق کرتے ہیں۔
Ayah 28:49

قُلْ فَاْتُوْا بِكِتٰبٍ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ هُوَ اَهْدٰى مِنْهُمَاۤ اَتَّبِعْهُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 28:49 in the Quran reader

تو کہہ اب تم لاؤ کوئی کتاب اللہ کے پاس کی جو ان دونوں سے بہتر ہو کہ میں اس پر چلوں، اگر تم سچے ہو1

1 یعنی آسمانی کتابوں میں سب سے بڑی اور مشہور یہ ہی دو کتابیں تھیں جن کی ہمسری کوئی کتاب نہیں کرسکتی۔ اگر یہ دونوں جادو ہیں تو تم کوئی کتاب الٰہی پیش کردو جو ان سے بہتر اور ان سے بڑھ کر ہدایت کرنے والی ہو۔ بفرض محال اگر ایسی کتاب لے آئے تو میں اسی کی پیروی کرنے لگوں گا، لیکن تم قیامت تک نہیں لاسکتے۔ اس سے زیادہ بدبختی کیا ہوگی کہ خود ہدایت ربانی سے قطعی تہی دست ہو اور جو کتاب ہدایت آتی ہے اسے جادو کہہ کر رد کردیتے ہو۔ جب یہ ایک انسان کا بنایا ہوا جادو ہے تو تم سارے جہان کے جادو گروں کو جمع کر کے اس سے بڑا جادو لے آتے۔ آخر جادو ایسی چیز تو نہیں کہ اس کا کوئی مقابلہ نہ کرسکے۔
Ayah 28:50

فَاِنْ لَّمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَكَ فَاعْلَمْ اَنَّمَا یَتَّبِعُوْنَ اَهْوَآءَهُمْ١ؕ وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَیْرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 28:50 in the Quran reader

پھر اگر نہ کر لائیں تیرا کہا تو جان لے کہ وہ چلتے ہیں نری اپنی خواہشوں اور اس سے گمراہ زیادہ کون جو چلے اپنی خواہش پر بدون راہ بتلائے اللہ کے بیشک اللہ راہ نہیں دیتا بےانصاف لوگوں کو2

2 یعنی جب یہ لوگ نہ ہدایت کو قبول کرتے ہیں اور نہ اس کے مقابلہ میں کوئی چیز پیش کرسکتے ہیں تو یہ ہی اس کی دلیل ہے کہ ان کو راہ ہدایت پر چلنا مقصود ہی نہیں محض اپنی خواہشات کی پیروی ہے، جس چیز کو دل چاہا مان لیا۔ جس کو اپنی مرضی اور خواہش کے خلاف پایا رد کردیا۔ بتلائیے ایسے ہوا پرست ظالموں کو کیا ہدایت ہوسکتی ہے۔ اللہ کی عادت اسی قوم کو ہدایت کرنے کی ہے جو ہدایت پانے کا ارادہ کرے اور محض ہوا و ہوس کو حق کا معیار نہ بنا لے۔
Ayah 28:51

وَ لَقَدْ وَصَّلْنَا لَهُمُ الْقَوْلَ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَؕ Open ayah 28:51 in the Quran reader

اور ہم پے درپے بھیجتے رہے ہیں ان کو اپنے کلام تاکہ وہ دھیان میں لائیں3

3 یعنی ہماری وحی کا سلسلہ پہلے سے چلا آتا ہے۔ ایک وحی کی تصدیق و تائید میں دوسری وحی برابر بھیجتے رہے ہیں۔ اور قرآن کو بھی ہم نے بتدریج نازل کیا۔ ایک آیت کے پیچھے دوسری آیت میں سہولت ہو۔
Ayahs 28:52–53

اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِهٖ هُمْ بِهٖ یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 28:52 in the Quran reader

جن کو ہم نے دی ہے کتاب اس سے پہلے وہ اس پر یقین کرتے ہیں

وَ اِذَا یُتْلٰى عَلَیْهِمْ قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِهٖۤ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّنَاۤ اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلِهٖ مُسْلِمِیْنَ Open ayah 28:53 in the Quran reader

اور جب ان کو سنائے تو کہیں ہم یقین لائے اس پر، یہی ہے ٹھیک ہمارے رب کا بھیجا ہوا، ہم ہیں اس سے پہلے کہ حکم بردار4

4 یعنی ان جاہل مشرکین کا حال تو یہ ہے کہ نہ اگلی کتابوں کو مانیں نہ پچھلی کو، اور ان کے بالمقابل انصاف پسند اہل کتاب کو دیکھو کہ وہ دونوں کو تسلیم کرتے جاتے ہیں پہلے تورات و انجیل پر یقین رکھتے تھے۔ جب قرآن پاک آیا تو بول اٹھے کہ بلاشبہ یہ کتاب برحق ہے، ہمارے رب کی اتاری ہوئی، ہم اس پر اپنے یقین و اعتقاد کا اعلان کرتے ہیں، ہم تو پہلے بھی اللہ کی باتوں کو مانتے تھے آج بھی قبول کرتے ہیں۔ فی الحقیقت ہم آج سے مسلمان نہیں بہت پہلے سے مسلمان ہیں۔ کیونکہ کتب سابقہ پر ہمارا ایمان تھا جن میں پیغمبر آخرالزمان اور قرآن کریم کے متعلق صاف بشارات موجود تھیں۔ لہذا ان پیشین گوئیوں پر بھی ہمارا پہلے سے اجمالی ایمان ہوا۔ آج اس کی تفصیل اپنی آنکھوں سے دیکھ لی۔
Ayah 28:54

اُولٰٓئِكَ یُؤْتَوْنَ اَجْرَهُمْ مَّرَّتَیْنِ بِمَا صَبَرُوْا وَ یَدْرَءُوْنَ بِالْحَسَنَةِ السَّیِّئَةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ Open ayah 28:54 in the Quran reader

وہ لوگ پائیں گے اپنا ثواب دوہرا اس بات پر کہ قائم رہے5 اور بھلائی کرتے ہیں برائی کے جواب میں6 اور ہمارا دیا ہوا کچھ خرچ کرتے رہتے ہیں7

