Ayahs 20:81–8357 یہاں پھر کئی تفصیلات کا ذکر چھوڑ دیا گیا ہے، جو دوسرے مقامات پر موجود ہے۔ مثلا ً اسی سفر میں بنی اسرائیل نے ایک مندر میں بعض لوگوں کو بت پوجتے دیکھا تو کہنے لگے۔ موسیٰ ! ہمیں بھی اس طرح کا ایک الہٰ یعنی محسوس خدا کا مجسمہ بنادو۔ جس پر موسیٰ (علیہ السلام) نے انھیں ڈانٹ پلائی۔ پھر جب موسیٰ (علیہ السلام) نے انھیں پھر ہجرت کا مقصد بتلایا کہ تمہیں اپنے آبائی وطن کو غیروں کے قبضہ سے آزاد کرانا اور خود وہاں آباد ہونا ہے تو کہنے لگے ! موسیٰ ! وہاں تو بڑے طاقتور اور جنگجو قسم کے لوگ آباد ہیں۔ ہم ان سے جنگ نہیں کرسکتے۔ ہاں اگر وہ وہاں سے نکل جائیں تو پھر ہم داخل ہوسکتے ہیں یا پھر تم اور تمہارا رب جاکر ان سے جنگ کرو۔ ہم میں اتنی ہمت نہیں۔ ان کی اس بزدلانہ حرکت کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے انھیں سزا کے طور پر یہ حکم دیا کہ اب تم یہیں اسی میدان میں چالیس سال تک بھٹکتے پھرو۔ جس سے مقصد ان کی بزدلی کا علاج اور ان میں جرأت پیدا کرتا تھا۔ ایک تو جنگل کی زندگی ویسے ہی دلیر بنا دیتی ہے۔ دوسرے بڑے بوڑھے سب بزدل اتنے عرصہ میں مر کھپ جائیں گے اور جو نئی نسل پیدا ہوگی وہ غلامی کے بجائے آزادانہ فضا میں پرورش پائے گی وہ جرأت مند پیدا ہوگی۔
اس بیابان میں نہ رہنے کو مکان تھے اور نہ کوئی چیز کھانے کو ملتی یا پیدا ہوتی تھی نہ کہیں پانی کے چشمے یا گھاٹ تھے پھر یہ بنی اسرائیل بھی لاکھ سے زائد نفوس پر مشتمل تھے۔ اللہ نے بنی اسرائیل کے ان مسائل کا حل ایسے معجزانہ انداز میں فرمایا کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ دھوپ کے وقت بادل سائبان کی طرح ان پر چھا جاتے مگر برستے نہیں تھے۔ اور رات کو غائب ہوجاتے۔ اسی میدان میں اللہ تعالیٰ نے ان کے کھانے کو من وسلویٰ نازل فرمایا اور پانی کے بارہ چشمے جاری کردیئے۔ ان واقعات کی تفدیل سورة بقرہ میں گزر چکی ہے۔ یہ سب نعمتیں عطا کرنے کے بعد اللہ نے انھیں حکم دیا کہ اب نہ زیادتی کرنا اور نہ سرکشی۔ زیادتی یہ تھی کہ ذخیرہ اندوزی کرکے دوسرے لوگوں کو ان کے حق سے محروم نہ بنادینا اور سرکشی نہ کرنے کا مطلب یہ تھا۔ کہ اللہ کی ان نعمتوں کے ملنے پر اس کا شکر ادا کرتے رہنا اور اس کے عبادت گزار اور فرمانبردار بندے بن کر رہنا اور اگر اب بھی تم نے سرکشی کا راستہ اختیار کیا تو یاد رکھو کہ پھر تم پر اللہ کا عذاب نازل ہوگا جو تمہیں تباہ و برباد کردے گا۔
Ayah 20:8458 اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) سے وعدہ فرمایا تھا کہ کوہ طور کے دامن میں پہنچ کر چالیس راتیں وہاں بسر کرنا تو تمہیں بنی اسرائیل کی ہدایت کے لئے کتاب تورات عطا کی جائے گی۔ چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل میں سے ستر آدمی اپنے ہمراہ لئے اور طور کی جانب روانہ ہوگئے۔ لیکن آپ کو اللہ تعالیٰ سے ملاقات اور ہم کلامی کا کچھ اتنا زیادہ اشتیاق تھا کہ آپ اپنے ہمراہیوں کو پیچھے چھوڑ کر سب سے پہلے منزل مقصود جاپہنچے۔ اللہ تعالیٰ نے پوچھا کہ تمہیں اتنی کیا جلدی تھی کہ اپنے ہمراہیوں کو پیچھے چھوڑ کر پہلے ہی یہاں آپہنچے ؟ عرض کیا وہ لوگ بھی میرے پیچھے پیچھے یہاں پہنچ ہی رہے ہیں اور مجھے تیری ملاقات کا اشتیاق ان سے پہلے یہاں کھینچ لایا ہے۔ پھر اسی موقع پر آپ نے اپنے پروردگار سے درخواست کی تھی کہ اے میرے پروردگار ! مجھے اپنا آپ دکھلا دے اور یہ واقعہ بھی سورة بقرہ میں پوری تفصیل سے بیان ہوچکا ہے۔
