40. Surah Al-Ghaafir

غافرThe Forgiver · 85 ayahsسراج البیان

Ayah 40:41

وَ یٰقَوْمِ مَا لِیْۤ اَدْعُوْكُمْ اِلَى النَّجٰوةِ وَ تَدْعُوْنَنِیْۤ اِلَى النَّارِؕ Open ayah 40:41 in the Quran reader

اور اسے میری قوم مجھے کیا ہوا کہ میں تمہیں نجات (ف 2) کی طرف بلاتا ہوں اور تم مجھے آگ کی طرف بلاتے ہو

مرد مومن کی بقیہ تقریر 2: اس مرد مومن نے اپنی تقریر کو جاری رکھتے ہوئے کہا ۔ کہ میں تو تمہیں نجات اور مخلصی کی دعوت دیتا ہوں ۔ اور تم مجھے جہنم کی طرف بلاتے ہو ۔ تم یہ چاہتے ہو کہ میں اللہ کا انکار کردوں اور اس کے ساتھ ایسی چیزوں کو شریک ٹھہراؤ ں ۔ جن کے متعلق میں نہیں جانتا کہ وہ کیونکر خدا ہوسکتی ہیں ۔ میں تمہیں ایسے رب عزت اور خطا بخش خدا کی جانب بلاتا ہوں ۔ جو ساری دنیا کا مالک ہے اور تم جن معبودان باطل کے لئے میری عقیدت مندی کو حاصل کرنا چاہتے ہو ۔ وہ دنیا میں کام آسکتے ہیں ۔ نہ آخرت میں ۔ یاد رکھو ہم سب کو بالآخر اسی خدا کے جانب لوٹ کر جانا ہے ۔ اور وہاں وہ لوگ جو حد عبودیت سے تجاوز کررہے ہیں دوزخ میں جائیں گے ۔ تم لوگوں کو عنقریب معلوم ہوگا کہ میں جو کچھ کہتا ہوں ۔ وہ حق وصداقت ہے ۔ اور میں اپنے معاملہ کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں ۔ کیونکہ میرا ایمان یہ ہے کہ خدا اپنے بندوں کا ہمیشہ خیال رکھتا ہے ۔ اس مخلصانہ وعظ کا اثر الٹا ہوا ۔ قوم مخالفت پر آمادہ ہوگئی ۔ اور یہ سوچنے لگی ۔ کہ کیونکر حضرت موسیٰ کے تبلیغی اثرات لوح قلب سے مٹایا جاسکتا ہے ۔ تشدد کی تیاریاں ہونے لگیں اور سزا کی دھمکیاں دی جانے لگیں ۔ کہ اتنے میں حضرت موسیٰ کو حکم ہوا کہ آپ ارض مصر کو چھوڑ دیں ۔ اور بنی اسرائیل کو اپنے ساتھ لے جائیں ۔ چناچہ حضرت موسیٰ نے اس پر عمل کیا اور راتوں رات سرزمین مصر کو خالی کردیا ۔ فرعون اور اس کے ساتھیوں نے تعاقب کیا اور دریا میں ڈوبا دیئے گئے ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ نے اپنے بندوں کی حمایت کی ۔ اور حیرت انگیز طریق سے اتنے بڑے بادشاہ کے چنگل سے ان لوگوں کو رہائی بخشی ۔ اور عملاً یہ بتادیا ۔ کہ اللہ کی ضمانتیں بجائے خودایک طاقت اور قوت ہیں اور جس کے ساتھ اللہ کی نصرت اور اعانت ہو ۔ وہ کبھی اپنے مقاصد میں ناکام نہیں رہتا ۔ اور نیز اس چیز کا اظہار فرمایا ہے ۔ کہ غررور مادی کے لئے ہمیشہ شکست اور عزیمت ہے اور یہ مقدرات سے ہے کہ روحانیت کی فتح ہو اور باطل دب جائے ۔ حل لغات :۔ لاجرم ۔ تاکید کے لئے ہے ۔
Ayahs 40:42–48

تَدْعُوْنَنِیْ لِاَكْفُرَ بِاللّٰهِ وَ اُشْرِكَ بِهٖ مَا لَیْسَ لِیْ بِهٖ عِلْمٌ١٘ وَّ اَنَا اَدْعُوْكُمْ اِلَى الْعَزِیْزِ الْغَفَّارِ Open ayah 40:42 in the Quran reader

تم مجھے بلاتے ہو کہ اللہ سے منکر ہوجاؤ اور اس کا شریک اسے ٹھہراؤں جس کا مجھے علم نہیں اور میں تمہیں غالب گناہ بخشنے والے کی طرف بلاتا ہوں

لَا جَرَمَ اَنَّمَا تَدْعُوْنَنِیْۤ اِلَیْهِ لَیْسَ لَهٗ دَعْوَةٌ فِی الدُّنْیَا وَ لَا فِی الْاٰخِرَةِ وَ اَنَّ مَرَدَّنَاۤ اِلَى اللّٰهِ وَ اَنَّ الْمُسْرِفِیْنَ هُمْ اَصْحٰبُ النَّارِ Open ayah 40:43 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ جس چیز کی طرف تم مجھے بلاتے ہو ، اسکا بلاوا کہیں (مفید) نہیں ، نہ دنیا میں اور نہ آخرت میں اور یقینا ہمیں اللہ کی طرف جانا ہے اور یہ کہ حد سے باہر نکلنے والے وہی دوزخی ہیں

فَسَتَذْكُرُوْنَ مَاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ١ؕ وَ اُفَوِّضُ اَمْرِیْۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بَصِیْرٌۢ بِالْعِبَادِ Open ayah 40:44 in the Quran reader

پس جو میں تمہیں کہتا ہوں آئندہ یاد کروگے اور میں تو اپناکام اللہ کو سونپتا ہوں بیشک اللہ بندوں کو دیکھتا ہے

فَوَقٰىهُ اللّٰهُ سَیِّاٰتِ مَا مَكَرُوْا وَ حَاقَ بِاٰلِ فِرْعَوْنَ سُوْٓءُ الْعَذَابِۚ Open ayah 40:45 in the Quran reader

