48. Surah Al-Fath

الفتحThe Victory · 29 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 48:10

اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَكَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللّٰهَ١ؕ یَدُ اللّٰهِ فَوْقَ اَیْدِیْهِمْ١ۚ فَمَنْ نَّكَثَ فَاِنَّمَا یَنْكُثُ عَلٰى نَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ اَوْفٰى بِمَا عٰهَدَ عَلَیْهُ اللّٰهَ فَسَیُؤْتِیْهِ اَجْرًا عَظِیْمًا۠ Open ayah 48:10 in the Quran reader

(اے پیغمبر اسلام ! ) بلاشبہ جو لوگ آپ ﷺ سے بیعت کرتے ہیں فی الحقیقت وہ اللہ ہی سے بیعت کرتے ہیں (اس لیے کہ) اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر ہے ، پھر جو کوئی عہد (بیعت) کو توڑے تو عہد کو توڑنے کا نقصان اس کو ہوگا اور جو اللہ سے اپنا اقرار پورا کرے تو اللہ اس کو عنقریب بہت بڑا اجر دے گا

نبی اعظم و آخر ﷺ کی بیعت کرنے کی ذمہ داریاں کتاب اللہ کی روشنی میں 10 ؎ گزشتہ سے گزشتہ آیت میں نبی کریم ﷺ کی گواہی اور بشیر ونذیر ہونے کی وضاحت تھی اور اس کے بعد ایمان والوں کو مقامف نبوت و رسالت سے آگاہ کیا گیا اور پھر توحید و رسالت کی الگ الگ تفہیم کرائی گئی اور زیر نظر آیت میں اس ذمہ داری کی مزید وضاحت فرمائی جار ہی ہے اور اس ذمہ داری کے قبول کرنے کا احساس کرایا جا رہا ہے تاکہ کوئی بات اس سلسلہ میں مبہم نہ رہ جائے۔ اس سورت کی شروع کی آیت میں (رح) جس فتح مبین کی خوشخبری سنائی گئی ہے اس کے متعلق وضاحت بھی آپ پڑھ چکے ہیں کہ اس سے مراد صلح حدیبیہ ہے اور پھر یہ بھی آپ پڑھ چکے ہیں کہ حدیبیہ کے میدان میں رہ کر جب نبی اعظم و آخر ﷺ نے مکہ والوں کے پاس سیدنا عثمان غنی ؓ کو بطور سفیر روانہ کیا تھا اور جب ان کو آنے میں تاخیر ہوگئی تو مرجفین میں سے کسی نے غلط خبر اڑا دی کہ حضرت عثمان ؓ کو مکہ والوں نے قتل کردیا۔ لاریب یہ افواہ تھی یعنی غلط بات اڑائی گئی تھی آپ ﷺ نے جب یہ خبر سنی تو اعلان کردیا کہ جب تک عثمان کے خون کا بدلہ نہیں لے لیں گے یہاں سے نہیں ٹلیں گے اور یہ بات ہمارے پیر کرم شاہ صاحب کو بھی اچھی طرح معلوم ہے کیونکہ انہوں نے اس واقعہ کو من و عن اسی طرح تسلیم کیا ہے حالانکہ اس وقت نبی اعظم و آخر ﷺ مکہ سے چند میل کے فاصلہ پر زندہ وجاوید لشکر اسلام میں موجود تھے لیکن جب اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو اس کے متعلق نہ بتایا تو آپ ﷺ کو اس کی خبر نہ ہوئی اور آپ ﷺ نے لشکر اسلام کو مخاطب کرکے یہ بات فرمائی جو اوپر ذکر کی گئی تو یقینا آپ ﷺ کو اصل واقعہ کی خبر نہ تھی لیکن تعجب ہے کہ اس سے چند صفحات آگے جا کر پیر جی ارشاد فرما رہے ہیں کہ ” حضور سرور عالم ﷺ اس دنیا میں اپنی امت کے نیک و بداعمال کا مشاہدہ فرما رہے ہیں اور قیامت کے دن ان پر گواہی دیں گے “ بہرحال یہ بات تو محض جملہ معترضہ کے طور پر باین کی گئی۔ آپ ﷺ نے صحابہ ؓ کو حکم دیا کہ وہ جان کی بازی لگا دینے کے لیے بیعت کریں۔ نبی اعظم و آخر ﷺ ایک درخت کے نیچے جلوہ افروز ہیں اور صحابہ کرام ؓ پروانوں کی طرح شوق شہادت سے سرشار بیعت کر رہے ہیں۔ اسی بیعت کا ذکر زیر نظر آیت میں کیا جا رہا ہے۔ غور کرو کہ یہ لوگ نہ تو جنگ کے ارادہ سے آئے تھے اور نہ ہی انکے ساتھ کوئی جنگ کا سروسامان موجود تھا اور نہ ہی رسد جنگ لیکن اس کے باوجود کسی شخص نے کسی طرح کا کوئی سوال نہ اٹھایا اور سروں کی بازی لگانے کے لیے بےدھکڑ تیار ہوگئے اور یہ سب کا سب اثر اسی ایمانی طاقت و قوت کا تھا جس کا مقابلہ دنیا کا کوئی ایٹم بم بھی نہیں کرسکتا اور اس کا نتیجہ بھی ہمیشہ یہ نکلتا ہے کہ ایک اندیکھی ، اَن جانی ، اَن سمجھی طاقت دنیا کے ان ایٹموں کو استعمال کرنے والوں پر استعمال کردیتی ہے اور کسی کی سمجھ میں کچھ بھی نہیں آتا کہ کیا ہوا ہے اور کون کر گیا ہے اس صورت حال کو یان کرنے والا خواہ کوئی لفظ اور کوئی طریقہ بیان اختیار کرے۔ یہی بات زیر نظر میں اس طرح بیان کی گئی ہے کہ یہ لوگ جب آپ ﷺ کی بیعت کرتے رہے تو دراصل انہوں نے اللہ تعالیٰ سے بیعت کی اس سے یہ بات خود بخود واضحہو گئی کہ بیعت کیا چزظ ہے ؟ بیعت ایک وعدہ ہے جو صحابہ کرام ؓ نے نبی اعظم و آخر ﷺ سے رو در رو بیٹھ کر کیا اور یہ وعدہ جان کی بازی اور سرفروشی کا وعدہ تھا کہ باوجود اس کے کہ ہم لڑنے کی غرض سے نہیں آئے تھے لیکن اب جب کہ لڑنا ناگزیر ہوگیا ہے تو ہم بسرو چشم لڑنے کے لیے تیار ہیں اور ہم میں سے ایک بھی بغیر لڑے واپس جانے کے لیے تیار نہیں اور ہم اس وقت تک جنگ جاری رکھیں گے جب تک ہمارا کمانڈر انچیف ﷺ ہم کو لڑائی سے ہاتھ روکنے کا حکم نہیں دے گا۔ فرمایا جن لوگوں نے آپ ﷺ سے وعدہ کیا ان لوگوں نے گویا اللہ رب ذوالجلال والا کرام سے وعدہ کیا اور اس طرح گویا وہ اللہ رب کریم کی امان میں دخل ہوگئے اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کے دین کی ذمہ داری پوری کر کرکے عہد و پیمان کیا جس کے تنیجہ میں اللہ تعالیٰ کی مدد و نصرت انکے شامل حال ہوگئی اور اسی مدد و نصرت کے بیان کو اللہ تعالیٰ نے اپنا ہاتھ قرار دیا اور یہ بات ہم پہلے عرض کرچکے ہیں کہ جہاں کہیں بھی اللہ رب کریم کے ہاتھ کا ذکر قرآن کریم میں آیا ہے اس سے مراد مرئی ہاتھ نہیں بلکہ اس سے مراد قدرت ہی ہوتی ہے اور یہی اس جگہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ انہوں نے وعدہ کیا تھا اس وعدہ کی بدولت اللہ کی مدد و نصرت نے ان کا ساتھ دیا اور زیادہ دیر نہ لگی تھی کہ عثمان ؓ بخیریت واپس آگئے اور اسی وقت جنگ کرنے کی بات ایک بار ٹل گئی اور یہی وہ اللہ تعالیٰ کی مد دو نصرت تھی کہ حالت جنگ پیدا ہوتے ہوتے سنبھل گئی۔ بات تو یہ بیان کی گئی تھی لیکن یاروں نے اس سے کیا کیا مسائل کھڑے کردیئے اور بیعت کرنے اور کرانے کی ایسی گنجائش پیدا کرلی کہ اب بیعت کرنے والوں کی ایک باقاعدہ نسل تیار ہوگئی جن کا کام ہی بیعت لینا ہے اور باپ دادا سے یہ رسم چلی آرہی ہے کہ ہر خاندان کے لیے ایک پیرو مرشد کا خانوادہ لازم ہے جو اس پورے خاندان سے محض اس لیے بیعت لیتا ہے کہ تم ہر سہ ماہی ، شش ماہی اور سالانہ ایک طے شدہ اور مقرر شدہ حصہ اپنے مال سے نکال کر ان کو دیا کرو اور یہ تمہرے ہر فرد کے لیے جنت کی ضمانت لکھ کردیا کریں گے اور جو مشکل تم کو پیش آئے گی اس کو حل کیا کریں گے اور جو اس طرح کی مروجہ بیعت نہ کرے اور بےپیرو مرشد رہے یا اسی طرح مر جائے تو گویا وہ اسلام سے خارج ہوگیا خواہ وہ دین کے سارے کام کتاب و سنت کے مطابق کرے لیکن یہ سب کچھ کرنے کے باوجود مردود کا مردود ہی رہے کیونکہ اس نے کسی کو اپنا پیرو مرشد ہی تسلیم نہیں کیا اور کسی کے سامنے شیرینی پشو نہیں کی۔ غور کرو کہ یہ صحابہ کرام ؓ کی جماعت اس وقت تک ابھی مسلمان ہونے اور قربانیاں پیش کرنے ، اپنی جان جو کھوں میں ڈالنے کے باوجود مردود کے مردود ہی رہے تھے یا ان مردودوں نے ایسی باتیں بنا کر اسلام کو خواہ مخواہ بدنام کیا۔ یہ لوگ دین کے سارے کام کرتے تھے یہاں تک کہ اس سے پہلے وہ بیسیوں جنگیں لڑ چکے تھے اور ان میں سے کتنے تھے جو راہ خدا میں قربان ہوچکے تھے اور کتنے تھے جو ہاتھ اور بازو کٹوا چکے تھے اور ایک سے زیادہ بار اس طرح کی بیعت کرچکے تھے لیکن جب ایک نئی ضرورت ان کو پیش آئی تو ان سے دوبارہ عہدو پیمان لیا گیا جو مخصوص کام کے لیے تھا اور وہ کام عثمان ؓ کا خون بہا لینے کا تھا۔ اس وعدہ کے لیے ہاتھ پر ہاتھ رکھنے کا جو حکم خواہ مخواہنکال لیا ہے اس کی بھی کوئی حقیقت نہیں وہاں ! مردوں سے سلام و مصافحہ کرنا جو دائیں ہاتھ ہی سے کیا جاتا ہے ایک دوسری بات ہے جو مردوں سے ہی تعلق رکھتی ہے لیکن جو ہمارے پیروں کے خاندان عورتوں کے ہاتھ کو بھی اپنے ہاتھ میں لیتے اور دیگر خرافات کرتے ہیں اور بیعت کے لیے ہاتھ میں ہاتھ لینے ، دینے کو بھی ضروری خیال کیا جاتا ہے اور ہماری اس بیعت میں کوئی وعدہ وعید نہیں ہوتااِلا یہ کہ ہر حال میں اپنی شیرینی پیش کرنا ضروری اور لازمی قرار دیا جاتا ہے جس پر سوائے لاحول پڑھنے کے اور ایک ٹھنڈی آہ بھرنے کے اب کوئی طریقہ باقی نہیں رہا اور پھر اس بیعت کا جواز اس زیرنظر آیت سے پیش کیا جاتا ہے گویا یہ آیت پیروں اور مرشدوں کے وارے نیارے کرنے کے لیے اتاری گئی ہے۔ یاد رہے کہ ہماری مروجہ بیعت کا تعلق ہمارے رواج سی ہے جس کا اسلام میں کوئی ثبوت نہیں ملتا اور دین اسلام کے کاموں کی پابندی کے لیے کسی بھی نیک نفس انسان کے سامنے وعدہ کرنا اگر ضرورت پڑے تو بہرحال صحیح اور درست ہے وہ وعدہ جہاد کرنے کا ہو ، صلوٰۃ ادا کرنے کا یا دوسرے دین کے کام کرنے کا اور برے کاموں سے بچنے کا ہو جیسے زنا ، چوری ، شراب ، جوا ، جھوٹ وغیرہ سے بچنے کا اور پھر جس کے سامنے یہ وعدہ کیا جائے اسی وعدہ لینے والے کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ موعودہ کاموں میں اس کی نگرانی کرے اور اگر کوئی بات خلافِ وعدہ پائے تو اس کی گوشمالی کرے اور اس کو شرم دلائے اور وعدہ خلافی کی سزا اسلام کی نگاہ میں اور اس کا گناہ اس پر واضح کرے اگر فریقین اس کی پابندی نہ کریں تو عنداللہ مجرم ہوں گے اور اس میں شیرینی نام کی کوئی چیز لینے دینے کا کوئی جواز ہی موجود نہںٓ ہے جو کچھ ہے محض رضائے الٰہی کے لیے ہے۔ { فمن نکث فانما ینکث علی نفسہ } سے آخر آیت تک یہ بیعت لیتے وقت بیعت کرنے والوں سے اس وعدے کا بیان ہے جو وعدہ ان سے اسی وقت لیا گیا تھا کہ یہ بات اچھی طرح یاد رکھو جب کہ تم ایک عہد و پیمان باندھ رہے ہو اور وہ یاد رکھے کی بات یہ ہے کہ ” جو کوئی اس عہد کو توڑ دے تو اس توڑنے کا وبال اسی کے سر ہوگا جو عہد کو توڑ رہا ہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ سے اپنا عہد وقرار پورا کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کو عنقریب بہت بڑا اجر عطا کرے گا۔ “ بعض مفسرین نے اس بیعت کو بیعت رضوان کے علاوہ عام بیعت سے تعبیر کیا اور اس کا سبب آنے والی آیت کو قرار دیا ہے جو آیت 18 میں ذکر کیا جائے گا حالانکہ ایک ہی بات کو جو بہت اہم تھی اس کا ذکر کوئی غیر مناسب بات نہیں ہے اور قرآن کریم میں اس کی مثالیں بہت پائی جاتی ہیں کہ کسی اہم بات کو دہرا کر ایک بار سے زیادہ بار بیان کرنا اور خصوصاً پہلو بدل کر اس لیے اس طرح کی تاویلوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ زیر نظر آیت میں { و من او فی بما عہد علیہ اللہ } میں (علیہ) کے اعراب پر بھی مفسرین نے بہت بحث کی ہے کہ یہ { علیہ } ہے یا { علیہ } اور یہ بھی کہ { علیہ } ہے تو آخر کیوں ؟ اور پھر اس کے مختلف جواب دیئے گئے ہیں لیکن ہم اس بحث میں اس لیے حصہ نہیں لیتے کہ یہ ایک ہی مقام ایسا نہیں ہے کہ یہ اعراب نحوی قاعدہ کے خلاف ہے بلکہ اس کی بیسیوں مثالیں اور بھی دی جاسکتی ہیں اور ہمارے پاس اس کا ایک اور صرف ایک ہی جواب ہے کہ قرآن کریم ہمارے نحوی قاعدے کا پابند نہیں ، ہمیں نحوی قاعدہ کو اس کا پابند کرنا چاہئے تھا اگر ہم کرسکتے ؟ دوسرے لفظوں میں نحوی و صرفی قواعد پر ہم قرآن کو نہیں چڑھائیں گے بلکہ نحو و صرف کو اس کے ضابطوں کے مطابق کریں گے کیونکہ صرف و نھحو ایک اختراعی چیز ہے اور قرآن کریم کے اصول حقیقی ہیں اس لیے کہ وہ اللہ کا کلام ہے اور اس لیے بھی کہ وہ جس زبان میں اس وقت نازل کیا گیا وہ زبان بھی اس وقت ہمارے اختراعی قواعد کی پابند نہ تھی اور آج بھی یہ بات فی نفسہٖ سب زبانوں پر صادق آتی ہے۔ قواعد محض اکثریت کو پیش نظر رکھ کر تشکیل دیئے جاتے ہیں اور شاذ کو چھوڑ دیاجاتا ہے اور یہی بات زیادہ صحیح ہے اور اس کی مثالیں عربی ، اردو ، فارسی اور پنجابی سب میں موجود ہیں اگر ہم اس کے پیچھے لگ گئے تو موضوع سے بہت دور نکل جائیں گے اور کلام طول پکڑ لے گا جو ہمارے لیے مفید مطلب نہیں ہے۔ لاریب جو وعدئہ الٰہی کو پورا کرتے ہیں ان کا اجر عنداللہ محفوظ رہتا ہے اور پھر اللہ کے پاس اجر ہونے کو عظیم نہ کہیں گے تو اور کیا کہیں گے جب کہ اس کے عظیم ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہے۔
Ayah 48:11