5 یعنی مغرور و مستغنی ہو کر قبول حق سے گریز نہیں کیا بلکہ جس وقت جو حق پہنچا بےتکلف گردن تسلیم جھکا دی۔ (تنبیہ) شیخ اکبر نے فتوحات میں لکھا ہے کہ ان اہل کتاب کا ایمان اپنے پیغمبر پر دو مرتبہ ہوا۔ اول بالاستقلال دوبارہ نبی کریم ﷺ پر ایمان لانے کے ضمن میں۔ کیونکہ حضور ﷺ تمام انبیاء سابقین کے مصدق ہیں اور ان پر ایمان رکھنا ضروری قرار دیتے ہیں۔ اور حضور ﷺ پر بھی ان کا ایمان دو مرتبہ ہوا۔ ایک اب بالذات اور بالاستقلال دوسرا پہلے اپنے پیغمبر پر ایمان لانے کے ضمن میں۔ کیونکہ ہر پیغمبر حضور ﷺ کی بشارت دیتے، اور پیشگی تصدیق کرتے چلے آئے ہیں اسی لیے ان لوگوں کو اجر بھی دو مرتبہ ملے گا باقی حدیث میں جو " ثَلاَثُ یُؤْتَوْنَ اَجْرَہُمْ مَرَّتَیْنِ " آیا ہے اس کی شرح کا یہاں موقع نہیں۔ ہم نے خدا کے فضل سے شرح صحیح مسلم میں اس کو بتفصیل لکھا ہے اور اشکالات کو رفع کرنے کی کوشش کی ہے۔ فللّٰہ الحمد والمنہ وبہ التوفیق والعصمہ۔ 6 یعنی کوئی دوسرا ان کے ساتھ برائی سے پیش آئے تو یہ اس کے جواب میں مروت و شرافت سے کام لے کر بھلائی اور احسان کرتے ہیں۔ یا یہ مطلب کہ کبھی ان سے کوئی برا کام ہوجائے تو اس کا تدارک بھلائی سے کردیتے ہیں تاکہ حسنات کا پلہ سیئات سے بھاری رہے۔ 7 یعنی اللہ نے جو مال حلال دیا ہے اس میں سے زکوٰۃ دیتے ہیں، صدقہ کرتے ہیں اور خویش واقارب کی خبر لیتے ہیں۔ غرض حقوق العباد ضائع نہیں کرتے۔
Ayah 28:55

وَ اِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْهُ وَ قَالُوْا لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ١٘ سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ١٘ لَا نَبْتَغِی الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 28:55 in the Quran reader

اور جب سنیں نکمی باتیں اس سے کنارہ کریں اور کہیں ہم کو ہمارے کام اور تم کو تمہارے کام سلامت رہو ہم کو نہیں چاہیں بےسمجھ لوگ8

8 یعنی کوئی جاہل لغو بیہودہ بات کہے تو اس سے الجھتے نہیں۔ کہہ دیتے ہیں کہ بس صاحب ! تمہاری باتوں کو ہمارا دور سے سلام۔ یہ جہالت کی پوٹ تمہی رکھو ہم کو ہمارے مشغلہ میں رہنے دو ۔ تمہارا کیا تمہارے، اور ہمارا کیا ہمارے سامنے آجائے گا۔ ہم کو تم جیسے بےسمجھ لوگوں سے الجھنے کی ضرورت نہیں۔ محمد بن اسحاق نے سیرت میں لکھا ہے کہ قیام مکہ کے زمانہ میں تقریباً بیس اشخاص حبشہ سے حضور ﷺ کی خبر سن کر آئے کہ تحقیق کریں کیسے شخص ہیں۔ آپ سے بات چیت کی، اور بڑے زور سے آپ ﷺ کی تصدیق کی، جب مشرف باایمان ہو کر واپس ہونے لگے تو ابو جہل وغیرہ مشرکین نے ان پر آوازے کسے کہ ایسے احمقوں کا قافلہ آج تک کہیں نہ دیکھا ہوگا۔ جو ایک شخص کی تحقیق حال کرنے آئے تھے اور اس کے غلام بن کر اور اپنا دین چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا " سَلاَمٌ عَلَیْکُمْ لاَ نُجَاہِلُکُمْ لَنَا مَانَحْنُ عَلَیْہِ وَلَکُمْ مَآ اَنْتُمْ عَلَیْہِ لَمْ نَاْلُ اَنْفُسَنَا خَیْرًا۔ " (بس ہم تم کو سلام کریں، معاف رکھو ہم تمہاری جہالت کا جواب جہالت سے دینا نہیں چاہتے، ہم اور تم میں سے جو جس حال پر ہے اس کا وہ ہی حصہ ہے ہم نے اپنے نفس کا بھلا چاہنے میں کچھ کوتاہی نہیں کی) اسی کے متعلق یہ آیات نازل ہوئیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔ حضرت شاہ صاحب ' لکھتے ہیں کہ جس جاہل سے توقع نہ ہو کہ سمجھائے پر لگے گا اس سے کنارہ ہی بہتر ہے (موضح)
Ayah 28:56

اِنَّكَ لَا تَهْدِیْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 28:56 in the Quran reader

تو راہ پر نہیں لاتا جس کو چاہے پر اللہ راہ پر لائے جس کو چاہے9 اور وہ ہی خوب جانتا ہے جو راہ پر آئیں گے10

9 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے اپنے چچا (ابو طالب) کے واسطے بہت سعی کی کہ مرتے وقت کلمہ پڑھ لے، اس نے قبول نہ کیا۔ اس پر یہ آیت اتری۔ (موضح) یعنی جس سے تم کو طبعی محبت ہو، یا دل چاہتا ہو کہ فلاں کو ہدایت ہوجائے لازم نہیں کہ ایسا ضرور ہو کر رہے۔ آپ کا کام صرف راستہ بتانا ہے آگے یہ کہ کون راستہ پر چل کر منزل مقصود تک پہنچتا ہے کون نہیں پہنچتا، یہ آپ کے قبضہ اختیار سے خارج ہے۔ اللہ کو اختیار ہے جسے چاہے قبول حق اور وصول الی المطلوب کی توفیق بخشے (تنبیہ) جو کچھ حضرت شاہ صاحب نے فرمایا احادیث صحیحہ میں موجود ہے۔ اس سے زائد اس مسئلہ میں کلام کرنا اور ابو طالب کے ایمان و کفر کو خاص موضوع بحث بنا لینا غیر ضروری ہے۔ بہتر یہ ہی ہے کہ اس قسم کی غیر ضروری اور پرخطر مباحث میں کف لسان کیا جائے۔ 10 یعنی کسی کو کسی شخص کے راہ پر لانے کا اختیار کیا ہوتا علم بھی نہیں کہ کون راہ پر آنے والا ہے یا آنے کی استعداد و لیاقت رکھتا ہے بہرحال اس آیت میں نبی کریم کی تسلی فرما دی کہ آپ جاہلوں کی لغو گوئی اور معاندانہ شور و شغب یا اپنے خاص اعزہ و اقارب کے اسلام نہ لانے سے غمگین نہ ہوں۔ جس قدر آپ کا فرض ہے وہ ادا کیے جائیں، لوگوں کی استعدادیں مختلف ہیں، اللہ ہی کے علم و اختیار میں ہے کہ ان میں سے کسے راہ پر لایا جائے۔
Ayah 28:57