پھر موسیٰ کو اللہ نے ان کے مکر کے شر سے بچا لیا ۔ اور فرعون کے لوگوں کو برے عذاب نے گھیر لیا

اَلنَّارُ یُعْرَضُوْنَ عَلَیْهَا غُدُوًّا وَّ عَشِیًّا١ۚ وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ١۫ اَدْخِلُوْۤا اٰلَ فِرْعَوْنَ اَشَدَّ الْعَذَابِ Open ayah 40:46 in the Quran reader

وہ آگ ہے جس پر صبح وشام پیش کئے جاتے ہیں اور جس دن قیامت قائم ہوگی ۔ کہیں گے کہ فرعونیوں کو سخت عذاب میں داخل کرو

وَ اِذْ یَتَحَآجُّوْنَ فِی النَّارِ فَیَقُوْلُ الضُّعَفٰٓؤُا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا فَهَلْ اَنْتُمْ مُّغْنُوْنَ عَنَّا نَصِیْبًا مِّنَ النَّارِ Open ayah 40:47 in the Quran reader

اور جب وہ آگ میں آپس میں جھگڑا کریں گے ۔ تو ناتوان لوگ سرکشوں سے کہیں گے کہ ہم تمہارے تابع تھے ۔ پھر کیا تم ہم سے ایک حصہ آگ کا دفع کرسکتے ہو ؟

قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا كُلٌّ فِیْهَاۤ١ۙ اِنَّ اللّٰهَ قَدْ حَكَمَ بَیْنَ الْعِبَادِ Open ayah 40:48 in the Quran reader

متکبر کہیں گے ، بیشک ہم سب اسی (ف 1) میں ہیں ۔ بیشک اللہ بندوں میں فیصلہ کرچکا ہے

عذاب قبر کا ثبوت 1: اسلامی عقیدہ یہ ہے کہ موت کے بعد ہر انسان عالم قبر یا عالم برزخ میں رہتا ہے اور یہ حالت ایک نوع کی تنویمی حالت ہوتی ہے ۔ سابقہ اعمال کا اس عالم پر اثر ہوتا ہے ۔ اگر کوئی شخص نیک رہا ہو ۔ تو یہاں اچھے اثرات کو محسوس کرتا ہے اور فرح ومسرت سے دوچار ہوتا ہے ۔ اور اگر اس نے دنیا میں برے اعمال کئے ہیں تو یہاں ان کو تکلیف کو محسوس کریگا ۔ یہ عذاب قبر ہے ۔ اس عقیدے کا ثبوت اس آیت سے ملتا ہے کیونکہ یہ مذکور ہے ۔ کہ فرعون اور آل فرعون کو صبح وشام جہنم کے سامنے پیش کیا جائیگا ۔ اور پھر جب باقاعدہ حساب و کتاب کی منزلیں طے ہوچکیں گی ۔ تو اس وقت ان کے متعلق کہا جائے گا ۔ کہ انہیں شدید ترین عذاب میں ڈال دو ۔ یہاں یعرضون کا لفظ یہ بتارہا ہے ۔ کہ یہ عذاب قبر صرف اسی شکل میں ہوگا ۔ کہ یہ لوگ اپنے عذاب کو دیکھ دیکھ کر چلیں گے ۔ اور روحانی اذیت محسوس کریں گے ۔ گمراہ کن کبراء دین قیامت کا یہ پہلو بالکل عجیب ہوگا ۔ کہ وہ لوگ جن کو ضعیف الاعتقاد حضرات بزرگان کرام سمجھتے تھے ۔ اور جن کی وجہ سے انہوں نے حق وصداقت کی آواز کو سنا تھا ۔ وہ بھی وہاں جہنم میں ہونگے ۔ یہ مریدان عقیدت مندان سے کہیں گے کہ دنیا میں تو ہم لوگ تمہارے تابع تھے ۔ ہم نے اپنی عقل وخرد کو تمہارے ہاتھ بیچ رکھا تھا ۔ آج ہمیں اس عذاب سے بچاؤ۔ اور اپنی مشیخیت کا ثبوت دو ۔ وہ کہیں گے آج وہ تمام پر وہ ہائے چاک ہوچکے ہیں ۔ اور معلوم ہوچکا ہے ۔ کہ یہاں ہم اور تم دونوں برابر کے مجرم ہیں ۔ دونوں دوزخ میں ہیں ۔ اللہ نے اپنا منصفانہ فیصلہ صادر فرما دیا ہے اب نہ ہم بچ سکتے ہیں اور نہ تم ۔ حل لغات :۔ عدوا وعشیا ۔ بااعتبار کے صبح وشام الصعفوء آ ۔ جو اپنی رائے نہیں رکھتے ۔ اور دین کے معاملہ می اپنے مشائخ مذہبی کے تابع ہیں ۔
Ayahs 40:49–50

وَ قَالَ الَّذِیْنَ فِی النَّارِ لِخَزَنَةِ جَهَنَّمَ ادْعُوْا رَبَّكُمْ یُخَفِّفْ عَنَّا یَوْمًا مِّنَ الْعَذَابِ Open ayah 40:49 in the Quran reader

اور جو آگ میں ہئے دوزخ کے داروغوں سے کہیں گے کہ اپنے رب سے دعا کرو کہ ایک دن ہمارے عذاب میں تخفیف کرے

قَالُوْۤا اَوَ لَمْ تَكُ تَاْتِیْكُمْ رُسُلُكُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ؕ قَالُوْا بَلٰى١ؕ قَالُوْا فَادْعُوْا١ۚ وَ مَا دُعٰٓؤُا الْكٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ۠ Open ayah 40:50 in the Quran reader

وہ کہیں گے کیا تمہارے رسول معجزے لے کر تمہارے پاس نہ آئے تھے ؟ کہیں گے کیوں نہیں ۔ کہیں گے پھر تم ہی پکارو اور کافروں کی پکار کچھ نہیں ۔ مگر بہکنا (ف 1) یعنی بالکل بےسود ہے