سَیَقُوْلُ لَكَ الْمُخَلَّفُوْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ شَغَلَتْنَاۤ اَمْوَالُنَا وَ اَهْلُوْنَا فَاسْتَغْفِرْ لَنَا١ۚ یَقُوْلُوْنَ بِاَلْسِنَتِهِمْ مَّا لَیْسَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ؕ قُلْ فَمَنْ یَّمْلِكُ لَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَیْئًا اِنْ اَرَادَ بِكُمْ ضَرًّا اَوْ اَرَادَ بِكُمْ نَفْعًا١ؕ بَلْ كَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا Open ayah 48:11 in the Quran reader

دیہاتیوں میں سے جو لوگ پیچھے رہ گئے تھے عنقریب آپ ﷺ سے کہیں گے کہ ہم کو ہمارے مال اور اہل و عیال نے مشغول رکھا اس لیے آپ ﷺ اللہ سے ہماری بخشش طلب کریں وہ اپنی زبان سے وہ (بات) کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہے آپ ﷺ ان سے فرما دیجئے کہ اگر اللہ تم کو نقصان پہنچانا چاہے یا تم کو فائدہ پہنچانا چاہے (تو) اللہ کے مقابلے میں تمہارے لیے کون کسی چیز کا اختیار رکھتا ہے بلکہ اللہ تو تمہارے سب کاموں سے باخبر ہے

