1. Surah Al-Faatiha
الفاتحةThe Opening · 7 ayahsعروۃ الوثقٰی
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 1:2 in the Quran reader
سب اچھی تعریفیں اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہیں جو تمام مخلوق کا پروردگار ہے
تمام خوبیوں کا مالک صرف اللہ ہی ہے :
11: ” الحمد “ کی ” اصل “ ح م د ہے۔ الحمد للہ کے معنی اللہ تعالیٰ کی فضلیت کے ساتھ اس کی ثناء بیان کرنے کے ہیں۔ یہ مدح سے خاص اور شکر سے عام ہے۔ سب خوبیاں اور ستائشیں اللہ ہی کے لئے ہیں۔
” الحمد “ کا لفظ قرآن مجید میں 28 بار اور ” الحمد للہ “ 23 بار آیا ہے۔ الحمد للہ رب العالمین کا پورا جملہ (فاتحہ 1 : 2) (الانعام 6 : 45) (یونس (10 : 10) (الصافات 37 : 182) (الزم 39 : 75) (ال مومن 40 : 65) یعنی کل چھ بار استعمال ہوا ہے۔ الحمد للہ رب العالمین فاتحہ کی دوسری آیت ہے۔
لفظ عالمین کی تحقیق لغت میں :
12: ” العالمین “ کی ” اصل “ ع ل م ہے۔ امام راغب مفردات القرآن میں رقمطراز ہیں ” عالم “ آسمان اور آسمان کے نیچے جو جواہر و اعراض ہیں ان سب کا نام ہے۔ یہ اصل میں اسم ہے اس چیز کا جس کے ذریعے علم حاصل کیا جائے۔ جس طرح سے طابع (ٹھپہ) اور خاتم (مُہر) ان اشیاء کے اسم ہیں جن سے ٹھپہ لگایا جاتا ہے اور مہر کی جاتی ہے اور اس صغیہ پر اس کی بناء بھی اس لیے رکھی گئی ہے کہ وہ بھی بمنزلہ آلہ کے ہے کیونکہ عالم اپنے بنانے والے کی طرف رہنمائی کا آلہ ہے یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی وحدانیت کی معرفت کے سلسلہ میں ہم کو عالم ہی کا حوالہ دیا ہے۔ جیسے ارشاد ہے : اَوَ لَمْ یَنْظُرُوْا فِیْ مَلَكُوْتِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ 1ۙ اور اس کی جمع بھی اس لحاظ سے ہے کہ ان مخلوقات کی ہر نوح ” عالم “ کہلاتی ہے چناچہ کہا جاتا ہے عالم انسان ، عالم آب ، عالم آتش نیز کہا گیا ہے کہ حق تعالیٰ کے ” دہ وچند ہزار عالم “ ہیں اور جمع سالم کی وجہ یہ ہے کہ انسان بھی ان عالموں کے زمرہ میں شامل ہے اور جب کسی لفظ کا استعمال انسان اور غیر انسان دونوں کے لئے مشترک ہو تو انسان کا حکم غالب ہوتا ہے اور اس میں اور بھی اقوال پائے جاتے ہیں جن کی بحث بہت لمبی ہے۔
عالم جاننے والا ، علم رکھنے والا ، علم سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر۔ قرآن کریم میں اس لفظ کا استعمال جہاں حق تعالیٰ کی ذات عالی کے لئے خاص ہے وہاں اس کے معنی ہیں ” وہ ذات عالی کہ جس پر کوئی چیز مخفی نہ ہو اور وہ ہرچیز کی حقیقت سے باخبر ہو۔ امام راغب کہتے ہیں : والعالم فی وصف اللہ ھوالذی لا یخفی علیہ شئی و ذلک لا یصح الا فی وصفہ تعالی۔
” عالم جب اللہ تعالیٰ کا وصف ہو تو اس کے معنی ہیں وہ ذات جس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں اور یہ بات صرف اللہ تعالیٰ ہی کے وصف میں صحیح ہے۔ “
ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف راہنمائی کرنے والا کون ہے ؟
13: ” رب “ کی ” اصل “ رب ب ہے اور رب کے معانی ہیں پروردگار۔ مالک ، صاحب۔ یہ اصل میں ” رب یرب “ کا مصدر ہے جس کے معنی ترتیب کے ہیں اور پھر مبالغہ کے لئے ” عدل “ کی طرح بطور صفت استعمال کیا گیا ہے۔ امام راغب کہتے ہیں کہ رب مصدر ہے جو فاعل کے لئے مستعار ہے۔ ترتیب کی تعریف امام موصوف نے ان الفاظ میں کی ہے : ” ھو انشاء الشئی حالا فحا لا الی حد التمام “ یعنی کسی چیز کو یکے بعد دیگرے ایک حالت سے دوسری حالت میں اس طرح نشو ونما دیتے رہنا کہ حد کمال تک پہنچ جائے۔ ” رب العالمین “ میں رب اللہ تعالیٰ کی صفت خاص کے طور پر بیان کی گئی ہے اور رب العالمین کا لفظ 73 بار قرآن کریم میں آیا ہے۔
” رب “ کا لفظ قرآن مجید میں 84 بار آیا ہے اور ” رب جو دراصل ربی ہے 68 بار استعمال ہوا ہے اور واضح طور پر ” ربی “ کا لفظ 101 بار استعمال ہوا ہے ” رب “ جیسے ” الحمدللہ رب العٰلمین “ (فاتحہ 1 : 2)
” رب “ جیسے : وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّ اجْعَلْ ہٰذَا بَلَدًا اٰمِنًا (البقرۃ 2 : 126) ” ربی “ جیسے : اِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّیَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ 1ۙ (البقرۃ 2 : 258)
طلب کرنے اور مانگنے کے آداب لفظ ” حمد “ صرف اللہ ہی کے لیے ہے :
14: عربی زبان میں ” حمد “ ستائش ثنائے جمیل کو کہتے ہیں جس کا عام مفہوم ہے اچھی صفتیں ، اکثر اردو مترجمین نے اس کے معنی تعریف یا صفت کے کئے ہیں۔ لیکن تعریف یا صفت میں دونوں مفہوم پائے جاتے ہیں کیونکہ تعریف یا صفت اچھی بھی ہوتی ہے اور بری بھی۔ لیکن تعریف یا صفت میں دونوں مفہوم پائے جاتے ہیں کیونکہ تعریف یا صفت اچھی بھی ہوتی ہے اور بری بھی۔ لیکن عربی زبان میں ہر صفت یا ہر تعریف کو ” حمد “ نہیں کہا جاسکتا۔ اس لئے صحیح معنی یہی ہوں گے کہ ” اچھی تعریفیں “ یا اچھی صفتیں ” الحمد “ پر الف لام استغراق کے لئے بھی ہو سکتا ہے اور جنس کے لیے بھی۔ پس ” الحمدللہ “ کے معنی ہوئے کہ حمد وثناء میں سے جو کچھ بھی کہا جاسکتا ہے وہ سب کا سب اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے کیونکہ خوبیوں اور کمالات میں سے جو کچھ بھی ہے صرف اور صرف اس سے ہے اور اسی میں ہے۔
” حمد “ سے سورت کی ابتداء کیوں کی گئی ؟ اس لئے کہ مغفرت الٰہی کی راہ میں انسان کا سب سے پہلا تاثر یہی ہے۔ جب کبھی بھی ایک سچا انسان اس راہ میں قدم اٹھائے گا تو سب سے پہلے جو حالت اس کی فکر پر طاری ہوگی وہ قدرتی طور پر یہی ہوگی جسے اس جگہ تحمید و ستائش سے تعبیر کیا گیا ہے۔
اب رہا یہ سوال کہ انسان کے لئے معرفت حق کی راہ کیا ہے ؟ سو قرآن مجید اس کے متعلق کہتا ہے کہ وہ صرف ایک ہی راہ ہے اور وہ ہے کائنات خلقت میں تدبر و تفکر۔ اس لئے کہ مصنوعات کا مطالعہ انسان کو صانع حقیقی تک پہنچا دے گا چناچہ ارشاد ہوتا ہے :
الَّذِیْنَ یَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ قِیٰمًا وَّ قُعُوْدًا وَّ عَلٰى جُنُوْبِهِمْ وَ یَتَفَكَّرُوْنَ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ 1ۚ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ہٰذَا بَاطِلًا 1ۚ (آل عمران 3 : 191)
” جو لوگ اٹھتے بیٹھتے اور لیٹتے ہر حال میں اللہ تعالیٰ کو یاد کیا کرتے ہیں اور زمین و آسمان کی ساخت میں غور و فکر کرتے ہیں وہ بےاختیار یوں پکار اٹھتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ! یہ کارخانہ عالم تو نے فضول اور بےمقصد نہیں بنایا “ ۔
اس غور و فکر کا سب سے پہلا اثر جو اس کے دل و دماغ پر طاری ہوگا وہ کیا ہوگا ؟ یہی کہ وہ دیکھے گا کہ خود اس کا وجود اور اس کے وجود سے باہر کی ہرچیز ایک مدبر قدیر اور صانع حکیم کی کار فرمائیوں کی جلوہ گاہ ہے۔ پس قدرتی طور پر اس کی روح جوش ستائش اور محویت جمال سے معمور ہوجائے گی اور وہ بےاختیار کہہ اٹھے گا کہ ” الحمد للہ “ ساری حمد و ستائش اسی کے لئے ہے جو معنی حسن و کمال ہے۔ ” سبحان اللہ والحمدللہ “ ۔
