Ayahs 53:40–4129 معذور لوگوں کے متعلق اشتراکی نظریہ :۔ یعنی جو کام اس نے خود دنیوی زندگی میں سرانجام دیئے اور جن کاموں کے اثرات چھوڑے سب اس کی سعی میں داخل ہیں اور ان سب کو اعمال کی ترازو میں رکھ کر دیکھا جائے گا۔
بعض کمیونسٹ ذہن کے لوگ (وَاَنْ لَّيْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰى 39ۙ ) 53 ۔ النجم :39) اس مادی دنیا پر منطبق کرکے اس کا مطلب یہ لیتے ہیں کہ بوڑھے اور معذور قسم کے لوگ جو کوئی محنت کر ہی نہیں سکتے ان کو مار کر ختم کردینا چاہئے تاکہ وہ معاشرہ پر معاشی بوجھ نہ بنیں۔ جب وہ کما ہی نہیں سکتے تو انہیں کچھ ملنا بھی نہیں چاہیے۔ ظاہر ہے یہ مطلب سیاق وسباق سے قطع نظر کرکے لیا گیا ہے۔ نیز یہ نظریہ اسلام کے نظام صدقات و زکوٰۃ کے بالکل برعکس ہے۔ اسلام ایسے معذور اور نادار لوگوں کی بھرپور امداد کرکے انہیں زندہ رہنے کا حق دیتا ہے۔ لہذا اشتراکیوں کا یہ نظریہ اسلامی نکتہ نگاہ سے باطل لغو اور فساد فی الارض کے مترادف ہے۔
Ayah 53:4230 یعنی ہر شخص کو بھی اللہ تعالیٰ کے حضور میں حاضر ہونا ہے اور ہر شخص کے اچھے اور برے اعمال کا منتہیٰ بھی وہی ذات ہے۔ لہذا وہ ہر شخص کو اس کے اعمال کا بھی اور اثرات کا بھی پورا پورا بدلہ دے دے گا۔
Ayahs 53:43–4431 یعنی ہر شخص کا رنج و راحت، مسرت اور غم وغیرہ دونوں طرح کے ظاہری اور باطنی اسباب اسی کے قبضہ قدرت میں ہیں۔ وہ ہر شخص کی قسمت کو اتفاقاً بھی اور تدریجاً بھی بدل دینے کی قدرت رکھتا ہے۔
Ayahs 53:45–4732 یعنی میاں اور بیوی میں سے ہر ایک کا مادہ منویہ تو ایک ہی جیسا ہوتا ہے۔ مگر کبھی ان کے ملاپ سے اللہ بیٹا بنا دیتا ہے اور کبھی بیٹی۔ یعنی حمل قرار پانے کے بعد رحم مادر میں جنین کی ساخت جسمانی میں ایسی تبدیلی پیدا کرنا جس سے کوئی جنین نر بن جائے اور کوئی مادہ۔ یہ اللہ ہی کی قدرت ہے۔ اور جو ذات رحم مادر میں ایسی تبدیلی لاسکتی ہے وہ تمہیں دوبارہ بھی پیدا کرسکتی ہے۔ اور تمہارا دوبارہ پیدا کرنا اس کے ذمہ ہے اور یہی پہلی بار کی پیدائش کا نتیجہ ہے کیونکہ اس کا کوئی کام بلامقصد اور بےنتیجہ نہیں ہوا کرتا۔
Ayah 53:4833 اقنٰی کا لغوی مفہوم :۔ اقنی بمعنی غنی کرنا اور راضی کرنا (مفردات) یعنی اتنا مال و دولت دینا کہ اس کی احتیاج پوری کرنے کے علاوہ وہ خوش بھی ہوجائے اور بعض اہل لغت کے نزدیک اقنٰی اغنیٰ کی ضد ہے بمعنی مفلس بنادینا۔ گویا اقنی لغت اضداد سے ہے۔ ان آیات میں چونکہ متقابل چیز کا ذکر ہو رہا ہے۔ لہذا یہاں دوسرا معنی ہی مناسب معلوم ہوتا ہے۔ فلہٰذا ترجمہ میں یہی دوسرا معنی اختیار کیا گیا ہے۔