ف 1: غرض یہ ہے کہ وہ مقام ہوگا جہاں ارادت اور عقیدت کے تمام تعلقات منقطع ہوجائیں گے اور ہر شخص اپنی ذاتی ذمہ داری کو محسوس کرے گا ۔ اس وقت معلوم ہوگا ۔ کہ حاملین ملت ومقتدائے دین کس درجہ مکار تھے اور کیونکر کمزور استعداد کے لوگوں کو گمراہ کرتے تھے ۔ پھر جب یہ لوگ دیکھیں گے ۔ کہ یہ کبراء تو کچھ نہیں کرسکتے ۔ تو فرشتوں سے کہیں گے ۔ تم ہی ہمارے لئے تخفیف عذاب کی دعا کرو ۔ وہ کہیں گے اب تو دعا کا کوئی موقع ہی نہیں رہا ۔ کیا تمہارے پاس انبیاء ورسل نہیں آئے تھے اور کیا انہوں نے دلائل و شواہد سے تمہیں نہیں نوازا تھا ۔ تم نے اس وقت کیوں انکار کیا ۔ کیوں حق و صداقت کی تعلیم کو ٹھکرایا ۔ وہ جواباً کہیں گے ۔ یہ تو درست ہے ۔ کہ اللہ کے رسول آئے ۔ اور انہوں نے اپنا پیغام ہم تک پہنچایا ۔ یہ ہماری محرومی تھی کہ ہم ایمان کی دولت سے بہرہ مند نہ ہوسکے ۔ فرشتے کہیں گے کہ پھر تم خود ہی دعا کرو ۔ اور یہ معلوم ہے ۔ کہ کفار ومنکرین کی دعائیں محض بےاثر ہیں ۔ حل لغات :۔ فی ضلل ۔ یعنی معرض اندام میں یہ اس قبیل سے ہے کیدھم فی تضلیل ۔
Ayahs 40:51–52

اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ یَوْمَ یَقُوْمُ الْاَشْهَادُۙ Open ayah 40:51 in the Quran reader

ہم اپنے رسولوں کی اور مومنین کی حیات دنیا اور جس دن گواہ کھڑے ہوں گے مدد کرتے ہیں

یَوْمَ لَا یَنْفَعُ الظّٰلِمِیْنَ مَعْذِرَتُهُمْ وَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ Open ayah 40:52 in the Quran reader

جس دن ظالموں کو ان کا عذر (ف 1) نفع نہ دیگا اور ان کے لئے لعنت اور ان کے لئے برا گھر (ف 2) ہے

ف 1: ابتدائے سورت میں یہ بتایا تھا ۔ کہ یہ لوگ جو منکرین ہیں ۔ ان کا شہروں میں گھومنا پھرنا آپ کو دھوکے میں نہ ڈال دے ۔ ہم ضرور ان سے ان کی سرکشیوں کا انتقام لیں گے ۔ اس کے بعد ان لوگوں کا قصہ تھا ۔ جنہوں نے حق کا مقابلہ کیا ۔ اور ناکام رہے ۔ اور ان کی تمام تدبیریں باطل رہیں ۔ اس آیت میں بتایا ہے ۔ کہ ہمارا قانون ہے ۔ کہ تمام صداقت شعار لوگوں کی حمایت کی جائے ۔ ہم کفر کے مقابلہ میں ایمان کو رسوا نہیں کرتے ۔ انبیاء ورسل کی اور اس کے ماننے والوں کی ہم دنیا میں تائید کرتے ہیں ۔ اور آخرت میں بھی ۔ اور جو لوگ ظالم ہیں ۔ جنہوں نے عقل و خرد سے کام نہیں لیا ۔ وہ یہاں بھی ذلیل ہیں اور عقبیٰ میں بھی ذلیل ہونگے ۔ وہاں ان کا کوئی عذر مسیموع نہ ہوگا ۔ 2: یعنی جب یہ طے ہے کہ انبیاء اور صلحائے امت کی اللہ تعالیٰ ہمیشہ تائید فرماتا ہے ۔ اور دنیا میں ان کو ذلیل اور رسوا نہیں ہونے دیتا ۔ تو اب آپ کو حق وصداقت کی راہ میں جو مصیبتیں پیش آئیں ۔ ان کو خندہ پیشانی برداشت فرمائیے ۔ کہ بالآخر فتح آپ ہی کی ہے اور وہ لوگ جو ازراہ نادانی آپ کے حق میں گستاخی کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ ان کے لئے بحشش طلب کیجئے ۔ اور صبح وشام اللہ کی حمد وتسبیح بیان کرتے رہیے ۔ حل لغات :۔ لدنبک ۔ یعنی وہ گناہ جو تیرے باپ میں سرزد ہوا ۔ من اضافۃ المصدر الی المقعول ۔
Ayahs 40:53–57

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْهُدٰى وَ اَوْرَثْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْكِتٰبَۙ Open ayah 40:53 in the Quran reader

اور بیشک ہم نے موسیٰ کو ہدایت دی ، اور بنی اسرائیل کو کتاب کا وارث کیا

هُدًى وَّ ذِكْرٰى لِاُولِی الْاَلْبَابِ Open ayah 40:54 in the Quran reader

(جو ہدایت اور نصیحت (تھی) عقلمندوں کے لئے

فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ اسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ بِالْعَشِیِّ وَ الْاِبْكَارِ Open ayah 40:55 in the Quran reader

سو تو صبر کر اللہ کا وعدہ سچا ہے اور اپنے گناہ کی معافی مانگ اور صبح کے وقت اور شام کے وقت اپنے رب کی تعریف کے ساتھ اس کی تسبیح کر

اِنَّ الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ بِغَیْرِ سُلْطٰنٍ اَتٰىهُمْ١ۙ اِنْ فِیْ صُدُوْرِهِمْ اِلَّا كِبْرٌ مَّا هُمْ بِبَالِغِیْهِ١ۚ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ Open ayah 40:56 in the Quran reader

جو لوگ بغیر کسی سند کے جو ان کے پاس آئی ۔ اللہ کی آیتوں میں جھگڑتے ہیں ۔ ان کے دلوں میں سوائے غرور کے اور کچھ نہیں جس تک وہ کبھی نہ پہنچیں گے سو تو اللہ سے پناہ مانگ بیشک وہ جو ہے وہی سنتا دیکھتا ہے

لَخَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 40:57 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ لوگوں کی (ف 1) پیدائش کی نسبت آسمانوں اور زمین کی پیدائش بہت بڑی ملت ہے ۔ لیکن آدمی نہیں جانتے

