43. Surah Az-Zukhruf

الزخرفOrnaments of gold · 89 ayahsسراج البیان

Ayahs 43:41–44

فَاِمَّا نَذْهَبَنَّ بِكَ فَاِنَّا مِنْهُمْ مُّنْتَقِمُوْنَۙ Open ayah 43:41 in the Quran reader

پھر اگر ہم تجھے (دنیا سے) (ف 1) لے جائیں تو بھی ہمیں ان سے بدلہ لینا ہے

اَوْ نُرِیَنَّكَ الَّذِیْ وَعَدْنٰهُمْ فَاِنَّا عَلَیْهِمْ مُّقْتَدِرُوْنَ Open ayah 43:42 in the Quran reader

یا ہم تجھے وہ دکھلادیں جو ہم نے ان سے وعدہ کیا ہے تو بھی ہم ان پر قادر ہیں

فَاسْتَمْسِكْ بِالَّذِیْۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ١ۚ اِنَّكَ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 43:43 in the Quran reader

سو جو تیری طرف وحی کی گئی ہے اسے مضبوط پکڑے رہ ۔ بیشک تو سیدھی راہ پر ہے

وَ اِنَّهٗ لَذِكْرٌ لَّكَ وَ لِقَوْمِكَ١ۚ وَ سَوْفَ تُسْئَلُوْنَ Open ayah 43:44 in the Quran reader

اور یہ تیرے اور تیری قوم کے لئے ایک نصیحت ہے اور عنقریب تم سے پوچھا جائیگا

یہ بہرے اور اندھے ہیں 1: یعنی ہرچند ان لوگوں کو اسلام کے معارف وحقائق سے آگاہ کیا گیا ہے مگر یہ ہیں کہ ان میں پذیرائی اور قبولیت کی قطعاً استعداد موجود نہیں ہے ۔ یہ کانوں کے بہرے ہیں ۔ کلمہ حق کو سننا ہی نہیں چاہتے ۔ آنکھوں سے اندھے ہیں ۔ مظاہر صدق وصفا اور خوارق ومعجزات کو دیکھنے کے بھی روادار نہیں ہیں ۔ اس صورت میں اور گمراہی کی اس منزل میں آپ کا سمجھانا بالکل بےکار اور خبث ہے ۔ جب قومیں اس درجہ پست اور ذلیل ہوجائیں ۔ کہ سچائی کو قبول کرنا ان کے لئے موجب تنگ ہو ۔ تو پھر بہترین سزا قدرت کی طرف سے یہ ہوتی ہے ۔ کہ ان کو مٹا دیا جائے ۔ چناچہ ان لوگوں کو اللہ کی شدید ترین سزا کے لئے ہر لحظہ تیار رہنا چاہیے ۔ اور جاننا چاہیے ۔ کہ اب وقت آگیا ہے ۔ کہ یہ ذلت ورسوائی سے دو چار ہوں ۔ یہ لوگ اس دنیا میں تمہارے سامنے بھی محسوس کریں گے ۔ کہ ہم سے اللہ تعالیٰ ناراض ہیں ۔ اور آپ کے بعد آخرت میں بھی محسوس کریں گے ۔ کہ ہم عذاب الیم میں گرفتار ہیں ۔ آپ بہرحال نہایت استقلال اور عزمیت کے ساتھ اللہ کے احکام کو پہنچاتے رہیے ۔ اور یہ یقین رکھیئے ۔ کہ اللہ کی جانب سے آپ صراط مستقیم پر گامزن ہیں ۔ ان لوگوں کی قسمت میں اگر یہ نہیں ہے ۔ کہ یہ اس نورہدایت سے اکتساب کریں ۔ تو قوم میں اور بہت سی بعیدوں میں ہیں ۔ جو اس کو تسلیم کرلینے کے لئے بےقرار ہیں ۔ غرض یہ ہے کہ جب آدمی خدائے رحمن سے تعلقات عبودیت کو منقطع کرلیتا ہے ۔ تو پھر خود بخود شیطان کے چنگل میں پھنس جاتا ہے ۔ اور اپنی زندگی کو برباد کرلیتا ہے ۔ اس کے دل پر غفلت اور تساہل کے پڑے پڑجاتے ہیں ۔ اور روحانی احساسات یکقلم مردہ ہوجاتے ہیں ۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے ۔ کہ پھر نیکی کی باتوں سے اس کے دل میں نفرت پیدا ہوجاتی ہے ۔ اور برائی مرغوب ہوجاتی ہے الصم ۔ اسم کی جمع ہے ۔ بمعنے بہرے عمی اعمی کی جمع ہے ۔ یعنی اندھے ۔ حل لغات :۔ قرین ۔ ساتھی ۔ ہمنشین ۔
Ayahs 43:45–46

