68. Surah Al-Qalam

القلمThe Pen · 52 ayahsسراج البیان

Ayahs 68:32–41

عَسٰى رَبُّنَاۤ اَنْ یُّبْدِلَنَا خَیْرًا مِّنْهَاۤ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا رٰغِبُوْنَ Open ayah 68:32 in the Quran reader

شاید ہمارا رب اس باغ سے بہتر باغ ہمیں (ف 1) بدل دے ۔ ہم اپنے رب سے آرزو رکھتے ہیں

كَذٰلِكَ الْعَذَابُ١ؕ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَكْبَرُ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 68:33 in the Quran reader

یوں عذاب آتا ہے ۔ اور آخرت کا عذاب تو بہت بڑا ہے ۔ اگر وہ جانیں

اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 68:34 in the Quran reader

بیشک متقیوں کے لئے ان کے رب کے پاس نعمت کے باغ ہیں

اَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِیْنَ كَالْمُجْرِمِیْنَؕ Open ayah 68:35 in the Quran reader

کیا ہم فرمانبرداروں کو گنہگاروں کے برابر کردیں گے ؟

مَا لَكُمْ١ٙ كَیْفَ تَحْكُمُوْنَۚ Open ayah 68:36 in the Quran reader

تمہیں کیا ہوگیا کیا فیصلہ کرتے ہو

اَمْ لَكُمْ كِتٰبٌ فِیْهِ تَدْرُسُوْنَۙ Open ayah 68:37 in the Quran reader

کیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے جس میں تم پڑھتے ہو ؟

اِنَّ لَكُمْ فِیْهِ لَمَا تَخَیَّرُوْنَۚ Open ayah 68:38 in the Quran reader

کہ وہاں تمہارے لئے وہی ہے جو تم پسند کرتے ہو

اَمْ لَكُمْ اَیْمَانٌ عَلَیْنَا بَالِغَةٌ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ١ۙ اِنَّ لَكُمْ لَمَا تَحْكُمُوْنَۚ Open ayah 68:39 in the Quran reader

کیا تم نے ہم سے پوری قسمیں لی ہیں جو قیامت تک چلی جائیں گی کہ تمہارے لئے وہی ہوگا جو تم ٹھہراؤ گے

سَلْهُمْ اَیُّهُمْ بِذٰلِكَ زَعِیْمٌۚۛ Open ayah 68:40 in the Quran reader

ان سے پوچھ کہ کون ان میں اس کا ذمہ دار ہے ؟

اَمْ لَهُمْ شُرَكَآءُ١ۛۚ فَلْیَاْتُوْا بِشُرَكَآئِهِمْ اِنْ كَانُوْا صٰدِقِیْنَ Open ayah 68:41 in the Quran reader

کیا ان کے شریک ہیں سو اگر سچے ہیں ۔ تو اپنے شریکوں کو لائیں

کیا مسلمان اور جرائم پیشہ لوگ برابر ہیں 1: جس طرح حق و باطل میں امیتاز ہے ۔ فسق وفجور تقوی اور پرہیزگاری برابر نہیں ۔ اور جس طرح سرکشی اور تمرد میں بین تفاوت ہے ۔ اسی طرح نتائج اعمال میں درجات کا فرق برحق ہے ۔ کچھ لوگ ایسے ہیں ۔ جو اپنی سیاہ کاریوں کے باعث اللہ کے غضب وسخط کے مستحق ہیں ۔ اور کچھ وہ ہیں ۔ جو صحت البقدہ اور حسن عمل کی بدولت مقام قرب وحضوری پر فائز ہیں ۔ اس کے لئے روح اور جسم کی پوری آسودگی کا انتظام ہے ۔ یہ لوگ جنات نعیم میں کام ورہن کی لذتوں سے بہرہ اندوز ہوں گے ۔ ان کے لئے روح کی بالیدگی کا سامان مہیا ہوگا ۔ ان کے لئے دیدہ ونظر کے لئے رب السموت کی جلوہ فرمائیاں باعث تسکین ہوں گی ۔ اور یہ اس طرح وہاں رہیں گے ۔ جس طرح ایک عزیز اور محترم مہمان رہتا ہے محض اس پاداش میں کہ انہوں نے دنیا میں اپنے سکھ اور آرام کی پرواہ نہ کی ۔ اور دولت حسین پر مقدم نہ سمجھا ۔ اور انہوں نے ہمیشہ زندگی کا نصب العین خدا کی خوشنودی کو قرار دیا ۔ کیا یہ مخلصین اور وہ لوگ جنہوں نے اعلاء کلمتہ اللہ کی راہ میں مشکلات حائل کیں ۔ برابر ہیں ۔ کیا یہ لوگ جنہوں نے اپنی جرائم پیشگی سے مسلمانوں کو مسرغے پہنچائے ۔ جنہوں نے قلب وروح کی بربادیوں کو دعوت دی ۔ جن کی سیاہ کاریوں کی وجہ سے زمین کانپ اٹھی ۔ ان لوگوں کی ہمسری کے دعویدار ہیں ۔ جنہوں نے پاکیزگی اور تقویٰ کو چاردانگ عالم میں پھیلا دیا ۔ فرمایا تمہیں کیا ہوگیا ہے ۔ کہ تم اس نوع کے نامنصفانہ فیصلہ کو مان رہے ہو ۔ کیا کسی الہامی کتاب میں یوں لکھا ہے یا ہم نے قسم کھارکھی ہے ۔ کہ باوجود فش وفجور اور انکار والحاد کے ہوگا وہی ۔ جو یہ چاہیں کے یا ان کے شرکاء نے انہیں یہ پٹی پڑھائی ہے ؟ وہ کہاں ہیں ۔ کیوں میدان میں نکل کر اپنے دعویٰ کو ثابت نہیں کرتے غرض یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو مراتب اپنے بندوں کے لئے مخصوص کر رکھے ہیں ۔ وہ ان لوگوں کو قطعاً نہیں مل سکتے ۔ جو اس کے نافرمان ۔
Ayahs 68:42–44