ایمان کا اظہار کرنے کے باوجود ایمان کی پروا نہ کرنے والوں کی پردہ داری 11 ؎ جو لوگ ایمان لانے اور ایمان کا وعدہ کرنے کے باوجود ایمان کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتے بلکہ من مانیاں ہی کرتے رہتے ہیں ان کو اسلام کی زبان میں کیا کہتے ہیں ؟ منافق کا نام آپ نے سنا ہوگا ، بس اس کو منافق ہی کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے اور یہ لوگ وہی ہیں جو بظاہر مسلمانوں کے ساتھ معاشرہ کے اندر ہی رہتے ہیں اور ان کو اسلام سے بزور بازو نکال کر باہر نہیں کیا جاتا ہاں ! ان کی گو شمالی کی جات ی ہے اور ان کو باز رہنے کی تلقین بھی برابر کی جاتی ہے اگرچہ ایسی عادات کے لوگ کم ہی حقیت کو قبول کیا کرتے ہیں کیونکہ ہر سنی ان سنی اور ہر دیکھی ان دیکھی کردینا ان کی گھٹی میں ان کو پلایا گیا ہوتا ہے جس سیوہ باز نہیں آسکتے اور جھوٹ ان کی نس نس میں رچ چکا ہوتا ہے اور عادت کا بدلنا محال نہیں تو مشکل بہرحال ضرور ہے۔ زیر نظر آیت میں ایسے ہی لوگوں کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ جب نبی اعظم و آخر ﷺ نے اپنے خواب کا ذکر فرمایا جو عمرہ کے لیے نکلنے سے پہلے آپ نے دیکھا تھا تو جہاں مسلمانوں کو بہت خوشی ہوئی تھی اور وہ بڑے شوق و ذوق سے عمرہ کرنے کی غرض سے آپ ﷺ کے ساتھ نکلنے کے لیے تیار تھے وہاں کچھ لوگوں نے اعتراضات بھی کیے تھے اور ان ایمان والوں کو روکنے کی کوشش بھی کی تھی اور اظہار خیال بھی کیا تھا کہ یہ لوگ موت کو ماسی کہنے کے لیے جا رہے ہیں اور مکہ والے ان میں سے ایک کو بھی زندہ بچ کر نہیں آنے دیں گے ایسے لگتا ہے کہ گیدڑ کی جب موت آتی ہے تو وہ بستی کا منہ کرتا ہے اور سانپ کو جب مرنا ہوتا ہے تو وہراستہ کی طرف نکل آتا ہے یہیمثال ان لوگوں کی ہے جو ایک خواب کے انحصار پر بیداری میں غلطی کر رہے ہیں اس طرح کی انہوں نے ایک دو نہیں بلکہ بیسیوں باتیں بنائیں اور بےپر کی اڑائیں لیکن انہوں نے تو جو کہا سو کہا حقیقت کیا نکلی یہی کہ وہلوگ بحمد اللہ بخیرو عافیت واپس آگئے اگرچہ وہ عمرہ کو نہ کر پائے لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو اس کا اجر وثواب عطا کیا اور وہ فتح مبین کے ساتھ واپس لوٹے۔ جب یہ حالات ان لوگوں نے دیکھے جو اپنی چرب زبانی سے بہت کچھ غلط ملط بکتے رہے تھے اور ان میں اکثریت دیہاتیوں اور سطحی لوگوں کی تھی جب نبی اعظم و آخر ﷺ اور دوسرے مسلمان بخیریت واپس آگئے تو وہ لگے دُم دبانے اور انہی مونہوں سے اس طرح کی معذرتیں پیش کرنے لگے کہ ہم اپنے مالوں میں مشغول ہوگئے اور دراصل ہم نے جو کچھ کیا وہ محض رضائے الٰہی کے لئے کیا تاکہ اموال اکٹھے کریں اور مجاہدین کی خدمت دل کھول کر کرسکیں اگر ہمارے پاس کچھ نہ ہوتا تو دین کے کاموں میں ہم حصہ کیونکر لے سکتے تھے تاہم اپنی کمزوری کا بھی اعتراف کرتے ہیں کہ ہم سے کتنی زبردست غلطی ہوئی کہ ہم آپ ﷺ کے ساتھ عمرہ کی غرض سے نکل ہی نہ سکے لیکن اب جو ہونا تھا ہوگیا اور آپ ﷺ اے پیغمبر اسلام ! کفار سے وعدہ لے کر بخیریت واپس آگئے اس بات پر اللہ تعالیٰ کا جتنا شکر ادا کیا جائے اتنا ہی کم ہے۔ ہماری التجا ہے کہ آپ ﷺ اے پیغمبر اسلام ! ہمارے لیے اللہ سے بخشش طلب کریں کہ وہ ہمارے اس گناہ کو معاف کر دے۔ اس طرح کی باتیں کر کے اے پیغمبر اسلام وہ لوگ آپ ﷺ کو مطمئن کرنا چاہتے ہیں اس طرح لہو لگا کر وہ شہیدوں میں داخل ہونے کے عادی مجرم ہیں۔ یہ حرکت ان لوگوں نے پہلی بار نہیں کی بلکہ اس سے قبل ایک سیزیادہ بار یہ لوگ اس طرح کی حرکتیں کرچکے ہیں۔ یہ اپنی زبانوں سے وہ بات کرتے ہیں جو ان کے دلوں میں مطلق نہیں ہوتی۔ لاریب اگر ان کی غیر حاضری کی کوئی معقول وجہ ہوتی یا ان کو اپنی غلطی کا احساس ہوتا تو اپنے کردار پر ان کو پشیمانی اور قلق ہوتا اور وہ آپ ﷺ کے جانے کے وقت ایسی ایسی باتیں نہ کرتے یہ دوہری پوزیشن کے لوگ ہیں جو کرتے کچھ ہیں اور کہتے کچھ ہیں اور یہ بات انکی عادت ثانیہ میں رچ بس گئی ہے یہ جو کچھ کر رہے ہیں یہ محض ان کے مونہوں کی بات ہے ان کے دلوں میں بغض و عداوت بھری پڑی ہے اور سیدھی اور صاف بات کی ان کے دل میں کوئی گنجائش نہیں۔ یہ جو بات کرتے ہیں سب فرضی ہے اور چاپلوسی ان کی سرشت میں داخل ہے۔ آپ ﷺ اے پیغمبراسلام ! ان کو دو ٹوک اور غیر مبہم لفظوں میں کہہ دیں کہ ہمیں تو تم اس طرح کی باتیں کر کے خوش کر رہے ہو کل آنے والے دن میں اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں تمہاری ذمہ داری کون قبول کرے گا۔ آج تم مال و اولاد کا بہانہ پیش کر رہے ہو حالانکہ یہ محض بہانہ سازی ہے جو حقیقت کے سرا سر خلاف ہے۔ ہم نے تمہاری وہ باتیں بھی سنی تھیں جب ہم عمرہ کی نیت سے مدینہ سے نکلے تھے اور یہ باتیں بھی ہم سن رہے ہیں جو اس وقت تم ہم کو خوش کرنے کے لیے کر رہے ہو۔ ہماری سمجھ میں تو یہ کسی صورت نہیں آتا کہ اگر تمہاری موجودگی میں تمہارے ان مالوں اور تمہاری اس اولاد میں کوئی آفت آجاتی ، کوئی بیماری ہی پھوٹ نکلتی یا کوئی ناگہانی آفت تم کو آ لیتی اور تم کو چورہ چورہ کردیتی تو تم ان مالوں اور اولادوں کا آخر کیا کرلیتے کیا جو لوگ عمرہ کی غرض سے ہمارے ساتھ نکلے تھے ، ان کے مال مر گئے اور اولادیں تباہ ہوگئیں اور تم نے یہ سب کچھ بچالیا اور اب ہم مان لیں اور آپ کی انب اتوں کو حق تسلیم کرلیں حالانکہ حقیقت حال جو چھ ہے وہ اللہ تعالیٰ سیم خفی نہیں اگر تمہارے دلوں کے رازوں کو ہم نہیں جانتے تو کیا اللہ تعالیٰ سے بھی کوئی چیز پوشیدہ ہے ؟ نہیں اور ہرگز نہیں تمہارے کرتوتوں سے اللہ تعالیٰ خوب آگاہ ہے۔ ہم اتنی بات کہہ سکتے ہیں کہ تمہارا معاملہ اللہ کے سپرد ہے وہ چاہے تم کو تمہارے کیے کی سزا دنیا میں یا آخرت میں دے اور چاہے تم کو نفع پہنچائے گویا اس معاملہ میں تم جانو یا تمہارا اللہ اور یہ بات وہی ہے جو انبیاء کرام اپنی امتوں کے بارے میں کہتے آئے ہیں اور قیامت کے روز بھی کہیں گے جیسے اللہ تعالیٰ نے سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر کرتے ہوئے عیسیٰ (علیہ السلام) کی باتوں کے اختتام پر فرمایا کہ ” میں نے ان سے کچھ نہیں کہا مگر وہی جس کا تُو نے مجھے حکم دیا کہ اللہ کی عبادت کرو جو میرا اور تمہارا رب ہے اور میں ان پر گواہ تھا جب تک میں ان میں موجود تھا پھر جب تُو نے مجھے وفات دے دی تو تُو ہی ان پر نگہبان تھا اور تُو ہرچیز پر گواہ ہے اگر تُو ان کو عذاب دے تو وہ تیرے ہی بندے ہیں اور گر تو ان کی حفاظت کرے تو تُو ہی غالب آنے والا ، حکمت والا ہے۔ “ (118 , 117 , 5) اور یہ بات ہم تمہارے حق میں کہہ سکتے ہیں کہ تم جانو اور تمہارا اللہ۔ قرآن کلام اللہ ہے لیکن لوگوں کی زبان میں نازل ہوا ہے۔ منافقین پیھچے رہ گئے تھے لیکن نفرت کے باعث ان کے متعلق کہا گیا کہ وہ پیچھے چھوڑے گئے تھے اور اس طرح کی مثالیں قرآن کریم میں عام ہیں۔
Ayah 48:12

بَلْ ظَنَنْتُمْ اَنْ لَّنْ یَّنْقَلِبَ الرَّسُوْلُ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ اِلٰۤى اَهْلِیْهِمْ اَبَدًا وَّ زُیِّنَ ذٰلِكَ فِیْ قُلُوْبِكُمْ وَ ظَنَنْتُمْ ظَنَّ السَّوْءِ١ۖۚ وَ كُنْتُمْ قَوْمًۢا بُوْرًا Open ayah 48:12 in the Quran reader

بلکہ تم سمجھ بیٹھے تھے کہ اللہ کا رسول اور مسلمان اپنے گھروں میں کبھی واپس نہ ہوں گے اور تمہارے دلوں کو یہ بات بہت اچھی معلوم ہوئی اور تم نے برے برے خیالات قائم کرلیے اور تم ہلاکت میں پڑ گئے

12 ؎ منافقین کو ہم دوہری پوزیشن کے لوگوں سے موسوم کرتے ہیں ، کیوں ؟ اس لیے کہ یہ ذومعنی باتوں کے کرنے والے اور ادھر سے ادھر اور ادھر سے ادھر پھرنے والے ہوتے ہیں اور اس معاملہ میں یہ اتنے ماہر ہوتے ہیں کہ باتوں ہی باتوں میں ایک جگہ اور ایک ہی گفتگو کے دوران یہ سب کچھ کرجاتے ہیں اور مخالف فریق کو اپنے حق میں برابر رکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور بظاہر اس میں کامیاب بھی نظر آتے ہیں۔ غور کرو کہ جب نبی کریم ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ کرام ؓ اپنے گھروں سے عمرہ کی خاطر نکلے تھے اس وقت ان کی کیا حالت تھی اور جب سب کے سب بخر ﷺ یت واپس تشریف لے آئے تو انہوں نے کس طرح ان کا استقبال کیا اور کیا کیا معذرتیں کیں۔ زیر نظر آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان کی اس حالت کا ذکر کیا ہے جس حالت کو وہ اپنے دلوں کے اندر چھپائے ہوئے تھے۔ ارشاد ہوتا ہے کہ اس وقت تو تم معذورتیں کر رہے لیکن اس وقت تو تم سمجھے بیٹھے تھے کہ اللہ کا رسول اور دوسرے مسلمان امس سفر کے بعد اپنے گھروں میں کبھی واپس ہی نہ ہوں گے اور تمہارے دلوں کو ہی بات ہی اچھی معلوم ہوئی اور تم نے برے بُرے خیالات قائم کر لئے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ تم ہلاکت میں پڑگئے “ اور ساتھ جانے کی بجائے پے چھ رہنے کو محض اس خطرہ کے باعث ترجیح دی اور جب وہ خطرہ ٹل گیا اور جانے والے بحمد اللہ بخیریت واپس آگئے تو اب تم طرح طرح کی معذرتیں پیش کر رہے ہو حالانکہ تم ہلاک ہونے والی قوم ہو کہ دعویٰ ایمان کا رکھنے کے باوجود کفر کرتے چلے جا رہے ہو اور اپنی عادت سے باز آنے کے لیے تم کبھی تیار نہیں ہو تعجب تمہاری اس حالت پر اور تمہاری اس عادت پر کہ تم اسلام کے دعویٰ کے باوجود اسلام اور مسلمانوں کی تباہی کے منتظر ہو اور تمہارے علی الرغم مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ نے فتح مبین عطا فرمائی اور اب تم دل کی بھڑاس ان معذرتوں کے ذریعہ نکال رہے ہو حالانکہ اب بھی تمہاری زبانیں وہ کچھ کہہ رہی ہیں جو تمہارے دلوں میں موجود نہیں ہے۔
Ayah 48:13

