27. Surah An-Naml

النملThe Ant · 93 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayah 27:41

قَالَ نَكِّرُوْا لَهَا عَرْشَهَا نَنْظُرْ اَتَهْتَدِیْۤ اَمْ تَكُوْنُ مِنَ الَّذِیْنَ لَا یَهْتَدُوْنَ Open ayah 27:41 in the Quran reader

کہا روپ بدل دکھلاؤ اس عورت کے آگے اس کے تخت کا ہم دیکھیں سمجھ پاتی ہے یا ان لوگوں میں ہوتی ہے جن کو سمجھ نہیں1

1 یعنی تخت کا رنگ روپ تبدیل کردو۔ اور اس کی وضع و ہیئت بدل ڈالو، جسے دیکھ کر بلقیس باآسانی نہ سمجھ سکے۔ اس سے بلقیس کی عقل و فہم کو آزمانا تھا کہ ہدایت پانے کی استعداد اس میں کہاں تک موجود ہے۔
Ayah 27:42

فَلَمَّا جَآءَتْ قِیْلَ اَهٰكَذَا عَرْشُكِ١ؕ قَالَتْ كَاَنَّهٗ هُوَ١ۚ وَ اُوْتِیْنَا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهَا وَ كُنَّا مُسْلِمِیْنَ Open ayah 27:42 in the Quran reader

پھر جب وہ آپہنچی کسی نے کہا کیا ایسا ہی ہے تیرا تخت بولی گویا یہ وہی ہے2 اور ہم کو معلوم ہوچکا پہلے سے اور ہم ہوچکے حکم بردار3

2 نہ کہا کہ ہاں وہ ہی ہے اور نہ بالکل نفی کی، جو حقیقت تھی ٹھیک ٹھیک ظاہر کردی تخت وہ ہی ہے مگر کچھ اوصاف میں فرق آگیا۔ اور فرق چونکہ متعدبہ نہیں اس لیے کہہ سکتے ہیں کہ گویا وہ ہی ہے۔ 3 یعنی اس معجزہ کی حاجت نہ تھی، ہم کو پہلے ہی یقین ہوچکا تھا کہ سلیمان محض بادشاہ نہیں۔ اللہ کے مقرب بندہ ہیں اور اسی لیے ہم نے فرمانبرداری اور تسلیم وانقیاد کا راستہ اختیار کیا۔
Ayah 27:43

وَ صَدَّهَا مَا كَانَتْ تَّعْبُدُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّهَا كَانَتْ مِنْ قَوْمٍ كٰفِرِیْنَ Open ayah 27:43 in the Quran reader

اور روک دیا اس کو ان چیزوں سے جو پوجتی تھی اللہ کے سوا البتہ وہ تھی منکر لوگوں میں3

4 یعنی حق تعالیٰ نے یا سلیمان (علیہ السلام) نے حق تعالیٰ کے حکم سے ملکہ بلقیس کو آفتاب وغیرہ کی پرستش سے روک دیا۔ جس میں وہ بمعیت اپنی قوم کے مبتلا تھی۔ یا یہ مطلب ہے کہ سلیمان (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہونے تک جو اعلانیہ اسلام کا اظہار نہیں کیا اس کا سبب یہ ہے کہ جھوٹے معبودوں کے خیال اور قوم کفار کی تقلید و صحبت نے اس کو ایسا کرنے سے روک رکھا تھا۔ نبی کی صحبت میں پہنچ کر وہ روک جاتی رہی۔ ورنہ سلیمان (علیہ السلام) کی صداقت کا اجمالی علم اس کو پہلے ہی ہوچکا تھا۔
Ayah 27:44

قِیْلَ لَهَا ادْخُلِی الصَّرْحَ١ۚ فَلَمَّا رَاَتْهُ حَسِبَتْهُ لُجَّةً وَّ كَشَفَتْ عَنْ سَاقَیْهَا١ؕ قَالَ اِنَّهٗ صَرْحٌ مُّمَرَّدٌ مِّنْ قَوَارِیْرَ١ؕ۬ قَالَتْ رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ وَ اَسْلَمْتُ مَعَ سُلَیْمٰنَ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 27:44 in the Quran reader

کسی نے کہا اس عورت کو اندر چل محل میں پھر جب دیکھا اس کو خیال کیا کہ وہ پانی ہے گہرا اور کھولیں اپنی پنڈلیاں4 کہا یہ تو ایک محل ہے جڑے ہوئے ہیں اس میں شیشے5 بولی اے رب میں نے برا کیا ہے اپنی جان کا اور میں حکم بردار ہوئی ساتھ سلیمان کے اللہ کے آگے جو رب ہے سارے جہان کا6

5 یعنی پانی میں گھسنے کے لیے پائنچے چڑھا لیے جیسے عام قاعدہ ہے کہ پانی کی گہرائی پوری طرح پر معلوم نہ ہو تو گھسنے والا شروع میں پائنچے چڑھا لیتا ہے۔ 6 حضرت سلیمان (علیہ السلام) دیوان خانہ میں بیٹھے تھے۔ اس میں پتھروں کی جگہ شیشے کا فرش تھا۔ صاف شیشہ دور سے نظر آتا کہ پانی لہرا رہا ہے۔ اور ممکن ہے شیشہ کے نیچے واقعی پانی ہو، یعنی حوض کو شیشہ سے پاٹ دیا ہو۔ اس نے پانی میں گھسنے کے لیے پنڈلیاں کھولیں۔ سلیمان نے پکارا کہ یہ شیشے کا فرش ہے پانی نہیں۔ اس کو اپنی عقل کا قصور اور ان کی عقل کا کمال معلوم ہوا۔ سمجھی کہ دین میں بھی جو یہ سمجھتے ہیں وہ ہی صحیح ہوگا۔ اور یہ بھی پتہ لگ گیا کہ جس سازو سامان پر اس کی قوم کو ناز تھا، یہاں اس سے بڑھ کر سامان موجود ہے۔ گویا سلیمان (علیہ السلام) نے اس کو متنبہ فرما دیا کہ آفتاب و ستاروں کی چمک پر مفتون ہو کر انھیں خدا سمجھ لینا ایسا دھوکہ ہے جیسے آدمی شیشہ کی چمک دیکھ کر پانی گمان کرلے۔ 7 یعنی اے پروردگار ! میں تیری حکمبردار ہو کر سلیمان کا راستہ اختیار کرتی ہوں، اب تک میں نے اپنی جان پر بڑا ظلم کیا کہ شرک و کفر میں مبتلا رہی، اب اس سے تائب ہو کر تیری بارگاہ ربوبیت کی طرف رجوع کرتی ہوں۔
Ayah 27:45