Ayahs 53:49–5134 شعری ستارہ اور اس کے پجاری :۔ مشرکین عرب تین مشہور دیویوں لات، منات اور عزیٰ کے علاوہ آسمان کے دیوتاؤں میں سے شعریٰ سیارہ کی بھی پرستش کرتے تھے۔ یہ سیارہ سورج سے 23 گنا زیادہ روشن ہے اور اس کا زمین سے فاصلہ 8 نوری سال سے بھی زیادہ ہے۔ (واضح رہے کہ سورج ہم سے 9 کروڑ 30 لاکھ میل دور ہے اور اس کی روشنی ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل فی سیکنڈ کی رفتار سے 8 منٹ میں ہم تک پہنچتی ہے۔ گویا ہماری زمین اور سورج کا فاصلہ 8 نوری منٹ ہے۔ اسی سے 8 نوری سال کا حساب لگا لیجئے) لہذا یہ سورج سے بہت چھوٹا اور کم روشن نظر آتا ہے۔ اہل مصر اس کی پرستش کرتے تھے کہ اسی سیارہ کے طلوع کے زمانہ میں نیل کا فیضان شروع ہوتا تھا۔ اور اہل مصر یہ سمجھتے تھے کہ اسی سیارہ کے طلوع ہونے کا فیضان ہے۔ اہل عرب میں سے خصوصاً قریش اور خزاعہ اس کی پرستش کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس عقیدہ باطلہ کی تردید کی اور فرمایا تمہاری قسمتوں کا مالک شعریٰ نہیں بلکہ وہ اللہ ہے جو شعریٰ کا بھی مالک ہے۔
Ayahs 53:52–5335 عاد اولیٰ جن کی طرف سیدنا ہود مبعوث ہوئے اور عاد ثانیہ یا قوم ثمود جن کی طرف سیدنا صالح (علیہ السلام) مبعوث ہوئے۔ اور قوم فرعون یہ سب لوگ آخرت کے منکر، اکڑ باز اپنے رسولوں کو ایذائیں اور دکھ پہنچانے والے اللہ کے باغی اور شرارتیں کرنے والے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان سب کو تباہ کر ڈالا۔
Ayah 53:5436 سیدنا لوط (علیہ السلام) کا مرکز تبلیغ سدوم اور اس کے ارد گرد کی بستیاں جنہیں زمین میں دھنسا دیا گیا اور ان کے اوپر سیاہ رنگ کا متعفن پانی چھا گیا جسے بحیرہ مردار Sea) (Dead یا بحر میت یا بحر لوطی کہتے ہیں۔
Ayah 53:5537 ظالم قوموں کی تباہی بھی بنی نوع انسان کے لئے نعمت ہے :۔ اللہ کی بنی نوع انسان پر سب بڑی نعمت یہ ہے کہ وہ ظالم اور سرکش قوموں کو صفحہ ہستی سے نیست و نابود کر دے۔ تاکہ باقی لوگوں کو ان کے ظلم و ستم سے نجات ملے اور وہ بھی دنیا میں چین سے زندگی بسر کرسکیں۔ گویا سب ظالم قوموں کی تباہی بھی اللہ کی نعمتیں تھیں اور انسانیت پر احسانات تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی اس نعمت کا ذکر ایک دوسرے مقام پر بڑے واشگاف الفاظ میں یوں بیان فرمایا : (وَلَوْلَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ ۙ لَّفَسَدَتِ الْاَرْضُ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ ذُوْ فَضْلٍ عَلَي الْعٰلَمِيْنَ 251۔ ) 2 ۔ البقرة :251)
38 تَتَمَارٰی کے معنی شک کرنا بھی ہے اور جھگڑا کرنا بھی۔ یعنی تاریخ سے اتنی مثالیں پیش کرنے کے بعد بھی تجھے اس بات میں کچھ شک رہ جاتا ہے کہ جس قوم نے بھی اللہ تعالیٰ کے احکام کے سامنے اکڑ دکھائی اسے آخر تباہی سے دو چار ہونا پڑا ؟ اور دوسرے معنی کے لحاظ سے مطلب یہ ہوگا کہ جیسے وہ لوگ اپنے نبیوں سے جھگڑا کرتے رہے کیا تو بھی انہیں باتوں میں جھگڑا کرے گا۔
Ayah 53:5639 یعنی کوئی نئی بات نہیں کہتا۔ تمہیں اپنے برے انجام سے بچ جانے کی طرف بلاتا ہے۔ سابقہ تمام انبیاء بھی اپنی قوموں کو یہی کچھ کہتے رہے ہیں۔
Ayah 53:5740 ازفۃ قیامت کا ہی صفاتی نام ہے اور ازف میں وقت کی تنگی کا مفہوم پایا جاتا ہے یعنی یہ نہ سمجھو کہ قیامت یا موت کی گھڑی ابھی بہت دور ہے اور سوچنے سمجھنے کے لیے ابھی بہت وقت پڑا ہے۔ انسان کو تو ایک پل کی بھی خبر نہیں اور جس کو موت آگئی بس اس کی قیامت تو اسی وقت قائم ہوگئی۔