Ayah 20:8559 جب کوہ طور پر عبادت میں مصروف تھے اور اس انتظار میں تھے کہ چالیس دن پورے ہونے پر اللہ تعالیٰ کتاب ہدایت عطا فرمائیں تو اسی دوران آپ کی قوم نے آپ کے بعد پھر سے بچھڑے کی عبادت شروع کردی۔ سامری نے ان کے لئے ایک بچھڑا تیار کیا اور یہ لوگ اس کی پوجا پاٹ میں لگ گئے۔
اس واقعہ کی اطلاع اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو وہیں کوہ طور پردے دی۔ آپ کو اس طلاع سے اپنی قوم پر غصہ تو بہت آیا مگر وہاں کا قیام بھی انتہائی ضروری تھا۔ لہذا آپ نے اپنے نفس پر جہر کرکے معینہ مدت تک وہیں رکے رہے۔
لفظ السامری سے دو باتیں معلوم ہوتی ہیں۔ ایک یہ کہ یہ اس شخص کا اصلی نام نہیں تھا۔ بلکہ کوئی خاص سامری شخص تھا۔ جیسا کہ پہلے تعریف کا ال موجود ہے۔ دوسرے آخر میں یائے نسبتی ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ سامر یا تو اس کے وطن کا نام تھا یا پھر سامر یا سمر اس کے کسی جد امجد کا نام تھا۔ جیسا کہ عرب میں اس کا عام دستور ہے۔
Ayahs 20:86–8760 موسیٰ (علیہ السلام) کتاب تورات لے کر جب واپس آئے تو سخت غضب ناک تھے۔ آپ نے آتے ہی اپنی قوم سے پے در پے تین سوال کئے۔ ایک یہ کہ اللہ نے جو تمہاری ہدایت کے لئے کتاب دینے کا وعدہ فرمایا تھا۔ تو یہ گمراہی کی راہ تم نے از خود کیوں اختیار کی ؟ کیا تمہیں اللہ کی ہدایت پسند نہیں تھی ؟ دوسرا سوال یہ تھا کہ اللہ نے جتنی مدت بعد کتاب دینے کا وعدہ کیا تھا، کیا اسمیں کچھ تاخیر ہوگئی تھی، یا اس وعدہ کو طویل مدت گزر چکی تھی اور تم انتظار کرتے کرتے تھک گئے تھے اور پھر یہ تجھے کہ پتہ نہیں کہ اللہ سے کب ہدایت آتی ہے یا آتی بھی ہے یا نہیں اس بنا پر تم نے خود ہی اپنے لئے ایک راہ تجویز کرلی اور اگر یہ دونوں درست تھیں تو پھر کیا تم ایسے شر کام کرکے اللہ کے غضب کو دعوت دینا چاہتے ہو ؟ یہ گؤسالہ پرستی کا مرض ابھی تک تمہارے دلوں سے نکلا نہیں ؟
Ayah 20:8861 قوم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ان کے سوالوں کا یہ جواب دیا کہ ہم نے عمدا ً کچھ ایسا قصد نہیں کیا تھا بلکہ ہوا یہ تھا کہ اس طویل سفر میں زیورات کا بوجھ ہمارے لئے ناقابل برداشت بن گیا تھا لہذا ہم چاہتے تھے کہ اس کے کہ ہمارے سب افراد یہ بوجھ اٹھائے رکھیں انھیں کیوں نہ اکٹھا کرکے پگھلا کر اس کی اینٹیں بنا لی جائیں تاکہ اس کی نقل و حرکت میں آسانی ہوجائے اور دوسرے سامان کے ساتھ گدھوں اور بیلوں پر لادا جاسکے۔
اور اس میں ہر ایک کے زیور کی مقدار الگ الگ لکھ لی جائے اور جب کہیں مقیم ہوں گے تو اپنے اپنے حصہ کا سونا پھر سے بانٹ کر زیور بنوائے جاسکتے ہیں۔ اس خیال سے ہم نے لوگوں نے بھی اپنے اپنے زیور اتار پھینکے اور اسی طرح سامری نے اپنا زیور اس مجموعہ میں شامل کردیا۔ سونے کو پگھلانے کا کام سامری کے ذمہ تھا۔ اس نے یہ شرارت کی کہ بجائے اس کے زیورات کو پگھلا کر سونے کی اینٹیں بناتا، اس کو بچھڑے کی شکل دے دی۔ پھر کچھ ایسا کرتب دکھایا کہ اس بچھڑے سے بچھڑے کی سی آواز بھی نکلتی تھی اور کہنے لگا کہ حقیقتا تو یہی تمہارا الہ ٰ ہے۔ جو سونا پگھلانے پر آپ سے آپ اس شکل میں نمودار ہوگیا ہے۔ یہ لوگ مصر میں چونکہ بڑی مدت فرعونیوں کی دیکھا دیکھی بیل کی پرستش کرتے رہے تھے اور ابھی تک ان کے ذہن میں پوری طرح صاف نہیں ہوئے تھے لہذا جاہل عوام نے فورا ً سامری کی آواز پر لبیک کہی اور ہنے لگے کہ اصل میں ہمارا اور موسیٰ کا بھی الٰہ تو یہ تھا۔ موسیٰ پتا نہیں طور پر کیا لینے گیا ہے ؟ چناچہ یہ معاملہ ہمارے اختیار سے باہر ہوگیا اور اکثریت کی دیکھا دیکھی ہمیں بھی یہی راہ اختیار کرنا پڑی۔
Ayahs 20:89–9062 یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے یعنی ان بدبختوں کو اتنی بھی سمجھ نہ آئی کہ اگر اس بچھڑے کی سی آواز نکلتی بھی ہے تو وہ کیا ان کے سوال کا جواب دے سکتا ہے ؟ بلکہ وہ تو سنتا بھی نہیں پھر جواب کیا دے گا ؟ اور جو چیز نہ سن سکے نہ جواب دے سکے وہ کسی کا کیا بگاڑ سکتی ہے یا سنوار سکتی ہے ؟ نیز وہ الہٰ کیسے ہوسکتی ہے ؟
Ayahs 20:91–9263 جب یہ لوگ گؤسالہ پرستی میں مبتلا ہونے لگے تو ہارون (علیہ السلام) نے بروقت ان کو تنبیہ کی تھی۔ یہ بچھڑا قطعا ً تمہارا الہٰ نہیں ہے، تمہارا الہٰ صرف وہی ذات ہوسکتی ہے جو تمہارا خالق ومالک اور تمہارا پروردگار ہے۔ لہذا اس گؤسالہ پرستی سے باز آؤ اور میری بات مان لو اور سامری کے فریب میں نہ آؤ مگر یہ مدتوں سے بگڑی ہوئی قوم بھلا سیدنا ہارون جیسے نرم مزاج آدمی کے حکم کو کیا سمجھتی تھی ؟ کہنے لگے : تم آرام سے بیٹھو اور اپنی خیر مناؤ۔ موسیٰٰ آئے گا تو دیکھا جائے گا۔ سردست ہم اس کام کو چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔
Ayah 20:9364 موسیٰ (علیہ السلام) قوم کی طرف سے یہ عذر لنگ سن کر اسی غصہ کی حالت میں اپنے بھائی ہارون کی طرف متوجہ ہوئے اور جوش غضب میں ان کی داڑھی اور سر کے بال پکڑ لئے اور کہنے لگے۔ میں تمہیں اپنا نائب بنا کر گیا تھا اور یہ تاکید کی تھی کہ ان لوگوں کے حالات پر کڑی نظر رکھنا تو پھر جب تم نے انھیں شرک میں مبتلا ہوتے دیکھا تو تم نے انھیں کیوں منع نہ کیا ؟ آخر وہ کون سی بات تھی جو تمہارے آڑے آگئی تھی کہ تم نے انھیں منع بھی کیا ؟ کیا تم میری اس تاکید کو یکسر بھول گئے تھے کہ اس بگڑی ہوئیقوم پر کڑی نظر رکھنا اور ان کی اصلاح کی پوری کوشش کرتے رہنا۔
Ayahs 20:94–9565 سیدنا ہارون اگرچہ عمر میں بڑے تھے تاہم منصب کے لحاظ سے چھوٹے تھے۔ علاوہ ازیں سیدنا موسیٰ جلالی طبیعت کے مالک اور سخت جوش غضب میں تھے۔ لہذا اسی کا غضب سے مغلوب ہو کر سیدنا ہارون کی داڑھی اور سر کے بالوں کو پکڑا تھا۔ سیدنا ہارون بڑے تحمل سے کہنے لگے کہ پہلے میری بات سن لو اور میری داڑھی پکڑ کر دشمنوں کو مجھ پر ہنسنے کا موقع نہ دو ۔ بات یہ تھی کہ جب یہ لوگ شرک میں مبتلا ہوئے تو میں نے انھیں پوری سختی سے روکا تھا۔ لیکن چونکہ اکثریت اس شرک میں مبتلاتھی لہذا انہوں نے مجھے دبا لیا اور مجھے جان سے مار ڈالنے کے درپے ہوگئے تھے اور ان میں اکثر میرے دشمن بن گئے تھے۔ اب اگر میں اس معاملہ میں مزید سختی اختیار کرتا تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ ان میں خانہ جنگی چھڑ جاتی، پھر ان کی اصلاح کی کوئی بھی صورت باقی نہ رہ جاتی۔ لہذا مجھے بھی تمہاری ہی انتظار تھی کہ اب ان لوگوں کا کیا علاج کیا جانا چاہئے۔