خدا حشر اجساد پر قادر ہے 1: جو لوگ قیامت کے منکر ہیں اور اس حقیقت کو تسلمی نہیں کرتے کہ موت کے بعداللہ تعالیٰ حشر جساد پر قادر ہے ۔ ان کے لئے قرآن کہتا ہے ۔ کہ تم آسمانوں اور زمین کی تخلیق پر غور کرو ۔ جب یہ طے ہے کہ ان دونوں چیزوں کو اس نے محض اپنی قدرت کاملہ سے پیدا کیا ہے ۔ اور اس میں کسی نوع کی دشواری محسوس نہیں کی ۔ تو پھر اس مشت غبار انسان کو دوبارہ پیدا کرتا کیونکر دشوار ہوگا ۔ جو خدا محض ارادہ کی حرکت سے ہزار جہاں منصہ وجود پر لاسکتا ہے ۔ جس کو وسائل کی ضرورت ہے اور نہ ذرائع کی حاجت ۔ جو زندگی کے عناصر کو پیدا کرنے والا ہے ۔ جس کا علم وسیع ہے ۔ جو یہ جانتا ہے ۔ کہ کہاں کہاں کے آخذ ہیں ۔ اس لئے دوبارہ عالم انسانی کا پیدا کردینا دشوار ہے ؟ دراصل اس قسم کے شبہات اس وقت پیدا ہوتے ہیں ۔ جب اللہ تعالیٰ پر کامل ایمان نہ ہو ۔ ورنہ جب اس کو تسلیم کرلیا ۔ اس کی قدرتوں کو مان لیا ۔ تو پھر شبہات کے لئے کہاں گنجائش رہ جاتی ہے ۔ قرآن حکیم کہتا ہے کہ خدا کے باب میں اس طرح کے شکوک کا اظہار کرنا محض نادانی اور گستاخی ہے ۔ وہ ہر چیز پر قادر ہے ۔ اور سب کچھ کرسکتا ہے ۔
Ayah 40:58

وَ مَا یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُ١ۙ۬ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ لَا الْمُسِیْٓءُ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 40:58 in the Quran reader

اور نابینا اور بینا برابر نہیں اور نہ ایمان دار جو نیک کام کرتے ہیں اور نہ بدکار ۔ تم لوگ بہت کم نصیحت (ف 2) قبول کرتے ہو

ف 2: یعنی جس طرح اندھا اور آنکھوں والا برابر نہیں ہیں ۔ اس طرح مومن اور منکر برابر نہیں ہیں ۔ مومن بصیرت والا ہوتا ہے ۔ اس کا وجدان زیادہ عجلے اور پاکیزہ ہے ۔ وہ بےپناہ دانش وخرد کا مالک ہے ۔ وہ حقائق کو دیکھتا اور محسوس کرتا ہے اور اس نوع کے شکوک اس کے دل میں کبھی پیدا نہیں ہوتے ۔ کہ یہ عالم انسانی دوبارہ وجود پذیر ہوسکے گا یا نہیں ۔ منکر اندھا ہوتا ہے ۔ وہ بصیرت سے محروم اور جہل واحمق اس درجہ مبتلا ہوتا ہے ۔ کہ دین کی معمولی اور ادنی باتوں کو بھی نہیں سمجھ پاتا ۔ یہاں منکر کے لئے المسئی کا لفظ استعمال فرمایا ہے ۔ یعنی ایسا آدمی جس کا کفر و انکار دنیا والوں کے لئے ایک بڑائی اور تکلیف ہے یہ اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے ۔ کہ مومن خیروبرکت ہوتا ہے اور کائنات کے لئے اس کا وجود ہر فلاح وفوز ۔ وہ نہ خود گھاٹے میں رہتا ہے اور نہ اس سے دوسروں کو نقصان پہنچتا ہے ۔
Ayah 40:59

اِنَّ السَّاعَةَ لَاٰتِیَةٌ لَّا رَیْبَ فِیْهَا وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 40:59 in the Quran reader

بیشک وہ گھڑی آنی ہے اس میں شک نہیں ۔ اکثر لوگ ایمان (ف 3) دار نہیں لاتے

ف 3: مکہ والوں کو قیامت کا بھی انکار تھا ۔ اس لئے فرمایا کہ وہ تو قطعی ہے ۔ اس کے آنے میں شک وشبہ نہیں ۔ مگر افسوس ہے کہ اکثر لوگ ایمان نہیں رکھتے اور محرومی کی وجہ سے ان حقائق کا انکار کررہے ہیں ۔
Ayahs 40:60–61

وَ قَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِیْۤ اَسْتَجِبْ لَكُمْ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِیْ سَیَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِیْنَ۠ Open ayah 40:60 in the Quran reader

اور تمہارے رب نے کہا ہے کہ مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعا قبول کروں گا ۔ بیشک جو لوگ میری عبادت سے تکبر کرتے ہیں ۔ عنقریب ذلیل ہوکر دوزخ میں داخل ہوں گے

اَللّٰهُ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ النَّهَارَ مُبْصِرًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 40:61 in the Quran reader

اللہ وہ ہے جس نے تمہارے لئے رات بنائی کہ تم اس میں آرام پاؤ اور دن بنایا دکھانے والا ۔ بیشک اللہ آدمیوں پر فضل رکھتا ہے ۔ لیکن اکثر آدمی شکر (ف 1) نہیں کرتے