Ayah 53:5841 یعنی جب قیامت یا موت آگئی تو نہ تم اسے روک سکو گے اور نہ تمہارے معبود۔ اللہ اسے روک تو سکتا ہے مگر وہی تو لانے والا ہے ہٹائے گا کیوں ؟
Ayahs 53:59–6142 یعنی تم تعجب تو ایسے کرتے ہو جیسے دوبارہ مر کر جی اٹھنے کی بات آج پہلی بار سنی ہے۔ حالانکہ تمام انبیاء یہی بات کہتے آئے ہیں۔ اب چاہئے تو یہ تھا کہ تم اپنے انجام سے ڈر جاتے اور اللہ کے خوف سے رونے لگتے۔ مگر تم اس کے برعکس ان باتوں کا مذاق اڑاتے ہو اور انجام سے غافل رہ کر کھیل کود میں وقت گزار رہے ہو۔
Ayah 53:6243 مسلمانوں کے ساتھ کافروں کا بھی سجدہ ریز ہونا :۔ یہ سورت ابتدائی مکی سورتوں سے ہے اور یہ پہلی سورت ہے جس میں آیت سجدہ نازل ہوئی نیز یہی وہ پہلی سورت ہے جسے آپ ﷺ نے مجمع عام میں اور بعض روایات کے مطابق حرم میں کافروں اور مسلمانوں کے مشترکہ مجمع میں سنایا۔ قرآن کی اثر آفرینی کا یہ عالم تھا کہ جب آپ ﷺ نے ( فَاسْجُدُوْا لِلّٰهِ وَاعْبُدُوْا 62ڙ{ السجدہ }) 53 ۔ النجم :62) پڑھا تو مسلمانوں کے ساتھ کافر بھی بےاختیار سجدہ ریز ہوگئے۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے :
سیدنا عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ سب سے پہلے جو سجدہ والی سورت نازل ہوئی وہ سورة النجم تھی۔ آپ ﷺ نے اس سورة میں سجدہ کیا اور آپ کے پیچھے جتنے لوگ بیٹھے تھے (خواہ مسلمان تھے یا مشرک) سب نے سجدہ کیا بجز ایک شخص امیہ بن خلف کے، اس نے مٹھی بھر مٹی لی (منہ سے قریب کی) پھر اس پر سجدہ کیا۔ میں نے دیکھا کہ اس کے بعد یہ شخص کفر کی حالت میں (بدر کے دن) مارا گیا۔ (بخاری، کتاب التفسیر)
اسی موقعہ سے متعلق مشہور ہے کہ جب آپ ﷺ نے یہ آیات پڑھیں ( اَفَرَءَيْتُمُ اللّٰتَ وَالْعُزّٰى وَمَنٰوةَ الثَّالِثَةَ الْاُخْرٰى) 19ۙ ) 53 ۔ النجم :19-20) تو شیطان نے آپ کی آواز جیسی آواز میں آگے یہ الفاظ پڑھ دئیے۔ (تِلْکَ الغَرَانِیْقُ العُلٰی وَإنَّ شَفَاعَتُھُنَّ لَتُرْجٰی) (یہ تینوں بلند مرتبہ دیویاں ہیں اور ان کی شفاعت متوقع ہے) اور بعض کے نزدیک یہ واقعہ یوں ہوا کہ جب قریشیوں نے بھی مسلمان کے ساتھ مل کر سجدہ کرلیا تو بعد میں انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوا کہ ہم سے یہ کیا حماقت سرزد ہوگئی تب انہوں نے یہ الفاظ اپنی طرف سے گھڑے اور کہہ دیا کہ ہم نے محمد ﷺ کی زبان سے یہ الفاظ سنے تھے اور سمجھے کہ اب وہ بھی ہمارے دین کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔ اس لیے ہم نے ان کے ساتھ مل کر سجدہ کیا تھا۔ یہ واقعہ جو کچھ بھی تھا، یہ خبر یا افواہ اتنی مشہور ہوئی کہ حبشہ کی طرف ہجرت کرنے والوں نے، جنہوں نے رجب 5 نبوی میں ہجرت کی تھی۔ جب ایسی صلح یا سمجھوتے کی خبر سنی تو شوال 5 نبوی میں مکہ واپس آگئے۔ مگر مکہ آکر انہیں معلوم ہوا کہ یہ تو سب کچھ ایک افسانہ تھا۔ چناچہ وہ دوبارہ ہجرت کرکے حبشہ کی طرف واپس چلے گئے۔