یَوْمَ یُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ وَّ یُدْعَوْنَ اِلَى السُّجُوْدِ فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَۙ Open ayah 68:42 in the Quran reader

جس دن پنڈلی کھولی جائے گی اور سجدہ کی (ف 1) طرف بلائے جائیں گے ۔ تو سجدہ نہ کرسکیں گے

خَاشِعَةً اَبْصَارُهُمْ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ١ؕ وَ قَدْ كَانُوْا یُدْعَوْنَ اِلَى السُّجُوْدِ وَ هُمْ سٰلِمُوْنَ Open ayah 68:43 in the Quran reader

اور ان کی آنکھیں نیچے جھکی ہوں گی اور ان پر ذلت چھارہی ہوگی ۔ اور پہلے جب وہ سجدہ کرنے کے لئے بلائے جاتے تھے بھلے چنگے تھے

فَذَرْنِیْ وَ مَنْ یُّكَذِّبُ بِهٰذَا الْحَدِیْثِ١ؕ سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَیْثُ لَا یَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 68:44 in the Quran reader

سو اب مجھے اور اس حدیث (یعنی قرآن کے) جھٹلانے والوں چھوڑ کر ہم نہیں اس راہ سے درجہ بدرجہ نیچے اتارینگے ۔ جہاں سے انہیں خبر نہ ہوگی

ف 1: فرمایا ۔ ان عبادت ناآشنا لوگوں کو جب اس وقت دعوت سجود دی جائے گی ۔ جب کہ قیامت کے اہوال شدتوں پر ہوں گے ۔ تو اس وقت ان کی جبشیں قطعاً نہیں جھک سکیں گی ۔ ان کی نظریں مارے شرم وندامت کے زمین بوس ہوں گی ۔ اور ان پر ذلت ومقارت چھارہی ہوگی ۔ اس وقت ان کو معلوم ہوگا ۔ کہ دنیا میں باوجود تندرستی اور صحت و توانائی کے ذوق عبادت سے محرومی کتنا بڑا جرم تھا ۔ فرمایا ۔ یہ لوگ آج ان حقائق کو جھٹلاتے ہیں ۔ مگر بتدریج غیر محسوس طریق پر یہ لوگ جہنم کی طرف لپکے ہوئے جارہے ہیں ۔ حل لغات :۔ تدرسون ۔ پڑھتے ہو زعیم ۔ ذمہ دار ، ضامن یکشف عن ساق ۔ حضرت ابن عباس سے پوچھا گیا ۔ کہ کشف عن الساق کے کیا معنے ہیں ۔ آپ نے فرمایا ۔ جو بات سمجھ میں نہ آئے ۔ اس کو اشعار عرب کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کیا کرو ۔ کیونکہ وہ عربی کے ذخائر معلومات کا بہت بڑا اور مستنددفتر سے اس کے بعد فرمایا ۔ اس کے معنے کرب اور شدت کے ہیں ۔ اور سند میں یہ شعر پڑھا ؎ ستن استہ قومک ضرب الاخناق وقاھت الحرب بنا علے ساق ان معنوں میں اور بھی اشعار عربی ادب میں آئے ہیں ۔ ابوعبیدہ قیس بن زبیر کو مخاطب کرکے کہتے ہیں ؎ فلن شموت یلقہ عن ساقیا فذاقھار بیع ولا قساہد جریر کہتا ہے : الارب سامداعطرف من ال معازن اطاشھر تاقھا الحرب شمرا ابن قبیہ کہتے ہیں ۔ کہ یہ معنے یوں پیدا ہونے کو آدمی عموماً جب کسی مر کے درپے ہوتا ہے ۔ تو فرط اضطراب سے پنڈلیوں پر سے کپڑا اٹھا لیتا ہے ۔ اس لئے مقام شدت وکرب میں اس کا استعمال ہونے لگا ۔ اور لوگ کہنے لگے کہ کشف عن ساتہ ۔
Ayah 68:45