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ فَاِذَا هُمْ فَرِیْقٰنِ یَخْتَصِمُوْنَ Open ayah 27:45 in the Quran reader

اور ہم نے بھیجا تھا ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو کہ بندگی کرو اللہ کی پھر وہ تو دو فرقے ہو کر لگے جھگڑنے7

8 یعنی ایک ایمان والے اور ایک منکر، جیسے مکہ کے لوگ پیغمبر کے آنے سے جھگڑنے لگے۔ قوم " ثمود " کے جھگڑنے کی قدرے تفصیل سورة " اعراف " کی ان آیات میں گزر چکی۔ (قَالَ الْمَلَاُ الَّذِيْنَ اسْتَكْبَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لِلَّذِيْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِمَنْ اٰمَنَ مِنْهُمْ ) 7 ۔ الاعراف :75)
Ayah 27:46

قَالَ یٰقَوْمِ لِمَ تَسْتَعْجِلُوْنَ بِالسَّیِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ١ۚ لَوْ لَا تَسْتَغْفِرُوْنَ اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 27:46 in the Quran reader

کہا اے میری قوم کیوں جلدی مانگتے ہو برائی کو پہلے بھلائی سے کیوں نہیں گناہ بخشواتے اللہ سے شاید تم پر رحم ہوجائے8

9 حضرت صالح (علیہ السلام) نے ان کو بہت سمجھایا۔ ہر طرح فرمائش کی اور آخر میں عذاب کی دھمکی دی۔ جس پر وہ کہنے لگے ( يٰصٰلِحُ ائْتِنَا بِمَا تَعِدُنَآ اِنْ كُنْتَ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ ) 7 ۔ الاعراف :77) یعنی سچا ہے تو عذاب الٰہی ہم پر لے آ، دیر کس بات کی ہے۔ حضرت صالح نے فرمایا کہ کم بختو ! ایمان و توبہ اور بھلائی کی راہ تو اختیار نہیں کرتے جو دنیا و آخرت میں کام آئے۔ الٹے برائی طلب کرنے میں جلدی مچا رہے ہو۔ برا وقت آپڑے گا تو ساری طمطراق ختم ہوجائے گی۔ ابھی موقع ہے کہ گناہوں سے توبہ کر کے محفوظ ہوجاؤ۔ کیوں توبہ و استغفار نہیں کرتے جو حق تعالیٰ عذاب کی جگہ اپنی رحمتیں تم پر نازل فرمائے۔
Ayah 27:47

قَالُوا اطَّیَّرْنَا بِكَ وَ بِمَنْ مَّعَكَ١ؕ قَالَ طٰٓئِرُكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ تُفْتَنُوْنَ Open ayah 27:47 in the Quran reader

بولے ہم نے منحوس قدم دیکھا تجھ کو اور تیرے ساتھ والوں کو9 کہا تمہاری بری قسمت اللہ کے پاس ہے10 کچھ نہیں تم لوگ جانچے جاتے ہو11

10 یعنی جب سے تیرا منحوس قدم آیا ہے اور یہ باتیں شروع کی ہیں ہم پر قحط وغیرہ کی سختیاں پڑتی جاتی ہیں اور گھر گھر میں لڑائی جھگڑے شروع ہوگئے۔ 11 یعنی یہ سختیاں یا برائیاں میری وجہ سے نہیں۔ تمہاری بدقسمتی سے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے تمہاری شرارتوں اور بد اعمالیوں کے سبب سے مقدر کی ہیں۔ 12 یعنی کفر کی شامت سے تم پر سختی پڑی ہے کہ دیکھیں سمجھتے ہو یا نہیں۔
Ayah 27:48

وَ كَانَ فِی الْمَدِیْنَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ یُّفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا یُصْلِحُوْنَ Open ayah 27:48 in the Quran reader

اور تھے اس شہر میں نو شخص کہ خرابی کرتے ملک میں اور اصلاح نہ کرتے12

13 یہ نو شخص شاید نو جماعتوں کے سردار ہوں گے جن کا کام ملک میں فساد پھیلانے اور خرابی ڈالنے کے سوا کچھ نہ تھا۔ اصلاح و درستی کی طرف ان کا قدم کبھی نہ اٹھتا تھا۔ مکہ میں بھی کافروں کے نو سردار تھے جو ہمہ وقت اسلام کی بیخ کنی اور پیغمبر کی دشمنی میں ساعی رہتے تھے۔ بعض مفسرین نے ان کے نام لکھے ہیں۔
Ayah 27:49

قَالُوْا تَقَاسَمُوْا بِاللّٰهِ لَنُبَیِّتَنَّهٗ وَ اَهْلَهٗ ثُمَّ لَنَقُوْلَنَّ لِوَلِیِّهٖ مَا شَهِدْنَا مَهْلِكَ اَهْلِهٖ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ Open ayah 27:49 in the Quran reader