وَ سْئَلْ مَنْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رُّسُلِنَاۤ اَجَعَلْنَا مِنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ اٰلِهَةً یُّعْبَدُوْنَ۠ Open ayah 43:45 in the Quran reader

اور جو رسول ہم نے تجھ سے پہلے بھیجے ہیں ۔ ان سے پوچھ کہ کیا رحمن (ف 1) کے سوا اور معبود مقرر کئے ہیں کہ پوجے جائیں ؟

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ فَقَالَ اِنِّیْ رَسُوْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 43:46 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں دے کر فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف بھیجا تو کہا کہ میں جہانوں کے رب کا رسول ہوں

کیا ایک خدا ساری دنیا کا مالک ہے 1: ان لوگوں کے لئے جو تعلیم سب سے زیادہ ناقابل قبول تھی ۔ وہ یہ تھی ۔ کہ ایک خدا کی پرستش کرنا چاہیے ۔ اور صرف اسی کی چوکھٹ پر جھکنا چاہیے ۔ یہ لوگ کہتے تھے ۔ کہ ہم کیونکر اپنے آباء و اجداد کی تقلید چھوڑدیں ۔ اور اپنے معبودان باطل ترک کردیں ۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ پرانے عقائد سے دست بردار ہوجائیں ۔ اور یکہ و تنہا خدا کو ساری دنیا کا مالک قراردے لیں ۔ فرمایا ۔ یہ توحید کا عقیدہ کوئی نادر اور انوکھا عقیدہ نہیں ہے ۔ بڑا پرانا عقیدہ ہے ۔ تمام انبیاء اسی کی تبلیغ اور اشاعت کے لئے آئے ہیں ۔ سب کی زندگی کا مقصد یہی رہا ہے ۔ کہ مولا سے بھٹکے ہوئے انسانوں کو مولا کے آستانہ جلال پر لاکھڑا کریں ۔ اس لئے اگر تمہیں قدامت ہی سے محبت ہے ۔ جب بھی پرانا عقیدہ یہی توحید ہے ، تمکو بلاتامل اس کو قبول کرلینا چاہیے ۔
Ayahs 43:47–50

فَلَمَّا جَآءَهُمْ بِاٰیٰتِنَاۤ اِذَا هُمْ مِّنْهَا یَضْحَكُوْنَ Open ayah 43:47 in the Quran reader

سو وہ جب ہماری نشانیاں لے کر ان کے پاس آیا تو وہ ان نشانیوں کی ہنسی (ف 2) اڑانے لگے

وَ مَا نُرِیْهِمْ مِّنْ اٰیَةٍ اِلَّا هِیَ اَكْبَرُ مِنْ اُخْتِهَا١٘ وَ اَخَذْنٰهُمْ بِالْعَذَابِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 43:48 in the Quran reader

اور جو نشانی ہم انہیں دکھاتے تھے ، وہ اپنی بہن (دوسری نشانی) سے بڑی ہوئی تھی اور ہم نے انہیں عذاب میں پکڑا شاید وہ رجوع لائیں

وَ قَالُوْا یٰۤاَیُّهَ السّٰحِرُ ادْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنْدَكَ١ۚ اِنَّنَا لَمُهْتَدُوْنَ Open ayah 43:49 in the Quran reader

اور کہنے لگے کہ اسے جادوگر ہمارے لئے اپنے رب کو پکار جیسا اس نے تجھ سے عہد کررکھا ہے ہم بیشک راہ پر آئیں گے

فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ اِذَا هُمْ یَنْكُثُوْنَ Open ayah 43:50 in the Quran reader