مزید غور کرو گے تو معلوم ہوگا کہ اس راہ میں فکر انسانی کی سب سے بڑی گمراہی یہی ہے کہ اس کی نظریں مصنوعات کے جلووں میں محو ہو کر رہ جاتی ہیں اور آگے بڑھنے کی کوشش نہیں کرتیں۔ وہ پردوں کے نقش و نگار دیکھ کر بےخود ہوجاتا ہے اور اس ذات کی جستجو نہیں کرتا جس نے اپنے جمال صفت پر یہ دلآویز پردے ڈال رکھے ہیں۔ دنیا میں مظاہر فطرت کی پرستش کی بنیاد اس کوتاہ نظری سے پڑی ہے اور ” الحمدللہ “ کا اعتراف دراصل اسی حقیقت کا اعتراف ہے کہ کائنات کا تمام جمال خواہ کسی گوشے میں ہو صرف ایک صانع حقیقی کی صفتوں ہی کا ظہور ہے۔ اب کون ہے جو جمال کو اچھی صفت سے تعبیر نہیں کرے گا ؟
نزول قرآن سے قبل ” اللہ “ کا لفظ خدا کے لئے بطور اسم ذات مستعمل تھا۔ قرآن مجید نے بھی یہی لفظ بطور اسم ذات اختیار کیا اور تمام صفتوں کو اس کی طرف نسبت دی چناچہ ارشاد الٰہی ہے :
وَ لِلّٰهِ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى فَادْعُوْهُ بِهَا 1۪ (الاعراف 7 : 180)
” اور اللہ تعالیٰ کے نام یعنی صفات بہت حسین و جمیل ہیں لہٰذا تم اس کو اس کے اسمائے حسنیٰ ” یعنی صفتوں میں سے جس صفت سے چاہو پکار سکتے ہو “ ۔
قرآن مجید نے یہ لفظ محض اس لئے اختیار نہیں کیا کہ لغت کے مطابقت کا مقتضی ہے بلکہ اس سے زیادہ اس میں اس کی معنوی موزونیت پوشیدہ ہے کیونکہ جب ہم اس کی معنوی حقیقت پر غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس غرض کے لئے سب سے زیادہ موزوں لفظ یہی تھا۔
دنیا کی تمام قوموں کی زبانوں میں جن کا حال کچھ بھی اس صفحہ قرطاس میں منقول ہے یعنی طہرانی ، سریانی ، آرامی ، کلدانی ، حمیری اور عربی وغیرہ ، سب میں اس کا یہ لغوی خاصہ پایا جاتا ہے۔ یہ الف ، لام اور ہاء کا مادہ ہے جیسا کہ لغات میں موجود ہے اور بلاشبہ اس کی اصل ” الٰہ “ ہے اور تمام لغات متفق ہیں کہ ” الٰہ “ کے معنی تحیر اور درماندگی کے ہیں۔ پس خالق کائنات کے لیے یہ لفظ اس لئے اسم قرار پایا کہ اس کے متعلق جو کچھ انسان جانتا ہے یا جان سکتا ہے وہ عقل کے تحیر اور درماندگی کے سوا کچھ نہیں۔ آپ جس قدر بھی اس ذات مطلق کی ہستی میں غور و خوض کریں گے آپ کی عقل کی حیرانی اور درماندگی یقیناً بڑھتی ہی جائے گی یہاں تک کہ آپ جو نتیجہ اخذ کریں گے وہ یہی ہوگا کہ اس راہ کی ابتداء بھی عجز و حیرت سے ہوتی ہے اور انتہا بھی عجز و حیرت ہی ہے۔
خدا کو اس کی صفتوں سے پکارنا ہے تو بلاشبہ اس کی صفتیں بیشمار ہیں۔ لیکن اگر صفات سے الگ ہو کر اس کی ذات کی طرف اشارہ کرنا ہے تو وہ اس کے سوا کیا ہوسکتا ہے کہ وہ ایک متحیر کردینے والی ذات ہے اور جو کچھ اس کی نسبت سے کہا جاسکتا ہے وہ عجز و درماندگی کے اعتراف کے سوا کچھ نہیں ہے۔
چونکہ ” اللہ “ کا اسم خدا کے لئے بطور اسم ذات استعمال میں آیا اس لئے قدرتی طور پر ان تمام صفتوں پر حاوی ہوگیا۔ اگر ہم خدا کا تصور اس کی کسی صفت کے ساتھ کریں مثلاً ” الرب “ ” الرحمٰن “ ” الرحیم “ تو یہ تصور صرف ایک خاص صفت ہی میں محدود ہوگا۔ یعنی وہ ذات جس میں ربوبیت یا رحمت ہے لیکن جب ہم ” اللہ “ کا لفظ زبان پر لاتے ہیں تو فوراً ہمارا ذہن ایک ایسی ہستی کی طرف منتقل ہوجاتا ہے جو ان تمام صفات حسن و کمال سے متصف ہے جو اس کی نسبت بیان کی جاسکتی ہے۔
؎ اے بروں ازوہم وقال وقیل من۔ خاک بر فرق من و تمثیل من !
” الحمد “ کی ایک تقریر یہ ہے کہ ” الحمد “ میں الف لام استغراق کے لئے نہیں بلکہ جنس اور عہد خارجی کے لئے ہے اور قاعدہ نحو کے مطابق الف لام کا حقیقی معنی ہے ہی جنس اور عہد خارجی۔ استغراق کو محققین نے الف لام کا مجازی محمل قرار دیا ہے اور اس سے صرف وہی صفات مراد ہیں جو ذات باری تعالیٰ کے ساتھ مختص ہیں ، اور وہ مخلوق میں نہیں پائی جاتیں۔ یعنی صفات کارسازی یا بالفاظ دیگر صفات فاعلیہ یا صفات مافوق الاسباب مثلاً مالک و مختار ، متصرف و کارساز ، حاجت روا ، مشکل کشا اور دور و نزدیک سے یکساں طور پر سمیع وبصیر وغیرہ مطلب یہ ہے کہ تمام صفات الوہیت اللہ تعالیٰ کے ساتھ مختص ہیں اور ان میں کوئی اس کا شریک نہیں۔ مثلاً قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے جابجا اپنی صفات الوہیت بیان فرمائی ہیں چناچہ ایک جگہ ارشاد ہے :
1: قُلْ لَّا یَعْلَمُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ الْغَیْبَ اِلَّا اللّٰهُ 1ؕ (النمل 27 : 65)
” اے پیغمبر ! ﷺ “ ” آپ ﷺ انہیں کہہ دیں کہ زمین و آسمان کی ساری موجودات (جِنّ و انس اور فرشتوں) میں سے کوئی بھی غیب کا علم نہیں رکھتا ، غیب کا علم صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔ “
اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی صفت علم غیب کا ذکر ہے اور یہ صفت ” “ ” صفات الوہیت “ میں سے ہے جو اللہ تعالیٰ ہی کے لئے خاص ہے اور غیر اللہ میں یہ صفت نہیں ہوگی اور جو شخص یہ صفت غیر اللہ میں تصور کرے گا وہ گویا شرک کرے گا۔
2: وَ اِنْ یَّمْسَسْكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ فَلَا کَاشِفَ لَهٗۤ اِلَّا ہُوَ 1ۚ وَ اِنْ یُّرِدْكَ بِخَیْرٍ فَلَا رَآدَّ لِفَضْلِهٖ 1ؕ (یونس 10 : 107)
” اور اگر وہ ” اللہ تعالیٰ “ اپنے قانون کے مطابق آپ کو کسی بیماری ، فقرو فاقہ یا کسی مصیبت میں مبتلا کردے تو دوسرا اس کے سوا کون ہے جو اس سے نجات دے سکے اور اگر وہ اپنے قانون کے مطابق تمہیں صحت ، توانائی ، تونگری اور بھلائی دینے کا ارادہ رکھتا ہو تو اس کے فضل و کرم کو ٹالنے والا بھی کوئی نہیں ہے “ ۔
اس میں واضح فرمایا کہ نفع و نقصان کا مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ” نفع و نقصان “ پہنچانے کی صفت الوہیت کے متعلق ہے اگر کسی نے غیر اللہ کو نفع و نقصان کا مالک متصور کیا تو گویا اس نے الوہیت کی خاص صفت میں کسی دوسرے کو شریک کردیا اور یہی شرک ہے۔
ایک جگہ ارشاد ہے :
3: وَ مَا بِكُمْ مِّنْ نِّعْمَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ (نحل 16 : 53) ” دنیا میں جو نعمت بھی تم میں سے کسی کو ملتی ہے وہ اللہ تعالیٰ کی بخشش اور اس کی عطا کردہ ہے “ ۔
اللہ تعالیٰ کی ساری مخلوق پر صبح و شام مختلف انعامات کی جو بارش ہوتی رہتی ہے وہ سب اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے اور اس ” نعمت “ کے عطا کرنے کے صفت میں اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک نہیں ہے کیونکہ یہ صفت بھی خاص الوہیت کے متعلق ہے۔
ایک جگہ ارشاد خداوندی ہے :
4: یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ 1ؕ ہَلْ مِنْ خَالِقٍ غَیْرُ اللّٰهِ یَرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ 1ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا ہُوَ ۔
(فاطر 35 : 3)
” اے بنی نوع انسان ! اللہ تعالیٰ نے جو انعامات اور احسانات تم پر کئے ہیں انہیں فراموش نہ کر وہ تمہیں عدم سے وجود میں لایا اور تمہارے لئے آسمان سے باران رحمت برسا کر زمین سے تمہیں رزق بہم پہنچایا ، اس کے سوا اور کوئی ہے جو تمہیں یہ سب کچھ دے سکے ؟ “