وَ قَالُوْۤا اِنْ نَّتَّبِعِ الْهُدٰى مَعَكَ نُتَخَطَّفْ مِنْ اَرْضِنَا١ؕ اَوَ لَمْ نُمَكِّنْ لَّهُمْ حَرَمًا اٰمِنًا یُّجْبٰۤى اِلَیْهِ ثَمَرٰتُ كُلِّ شَیْءٍ رِّزْقًا مِّنْ لَّدُنَّا وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 28:57 in the Quran reader

اور کہنے لگے اگر ہم راہ پر آئیں تیرے ساتھ اچک لیے جائیں اپنے ملک سے1 کیا ہم نے جگہ نہیں دی ان کو حرمت والے پناہ کے مکان میں کھینچے لے آتے ہیں اس کی طرف میوے ہر چیز کے روزی ہماری طرف سے پر بہت ان میں سمجھ نہیں رکھتے2

1 انسان کو ہدایت سے روکنے والی کئی چیزیں ہیں۔ مثلاً نقصان، جان و مال کا خوف، چناچہ بعض مشرکین مکہ نے حضور ﷺ سے کہا کہ بیشک ہم جانتے ہیں کہ آپ حق پر ہیں، لیکن اگر ہم دین اسلام قبول کر کے آپ کے ساتھ ہوجائیں تو سارا عرب ہمارا دشمن ہوجائے گا۔ اردگرد کے تمام قبائل ہم پر چڑھ دوڑیں گے اور مل کر ہمارا لقمہ کرلیں گے، نہ جان سلامت رہے گی نہ مال۔ اس کا آگے جواب دیا ہے۔ 2 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " مکہ کے لوگ کہنے لگے کہ ہم مسلمان ہوں تو سارے عرب ہم سے دشمنی کریں، اللہ نے فرمایا اب ان کی دشمنی سے کس کی پناہ میں بیٹھے ہو۔ یہ ہی حرم کا ادب (مانع ہے کہ باوجود آپس کی سخت عداوتوں کے باہر والے چڑھائی کر کے تم کو مکہ سے نکال نہیں دیتے) وہی اللہ (جس نے اس جگہ کو حرم بنایا) تب بھی پناہ دینے والا ہے۔ " (موضح) کیا شرک و کفر کے باوجود تو پناہ دی، ایمان وتقویٰ اختیار کرنے پر پناہ نہ دے گا۔ ہاں ایمان وتقویٰ کو پرکھنے کے لیے اگر چند روزہ امتحان کے طور پر کوئی بات پیش آئے تو گھبرانا نہیں چاہیے۔ " فَاِنَّ الْعَاقِبَۃَ لِلْمُتَّقِیْنَ ۔ "
Ayah 28:58

وَ كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْیَةٍۭ بَطِرَتْ مَعِیْشَتَهَا١ۚ فَتِلْكَ مَسٰكِنُهُمْ لَمْ تُسْكَنْ مِّنْۢ بَعْدِهِمْ اِلَّا قَلِیْلًا١ؕ وَ كُنَّا نَحْنُ الْوٰرِثِیْنَ Open ayah 28:58 in the Quran reader

اور کتنی غارت کردیں ہم نے بستیاں جو اترا چلی تھیں اپنی گزران میں اب یہ ہیں ان کے گھر آباد نہیں ہوئے ان کے پیچھے مگر تھوڑے3 اور ہم ہیں آخر کو سب کچھ لینے والے4

3 یعنی عرب کی دشمنی سے کیا ڈرتے ہو، اللہ کے عذاب سے ڈرو، دیکھتے نہیں کتنی قومیں گزر چکی ہیں جنہیں اپنی خوش عیشی پر غرہ ہوگیا تھا۔ جب انہوں نے تکبر اور سرکشی اختیار کی، اللہ تعالیٰ نے کس طرح تباہ و برباد کر ڈالا کہ آج صفحہ ہستی پر ان کا نام و نشان باقی نہ رہا۔ یہ کھنڈر ان کی بستیوں کے پڑے ہیں جن میں کوئی بسنے والا نہیں بجز اس کے کہ کوئی مسافر تھوڑی دیر سستانے یا قدرت الٰہی کا عبرتناک تماشہ دیکھنے کے لیے وہاں جا اترے۔ 4 یعنی سب مر مرا گئے کوئی وارث بھی نہ رہا ہمیشہ رہے نام اللہ کا۔
Ayah 28:59

وَ مَا كَانَ رَبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرٰى حَتّٰى یَبْعَثَ فِیْۤ اُمِّهَا رَسُوْلًا یَّتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِنَا١ۚ وَ مَا كُنَّا مُهْلِكِی الْقُرٰۤى اِلَّا وَ اَهْلُهَا ظٰلِمُوْنَ Open ayah 28:59 in the Quran reader

اور تیرا رب نہیں غارت کرنے والا بستیوں کو جب تک نہ بھیج لے ان کی بڑی بستی میں کسی کو پیغام دے کر جو سنائے ان کو ہماری باتیں5 اور ہم ہرگز نہیں غارت کرنے والے بستیوں کو، مگر جب کہ وہاں کے لوگ گناہ گار ہوں6

5 یعنی اللہ تعالیٰ اس وقت تک بستیوں کو غارت نہیں کرتا جب تک ان کے صدر مقام میں کوئی ہشیار کرنے والا پیغمبر نہ بھیج دے (صدر مقام کی تخصیص شاید اس لیے کی کہ وہاں کا اثر دور تک پہنچتا ہے اور شہروں کے باشندے نسبتاً سلیم و عقیل ہوتے ہیں) تمام روئے زمین کی آبادیوں کا صدر مقام مکہ معظمہ تھا۔ ( لِّتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰى وَمَنْ حَوْلَهَا) 42 ۔ الشوری :7) اسی لیے وہاں سب سے بڑے اور آخری پیغمبر مبعوث ہوئے۔ 6 یعنی ہشیار کرنے پر بھی جب لوگ باز نہیں آتے، برابر ظلم و طغیان میں ترقی کرتے چلے جاتے ہیں تب اللہ تعالیٰ پکڑ کر ہلاک کرتا ہے۔
Ayah 28:60