پھر جب ہم نے ان سے عذاب ہٹا لیا ۔ تو فوراً ہی انہوں نے اپنا عہد توڑ ڈالا

ف 2: ان آیات میں یہ بتایا ہے کہ صرف تم لوگ ہی حق وصداقت کے منکر نہیں ہو ۔ تم سے پہلے لوگوں نے بھی بڑی سرکشی اور تمرد کا اظہار کیا ہے ۔ اور پھر اللہ نے ان کو صفحہ ہستی سے مٹادیا ہے ۔ فرعون کو اور اس کے بڑے بڑے سرداروں کو دیکھو جب حضرت موسیٰ تشریف لائے ۔ اور انہوں نے ان کو اللہ کا پیغام سنایا ۔ تو وہ ازراہ تحقیر ہنسنے لگے ۔ انہوں نے معجزات دکھائے ۔ تو ان کو بھادو اور سحر سے تعبیر کرنے لگے ۔ اس پر اللہ کی غیرت جوش میں آئی اور یہ خدا کے غضب وغصہ کا شکار ہوگئے ۔ حل لغات :۔ یضحکون ۔ خندہ وتحقیر مراد ہے ۔
Ayahs 43:51–52

وَ نَادٰى فِرْعَوْنُ فِیْ قَوْمِهٖ قَالَ یٰقَوْمِ اَلَیْسَ لِیْ مُلْكُ مِصْرَ وَ هٰذِهِ الْاَنْهٰرُ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِیْ١ۚ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَؕ Open ayah 43:51 in the Quran reader

اور فرعون نے اپنی قوم میں پکارا ، کہا اے میری قوم کیا مصر کی بادشاہت میری نہیں (ف 1) ؟ اور یہ نہریں میرے نیچے بہتی ہیں کیا تم دیکھتے نہیں ؟

اَمْ اَنَا خَیْرٌ مِّنْ هٰذَا الَّذِیْ هُوَ مَهِیْنٌ١ۙ۬ وَّ لَا یَكَادُ یُبِیْنُ Open ayah 43:52 in the Quran reader

بلکہ میں اس شخص سے بہتر ہوں کہ وہ عزت نہیں رکھتا اور صاف نہیں بول سکتا

یہ پرانا اعتراض ہے 1: مکہ والوں نے حضور ﷺ پر یہ اعتراض کیا تھا ۔ کہ یہ امیر اور بڑا آدمی نہیں ہے ۔ اس لئے ہم ایسے صاحب دولت و ثروت لوگ کیونکر اس کی اطاعت کرسکتے ہیں ۔ اس کا جواب دیا ہے ۔ کہ یہ اعتراض انبیاء کے باب میں بہت پرانا ہے ۔ موسیٰ (علیہ السلام) جب تشریف لائے اور فرعون کو ایمان کی دعوت دی ۔ تو اس نے بھی یہی کہا تھا ۔ کہ میں ارض مصر کا بادشاہ ہوں ۔ جس میں نہریں رواں ہیں ۔ میں اس سے بہتر ہوں ۔ اور یہ میرے مقابلہ میں کہیں کم حیثیت ہے ۔ حل لغات :۔ مھین ۔ ضعیف ۔ ذلیل ۔ کم حیثیت
Ayahs 43:53–56

فَلَوْ لَاۤ اُلْقِیَ عَلَیْهِ اَسْوِرَةٌ مِّنْ ذَهَبٍ اَوْ جَآءَ مَعَهُ الْمَلٰٓئِكَةُ مُقْتَرِنِیْنَ Open ayah 43:53 in the Quran reader

پھر اس پر سونے کے کنگن (ف 1) کیوں نہ ڈالے گئے یا اس کے ساتھ پر اباندھ کر فرشتے آتے

فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهٗ فَاَطَاعُوْهُ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ Open ayah 43:54 in the Quran reader

غرض اس نے اپنی قوم کی عقل کھودی سو انہوں نے اس کا کہا مانا ۔ بیشک وہ فاسق لوگ تھے

فَلَمَّاۤ اٰسَفُوْنَا انْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَاَغْرَقْنٰهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 43:55 in the Quran reader

پھر جب انہوں نے ہمیں غصہ دلایا تو ہم نے ان سے بدلہ لیا ۔ سو ہم نے ان سب کو ڈبودیا

فَجَعَلْنٰهُمْ سَلَفًا وَّ مَثَلًا لِّلْاٰخِرِیْنَ۠ Open ayah 43:56 in the Quran reader