وَ مَنْ لَّمْ یُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ فَاِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ سَعِیْرًا Open ayah 48:13 in the Quran reader

اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہ لائے تو ہم نے (ایسے) کافروں کے لیے دہکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے

منافقین سے خطاب کہ اب تم بھی ہمارا فہصل کان کھول کر سن لو اور یاد رکھو 13 ؎ منافقین کے رازوں کو افشا کرنے کے بعد ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ تم لوگ اپنی عادتوں سے اگر باز نہ آئے اور اپنی اصلاح نہ کی تو تمہارا یہ ایمان تم کو کچھ فائدہ نہ دے گا بلکہ تمہارے لیے الٹا نقصان کا باعث ہوگا اس لیے تم بھی ہمارا فیصلہ اچھی طرح سن لو اور یاد رکھو کہ جو شخص الہل اور اس کے رسول پر صحیح معنوں میں ایمان نہیں لاتا فقط منہ سے دعویٰ اسلام پر ہی اکتفا کرتا ہے وہ اپنی آخرت کی زندگی کے سلسلہ میں ہمارا فیصلہ سن لے کہ وہ کافر کافر ہی ہے اور ایسے کافروں کے لیے ہم نے دوزخ کا عذاب تیار کر رکھا ہے اس دنیوی زندگی کے فریب سے وہ نکلے تو ان کا رباطہ سیدھا اس زندگی کے ساتھ قائم ہوگیا۔ یہ بات اس لیے ارشاد فرمائی کہ اگر وہ اپنی اصلاح کرکے سچے دل سے ایمان لے آئیں تو اس عذاب سے بچ سکتے ہیں ورنہ انکی چرب زبانی اور کھوکھلے وعدے ان کے کچھ کام نہیں آئیں گے۔
Ayah 48:14

وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 48:14 in the Quran reader

اور آسمانوں اور زمین کی حکومت اللہ ہی کے لیے ہے وہ جس کو چاہے بخش دے اور جس کو چاہے سزا دے اور اللہ بہت بخشنے والا اور بڑا ہی پیار کرنے والا ہے

آسمانوں ، زمین کی بادشاہی اللہ تعالیٰ ہی کو سزاوار ہے جزا و سزا کیلئے اس کا قانون قائم ہے 14 ؎ ان لوگوں کو سمجھایا جا رہا ہے کہ تمہارے لیے بہتر ہے کہ اپنی حرکتوں سے باز آجاؤ لیکن اگر تم باز نہ آئے تو کیا ہوگا ؟ تم کو اچھی طرح معلوم ہونا چاہئے کہ وہی کچھ ہوگا جو خالی دعویٰ کرنے والوں اور دعویٰ کرلینے کے بعد عملی طور پر مخالفت کرنے والوں کے ساتھ ہم کرتے چلے آ رہے ہیں کیونکہ آسمانوں اور زمین میں اصل حکم ہمارا ہی چلتا ہے کوئی سمجھے یا نہ سمجھے بس ہم نے جو ڈھیل دے رکھی ہے کہ ہر برا فعل کا نتیجہ تیار کرنے کے لیے ایک قانونبنا دیا ہے اور ہمارا قانون خاموشی کے ساتھ اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہے اور اس کا نتیجہ تیار کر رہا ہے۔ فعل کرنے والاف عل کرتا ہے اور بھول جاتا ہے لیکن ہمارے ہاں اس کے فعل کا نتیجہ محفوظ رہتا ہے اور اس کے عذاب اور اس کی مغفرت دونوں ہمارے قانون کی زد میں ہیں اگر وہ مغفرت کے قابل ہوا تو یقینا مغفرت ہوگی لیکن اگر وہ عذاب کے قابل ہوا تو ہم ذرا لحاظ نہیں کریں گے اور یہ بات زیادہ دیر نہیں لگے گی کہ اس پر خود بخود روشن ہوجائے گی کیونکہ وہ زمین کی زندگی کے قانون سے نکلا تو آخرت کے قانون سے اس کا سلسلہ جوڑ دیا گیا اور ہر کام ایک آنکھ کے جھپکنے سے بھی پہلے ہوجاتا ہے کچھ زیادہ دیر نہیں لگتی۔
Ayah 48:15

سَیَقُوْلُ الْمُخَلَّفُوْنَ اِذَا انْطَلَقْتُمْ اِلٰى مَغَانِمَ لِتَاْخُذُوْهَا ذَرُوْنَا نَتَّبِعْكُمْ١ۚ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّبَدِّلُوْا كَلٰمَ اللّٰهِ١ؕ قُلْ لَّنْ تَتَّبِعُوْنَا كَذٰلِكُمْ قَالَ اللّٰهُ مِنْ قَبْلُ١ۚ فَسَیَقُوْلُوْنَ بَلْ تَحْسُدُوْنَنَا١ؕ بَلْ كَانُوْا لَا یَفْقَهُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 48:15 in the Quran reader

(مسلمانو ! ) جب تم غنیمتیں لینے کو چلو گے تو جو لوگ پیچھے رہ گئے تھے (جہاد میں شامل نہ ہوئے تھے) کہنے لگیں کہ ہم کو بھی اجازت دو کہ ہم تمہارے ساتھ چلیں ، یہ لوگ تو چاہتے ہیں کہ اللہ کا قول بدل دیں آپ ﷺ فرما دیجئے کہ تم ہرگز ہمارے ساتھ نہیں چل سکتے اللہ نے اسی طرح فرما دیا ہے ، پھر وہ کہیں گے کہ تم تو ہم سے جلتے ہو در حقیقت یہ لوگ بہت ہی کم سمجھتے ہیں

15 ؎ کہتے ہیں کہ ” جادو وہ جو سر چڑھ بولے “۔ قرآن کریم نے ایک بار نہیں بار بار ایسی پیش گوئیاں کی ہیں اور جو پیش گوئیاں کی ہیں وہ اپنے وقت پر حرف بہ حرف پوری بھی ہوئی ہیں۔ زیر نظر آیت میں بھی ایک پیش گوئی بیان کی گئی ہے اور فرمایا جا رہا ہے کہ یہ تو ایک وقت تھا کہ نبی اعظم و آخر ﷺ نے اعلان کیا کہ اگر تم لوگ عمرہ کرنے کا شوق رکھتے ہو تو ہمارے ساتھ چلو جن کے مقدر میں سعادت تھی وہ ساتھ ہوگئے اور بدبختوں کی شامت آگئی اور بہانے کرنے لگے۔ جب تم لوگ بخیریت واپس آگئے تو ان لوگوں نے معذرتیں شروع کردیں۔ کیا یہ ایک ہی بار ایسا ہوا پھر کبھی زندگی میں ایسا نہیں ہوگا ، فرمایا کیوں نہیں زندگی میں ایسے مواقع بار بار آئیں گے کہ مسلمان اللہ کے فضل و کرم سیغزوات و سرایا کے لیے نکلبیں گے اور وہاں سے بہت سی غنیمتیں اپنے ساتھ لائیں گے لیکن جب بھی ایسا موقع آئے گا تو یہ لوگ ساتھ نکلنے کے دعویٰ کریں گے ، باتیں بنائیں گے لیکن جو کچھ کہیں گے وہ ان کے دل کی بات نہیں ہوگی بلکہ صرف دفعہ الوقتی کے لیے ایسا کریں گے اور عین وقت پر ادھر ادھر کھسک جائیں گے اور جوں ہی وقت نکل گیا یہ دوبارہ آموجود ہوں گے اور اسی طرح کی باتیں کریں گے جس طرح کی باتیں وہ اس وقت کر رہے ہیں یعنی بہانے اور آئیں بائیں شائیں جس بات کا نہ سر ہوگا نہ پیر وہ تراشتے اور بیان کرتے جائیں گے۔ اس بات کی اطلاع تم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی جا رہی ہے کہ ان پر اعتماد نہ کرنا یہ اللہ تعالیٰ کے کلام کو بدل نہیں سکتے ہم نے ان کی ایک ایک حرکت تم پر واضح کردی ہے اس لیے تم قبل از وقت ان کو کہہ دو کہ ہمیشہ دور کے ڈھول سہانے ہوتے ہیں جب سر پر بجنے لگتے ہیں تو اس وقت کچھ سنائی نہیں دیتا۔ تمہاری ان حرکتوں کی ہم کو ہمارے اللہ نے اطلاع کردی ہے۔ ہاں ! خیال رہے کہ جب تم ان کو اس طرح کہو گے تو وہ بھی آخر زبان رکھتے ہیں اس لیے تم کو جواب دیں گے اور ان کا جواب بھی ہم تم کو بتا دیں وہ کہیں گے تو یہی کہ ” تم تو ہم سے جلتے ہو یعنی حسد رکھتے ہو “ اس لیے ہمارے متعلق اس طرح کی باتیں کرتے ہو ، ایسا کیوں کہیں گے ؟ فرمایا اس لیے کہ ” درحقیقت یہ لوگ حق بات کو بہت کم ہی سمجھتے ہیں “ اکثر مذاق مذاق میں اڑانے ہی کے یہ قائل ہوتے ہیں اور جب وقت آئے گا تو اس طرح کی کوئی بات اور کہہ دیں گے۔ اسی کو کہتے ہیں کہ ” رسی جل گئی پر بل نہ گیا “ اچھا ابھی ان کا امتحان کرلیتے ہیں دور جانے کی ضرورت نہیں۔
Ayah 48:16

قُلْ لِّلْمُخَلَّفِیْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ سَتُدْعَوْنَ اِلٰى قَوْمٍ اُولِیْ بَاْسٍ شَدِیْدٍ تُقَاتِلُوْنَهُمْ اَوْ یُسْلِمُوْنَ١ۚ فَاِنْ تُطِیْعُوْا یُؤْتِكُمُ اللّٰهُ اَجْرًا حَسَنًا١ۚ وَ اِنْ تَتَوَلَّوْا كَمَا تَوَلَّیْتُمْ مِّنْ قَبْلُ یُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا Open ayah 48:16 in the Quran reader

(اے پیغمبر اسلام ! ) آپ ﷺ ان پیچھے رہ جانے والے گنواروں سے فرما دیں کہ جلد ہی تم کو ایک اور بڑی جنگجو قوم کے مقابلہ میں لڑنے کے لیے بلایا جائے گا تم ان سے جنگ کرتے رہو گے (تاآنکہ) وہ اطاعت قبول کرلیں پھر اگر تم اطاعت کرو گے تو تم کو اللہ بہت اچھا بدلہ دے گا اور اگر تم روگردانی کرو گے جیسے تم اس سے قبل روگردانی کرچکے ہو تو (اللہ) تم کو دردناک عذاب دے گا