وَ مَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَمَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتُهَا١ۚ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 28:60 in the Quran reader

اور جو تم کو ملی ہے کوئی چیز سو فائدہ اٹھالینا ہے دنیا کی زندگی میں اور یہاں کی رونق ہے اور جو اللہ کے پاس ہے سو بہتر ہے اور باقی رہنے والا، کیا تم کو سمجھ نہیں7

7 یعنی آدمی کو عقل سے کام لے کر اتنا سمجھنا چاہیے کہ دنیا میں کتنے دن جینا ہے اور یہاں کی بہار اور چہل پہل کا مزہ کب تک اٹھا سکتے ہی۔ فرض کرو دنیا میں عذاب بھی نہ آئے، تاہم موت کا ہاتھ تم سے یہ سب سامان جدا کر کے رہے گا۔ پھر خدا کے سامنے حاضر ہونا اور ذرہ ذرہ عمل کا حساب دینا اگر وہاں کا عیش و آرام میسر ہوگیا تو یہاں کا عیش اس کے سامنے محض ہیچ اور لاشئ ہے۔ کون عقلمند ہوگا جو ایک مکدرو منغض زندگی کے بےغل و غش زندگی پر اور ناقص وفانی لذتوں کو کامل و باقی نعمتوں پر ترجیح دے۔
Ayah 28:61

اَفَمَنْ وَّعَدْنٰهُ وَعْدًا حَسَنًا فَهُوَ لَاقِیْهِ كَمَنْ مَّتَّعْنٰهُ مَتَاعَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا ثُمَّ هُوَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ مِنَ الْمُحْضَرِیْنَ Open ayah 28:61 in the Quran reader

بھلا ایک شخص جس سے ہم نے وعدہ کیا ہے اچھا وعدہ سو وہ اس کو پانے والا ہے برابر ہے اس کے جس کو ہم نے فائدہ دیا دنیا کی زندگانی کا پھر وہ قیامت کے دن پکڑا ہوا آیا8

8 یعنی مومن و کافر دونوں انجام کے اعتبار سے کس طرح برابر ہوسکتے ہیں۔ ایک کے لیے دائمی عیش کا وعدہ جو یقینا پورا ہو کر رہے گا اور دوسرے کے لیے چند روزہ عیش کے بعد گرفتاری کا وارنٹ اور دائمی جیل خانہ، العیاذ باللہ ! ایک شخص خواب میں دیکھے کہ میرے سر پر تاج شاہی رکھا ہے، خدم و حشم پرے باندھے کھڑے ہیں اور الوان نعمت دسترخوان پر چنے ہوئے ہیں جن سے لذت اندوز ہو رہا ہوں، آنکھ کھلی تو دیکھا انسپکٹر پولیس گرفتاری کا وارنٹ اور بیڑی ہتھکڑی لیے کھڑا ہے۔ بس وہ پکڑ کرلے گیا اور فوراً ہی پیش ہو کر حبس دوام کی سزا مل گئی۔ بتاؤ اسے وہ خواب کی بادشاہت اور پلاؤ قورمے کی لذت کیا یاد آئے گی۔
Ayah 28:62

وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ فَیَقُوْلُ اَیْنَ شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ Open ayah 28:62 in the Quran reader

اور جس دن ان کو پکارے گا تو کہے گا کہاں ہیں میرے شریک جن کا تم دعویٰ کرتے تھے1

1 یعنی وہ خدائی کے حصہ دار کہاں ہی ذرا اپنی تائید و حمایت کے لیے لاؤ تو سہی۔
Ayah 28:63

قَالَ الَّذِیْنَ حَقَّ عَلَیْهِمُ الْقَوْلُ رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ اَغْوَیْنَا١ۚ اَغْوَیْنٰهُمْ كَمَا غَوَیْنَا١ۚ تَبَرَّاْنَاۤ اِلَیْكَ١٘ مَا كَانُوْۤا اِیَّانَا یَعْبُدُوْنَ Open ayah 28:63 in the Quran reader

بولے جن پر ثابت ہوچکی بات اے رب یہ لوگ ہیں جن کو ہم نے بہکایا ان کو بہکایا جیسے ہم آپ بہکے ہم منکر ہوئے تیرے آگے وہ ہم کو نہ پوجتے تھے2

2 یعنی سوال تو مشرکین سے تھا، مگر بہکانے والے شرکاء سمجھ جائیں گے کہ فی الحقیقت ہمیں بھی ڈانٹ بتلائی گئی ہے۔ اس لیے سبقت کر کے جواب دیں گے کہ خداوندا ! بیشک ہم نے ان کو بہکایا اور یہ بہکانا ایسا ہی تھا جیسے ہم خود بہکے۔ یعنی جو ٹھوکر بہکنے کے وقت کھائی تھی اسی کی تکمیل بہکانے سے کی۔ کیونکہ بہکانا بھی بہکنے کی انتہائی منزل ہے۔ پس اس جرم اغواء کا تو ہمیں اعتراف ہے۔ لیکن ان مشرکین پر کوئی جبر واکراہ ہمارا نہ تھا کہ زبرستی اپنی بات منوا لیتے فی الحقیقت ان کی ہوا پرستی تھی جو ہمارے بہکانے میں آگئے۔ اس اعتبار سے یہ ہم کو نہیں پوجتے تھے بلکہ اپنے اہواء و ظنون کی پرستش کرتے تھے ہم ان کی عبادت سے آج آپ کے سامنے بیزاری کا اظہار کرتے ہیں۔ کذا قال بعض المفسرین۔ اور حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ " یہ شیطان بولیں گے۔ بہکایا تو ہے انہوں نے پر نام لے کر نیکوں کا۔ اسی سے کہا کہ ہم کو نہ پوجتے تھے۔ " واللہ تعالیٰ اعلم۔ (تنبیہ) " حَقَّ عَلَیْہِمُ الْقَوْلُ " سے مراد ہے ( لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِيْنَ ) 32 ۔ السجدہ :13)
Ayah 28:64

وَ قِیْلَ ادْعُوْا شُرَكَآءَكُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَهُمْ وَ رَاَوُا الْعَذَابَ١ۚ لَوْ اَنَّهُمْ كَانُوْا یَهْتَدُوْنَ Open ayah 28:64 in the Quran reader