پھر ہم نے انہیں گیا گزرا اور پچھلوں کے لئے کہاوت بنادیا

ف 1: اس کے ہاتھوں میں سونے کے کنگن ہیں ۔ اور نہ یہ اتنا روحانیت میں بلندپرداز اور خدا کے ہاں مقبول ہے ۔ کہ اس کے آگے پیچھے فرشتے کھڑے نظر آتے ہوں ۔ قوم نے فرعون کے اس طرز استدلال کی تائید کی ۔ اور موسیٰ کی تعلیمات سے انکار کردیا ۔ نتیجہ یہ ہوا ۔ کہ باوصف اس نے سروسامانی دنیا کے حضرت موسیٰ کو سارے بنی اسرائیل کا قائد قرار دیا گیا ۔ اور اس کی زندگی کو ان کے لائق متبع اور اطاعت بنایا گیا ۔ اور یہ فرعون اپنی مغرور قوم سمیت دریا میں غرق ہوگیا ۔ آج وہ موسیٰ بنی اسرائیل کی شکل میں اور اپنی تعلیمات کی شکل میں زندہ ہے ۔ جو دنیوی وجاہتوں سے محروم تھا ۔ اور وہ فرعون جس کے سونے کے کنگن تھے ۔ جو شاندار محلوں میں رہتا تھا ۔ مردہ ہے ۔ لایکادیبین سے مراد یا تو یہ ہے ۔ کہ موسیٰ اپنے دعادی کو واضح طور پر بیان نہیں کرتا ۔ اور یہ نہیں بتلاتا ۔ کہ آخر اس کی غرض وغابت کیا ہے ؟ کیا وہ مصر کا بادشاہ بننا چاہتا ہے ؟ قیادت وسیادت کا خواہاں ہے یا مال و دولت کا طالب ہے ؟ اور کیا نبی اسرائیل کا روحانی مقتدا بننا چاہتا ہے ۔ یا اس کا مطلب یہ ہے کہ فرعون کے سامنے حضرت موسیٰ بچپن کے زمانے میں ہکلاتے تھے ۔ تو اس کو یہ خیال ہوا ۔ کہ شاید اب تک ان میں یہ مرض موجود ہے ۔ حالانکہ انہوں نے اللہ سے دعا مانگی تھی ۔ واحلل عقدۃ من نسانی کہ اے اللہ میری زبان کی گرہ کھول دے اور اللہ نے فرمایا تھا قد اوتیت سولک یا موسیٰ اے موسیٰ تیری دعا قبول ہے ۔ کیونکہ منصب نبوت کے لئے یہ ضروری ہے کہ فصاحت لسانی سے بہرہ وافر حاصل ہو ۔ اور پیغمبر اپنے زمانے کا بہترین خطیب ہو ۔
Ayahs 43:57–60

وَ لَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْیَمَ مَثَلًا اِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ یَصِدُّوْنَ Open ayah 43:57 in the Quran reader

اور جب مریم کے بیٹے (مسیح) (ف 2) کی مثال بیان کیجاتی ہے ۔ تب ہی تیرے قوم کے لوگ اس سے تالیاں بجاتے ہیں

وَ قَالُوْۤا ءَاٰلِهَتُنَا خَیْرٌ اَمْ هُوَ١ؕ مَا ضَرَبُوْهُ لَكَ اِلَّا جَدَلًا١ؕ بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُوْنَ Open ayah 43:58 in the Quran reader

اور کہتے ہیں (کہ) ہمارے معبود بہتر ہیں یا وہ یہ جو اس کو مثال کے طور پر تیرے سامنے پیش کرتے ہیں تو محض جھگڑنے کے لئے پیش کیا ۔ بلکہ یہ جھگڑا لو لوگ ہیں

اِنْ هُوَ اِلَّا عَبْدٌ اَنْعَمْنَا عَلَیْهِ وَ جَعَلْنٰهُ مَثَلًا لِّبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 43:59 in the Quran reader

وہ کیا ہے صرف ایک بندہ ہے کہ ہم نے اس پر فضل کیا اور اسے بنی اسرائیل کے لئے ایک مثل (یعنی نمونہ) ٹھہرایا ہے