ف 1: مشرکین کے لئے قابل غور اور فکریہ بات ہے ۔ کہ آخر کیوں رب العزت کی دہلیز اجابت کو چھوڑ کر وہ دوسروں کے آہستیانوں پر جھکتے ہیں ۔ جب کہ اس نے براہ راست دعا مانگنے کی اجازت دی ہے اور کہا ہے ۔ کہ تم مجھے جس وقت اور جس حالت میں بھی چاہو پکارو ۔ میں تمہاری سنوں گا ۔ ایسے رحیم اور شفیق خدا کو چھوڑ کر دوسروں کی عبادت کرنا محض ناشکری اور کبر و غرور ہے ۔ جن کی سزا ہمیشہ جہنم میں رہنا ہے ۔ غور تو کرو ۔ وہ خدا جس نے تمہارے لئے رات کو پیدا کیا ۔ کہ تم اس میں آرام اور آسودگی حاصل کرو ۔ جس نے دن کو روشنی بخشی ۔ کہ تم اس میں اپنے کاروبار کو سہولت سے جاری رکھ سکو ۔ ایسے صاحب فضل وکرم مالک کا شکر ادا نہ کرنا اور دوسروں سے عقیدت کا اظہار کرنا کتنی بڑی احسان فراموشی ہے ۔ فرمایا ۔ وہ جو تمہاری دعاؤں کو سنتا ہے اور جس نے ساری کائنات کو تمہارے فائدے کے لئے بنایا ہے ۔ وہی تمہارا معبود حقیقی ہے ۔ اسی کے سامنے جھکو اور ادھر ادھر نہ بھٹکتے پھرو ۔ حل لغات :۔ داخرین ۔ ذلیل ہوکر لتسکنوا فیہ ۔ تاکہ تم اس میں آرام کرو ۔ یعنی رات کا مقصد یہی ہے ۔ کہ اس میں دن بھر کی کوفت کو دور کیا جائے ۔ اس کے یہ معنے نہیں ہیں ۔ کہ رات کو ضروری کام کرنا بھی ممنوع ہے ۔ بلکہ بتانا یہ مقصود ہے کہ فطرت کی یہ تقسیم اوقات اس لئے ہے کہ انسان اس سے فائدہ اٹھائے ۔
Ayahs 40:62–64

ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ١ۘ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ٘ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ Open ayah 40:62 in the Quran reader

یہ اللہ ہے جو تمہارا رب ہر شئے کا خالق ہے ۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں پھر کہاں سے الٹے جاتے ہو

كَذٰلِكَ یُؤْفَكُ الَّذِیْنَ كَانُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ یَجْحَدُوْنَ Open ayah 40:63 in the Quran reader

وہ لوگ جو اللہ کی آیتوں کے منکر ہیں اسی طرح پھیرے جاتے تھے

اَللّٰهُ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ قَرَارًا وَّ السَّمَآءَ بِنَآءً وَّ صَوَّرَكُمْ فَاَحْسَنَ صُوَرَكُمْ وَ رَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ١ۖۚ فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 40:64 in the Quran reader

اور اللہ وہ ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو قرارگاہ اور آسمان کو خیمہ بنایا اور تمہاری صورت بنائی ۔ پھر تمہاری صورتیں اچھی بنائیں اور ستھری (ف 1) چیزوں میں سے انہیں رزق دیا ۔ یہ اللہ ہے تمہارا رب سو اللہ بڑی برکت والا جو سارے جہان کا رب ہے

خالق کون ہے ؟ 1: قرآن حکیم نے انسانی توجہ کو مبذول کیا ہے ۔ کہ وہ کائنات کی عظمت و رفعت کو دیکھے ۔ اور غور کرے ۔ کہ یہ عریض وبسیط زمین کس نے ہمارے پاؤں تلے بچھا دی ہے ۔ اور کس نے نیلگون آسمان پیدا کیا ہے ۔ اور کون ہے جس نے انسان کو بہترین شکل و صورت میں پیدا کیا ہے ۔ اور کس نے ہماری تمام ضروریات پوری کی ہیں ۔ کیا بتوں نے اور پھتر کی بےجان مورتیوں نے ایسا کیا ہے کیا احبارو رہبان کی یہ صنعت کاری ہے ۔ یا قبروں اور لاشوں کی یہ کار فرمائی ہے ؟ اگر انہیں سے کسی نے بھی یہ نہیں کیا ۔ اور یہ بات کسی کیا ختیار میں نہیں ہے ۔ تو پھر سوائے رب العالمین کے اور کون عبادت اور پرستش کا مستحق ہوسکتا ہے ۔ اور کون ہے جس کا آستانہ جلال و عظمت اس سے زیادہ قابل وقعت ہے ۔ یہ ملحوظ رہے کہ خدا نے انسان کو اس کائنات میں سب سے زیادہ بہتر حالت میں پیدا کیا ہے ۔ تاکہ یہ احساس خودداری سے بہرہ مند ہو ۔ اور اس کو معلوم ہو کہ اپنی فطرت اور شناخت کے اعتبار سے یہ مجبور ہے ۔ کہ کائنات میں کسی کے سامنے نہ جھکے اور اپنے کو تمام مظاہر قدرت سے بالا اور برتر سمجھے مگر یہ عجیب حماقت حضرت انسان کی ہے ۔ کہ یہ اپنی فطرت اور ساخت کی بھی توہین کرتا ہے ۔ اور نہ صر یہ کہ اپنے ابنائے جنس کے آگے اظہار تذلل و عبودیت کرتا ہے ۔ بلکہ ان پتھروں کو بھی خدا سمجھتا ہے جن کو پاؤں تلے روندتا ہے ۔ اور اس مٹی کو بھی مقدس جانتا ہے جس کو پامال کرتا ہے ۔ حالانکہ چاہیے تھا کہ اگر اس کے پاس کوئی پیغام رشدوہدایت نہ ہوتا تب بھی یہ اپنی حالت پر غور کرتا ۔ اپنے خصائل کا احساس رکھتا ۔ اور خودداری سے دنیا میں بسر کرتا ۔
Ayah 40:65

هُوَ الْحَیُّ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ فَادْعُوْهُ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ؕ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 40:65 in the Quran reader

وہ زندہ ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ سو نری (ف 2) اس کی عبادت کرکے اس کو پکارو ۔ سب تعریف اللہ کے لئے ہے جو سارے جہان کا رب ہے