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے خالق و رازق اور منعم و مربی ہونے کی صفات کا ذکر فرمایا ہے اور یہ صفات ” الوہیت “ کے متعلق خاص ہیں ان کو کسی دوسری ہستی میں تسلیم کرنا اللہ تعالیٰ کی صفات میں شریک کرنا ہے جو ایک کھلا شرک ہے۔
علاوہ ازیں سینکڑوں آیتوں میں اللہ تعالیٰ کی صفات مخصومہ بیان کی گئی ہیں جن سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تمام صفات جو ” الوہیت “ سے متعلق ہیں اسی کے لیے خاص ہیں اور وہ سب مافوق الاسباب ہیں۔ یہاں یہ بات سمجھ لی جائے کہ نظام عالم میں جو کام ہو رہے ہیں وہ دو حالتوں سے خالی نہیں یا تو وہ ماتحت الاسباب ہیں مثلاً بینائی اور شنوائی رکھنے والا آدمی اپنے اردگرد کی چیز دیکھ سکتا ہے اور قرب و جوار کی آوازیں سُن سکتا ہے یامثلاً ایک آدمی اناج یا پھل اگانا چاہتا ہے تو وہ اس کام کے لئے اسباب استعمال کرتا ہے یعنی زمین میں ہل چلاتا ہے اور اس کو اس قابل بناتا ہے کہ اس میں کاشتکاری ہوسکے پھر اس میں بیج ڈالتا ہے ، اسے پانی دیتا ہے اس کی نلائی وغیرہ کرتا ہے یہ تمام اسباب عادیہ ہیں ان کو استعمال میں لائے بغیر کام نہیں بن سکتا۔ دوسری قسم کے کام وہ ہیں ، جو مافوق الاسباب ہیں مثلاً : ساری کائنات کے ذرّے کو ہر وقت دیکھنا۔ زمین و آسمان کی چھپی ہوئی تمام چیزوں کا ہر آن مشاہدہ کرنا۔ اسباب عادیہ سے بالاتر اور ماوراء ہے۔ اسی طرح زمین کے پیٹ میں پڑے بیجوں ، تخموں اور گٹھلیوں کو شق کر کے ان پودوں کی شاخیں نکالنا انسانی دسترس سے باہر اور اسباب عادیہ سے بالاتر ہے تو معلوم ہوا کہ انسانی دسترس میں صرف وہی کام ہیں جو ماتحت الاسباب ہیں اور مافوق الاسباب سارے امور صرف اللہ تعالیٰ ہی کی قدرت کے تحت داخل ہیں۔
” الحمد “ سے مراد وہ تمام صفات ہیں جو مافوق الاسباب ہیں یعنی مافوق الاسباب تمام اچھی صفتیں اور خوبیاں اللہ تعالیٰ کے ساتھ مختص ہیں اور ان میں سے ایک صفت اور خوبی بھی اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور میں نہیں پائی جاتی مشرکین مکہ چونکہ انہی صفات الوہیت یا مافوق الاسباب صفات ہی میں اپنے معبودوں کو خدا کا شریک سمجھتے تھے اس لئے ” الحمدللہ “ میں مشرکین کے اس خیال باطل کی تردید اس طرح فرمائی گئی ہے کہ تمام مافوق الاسباب صفات اللہ تعالیٰ ہی کے لئے خاص ہیں۔ ان شاء اللہ جوں جوں قرآن مجید کا مطالعہ کریں گے یہ بات روز روشن کی طرح صاف سامنے آتی جائے گی۔
مختصر یہ کہ سورة فاتحہ میں ” الحمدللہ “ ایک دعویٰ ہے جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ تمام صفات کارسازی کا مستحق صرف اللہ ہے۔ اور اس کے بعد رب العالمین ، الرحمٰن الرحیم اور مالک یوم الدین ، یہ سب اس دعویٰ کی دلیلیں ہیں۔
” رب “ بھی ” الٰہ “ کی طرح عالمی قومی زبانوں کا ایک کثیر الاستعمال لفظ ہے۔ عبرانی ، سریانی اور عربی تینوں زبانوں میں اس کے معنی پانے والے ہی کے ہیں چونکہ پرورش کی ضرورت کا احساس انسانی زندگی کے بنیادی احساسات میں سے ہے اس لئے اسے بھی قدیم ترین تعبیرات سے سمجھنا چاہیے۔ چونکہ والدین ، معلم ، استاد اور آقا کسی نہ کسی اعتبار سے پرورش کرنے والے ہوتے ہیں اس لئے اس کا اطلاق ان معنوں میں بھی ہونے لگا۔ چونکہ عبرانی اور آدامی کا لفظ ” ربی “ اور ” رباہ “ پرورش کنندہ معلم اور آقا تینوں معنی رکھتا تھا اور اسی طرح قدیم مصری اور کلدانی زبان کا ایک لفظ ” رابو “ بھی انہی معنوں میں مستعمل ہوتا تھا اور اس سے ان ملکوں کی قدیم ترین و حدت کی خبر ملتی ہے۔
بہرحال عربی میں بھی ” ربوبیت “ کے معنی پالنے والے کے ہیں لیکن دوسری زبانوں کی نسبت عربی میں اس کو وسیع اور کامل معنوں میں بولا جاتا ہے اس لئے بعض ائمہ لغت نے اس کی تعریف ان لفظوں میں کی ہے :
” ھو انشاء الشئی حالا فحالا الی حد التمام “ ۔ (مفردات راغب اصفہائی ، مادہ رب ب)
یعنی کسی چیز کو یکے بعد دیگرے اس کی مختلف حالتوں اور ضرورتوں کے مطابق اس طرح نشو ونما دیتے رہنا کہ وہ چیز اپنے حد کمال کو پہنچ جائے۔ اگر کوئی شخص بھوکے کو کھانا کھلا دے یا محتاج کو پیسہ دے دے تو یہ اس کا کرم ہوگا ، جود ہوگا ، احسان ہوگا لیکن وہ بات نہ ہوگی جسے ربوبیت کہتے ہیں۔ ربوبیت کے لئے ضروری ہے کہ پرورش اور نگہداشت کا ایک جاری اور مسلسل اہتمام ہو اور ایک وجود کو اپنی طبعی حالت کے مطابق وقتاً فوقتاً جیسی ضرورتیں پیش آتی ہیں ان سب کا سروسامان اس انداز کے ساتھ ہوتا رہے کہ یہ سب کچھ ایک خاص محبت اور شفقت کے ساتھ ہوتا نظر آئے۔ کیونکہ جو عمل محبت و شفقت سے خالی ہوگا وہ ربوبیت نہیں ہوسکتی۔
ربوبیت میں ایک ناقص ترین نمونہ ہم پرورش میں دیکھ سکتے ہیں جس کا جوش ماں کی فطرت میں ودیعت کردیا گیا ہے۔ دیکھو بچہ جب پیدا ہوتا ہے تو محض ایک گوشت و پوست کا متحرک لوتھڑا ہوتا ہے اور زندگی اور نمو کی جتنی قوتیں بھی رکھتا ہے وہ سب کی سب پرورش و تربیت کی محتاج ہوتی ہیں۔ یہ پرورش محبت و شفقت ، حفاظت و نگہداشت اور بخشش و اعانت کا ایک طویل ترین سلسلہ ہے اور اسے اس وقت تک جاری رہنا چاہیے جب تک بچہ اپنے جسم و ذہن کے حد بلوغ تک نہ پہنچ جائے۔ پھر پرورش کی ضرورتیں ایک دو نہیں بیشمار ہیں اور ان کی نوعیت بھی ہمیشہ بدلتی رہتی ہے اور ضروری ہے کہ ہر عمر اور ہر حالت کے مطابق محبت کا جوش ، نگرانی کی نگاہ اور زندگی کے سروسامان ملتا رہے۔ حکمت الٰہی نے ماں کی محبت میں ربوبیت کے یہ تمام خدوخال پیدا کردیئے ہیں یہ ماں کی ربوبیت ہے جو پیدائش کے دن سے لے کر بلوغ تک بچہ کو پالتی ہے ، بچاتی اور سنبھالتی رہتی ہے اور ہر وقت اور ہر حال کے مطابق اس کی ضروریات پرورش کا سروسامان مہیا کرتی رہتی ہے۔
جب بچہ کا معدہ دودھ کے سوا کسی غذاکا متحمل نہ تھا تو اسے دودھ ہی پلایا جاتا رہا۔ جب دودھ سے زیادہ قوی غذا کی ضرورت ہوئی تو ویسی ہی غذا دی جانے لگی۔ جب اس کے پاؤں میں کھڑے ہونے کی سکت نہ تھی تو ماں اسے گود میں اٹھائے پھرتی تھی ، جب کھڑے ہونے کے قابل ہوا تو انگلی پکڑلی اور ایک ایک قدم چلانے لگی۔ پس ہر حالت و ضرورت کے مطابق ضروریات مہیا ہوتی رہیں اور نگرانی و حفاظت کا ایک مسلسل اہتمام جاری رہا۔ یہ صورتحال ہے جس سے ربوبیت کے مفہوم کا تصور کیا جاسکتا ہے۔
ایک بار پھر غور کرو کہ جو چیز کسی انسان کے لئے باعث تکلیف ہوتی ہے اس سے نفرت ہونا لازمی و لابدی امر ہے کائنات ہستی میں اس کی ایک مثال بھی نہیں دی جاسکتی کہ جو شئے جان جیسی چیز کے لئے خطرے کا باعث ہو وہ ان سارے خطرات اور باعث ایذا ہونے کے باوجود پھر جان ہی سے زیادہ عزیز بھی ہوجائے یہ صرف ایک ماں کی مامتا ہے کہ وہ جان کی بازی لگا کر بچے کو جنم دیتی ہے اور وضع و رضع کی جانکاہ تکالیف برداشت کرنے کے باوجود اس بچہ کو جو اس کے لئے باعث ایذا ہوا ، پھر اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز رکھتی ہے۔
مجازی ربوبیت کی یہ ناقص اور محدود مثال سامنے لائو اور ربوبیت الٰہی کو غیر محدود حقیقت کا تصور کرو۔ اللہ تعالیٰ کے ” رب العٰلمین “ ہونے کے یہ معنی ہوئے کہ جس طرح اس کی خالقیت نے کائنات اور اس کر ہرچیز کو پیدا کیا ہے اسی طرح اس کی ربوبیت نے ہر مخلوق کی پرورش کا سروسامان بھی کردیا ہے اور یہ پرورش کا سرو سامان ایک ایسے عجیب و غریب نظام کے ساتھ ہے کہ ہر وجود کو زندگی اور بقا کے لئے جو کچھ مطلوب تھا وہ کچھ مل رہا ہے۔