بولے کہ آپس میں قسم کھاؤ اللہ کی کہ البتہ رات کو جا پڑیں ہم اس پر اور اس کے گھر پر پھر کہہ دیں گے اس کے دعویٰ کرنے والے کو ہم نے نہیں دیکھا جب تباہ ہوا اس کا گھر اور ہم بیشک سچ کہتے ہیں1

1 یعنی آپس میں معاہدے اور حلف ہوئے کہ سب مل کر رات کو حضرت صالح کے گھر پر ٹوٹ پڑو اور کسی کو زندہ نہ چھوڑو۔ پھر جب کوئی ان کے خون کا دعویٰ کرنے والا ہو تو کہہ دینا ہمیں خبر نہیں۔ ہم سچ کہتے ہیں کہ اس کے گھر کی تباہی ہماری آنکھوں نے نہیں دیکھی۔ گویا ہم خود تو ایسی حرکت کیا کرتے اس وقت موقع پر موجود بھی نہ تھے۔ اس طرح کی متفقہ سازش اور دروغ گوئی سے ہم میں ایک بھی ملزم نہ ٹھہر سکے گا جس سے ان کے حمایتی خون بہا وصول کریں۔
Ayah 27:50

وَ مَكَرُوْا مَكْرًا وَّ مَكَرْنَا مَكْرًا وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 27:50 in the Quran reader

اور انہوں نے بنایا ایک فریب اور ہم نے ایک فریب اور ان کو خبر نہ ہوئی2

2 ان کا مکر تو وہ جھوٹی سازش تھی اور خدا کا مکر تھا ان کو ڈھیل دینا کہ خوب دل کھول کر اپنی شرارتوں کی تکمیل کرلیں تاکہ مستحق عذاب عظیم ہونے میں کوئی حجت و عذر باقی نہ رہے۔ وہ سمجھ رہے تھے کہ ہم حضرت صالح کا قصہ ختم کر رہے ہیں، یہ خبر نہ تھی کہ اندر اندر ان ہی کی جڑ کٹ رہی ہے اور ان ہی کا قصہ ختم ہو رہا ہے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ " ان کی ہلاکت کے اسباب پورے ہونے تھے، شرارت جب تک حد کو نہ پہنچے ہلاکت نہیں آتی۔ "
Ayah 27:51

فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ مَكْرِهِمْ١ۙ اَنَّا دَمَّرْنٰهُمْ وَ قَوْمَهُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 27:51 in the Quran reader

پھر دیکھ لے کیسا ہوا انجام ان کے فریب کا کہ ہلاک کر ڈالا ہم نے ان کو اور ان کی قوم کو سب کو3

3 ان نو اشخاص نے اول اتفاق کر کے اونٹنی کو ہلاک کیا۔ حضرت صالح نے فرمایا کہ اب تین دن سے زیادہ مہلت نہیں عذاب آکر رہے گا۔ تب آپس میں ٹھہرایا کہ ہم تو خیر تین دن کے بعد ہلاک کیے جائیں گے ان کا تین دن سے پہلے ہی کام تمام کردو۔ چناچہ شب کے وقت حضرت صالح کے گھر پر چھاپہ مارنے اور ان کو مع اہل و عیال کے قتل کرنے کا ارادہ کیا۔ یہ نو آدمی اس ناپاک مقصد کے لیے تیار ہو کر نکلے باقی کفار ان کے تابع یا معین تھے۔ حق تعالیٰ نے حضرت صالح کی حفاظت فرمائی۔ فرشتوں کا پہرہ لگا دیا، آخر وہ تو عذاب سماوی سے تباہ ہوئے اور اپنے ساتھ قوم کو بھی تباہ کرایا۔
Ayah 27:52

فَتِلْكَ بُیُوْتُهُمْ خَاوِیَةًۢ بِمَا ظَلَمُوْا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 27:52 in the Quran reader

سو یہ پڑے ہیں ان کے گھر ڈھیئے ہوئے سبب ان کے انکار کے4 البتہ اس میں نشانی ہے ان لوگوں کے لیے جو جانتے ہیں5

4 مکہ والے شام کا سفر کرتے تو راستہ پر " وادی القریٰ " میں ثمود کی بستیوں کے کھنڈر دیکھتے تھے۔ (فَتِلْكَ بُيُوْتُهُمْ خَاوِيَةًۢ بِمَا ظَلَمُوْا) 27 ۔ النمل :52) میں ان ہی کی طرف اشارہ ہے۔ 5 یعنی جانے والوں کو چاہیے کہ ان واقعات ہائلہ سے عبرت حاصل کریں۔
Ayah 27:53

وَ اَنْجَیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَ Open ayah 27:53 in the Quran reader

اور بچا دیا ہم نے ان کو جو یقین لائے تھے اور بچتے رہے تھے6

6 یعنی حضرت صالح کے رفقاء جو ایمان لائے اور کفر و عصیان سے بچتے تھے۔ ہم نے ان کو عذاب کی لپیٹ سے بچا دیا۔ خدا کی قدرت ہے تو چن چن کر کافروں کو ہلاک کرتا ہے مومن کو نہیں چھوتا۔
Ayah 27:54

وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ وَ اَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ Open ayah 27:54 in the Quran reader

اور لوط کو جب کہا اس نے اپنی قوم کو کیا تم کرتے ہو بےحیائی اور تم دیکھتے ہو7

7 یعنی دیکھتے ہو کیسا برا اور گندہ کام ہے۔
Ayah 27:55

اَئِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِّنْ دُوْنِ النِّسَآءِ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُوْنَ Open ayah 27:55 in the Quran reader

کیا تم دوڑتے ہو مردوں پر للچا کر عورتوں کو چھوڑ کر کوئی نہیں تم لوگ بےسمجھ ہو8

8 یعنی تم سمجھتے نہیں کہ اس بےحیائی کا انجام کیا ہونے والا ہے، پرلے درجہ کے جاہل اور احمق ہو۔
Ayah 27:56

فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اَخْرِجُوْۤا اٰلَ لُوْطٍ مِّنْ قَرْیَتِكُمْ١ۚ اِنَّهُمْ اُنَاسٌ یَّتَطَهَّرُوْنَ Open ayah 27:56 in the Quran reader

پھر اور کچھ جواب نہ تھا اس کی قوم کا مگر یہی کہ کہتے تھے نکال دو لوط کے گھر کو اپنے شہر سے یہ لوگ ہیں ستھرے رہا چاہتے9

9 یعنی اپنے کو بڑا پاک و صاف بنانا چاہتے ہیں۔ پھر ہم ناپاکوں میں ان کا کیا کام۔
Ayah 27:57

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ١٘ قَدَّرْنٰهَا مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 27:57 in the Quran reader

پھر بچا دیا ہم نے اس کو اور اس کے گھر والوں کو10 مگر اس کی عورت، مقرر کردیا تھا ہم نے اس کو، رہ جانے والوں میں11

10 یعنی انھیں تباہ کر کے انھیں بچالیا۔ 11 یعنی حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی جو ان بدمعاشوں کی اعانت کرتی تھی وہ بھی ہلاک ہونے والوں کے ساتھ ڈھیر ہوگئی۔
Ayah 27:58

وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ مَّطَرًا١ۚ فَسَآءَ مَطَرُ الْمُنْذَرِیْنَ۠ Open ayah 27:58 in the Quran reader

اور برسا دیا ہم نے ان پر برساؤ پھر کیا برا برساؤ تھا ان ڈرائے ہوؤں کا12

12 یعنی آسمان سے پتھر برسائے اور شہر کا تختہ الٹ دیا۔ حضرت شاہ صاحب مذکورہ بالا تین قصوں پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ حضرت سلیمان کے قصہ میں فرمایا " ہم لائیں گے لشکر جس کا سامنا نہ کرسکیں گے، وہ ہی بات ہوئی رسول میں اور مکہ والوں میں۔ اور حضرت صالح پر نو شخص متفق ہوئے کہ رات کو جا پڑیں۔ اللہ نے ان کو بچایا اور ان کو غارت کیا۔ مکہ کے لوگ بھی یہ ہی چاہ چکے، لیکن نہ بن پڑا، جس رات حضرت ﷺ نے ہجرت کی، کتنے کافر حضرت ﷺ کا گھر گھیرے بیٹھے تھے کہ صبح کو اندھیرے میں نکلیں تو سب مل کر مار لیں (کسی ایک کو خون بہا نہ دینا پڑے) حضرت ﷺ صاف بچ کر نکل گئے۔ ان کو نہ سوجھا۔ اور قوم لوط نے چاہا کہ پیغمبر کو شہر سے نکال دیں، یہ ہی مکہ والے بھی چاہ چکے۔ اللہ نے آپ سے نکلنا بتایا کہ خود اپنے اختیار سے شہر چھوڑ کر نکل جاؤ۔ اور اسی میں کام نکالا۔ "
Ayah 27:59

قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ وَ سَلٰمٌ عَلٰى عِبَادِهِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰى١ؕ آٰللّٰهُ خَیْرٌ اَمَّا یُشْرِكُوْنَؕ Open ayah 27:59 in the Quran reader

تو کہہ تعریف ہے اللہ کو اور سلام ہے اس کے بندوں پر جن کو اس نے پسند کیا13 بھلا اللہ بہتر ہے یا جن کو وہ شریک کرتے ہیں۔14

13 قصص سے فارغ ہو کر آگے " اللّٰہُ خَیْرًا مَّا یُشْرِکُونَ " سے توحید کا بیان فرمانا ہے۔ یہ الفاظ بطور خطبہ کے تعلیم فرمائے جو بیان شروع کرنے سے قبل ہونا چاہیے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ " اللہ کی تعریف اور پیغمبر پر سلام بھیج کر اگلی بات شروع کرنی لوگوں کو سکھلا دی۔ " (موضح) اور بعض مفسرین کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے جو کمالات و احسانات اوپر بضمن قصص مذکور ہوئے ہیں ان پر پیغمبر کو حکم ہوا کہ اللہ کی حمد و ثنا کریں اور شکر بجا لائیں اور اس کے مقبول بندوں پر جن میں سے بعضوں کا اوپر نام لیا گیا ہے۔ سلام بھیجیں۔ 14 یہاں سے توحید کا وعظ شروع کیا گیا ہے یعنی قصص مذکورہ بالا سن کر اور دلائل تکوینہ و تنزیلیہ میں غور کر کے تم ہی بتلاؤ کہ ایک خدائے وحدہ لا شریک لہ کا ماننا بہتر اور نافع اور معقول ہے یا اس کی خدائی میں اس کی عاجز ترین مخلوق کو شریک ٹھہرانا۔ یہ مسئلہ اب کچھ ایسا مشکل تو نہیں رہا جس کا فیصلہ کرنے میں کچھ وقت ہو یا دیر لگے۔ تاہم مزید تذکیر و تنبیہ کی غرض سے آگے اللہ تعالیٰ کی بعض شؤن وصفات بیان کی جاتی ہیں جو توحید پر دال ہیں۔
Ayah 27:60

اَمَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ اَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً١ۚ فَاَنْۢبَتْنَا بِهٖ حَدَآئِقَ ذَاتَ بَهْجَةٍ١ۚ مَا كَانَ لَكُمْ اَنْ تُنْۢبِتُوْا شَجَرَهَا١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ بَلْ هُمْ قَوْمٌ یَّعْدِلُوْنَؕ Open ayah 27:60 in the Quran reader