Ayah 20:9666 سیدنا موسیٰ اپنی قوم سے پھر اپنے بھائی ہارون سے مخاطب ہونے کے بعد اب سامری سے مخاطب ہوئے اور پوچھا : بتلاؤ سامری ! یہ کیا معاملہ ہے ؟ واضح رہے کہ قرآن نے یہاں خطب کا لفظ استعمال کیا ہے جو کسی ناگوار صورت حال کو دریافت کرنے کے لئے آتا ہے۔ نیز یہ سامری اگرچہ بظاہر سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آیا تھا۔ مگر وہ ایک منافق اور فتنہ پرداز اور ہوشیار انسان تھا جو کفر و شرک کو اپنے دل میں چھپائے ہوئے تھا۔ وہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی کھل کر مخالفت تو کر نہ سکتا تھا مگر اس تاک میں رہتا تھا کہ کوئی موقع ملے تو قوم کو پھر سے اپنے آبائی دین یعنی گؤسالہ پرستی کی طرف لے جائے۔ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی عدم موجودگی میں اسے ایسا موقع میسر آگیا تھا۔ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے سوال پر کہنے لگا : بات یہ ہے کہ میں نے ایک ایسی چیز دیکھ لی تھی جسے دوسرے نہیں دیکھ سکتے تھے اور وہ یہ تھی کہ فرعون کی موت کے وقت جب جبریل آئے تھے تو میں نے ان کی آمد کو محسوس کرلیا تھا اور ان کے پاؤں کے نیچے سے مٹھی بھر مٹی اٹھا لی تھی۔ جب میں نے بچھڑے کی شکل بنائی تو اس میں یہ مٹی بھر دی تھی۔ یہ اسی مٹی کی کرامت تھی کہ جب بچھڑا تیار کیا گیا تو اس میں سے بچھڑے کی سی آواز بھی آنے لگی اور یہ سب کچھ میں نے اس لئے کیا کہ میں اس مٹی کی کچھ کرامت دیکھنا چاہتا تھا۔
یہ تو تھا سامری کا وہ بیان جو اس نے موسیٰ (علیہ السلام) کے سوال کے جواب میں دیا۔ جبکہ حقیقت یہ تھی کہ اس کا یہ بیان بھی فریب کاری پر مشتمل تھا۔ وہ صرف یہی نہیں چاہتا تھا کہ پھر سے بت پرستی اور گؤسالہ پرستی کو فروع دے بلکہ حقیقتا وہ موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلہ میں خود لیڈر بننا چاہتا تھا۔ آدمی ہوشیار تھا۔ سیدنا ہارون (علیہ السلام) کو کمزور دیکھ کر اس نے اپنے ہشیاری سے اپنے لئے میدان ہموار کرلیا تھا۔ یعنی سامری کا اصل مقصد سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلہ میں اپنی لیڈری چمکانا تھا۔ اور اس کے لئے یہ ضروری تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی راہ اور اغراض و مقاصد سے اس کی راہ جدا گانہ ہو لہذا اس نے قوم کو اسی پرانی گؤسالہ پرستی کی راہ پر ڈال دیا جس سے وہ پہلے ہی مانوس تھے اور اس کے دلدادہ تھے۔ اس طرح وہ فی الواقعہ سیدنا موسیٰ کی عدم موجودگی میں قوم کا لیڈر بن گیا تھا۔ اور یہی بات سیدنا ہارون (علیہ السلام) کے بیان سے ظاہر ہوتی ہے۔ اگر سیدنا ہارون اس شرک کو روکنے میں سختی سے کام لیتے تو قوم دو دھڑوں میں بٹ جاتی اور ان میں خانہ جنگی بپا ہوجاتی پھر حالات قابو سے باہر ہوجاتے۔