وَ لَوْ نَشَآءُ لَجَعَلْنَا مِنْكُمْ مَّلٰٓئِكَةً فِی الْاَرْضِ یَخْلُفُوْنَ Open ayah 43:60 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہیں تو تم میں سے فرشتے نکالیں کہ وہ زمین میں جانشین ہوں

ف 2: حضور ﷺ کے جب قرآن کی آیتوں میں حضرت مسیح کا ذکر کیا ۔ تو مکہ والے یہ سمجھے کہ شاید ان کا مطلب یہ ہے کہ مسیح کی طرح ان کی بھی پوجا ہو ۔ اس خیال سے انہوں نے کہا ۔ کہ ہمارے معبود تو بہرحال محمد (ﷺ) سے بہتر ہیں ۔ کیوں نہ ان کی پرستش کی جائے اس کے جواب میں فرمایا تمہیں محض غلط فہمی ہوئی ہے ۔ اور یہ محض دھوکا ہے ۔ ہمارے نزدیک تو مسیح ہمارے بندے تھے ۔ جن کو ہم نے نبوت کے انعام سے نوازا تھا ۔ اور بنی اسرائیل کے لئے مقتدا قرار دیا جاتا تھا ۔ اور اس مقام عبودیت کی تشریح و توضیح کے لئے انکار مذکور ہوا تھا ۔ یہ مقصد نہ تھا کہ تم خواہ مخواہ اس کو غلط معنے پہنچاؤ۔ حل لغات :۔ اسورۃ ۔ سونے کے کنگن ۔ یہ امارت وتمول کی نشانی تھی انتقمنا ۔ ہم نے سزا دی ۔ مقام سے ہے جس کے معنے عربی میں ہیں یصدون ۔ اظہار مسرت کرنے لگے ۔ چلانے لگے ۔
Ayahs 43:61–62

وَ اِنَّهٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا وَ اتَّبِعُوْنِ١ؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ Open ayah 43:61 in the Quran reader

اور وہ عیسیٰ تو قیامت کی نشانی ہے1 سو تم قیامت میں شک نہ کرو اور میرے تابع ہوجاؤ۔ یہ سیدھی راہ ہے

وَ لَا یَصُدَّنَّكُمُ الشَّیْطٰنُ١ۚ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 43:62 in the Quran reader

اور تمہیں شیطان نہ روکے بیشک وہ تمہارا صریح دشمن ہے

حضرت مسیح کی دوبارہ آمد 1: اس آیت میں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے ۔ کہ حضرت مسیح قریب قیامت میں تشریف لائیں گے ۔ اور ان کی یہ تشریف آوری قیامت کی شروط میں سے ہے ۔ اس لئے تم لوگ اس میں مطلقاً شک نہ کرو ۔ یہی صراط مستقیم ہے ۔ اور یاد رکھو ۔ کہ شیطان عقل وخرد تم کو اس عقیدے سے باز رکھنے کی کوشش کریگا اور کہے گا ۔ کہ یہ کیونکر ممکن ہے ۔ کہ حضرت مسیح دنیا میں دوبارہ تشریف لائیں ۔ اور قیامت کے علائم میں سے ہوں تمہیں یہ سمجھنا چاہیے ۔ کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے اور اس کی باتیں محض تمہیں گمراہ کرنے کے لئے ہیں اس لئے ان پر اعتماد نہ کرو ۔ یہ واضح رہے کہ جن لوگوں کی نظریں اس وقت یورپ والوں پر ہیں ۔ اور یہ محسوس کررہے ہیں ۔ کہ اس وقت امین عالم کے لئے انکا وجود زبردشت خطرہ ہے اور یہی لوگ ہیں جو مادیت سے مسلح ہوکر مذہب کے قلعوں پر حملہ آور ہیں ۔ اور آج ان کی وجہ سے روحانیت کے تمام نظرئیے پامال ہورہے ہیں ۔ ان کے نزدیک ضرورت ہے ، حضرت مسیح کی جو دنیا میں آکر اپنی است کے ان لوگوں کو بتلائیں ۔ کہ حرص وآز کی تکمیل اور جسم و قالب کی آرئش وتزئین ہی منتہائے کمال نہیں ۔ وہ آئین اور تمدن کے اس ہلاکت آفرین پہلو کو بکقلم بدل دیں ۔ اور یورپ کو روحانیت سے معمور کردیں ۔ آج یہ سفید فام قومیں گمراہی میں اتنی دور نکل گئی ہیں ۔ کہ ان کو پھر سے واپس لانا عام انسانوں کے بس میں نہیں ہے حالات کا تقاضا اور زمانے کے داعیات یہ ہیں ۔ کہ کوئی زبردست روحانی شخصیت مبعوث ہو اور وہ دنیا میں ایک زبردست انقلاب پیدا کردے ۔ جس کی وجہ سے انسانیت اپنی کھوئی ہوئی سعادتوں کو دوبارہ حاصل کرلے ۔
Ayahs 43:63–69