اور کہیں گے پکارو اپنے شریکوں کو پھر پکاریں گے ان کو تو وہ جواب نہ دیں گے ان کو3 اور دیکھیں گے عذاب کسی طرح وہ راہ پائے ہوئے ہوتے4

3 یعنی کہا جائے گا کہ اب مدد کو بلاؤ، مگر وہ کیا مدد کرسکتے خود اپنی مصیبت میں گرفتار ہوں گے۔ کذا قال المفسرون۔ اور حضرت شاہ صاحب کی تحریر کا حاصل یہ ہے کہ شیاطین جب نیکوں کا نام لیں گے تو مشرکین سے کہا جائے گا کہ ان نیکوں کو پکارو ! وہ کچھ جواب نہ دیں گے۔ کیونکہ وہ ان مشرکانہ حرکات سے راضی نہ تھے یا خبر نہ رکھتے تھے۔ 4 یعنی اس وقت عذاب کو دیکھ کر یہ آرزو کریں گے کہ کاش دنیا میں سیدھی راہ چلتے تو یہ مصیبت کیوں دیکھنی پڑتی۔
Ayahs 28:65–66

وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ فَیَقُوْلُ مَا ذَاۤ اَجَبْتُمُ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 28:65 in the Quran reader

اور جس دن ان کو پکارے گا تو فرمائے گا کیا جواب دیا تھا تم نے پیغام پہنچانے والوں کو

فَعَمِیَتْ عَلَیْهِمُ الْاَنْۢبَآءُ یَوْمَئِذٍ فَهُمْ لَا یَتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 28:66 in the Quran reader

پھر بند ہوجائیں گی ان پر باتیں اس دن سو وہ آپس میں بھی نہ پوچھیں گے5

5 پہلے سوالات توحید کے متعلق تھے، یہ سوال رسالت کی نسبت ہوا۔ یعنی اپنی عقل سے تم نے اگر حق کو نہ سمجھا تھا تو پیغمبروں کے سمجھانے سے سمجھا ہوتا، بتلاؤ ان کے ساتھ تم نے کیا برتاؤ کیا۔ اس وقت کسی کو جواب نہ آئے گا۔ اور بات کرنے کی راہیں بند ہوجائیں گی۔
Ayah 28:67

فَاَمَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَعَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ مِنَ الْمُفْلِحِیْنَ Open ayah 28:67 in the Quran reader

سو جس نے کہ توبہ کی اور یقین لایا اور عمل کیے اچھے سو امید ہے کہ ہو چھوٹنے والوں میں6

6 یعنی وہاں کی کامیابی صرف ایمان و عمل صالح سے ہے۔ اب بھی جو کوئی کفر و شرک سے توبہ کر کے ایمان لایا اور نیکی اختیار کی، حق تعالیٰ اس کی پہلی خطائیں معاف کر کے فائز المرام کرے گا۔ (تنبیہ) (فَعَسٰٓي اَنْ يَّكُوْنَ مِنَ الْمُفْلِحِيْنَ ) 28 ۔ القصص :67) وعدہ ہے شہنشاہانہ انداز میں یعنی اس کو فلاح کی امید رکھنا چاہیے۔ گو ہم پر کسی کا دباؤ نہیں کہ ناچار ایسا کرنے پر مجبور ہوں۔ محض فضل و کرم سے وعدہ کیا جا رہا ہے۔
Ayah 28:68

وَ رَبُّكَ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ وَ یَخْتَارُ١ؕ مَا كَانَ لَهُمُ الْخِیَرَةُ١ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 28:68 in the Quran reader

اور تیرا رب پیدا کرتا ہے جو چاہے اور پسند کرے جس کو چاہے ان کے ہاتھ میں نہیں پسند کرنا7 اللہ نرالا ہے اور بہت اوپر ہے اس چیز سے کہ شریک بتلاتے ہیں8

7 یعنی ہر چیز کا پیدا کرنا بھی اسی کی مشیت و اختیار سے ہے اور کسی چیز کو پسند کرنے یا چھانٹ کر منتخب کرلینے کا حق بھی اسی کو حاصل ہے۔ جو اس کی مرضی ہو احکام بھیجے۔ جس شخص کو مناسب جانے کسی خاص منصب و مرتبہ پر فائز کرے۔ جس کسی میں استعداد دیکھے راہ ہدایت پر چلا کر کامیاب فرما دے اور مخلوقات کی ہر جنس میں سے جس نوع کو یا نوع میں سے جس فرد کو چاہے اپنی حکمت کے موافق دوسرے انواع و افراد سے ممتاز بنا دے۔ اس کے سوا کسی دوسرے کو اس طرح کے اختیار و انتخاب کا حق حاصل نہیں۔ حافظ ابن القیم نے زادالمعاد کے اوائل میں اس مضمون کو بہت بسط سے لکھا ہے فلیراجع۔ 8 یعنی تخلیق و تشریع اور اختیار مذکور میں حق تعالیٰ کا کوئی شریک نہیں لوگوں نے اپنی تجویز و انتخاب سے جو شرکاء ٹھہرا لیے ہیں سب باطل اور بےسند ہیں۔
Ayah 28:69

وَ رَبُّكَ یَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُوْرُهُمْ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ Open ayah 28:69 in the Quran reader

اور تیرا رب جانتا ہے جو چھپ رہا ہے ان کے سینوں میں اور جو کچھ کہ ظاہر میں کرتے ہیں9

9 یعنی دل میں جو فاسد عقیدے یا بری نیتیں رکھتے ہیں اور زبان، ہاتھ، پاؤں وغیرہ سے جو کام کرتے ہیں سب اللہ تعالیٰ کے علم میں ہیں اور وہ ہی ہر ایک شخص کی پوشیدہ استعداد و قابلیت سے آگاہ ہے اسی کے موافق معاملہ کرے گا۔
Ayah 28:70

وَ هُوَ اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ لَهُ الْحَمْدُ فِی الْاُوْلٰى وَ الْاٰخِرَةِ١٘ وَ لَهُ الْحُكْمُ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 28:70 in the Quran reader

اور وہی اللہ ہے کسی کی بندگی نہیں اس کے سوا اسی کی تعریف ہے دنیا اور آخرت میں اور اسی کے ہاتھ حکم ہے اور اسی کے پاس پھیرے جاؤ گے10