منافقین کے امتحن کے لیے ایک واضح اور حقیقی کسوٹی جس پر ان کو پرکھا جا سکتا ہے 16 ؎ کہا جاتا ہے کہ یار زندہ صحبت باقی۔ زندگی میں کیا جہاد کرنے کی ضرورت ایک ہی بار پیش آنے والی چیز ہے ؟ نہیں یہ آزمائش تو زندگی میں بار بار ہوتی رہے گی اور اب جب کہ جہاد جاری ہے اور اس کو ضرورت کے مطابق ہر وقت جاری رکھا جانا ضروری ہے ابھی ایک وقت گزرا تو دوسرا آگیا۔ اے پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ انکو خبردار کردیں کہ اگر تم لوگ فی الواقع اللہ اور اس کے رسول کے فرمانبردار ہو تو اس کا ثبوت تم فقط زبان ہی سے نہیں پہنچا کر ہم کو مطمئن کرسکتے اس کے لیے اس دارالعمل میں عمل ہی سے ثابت کرنا ہوگا اگر تم غنیمت چاہتے ہو تو تو تم کو ایک اور طاقتور قوم سے ٹکرا دیا جائے گا جب کہ وہ قوم اللہ اور اس کے رسول کی باغی ہوگی تم کو اس کے ساتھ لڑنا ہوگا اور جہاد کر کے غنیمت حاصل کرنا ہوگی بس تم تیاری کرو اور عنقریب تم کو اس قوم کی طرف نکلنے کی دعوت دی جائے گی ہاں ! یاد رکھو کہ وہ قوم بہت ہی جنگ جو ہے اور اس نے ہی ہم پر جنگ مسلط کرنے کا اب مزہ چکھانا ہے تاکہ یہ روزروز کی جھک جھک ختم ہوجائے اور جو کچھ مشیت ایزدی میں ہونا ہے وہ ہوجائے۔ لاریب ایک جنگجو قوم کا مقابلہ لوہے کے چنے چبانے کے مترادف ہوتا ہے اور سلامتی اسی میں ہے کہ اب ان کی رورعایت نہ کی جائے بلکہ ان کی کیے کا ان کو مزہ چکھایا جائے۔ یہ بات جو ان سے کہی گئی یہ محض فرضی بات نہیں تھی بلکہ یہ وہ بات تھی جو عنقریب ہونے والی تھی اور ان سے قبل از وقت بطور پیش گوئی بتائی جا رہی تھی لیکن اس سے ان کا امتحان بھی مقصود تھا اس لیے اس کی وضاحت ان کے سامنے پیش نہ کی گئی اگر یہلوگ زیرک ہیں تو خود بخود ہی سمجھ لیں گے کہ اب پیغمبر اسلام ﷺ کا ارشادہ کس قوم کی طرف بڑھنے کا ہے اور اگر بات دوسری ہے تو اس وقت ابھی ان کا امتحان ہی مقصود تھا وہ یقینا ہوجائے گا۔ ان سے کہا جا رہا ہے کہ تم کو قبل از وقت ہم آگاہ کیے دیتے ہیں تاکہ تم اپنی جگہ تیار رہو اور جونہی اعلان ہو تو پیغمبر اسلام ! ﷺ اور دوسرے مسلمان تم کو تیار پائیں اور ذرا دیر نہ لگے کہ تم میدان عمل میں ہو لیکن ہاں ! اگر تم نے گزشتہ کی طرح بزدلی دکھائی جو عمہ کے نکلنے کے وقت دکھا چکے ہو تو یاد رکھو کہ تم کو بھی اسی طرح درد ناک عذاب میں مبتلا کردیا جائے گا جس طرح کے عذاب میں کھلے کافر مبتلا ہوں گے۔ اس طرح گویا ایک طرح سیمطلع کردیا کہ تمہارے حیلے بہانوں سے کچھ نہیں ہوگا جس کام نے ہونا ہے وہ ہو کرر ہے گا جس طرح کہ پہلے ہوتا چلا آ رہا ہے اور کان کھول کر سن لو کہ اللہ کے کام لوگوں کے حیلوں بہانوں سے کبھیرک نہیں گئیجن کے مقدر میں سعادت ہوتی ہے وہ بھاگکر اس کو حاصل کرلیتے ہیں اور جو ہمت کے پست ہوتے ہیں وہ تیاریوں ہی تیاریوں میں رہ جاتے ہیں ، ایسا کیوں ہوتا ہے ؟ فرمایا اس لیے کہ باتونی محضب اتوں ہی سے خوش جکرکے سستی شہرت حاصل کرنے کے خواہشمند ہوتے ہیں اور وہ بےپر کی اڑاتے ہیں کہ جب وقت آ کر نکل جائے گا تو ان کی شہادت دینے والے ان پر کس طرح کے لوگ شہادت دیں گے ان کی تیری میں تو کوئی شک نہیں تھا بس اتفاق ہوگیا کہ موقع پر ان کو ایسا کام پڑا کہ یہ بیچارے شامل نہ ہو سکے۔ ان دل کے بیچاروں سے کہہ دو کہ ہم کو اچھی طرح معلوم ہے جونہی پھر وقت قریب آئے گا تو تم کو کوئی نہ کوئی کام ضرور پڑجائے گا اور سرمنڈواتے ہی اولے پڑیں گے۔
Ayah 48:17

لَیْسَ عَلَى الْاَعْمٰى حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْاَعْرَجِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْمَرِیْضِ حَرَجٌ١ؕ وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ یُدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۚ وَ مَنْ یَّتَوَلَّ یُعَذِّبْهُ عَذَابًا اَلِیْمًا۠ Open ayah 48:17 in the Quran reader

نہ اندھوں پر کوئی گناہ ہے نہ لنگڑوں پر کوئی گناہ اور نہ ہی بیماروں پر کوئی گناہ ہے اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا تو اللہ اس کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں اور جو کوئی روگردانی کرے گا (اللہ) اسے دردناک عذاب دے گا

معذور لوگ تو بہرحال معذور ہیں لیکن پھرجانے والوں کے لیے عذاب تیار کھڑا ہے 17 ؎ معذور ہونا اور بہانے تراش کر معذور بننا دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ اندھے ، لنگڑے اور مریض لاریب جہاد سے مستثنیٰ ہیں لیکن اگر کوئی آنکھوں والا اندھا بن کر رہ جائے اور کوئی اچھا بھلا فرضی طور پر لنگڑانے لگے اور دل کا روگی بیمارہونے کا بہانہ کرے تو کیا اس کے بہانہ کو عذر مان لیا جائے گا ؟ فرمایا نہیں ایسا نہیں ہو سکتا معذور معذور ہے اور بہانے تراشنے والوں کو معذور تصور کر کے نہیں چھوڑا جاسکتا اور جنت بہرحال ان ہی لوگوں کے حصہ میں آئے گی جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے سچے فرمانبردار ہوں گے کیونکہ جنت مقام ہی ایسا ہے کہ وہاں کوئی شخص بھی جو دل کا روگی ہے نہیں جاسکتا بلکہ جنت کے انعامات کے مستحق وہی لوگ ہیں جو دل کے سچے اور ہمت کے جوان ہیں وہ اگر معذور بھی ہیں تو ان کا عذر ان کو جنت سے دور نہیں رکھ سکتا بلکہ انکا عذر عنداللہ مقبول ومنظور ہے اور جو شخص عذر کو بہانہ بنا کر کھسکنا چاہے گا اس کو دردناک عذاب سے واسطہ پڑے گا اور ان میں اور دوسرے کفار میں عنداللہ کوئی فرق نہیں رکھا جائے گا بلکہ ایمان کے دعویٰ کے بعد کفر کرنا کفر کرنے والوں کیلیے مزید مہلک ثابت ہوگا۔ خیال رہے کہ منافینب کی حرکتوں کا بیان سورة الانفال اور سورة التوبہ میں بہت تفصیل کے ساتھ گزر چکا ہے اس لیے ہم نے اس جگہ زیادہ بحث نہیں کی بہتر ہوگا کہ ان لوگوں کی کارستانیاں سمجھنے کے لیے ان دونوں سورتوں کا مطالعہ نہایت گہری نظر سے کیا جائے اور وہ اس طرح کہ بالکل خالی الذہن ہو کر اپنا کردر اور عمل بھی پرکھا جائے تاکہ کوئی بات ایسی معلوم ہو جو اس روگ کی نشاندہی کرتی ہو تو اس کو نکالنے کی بھرپور کوشش کی جائے اور اس طرح ان معذوروں کی مزیدوضاحت درکار ہو تو سورة التوبہ کی آیت 91 تا 93 کی تفسیر دیکھیں اور سورة التوبہ عزوۃ الوثقی کی چوتھی جلد میں ملے گی۔
Ayah 48:18

لَقَدْ رَضِیَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ یُبَایِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِیْ قُلُوْبِهِمْ فَاَنْزَلَ السَّكِیْنَةَ عَلَیْهِمْ وَ اَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِیْبًاۙ Open ayah 48:18 in the Quran reader

بلاشبہ اللہ مومنوں سے خوش ہوا جب وہ درخت کے نیچے آپ ﷺ سے بیعت کر رہے تھے ، پس اللہ نے جو ان کے دلوں میں تھا ظاہر کردیا پھر ان پر تسکین نازل فرمائی اور ان کو جلد ہی ایک فتح عطا فرما دی