وَ لَمَّا جَآءَ عِیْسٰى بِالْبَیِّنٰتِ قَالَ قَدْ جِئْتُكُمْ بِالْحِكْمَةِ وَ لِاُبَیِّنَ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِیْ تَخْتَلِفُوْنَ فِیْهِ١ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِ Open ayah 43:63 in the Quran reader

اور جب عیسیٰ روشن دلیلیں لے کر آیا تو کہا کہ بیشک میں تمہارے پاس پکی بات لایا ہوں اور اس لئے آیا ہوں کہ تمہارے لئے بعض باتیں بیان کروں جن میں تم اختلاف کررہے ہو ۔ (ف 2) سو اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو

اِنَّ اللّٰهَ هُوَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ١ؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ Open ayah 43:64 in the Quran reader

بیشک جو ہے میرا رب ہے اور وہی تمہارا رب ہے سو تم اسی کی عبادت کرو ۔ یہ سیدھی راہ ہے

فَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُ مِنْۢ بَیْنِهِمْ١ۚ فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْ عَذَابِ یَوْمٍ اَلِیْمٍ Open ayah 43:65 in the Quran reader

پھر جماعتوں نے اپنے درمیان اختلاف ڈال لیا ۔ سو دکھ دینے والے دن کے عذاب سے ظالموں کے لئے افسوس ہے

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا السَّاعَةَ اَنْ تَاْتِیَهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 43:66 in the Quran reader

کیا یہ لوگ قیامت ہی کا انتظار کررہے ہیں کہ اچانک ان پر آکھڑی ہو اور انہیں خبر بھی نہ ہو ؟

اَلْاَخِلَّآءُ یَوْمَئِذٍۭ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الْمُتَّقِیْنَؕ۠ Open ayah 43:67 in the Quran reader

متقیوں کے سوا جتنے باہم دوست ہیں اس دن ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے

یٰعِبَادِ لَا خَوْفٌ عَلَیْكُمُ الْیَوْمَ وَ لَاۤ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَۚ Open ayah 43:68 in the Quran reader

اے میرے بندو ۔ آج نہ تم پر کچھ خوف ہے اور نہ تم غمگین ہوگے

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ كَانُوْا مُسْلِمِیْنَۚ Open ayah 43:69 in the Quran reader

جو ہماری آیتوں پر ایمان لائے اور مسلمان تھے

ف 2: ان آیات میں حضرت مسیح کی پہلی بعثت کا ذکر ہے ۔ کہ جب یہ تشریف لائے اور انہوں نے کہا ۔ کہ میں آیات وبراہین کے ساتھ آیا ہوں ۔ تاکہ تمہیں زندگی کے حکیمانہ نکات سے آگاہ کروں اور دین و مذہب کے نام سے جو تم نے اختلافات پیدا کر رکھے ہیں ان کو مٹادوں ۔ اور تقویٰ و اطاعت کے جذبات سے تم میں ترقی کی روح پھونک دوں ۔ دیکھو اللہ ایک ہے ۔ وہی میرا اور تمہارا پروردگار ہے ۔ اس کی عبادت سے منہ نہ موڑو ۔ اس تک پہنچنے کی سیدھی راہ یہی ہے ۔ کہ توحید کے اسراء سے واقفیت حاصل کرو ۔ اور اپنے سر کو جبرا اس کے آشانہ جلال وقدس کے اور کسی کے سامنے نہ جھکاؤ۔ ان کی قوم نے یہ باتیں سنیں ۔ اور جب دستور ان کو کوئی اہمیت نہ دی ۔ انکار و تمرد کو شیوہ بنالیا ۔ اور مسیح کی جان کے لاگو بن گئے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ۔ یہ لوگ ظالم ہیں ۔ اور عذاب الیم کے مستحق ہیں ۔ یعنی قیامت میں لوگوں کی یہ حالت ہوگی ۔ کہ ہر نوع کے باہمی تعلقات مودت وعقیدت منقطع ہوجائیں گے ۔ بلکہ یہ ایک دوسری کی مخالفت کرینگے ۔ سوائے مومنین کے ان کے دل جس طرح دنیا میں حسد وبغض کے جذبات سے پاک تھے ۔ یہاں بھی پاک رہیں گے ۔ ان کے لئے جنت میں ہر طرح کی آسودگی مہیا ہوگی ۔ اور ان کو کسی قسم کا خوف اور غم نہ ہوگا ۔ حل لغات :۔ الشیطن ۔ یعنی گمراہ کن شخص ۔
Ayahs 43:70–71