دور نہ جائو ایک بار پھر ربوبیت الٰہی کی کارسازی پر غور کرو کہ کس طرح ماں کی فطرت میں بچے کی محبت و دیعت کردی گئی اور کس طرح اس جذبے کو طبیعت بشری کے تمام جذبات میں سب سے زیادہ پُرجوش اور سب سے زیادہ ناقابل تسخیر بنادیا گیا ہے ؟ دنیا کی کونسی طاقت ہے جو اس جوش کا مقابلہ کرسکتی ہے جسے ماں کی مامتا کہتے ہیں۔ جس بچے کی پیدائش اس کے لئے زندگی کی سب سے بڑی مصیبت تھی ، جس کے متعلق رب ذوالجلال نے یوں وضاحت فرمائی ہے :
حَمَلَتْهُ اُمُّهٗ کُرْهًا وَّ وَضَعَتْهُ کُرْهًا 1ؕ (46 : 15)
” اس کی ماں نے اس کو تکلیف کے ساتھ پیٹ میں رکھا اور تکلیف کے ساتھ جنا۔ “
اس کی محبت اس کے اندر زندگی کا سب سے بڑا جذبہ مشتعل کردیتی ہے۔ جب تک بچہ سن رشد تک نہیں پہنچ جاتا وہ اپنے لئے نہیں بلکہ بچے کے لیے زندہ رہنا چاہتی ہے۔ زندگی کی کوئی خود فراموشی نہیں جو اس پر طاری نہ ہوتی ہو اور راحت و آسائش کی کوئی قربانی نہیں جس سے اسے گزیر ہو۔ جب ذات جو فطرت انسانی کا سب سے زیادہ طاقتور جذبہ ہے اور جس کے انفعالات کے بغیر کوئی مخلوق زندہ نہیں رہ سکتی وہ بھی اسی جذبہ خود فراموشی کے مقابلہ میں مضمحل ہو کر رہ جاتا ہے۔ یہ بات کہ ایک ماں نے بچے کے عشق میں اپنی زندگی قربان کردی فطرت مادی کا ایک ایسا معمولی واقعہ ہے جو ہمیشہ پیس آتا رہا ہے اور ہم اس میں کسی طرح کی غرابت محسوس نہیں کرتے۔
غور طلب یہ ہے کہ ایک ماں میں یہ محبت کیوں رکھی گئی ؟ اس لئے کہ اس کے بچے کو پرورش کی احتیاج تھی۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا میں ہرچیز ایسی ہے کہ اسے پرورش کی احتیاج ہے اور اسے پرورش مل رہی ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ کوئی پرورش کرنے والا بھی موجود ہو۔ یہ پرورش کرنے والا کون ہے ؟ یقیناً وہ نہیں ہوسکتا جو خود پروردہ اور محتاج پروردگاری ہو۔ قرآن مجید اس کے متعلق ہمیں بتاتا ہے کہ وہی ” رب العٰلمین “ ہے۔ جو سب کا پرورش کرنے والا ہے لیکن اس کا کوئی پرورش کرنے والا نہیں۔
نظام ربوبیت میں ہر ایک چیز کی پرورش و نگرانی داخل ہے لیکن انسان چونکہ ہر ایک سے افضل و اعلیٰ ہے اس لئے انسان کا ذکر مخصوص کردیا گیا اس طرح انسانوں کو باور کرایا کہ یاد رکھو تمام انسانوں کا پیدا کرنے والا اللہ ہی ہے۔ نطفہ سے لے کر طفولیت تک اور طفولیت سے لے کر بڑھاپے تک تمام منازل سے انسان کو وہی گزارتا ہے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے نہایت اختصار سے اس حقیقت کو بیان فرمایا :
اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ ضُؔعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ ضُؔعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ ضُؔعْفًا وَّ شَیْبَةً 1ؕ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ 1ۚ وَ ہُوَ الْعَلِیْمُ الْقَدِیْرُ 0054 (روم 30 : 54)
” وہ اللہ ہی تو ہے جس نے تمہیں ایک حقیر سی بوند سے ضعف کی حالت میں پیدا کیا پھر اس ضعف اور کمزوری کے بعد قو ّت و توانائی بخشی پھر اس قو ّت و توانائی کے بعد ضعف اور کمزور کر کے بوڑھا کردیا وہ ہرچیز پر پوری اور کامل قدرت رکھتا ہے “ ۔
پھر انسانوں اور دوسری تمام اجناس کو پیدا کر کے چھوڑ نہیں دیا بلکہ انسان اور دوسرے تمام حیوانات کے لئے اللہ تعالیٰ کس طرح روزی بھی بہم پہنچاتا ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا :
فَلْیَنْظُرِ الْاِنْسَانُ اِلٰى طَعَامِهٖۤۙ0024 اَنَّا صَبَبْنَا الْمَآءَ صَبًّاۙ0025 ثُمَّ شَقَقْنَا الْاَرْضَ شَقًّاۙ0026 فَاَنْۢبَتْنَا فِیْهَا حَبًّاۙ0027 وَّ عِنَبًا وَّ قَضْبًاۙ0028 وَّ زَیْتُوْنًا وَّ نَخْلًاۙ0029 وَّ حَدَآىِٕقَ غُلْبًاۙ0030 وَّ فَاکِهَةً وَّ اَبًّاۙ0031 مَّتَاعًا لَّكُمْ وَ لِاَنْعَامِكُمْؕ0032 (عبس 80 : 24 تا 32)
” پھر اے انسان ذرا اپنی خوراک پر تو غور کر کس طرح ہم نے اپنی قدرت سے مہیا کردی کہ پہلے تو آسمان سے موسلا دھار بارش برسائی پھر زمین کو عجب طریقے سے پھاڑ دیا۔ پھر اس میں غلہ جات اگائے ، انگور اور ترکاریاں پیدا کیں ، زیتون کے درخت اور کھجور کے جھنڈ پیدا کئے اور گھنے باغات اگائے اور قسم قسم کے پھل اور طرح طرح کے چارے نکالے۔ تاکہ یہ ساری چیزیں تمہارے لئے اور تمہارے مویشیوں کے لئے سامان زیست و متاع حیات کا کام دیں۔ “
ان آیات کریمات سے بخوبی واضح ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ کا نظام ربوبیت ساری کائنات پر حاوی ہے۔ انسان سے لے کر تمام حیوانات ، نباتات ، جمادات اور اللہ تعالیٰ کے ساری نوری ، ناری اور خاکی مخلوقات علویات اور سلفیات سب کا خالق و مربی و محافظ اور پروردگار وہی ہے۔
اایک انسان تمام دنیا سے آنکھیں بند کرلے لیکن بہرحال اپنی شب و روز کی غذا کی طرف سے تو آنکھیں بند نہیں کرسکتا۔ جو غذا اس کے سامنے دھری ہے اسی پر نظر ڈال لے۔ یہ کیا ہے ؟ گیہوں کا دانہ ہے۔ اچھا ! گیہوں کا ایک دانہ اپنی ہتھیلی پر رکھ لو اور اس کی پیدائش سے لے کر اس کی پختگی و تکمیل تک کے تمام احوال و ظروف پر غور کرو۔ کیا یہ حقیر سا ایک دانہ بھی وجود میں آسکتا تھا اگر تمام کارخانہ ہستی ایک خاص نظم و ترتیب کے ساتھ اس کی بناوٹ میں سرگرم عمل نہ رہتا ؟ پھر غور کرو کہ اگر دنیا میں ایک ایسا نظام ربوبیت موجود ہے تو کیا یہ ہو سکتا ہے کہ ربوبیت رکھنے والی ہستی موجود نہ ہو ؟
سورة نحل میں یہی استدلال ایک دوسرے پیرائے میں بیان فرمایا ہے ، ارشاد ہوتا ہے :
” اور دیکھو یہ چار پائے جنہیں تم پالتے ہو ان میں تمہارے غور کرنے اور نتیجہ نکالنے کی کتنی عبرت ہے ؟ ان کے جسم سے ہم خون و کثافت کے درمیان دودھ پیدا کردیتے ہیں جو پینے والوں کے لئے ایک نہایت ہی لذیذ اور صحت بخش مشروب ہوتا ہے۔ اسی طرح کھجور اور انگور کے پھل ہیں جن سے نشہ کا عرق اور اچھی غذا دونوں طرح کی چیزیں حاصل کرتے ہو۔ بلاشبہ اس میں ارباب عقل و بصیرت کے لیے ربوبیت الٰہی کی بڑی نشانی ہے۔ اور پھر دیکھو ! تمہارے پروردگار نے شہد کی مکھی کی طبیعت میں یہ بات ڈال کر پہاڑوں میں اور درختوں میں اور ان چھپروں میں جو اس غرض کے لئے بلند کردی جاتی ہیں اپنے لئے گھر بنائے پھر ہر طرح کے پھولوں سے رس چوسے پھر اپنے رب کے ٹھہرائے ہوئے طریقوں پر کامل فرمانبرداری کے ساتھ گامزن ہو ، چناچہ تم دیکھتے ہو کہ اس کے جسم سے مختلف رنگتوں کا رس نکلتا ہے جس میں انسان کے لئے شفا ہے بلاشبہ اس بات میں ان لوگوں کے لئے جو غور و فکر کرتے ہیں ربوبیت الٰہی کی بڑی نشانی ہے۔ “ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ۠0013
الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِۙ Open ayah 1:3 in the Quran reader
جو رحمت والا ، بہت پیار کرنے والا ہے
رحمت الٰہی کی وسعت ہرچیز کو گھیرے ہوئے ہے :