10 یعنی جس طرح تخلیق و اختیار اور علم محیط میں وہ متفرد ہے الوہیت میں بھی یگانہ ہے۔ بجز اس کے کسی کی بندگی نہیں ہوسکتی۔ کیونکہ اسی کی ذات منبع الکمالات میں تمام خوبیاں جمع ہیں۔ دنیا اور آخرت میں جو تعریف بھی ہو خواہ وہ کسی کے نام رکھ کر کی جائے حقیقت میں اسی کی تعریف ہے۔ اسی کا حکم چلتا ہے اسی کا فیصلہ ناطق ہے۔ اسی کو اقتدار کلی حاصل ہے اور انجام کار سب کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ آگے بتلاتے ہیں کہ رات دن میں جس قدر نعمتیں اور بھلائیاں تم کو پہنچتی ہیں اسی کے فضل و انعام سے ہیں بلکہ خود رات اور دن کا ادل بدل کرنا بھی اس کا مستقل احسان ہے۔
Ayah 28:71

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ جَعَلَ اللّٰهُ عَلَیْكُمُ الَّیْلَ سَرْمَدًا اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَنْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ یَاْتِیْكُمْ بِضِیَآءٍ١ؕ اَفَلَا تَسْمَعُوْنَ Open ayah 28:71 in the Quran reader

تو کہہ دیکھو تو اگر اللہ رکھ دے تم پر رات ہمیشہ کو قیامت کے دن تک1 کون حاکم ہے اللہ کے سوائے کہ لائے تم کو کہیں سے روشنی پھر کیا سنتے نہیں2

1 مثلاً سورج کو طلوع نہ ہونے دے یا اس سے روشنی سلب کرلے تو اپنے کاروبار کے لیے ایسی روشنی کہاں سے لاسکتے ہو۔ 2 یہ بات ایسی روشن اور صاف ہے کہ سنتے ہی سمجھ میں آجائے۔ تو کیا تم سنتے بھی نہیں۔
Ayah 28:72

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ جَعَلَ اللّٰهُ عَلَیْكُمُ النَّهَارَ سَرْمَدًا اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَنْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ یَاْتِیْكُمْ بِلَیْلٍ تَسْكُنُوْنَ فِیْهِ١ؕ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ Open ayah 28:72 in the Quran reader

تو کہہ دیکھو تو اگر رکھ دے اللہ تم پر دن ہمیشہ کو قیامت کے دن تک کون حاکم ہے اللہ کے سوائے کہ لائے تم کو رات جس میں آرام کرو پھر کیا تم نہیں دیکھتے3

3 یعنی اگر آفتاب کو غروب نہ ہونے دے ہمیشہ تمہارے سروں پر کھڑا رکھے تو جو راحت و سکون اور دوسرے فوائد رات کے آنے سے حاصل ہوتے ہیں ان کا سامان کون سی طاقت کرسکتی ہے۔ کیا ایسی روشن حقیقت بھی تم کو نظر نہیں آتی۔ (تنبیہ) " اَفَلاَ تُبْصِرُوْنَ "، ( اِنْ جَعَلَ اللّٰهُ عَلَيْكُمُ الَّيْلَ سَرْمَدًا) 28 ۔ القصص :71) کے مناسب ہے کیونکہ آنکھ سے دیکھنا عادۃً روشنی پر موقوف ہے جو دن میں پوری طرح ہوتی ہے۔ رات کی تاریکی میں چونکہ دیکھنے کی صورت نہیں، ہاں سننا ممکن ہے، اس لیے ( اِنْ جَعَلَ اللّٰهُ عَلَيْكُمُ الَّيْلَ سَرْمَدًا) 28 ۔ القصص :71) کے ساتھ اَفَلاَ تَسْمَعُوْنَ فرمانا ہی موزوں تھا۔ واللہ اعلم۔
Ayah 28:73

وَ مِنْ رَّحْمَتِهٖ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 28:73 in the Quran reader

اور اپنی مہربانی سے بنا دئیے تمہارے واسطے رات اور دن کہ اس میں چین بھی کرو اور تلاش بھی کرو کچھ اس کا فضل اور تاکہ تم شکر کرو4

4 یعنی رات دن کا الٹ پھیر کرتا رہتا تو رات کی تاریکی اور خنکی میں سکون و راحت بھی حاصل کرلو اور دن کے اجالے میں کاروبار بھی جاری رکھ سکو۔ اور روز و شب کے مختلف النوع انعامات پر حق تعالیٰ کا شکر ادا کرتے رہو۔
Ayahs 28:74–75

وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ فَیَقُوْلُ اَیْنَ شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ Open ayah 28:74 in the Quran reader

اور جس دن ان کو پکارے گا تو فرمائے گا کہاں ہیں میرے شریک جن کا دعویٰ تم کرتے تھے

وَ نَزَعْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِیْدًا فَقُلْنَا هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ فَعَلِمُوْۤا اَنَّ الْحَقَّ لِلّٰهِ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ Open ayah 28:75 in the Quran reader

جدا کریں گے ہم ہر فرقہ میں سے ایک احوال بتلانے والاف 5 پھر کہیں گے لاؤ اپنی سند6 تب جان لیں گے کہ سچ بات ہے اللہ کی اور کھوئی جائیں گی ان سے جو باتیں وہ جوڑتے تھے7

5 احوال بتلانے والا پیغمبر یا ان کے نائب جو نیک بخت تھے۔ (موضح) وہ بتلائیں گے کہ لوگوں نے شرائع سماویہ اور احکام الٰہیہ کے ساتھ کیا برتاؤ کیا۔ 6 یعنی خدا تعالیٰ کے شریک کس سند اور دلیل سے ٹھہرائے اور حلال و حرام وغیرہ کے احکام کس مأخذ صحیح سے لیے تھے۔ پیغمبروں کو تو تم نے مانا نہیں، پھر کس نے بتلایا کہ خدا کا یہ حکم ہے، یہ نہیں۔ 7 یعنی اس وقت نظر آجائے گا کہ سچی بات اللہ کی ہے۔ اور معبودیت صرف اسی کا حق ہے۔ کوئی اس کا شریک نہیں۔ دنیا میں پیغمبر جو بتلاتے تھے وہ ہی ٹھیک ہے۔ مشرکین نے جو عقیدے گھڑ رکھے تھے اور جو باتیں اپنے دل سے جوڑی تھیں اس روز سب کافور ہوجائیں گی۔
Ayah 28:76

اِنَّ قَارُوْنَ كَانَ مِنْ قَوْمِ مُوْسٰى فَبَغٰى عَلَیْهِمْ١۪ وَ اٰتَیْنٰهُ مِنَ الْكُنُوْزِ مَاۤ اِنَّ مَفَاتِحَهٗ لَتَنُوْٓاُ بِالْعُصْبَةِ اُولِی الْقُوَّةِ١ۗ اِذْ قَالَ لَهٗ قَوْمُهٗ لَا تَفْرَحْ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْفَرِحِیْنَ Open ayah 28:76 in the Quran reader