منبع حیات 2: حکمائے مادیت کے نزدیک یہ مسئلہ بہت اہم ہے کہ زندگی اور اصلی ماخذ کون ہے ۔ کیونکہ جہاں تک مادہ کی تقلیات وتصرفات کا تعلق ہے ۔ یہ اپنی ہر منزت اور ہر سٹیج پر بےجان ہے سوال یہ پیدا ہوتا ہے ۔ کہ پھر زندگی آتی کہاں سے ہے ؟ قرآن اس کا جواب دیتا ہے ۔ کہ زندگی کا منج وہ خدائے حق ہے ۔ جس کی وجہ سے کارگاہ حیات میں زندگی کے ہیں ۔ ورنہ مادہ ہزار ارتقاء کے بعد بھی یہ صلاحیت نہیں رکھتا ۔ کہ زندگی کی رمق بھی پیدا کرسکے ۔ فرمایا اس خدائے حقیقی کی عبادت کرو ۔ یہی معبود ہے ۔ اور اسی کے لئے تمام نوع کی ستائشیں ہیں ۔ یہ ساری کائنات کا بلا امتیاز پروردگار ہے ۔ حل لغات :۔ یجحدون ۔ یعنی انکار کرنا بناء ۔ یعنی لبناء (مثل چھت کے)۔
Ayahs 40:66–67

قُلْ اِنِّیْ نُهِیْتُ اَنْ اَعْبُدَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَمَّا جَآءَنِیَ الْبَیِّنٰتُ مِنْ رَّبِّیْ١٘ وَ اُمِرْتُ اَنْ اُسْلِمَ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 40:66 in the Quran reader

تو کہہ مجھے منع ہوا کہ میں اللہ کے سوا انہیں پوجوں جنہیں تم پکارتے ہو ۔ جبکہ میرے رب کی طرف سے میرے پاس کھلی نشانیاں پہنچ چکیں اور مجھے حکم ہوا ہے کہ میں جہان کے رب کا تابع رہوں

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ یُخْرِجُكُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوْۤا اَشُدَّكُمْ ثُمَّ لِتَكُوْنُوْا شُیُوْخًا١ۚ وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّتَوَفّٰى مِنْ قَبْلُ وَ لِتَبْلُغُوْۤا اَجَلًا مُّسَمًّى وَّ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 40:67 in the Quran reader

وہ وہی ہے جس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا ۔ پھر نطفہ سے پھر پھٹکی سے پھر تمہیں بچہ نکالتا ہے پھر تمہیں پالتا ہے تاکہ تم اپنی جوانی کو پہنچو ۔ پھر تاکہ تم بڈھے (ف 1) ہوجاؤ اور کوئی تم میں اس سے پہلے ہی وفات دے دیا جاتا ہے اور کوئی زندہ رکھا جاتا ہے تاکہ تم وقت مقررہ کو پہنچو اور تاکہ تم سمجھو

ف 1: ان آیات میں بتایا ہے ۔ کہ ہم مجبور ہیں ۔ کہ ایک ہی خدا کی پرستش کریں ۔ کیونکہ دلائل و شواہد کا یہی تقاضا ہے ۔ اور اسی چیز کے لئے ہم مامور بھی ہیں ۔ اس کے بعد انسان کی پیدائش کی چند منزلیں گنائی ہیں ۔ کہ دیکھوں کیونکر اس نے تمہیں زندگی کے مختلف دوروں میں اپنی تربیت خاص سے نوازا ہے ۔ اور تمہیں اس قابل کیا ہے ۔ کہ زندگی کے مقصد کو سمجھ سکو ۔ حل لغات :۔ نطفۃ ۔ قطرہ آب صانی علقہ ۔ ہوسکتا ہے اس کے معنے جرثومہ حیات کے ہوں ۔ جو کہ مم رحم میں جاکر چپک جاتا ہے اشدکم ۔ یعنی وہ عمر جس میں انسان کی فکری اور جسمانی قوتیں انتہائی ترقی پر ہوں ۔
Ayah 40:68

هُوَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ۚ فَاِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ۠ Open ayah 40:68 in the Quran reader

وہ وہی ہے جو جلاتا اور مارتا ہے ۔ پھر جب کسی کام کا حکم کرتا ہے تو اس سے صرف اتنا کہتا ہے کہ ہوجا سو وہ (ف 1) ہوجاتا ہے

مادہ کو قدیم ماننے کے نتائج 1: کن فیکون کلمہ تکوین ہے ۔ یعنی جس وقت اللہ تعالیٰ کسی چیز کو پیدا کرنا چاہتا ہے ۔ تو صرف یہ کافی ہے ۔ کہ وہ کن فیکون کہہ دے اور اس سے بھی مقصود یہ ہے ۔ کہ وہ جب پیدا کرنے کے درپے ہوتا ہے تو پھر اس میں خلاف نہیں ہوتا ۔ ادھر کہا ۔ اور ادھر وہ چیز کتم عدم سے نکل کر لباس وجود میں آگئی ۔ اسے نہ علت مادی کی ضرورت ہے اور نہ دیگر ذرائع اور وسائل کی ۔ وہ بمجرد اپنے ارادے کے صدہزار عوالم کو ان کو منصہ شہود پر جلوہ گر ہوسکتا ہے ۔ کیونکہ وہ قادر مطلق ہے ۔ عالم کی پہنائیوں میں پر اس کی حکومت ہے ۔ وہ ہم انسانوں کی طرح محتاج نہیں ہے ۔ نہ اسے درمیان کی منزلوں کو طے کرنا پڑے ۔ درحقیقت یہ اس کی ذات والا صفات کی بہت بڑی توہین ہے ۔ کہ اس کے متعلق یہ خیال کیا جائے کہ وہ بھی صرف موجودات میں تصرف کرسکتا ہے ۔ اور عدم کی ظلمتوں پر اس کی حکومت نہیں ہے ۔ نہ صرف یہ بلکہ مادہ بھی اپنے تقلبات میں قدیم ہے ۔ اور مخلوق نہیں ہے ! اس کے صاف معنے یہ ہیں کہ خدا اور مادہ دو مستقل چیزیں موجود ہیں فرق یہ ہے کہ خدا کو کچھ اختیارات ہیں اور مادے کو نہیں ہیں ۔ یہ نظر یہ اتنا ملحدانہ ہے ۔ کہ اس کو مان لینے کے بعد خدا کی عظمت دلوں پر برقرار نہیں رہ سکتی ۔ اور اس کے لازمی نتائج یہ ہوسکتے ہیں کہ :۔ (1) خدا صرف مصور ہے (2) خدا مادہ کو فنا کردینے پر قادر نہیں ہے ۔ (3) بقاء قدم میں مادہ اور خدا دونوں برابر کی قوتیں ہیں (4) خدا مادہ کی فطرت کو نہیں بدل سکتا (5) وہ نقائص جو مادہ میں فطرتاً موجود ہیں ان کو دور کردینا خدا کے بس میں نہیں (6) انسان میں جتنے نقائص ہیں ۔ وہ لابدی اور ناگریز ہیں ظاہر ہے ۔ کہ ان خیالات کی موجود گی میں پھر مذہب کی اور نفس دین کی کیا حیثیت باقی رہ جاتی ہے ۔ ان خیالات کے ساتھ اتفاق کے معنی یہ ہیں کہ معاذ اللہ خدا کا درجہ محض برائے نام ہے ۔ حل لغات :۔ الاغلال ۔ غل کی جمع ہے ۔ بمعنی طوق یستحبون ۔ کشاں کشاں لے جائے جائیں گے الحمیم ۔ گرم اور کھولتا ہوا پانی ۔
Ayahs 40:69–76