اُدْخُلُوا الْجَنَّةَ اَنْتُمْ وَ اَزْوَاجُكُمْ تُحْبَرُوْنَ Open ayah 43:70 in the Quran reader

تم اور تمہاری عورتیں جنت (ف 1) میں داخل ہوجاؤ کہ تمہاری عزت کریں

یُطَافُ عَلَیْهِمْ بِصِحَافٍ مِّنْ ذَهَبٍ وَّ اَكْوَابٍ١ۚ وَ فِیْهَا مَا تَشْتَهِیْهِ الْاَنْفُسُ وَ تَلَذُّ الْاَعْیُنُ١ۚ وَ اَنْتُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَۚ Open ayah 43:71 in the Quran reader

ان پر سونے کے طباق اور آنجورے لئے پھر ینگے اور وہاں وہ چیز ہوگی جس کو دل چاہے اور جس سے آنکھیں لذت پائیں ، اور تم اس میں ہمیشہ رہوگے

جنت اسلامی نقطہ نگاہ سے 1: اسلامی نقطہ نگاہ سے جنت کا مفہوم یہ ہے کہ وہ زندگی کا کامل اور جامع ترین مفہوم رہے ۔ جہاں نفس کی تمام خواہشات کی تکمیل ہوتی ہے جہاں وہ سب کچھ مہیا ہے ۔ جس کے حصول کے لئے انسان دنیا میں تگ ودو کرتا ہے جہاں غم واندوہ اور احتیاج نہیں ہوتی ہے ۔ جہاں مسرت واجتہاج کے سوتے پھوٹتے ہیں ۔ اور تسکین وثانیت کی نہریں رواں ہیں ۔ جہاں مادہ اپنی پوری زیبائش کے ساتھ موجود ہے ۔ اور روح اپنی ساری آرائش کے ساتھ جلوہ گر ۔ جہاں انسان باہم دشمن نہیں ہوتے ۔ جہاں پورا امن و سکون ہوتا ہے ۔ اور اللہ کا قرب اور اس کی حضوری میسر ہوتی ہے ۔ جہاں فر لمحہ اور ہر آن اس کے جلوہ ہائے گوناگوں نظر اور فکر کو نزہت بخشتے ہیں ۔ اور جہاں انسان کو ظاہر و باطن کے لحاظ سے شادابیاں عطا ہوتی ہیں حل لغات :۔ الاحزاب ۔ گروہ ۔ حزب کی جمع ہے باختہ ۔ اچانک ۔ خلاف توقع ۔ ناگاہ محاف ۔ طبق ۔ بڑا پیالہ ۔ ملحقۃ مفرد ہے اکواب ۔ آنجورہ ۔ کو ب کی جمع ہے وتلدالاعین ۔ اور آنکھیں مطف اندوز ہونگی ۔
Ayahs 43:72–73

وَ تِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِیْۤ اُوْرِثْتُمُوْهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 43:72 in the Quran reader

یہ وہی بہشت (ف 1) ہے جس کے تم ان نیک کاموں کے بدلے جو تم کرتے تھے وارث کئے گئے

لَكُمْ فِیْهَا فَاكِهَةٌ كَثِیْرَةٌ مِّنْهَا تَاْكُلُوْنَ Open ayah 43:73 in the Quran reader