15: ” الرحمٰن “ اور ” الرحیم “ اگرچہ دونوں اسم رحمت سے ہیں لیکن یہ رحمت کے دو مختلف پہلوؤں کو نمایاں کرتے ہیں۔ رحمت کا ایک پہلو رحمت عامہ سے تعلق رکھتا ہے جس کو ” الرحمٰن “ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یعنی وہ رحمت جو محض صفت عارضہ ہونے کے باعث اللہ تعالیٰ کی تمام مخلوق کے لئے یکساں کام کرتی ہے۔ ” الرحیم “ کے معنی یہ ہوئے کہ وہ ذات جس میں نہ صرف رحمت ہے بلکہ جس سے ہمیشہ رحمت کا ظہور ہوتا ہی رہتا ہے اور ہر آن اور ہر لمحہ تمام کائنات خلقت اسی سے فیضیاب ہورہی ہے۔ اگر اس کی صفت ” الرحیم “ نہ ہوتی تو ہر ظالم اور زیادتی کرنے والا ظلم اور زیادتی کرتے ہی اس کے نتیجہ سے دو چار ہوجاتا اور اس کو معافی طلب کرنے کی بھی مہلت نہ ملتی۔
رحمت کو دو الگ الگ صفتوں سے کیوں تعبیر کیا گیا ؟ اس لئے کہ قرآن کریم خدا کا جو نقشہ ذہن نشین کرانا چاہتا ہے اس میں سب سے نمایاں اور سب صفات پر چھائی ہوئی صفت ، رحمت ہی کی صفت ہے بلکہ آپ یوں کہہ سکتے ہیں کہ تمام تر وہ رحمت ہی رحمت ہے۔
وَ رَحْمَتِیْ وَ سِعَتْ کُلَّ شَیْءٍ 1ؕ (7 : 156) ” اور میری رحمت دنیا کی ہرچیز کو گھیرے ہوئے ہے۔
پس ضروری ہوا کہ خصوصیت کے ساتھ اس کی صفتی اور فعلی دونوں حیثیتیں واضح کردی جائیں یعنی اس میں رحمت ہے کیونکہ وہ ” الرحمٰن “ ہے اور صرف اتنا ہی نہیں بلکہ ہمیشہ اس سے رحمت کا ظہور بھی ہورہا ہے کیونکہ وہ رحمٰن ہونے کے ساتھ ساتھ ” الرحیم “ بھی ہے۔ ” الرحمٰن الرحیم “ فاتحہ کی تیسری آیت ہے۔
اللہ تعالیٰ کی ان صفات کا اظہار ہر نبی (علیہ السلام) نے اپنے اپنے وقت میں کیا۔ الہامی کلام کی یہ سبے بڑی خوبی ہے کہ اس میں مجازات کی کثرت ہوتی ہے اور وہی مجازات ہیں جو اس کی تاثیر کا زیور اور اس کی دلنشینی کی خوبروئی ہیں لیکن افسوس کہ دنیا والوں نے ہمیشہ ان کے سمجھنے میں ٹھوکر کھائی اور مجازات کو حقیقت سمجھ کر غلط فہمیوں کا شکار ہوگئے۔ مثلاً مسیح (علیہ السلام) نے کہا ہے کہ ” دشمنوں سے پیار کرو “ تو یقیناً اس کا یہ مطلب نہ تھا کہ انسان کو چاہیے کہ اپنے دشمنوں کا عاشق زار ہوجائے بلکہ سیدھا سادا مطلب یہ تھا کہ تم میں غیظ و غضب اور نفرت و انتقام کی جگہ رحم و محبت کا پرجوش جذبہ ہونا چاہیے اور ایسا ہونا چاہیے کہ دوست تو دوست دشمن تک کے ساتھ عفور و درگزر سے پیش آئو۔ اس مطلب کے لئے کہ رحم کرو ، بخش دو ، معاف کرو انتقام کے پیچھے نہ پڑو۔ یہ ایک نہایت ہی بلیغ اور مؤثر پیرایہ بیان ہے کہ : ” دشمنوں تک کو پیار کرو “ ایسے ماحول میں جہاں اپنوں اور عزیزوں کے ساتھ بھی رحم و محبت کا برتائو نہ کیا جاتا ہو یہ کہنا کہ اپنے دشمنوں سے بھی نفرت نہ کرو رحم و محبت کی ضرورت کا ایک اعلیٰ اور کامل ترین تخیل ہے لیکن افسوس کہ لوگوں نے اس کو کیا سمجھا ؟
” الرحمٰن “ ” الرحیم “ کی رحمت کا شاہکار خود بانی اسلام محمد رسول اللہ ﷺ ہیں جو ” رحمۃ للعالمین “ کے خطاب سے نوازے گئے ۔ آپ ﷺ کو یہ خطاب کیوں دیا گیا ؟ اس لئے کہ آپ ﷺ نے نفرت کو مٹانے اور محبت کو پھیلانے کا کام کیا ، محبت اور رحمت لازم و ملزوم ہیں۔ آپ ﷺ نے گناہوں سے نفرت سکھائی لیکن گنہگاروں سے محبت کا درس دیا۔ آپ ﷺ نے مرض سے دور رہنے اور مریض کے قریب ہونے کا حکم دیا۔ جس سے آپ ﷺ مجسمہ رحمت ورافت اور شفقت قرار پائے۔ اللھم صلی علی محمد وعلی آل محمد ۔
چونکہ تمثیل سے سمجھنا اور سمجھانا آسان ہوتا ہے اور بات دل میں بیٹھ جاتی ہے اس لئے آپ ” الرحمٰن “ و ” الرحیم “ کو زیر نظر تمثیل سے سمجھو۔ امام رازی (رح) نے تفسیر کبیر میں ” الرحمٰن “ کو تمثیل سے اس طرح سمجھانے کی کوشش کی ہے۔ وہ کہتے ہیں :
حضرت ابراہیم بن ادھم ؓ سے حکایت ہے کہ انہوں نے کہا : ” میں ایک شخص کے پاس مہمان تھا۔ میزبان نے کھانا تیار کرایا اور میرے سامنے لے کر رکھا تاکہ میں میزبان کے ساتھ مل کر کھاؤں جب ہم کھانے لگے تو اچانک ایک کوا آیا اور جو روٹیاں رکھی تھیں ان میں سے ایک روٹی اٹھا کر اڑ گیا۔ میں بہت حیران ہوا کہ کوا اور پوری روٹی اٹھا کے اڑتابنا۔ میں فوراً اس کے پیچھے دوڑا۔ کچھ فاصلے پر ایک ٹیلہ تھا اور ٹیلے کے پیچھے ایک شخص کو مشکیں باندھ کر ڈال دیا گیا تھا جو زندہ تھا لیکن اپنی جگہ سے ہل جل نہیں سکتا تھا کوّے نے وہ روٹی اس شخص کے بالکل قریب جا کر گرادی یا کوّے کی چونچ سے وہ روٹی عین اس شخص کے سر کے قریب گر گئی ۔ اب اس شخص کو روٹی کے کھا لینے میں کوئی شے مانع نہ تھی۔ یہ اس ” الرحمٰن “ کی رحمانیت کا تقاضا تھا جو اس طرح پورا ہوا۔ ” سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم “ ۔
” الرحمٰن “ کی رحمانیت کو سمجھنے کے لئے اور غور کرو ۔ امام رازی اپنی تفسیر کبیر میں رقمطراز ہیں کہ :
” کو ّے کے بچے کی حکایت کو مشاہدہ کر کے دیکھ سکتے ہو کہ جب وہ انڈے کے چھلکے سے نکلتا ہے تو بغیر بالوں کے ایک گوشت کے ٹکڑے کی طرح ہوتا ہے چونکہ متحرک ہوتا ہے جب کوا اس کو دیکھتا ہے تو اسے چھوڑ کر فرار ہوجاتا ہے وہ کائیں کائیں کرتا ہے۔ ہر آنے جانے والے کو ٹھونگے لگاتا ہے اور اضطراری حالت میں اڑتا پھرتا ہے لیکن آشیانہ کے قریب تک نہیں جاتا اور نہ ہی وہ اپنے بچے کی پرورش کرتا ہے چونکہ بچہ ایک گوشت کے لوتھڑے کی طرح ہوتا ہے لہٰذا اسی شبہ میں مچھر ادھر ادھر سے اُڑاُڑ کر اس پر اکٹھا ہونا شروع ہوجاتا ہے اور وہی مچھر اس کو ّے کے بچے کی غذا بنتا ہے اور یہ حال کئی دنوں تک جاری رہتا ہے۔ کچھ دنوں کے بعد بچے کے پر و بال اگ آتے ہیں اور وہ سیاہ رنگ کا ہوجاتا ہے اور اس کے ساتھ ہی اس میں کچھ طاقت بھی آجاتی ہے یہاں تک کہ اس کے بالوں میں گوشت پورا چھپ جاتا ہے اس وقت اس کے ماں باپ اس کے پاس آتے ہیں اور اس کی غذا کا بندو بست سنبھال لیتے ہیں۔ اس سے سمجھا جاسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فضل عام ہے اور اس کی صفت ” الرحمٰن “ اس وقت بھی سہارا بن جاتی ہے جب کوئی اور سہارا نظر نہیں آتا۔ الحمد للہ علی ذلک
” الرحیم “ بھی اللہ تعالیٰ کی خاص صفت ہے ، اس کی وسعت کو سمجھانے کے لئے امام رازی (رح) نے تفسیر کبیر میں ایک حدیث بیان کی ہے جس سے اللہ تعالیٰ کی اس صفت پر روشنی پڑتی ہے وہ کہتے ہیں :
” حدیث میں ہے کہ ایک قریب المرگ نوجوان کی زبان کلمہ شہادت ادا کرنے سے رک گئی نزع کی حالت طاری تھی لیکن جان نکلتی بھی نہیں تھی۔ صحابہ کرام ؓ نے رسول اللہ ﷺ کو اس کی خبر دی۔ آپ ﷺ تشریف لائے اور اس کے قریب ہی کھڑے ہوگئے۔ مرنے والے پر کلمہ شہادت لوٹایا ۔ وہ متحرک و مضطرب ہوتا مگر اس کی زبان کام نہ کرتی ادائیگی الفاظ بالکل رک گئ۔ نبی کریم ﷺ نے دریافت فرمایا کہ : کیا یہ نماز پڑھتا تھا ؟ مثبت جواب پا کر آپ ﷺ نے فرمایا کیا روزہ رکھتا تھا ؟ اس کا جواب بھی ہاں میں دیا گیا آپ ﷺ نے استفسار کہ زکوٰۃ ادا کرتا تھا ؟ صحابہ ؓ نے عرض کیا جی ہاں ! آپ ﷺ نے فرمایا کیا والدین کا نافرمان تھا ؟ لوگوں نے اس کا جواب بھی ہاں میں دیا کہ اس کی والدہ اب بھی موجود ہے لیکن وہ یہاں آنا پسند نہیں کرتی۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جاؤ اس کی والدہ کو لے آؤ ۔ آپ ﷺ کے حکم کے مطابق اس کی والدہ لائی گئی وہ ایک بوڑھی خاتون تھی۔ آپ ﷺ نے پوچھا کیا یہ تیرا بیٹا ہے ؟ بڑھیا نے کہا ہاں ! میرا بیٹا ہے ! آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس کا گناہ معاف کر دے اس نے کہا ، کہ میں اسے معاف نہیں کروں گی۔ اس نے مجھے تھپڑ مارا اور میری آنکھ پھوٹ گئی۔