بھلا کس نے بنائے آسمان اور زمین اور اتار دیا تمہارے لیے آسمان سے پانی پھر اگائے ہم نے اس سے باغ رونق والے تمہارا کام نہ تھا کہ اگاتے ان کے درخت1 اب کوئی اور حاکم ہے اللہ کے ساتھ کوئی نہیں وہ لوگ راہ سے مڑتے ہیں2

1 سرے سے درختوں کا اگانا تمہارے اختیار میں نہیں۔ چہ جائیکہ اس کا پھل پھول لانا اور بارآور کرنا۔ 2 یعنی تمام دنیا جانتی ہے اور خود یہ مشرکین بھی مانتے ہیں کہ زمین و آسمان کا پیدا کرنا، بارش برسانا، درخت اگانا بجز اللہ تعالیٰ کے کسی کا کام نہیں۔ چناچہ دوسری جگہ قرآن میں ان کا اقرار و اعتراف مذکور ہے پھر یہاں پہنچ کر راستہ سے کیوں کترا جاتے ہیں۔ جب اللہ کے سوا کوئی ہستی نہیں جو خلق و تدبیر کرسکے یا کسی چیز کا مستقل اختیار رکھے تو اس کی الوہیت و معبودیت میں وہ کس طرح شریک ہوجائے گی۔ " عبادت انتہائی تذلل کا نام ہے سو وہ اس کی ہونی چاہیے جو انتہائی درجہ میں کامل اور با اختیار ہو۔ کسی ناقص یا عاجز مخلوق کو معبودیت میں خالق کے برابر کردینا انتہائی ظلم اور ہٹ دھرمی ہے۔
Ayah 27:61

اَمَّنْ جَعَلَ الْاَرْضَ قَرَارًا وَّ جَعَلَ خِلٰلَهَاۤ اَنْهٰرًا وَّ جَعَلَ لَهَا رَوَاسِیَ وَ جَعَلَ بَیْنَ الْبَحْرَیْنِ حَاجِزًا١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَؕ Open ayah 27:61 in the Quran reader

بھلا کس نے بنایا زمین کو ٹھہرنے کے لائق3 اور بنائیں اس کے بیچ میں ندیاں اور رکھے اس کے ٹھہرانے کو بوجھ4 اور رکھا دو دریا میں پردہ5 اب کوئی اور حاکم ہے اللہ کے ساتھ کوئی نہیں بہتوں کو ان میں سمجھ نہیں6

3 یعنی آدمی اور جانوروں کی قیام گاہ ہے۔ آرام سے اس پر زندگی بسر کرتے اور اس کے محاصل سے منتفع ہوتے ہیں۔ 4 یعنی پہاڑ رکھ دیے تاکہ ٹھہری رہے کپکپائے نہیں۔ 5 اس کی تحقیق قریب ہی سورة " فرقان " میں گزر چکی۔ آیت (وَهُوَ الَّذِيْ مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ ھٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَّھٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ ۚ وَجَعَلَ بَيْنَهُمَا بَرْزَخًا وَّحِجْرًا مَّحْجُوْرًا) 25 ۔ الفرقان :53) کا فائدہ ملاحظہ کرلیا جائے۔ 6 یعنی کوئی اور با اختیار ہستی ہے جس سے یہ کام بن پڑیں اور اس بناء پر وہ معبود بننے کے لائق ہو۔ جب نہیں تو معلوم ہوا کہ یہ مشرکین محض جہالت اور ناسمجھی سے شرک و مخلوق پرستی کے غار عمیق میں گرتے چلے جا رہے ہیں۔
Ayah 27:62

اَمَّنْ یُّجِیْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاهُ وَ یَكْشِفُ السُّوْٓءَ وَ یَجْعَلُكُمْ خُلَفَآءَ الْاَرْضِ١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَؕ Open ayah 27:62 in the Quran reader

بھلا کون پہنچتا ہے بےکس کی پکار کو جب اس کو پکارتا ہے اور دور کردیتا ہے سختی7 اور کرتا ہے تم کو نائب اگلوں کا زمین پر8 اب کوئی حاکم ہے اللہ کے ساتھ تم بہت کم دھیان کرتے ہو9

7 یعنی جب اللہ چاہے اور مناسب جانے تو بےکس اور بیقرار کی فریاد سن کر سختی کو دور کردیتا ہے۔ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا۔ (فَيَكْشِفُ مَا تَدْعُوْنَ اِلَيْهِ اِنْ شَاۗءَ ) 6 ۔ الانعام :41) گویا اسی نے دعا کو بھی اسباب عادیہ میں سے ایک سبب بنایا ہے۔ جس پر مسبب کا ترتب بمشیت الٰہی استجماع شروط اور ارتفاع موانع کے بعد ہوتا ہے اور علامہ طیبی وغیرہ نے کہا کہ آیت میں مشرکین کو تنبیہ ہے کہ سخت مصائب و شدائد کے وقت تو تم بھی مضطر ہو کر اسی کو پکارتے ہو اور دوسرے معبودوں کو بھول جاتے ہو، پھر فطرت اور ضمیر کی اس شہادت کو امن و اطمینان کے وقت کیوں یاد نہیں رکھتے۔ 8 یعنی ایک قوم یا نسل کو اٹھا لیتا اور اس کی جگہ دوسری کو آباد کرتا ہے جو زمین میں مالکانہ اور بادشاہانہ تصرف کرتے ہیں۔ 9 یعنی پوری طرح دھیان کرتے تو دور جانے کی ضرورت نہ پڑتی انہی اپنی حوائج و ضروریات اور قوموں کے ادل بدل کو دیکھ کر سمجھ سکتے تھے جس کے ہاتھ میں ان امور کی باگ ہے تنہا اسی کی عبادت کرنی چاہیے۔
Ayah 27:63