بیعت رضوان میں شامل ہونے والوں کے لیے جنت کی واضح الفاظ میں بشارت 18 ؎ بیعت رضوان وہی ہے جس کا ذکر پیھے گزر چکا ہے جو میدان حدیبیہ میں نبی اعظم و آخر ﷺ نے صحابہ کرام ؓ سے لی تھی جب یہ افواہ مشہور ہوئی کہ عثمان ؓ کو کفار مکہ نے شہید کردیا ہے۔ یہ بیعت آپ ﷺ نے ایک درخت کے نیچے بیٹھ کرلی تھی اسی لیے اسے بیعت الشجرہ کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ گزشتہ آیت میں چونکہ بہانے تراشنے والوں اور دوہری پوزیشن کے لوگوں کا ذکر کیا گیا جو ایمان کے مدعی ہونے کے باوجود کفر کو اسلام پر ترجیح دیتے ہیں اس لیے زیرنظر آیت میں ان جانبازوں اور سرفروشوں کا ذکر کیا جا رہا ہے اور اس کے رسول ﷺ کی رضا کے لیے سردھڑ کی بازی لگانا بالکل آسان سمجھتے ہیں اور عذر وبہانہ انکے قریب بھی نہیں بھٹکتا بلکہوہ ایسے شرعی عذروں کو بھی مخفی رکھکرجہاد میں شریک ہوتے ہیں اور نہتے ہونے کے باوجوداپنے آپ کو اسلحہ سے لیس سمجھتے ہیں کیونکہ وہ میدان جنگ میں اپنے ایمان کی طاقت و قوت کو ہمارے اسلحوں سے زیادہ طاقتور اسلحہ سمجھتے ہیں۔ فرمایا اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے جو ایمان لانے کے بعد نبی اعظم و آخر ﷺ کے اشارہ سے عمرہ کی خاطر نکلے تھے اور میدان حدیبیہ میں پہنچ کر اتفاقاً ان کو میدان کارزار میں نکلنا پڑا تھا اور اس مقصد کے لیی ان سے بیعت طلب کی گئی تھی پھر کیا ہوا کہ جونہی انہوں نے جہاد کا نام سنا اور میدان جہاد میں نکلنے کے لیے بیعت کے لیے ان کو بلایا گیا تو وہ بغیر کسی حیل و حجت کے تیار تھے اور اس طرح تیار تھے کہ جب جنگ ٹل گئی اور جہاد کی ضرورت پیش نہ آئی اور ان کو گویا اپنے دلی ارمان نکالنے کا موقع نہ ملا تو وہ دل ہار بٹھے اور اپنی قسمت کا ماتم کرنے لگے کہ جنت ہماری آنکھوں کے سامنے سے آ کر ہاتھوں سے نکل رہی ہے اور جن پھلوں کو ہم چننے کے لیے تیار کھڑے تھے ان سے ہم ایک وقت تک پھر دور کیے جا رہے ہیں پھر اللہ نے ان کے دلوں کو تسکین دی اور ان کے جذبہ جہاد کی تعریف کرتے ہوئے ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ ” بلاشبہ اللہ ان مومنوں سے خوش ہوگیا جو درخت کے نیچے آپ ﷺ سے اے پیغمبر اسلام ! بیعت کر رہے تھے اور اللہ تعالیٰ نے جو ان کے دلوں میں تھا اس کی وضاحت کردی۔ “ آپ ﷺ کے اس حکم کے بعد کہ قربانیاں کرو اور سرمنڈا دو اور وہ جو خاموش ہوگئے تھے تو محض اس لیے کہ وہ جہاد کے نشہ میں مخمور تھے ، انکے دلوں میں کسی طرح کا کوئی روگ موجود نہیں تھا ان کو موت پرب یعت کرنیکے خیال نے کچھ سمجھ میں نہ آنے دیا اور پھر جب آپ ﷺ نے عمل شروع کردیا جو عمل آپ ﷺ کو کرتے انہوں نے پایا۔ ان کے ایمان و ایقان کی شہادت خود رب ذوالجلال والاکرام دے رہا ہے اور ان کی دلی تسکین کا ذکر فرمایا جا رہا ہے اور اب ان کو مخاطب کر کے ایک مزید ایسے جہاد پر جانے کی خوشخبری دی جا رہی ہے جس میں جا کر وہ ایک بہت بڑی فتح حاصل کرنے ان کو دی گئی جس بیعت کے کرنے کے بعد جب جنگ بندی کرنا ناگزیر ہوگئی تو وہ گویا دیکھتے ہی دیکھتے رہ گئے اور جنگ کرنے کی بجائے جنگ نہ کرنا ان کو دشوار معلوم ہونے لگا۔ فرمایا اس وقت تم کو جس چیز سے روکا گیا تھا اور تم مغموم ہو کر رہ گئے تھے تو اس کا وقت قریب آیا چاہتا ہے تو تم کو خبردار کر رہے ہیں کہ اپنی تیاری مکمل رکھو اور ایک بہت بڑی فتح حاصل کرنے کے لیے تیار رہو بلاشبہ تمہارا واسطہ ایک بہت جنگجو قوم سے ہوگا لیکن چونکہ ان کی جنگ بلامقصد ہے اس لیے بامقصد لوگوں کی کامیابی قریب آیا ہی چاہتی ہے اور بلامقصد لڑنے والوں کو میدان سے ہم نکال دیناچاہتے ہیں اور ظاہر ہے کہ ہمارے فصلہ کو کوئی نہیں جو بدل سکے۔ اس فتح سے کونسی فتح مراد ہے یوں تو ہر وہ فتح مراد لی جاسکتی ہے جو صلح حدیبیہ کے بعد مسلمانوں کو حاصل ہوئی لیکن اپنی افادیت کے لحاظ سے اس کے بعد جو فتوحات حاصل ہوئیں ان میں سب سے شاندار فتح ، فتح مکہ ہی ہو سکتی ہے جو فتح مبین کے بعد سب سے بڑی فتح تھی اور جس فتح کے بعد خطہ عرب میں اسلام کا بول بالا ہوگیا تھا اور کفر کا مٹایا جانا ضروری قرار پایا تھا اور یہ بھی کہ یہ وہ فتح تھی جو مسلمانوں کو اس طرح نصیب ہوئی کہ اس کی مثالیں تاریخ میں بہت کم ملتی ہیں اور بلاشبہ اسلام نے جتنی جنگیں لڑیں ان میں بھی یہ فتح ایک منفرد حیثت رکھتی ہے کیونکہ یہ بغیر کسی نقصان کے اس طرح حاصل ہوگئی جس طرح بال مکھن سے نکالا جاتا ہے کہ کوئی آلائش اس کے ساتھ نہیں آتی اور صاف و شفاف وہ ذراہاتھ ہلانے سے باہر آجاتا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ قرآن کریم میں اس جگہ فتح کا نام صاف لفظوں میں نہیں لیا گیا اور یہی وجہ ہوئی کہ اس سے لوگوں نے مختلف فتوحات کا ذکر کیا اور کسی نے کچھ اور کسی نے کچھ مراد لیا لیکن ہم نے اس سے جو فتح مکہ مراد لی ہے تو بغیر دلیل کے نہیں لی۔ آپ پیچھے آیت 16 میں پڑھ چکے ہیں کہ نام کے مسلمانوں کو مخاطب کر کے ایک فتح کا ذکر کیا گیا ہے اس میں بتایا گیا ہے کہ تمہارا آمنا سامنا ایک نہایت جنگجو قوم سے ہونے والا ہے۔ دوسری بات یہ واضح فرما دی کہ تم ان سے لڑائی کرو گے یا وہ ہتھیار ڈال دیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ ہر حال میں میدان تمارے ہی ہاتھ میں رہے گا اور زیر نظر آیت میں یہ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ عنقریب تم کو وہ فتح اس فتح کے انعام میں دی جائے گی گویا فتح مبین یعنی حدیبیہ کے مقام پر جو تم کو دلی صدمہ پہنچا ہے کہ تم کو بغیر عمرہ ادا کیے واپس جانا پڑا ہے اس کے صلہ میں تم کو ایسی فتح نصیب ہوگی کہ فتح بھی ہوگی اور تمعمرہ کو بھی ادا کرسکو گے گویا یہ فتح ایک پنتھ دو کاج کے مصداق ہوگی اور ظاہر ہے کہ ایسی فتح ، فتح مکہ ہی ہو سکتی ہے نہ کہ کوئی دوسری فتح اور یہی ہم نے اس جگہ مراد لی ہے۔ جہاں تک نتیجہ کا تعلق ہے وہ تو بلاشبہ جنگ خیبر بھی اور صلح حدیبیہ کے بعد بھی جو جنگیں لڑی گئیں سب کی سب اسی صلح حدیبیہ کا نتیجہ قرار دی جاسکتی ہیں اور خصوصاً جنگ خیبر جو 7 ھ محرم میں پیش آئی اور اس طرح اور غزوہ ذات الرقاع بھی جو 7 ھ ہی میں ہوا صلح حدیبیہ کے بعد کے سرایا و غزوات ہیں لیکن فتح مکہ پر وہ حقیقت ثابت ہوتی ہے جو اس جگہ بتائی گئی ہے کہ ان ساری قوموں میں قریش ہی وہ قوم ہے جو زیادہ جنگجو قوم تھی اور مسلمانوں پر جنگ مسلط کرنے والے بھی وہی تھے دوسرا یہ کہ عمرہ کا تعلق بھی فتح مکہ ہی کے ساتھ ہے جس کے بعد حج وعمرہ کی روک مکمل طور پر ختم کردی گئی کہ مکہ براہ راست نبی اعظم و آخر ﷺ کے زیر تسلط آگیا اور تیسرا یہ کہ فتح بھی بغیر کسی جنگ لڑنے کے حاصل ہوگئی اور دونوں اطراف سے کوئی نقصان بھی نہ ہوا اور جو کچھ ہوا نہایت خاموشی اور سکون کے ساتھ ہوگیا اور اس سے سارے خطرات بھی ٹل گئے اور دوستوں ، یاروں اور بھائیوں کو مل بیٹھنے کا موقع بھی فراہم ہوا اور سارے گلے اور شکوے بھی دور ہوگئے اور ان کی حالت وہی ہوگئی جو ہم خرما وہم صواب میں ہوتی ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ بعض مفسرین نے صلح حدیبیہ کے بعد سارے غزوات و سرایا کو اسی پیش گوئی میں شامل کیا ہے اور ایک ایک پر بحث کر کے ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ ان آیات میں جو فلاں لفظ ہے وہ فلاں جنگ پر دال ہے اور فلاں لفظ فلاں سریہ کی طرف اشارہ کر رہا ہے اور اس طرح کرتے کرتے انہوں نے 6 ھ کے بعد کے تمام بڑے بڑے سرایا و غزوات گنوا دیئے ہیں اگر کوئی صاحب ان سب کو یا ان میں سے کسی ایک کو مراد لیتے ہوں اور اس سے فتح مکہ نہ تسلیم کرتے ہوں تو بھی ہمارا اس میں کوئی مطالبہ نہیں اور نہ ہی ہم بضد ہونے کے لیے تیار ہیں ہم نے جو سمجھا ہے وہ عرض کیا ہے۔ اور بس !
Ayah 48:19

وَّ مَغَانِمَ كَثِیْرَةً یَّاْخُذُوْنَهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا Open ayah 48:19 in the Quran reader

اور بہت سی غنیمتیں بھی (عطا کیں) جن سے وہ سرفراز ہوتے رہے اور اللہ زبردست حکمت والا ہے

