69. Surah Al-Haaqqa

الحاقةThe Reality · 52 ayahsسراج البیان

Ayahs 69:28–41

مَاۤ اَغْنٰى عَنِّیْ مَالِیَهْۚ Open ayah 69:28 in the Quran reader

میرامال (ف 1) میرے کچھ کام نہ آیا

هَلَكَ عَنِّیْ سُلْطٰنِیَهْۚ Open ayah 69:29 in the Quran reader

میری سلطنت مجھ سے جاتی رہی

خُذُوْهُ فَغُلُّوْهُۙ Open ayah 69:30 in the Quran reader

اسے پکڑو پھر طوق پہناؤ

ثُمَّ الْجَحِیْمَ صَلُّوْهُۙ Open ayah 69:31 in the Quran reader

پھر دوزخ میں داخل کردو

ثُمَّ فِیْ سِلْسِلَةٍ ذَرْعُهَا سَبْعُوْنَ ذِرَاعًا فَاسْلُكُوْهُؕ Open ayah 69:32 in the Quran reader

پھر اس زنجیر میں جو ستر گزلمبی ہے اسے جکڑو

اِنَّهٗ كَانَ لَا یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ الْعَظِیْمِۙ Open ayah 69:33 in the Quran reader

بیشک وہ اللہ عظیم پر ایمان نہ لاتا تھا

وَ لَا یَحُضُّ عَلٰى طَعَامِ الْمِسْكِیْنِؕ Open ayah 69:34 in the Quran reader

اور فقیر کو کھانا دینے پر ترغیب نہ دیتا تھا

فَلَیْسَ لَهُ الْیَوْمَ هٰهُنَا حَمِیْمٌۙ Open ayah 69:35 in the Quran reader

سو آج اس کا نہ کوئی یہاں دوست دار ہے

وَّ لَا طَعَامٌ اِلَّا مِنْ غِسْلِیْنٍۙ Open ayah 69:36 in the Quran reader

اور نہ سوائے زخموں کے دھو ون کے کچھ کھانا ہے

لَّا یَاْكُلُهٗۤ اِلَّا الْخَاطِئُوْنَ۠ Open ayah 69:37 in the Quran reader

جسے سوائے گنہگاروں کے کوئی نہ کھائے گا

فَلَاۤ اُقْسِمُ بِمَا تُبْصِرُوْنَۙ Open ayah 69:38 in the Quran reader

سو جو تم دیکھتے ہو ۔ میں اس کی قسم کھاتا ہوں

وَ مَا لَا تُبْصِرُوْنَۙ Open ayah 69:39 in the Quran reader

اور جو تم نہیں دیکھتے (اس کی بھی)

اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِیْمٍۚۙ Open ayah 69:40 in the Quran reader

کہ بیشک یہ قرآن ایک پیغام لانے والے سردار کا قول ہے

وَّ مَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 69:41 in the Quran reader