وَ اُمْلِیْ لَهُمْ١ؕ اِنَّ كَیْدِیْ مَتِیْنٌ Open ayah 68:45 in the Quran reader

اور میں انہیں مہلت دیتا ہوں ۔ بیشک میری تدبیر (ف 1) مضبوط ہے

اللہ کی گرفت اور اس کی تدبیر 1: غرض یہ ہے کہ اللہ کی گرفت فوراً اور براہ راست نہیں ہوتی ۔ بلکہ یہ ہوتا ہے ۔ کہ وہ ازراہ حلم نافرمانیوں اور سرکشیوں کو برداشت کرتا ہے ۔ اور اصلاح حالات کے لئے پوری مہلت دیتا ہے ۔ پھر جب معاملہ حد ضبط اور علم سے بڑھ جاتا ہے ۔ اور اصلاح کی توقع باقی نہیں رہتی ۔ تو اس کا ہمہ گیر قانون مکافات حرکت میں آتا ہے ۔ اور مجرموں کا سر کچل کر رکھ دیتا ہے ۔ کید کے معنے دراصل سو تدبیر کے نہیں ہیں ۔ بلکہ ایسی بات اور ایسے طریق عمل کے ہیں ۔ جو چکردار اور پرپیچ ہو ۔ اس میں کیا ملبہ ہے کہ خدا جب سزا دیتا ہے ۔ تو ایسے انداز میں کہ ابتداء میں سزا کا احساس ہی نہیں ہوتا ۔ انسان لذت اور خواہشات کے دام میں کچھ اس طرح الجھ جاتا ہے ۔ کہ پھر مخلصی ناممکن ہوجاتی ہے ۔ اور یہی لذت اندوز ہی اس کے لئے بالآخر موجب عذاب ہوجاتی ہے ۔ اس لئے بغیر کسی تاویل کے ہم کہہ سکتے ہیں کہ خدا کی تدبیریں آسانی سے سمجھ میں نہیں آتیں ۔ اور یہی مقصد ہے اس بات کا ۔ کہ ان کیدی
Ayahs 68:46–47

اَمْ تَسْئَلُهُمْ اَجْرًا فَهُمْ مِّنْ مَّغْرَمٍ مُّثْقَلُوْنَۚ Open ayah 68:46 in the Quran reader

کیا تو ان سے کچھ مزدوری (ف 2) مانگتا ہے کہ وہ چٹی سے بوجھل ہورہے ہیں

اَمْ عِنْدَهُمُ الْغَیْبُ فَهُمْ یَكْتُبُوْنَ Open ayah 68:47 in the Quran reader