بعض سرایا و غزوات میں دشمنوں سے بہت نتائج حاصل ہونے کی پیش گوئی 19 ؎ فتح مکہ کی اطلاع کے بعد ایک مزید فتح کی پیش گوئی بیان کی جا رہی ہے کہ فتح مکہ کے علاوہ مسلمانوں کو ایک ایسی فتح بھی نصیب ہوگی جس میں مسلمانوں کو اتنا مال غنیمت حاصل ہوگا کہ ان کی ساری خشکی دور ہوجائے گی اور ایسا معلوم ہوگا کہ یہ لوگ مسلمانوں ہی کی خاطر یہ مال جمع کرتے رہے تھے۔ زیر نظر آیت میں جن اموال غنیمت کی طرف اشارہ دیا گیا ہے یہ اشارہ بلاشبہ جنگ خیبر پر ہی صادق آتا ہے کیونکہ جو اموال جنگ خیبر سے مسلمانوں کو ملے وہ اگر اکٹھے کیے جائیں تو اس سے پہلے جتنی جنگیں ہوئیں ان سب کی غنائم اکٹھی کی جائیں تو بھی خیبر سے ملنے والے غنائم کا پلہ بھاری ہی رہے گا اور لاریب اس مال غنیمت نے مسلمانوں کی ساری خشکیاں دور کردیں اور بیت المال میں بھی بہت سا مال جمع ہوگیا ویسے تو اموال سے کوئی شخص کبھی سری نہیں ہوا اور نہ ہی ہو سکتا ہے لیکن جہاں تک ضرویات کا تعلق ہی ان کو پورا کرنے میں کوئی کسر باقی نہ رہی۔ جنگِ خیبر اور اموال خیبر کی تقسیم کی تفصیلات کا یہ مقام نہیں ہے اس کو دیکھنا مقصود ہو تو کسی سیرت یا تاریخ کی کتاب کو دیکھ لیں۔ فرمایا ہم نے تم کو غنائم کی کثرت کی خبر دے دی ہے اور وہ تم کو یقینا حاصل ہوں گی اور اللہ تعالیٰ اپنے احکام کو پورا کرنے میں سب پر غالب آنے والا اور سب داناؤں سے زیادہ دانا ہے اس کی تدبیر کو کوئی نہیں جو روک سکے۔
Ayah 48:20

وَعَدَكُمُ اللّٰهُ مَغَانِمَ كَثِیْرَةً تَاْخُذُوْنَهَا فَعَجَّلَ لَكُمْ هٰذِهٖ وَ كَفَّ اَیْدِیَ النَّاسِ عَنْكُمْ١ۚ وَ لِتَكُوْنَ اٰیَةً لِّلْمُؤْمِنِیْنَ وَ یَهْدِیَكُمْ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًاۙ Open ayah 48:20 in the Quran reader

اللہ نے تم سے بہت سی غنیمتوں کا وعدہ کیا ہے تم ان کو (ضرور) حاصل کرو گے پس یہ غنیمت تو تم کو جلدی دے دی اور تم سے لوگوں کے ہاتھ روک دیئے اور تاکہ مسلمانوں کے واسطے ایک نمونہ قائم ہوجائے اور وہ تم کو سیدھی راہ چلائے

اللہ تعالیٰ نے بہت سی غنیمتیں دینے کا تم سے وعدہ کیا ہے جو یقینا پورا ہوگا 20 ؎ صلح حدیبیہ کے بعد کے حالات کا مطالعہ کریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ فی الحقیقت اس صلح کے بعد حالات بہت تیزی سے بدلنے شروع ہوگئے اور اہل اسلام نے جس طرف منہ کیا فتح پر فتح ہوتی چلی گئی لوگ جوق در جوق اسلام میں داخل ہونے شروع ہوگئے اور اموال سے بیت المال بھی بھر گیا اور لوگ بھی سیر ہوگئے اور ہر سو خوش حالی کا دور دورہ شروع ہوگیا اور لڑائیاں کرنے والوں اور سازشیوں سب نے اپنے اپنے ہاتھ روک لیے اور مکمل طور پر فراوانی کا دور دورہ ہوگیا اور مسلمانوں نے امن و آرام پایا اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے جو اس صلح کو فتح مبین قرار دیا تھا تو اس کو حرف بہ حرف صحیح اور درست ثابت کردیا۔ اب زیر نظر آیت میں اس بات کا اعلان بھی کیا جا رہا ہے کہ اہل اسلام پر جن نوازشات کا سلسلہ شروع ہورا ہے یہ اس جگہ ختم نہیں کیا جائے گا بلکہ جب تک مسلمان اطاعت و فرمانبرداری اور خلوص کا مظاہرہ کرتے رہیں گے ہمارا ابر رحمت برابر ان پر برستا رہے گا۔ ہمارا وعدہ ہے کہ ہم مسلمان کو بیشمار غنائم سے مالا مال کردیں گے جس طرح کہ اس سے بہت پہلے ہم نے تم کو صلح حدیبیہ کے مقام پر صلح کرا کر ایک طرف سے تم کو دس سال تک مطمئن کردیا تھا کہ اب وقت آگیا ہے کہ قریش مکہ کی طرف سے بالکل مطمئن ہو کر دوسرے غدار ، مکار اور سیہ کار لوگوں سے اچھی طرح نمٹ لو اور ان کو بھی انکے کیے کا مزہ چکھاؤ اور ظاہر ہے کہ قریش کے علاوہ یہ دوسرے لوگ یہود ونصاریٰ اور ناجد کے بدوہی تھے جنہوں نے اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺ کے ساتھ مختلف غداریاں کی تھیں اور اہل اسلام کو دکھ پہنچانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی تھی۔ اہل اسلام جب ان کی طرف متوجہ ہوئے تو عین اللہ رب کریم کی پیش گوئی کے مطابق ہر طرف سے ان کا خیر مقدم شروع ہوگیا اور جدھر یہ لوگ جاتے لوگ اٹھ اٹھ کر انکو سلام پیش کرتے اور انکے راستہ سے خود بخود ہٹتے چلے جاتے اور ان کے لیے جگہ خالی چھوڑتے چلے گئے۔ اس میں ایمان والوں کے لیے بہت سی نشانیاں مخفی رکھی گئی ہیں اور مسلمانوں کو اس سیدھی راہ پر اس طرح گامزن کردیا گیا کہ اس کے بعد بحمد اللہ ان کے قدموں میں کبھی لغزش نہ آئی اور یہ ساری پشل گوئیاں حرف بہ حرف پوری ہوئیں جن کے ذکر سے تاریخ اسلام اور سیرت النبی کی کتابیں آج بھی بھری پڑی ہیں اور مسلمانوں کے حالات اتنی تیزی سے بدل گئے کہ حدیبیہ سے پہلے کی تاریخ اور بعد کی تاریخ میں زمین و آسمان کا فرق نظر آنے لگا اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پہلے کے حالات کسی اور قوم کے ہیں اور دوسرے حالات کسی دوسری قوم کے اور اس طرح حقیقت شناس لوگ اگر مطالعہ کریں گے تو ان کو صاف صاف نظر آنے لگے گا کہ ایمان والوں سے جو وعدے ان کی کمزور حالات کے وقت کیے گئے تھے وہ ایک ایک کر کے سچ ثابت ہونا شروع ہوگئے اور ان تمام پیش گوئیوں نے حقیقت کا روپ دھار لیا۔
Ayah 48:21

وَّ اُخْرٰى لَمْ تَقْدِرُوْا عَلَیْهَا قَدْ اَحَاطَ اللّٰهُ بِهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرًا Open ayah 48:21 in the Quran reader

اور وہ ایک اور فتح (انعام فرمائے گا) جس پر تمہیں قابو نہیں لیکن وہ اللہ کے احاطہ قدرت میں ہے اور اللہ تو ہرچیز پر قادر ہے

مسلمانوں کی چاہت اور حسرت بہت کچھ بڑھ کردیئے جانے کا پیش گوئی 21 ؎ بدر سے صلح حدیبیہ تک اور صلح حدیبیہ سے تبوک تک جو کچھ مسلمانوں کو حاصل ہوا اور جو ابھی حاصل ہونا تھا وہ سب مسلمانوں کی خواہش کے مطابق تھا اور مسلمان ان علاقوں کی فتوحات کے متعلق سوچ سکتے تھے اور خواہش کرسکتے تھے کہ ان علاقوں پر ان کا تسلط اس لیے ہو کہ ان علاقوں میں ایسے لوگ موجود تھے جنہوں نے کسی نہ کسی صورت میں مسلمانوں کو ستایا تھا اور ان کی تکلیف کا باعث بنے تھے اور یہ فطری چیز ہے کہ جس طرف سے کسی کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے انسان کا جی چاہتا ہے کہ اس تکلیف دینے والے پر مجھے قدرت حاصل ہو تاکہ اس سے میں بدلہ لے سکوں یا کم از کم اس کو احساس دلا سکوں کہ اب اگر میں بھی چاہوں تو تم سے ایک ایک چیز کا بدلہ لے سکتا ہوں۔ زیر نظر آیت میں ان سب علاقوں اور ان سب لوگوں سے ماوراء دوسرے علاقوں اور دوسرے لوگوں پر تسلط دیئے جانے کی پیش گوئی سنائی جا رہی ہے کہ ایسے علاقے ، لوگ اور قومیں بھی ہیں جن پر مسلمانوں کو اقتدار دیئے جانے والا ہے مسلمان اگرچہ ان پر قدرت نہیں رکھتے جیسے مغرب میں شام ، فلسطین ، مصر ، شمالی افریقہ ، سپن اور مشرق میں عراق ، ایران ، افغانستان اور باقی برصغیر کے ممالک کی فتوحات۔ فرمایا اللہ تعالیٰ نے ان سب کو مسلمانوں کے سپرد کرنے کے لیے گھیر رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ جن جن کاموں کا اندازہ کرتا ہے وہ سب اسی اندازہ کے مطابق پورے ہوتے چلے جاتے ہیں اور یہ بھی کہ اللہ ربِّ ذوالجلال والا کرام جب کسی گری پڑی قوم پر فضل و کرم کی بارش چاہتا ہے تو بادل اس طرف امڈ کر چلے جاتے ہیں اور مردہ زمین کو اللہ تعالیٰ چند ہی دنوں میں ہری بھری کرکے رکھ دیتا ہے اور اس طرح سڑی پڑی زمین پر ہر طرف ہریالی سی ہریالی نظر آنے لگتی ہے اور یہ بات سب کو معلوم ہے کہ اوپر جو مقامات گنوائے گئے ہیں ان میں سے ایک ایک مقام پر اللہ تعالیٰ نے اپنے قانون کے مطابق ان کا اقتدار دوسرے ہاتھوں میں دے دیا اور اب شاید کسی کو یاد بھی نہیں رہا کہ ان مقامات پر کبھی لا الہ الا اللہ کا پرچم لہراتا رہا ہے اور یہاں پر اسلام کے شیدائی حکومت کرتے رہے ہیں اور غیر قوموں کے آثار ان علاقوں سے مٹا دیئے گئے تھے اور ایک اللہ کی عبادت یہاں ہوا کرتی تھی۔
Ayah 48:22