بعض علماء نے یہاں رسول سے مراد خود موسیٰ (علیہ السلام) لئے ہیں۔ اس صورت میں یہ جواب سامری کی انتہائی مکاری پر دلالت کرتا ہے، کہ اس طرح اس نے سیدنا موسیٰ کی خوشامد کرکے انھیں بھی اپنے حق میں نرم کرلینے کی ایک کوشش کی تھی۔ قرآن کریم کے انداز سے یہ تو معلوم ہوتا ہے کہ سامری کا یہ بیان سب اس کے اپنے مکروفریب پر مشتمل تھا۔ رہی یہ بات کہ بچھڑے میں آواز کیسے پیدا ہوگئی تھی۔ تو یہ بات بھی چنداں مشکل نہ تھی۔ جب اس بچھڑے کے کھلے ہوئے منہ سے ہوا آڑ پار ہوتی تو اس سے بچھڑے کی سی آواز آنے لگتی تھی۔ جیسے باجا میں منہ سے پھونک مارنے سے مختلف قسم کی آوازیں نکلنے لگتی ہیں یا جیسے برقی گھنٹی کا سوچ دبانے سے اس سے مکتلف قسم کی گھنٹیوں سے مکتلف قسم کی اوازیں آتی ہیں۔ اور ان مختلف آوازوں کا تعلق باجے اور برقی گھنٹی کی اندرونی ساخت سے ہوتا ہے۔ اسی طرح سامری نے بچھڑے کے جسم کے اندر پترے اس ترتیب سے رکھ دیئے تھے کہ جب ہوا اس کے جسم سے آڑ پار گزرتی تو وہ آواز نکالنے لگتا تھا۔
Ayahs 20:97–9867 یعنی اس کو موسیٰ (علیہ السلام) نے اچھوت قرار دے دیا کہ کوئی شخص اس سے کسی قسم کا بھی تعلق نہ رکھے۔ پھر اس کے لئے مزید سزا یہ تھی کہ وہ خود دوسروں سے کہتا تھا کہ مجھ سے پرے رہنا، مجھ سے بچ کر رہنا، مجھے ہاتھ نہ لگانا، میں ناپاک ہوں لہذا مجھے نہ چھونا۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ اگر کوئی سامری کو ہاتھ لگاتا یا اسے چھوتا تو سامری کو اور چھونے والے کو دونوں کو تپ چڑھ جاتی تھی۔ لہذا سامری اس بات پر مجبور تھا کہ دوسروں سے کہے کہ مجھے ہاتھ نہ لگانا، ساتھ ہی موسیٰ (علیہ السلام) نے اسے یہ بھی بتلا دیا کہ یہ نہ سمجھنا کہ تمہارے اس جرم کی پوری سزا ہوچکی بلکہ آخرت میں جو تجھے عذاب ہونے والا ہے وہ بھی کبھی ٹل نہ سکے گا۔
ـ68 یہ تو رہا تیرا انجام اور اب ہم تیرے الٰہ کا جس کا تو دن رات مجاور بن بیٹھا رہتا تھا، یہ حشر کرنے والے ہیں کہ اس سونے اور مٹی کے بت کے ہم پہلے ٹکڑے ٹکڑے کریں گے پھر ان کو جلا کر راکھ بنادیں گے۔ اور پھر اس راکھ کو دریا میں پھینک دیں گے تاکہ تجھے اور پیروکاروں سب کو یہ معلوم ہوجائے کہ جو خدا اپنی بھی حفاظت نہیں کرسکتا وہ دوسرے کا کیا سنوار سکتا ہے یا بگاڑ سکتا ہے ؟
Ayah 20:9969 اس سورة کا آغاز بھی ذکر سے کیا گیا تھا۔ یعنی ہم نے یہ ذکر اس لئے نہیں نازل کیا کہ آپ مشقت میں پڑجائیں بلکہ یہ تو ڈرنے والوں کے لئے یاددہانی ہے۔ یہاں اسی اصل موضوع کی طرف عود کیا گیا ہے۔ جو کہ نوع انسان کی ہدایت ہے۔ درمیان میں جو سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ ذکر کیا گیا تو اس میں بھی یہی رنگ غالب نظر آتا ہے۔
Ayahs 20:100–10170 وزر بمعنی گناہ کا بوجھ یا پاپ کے گٹھری۔ اب جو شخص عمر بھر نہ قرآن کے نزدیک آئے، نہ اس کی کوئی ہدایت ماننے کو تیار ہو تو لامحالہ اس کی زندگی شتر بےمہار کی طرح ہوگی جو اللہ کی نافرمانیوں اور گناہوں پر مشتمل ہوگی۔ لہذا اسے اپنے اعمال کا ناقابل برداشت بوجھ اٹھانا پڑے گا۔ اس دنیا میں تو ایسے بوجھ کا تصور ہی کیا جاسکتا ہے۔ لیکن وہاں اس بوجھ کو مادی شکل دے دی جائے گی اور وہ اس بوجھ تلے پس رہا ہوگا۔