کیا ان کے پاس علم غیب سے کہ وہ لکھتے ہیں

ف 2: امرتسئلھم کا تعلق آیات ماسبق سے ہے ۔ مقصود یہ دریافت کرتا ہے کہ یہ لوگ ایمان کی نعمت سے آخر محروم کیوں ہیں ۔ آخر جب یہ بات طے ہے ۔ کہ اسلام انسانیت کے لئے آخری پیغام ہے ۔ اس میں تمام روحانی اور مادی مشکلات کا حل ہے ۔ اس میں نجات وسعادت ہے ۔ فلاں دارین ہے ۔ بالیدگی اور ارتقاء ہے ۔ اور جب یہ مسلم ہے ۔ کہ اس نے محض اپنی تعلیمات کی صداقت کی وجہ سے اتنی بڑی کامیابی حاصل کی ہے ۔ کہ انسانوں کو پشتی اور فیض سے اٹھایا ہے ۔ اور انتہائی بلندیوں تک اچھال دیا ہے ۔ عربوں کو جو جرائم پیش اقوام میں سے تھے تعلیم روحانیت واخلاق کا ناپیدار بنادیا ہے ۔ اور دیکھتے دیکھتے علم وصنعت کے ایک عالم نو کی بنیاد رکھی ہے ۔ کہ دنیائیکفر کی آنکھیں اس کی روشنی اور چمک سے غیرہورہی ہیں ۔ ان حالات میں سوال یہ ہے کہ یہ لوگ کیوں اس صداقت کو قبول نہیں کرتے ۔ اور کیوں خداونددوجہان کے سامنے نہیں جھکتے اور ان عظمتوں اور بلندیوں پر فائز نہیں ہوتے ۔ کیا ان سے مذہب کی اشاعت کے نام پر کچھ تاوان وصول کیا جاتا ہے جس کے بوجھ تلے وہ دبے ہوئے ہیں یا یہ بات ہے ۔ کہ ان کو علم غیب سے بہروافر ملا ہے ۔ جو ان کے پاس لکھا رکھا ہے ۔ بہرحال کچھ تو بتانا چاہیے ۔ کہ تامل و انکار کی وجودہ کیا ہیں ۔ حل لغات :۔ مغوم ۔ نادان متقون ۔ گراں باد الحوت ۔ مچھلی مکتوم ۔ غم غصہ میں مبتلا ، غم اور اندوہ سے معمور ۔
Ayahs 68:48–52

فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَ لَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوْتِ١ۘ اِذْ نَادٰى وَ هُوَ مَكْظُوْمٌؕ Open ayah 68:48 in the Quran reader

سو تو اپنے رب کا انتظار کر اور مچھلی (ف 2) والے (یونس) کی طرح نہ ہو کہ جب اس نے دعا کی اور غصہ میں بھرا ہوا تھا

لَوْ لَاۤ اَنْ تَدٰرَكَهٗ نِعْمَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ لَنُبِذَ بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ مَذْمُوْمٌ Open ayah 68:49 in the Quran reader

اگر اسے اس کے رب کا فضل نہ سنبھالتا تو وہ چٹیل میدان میں پھینکا جاتا اور بدحال ہوتا

فَاجْتَبٰىهُ رَبُّهٗ فَجَعَلَهٗ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 68:50 in the Quran reader

پھر اس رب نے اسے نوازا اور نیکوں میں کردیا

وَ اِنْ یَّكَادُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَیُزْلِقُوْنَكَ بِاَبْصَارِهِمْ لَمَّا سَمِعُوا الذِّكْرَ وَ یَقُوْلُوْنَ اِنَّهٗ لَمَجْنُوْنٌۘ Open ayah 68:51 in the Quran reader

اور تحقیق نزدیک ہیں وہ لوگ جو کافر ہوئے کہ وہ اپنی تند (نظروں) سے تجھے ڈگائیں ۔ جب وہ قرآن سنتے اور کہتے کہ تو دیوانہ ہے

وَ مَا هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 68:52 in the Quran reader

اور یہ تو جہان والوں کے لئے نری نصیحت ہی نصیحت ہے اور بس

ف 2: یعنی ان لوگوں کے انکار وکفر پر آپ غمگین ہوکر حضرت یونس (علیہ السلام) کی طرح دبدعا میں اور ترک شفقت میں جلدی نہ کریں ۔ اور پورے صبروسکون کے ساتھ ان کی ان حرکتوں کو برداشت کریں ۔ اللہ نے چاہا ۔ تو آپ کی آواز صدابحر ثابت نہیں ہوگی ۔ حضرت یونس (علیہ السلام) کا قصہ یہ ہے ۔ کہ آپ کی نافرمانی سے رنجیدہ ہو کر اللہ کے عذاب کے طالب ہوئے اور اصلاح سے مایوس ہوکر قوم کو چھوڑ کر ہجرت پر آمادہ ہوگئے ۔ یہ ادا اللہ تعالیٰ کو پسند نہ آئی ۔ اور سزا یہ ملی ۔ کہ دب دریا پار کرنے لگے ۔ تو ایک بڑی مچھلی کا لقمہ بن گئے ۔ اور اگر پھر اللہ کی طرف سے توبہ وانابت کی توفیق مرحمت نہ ہوتی ۔ تو مچھلی کے پیٹ سے نہ نکلتے ۔ اور اللہ کا اقدام شامل حال نہ ہوتا ۔ تو میدان میں برے حالوں پڑے رہتے ۔ یہ اللہ کا فضل تھا ۔ کہ اس نے حضرت یونس (علیہ السلام) کو دوبارہ زندگی بخشی ۔ اور اس قابل بنایا ۔ کہ وہ از سر نو تبلیغ و دعوت کے فرائض کو انجام دے سکیں ۔