وَ لَوْ قٰتَلَكُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوَلَّوُا الْاَدْبَارَ ثُمَّ لَا یَجِدُوْنَ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًا Open ayah 48:22 in the Quran reader

اور اگر تم سے یہ کافر لڑتے تو پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتے پھر وہ نہ کسی کو دوست پاتے اور نہ مددگار

بطورِ پیش گوئی بتایا گیا کہ اگر کافروں نے تم سے لڑائی کی تو وہ پیٹھ پیر کر بھاگ نکلیں گے 22 ؎ صلح حدیبیہ سے قبل بھی مسلمانوں نے مکہ والوں کے مقابلہ میں بہت فتوحات حاصل کیں تاہم اس وقت تک حالات کا رخ ایسا ہی رہا کہ کبھی مسلمانوں کا پلہ بھاری رہا اور کبھی کافروں کا بھاری ہوگیا۔ کسی جنگ میں کافروں کے پرخچے اڑائے گئے تو کسی میں مسلمانوں کو بھی بہت گزندپہنچی اور اب بطور پیش گوئی مسلمانوں کو بتایا جا رہا ہے کہ حدیبہ کے بعد یہ صورت نہیں ہوگی بلکہ اس سے بہت مختلف رہے گی اور وہ اس طرح ہوگی کہ کافر یا تو تم سے لڑائی کے لیے تیار ہی نہیں ہوں گے اور اگر ہوں گے تو یقینا پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے اور ان کا کوئی حامی و ناصر نہیں ہوگا جو انکا ساتھ دے کر تمہارے ساتھ لڑائی کے لیے تیار ہوگا جیسا کہ اس سے پہلے ہوتا رہا ہے۔ اب غور کرو کہ صلح حدیبیہ ذی قعدہ 6 ھ میں ہوئی اور اس کے بعد جتنی جنگیں پیش آئیں ایک ایک کا تجزیہ کرتے چلے جاؤ اور پھر جو بات تم پر واضح ہوگئی وہ یہی ہوگی کہ جو چھ ہوا اس کی صحیح صحیح تصویر اس آیت نے اس سے بہت پہلے بیان کردی کہ کافروں نے اگر تم لوگوں یعنی مسلمانوں سے لڑائی کی تو وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ نکلیں گے اور یا پھر وہ لڑائی پر آمادہ ہی نہیں ہوں گے اور یہی صورت حال ہمیشہ سامنے آئی کہ اکثر مقامات میں وہ سامنے ہی نہیں آئے تھے اور اگر کہیں انہوں نے یہ حماقت کی تو پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے اور اس طرح قرآن کریم کی اس پیش گوئی کی عملی تصدیق کی اور ایک بار بھی وہ اس کے خلاف نتیجہ نہ نکال سکے لیکن اگر کوئی شخص اس کے باوجود قرآن کریم کو اللہ کی کتاب ماننے اور تسلیم کرنے میں تامل کرے تو اس کی بدبختی کا عالم کیا ہوگا۔
Ayah 48:23

سُنَّةَ اللّٰهِ الَّتِیْ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلُ١ۖۚ وَ لَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبْدِیْلًا Open ayah 48:23 in the Quran reader

اللہ کا یہ طریقہ پہلے سے چلا آتا ہے اور آپ ﷺ اللہ کے طریقہ میں کبھی تبدیلی نہیں پائیں گے

اللہ کی باتوں کو کوئی غلط ثابت نہیں کرسکتا یہ اللہ کی سنت چلی آرہی ہے جو کبھی بدلا نہیں کرتی 23 ؎ اللہ تعالیٰ نے جب سے دنیا والوں کے لیے وحی الٰہی کا سلسلہ شروع کیا اس وقت سے لے کر اس سلسلہ کے بند کرنے تک اصول یہی رہا کہ جب کوئی نبی و رسول کسی قوم کی طرف بھیجا گیا اور قوم نے اس کی تکذیب کی تو حق و باطل کا معرکہ شروع ہوگیا اور پھر جب تک اللہ کو منظور ہوا وہ بدستور چلتا رہا لیکن انجام کار جب اس قوم کی ہلاکت کا وقت آیا تو انکو ہلاک کرتے وقت اللہ نے اپنے نبی و رسول کو اطلاع کردی کہ آپ ﷺ اپنے لوگوں کو لے کر اس علاقہ سے نکل جائیں کیونکہ اس علاقہ کی تباہی و بربادی کے احکام نافذ ہوگئے ہیں۔ پھر کیا ہوا ؟ یہی کہ جب وہ نبی و رسول اللہ کے حکم سے اس علاقہ کو چھوڑ گیا تو اس قوم کے لیے جو صورت اللہ نے عذاب کے لیے رکھی تھی وہ صورت ظاہر کردی جس کے نتیجہ میں قوم کو ہلاک کر کے رکھ دیا گیا اور یہ سنت اللہ نوح (علیہ السلام) سے شروع ہو کر بدستور محمد رسول اللہ ﷺ تک جاری رہی اور وہی کچھ ہوا جس کا اعلان نبوت و رسالت کی زبان سے کروا دیا گیا تھا۔ آپ ﷺ کی قوم کے مخالفین و معاندین کے لیے جس عذاب کی پیش گوئی کی گئی وہ عذاب قوم کو میدان جنگ میں زیر کرنے کا تھا اور پھر جب اس کا اعلان کردیا گیا تو سنت اللہ نے ثابت کر دیا کہ جس بات کا اعلان کیا گیا تھا وہی وقوع پذیرہ وئی اور اس کا خلاف کبھی ممکن نہ ہوا۔
Ayah 48:24

وَ هُوَ الَّذِیْ كَفَّ اَیْدِیَهُمْ عَنْكُمْ وَ اَیْدِیَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ اَظْفَرَكُمْ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرًا Open ayah 48:24 in the Quran reader

اور (اللہ) وہی ذات ہے جس نے ان کے ہاتھوں کو تم سے اور تمہارے ہاتوں کو ان سے مکہ کی سرحد پر ( مقام حدیبیہ میں) روک دیا بعد اس کے کہ اللہ نے تم کو ان پر قابو بھی دے دیا اور اللہ جو کچھ تم کرتے ہو دیکھتا ہے

بطن مکہ یعنی حدیبیہ میں کیا ہوا ؟ یہی کہ اللہ نے ان کو تم سے اور تم کو ان سے محفوظ رکھا 24 ؎ گزشتہ آیت میں آنے والے زمانہ کی پیش گوئی کی گئی تھی اور زیر نظر آیت میں صلح حدیبیہ کا حال کھولا جا رہا ہے کہ تم بطن مکہ میں تھے اور مکہ کے اندر کتنی ہی تعداد ان لوگوں کی تھی جو اپنے دلوں کو ایمان سے مزین کرچکے تھے لیکن کفار کے ڈر سے چھپے بیٹھے تھے ، ایمان کا اظہار نہیں کرسکتے تھے اور من حیث القوم بھی وہ تمہارے ہی عزیز و اقارب تھے تم ان کی حالت سے ناواقف تھے لیکن ہم صورت حال کو جانتے تھے اس لیے باوجود تماہری خواہش کے اور باوجودم کہ کے کچھ نوجوانوں کی نازیبا حرکات کے ہم نے اپنا حکم جاری کردیا اور ان کے ہاتھوں سے تم کو اور تمہارے ہاتھوں سے ان کو محفوظ رکھا اور اس کے باوجود تم کو کفار مکہ پر برتری اور کامیابی بھی عطا کردی کہ تم عمرہ کی غرض سے آئے تھے او عمرہ کی اجازت تم کو بہرحال مل گئی اور وہ اس سال نہ سہی آئندہ سال سہی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ تم کو معاہدہ کی مطابق دل سال کی مدت مدید تک ایک دوسرے کی طرف سے مطمئن کردیا اور قریش کی طرف سے خطرہ ٹل جانے کے بعد تم دوسری قوموں کی طرف رخ پھیر سکے اور ان کو انکے کیے کی سزا دی اور بہت بڑے بڑے جتھے تمہارا نام سن کر کانپ گئے۔ حدیبیہ کے مقام میں لڑائی کے نہ ہونے سے جو فوائد تم کو حاصل ہوئے ان کا ذکر اوپر کیا جا چکا ہے قریش کے سرداروں کی طرف سے نہ سہی لیکن قریش کے نوجوانوں نے چھیڑ چھاڑ کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی تھی تو ان کے کئی جتھے بغض باطن کے باعث مسلمانوں پر چڑھ آئے۔ حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ مکہ کے ستر اسی نوجوان پوری طرح مسلح ہو کر جبل تنعیم سے اترے تاکہ بیخبر ی میں لشکر اسلام میں بےچینی پیدا کردیں اور ان کا تماشا دیکھیں لیکن اس سے پیشتر کہ وہ لشکر اسلام پر حملہ کرتے اسلام کے پہرہ دینے والوں نے ان پر قابو پا لیا اور ان کو باندھ کر نبی رحمت ﷺ کے حضور پیش کردیا لیکن آپ ﷺ نے ان کو معاف فرماتے ہوئے بغیر کسی گزند کے واپس کردیا اور اس طرح ایک بار عکرمہ بن ابوجہل نے پانچ سو آدمیوں کو ساتھ لیکر لشکر اسلام کو بےچین کرنا چاہا لیکن جب ان کی اطلاع مسلمانوں کو مل گئی تو آپ ﷺ نے ان کے مقابلہ کے لیے صحابہ کرام ؓ کا ایک دستہ روانہ فرمایا جس کو وہ دیکھتے ہی دُم دبا کر بھاگ گئے اور دوبارہ انکی ہمت مسلمانوں کی طرف بڑھنے کی نہ ہوئی۔ اس طرح کے اکا دکا واقعات بھی ہوئے لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص فضل و کرم سے حالات کو قابو میں رکھا اور عمرہ کی غرض سے آنے والوں کو محفوظ رکھتے ہوئے عمرہ کا اجر وثواب عنایت فرما کر اور آئندہ کے لیے ہمیشہ ہمیشہ کی اجازت دلواکر ان کو واپس کردیا تاکہ ان پر اپنی خاص عنایات کی جائیں اور آئندہ کسی کی ہمت مسلمآنوں کے مقابلہ کی نہ رہے اور اگر کوئی سامنے آئے تو پیٹھ پھیر کر بھاگ جائے اور پھر دنیا نے دیکھا کہ جو فرمایا گیا وہ کس طرح حرب بحرف پورا ہوا کہ سانپ بھی مر گیا اور لاٹھی بھی صحیح وسالم رہی۔