Ayahs 20:102–10371 صور کے معنی قرنامد، نرسنگھا اور بوق ہے اور یہ چیزیں دور نبوی ﷺ میں رائج تھیں۔ ضروری نہیں کہ صور کی بھی یہی شکل و صورت ہو بلکہ قرآن ایسے لفظ استعمال کرتا ہے۔ جس سے انسانی ذہن اس اصل چیز سے قریب تر کسی چیز سے متعارف ہو۔ بعد میں اس غرض کے لئے فوج میں بگل استعمال ہوتا ہے جس سے لشکر کو اکٹھا یا منشتشر کیا جاتا ہے۔ ہوائی حملہ کے خطرہ کے دوران سائرن بھی اسی سے ملتی جلتی چیز ہے۔ روزہ کو بند کرنے اور کھولنے کے وقت بھی سائرن کا استعمال ہوتا ہے۔ بس اسی سے ملتی جلتی یا اس سے بھی ترقی یافتہ شکل نفخہ صور کی ہوگی۔
ـ72 اس کا ایک معنی تو یہ ہے کہ جب دہشت کے مارے آنکھیں پتھرا جاتی ہیں تو ان پر نیلگوں سفیدی غالب آجاتی ہے۔ اور دوسرا معنی یہ ہے سارا بدن ہی نیلگون ہوجائے گا۔ یعنی دہشت کے مارے خون تو خشک ہوجائے گا اور جسم پر نیلاہٹ غالب آنے لگے گی۔
Ayah 20:10473 یہاں ٹھہرنے سے مراد دنیا کی زندگی بھی ہوسکتی ہے اور برزخ کی زندگی بھی۔ انسان کی عادت ہے کہ اسے خوش کے لمحات قلیل بھی نظر آتے ہیں اور قریب بھی۔ بیسیوں برس پہلے کے واقعات اسے یوں معلوم ہوتے ہیں جیسے کل کی بات ہے اور قیامت کے دہشت ناک احوال دیکھ کر یہ تصور اور بھی بڑھ جائے گا کوئی اس زندگی کو ہفتہ عشرہ قرار دے گا اور جو سب سے زیادہ سمجھدار ہوگا وہ پہلے کی تردید کرتے ہوئے اس زندگی کو صرف ایک دن کی زندگی بتلائے گا۔
Ayahs 20:105–10674 یعنی نفخہ صور اول سے اگر انسان اور دوسری جاندار چیزیں مر بھی جائیں گی تو پہاڑوں جیسی سخت چیز پر اس نفخہ کا کیا اثر ہوگا ؟ یہ سوال دراصل ایسے جاہلوں کی طرف سے ہی ہوسکتا ہے۔ جنہوں نے اللہ کی اس پیدا کردہ کائنات اور اس کے نظام میں کبھی غور ہی نہیں کیا، آج کے انسان کے لئے یہ ایک بالکل مہمل سوال ہے۔ اگر سیاروں کی گردش اور ان کی کشش ثقل میں معمولی سی بھی گڑ بڑ ہوجائے تو پہاڑوں کا کیا ذکر ہے۔ سارے ستارے ایک دوسرے سے ٹکڑا کر پاش پاش ہوسکتے ہیں۔ قیامت کو یہی کیفیت ہوگی اور اس وقت پہاڑوں کی دھول اڑ رہی ہوگی۔
Ayah 20:10775 یعنی پہاڑوں کو پیوند خاک بنادیا جائے، سمندروں کو پاٹ دیا جائے گا۔ زمین کے سب نشیب فراس ختم کردیئے جائٖں گے اور وہ ایک بالکل ہموار اور وسیع میدان کی طرح بن جائے گا۔ اسی بات کو اللہ تعالیٰ نے دوسرے مقام پر فرمایا : ( يَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَيْرَ الْاَرْضِ وَالسَّمٰوٰتُ وَبَرَزُوْا لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ 48 ۔ ) 14 ۔ ابراھیم :48) یعنی اس دن یہ زمین ایسی نہ رہے گی جیسی تم آج دیکھ رہے ہو، بلکہ اس میں تبدیل پیدا کردی جائے گی
Ayah 20:10876 یہ داعی اللہ کا مقرر کردہ فرشتہ اسرافیل ہوگا۔ اس دنیا میں تو ان لوگوں نے اللہ کے داعی کی بات کو سننا بھی گوارا نہ کیا بلکہ اس کی مخالفت ہی کرتے رہے مگر اس دن اللہ کے داعی کی آواز پر سراپا عمل بن جائیں گے اور جو کچھ وہ کہے گا ٹھیک اسی طرح کرتے جائیں گے۔ وہ کہے گا کہ چلو میدان حشر کی طرف تو سب ادھر دوڑ پڑیں گے۔ اور اس داعی کی آواز اور حکم کو پوری طرح سمجھ بھی رہے ہوں گے۔
ـ77 اس دن سب لوگ اللہ تعالیٰ کی یا اس فرشتہ کی آواز اور حکم کو ہمہ تن گوش بن کر سن رہے ہوں گے، کسی کو اونچی آواز سے کسی دوسرے سے کوئی بات پوچھنے کی بھی ہمت نہ رہے گی۔ اس دن یا تو ان کے قدموں کی چاپ کی آواز سنائی دے سکے گی یا اس کھسر پسر اور کانا پوسی کی آواز جو وہ اس دن کی ہولناکیوں سے بچنے کے لئے آپس میں کریں گے۔