اَمَّنْ یَّهْدِیْكُمْ فِیْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ وَ مَنْ یُّرْسِلُ الرِّیٰحَ بُشْرًۢا بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ تَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا یُشْرِكُوْنَؕ Open ayah 27:63 in the Quran reader

بھلا کون راہ بتاتا ہے تم کو اندھیروں میں جنگل کے اور دریا کے10 اور کون چلاتا ہے ہوائیں خوشخبری لانے والیاں اس کی رحمت سے پہلے11 اب کوئی حاکم ہے اللہ کے ساتھ اللہ بہت اوپر ہے اس سے جس کو شریک بتلاتے ہیں12

10 یعنی خشکی اور دریا کی اندھیریوں میں ستاروں کے ذریعہ سے تمہاری راہنمائی کرتا ہے۔ خواہ بلاواسطہ یا بالواسطہ قطب نما وغیرہ آلات کے۔ 11 یعنی باران رحمت سے پہلے ہوائیں چلاتا ہے جو بارش کی آمد آمد کی خوشخبری سناتی ہیں۔ 12 یعنی کہاں وہ قادر مطلق اور حکیم برحق اور کہاں عاجز و ناقص مخلوق، جسے اس کی خدائی کا شریک بتلایا جا رہا ہے۔
Ayah 27:64

اَمَّنْ یَّبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ وَ مَنْ یَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 27:64 in the Quran reader

بھلا کون سرے سے بناتا ہے پھر اس کو دہرائے گا13 اور کون روزی دیتا ہے تم کو آسمان سے اور زمین سے14 اب کوئی حاکم ہے اللہ کے ساتھ تو کہہ لاؤ اپنی سند اگر تم سچے ہو15

13 ابتداء پیدا کرنا تو سب کو مسلم ہے کہ اللہ کا کام ہے۔ موت کے بعد دوبارہ پیدا کرنے کو بھی اس سے سمجھ لو۔ منکرین " بعث بعد الموت " بھی اتنا سمجھتے تھے کہ اگر بالفرض دوبارہ پیدا کیے گئے تو یہ کام اسی کا ہوگا جس نے اول پیدا کیا تھا۔ 14 کون ہے جو آسمانی اور زمینی اسباب کے ذریعہ سے اپنی حکمت کے موافق تم کو روزی پہنچاتا ہے۔ 15 یعنی اگر اتنے صاف نشانات اور واضح دلائل سننے کے بعد بھی تم خدا تعالیٰ کی وحدانیت اور شرک کی قباحت کو تسلیم نہیں کرتے تو جو کوئی دلیل تم اپنے دعوے باطل کے ثبوت میں رکھتے ہو پیش کرو۔ ابھی تمہارا جھوٹ سچ کھل جائے گا۔ مگر وہاں دلیل وبرہان کہاں محض اندھی تقلید ہے۔ (وَمَنْ يَّدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰــهًا اٰخَرَ ۙ لَا بُرْهَانَ لَهٗ بِهٖ ۙ فَاِنَّمَا حِسَابُهٗ عِنْدَ رَبِّه) 23 ۔ المومنون :117)
Ayah 27:65

قُلْ لَّا یَعْلَمُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ الْغَیْبَ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ اَیَّانَ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 27:65 in the Quran reader

تو کہہ خبر نہیں رکھتا جو کوئی ہے آسمان اور زمین میں چھپی ہوئی چیز کی مگر اللہ1 اور ان کو خبر نہیں کب جی اٹھیں گے2

1 اس آیت میں مضمون سابق کی تکمیل اور مضمون لاحق کی تمہید ہے۔ شروع پارہ سے یہاں تک حق تعالیٰ کی قدرت تامہ اور ربوبیت کاملہ کا بیان تھا۔ یعنی جب وہ ان صفات و شؤن میں متفرد ہے تو الوہیت و معبودیت میں بھی متفرد ہونا چاہیے۔ آیت حاضرہ میں اس کی الوہیت پر دوسری حیثیت سے استدلال کیا جا رہا ہے۔ یعنی معبود وہ ہوگا جو قدرت تامہ کے ساتھ علم کامل و محیط بھی رکھتا ہو۔ اور یہ وہ صفت ہے جو زمین و آسمان میں کسی مخلوق کو حاصل نہیں، اسی رب العزت کے ساتھ مخصوص ہے۔ پس اس اعتبار سے بھی معبود بننے کی مستحق اکیلی اس کی ذات ہوئی۔ (تنبیہ) کل مغیبات کا علم بجز خدا کے کسی کو حاصل نہیں، نہ کسی ایک غیب کا علم کسی شخص کو بالذات بدون عطائے الٰہی کے ہوسکتا ہے اور نہ مفاتیح غیب (غیب کی کنجیاں جن کا ذکر سورة " انعام " میں گزر چکا) اللہ نے کسی مخلوق کو دی ہیں۔ ہاں بعض بندوں کو بعض عیوب پر باختیار خود مطلع کردیتا ہے جس کی وجہ سے کہہ سکتے ہیں کہ فلاں شخص کو حق تعالیٰ نے غیب پر مطلع فرما دیا، یا غیب کی خبر دے دی۔ لیکن اتنی بات کی وجہ سے قرآن و سنت نے کسی جگہ ایسے شخص پر " علم الغیب "، " فلان یعلم الغیب " کا اطلاق نہیں کیا۔ بلکہ احادیث میں اس پر انکار کیا گیا ہے۔ کیونکہ بظاہر یہ الفاظ اختصاص علم الغیب بذات الباری کے خلاف موہم ہوتے ہیں۔ اسی لیے علمائے محققین اجازت نہیں دیتے کہ اس طرح کے الفاظ کسی بندہ پر اطلاق کیے جائیں۔ گو لغۃً صحیح ہوں جیسے کسی کا یہ کہنا کہ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَعْلَمُ الْغَیْبَ (اللہ کو غیب کا علم نہیں) گو اس کی مراد یہ ہو کہ اللہ تعالیٰ کے اعتبار سے کوئی چیز غیب ہی نہیں، سخت ناروا اور سوء ادب ہے۔ یا کسی کا حق سے موت اور فتنہ سے اولاد اور رحمت سے بارش مراد لے کر یہ الفاظ کہنا " انی اکرہ الحق وَاُحِبُّ الْفِتْنَۃُ وَافِرُّ مِنَ الرَّحْمَۃِ " (میں حق کو برا سمجھتا ہوں اور فتنہ کو محبوب رکھتا ہوں اور رحمت سے بھاگتا ہوں) سخت مکروہ اور قبیح ہے، حالانکہ باعتبار نیت و مراد کے قبیح نہ تھا۔ اسی طرح فلان عالم الغیب وغیرہ الفاظ کو سمجھ لو اور واضح رہے کہ علم غیب سے ہماری مراد محض ظنون و تخمینات نہیں اور نہ وہ علم جو قرائن و دلائل سے حاصل کیا جائے۔ بلکہ جس کے لیے کوئی دلیل و قرینہ موجود نہ ہو وہ مراد ہے۔ سورة انعام و اعراف میں اس کے متعلق کسی قدر لکھا جا چکا ہے۔ وہاں مراجعت کرلی جائے۔ 2 یعنی قیامت کب آئے گی جس کے بعد مردے دوبارہ زندہ کیے جائیں گے۔ اس کی خبر کسی کو نہیں۔ پہلے سے مبداء کا ذکر چلا آتا تھا۔ یہاں سے معاد کا شروع ہوا۔
Ayah 27:66