رسول اللہ ﷺ نے بڑھیا کی بات سن کر صحابہ ؓ کو حکم دیا کہ لکڑیاں لاؤ اور آگ جلائو۔ خاتون نے پوچھا کہ آگ کس لئے جلائی جا رہی ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا اس لئے تاکہ تیرے اس نافرمان بیٹے کو تیری آنکھوں کے سامنے جلایا جائے اور اس نے تیرے ساتھ جو زیادتی کی ہے اس کا بدلہ پائے۔ “ خاتون نے فوراً بیٹے کو مخاطب کیا اور کہنے لگی بیٹا میں نے تجھے معاف کیا ، کیا میں نے تجھے نو مہینے آگ کے لئے اٹھایا تھا۔ کیا میں نے دو سال تک تجھے دودھ آگ کے لئے پلایا تھا ؟ ماں کا معاف کرنا تھا کہ بیٹے کی زبان پر کلمہ توحید جاری ہوگیا۔ “
اللہ تعالیٰ کی اس صفت ” الرحیم “ نے والدہ کی اتنی سخت نفرت کو پھر ماں کی مامتا میں بدل دیا اور والدہ کی اس سختی کو جو اس نے بیٹے کی نافرمانی کی وجہ سے اختیار کی تھی رحمت میں تبدیل کردیا اور بیٹے کو بھی اس کی غلطی کا احساس دلا دیا اور مرنے سے پہلے توبہ کی توفیق عطا فرما دی۔ “
گویا ” رب العٰلمین “ کے بعد ” الرحمٰن الرحیم “ کا دوبارہ ذکر کر کے اس طرف اشارہ فرمایا ہے کہ نظام ربوبیت کے بعد تمام نظام عالم اللہ تعالیٰ کی صفت رحم کا ظہور ہے گویا یہ تمام کار گاہ عالم اور یہ سار کائنات صرف اس لئے ہی ہا تاکہ اس سے ہمیں فائدہ پہنچے اور ہماری ضرورتیں پوری ہوں۔ اس مضمون کو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بہت جگہ تفصیل سے بیان فرمایا ہے چناچہ ایک جگہ ارشاد ہے :
وَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مِّنْهُ 1ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ۠0013 (الجاثیہ 45 : 13)
” اور وہ اللہ ہی ہے جس نے آسمان کی جملہ مخلوق اور زمین کی ساری چیزوں کو (اپنے خاص فضل و کرم سے ) تمہارے تابع کردیا (اور یہ انعامات تم کو عطا فرمائے ہیں) نقل و خرد رکھنے والے اور غور و فکر کرنے والے لوگوں کے لئے ان میں (قدرتِ الٰہی کی ) بیشمار نشانیاں موجود ہیں۔ “
نہ صرف زمین و آسمان کے درمیان خلاء بلکہ زمین کے پیٹ میں بھی اس نے اپنی رحمت و نعمت کے بیشمار خزانے اپنی مخلوق کے لئے مخفی کر رکھے ہیں جو محض اس کی شفقت اور مہربانی سے زمین کی سطح پر نمودار ہوتے ہیں اور اس کی ساری مخلوق ان سے فائدہ اٹھاتی ہے۔ زمین کی سطح پھلوں ، پھولوں ، غلہ ، ترکاریوں اور میوؤں سے مالا مال ہے اور پانی کی شفاف اور شیریں چشمے اس کے پیٹ سے ابل کر اس کی سطح پر بہہ رہے ہیں اور زمین کی گہرائیاں سونے چاندی اور دیگر قیمتی معدنیات سے پر ہیں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
وَ ہُوَ الَّذِیْ مَدَّ الْاَرْضَ وَ جَعَلَ فِیْهَا رَوَاسِیَ وَ اَنْهٰرًا 1ؕ وَ مِنْ کُلِّ الثَّمَرٰتِ جَعَلَ فِیْهَا زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ یُغْشِی الَّیْلَ النَّهَارَ 1ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ 003 وَ فِی الْاَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرٰتٌ وَّ جَنّٰتٌ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّ زَرْعٌ وَّ نَخِیْلٌ صِنْوَانٌ وَّ غَیْرُ صِنْوَانٍ یُّسْقٰى بِمَآءٍ وَّاحِدٍ 1۫ وَ نُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلٰى بَعْضٍ فِی الْاُكُلِ 1ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ 004 (الرعد 13 : 3 ، 4)
” وہ اللہ ہی ہے جس نے زمین کو بچھونے کی طرح پھیلا کر بچھا دیا اور اس پر پہاڑوں کو میخوں کی طرح نہایت مضبوط طریقہ سے گاڑ دیا اور اس پر دریا رواں کردیئے اور اس ذات واحد نے پھلوں کے جوڑے تلخ و شیریں ذائقہ میں ، سیاہ وسفید و سرخ و زرد وغیرہ رنگت میں ، گرم ، سرد اور تر و خشک مزاج میں پیدا کئے ، اور وہی ان کی گرمی اور روشنی پر لوگوں کے آرام کے لئے رات کی تاریکی اور سردی لاتا ہے۔ غور و فکر اور سوچ و بچار سے کام لینے والوں کے لئے ان تمام چیزوں میں قدرت خداوندی کی بیشمار نشانیاں موجود ہیں۔ دیکھ لو زمین میں الگ الگ مگر قریب اور متصل خطے پائے جاتے ہیں۔ بعض نرم ہیں کہ وہاں کاشت ہو سکتی ہے بعض سخت اور پتھریلے ہیں کہ جہاں زراعت و کاشت نہیں کی جاسکتی اس زمین میں کہیں انگور کے باغات ہیں ، کہیں لہلہاتی کھیتیاں ہیں ، کہیں کھجور کے نخلستان ہیں کچھ ان میں اکہرے ہیں اور بعض دو ہرے ہیں سب کو ایک ہی پانی سیراب کرتا ہے۔ مگر خشبو اور بدبو میں اور ذائقہ اور رنگ میں ہم ایک دوسرے سے جدا اور بڑھیا گھٹیا کردیتے ہیں۔ عقل و دانش رکھنے والوں کے لئے ان ساری چیزوں میں بیشمار (قدرت کی) نشانیاں موجود ہیں۔ (یعنی ان میں توحید کے دلائل موجود ہیں) ۔ “
خشکی کے علاوہ تری میں بھی اس کی رحمت عامہ کے آثار نمایاں اور ہویدا ہیں۔ مثال کے طور پر سمندروں کی سطح جہازوں اور کشتیوں کے ذریعے نقل و حرکت اور آمد و رفت کے لئے اعلیٰ شاہراہ کا کام دیتی ہے اور اس کی گہرائی موتیوں اور دیگر مفید قیمتی اشیاء سے مالا مال ہے نیز دریاؤں اور سمندروں سے مچھلی کا تازہ بتازہ گوشت حاصل ہوتا ہے جو انسان کے لئے بہترین غذا ہے۔ چناچہ ارشاد الٰہی ہے :
وَ ہُوَ الَّذِیْ سَخَّرَ الْبَحْرَ لِتَاْكُلُوْا مِنْهُ لَحْمًا طَرِیًّا وَّ تَسْتَخْرِجُوْا مِنْهُ حِلْیَةً تَلْبَسُوْنَهَا 1ۚ وَ تَرَى الْفُلْكَ مَوَاخِرَ فِیْهِ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ 0014 (النحل 16 : 14)
” اور تمہارا پروردگار وہ ہے جس نے تمہارے لئے سمندر کو مسخر کردیا ہے جس میں اپنے کھانے کے لئے مچھلی کا تر و تازہ گوشت حاصل کرتے ہو اور اس کی تہوں میں سے غوطہ زن موتی وغیرہ نکال لاتے ہو اور جس سے تم اپنے زیورات بناتے ہو اور تم کشتیوں کو ملاحظہ کرتے ہو کہ وہ سمندروں کا سینہ چیرتی ہوئی پھرتی ہیں تاکہ ان کے ذریعہ (بحری تجارت سے) منافع حاصل کرو اور اس کا شکر ادا کرو۔ “
ان آیات کریمات کا مطالعہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے اس جہان کا ذرہ ذرہ پیدا کر کے پورے نظام عالم کو اپنے نظام ربوبیت کے تحت رکھا ہوا ہے اور اس کا نظام ربوبیت اس کے رحم و کرم اور اس کی رحمت و شفقت کے تحت چل رہا ہے۔ پورے نظام عالم کا ایک ذرہ لمحہ کے لئے بھی اس کی رحمت سے بےنیاز نہیں ہوسکتا۔ اللہ تعالیٰ نے جس طرح یہ خشکی اور تری کی ساری نعمتیں عالم جسمانی کی تربیت اور پرورش کے لئے پیدا فرمائی ہیں اسی طرح اس کی رحمت بےپایاں نے عالم روحانی کی ترقی اور نشو ونما کے لئے بھی انتظام فرمایا اور دنیا میں انبیاء (علیہم السلام) اور آسمانی کتابوں کے ذریعے عالم روحانی کی غذا کا بندوبست کیا۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری پیغمبر حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے بعثت اور اپنے آخری پیغام قرآن مجید کی تعلیم کو خصوصیت سے اپنی رحمت کے ساتھ متعلق فرمایا۔ چناچہ ارشاد الٰہی ہے :
وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ 00107 (الانبیاء 21 : 107)
” ہم نے آپ ﷺ کو اس لئے بھیجا ہے تاکہ سارے عالم پر رحم کریں۔ “
الحمدللہ کہ دنیا کی تمام نعمتوں سے بڑھ کر نعمت اور دنیا کی تمام رحمتوں اور شفقتوں سے بڑھ کر رحمت اور شفقت خود نبی کریم ﷺ کی نبوت ہے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے ایک طرف روح اور جسد کا تعلق باقی رکھنے کے لئے بیشمار مادی غذائیں مہیا کیں اور دوسری طرف روح کی
مٰنشو ونما کے لئے اعلیٰ درجہ کی روحانی غذا یعنی نبوت احمد مجتبیٰ ﷺ کی مہیا فرمادی۔ فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِیْنَؕ0014
مٰلِكِ یَوْمِ الدِّیْنِؕ Open ayah 1:4 in the Quran reader
جو اس دن کا مالک ہے جس دن کاموں کا بدلہ لوگوں کے حصے میں آئے گا
حقیقی مالک ہرچیز کا ” اللہ “ ہی ہے :
16: ” ملک “ کی ” اصل “ م ل ک ہے۔ الملک بادشاہ جو عوام پر حکمرانی کرتا ہے ” ملک “ کو اس جگہ ملک بھی پڑھا گیا ہے اور ” مالک “ بھی ۔ مفہوم دونوں طرح پڑھنے سے ایک ہی رہتا ہے۔ مٰلِكِ یَوْمِ الدِّیْنِؕ003 قیامت کے روز اسی کی بادشاہت ہوگی۔ یہ اصل میں ملک الملک فی یوم الدین ہے اور دوسری جگہ فرمایا : لِمَنِ الْمُلْكُ الْیَوْمَ 1ؕ لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ 0016 اور مٰلِكِ یَوْمِ الدِّیْنِؕ003 قیامت کے روز کا مالک ہے۔ اللّٰهُمَّ مٰلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِی الْمُلْكَ مَنْ تَشَآءُ (3 : 26) ” مالک “ کا لفظ قرآن مجید میں 3 بار استعمال ہوا ہے۔
مٰلِكِ یَوْمِ الدِّیْنِؕ003 (الفاتحہ 1 : 3) ۔ 2 : (ال عمران 3 : 26) ۔ 3 : (الزخرف 43 : 77)
” ملک یوم الدین “ فاتحہ کی چوتھی آیت ہے :
17: یوم اور ” الیوم “ کی ” اصل “ ی و م ہے۔ یوم طلوع آفتاب سے غروب آفتاب تک کی مدت اور وقت پر بولا جاتا ہے اور عربی زبان میں مطلقاً وقت اور زمانہ کے لئے استعمال ہوتا ہے خواہ وہ زمانہ ایک دن کا ہو یا ایک سال کا ، ایک صدی کا یا ہزار سال کا یا ہزارہا سال کا۔ جمع ایام ، ایام اللہ ، اللہ کی نعمتیں۔ من اول یوم یعنی سب سے پہلادن۔ یوما اسم ظرف منصوب۔ دن یوم ، الیوم کا لفظ قرآن مجید میں 348 بار استعمال ہوا ہے۔
” الدین “ کی اصل کیا ہے ؟ اور اس کا مطلب کیا ؟
18: ” الدین “ کی ” اصل “ د ی ن ہے۔ دین بمعنی جزاء ، اطاعت شریعت ، بدلہ دینا ، اطاعت کرنا ، حکم ماننا۔ ” دین “ بمعنی ملت ہی ہے مگر اس کا استعمال اطاعت اور شریعت کی پابندی کے معنی میں ہوتا ہے۔ دان یدین کا مصدر ہے اور ” ادیان “ جمع ، دین۔ دام ، قرض ، ادھار ، قرض دینا ، قرض لینا۔ دان یدین کا مصدر ہے۔ دیون جمع ہے۔
” یوم الدین “ خالصتاً اسلامی اصطلاح ہے :
19: ” یَوْمِ الدِّیْنِ “ بدلے کا دن ، (انصاف کا دن ، جزا و سزا کا دن ، قیامت کا دن) ۔
نزول قرآن کے وقت پیروان مذاہب کا عالمگیر اعتقاد یہ تھا کہ جزا و سزا محض خدا کی خوشنودی اور اس کے قہر و غضب کا نتیجہ ہے۔ اعمال کے نتائج کو اس میں کوئی دخل نہیں۔ وہ دیکھتے تھے کہ ایک مطلق العنان بادشاہ کبھی خوش ہو کر انعام و اکرام دینے لگتا ہے ، کبھی بگڑ کر سزائیں دینے لگتا ہے اس لئے خیال کرتے تھے کہ خدا کا بھی ایسا ہی حال ہے۔ لیکن قرآن کریم نے جزا و سزا کا اعتقاد ایک دوسری ہی شکل و نوعیت کا پیش کیا۔
وہ کہتا ہے کہ کائنات ہستی کا عالمگیر قانون یہ ہے کہ ہر حالت کوئی نہ کوئی اثر رکھتی ہے اور ہرچیز کا کوئی نہ کوئی خاصہ ہے۔ ممکن نہیں یہاں کوئی شے اپنا وجود رکھتی ہو اور اثرات و نتائج کے سلسلہ سے وہ باہر ہو۔ پس جس طرح خدا نے عالم دنیا کے اجسام میں خواص و نتائج رکھے ہیں۔ اس طرح اعمال میں بھی خواص و نتائج ہیں اور اعمال کے انہیں خواص و نتائج کو جزا و سزا کے نام سے موسوم کیا گیا ہے اچھے عمل کا نتیجہ اچھائی ہے اور یہی ثواب کہلاتا ہے۔ برے عمل کا نتیجہ برائی ہے اور اس کو عذاب کہتے ہیں۔ ثواب و عذاب کے ان اثرات کی نوعیت کیا ہوگی ؟ وحی الٰہی نے ہماری فہم و استعداد کے مطابق اس کا ایک نقشہ کھینچا ہے اور اس نقشہ میں ایک مرقع بہشت کا ہے اور ایک دوزخ کا۔ بہشت کے انعامات ان کے لئے جن کے اعمال بہشتی ہوں گے اور دوزخ کی عقوبتیں ان کے لئے جن کے اعمال دوزخی ہوں گے۔
وہ کہتا ہے ، تم دیکھتے ہو کہ فطرت ہر گوشہ وجود میں اپنا قانون مکافات رکھتی ہے ممکن نہیں کہ اس میں تغیر و تساہل ہو۔ فطرت نے آگ میں یہ خاصہ رکھا ہے کہ جلائے۔ اب سوزش اور جل جانا فطرت کی وہ مکافات ہوگئی جو ہر اس انسان کے لئے ہے جو آگ کے شعلوں میں ہاتھ ڈال دے۔ ممکن نہیں کہ تم آگ میں کود جائو اور اس فعل کے مکافات سے بچ جائو ، تم دیکھتے ہو کہ آگ جلاتی ہے پانی ٹھنڈک پیدا کرتا ہے۔ سنکھیا کھانے سے موت آتی ہے اور دودھ پینے سے طاقت و قوت بڑھتی ہے اور کونین سے بخار رک جاتا ہے جب اشیاء کی ان تمام مکافات پر تم کو تعجب نہیں ہوتا کیونکہ یہ تمہاری زندگی کی یقینیات ہیں تو پھر اعمال کے مکافات پر کیوں تعجب ہوتا ہے ؟ افسوس تم پر ! تم اپنے فیصلوں میں کتنے ناہموار ہو۔
تم گیہوں بوتے ہو اور تمہارے دل میں کبھی خدشہ نہیں گزرتا گیہوں پیدا نہیں ہوگا۔ اگر تم سے کوئی کہے کہ ممکن ہے گیہوں کی جگہ جوار پیدا ہوجائے تو تم اسے پاگل سمجھو گے۔ کیوں ؟ اس لئے کہ فطرت کے قانون مکافات کا یقین تمہاری طبیعت میں راسخ ہوچکا ہے۔ تمہارے وہم و گمان میں کبھی یہ خطرہ نہیں گزر سکتا کہ فطرت گیہوں لے کر اس کے بدلے میں جوار دے گی۔ اتنا ہی نہیں بلکہ تم یہ بھی نہیں مان سکتے کہ اچھی قسم کے گیہوں لے کر بری قسم کے گیہوں دے گی اس لئے کہ تم جانتے ہو کہ وہ بدلہ دینے میں قطعی اور شک و شبہ سے بالاتر ہے پھر بتلائو جو فطرت گیہوں کے بدلے گیہوں اور جوار کے بدلے جوار دے رہی ہے کیونکر ممکن ہے کہ اچھے عمل کے بدلے اچھا اور برے عمل کے بدلے برا نتیجہ نہ رکھتی ہو ؟
چنانچہ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے جزاء و سزا کے لئے ” الدین “ کا لفظ اختیار کیا کیونکہ مکافات عمل کا مفہوم ادا کرنے کے لئے سب سے زیادہ موزوں لفظ یہی تھا۔ پھر ” مٰلِكِ یَوْمِ الدِّیْنِؕ003 “ کہہ کر اس مضمون کو مزید پکا کردیا کہ وہ اللہ جس کے فیصلوں میں کبھی ردو بدل نہیں ہوتا۔ جو اپنے فیصلے کو نہ خود بدلتا ہے اور نہ بدلنے دیتا ہے۔ مکافات عمل کے دن کا وہ مالک ہے۔ وہ اپنی رحمت اور ربوبیت کے باوجود عدالت بھی رکھتا ہے اور اس کے انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ اچھے اعمال کی جزا اچھی اور برے اعمال کی جزا بری ہو اور یہی مکافات عمل ہے۔