Ayah 20:10978 یعنی اس دن سفارش ہوگی ضرور مگر اس کے لئے تین شرائط ہوں گی۔ ایک تو وہی شخص سفارش کرسکے گا جس کو اللہ کی طرف سے سفارش کرنے کی اجازت مل جائے۔ دوسرے اسی شخص کے حق میں کرسکے گا جس کے حق میں سفارش اللہ کو منظور ہوگی۔ تیسرے وہ صرف ایسی بات کے لئے ہی سفارش کرسکے گا جسے اللہ سننا پسند فرمائے گا۔
Ayahs 20:110–11179 اس آیت میں سفارش پر عائد کردہ پابندیوں کی وجہ بیان فرما دی گئی ہے کہ لوگوں کے اعمال اور ان کے حالات جن میں وہ اعمال سرزد ہوئے اور ان کی نیتوں کا علم تو صرف اللہ کو ہے۔ دوسرے کسی کو نہیں ہوسکتا۔ اس کی مثال یوں سمجھئے جیسے ایک شخص کسی افسر کو جاکر کہے کہ آپ کا فلاں ماتحت آدمی میرا دوست ہے لہذا اس کا فلاں قصور معاف کردیجئے تو وہ جواب میں کہے گا کہ آپ واقعی میرے دوست ہیں لیکن یہ شخص پہلے جتنے قصور کرچکا اس کا آپ کو علم ہے ؟ اس کا ریکارڈ پہلے ہی بہت گندا ہے۔ لہذا اسے معاف کرنا بھی ظلم کے مترادف ہے۔ بالکل یہی اصول وہاں بھی کارفرما ہوگا یہ ممکن نہ ہوگا کہ کوئی بزرگ اللہ کے حضور یوں سفارش کرنے لگیں کہ حضور اسے معاف فرما دیں کیونکہ یہ میرا خاص آدمی ہے۔ اس طرح سفارش کے اس عقیدہ کی جڑ کٹ جاتی ہے جو عام لوگوں نے اپنی معبودوں یا پیروں سے وابستہ کر رکھا ہے کہ وہ چونکہ اللہ مقرب ہیں لہذا سفارش کرکے ہمیں بچا لیں گے۔
Ayah 20:11280 یعنی اعمال کی جزا کے لئے دو شرائط کا ہونا ضروری ہے۔ ایک ایمان بالغیب کے تمام اجزاء پر ایمان لانا، دوسرے ایسے اعمال صالحہ جو شریعت کی پابندیوں کو ملحوظ رکھ کر بجا لائے گئے ہوں۔ مثلا ً ان میں ریاکاری نہ ہو، سنت کے مطابق ہوں اور بعد میں احسان جتلا کر یا شرک کرکے ان اعمال کو برباد نہ کردیا گیا ہو۔ ایسے اعمال کا بدلہ ضرور ملے گا اور پورا پورا ملے گا، ان میں ہرگز کسی طرح کمی نہیں کی جائے گی۔
Ayah 20:11381 یعنی قرآن میں جو قیامت کے احوال اور برے اعمال کی سزائیں بتلائی گئی ہیں۔ تو ان سے مقصد یہ ہے کہ لوگ اپنے برے اعمال کے نتائج سے ڈر جائیں اور ان میں تقویٰ پیدا ہو اور اگر ایسا نہ ہوسکے تو کم از کم ان کے دلوں میں کچھ سوچ ہی پیدا ہوجائے۔ ممکن ہے یہ سوچ ان کی ہدایت کا سبب بن جائے اور ان کے ذریعہ پھر دوسروں کو ہدایت ہو۔
Ayah 20:11482 ابتداًء جب آپ ﷺ پر سیدنا جبرائیل وحی لے کر نازل ہوتے تو آپ ساتھ ہی ساتھ وحی کے الفاظ کو اس خیال سے دہرانے لگتے تھے کہ بعد میں بھول نہ جائیں۔ اس طرح وحی کے اگلے مضمون سے توجہ یا ہٹ جاتی تھی یا کٹ جاتی تھی۔ اسی بات کا ذکر سورة قیامۃ بھی آچکا تھا۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ آپ ساتھ ساتھ اس کو یاد رکھنے اور زبان چلانے کی کوشش نہ کیا کیجئے۔ تمہارے سینہ میں اسے محفوظ رکھنا اور پھر زبان سے انھیں الفاظ کی ادائیگی کروا دینا ہمارا ذمہ ہے۔ جب وحی نازل ہو رہی ہو آپ بس پوری توجہ سے اسے سنا کیجئے۔ مگر معلوم ہوتا ہے کہ ایسی عادت ابھی تک آپ میں پوری طرح راسخ نہ ہوئی تھی۔ لہذا اسی بات کا دوسرے انداز میں اعادہ کیا گیا اور یہ ہدایت بھی کی گئی کہ ساتھ ہی ساتھ آپ یہ دعا بھی کرتے رہئے کہ اللہ تعالیٰ مجھے قرآن کریم میں اور زیادہ سمجھ اور بیش از بیش علوم و معارف عطا فرما۔