بَلِ ادّٰرَكَ عِلْمُهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ١۫ بَلْ هُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْهَا١۫٘ بَلْ هُمْ مِّنْهَا عَمُوْنَ۠ Open ayah 27:66 in the Quran reader

بلکہ تھک کر گرگیا ان کا فکر آخرت کے بارے میں بلکہ ان کو شبہ ہے اس میں بلکہ وہ اس سے اندھے ہیں3

3 یعنی عقل دوڑا کر تھک گئے، آخرت کی حقیقت نہ پائی۔ کبھی شک کرتے ہیں کبھی منکر ہوتے ہیں (موضح) اور بعض مفسرین نے یوں تقریر کی ہے کہ آخرت کے ادراک تک ان کے علم کی رسائی نہ ہوئی اور عدم علم کی وجہ سے صرف خالی الذہن رہے بلکہ اس کے متعلق شک و تردد میں پڑگئے، اور نہ صرف شک و تردد بلکہ ان دلائل و شواہد سے بالکل آنکھیں بند کرلیں جن میں غور وتأمل کرتے تو شک رفع ہوسکتا تھا۔
Ayahs 27:67–68

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا وَّ اٰبَآؤُنَاۤ اَئِنَّا لَمُخْرَجُوْنَ Open ayah 27:67 in the Quran reader

اور بولے وہ لوگ جو منکر ہیں کیا جب ہم ہوجائیں مٹی اور ہمارے باپ دادے، کیا ہم کو زمین سے نکالیں گے

لَقَدْ وُعِدْنَا هٰذَا نَحْنُ وَ اٰبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ١ۙ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 27:68 in the Quran reader

وعدہ پہنچ چکا ہے اس کا ہم کو اور ہمارے باپ دادوں کو پہلے سے کچھ بھی نہیں یہ نقلیں ہیں اگلوں کی4

4 یعنی پہلے ہمارے بڑوں سے یہ ہی وعدے کیے گئے تھے۔ جو پہلے کہہ گئے ان ہی کی نقل آج یہ پیغمبر بھی اتار رہے ہیں۔ لیکن کتنے قرن گزر چکے ہم نے تو آج تک نہ دیکھا نہ سنا کہ کوئی مردہ مٹی میں مل جانے کے بعد دوبارہ زندہ ہوا ہو اور اس کو سزا ملی ہو۔
Ayah 27:69

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 27:69 in the Quran reader

تو کہہ دے پھرو ملک میں تو دیکھو کیسا ہوا انجام کار گناہ گاروں کا5

5 یعنی کتنے مجرموں کو دنیا ہی میں عبرتناک سزائیں مل چکی ہیں اور پیغمبروں کا فرمانا پورا ہو کر رہا۔ اسی پر قیاس کرلو کہ بعث بعد الموت اور عذاب اخروی کی جو خبر انبیاء دیتے چلے آئے ہیں یقینا پوری ہو کر رہے گی یہ کارخانہ یوں ہی بےسرا نہیں کہ اس پر کوئی حاکم نہ ہو، وہ اپنی رعایا کو یوں ہی مہمل نہ چھوڑے گا جب سب مجرموں کو یہاں پوری سزا نہیں ملتی تو یقینا کوئی دوسری زندگی ہوگی جہاں ہر ایک اپنی کیف کردار کو پہنچے اگر تمہاری یہ ہی تکذیب رہی تو مکذبین کا جو انجام دنیا میں ہوا تمہارا بھی ہوسکتا ہے۔
Ayah 27:70

وَ لَا تَحْزَنْ عَلَیْهِمْ وَ لَا تَكُنْ فِیْ ضَیْقٍ مِّمَّا یَمْكُرُوْنَ Open ayah 27:70 in the Quran reader