اور یہ کسی شاعر کا قول نہیں ۔ تم تھوڑا ایمان لاتے ہو

ف 1: ہم دنیا میں اپنے مال و دولت پر مفرور تھے ۔ اور سمجھتے تھے ۔ کہ یہ ثروت ۔ یہ کنوز اور خزائن ۔ ہمیں عاقبت میں بھی عزت وافتخار تخشیں گے ۔ اور جس طرح دنیا میں ہم تمول کی وجہ سے ہر نوع کی آسودگی حاصل کرلیتے ہیں ۔ شاید آخرت میں بھی اس کی بدولت جنت اور اس کی آسائشوں کو خریدا جاسکے گا ۔ مگر آہ کہ یہ خیال درست ثابت نہیں ہوا ۔ ان لوگوں کے متعلق یہ فیصلہ ہوگا ۔ کہ ان کو پکڑلو ۔ اور طوق وسلاسل پہنادو ۔ اور پھر ایک طویل زنجیر میں جکڑ کر جہنم میں پھینک دو ۔ کیونکہ ان لوگوں کا اللہ پر ایمان نہ تھا ۔ ان کے دلوں میں بنی نوع انسان کے ساتھ ہمدردی نہ تھی ۔ ان کے دل غریبوں کو دیکھ کر پسیجتے نہ تھے ۔ یہ اپنے دسترخوان سے مسکینوں کو کھانا نہیں دیتے تھے ۔ اور ان کو دیکھ کر ان کے لئے جذبات شفقت وہمدردی پیدا نہیں ہوتے تھے ۔ اس لئے آج دن کا یہاں کوئی دوست نہیں ۔ جو ان کو اس ذلت و خواری سے بچا لے ۔ اور کھانا بھی جو ان کو یہاں ملے گا ۔ وہ غسلین کا سخت گنہگار ہی کھاسکتے ہیں ۔ جہنم اصل میں نام ہے ۔ ذلت وتحقیر کا ۔ اور اذیت و تکلیف کا ۔ اور پوری پوری اعمال کے مطابق سزا کا ۔ چونکہ کفار آزاد تھے ۔ اس لئے یہاں طوق و زنجیر سے اس کی تواضح کی گئی ۔ پیٹ اس کے قلب و دماغ پر بھاری تھا اس لئے کھانا وہ تجویز ہوا ۔ جو اس کو بتادے کہ اللہ کے نزدیک صرف کھانا پیان کوئی زندگی کی اہم غرض نہیں ہے ۔ اور جو اپے سامنے زندگی کا نصب العین صرف یہ رکھتا ۔ کہ صبح ومسا پر کتلف اور بوقلمون کھانوں سے اپنے کام وہن کی تسکین کا سامان بہم پہنچائے ۔ وہ یہاں کتنا ذلیل اور حقیر کھانا کھاتا ہے ۔ پھر اس کا معیار دنیاوی یہ تھا ۔ کہ ٹھاٹ کے ساتھ رہے ۔ عالیشان مکان ہو ۔ اور ہر قسم کے سامان آسائش میسر ہوں ۔ یہاں اس کی سزا یہ ہے ۔ کہ جہنم ٹھکانا ہو ۔ آگ اور تپش اس کا اوڑھنا بچھونا ہو ۔ شعلے اور انگارے اس کا استقبال کریں ۔ حل لغات :۔ سلطنیہ ۔ میری دلیل ، میرا رتبہ اور میرا زعم ثروت سبحعون خطاھا ۔ درازی اور طول کی وسعت کی طرف اشارہ ہے غسلین ۔ زخم یا اور کسی چیز کا دھو ون ۔ بقول مولانا شاہ رفیع اور بریلوی ۔
Ayahs 69:42–47

وَ لَا بِقَوْلِ كَاهِنٍ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَؕ Open ayah 69:42 in the Quran reader

اور نہ یہ کسی پریوں حاطرات والے کا قول ہے تم کم دھیان (ف 1) کرتے ہو

تَنْزِیْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 69:43 in the Quran reader

یہ جہان کے رب کا اتارا ہوا ہے

وَ لَوْ تَقَوَّلَ عَلَیْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِیْلِۙ Open ayah 69:44 in the Quran reader

اور اگر یہ ہم پر کوئی بات بھی از خود اپنی طرف سے بنالاتا

لَاَخَذْنَا مِنْهُ بِالْیَمِیْنِۙ Open ayah 69:45 in the Quran reader

تو ہم اس کا داہنا ہاتھ پکڑ لیتے

ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِیْنَ٘ۖ Open ayah 69:46 in the Quran reader

پھر اس کی گردن کاٹ لیتے

فَمَا مِنْكُمْ مِّنْ اَحَدٍ عَنْهُ حٰجِزِیْنَ Open ayah 69:47 in the Quran reader