وہاں تمہارے لئے بہت میوے ہونگے ان میں سے تم کھاؤ گے

ف 1: جنت کے معنے اللہ کے مقام رضا کے ہیں ۔ اور جب وہ خوش ہوجائے ۔ جو آسمانوں اور زمینوں کا رب اور مالک ہے ۔ جس کے خزانے بیشمار معمور ہیں جو بمجرد اپنے ارادے کے ہزار در ہزار عوالم پیدا کرسکتا ہے ۔ تو پھر خوشیوں اور مسرتوں کا احاطہ کیونکر کیا جاسکتا ہے ۔ یہ کھانے پینے کی چیزیں محض اس لئے ہیں ۔ کہ وہاں کی زندگی کا کچھ اندازاہ کرسکو ۔ ورنہ یہ ظاہر ہے ۔ کہ وہاں وہ بوقلمون نعمتیں ہیں ۔ کہ جن کو دنیا کی زبانوں میں ادا نہیں کیا جاسکتا ۔ اور وہ مسرتیں ہیں ۔ جن کی تعبیر کے لئے الفاظ میسر نہیں ۔ بس یوں سمجھ لیجئے ۔ اس وقت وہ خوش ہوگا ۔ جو ساری کائنات کا پروردگار ہے
Ayahs 43:74–80

اِنَّ الْمُجْرِمِیْنَ فِیْ عَذَابِ جَهَنَّمَ خٰلِدُوْنَۚۖ Open ayah 43:74 in the Quran reader

البتہ جو گنہگار ہیں وہ ہمیشہ دوزخ (ف 2) کے عذاب میں رہینگے

لَا یُفَتَّرُ عَنْهُمْ وَ هُمْ فِیْهِ مُبْلِسُوْنَۚ Open ayah 43:75 in the Quran reader

ان سے عذاب ہلکا نہ کیا جائیگا اور وہ اس میں ناامید رہیں گے

وَ مَا ظَلَمْنٰهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْا هُمُ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 43:76 in the Quran reader

اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا لیکن وہ آپ ہی ظالم تھے

وَ نَادَوْا یٰمٰلِكُ لِیَقْضِ عَلَیْنَا رَبُّكَ١ؕ قَالَ اِنَّكُمْ مّٰكِثُوْنَ Open ayah 43:77 in the Quran reader

اور پکاریں گے کہ اے مالک (دوزخ کے داروغہ) چاہیے کہ تیرا رب ہم پر موت بھیج دے وہ کہے گا تم ہمیشہ رہنے والے ہو

لَقَدْ جِئْنٰكُمْ بِالْحَقِّ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَكُمْ لِلْحَقِّ كٰرِهُوْنَ Open ayah 43:78 in the Quran reader

ہم تمہارے پاس سچا دین لائے ہیں لیکن تم میں بہت ہیں کہ سچی بات کو مکروہ جانتے ہیں

اَمْ اَبْرَمُوْۤا اَمْرًا فَاِنَّا مُبْرِمُوْنَۚ Open ayah 43:79 in the Quran reader

کیا انہوں نے ایک بات کا پختہ ارادہ کرلیا ہے تو ہم بھی پختہ ارادہ کرنے والے ہیں

اَمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّا لَا نَسْمَعُ سِرَّهُمْ وَ نَجْوٰىهُمْ١ؕ بَلٰى وَ رُسُلُنَا لَدَیْهِمْ یَكْتُبُوْنَ Open ayah 43:80 in the Quran reader

کیا وہ خیال کرتے ہیں کہ ہم ان کا بھید اور مشورہ نہیں سنتے ! کیوں نہیں اور ہمار رسول ان کے پاس لکھتے ہیں

ف 2: یہ جہنم ہے جو اللہ کے مقام غضب وغصہ کا مظہر ہے ۔ یہاں تکلیف ہے ۔ دکھ ہے ، سزا ہے ۔ تو ہیں ہے ۔ اور زندگی کا وہ مفہوم ہے ۔ جو نہایت اذیت دہ ہوتا ہے ۔ اور یہ نتیجہ ہے ، بدعملی کا ، فسق وفجور کا ، ناشکرگزاری کا اور نافرمانی اور معصیت کا ۔ حل لغات :۔ فاکھۃ ۔ وہ کھانا جو بطور نقل کے کمایا جائے ۔ پھل میوہ وغیرہ یبلسون ۔ ابلاس سے ہے یعنی مانوس لملک ۔ فرشتہ جہنم سے مخاطب ہے ۔