Ayah 20:11583 یہاں سیدنا آدم (علیہ السلام) کے بھولنے کا ذکر، ذکر کی مناسبت سے فرمایا۔ یعنی چونکہ بھول جانا انسان کی فطرت میں داخل ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بار بار ذکر یا یاددہانی نازل کی جاتی رہی ہے۔ اور اس فطرت انسان کا آغاز ان کے باوا آدم سے ہی ہوگیا تھا۔ ان کا عزم اتنا مضبوط نہ تھا کہ وہ ہر وقت اللہ سے کئے ہوئے عہد کو یاد رکھتے۔ چناچہ ایک طویل مدت کے بعد جب کہ سیدنا آدم (علیہ السلام) اس عہد کو بھول ہی چکے تھے۔ شیطان کا داؤ چل گیا اور آپ شیطان کے فریب میں آگئے۔ اس مطلب سے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بھول چوک انسان کی فطرت میں داخل ہے اور اس کا دوسرا مطلب یہ یہی بیان کیا جاتا ہے کہ انہوں نے بھول چوک کر اللہ کی نافرمانی کی تھی۔ ان کا ارادہ نافرمانی کا ہرگز نہیں تھا۔ اور اس مطلب کا نتیجہ آدم (علیہ السلام) کی سرکشی سے بریت ہے۔ ربط مضمون کے لحاظ سے پہلا مطلب ہی درست معلوم ہوتا ہے۔
Ayahs 20:116–11884 آدم و ابلیس کا قصہ سورة ئبقرہ، اعراف اور دیگر کئی مقامات پر پہلے ہی گزر چکا ہے۔ اور آئندہ بھی آئے گا، مگر ہر مقام پر اتنا ہی ذکر کیا گیا جتنا موقع کے لحاظ سے مناسب تھا۔ گویا اس قصہ کے مختلف اجزاء سے مختلف نتائج پیش کئے گئے ہیں۔
Ayah 20:11985 جنت میں انسان کی ضروریات کا سامان بھی موجود تھا اور ان کے علاوہ عیش و عشرت کے لئے وافر نعمتیں بھی موجود تھیں اور سیدنا آدم (علیہ السلام) کو بتلایا یہ گیا تھا کہ اگر تم شیطان کے فریب میں آگئے تو نہ صرف یہ کہ تم سے جنت کی نعمتیں چھین لی جائیں گی بلکہ تمہیں اپنی ضروریات زندگی مہیا کرنے کے لئے جدوجہد بھی کرنا پڑے گی اور ان کے لئے مشقت بھی اٹھانا ہوگی۔ مثلا ً دھوپ اور بارش سے بچاؤ کے لئے مکان بنانا ہوگا اور کھانے پینے کے لئے کوئی ذریعہ معاش اختیار کرنا ہوگا اور پہننے کے لئے لباس کی ضرورت بھی پیش آئے گی اور تمہاری زندگی کا بیشتر حصہ انھیں باتوں کے حصول میں صرف ہوجائے گا۔ جنت کی دوسری نعمتیں تو کم ہی کسی کو میسر آئیں گی۔ لہذا اللہ کے حکم کو دھیان کے ساتھ یاد رکھنا اور شیطان کے فریب میں نہ آجانا۔
Ayah 20:12086 شیطان آدم کا بڑا ہوشیار اور مکار دشمن تھا اس نے وسوسہ ہی ایسا دلفریب ڈالا جس نے آدم کے دل کو موہ لیا۔ علاوہ ازیں مدت مدید گزرنے کی وجہ سے سیدنا آدم (علیہ السلام) اپنے پروردگار سے کیا ہوا وعدہ بھول ہی چکے تھے۔ شیطان نے پٹی یہ پڑھائی کہ اگر تم اس درخت کا پھل چکھ لو گے۔ تو اس جنت میں ہمیشہ کے لئے مقیم ہوجاؤ گے اور تمہیں ابدی زندگی حاصل ہوجائے گی اور جنت کی نعمتوں پر تمہارا تصرف و اختیار قائم و دائم رہے گا۔
یہاں یہ بات قابل ذکر کہ اس مقام پر شیطانی وسوسہ کی نسبت صرف سیدنا آدم (علیہ السلام) کی طرف کی گئی ہے اور ایک دوسرے مقام پر دونوں کی طرف کی ہے۔ اس لئے کہ اس معاملہ میں حوا کی حیثیت صرف بالتبع تھی۔ لیکن بائبل کی روایت یوں ہے کہ شیطان نے پہلے سیدہ حوا کو بہکایا۔ پھر حوا نے سیدنا آدم (علیہ السلام) کو پھل کھانے پر آمادہ کرلیا۔ بائبل کی اس سروایت کو بعض مفسرین نے بھی نقل کردیا۔ جب کہ یہ روایت قرآن کی اس آیت کے مطابق غلط قرار پاتی ہے۔