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ١ؕ اَنّٰى یُصْرَفُوْنَ٤ۖۛۚ Open ayah 40:69 in the Quran reader

کیا تونے ان کی طرف نہیں دیکھا ۔ جو اللہ کی آیتوں میں جھگڑتے ہیں ؟ کہاں سے پھیرے جاتے ہیں

الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِالْكِتٰبِ وَ بِمَاۤ اَرْسَلْنَا بِهٖ رُسُلَنَا١ۛ۫ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 40:70 in the Quran reader

جنہوں نے اس کتاب کو جو ہم نے اپنے رسولوں کو دے کر بھیجا تھا ۔ اس کو جھٹلایا سو وہ آخر کو معلوم کرلیں گے

اِذِ الْاَغْلٰلُ فِیْۤ اَعْنَاقِهِمْ وَ السَّلٰسِلُ١ؕ یُسْحَبُوْنَۙ Open ayah 40:71 in the Quran reader

جب طوق ان کی گردنوں میں پڑیں ہونگے اور زنجیریں بھی ۔ اور گھسیٹے جائیں گے

فِی الْحَمِیْمِ١ۙ۬ ثُمَّ فِی النَّارِ یُسْجَرُوْنَۚ Open ayah 40:72 in the Quran reader

کھولتے ہوئے پانی میں پھر آگ میں جھونک دیئے جائیں گے

ثُمَّ قِیْلَ لَهُمْ اَیْنَ مَا كُنْتُمْ تُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 40:73 in the Quran reader

پھر ان سے کہا جائے گا کہ وہ کہاں ہیں جنہیں تم اللہ کے سوا شریک کرتے تھے

مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ قَالُوْا ضَلُّوْا عَنَّا بَلْ لَّمْ نَكُنْ نَّدْعُوْا مِنْ قَبْلُ شَیْئًا١ؕ كَذٰلِكَ یُضِلُّ اللّٰهُ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 40:74 in the Quran reader

کہیں گے کہ وہ ہمارے پاس سے گم ہوگئے بلکہ ہم تو پہلے کسی کو پکارتے ہی نہ تھے اللہ تعالیٰ اسی طرح کافروں کو گمراہ کرتا ہے

ذٰلِكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَفْرَحُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ بِمَا كُنْتُمْ تَمْرَحُوْنَۚ Open ayah 40:75 in the Quran reader

یہ اس کا بدلہ ہے کہ تم زمین میں ناحق خوش ہوتے تھے ۔ اور اس کا بدلہ ہے ۔ کہ تم اتراتے تھے

اُدْخُلُوْۤا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ فَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِیْنَ Open ayah 40:76 in the Quran reader

دوزخ کے دروازوں میں داخل ہو ، وہاں ہمیشہ (ف 1) رہو سو مغروروں کا کیا برا ٹھکانا ہے

ف 1: ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کی حالت پر تبصرہ فرمایا ہے کہ یہ لوگ بغیر علم و دلیل کے اللہ کی آیتوں میں میں میخ نکالتے ہیں ۔ اور بحث ومناظرہ کرتے ہیں ۔ قرآن کو جھٹلاتے ہیں اور ساری کتابوں کی تکذیب کرتے ہیں ۔ انہیں عنقریب معلوم ہوگا ۔ جب کہ ذلت ورسوائی کے گراں بار طوق ان کی گردنوں میں ہوں گے ۔ اور زنجیریں ان کے پیروں میں ۔ جب یہ گھسیٹتے ہوئے گرم پانی کے چشموں کی طرف لے جائیں گے ۔ اور پھر جہنم میں جھونک دیئے جائیں گے ۔ تب ان سے پوچھا جائیگا ۔ کہ آج تمہارے معبودان باطل کہاں ہیں ۔ آج وہ کیوں تمہاری عقیدت مندی اور نیاز مندی کا صلہ نہیں دیتے ۔ اس وقت ان کو محسوس ہوگا کہ ہم غلطی پر تھے ۔ یہ دیکھیں گے کہ وہ بت اور وہ معبودان باطل بالکل غائب ہیں ۔ تو واقعہ ہی سے اضطراب اور بےچینی میں انکار کردینگے ۔ اور کہہ دینگے کہ ہم تو ان میں کسی کو بھی نہیں پوجتے تھے ۔ ارشاد ہوگا ۔ کہ ساری تکلیفیں اس لئے ہیں ۔ کہ تم نے دنیا میں اپنے لئے باطل اور جھوٹ کو پسند کرلیا تھا ۔ اور سای پر تم کو ناز اور غرور تھا ۔ آج جاؤ جہنم کے دروازے تمہارے لئے کھلے ہیں ۔ وہ تمہارا ٹھکانا ہے ۔ اور وہاں تمہیں ہمیشہ رہنا ہے ۔
Ayah 40:77

فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ١ۚ فَاِمَّا نُرِیَنَّكَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّكَ فَاِلَیْنَا یُرْجَعُوْنَ Open ayah 40:77 in the Quran reader

پس تو صبر کر ۔ بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے ۔ پھر جو وعدے ہم ان سے کرتے ہیں اگر ہم کوئی وعدہ ان میں سے تجھے دکھادیں یا تجھے قبض کرلیں ۔ پھر وہ ہماری ہی طرف لوٹ (ف 2) کر آئینگے