قارون جو تھا سو موسیٰ کی قوم سے پھر شرارت کرنے لگا ان پر8 اور ہم نے دیے تھے اس کو خزانے اتنے کہ اس کی کنجیاں اٹھانے سے تھک جاتے کئی مرد زور آور9 جب کہا اس کو اس کی قوم نے اترا مت اللہ کو نہیں بھاتے اترانے والے1

8 رکوع سابق کے آغاز میں دنیا کی بےثباتی اور حقارت آخرت کے مقابلہ میں بیان کی گئی تھی۔ بعدہ ذکر آخرت کی مناسبت سے کچھ احوال عالم آخرت کے بیان ہوئے۔ رکوع حاضر میں پھر اصل مضمون کی طرف عود کیا گیا ہے اور اسی دعوے کے استشہاد میں قارون کا قصہ سنایا جاتا ہے۔ کہتے ہیں کہ قارون حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا چچا زاد بھائی تھا اور فرعون کی پیشی میں رہتا تھا، جیسا کہ ظالم حکومتوں کا دستور ہے کہ کسی قوم کا خون چوسنے کے لیے انہی میں سے بعض افراد کو اپنا آلہ کار بنا لیتے ہیں۔ فرعون نے بنی اسرائیل میں سے اس ملعون کو چن لیا تھا۔ قارون نے اس وقت موقع پا کر دونوں ہاتھوں سے خوب دولت سمیٹی اور دنیاوی اقتدار حاصل کیا۔ جب بنی اسرائیل حضرت موسیٰ کے زیر حکم آئے اور فرعون غرق ہوا تو اس کی مالی ترقی کے ذرائع مسدود ہوگئے اور سرداری جاتی رہی۔ اس حسد وغیظ میں حضرت موسیٰ سے دل میں خلش رکھنے لگا۔ تاہم ظاہر میں مومن بنا ہوا تھا، تورات بہت پڑتا اور علم حاصل کرنے میں مشغول رہتا تھا۔ مگر دل صاف نہ تھا۔ حضرت موسیٰ اور ہارون کی خداداد عزت و وجاہت دیکھ کر جلتا اور کہتا کہ آخر میں بھی ان ہی کے چچا کا بیٹا ہوں۔ یہ کیا معنی کہ وہ دونوں تو نبی اور مذہبی سردار بن جائیں، مجھے کچھ بھی نہ ملے۔ کبھی مایوس ہو کر شیخی مارتا کہ انھیں نبوت مل گئی تو کیا ہوا۔ میرے پاس مال و دولت کے اتنے خزانے ہیں جو کسی کو میسر نہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ایک مرتبہ زکوٰۃ نکالنے کا حکم دیا تو لوگوں سے کہنے لگا کہ اب تک تو موسیٰ جو احکام لائے ہم تم نے برداشت کیے۔ مگر کیا تم یہ بھی برداشت کرلو گے کہ وہ ہمارا مال بھی ہم سے وصول کرنے لگے۔ کچھ لوگوں نے اس کی تائید میں کہا نہیں، ہم برداشت نہیں کرسکتے۔ آخر ملعون نے حضرت موسیٰ کو بدنام کرنے کی ایک گندی تجویز سوچی۔ کسی عورت کو بہکا سکھلا کر آمادہ کیا کہ بھرے مجمع میں جب موسیٰ (علیہ السلام) زناء کی حد بیان فرمائیں تو اپنے ساتھ ان کو مہتم کرنا۔ چناچہ عورت مجمع میں کہہ گزری۔ جب حضرت موسیٰ نے اس کو شدید قسمیں دیں، اور اللہ تعالیٰ کے غضب سے ڈرایا تو اس کا دل ڈرا۔ تب اس نے صاف کہہ دیا کہ قارون نے مجھ کو سکھایا تھا۔ اس وقت حضرت موسیٰ کی بد دعا سے وہ مع اپنے گھر اور خزانوں کے زمین میں دھنسا دیا گیا۔ 9 بعض سلف نے " مفاتح " کی تفسیر خزائن سے کی ہے۔ یعنی اس قدر روپیہ تھا کہ طاقتور مردوں کی ایک جماعت بھی اسے مشکل سے اٹھا سکتی۔ لیکن اکثر مفسرین نے مفاتح کی تفسیر کنجیوں سے کی ہے۔ یعنی مال کے صندوق اتنے تھے جن کی کنجیاں اٹھاتے ہوئے کئی زور آور آدمی تھک جائیں۔ اور یہ چنداں مستبعد نہیں جیسا کہ بعض تفاسیر میں اس کی صورت بتلائی گئی ہے۔ 1 یعنی اس فانی و زائل دولت پر کیا اتراتا ہے جس کی وقعت اللہ کے ہاں پر پشہ کی برابر بھی نہیں۔ خوب سمجھ لے کہ خدا تعالیٰ کو اکڑنے اور اترانے والے بندے اچھے نہیں معلوم ہوتے اور جو چیز اس مالک کو نہ بھائے اس کا نتیجہ بجز تباہی و ہلاکت کے کیا ہے۔
Ayah 28:77

وَ ابْتَغِ فِیْمَاۤ اٰتٰىكَ اللّٰهُ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ وَ لَا تَنْسَ نَصِیْبَكَ مِنَ الدُّنْیَا وَ اَحْسِنْ كَمَاۤ اَحْسَنَ اللّٰهُ اِلَیْكَ وَ لَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِی الْاَرْضِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 28:77 in the Quran reader

اور جو تجھ کو اللہ نے دیا ہے اس سے کما لے پچھلا گھر2 اور نہ بھول اپنا حصہ دنیا سے اور بھلائی کر جیسے اللہ نے بھلائی کی تجھ سے3 اور مت چاہ خرابی ڈالنی ملک میں اللہ کو بھاتے نہیں خرابی ڈالنے والے4

2 یعنی خدا کا دیا ہوا مال اس لیے ہے کہ انسان اسے آخرت کا توشہ بنائے۔ نہ یہ کہ غفلت کے نشہ میں چور ہو کر غرور تکبر کی چال چلنے لگے۔ 3 یعنی حصہ موافق کھا، پہن اور زیادہ مال سے آخرت کما۔ اور مخلوق کے ساتھ سلوک کر۔ 4 یعنی حضرت موسیٰ کی ضد نہ کر، خدا کی زمین پر سیدھی طرح رہ۔ خواہ مخواہ ملک میں اودھم مچانا اور خرابیاں ڈالنا اچھا نہیں۔
Ayah 28:78