اور غم نہ کر ان پر اور نہ خفا ہو ان کے فریب بنانے سے6

6 یعنی ان کو سمجھا کر اور بدی کے انجام پر متنبہ کر کے الگ ہوجائیے اگر یہ لوگ نہیں مانتے تو آپ بہت زیادہ غم و تاسف نہ کریں اور نہ ان کے مکرو فریب اور حق کے خلاف تدبیریں کرنے سے تنگدل اور خفا ہوں آپ اپنا فرض ادا کرچکے، اللہ تعالیٰ ایسے ضدی مجرموں سے خود نبٹ لے گا اور جس طرح پہلے مجرموں کو سزائیں دی گئی ہیں ان کو بھی دے گا۔
Ayah 27:71

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 27:71 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کب ہوگا یہ وعدہ اگر تم سچے ہو7

7 یعنی آخر وہ قیامت کب آئے گی ؟ اور جس عذاب کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں کب نازل ہوگا ؟
Ayah 27:72

قُلْ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ رَدِفَ لَكُمْ بَعْضُ الَّذِیْ تَسْتَعْجِلُوْنَ Open ayah 27:72 in the Quran reader

تو کہہ کیا بعید ہے جو تمہاری پیٹھ پر پہنچ چکی ہے بعضی وہ چیز جس کی جلدی کر رہے ہو8

8 یعنی گھبراؤ نہیں، وعدہ پورا ہو کر رہے گا۔ اور کچھ بعید نہیں کہ وعدہ کا کچھ حصہ قریب ہی آلگا ہو (چنانچہ زیادہ دن نہ گزرے کہ " بدر " میں سزا کی ایک قسط پہنچ گئی) رہی قیامت کبریٰ ، سو اس کے بھی بعض آثار و علامات ظاہر ہونے شروع ہوگئے۔
Ayah 27:73

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 27:73 in the Quran reader

اور تیرا رب تو فضل رکھتا ہے لوگوں پر ان میں بہت لوگ شکر نہیں کرتے9

9 یعنی حق تعالیٰ اپنے فضل سے اگر عذاب میں تاخیر کرتا ہے تو چاہیے تھا اس مہلت کو غنیمت سمجھتے اور اس کی مہربانی کے شکر گزار ہو کر ایمان و عمل صالح کا راستہ اختیار کرتے لیکن وہ اس کے خلاف ناشکری کرتے اور اپنے منہ سے عذاب مانگتے ہیں۔
Ayahs 27:74–75

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَیَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُوْرُهُمْ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ Open ayah 27:74 in the Quran reader

اور تیرا رب جانتا ہے جو چھپ رہا ہے ان کے سینوں میں اور جو کچھ کہ ظاہر کرتے ہیں

وَ مَا مِنْ غَآئِبَةٍ فِی السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 27:75 in the Quran reader

اور کوئی چیز نہیں جو غائب ہو آسمان اور زمین میں مگر موجود ہے کھلی کتاب میں1

1 یعنی تمہارے ظاہری و پوشیدہ اعمال، دلوں کے بھید نیتیں، ارادے اور زمین و آسمان کے چھپے سے چھپے راز سب اللہ تعالیٰ کے علم میں حاضر اور اس کے دفتر میں درج ہیں۔ ہر بات اسی کے موافق اپنے اپنے وقت پر وقوع پذیر ہوگی۔ جلدی مچانے یا دیر لگانے سے کچھ حاصل نہیں۔ جو چیز علم الٰہی میں طے شدہ ہے جلد یا بدیر اپنے وقت پر آئے گی اور ہر ایک کو اس کے عمل اور نیت و عزم کے موافق پھل مل کر رہے گا۔
Ayahs 27:76–77

اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ یَقُصُّ عَلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اَكْثَرَ الَّذِیْ هُمْ فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 27:76 in the Quran reader

یہ قرآن سناتا ہے بنی اسرائیل کو بہت چیزیں جس میں وہ جھگڑ رہے ہیں

وَ اِنَّهٗ لَهُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 27:77 in the Quran reader

اور بیشک وہ ہدایت ہے اور رحمت ہے ایمان والوں کے واسطے2

2 یعنی ابھی عملی فیصلہ کا وقت نہیں آیا، البتہ قرآن قولی و عملی فیصلہ کے لیے آیا ہے۔ اس وقت سماوی علوم اور مذہبی چیزوں کے سب سے بڑے عالم " بنی اسرائیل " سمجھے جاتے تھے مگر عقائد، احکام اور قصص و روایات کے متعلق ان کے شدید اختلافات کا فیصلہ کن تصفیہ بھی قرآن نے سنایا۔ فی الحقیقت قرآن ہی وہ کتاب ہے جس نے دنیا کو خداوند قدوس کا آخری پیغام پہنچایا۔ اور ایمان لانے والوں کی رہبری کی تاکہ لوگ اس دن کے لیے تیاری کر رکھیں۔ جبکہ ہر معاملہ کا عملی فیصلہ ہوگا۔
Ayah 27:78

اِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ بِحُكْمِهٖ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْعَلِیْمُۙۚ Open ayah 27:78 in the Quran reader

تیرا رب ان میں فیصلہ کرے گا اپنی حکومت سے اور وہی ہے زبردست سب کچھ جاننے والاف 3

3 یعنی قرآن تو آیا ہے سمجھانے اور آگاہ کرنے کو، باقی تمام معاملات کا حکیمانہ اور حاکمانہ فیصلہ خدائے قادر و توانا کرے گا۔
Ayah 27:79

فَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّكَ عَلَى الْحَقِّ الْمُبِیْنِ Open ayah 27:79 in the Quran reader

سو تو بھروسہ کر اللہ پر بیشک تو ہے صحیح کھلے راستہ پر4

4 یعنی آپ ﷺ کسی کے اختلاف و تکذیب سے متاثر نہ ہوں۔ خدا پر بھروسہ کر کے اپنا کام کیے جائیں۔ جس صحیح و صاف راستہ پر ہو اور خدائے واحد پر بھروسہ رکھے پھر کیا غم ہے۔