ف 2: غرض یہ ہے کہ آپ مطمئن رہیں آپ کے مخالفین یقینا عذاب میں گرفتار ہونگے ۔ کیونکہ یہ مقدرات میں سے ہے ۔ کہ جو لوگ حق اور فطرت کی مخالفت کریں گے ان سے انتقام لیا جائے گا ۔ اور دنیا میں بھی انہیں معلوم ہوجائے گا کہ صداقت کی مخالفت آسان نہیں ہے ۔ اس کے بہت زیادہ تلخ اور ناقابل برداشت نتائج ہوسکتے ہیں ۔ او نتوفینک سے مراد تشکیک وتردید نہیں ہے ۔ کہ یا تو انہیں دنیا میں عذاب سے دو چار کیا جائے گا اور یا جب یہ لوگ ہمارے پاس لوٹ کر آئیں گے ؟ اس وقت انہیں جہنم میں جھونکا جائیگا ۔ بلکہ وہ حقیقتوں کا جمع کرنا مقصود ہے ۔ یعنی یہ بھی ہوگا کہ یہ لوگ یہاں درد ناک عذاب میں مبتلا ہوں اور یہ بھی ہوگا ۔ کہ وہاں غضب الٰہی کا نظارہ دیکھیں ۔ چناچہ جہاں تک دنیا میں نزول عذاب کا تعلق تھا وہ پیش آیا ۔ اور بدر کی صورت میں اس نے مکہ والوں کے تمام کبروغرور کو ہمیشہ کے لئے ختم کردیا ۔ حل لغات :۔ ترحون ۔ المرح ۔ الکبر ۔ یعنی اترانا ۔
Ayah 40:78

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِكَ مِنْهُمْ مَّنْ قَصَصْنَا عَلَیْكَ وَ مِنْهُمْ مَّنْ لَّمْ نَقْصُصْ عَلَیْكَ١ؕ وَ مَا كَانَ لِرَسُوْلٍ اَنْ یَّاْتِیَ بِاٰیَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ۚ فَاِذَا جَآءَ اَمْرُ اللّٰهِ قُضِیَ بِالْحَقِّ وَ خَسِرَ هُنَالِكَ الْمُبْطِلُوْنَ۠ Open ayah 40:78 in the Quran reader

اور تجھ سے پہلے ہم نے کتنے رسول بھیجے ۔ بعض ان میں سے وہ ہیں جن کا حال ہم نے تجھے سنایا اور ان میں سے بعض (ف 1) وہ ہیں جن کا حال ہم نے تجھے نہیں سنایا اور کسی رسول کا اختیار نہ تھا کہ بغیر خدا کے حکم کے کوئی معجزہ لے آتا ۔ سو جب خدا کا حکم آیا تو انصاف سے فیصلہ ہوگیا اور جھوٹوں نے اس وقت نقصان اٹھایا

بعض انبیاء کا ذکر قرآن میں نہیں ہے 1: چونکہ قرآن عربوں میں نازل ہوا ۔ اور عربی زبان میں نازل ہوا اس لئے ضروری تھا ۔ کہ اس میں انہیں انبیاء کا تذکرہ ہو جن سے ان کے گوش آشنا ہوں ۔ اور جن کے متعلق انہیں کچھ بیوقوف ہو اس لئے جمیعا قرآن حکیم نے اس التزام کو قائم رکھا ہے ۔ گو کہ اس نے اس نظریہ کو بڑے زور کے ساتھ اشاعت کی ۔ کہ مذہب کس مرزویوم کے ساتھ مختص نہیں اور کائنات میں ہر جگہ اللہ کے پیغمبر آئے ۔ پھر بھی ان سے شامی انبیاء کا زیادہ تر ذکر کیا ہے ۔ کہ یہودی اور عیسائی انہیں پاکبازوں کے حالات سے واقف تھے ۔ اور ان کے لئے انہیں حضرات کا اسوہ پاک قابل تقلید ومتبع قرار دیا جاسکتا تھا ۔ اس آیت میں اس غلط فہمی کو رفع فرمایا ہے ۔ کہ مبادا کوئی شخص اس طرح یہ نہ سمجھ لے کہ جن انبیاء کو قرآن نے بیان ہے بس وہی عہدہ نبوت پر فائز تھے ۔ بلکہ انبیاء کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے ۔ ہر قوم میں حالات اور مقامات کے مطابق اللہ نے اپنے رسولوں کو بھیجا ہے ۔ اور انہوں نے ہر زبان میں اللہ کے پیغام کو پہنچایا ہے ۔ ہاں مصالح کے موافق ہم نے بعض کا ذکر کیا ہے اور بعض کو چھوڑ دیا ہے ۔
Ayah 40:79

اَللّٰهُ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَنْعَامَ لِتَرْكَبُوْا مِنْهَا وَ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَ٘ Open ayah 40:79 in the Quran reader

اللہ وہ ہے جس نے تمہارے لئے چوپائے (ف 2) پیدا کئے تاکہ تم ان میں سے بعض پر سوار ہو اور بعض کو ان میں سے کھاتے ہو

ف 2: مظاہر فطرت کی ترف توجہ کو مبذول فرمایا ہے ۔ اور بتایا ہے ۔ کہ دیکھو اللہ نے تمہارے لئے کس درجہ آرام اور سہولتیں مہیا فرمادی ہیں ۔ چارپائے اور حیوانات پیدا کئے ہیں جن میں بعض پر تم سواری کرتے ہو ۔ اور بعض کو کھاتے ہو ۔ اس کے علاوہ ان کے چمڑے ۔ ہڈیوں آنتوں اور خون میں بہت سے منافع ہیں ۔ تم ان پر سوار ہوکر کہاں سے کہاں پہنچ جاتے ہو ۔ پھر کشتیاں اور جہاز ہیں کہ سمندر میں ڈال دیتے ہو ۔ اور لدے لدے پھرتے ہو ۔ حل لغات :۔ ومنھا تاکلون ۔ سے غرض منافع کی تقسیم ہے ۔ یعنی حیوانات میں یہ فوائد ہیں ۔ یہ مقصد نہیں ہے ۔ کہ سواری کے تمام جانور غیر کول ہیں ۔