قَالَ اِنَّمَاۤ اُوْتِیْتُهٗ عَلٰى عِلْمٍ عِنْدِیْ١ؕ اَوَ لَمْ یَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ قَدْ اَهْلَكَ مِنْ قَبْلِهٖ مِنَ الْقُرُوْنِ مَنْ هُوَ اَشَدُّ مِنْهُ قُوَّةً وَّ اَكْثَرُ جَمْعًا١ؕ وَ لَا یُسْئَلُ عَنْ ذُنُوْبِهِمُ الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 28:78 in the Quran reader

بولا یہ مال تو مجھ کو ملا ہے ایک ہنر سے جو میرے پاس ہے5 کیا اس نے یہ نہ جانا کہ اللہ، غارت کرچکا ہے اس سے پہلے کتنی جماعتیں جو اس سے زیادہ رکھتی تھیں زور اور زیادہ رکھتی تھیں مال کی جمع6 اور پوچھے نہ جائیں گناہ گاروں سے ان کے گناہ7

5 یعنی میں ہنر مند تھا۔ کمانے کا سلیقہ رکھتا تھا۔ اپنی لیاقت و قابلیت یا کسی خاص علمی مہارت سے مجھے یہ دولت حاصل ہوئی۔ اللہ نے بھی میری لیاقت کو دیکھ کر اور قابل جان کر یہ کچھ دیا ہے۔ کیا یونہی بیٹھے بٹھائے بےمحنت مل گیا ہے کہ موسیٰ کے حکم اور تمہارے مشورہ کے موافق خدا کے نام پر خرچ کر ڈالوں۔ 6 یعنی دولت کمانے کی لیاقت کس نے دی۔ افسوس ہے منعم حقیقی کو بھول کر اس کی دی ہوئی دولت و لیاقت پر غرہ کرنے لگا۔ کیا اسی دولت کو اس نے اپنی نجات کا ضامن تصور کر رکھا ہے۔ اسے معلوم نہیں کتنی جماعتیں اپنی شرارت و سرکشی کی بدولت پہلے تباہ کی جا چکی ہیں۔ جن کے پاس بادشاہتیں تھیں اور اس ملعون سے زیادہ خزانوں اور لشکروں کے مالک تھے۔ ان کا انجام سن کر اسے عبرت نہ ہوئی۔ 7 یعنی پوچھنے کی ضرورت کیا ہوگی۔ اللہ کو ان کے گناہ ایک ایک کر کے معلوم ہیں، فرشتوں کے ہاں سب لکھے ہوئے ہیں، ہاں بطور توبیخ و تقریع اگر کسی وقت سوال ہو وہ دوسری بات ہے۔ یا یہ کنایہ ہے گناہوں کی کثرت سے۔ یعنی اتنی تعداد میں ہوں گے کہ ایک ایک جزئی کی پوچھ پاچھ کی ضرورت نہ رہے گی۔ اور حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ " پوچھے نہ جائیں گے گناہ، یعنی گنہگار کی سمجھ درست ہو تو گناہ کیوں کرے۔ جب سمجھ الٹی پڑے تو الزام دینے سے کیا فائدہ کہ یہ برا کام کیوں کرتا ہے اس کی برائی نہیں سمجھتا۔ " (موضح)
Ayah 28:79

فَخَرَجَ عَلٰى قَوْمِهٖ فِیْ زِیْنَتِهٖ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ یُرِیْدُوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا یٰلَیْتَ لَنَا مِثْلَ مَاۤ اُوْتِیَ قَارُوْنُ١ۙ اِنَّهٗ لَذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ Open ayah 28:79 in the Quran reader

پھر نکلا اپنی قوم کے سامنے اپنے ٹھاٹھ سے کہنے لگے جو لوگ طالب تھے دنیا کی زندگانی کے اے کاش ہم کو ملے جیسا کچھ ملا ہے قارون کو بیشک اس کی بڑی قسمت ہے8

8 یعنی لباس فاخرہ پہن کر بہت سے خدم و حشم کے ساتھ بڑی شان و شکوہ اور ٹیپ ٹاپ سے نکلا، جسے دیکھ کر طالبین دنیا کی آنکھیں چندھیا گئیں۔ کہنے لگے کاش ہم بھی دنیا میں ایسی ترقی اور عروج حاصل کرتے جو اس کو حاصل ہوا۔ بیشک یہ بڑا ہی صاحب اقبال اور بڑی قسمت والا ہے۔
Ayah 28:80

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ وَیْلَكُمْ ثَوَابُ اللّٰهِ خَیْرٌ لِّمَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا١ۚ وَ لَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الصّٰبِرُوْنَ Open ayah 28:80 in the Quran reader

اور بولے جن کو ملی تھی سمجھ اے خرابی تمہاری اللہ کا دیا ثواب بہتر ہے ان کے واسطے جو یقین لائے اور کام کیا بھلا9 اور یہ بات انہی کے دل میں پڑتی ہے جو سہنے والے ہیں10

9 یعنی سمجھدار اور ذی علم لوگوں نے کہا کہ کم بختو ! اس فانی چمک دمک میں کیا رکھا ہے جو ریجھے جاتے ہو۔ مومنین صالحین کو اللہ کے ہاں جو دولت ملنے والی ہے اس کے سامنے یہ ٹیپ ٹاپ محض ہیچ اور لاشئی ہے اتنی بھی نسبت نہیں جو ذرہ کو آفتاب سے ہوتی ہے۔ 10 یعنی دنیا سے آخرت کو بہتر وہ ہی جانتے ہیں جن سے محنت سہی جاتی ہے۔ اور بےصبر لوگ حرص کے مارے دنیا کی آرزو پر گرتے ہیں۔ نادان آدمی دنیا کی آسودگی دیکھ کر سمجھتا ہے کہ اس کی بڑی قسمت ہے اس کی شب و روز کی فکر و تشویش، درد سری اور آخرت کی ذلت کو اور سو جگہ خوشامد کرنے کو نہیں دیکھتا اور یہ نہیں دیکھتا کہ دنیا میں کچھ آرام ہے تو دس بیس برس، اور مرنے کے بعد کاٹنے ہیں ہزاروں برس۔ (موضح بتغییر یسیر)