پھر تم میں کوئی نہ تھا کہ اس سے اس عذاب کو روکتا

ف 1: اسلام سے قبل عربوں میں شاعری اور کہانت کا بڑا زور تھا ۔ اس لئے انہوں نے جب قرآن کو دیکھا ۔ کہ اس میں بھی موسیقی اور اتر ہے ۔ سحیع اور ترنم ہے ۔ تو وہ یہ سمجھے کہ یہ بھی شاید شعر وکہانت کی طرح کوئی چیز ہے ۔ ارشاد فرمایا ۔ کہ یہ غلط ہے ۔ یہ کلام انسانی دماغ کی کدوکاوش کا نتیجہ ہرگز نہیں ہے نہ اس میں کہانت اور شاعری کی آمیزش ہے ۔ یہ اللہ کا کلام ہے ۔ اور جو فرشتے کی رسالت سے محمد رسول اللہ ﷺ تک پہنچا ہے ۔ اور یہ اس لئے کہ یہ ہمہ صداقت اور سچائی ہے ۔ حالانکہ شعروکہانت میں چوں الکذب اواھن او کا اصول کافر فرما ہوتا ہے ۔ اور ان کے متعلق یہ احتمال کہی نہیں ۔ کہ یہ اللہ پر تمہاری خواہشات کے مطابق افترا کا ارتکاب کرسکیں گے ۔ کیونکہ اگر یہ ایسا کریں ۔ تو ہم ان کو زندگی کے حق سے ہی محروم کردیں واضح رہے کہ قطع تین کا اصول بنیاد کے لئے ہے ۔ اور غرض یہ ہے ۔ کہ منکرین ان کی جانب سے بالکل مایوس ہوجائیں ۔ اور دل کے کسی گوشے میں اس خیال کو جگہ نہ دیں ۔ کہ کسی وقت بھی ان کی مرضی کے مطابق دین میں تغیروتبدل پر قادر ہوسکیں گے ۔ ہر مدعی نبوت کے متعلق نہیں ہے ۔
Ayahs 69:48–52

وَ اِنَّهٗ لَتَذْكِرَةٌ لِّلْمُتَّقِیْنَ Open ayah 69:48 in the Quran reader

اور بیشک یہ قرآن تو متقیوں (ف 2) کے لئے نصیحت ہے

وَ اِنَّا لَنَعْلَمُ اَنَّ مِنْكُمْ مُّكَذِّبِیْنَ Open ayah 69:49 in the Quran reader

اور ہمیں معلوم ہے کہ بیشک تم میں اس کے جھٹلانے والے ہیں

وَ اِنَّهٗ لَحَسْرَةٌ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 69:50 in the Quran reader

اور یہ قرآن کافروں پر پچھتاوا ہے

وَ اِنَّهٗ لَحَقُّ الْیَقِیْنِ Open ayah 69:51 in the Quran reader

اور کچھ شک نہیں کہ وہ ضرور قابل یقین ہے

فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِیْمِ۠ Open ayah 69:52 in the Quran reader

سو تو اپنے رب کے نام کی جو بڑی عظمت والا ہے پاکی بیان کر

ف 2: ان آیات میں قرآن کی صداقت اور حقانیت کے متعلق فرمایا ہے ۔ کہ بلاشبہ اس میں ان لوگوں کی تشقی ایمان کا پورا پورا سامان موجود ہے ۔ جو پاکباز ہیں جس کے قلب و دماغ میں تعصی وجہل کی تاریکی نہیں ہے ۔ جو دیانتداری کے ساتھ اس کو سمجھنا چاہتے ہیں ۔ اور خلوص کے ساتھ حق کے خواستگار ہیں ۔ حل لغات :۔ قلیلا ماتومنون ۔ قلیل عربی میں ایسے مواقع پر بالعموم یا قیام کے معنے میں آتا ہے تقول ۔ افترا اور جھوٹ سیکام لے الوتین ۔ رگ ال والحق ثین ۔ یعنی قرآن ثبوت اور حقانفت میں اس مقام پر فائز ہے ۔ جہاں اولیٰ ترین شک بھی راہ نہیں پاسکتا ۔