مزید دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ساری کائنات کو پیدا کیا اور نظام ربوبیت کے تحت ہرچیز کو انسان کی خدمت پر لگا دیا جدھر دیکھو خشکی اور تری پر اس کی رحمت اور نعمت کی چادریں پھیلی ہوئی نظر آتی ہیں۔ مادی ترقی کے ساتھ ساتھ اس نے روح کی نشو ونما کا انتظام بھی فرمایا اور راہ ہدایت میں صراط مستقیم بتانے کے لئے کتابیں اور رسول بھیجے اور آخر میں آخری پیغمبر حضرت محمد ﷺ پر اپنی آخری کتاب قرآن مجید نازل فرما کر نعمت اسلام کی تکمیل فرمادی۔ اس سارے نظام ربوبیت کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ ایک ایسا دن ضرور ہونا چاہیے جس میں اس امر کا فیصلہ ہوسکے کہ کس نے اللہ کی ان تمام نعمتوں کا شکر ادا کیا اور کس نے ناشکری کی۔ کس نے اللہ کی بھیجی ہوئی ہدایت پر عمل کیا اور اس کے احکام کی تعمیل کی اور کس نے اس کے ہدایت اور اس کے احکام کو ٹھکرادیا۔ ایسا دن تو دنیا میں ہو نہیں سکتا کیونکہ یہ دارالعمل ہے ، اس لئے لامحالہ ایسا دن دنیا کے اختتام پر ہی ہوسکتا ہے۔ اسی دن کا نام ” یوم الدین “ ہے اور اس کو یوم آخر یا روزجزاء کہتے ہیں کیونکہ یہ دن دنیا کے ختم ہونے پر آئے گا اس میں نیک و بداعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔ اس دن میں ہر قسم کے تمام اختیارات صرف اور صرف اللہ کے قبضے میں ہوں گے وہاں مجازی طور پر بھی کسی کو کوئی اختیار یا اقتدار حاصل نہیں ہوگا۔ اس کی وضاحت کی ضرورت اس لئے ہوئی کہ اہل کتاب کے علماء سوء ان کے احبارو رہبان اور ان کے پیروں اور پادریوں کو چونکہ حق چھپانے ، حق و باطل کو ملانے ، غلط بیانی کرنے اور تورات و انجیل کی آیتوں میں لفظی اور معنوی تحریفیں اور تبدیلیاں کرنے کی عادت پڑچکی تھی اس لئے انہوں نے اپنے عوام میں بہت سے غلط عقائد پھیلا رکھے تھے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے جابجا ان کے کرتوتوں کو ظاہر فرمایا ہے تاکہ امت محمدیہ اس سے عبرت حاصل کرے چناچہ ارشاد ہوتا ہے :
وَ قَدْ کَانَ فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ یَسْمَعُوْنَ کَلٰمَ اللّٰهِ ثُمَّ یُحَرِّفُوْنَهٗ مِنْۢ بَعْدِ مَا عَقَلُوْهُ وَ ہُمْ یَعْلَمُوْنَ 0075 (بقرہ 2 : 75)
” ان (یہود) میں ایک گروہ ایسا تھا جو اللہ کا کلام سنتا تھا اور اس کا مطلب سمجھتا تھا لیکن پھر بھی جان بوجھ کر اس میں تحریف کردیتا تھا یعنی اس کا مطلب بدل دیتا تھا “۔
بنی اسرائیل کی سب سے پہلی گمراہی یہ تھی کہ نہ تو کتاب اللہ کا سچا علم ان میں باقی رہا اور نہ سچا عمل۔
ایک جگہ ارشاد الٰہی ہے :
یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَلْبِسُوْنَ الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَ تَكْتُمُوْنَ الْحَقَّ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ (رح) 0071 (آل عمران 3 : 71)
” اے اہل کتاب ! کیوں حق و باطل کے ساتھ ملا جلا کر مشتبہ کردیتے ہو اور حق کو چھپاتے ہو حالانکہ تم جانتے ہو کہ اصلیت کیا ہے ؟ “
ایک جگہ ارشاد ہوا :
سَمّٰعُوْنَ لِلْكَذِبِ اَكّٰلُوْنَ لِلسُّحْتِ 1ؕ (المائدہ 5 : 42)
” یہ لوگ جھوٹ کے لئے کان لگانے والے اور برے طریقوں سے مال کھانے میں بیباک ہوچکے ہیں۔ “
یعنی رشوت اور نذرانہ لے کر فتویٰ دیتے ہیں اور احکام شرع کی خریدو فروخت کی دکان لگا رکھی ہے۔
اہل کتاب کے پادریوں اور صوفیوں نے آخرت کے بارے میں ایک نہایت ہی غلط تصور عوام کے ذہن نشین کرا رکھا تھا۔ اپنے متعلق تو انہوں نے عوامی ذہن میں یہ بات بٹھا رکھی تھی کہ ہم اللہ کے محبوب اور چہیتے ہیں اور اللہ کے بیٹے ہیں یعنی جس طرح باپ کی صفات بیٹوں میں ہوتی ہیں اسی طرح اللہ کی صفات ہم میں موجود ہیں اس لئے آخرت میں ہمیں تو کسی قسم کا عذاب ہوگا ہی نہیں۔ چناچہ قرآن مجید میں ہے :
وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ وَ النَّصٰرٰى نَحْنُ اَبْنٰٓؤُا اللّٰهِ وَ اَحِبَّآؤُهٗ (المائدہ 5 : 18)
” اور یہودی اور عیسائی کہتے ہیں ، ہم خدا کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں۔ “
یعنی ہم جو کچھ بھی کریں ہمارے لئے نجات ہی نجات ہے۔ عوام کو انہوں نے یقین دلا رکھا تھا کہ جنت ان کے لئے ریزرو (Reserve) ہے ان کے سوا اور کوئی جنت میں داخل نہیں ہوسکے گا۔
جیسا کہ فرمان الٰہی ہے :
وَ قَالُوْا لَنْ یَّدْخُلَ الْجَنَّةَ اِلَّا مَنْ کَانَ ہُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى1ؕ (البقرہ 2 : 111)
” انہوں نے کہا جنت میں ہرگز داخل نہ ہوگا مگر وہی جو یہودی ہوگا یا عیسائی۔ “
حالانکہ ان کا یہ کہنا ان کے اپنے بیان کے بھی بالکل خلاف ہے کیونکہ وہ دونوں ایک دوسرے کو برملا جھٹلا چکے ہیں۔
ارشاد الٰہی ہے :
وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ لَیْسَتِ النَّصٰرٰى عَلٰى شَیْءٍ 1۪ وَّ قَالَتِ النَّصٰرٰى لَیْسَتِ الْیَهُوْدُ عَلٰى شَیْءٍ 1ۙ وَّ ہُمْ یَتْلُوْنَ الْكِتٰبَ 1ؕ
(البقرہ 1 : 113)
” یہودی کہتے ہیں عیسائیوں کا دین کچھ نہیں ہے عیسائی کہتے ہیں یہودیوں کے پاس کیا دھرا ہے ؟ حالانکہ اللہ کی کتاب دونوں پڑھتے ہیں “۔
قرآن کہتا ہے خدا کی سچائی سب کے لئے ہے اور سب کو ملی تھی لیکن سب نے سچائی سے انحراف کیا۔ سب اصل کے اعتبار سے سچے اور عمل کے اعتبار سے جھوٹے ہیں میں چاہتا ہوں اسی مشترک اور عالمگیر سچائی پر
سب کو جمع کردوں اور مذہبی نزاع کا خاتمہ ہوجائے۔ یہ مشترک اور عالمگیر سچائی کیا ہے ؟ خدا پرستی اور نیک عملی کا قانون ہے یہی قانون ہے جو خدا کا ٹھہرایا ہوا دین ہے اور اس کو میں ” الاسلام “ کے نام سے پکارتا ہوں۔
اہل کتاب کا یہ بھی عقیدہ تھا کہ حضرت عزیر اور حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) اور ان کے پیر اور پادری سب حاجت روا مشکل کشا اور شفیع غالب ہیں اور قیامت کے دن ان کو عذاب سے بچالیں گے جیسا کہ قرآن مجید میں ان کے عقیدہ کو بیان کیا گیا ہے :
اِتَّخَذُوْۤا اَحْبَارَهُمْ وَ رُهْبَانَهُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ الْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ 1ۚ (التوبہ 9 : 31)
” ان لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے علماء اور مشائخ کو پروردگار بنالیا تھا اور مریم (علیہا السلام) کے بیٹے مسیح علیہ لسلام کو بھی۔ “
سورۃ فاتحہ میں جس طرح دوسرے باطل عقیدوں کی تردید کی گئی ہے اسی طرح ” ملک یوم الدین “ سے اہل کتاب کے غلط تصور آخرت کی تردید فرمائی کہ قیامت کے دن کا مالک تو صرف اللہ ہی ہے اور اس کے ہاتھ میں سب کا حساب و کتاب اور عذاب وثواب ہے اجو ان لوگوں کے اپنے ہی کئے کا رزلٹ ہے۔ جن کو تم اللہ کے سوا معبود سمجھ رہے ہو اور ان کو مالک و مختارا اور شفیع غالب مان رہے ہو اور جن کے بارے میں تمہارا عقیدہ ہے کہ قیامت کے دن وہ خدا کے عذاب سے جو انہی کے کئے کا نتیجہ ہوگا چھڑا لیں گے۔ یاد رکھو قیامت کے دن ان کا کوئی زور نہیں چلے گا اور نہ ہی ان کو کسی قسم کے تصرف کا اختیار ہوگا اور نہ ہی وہ کوئی بات منوا سکیں گے کیونکہ تصرف صرف وہی کرسکتا ہے جو مالک و مختار ہو اور قیامت کے دن کا مالک صرف اور صرف اللہ ہی ہے اور سب کے نیک و بد اعمال کو جاننے والا بھی وہی ہے اسلئے وہی لوگوں کے اعمال کی جزا و سزا کا مالک ہے اس کے سوا کسی میں قدرت نہیں کہ اعمال کا حساب لے اور ہر ایک کے حسب حال اور حسب نیک و بداعمال کی جزا و سزا دے۔ یَوْمَ لَا تَمْلِكُ نَفْسٌ لِّنَفْسٍ شَیْـًٔا 1ؕ وَ الْاَمْرُ یَوْمَىِٕذٍ لِّلّٰهِ (رح) 0019
(الانفطار 82 : 19 )