36. Surah Yaseen

يسYaseen · 83 ayahsسراج البیان

Ayahs 36:40–50

لَا الشَّمْسُ یَنْۢبَغِیْ لَهَاۤ اَنْ تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَ لَا الَّیْلُ سَابِقُ النَّهَارِ١ؕ وَ كُلٌّ فِیْ فَلَكٍ یَّسْبَحُوْنَ Open ayah 36:40 in the Quran reader

نہ سورج سے ہوسکتا ہے کہ چاند کو پکڑے اور نہ رات دن کے آگے بڑھ سکتی ہے اور سب ایک ایک گھیرے میں تیرتے پھرتے ہیں (ف 2)

وَ اٰیَةٌ لَّهُمْ اَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّیَّتَهُمْ فِی الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ Open ayah 36:41 in the Quran reader

اور ایک نشانی ان کے لئے یہ ہے کہ ہم نے بھری ہوئی کشتی (نوح (علیہ السلام) ) میں ان کے اجداد کی ذریت کو اٹھا لیا تھا

وَ خَلَقْنَا لَهُمْ مِّنْ مِّثْلِهٖ مَا یَرْكَبُوْنَ Open ayah 36:42 in the Quran reader

اور اس کشتی کی مانند ہم نے ان کے لئے وہ چیز پیدا کی جس پر سوار ہوتے ہیں (اونٹ وغیرہ)

وَ اِنْ نَّشَاْ نُغْرِقْهُمْ فَلَا صَرِیْخَ لَهُمْ وَ لَا هُمْ یُنْقَذُوْنَۙ Open ayah 36:43 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہیں تو انہیں غرق کردیں پھر نہ کوئی ان کی فریاد کو پہنچے اور نہ چھڑائے جائیں

اِلَّا رَحْمَةً مِّنَّا وَ مَتَاعًا اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 36:44 in the Quran reader

مگر ہماری رحمت سے اور ایک وقت تک کے فائدے کے لئے

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اتَّقُوْا مَا بَیْنَ اَیْدِیْكُمْ وَ مَا خَلْفَكُمْ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 36:45 in the Quran reader

اور جب انہیں کہا جائے کہ اس (عذاب) سے ڈرو جو تمہارے آگے ہے اور تمہارے پیچھے ہے تاکہ تم پر رحم ہو

وَ مَا تَاْتِیْهِمْ مِّنْ اٰیَةٍ مِّنْ اٰیٰتِ رَبِّهِمْ اِلَّا كَانُوْا عَنْهَا مُعْرِضِیْنَ Open ayah 36:46 in the Quran reader

اور ان کے رب کی آیتوں میں سے جب کبھی کوئی آیت ان کے پاس آتی ہے اسی سے وہ منہ پھیر لیتے ہیں

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ١ۙ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنُطْعِمُ مَنْ لَّوْ یَشَآءُ اللّٰهُ اَطْعَمَهٗۤ١ۖۗ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 36:47 in the Quran reader

اور جب انہیں کہا جائے کہ جو تمہیں اللہ نے رزق دیا ہے اس میں سے خرچ کرو ۔ تو کافر ایمانداروں سے کہتے ہیں کہ ہم ایسے شخص کو کھلائیں کہ اللہ چاہتا ہے تو اسے (خود) کھلاتا ؟ تم تو صریح گمراہی میں ہو

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 36:48 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ یہ وعدہ کب پورا ہوگا ، اگر تم سچے ہو

مَا یَنْظُرُوْنَ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً تَاْخُذُهُمْ وَ هُمْ یَخِصِّمُوْنَ Open ayah 36:49 in the Quran reader

وہ تو ایک چنگھاڑ ہی کے انتظار ہیں جو انہیں اس وقت پکڑیگی جب وہ آپس میں جھگڑ رہے ہوں گے

فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ تَوْصِیَةً وَّ لَاۤ اِلٰۤى اَهْلِهِمْ یَرْجِعُوْنَ۠ Open ayah 36:50 in the Quran reader

پھر نہ وصیت کرسکیں گے اور نہ اپنے اہل کی طرف لوٹ کر آسکیں گے

قرآن اور نظریات جدیدہ 2: یہ مسئلہ کہ آفتاب گھومتا ہے یا زمین اور چاند کی گردش کس نوع کی ہے ؟ اس کا تعلق مذہب کے ساتھ بالکل نہیں ہے ۔ یہ فلکیات کی بحث میں ہے اور مذہب کا موضوع بحث یہ ہے ۔ کہ کس طرح دلوں کو شرک کی آلودگیوں سے پاک کیا جاسکتا ہے ؟ اور کیونکر انسانوں کو فلاح و بہبود کا درس دیاجاسکتا ہے ۔ مذہب ان مسائل سے تعرض کرتا ہے ۔ کہ وہ کون تعلیمات ہیں ۔ جو لحمہ انسانی کے لئے باعث برکت وسعادت قرار پاسکتی ہیں ۔ اور وہ کون پیغام ہے جس کو اللہ کا پیغام کہا جاسکتا ہے ۔ یہ سائل کہ زمین پپٹی ہے گول ۔ ستاروں کی حرکت مداری ہے یا محوری آفتاب کی روشنی کس نوع کی ہے ۔ کسوف وخسوف کے واقعات کیوں ظہور پذیر ہوتے ہیں ۔ یہ سب مذہب کی حدود سے باہر ہیں ۔ اس لئے بالطیع ان مسائل کو قرآن ، بائبل ، اور دیگر مذہبی کتابوں میں تلاش کرنا چاہیے ۔ ان مذہبی کتابوں میں اگر اس نوع کے اشارات آتے ہیں ۔ تو وہ اس نہج سے نہیں ۔ کہ یہ مذہبی کتابیں کسی خالص زاویہ نگاہ کی موید ہوتی ہیں ۔ بلکہ محض برسبیل استطراء ان سے مقصود کسی دوسری حقیقت کو بیان کرنا ہوتا ہے ۔ جو اپنی جگہ پر بالکل صحیح اور اٹل ہوتی ہے ۔ مثلا جب یہ فرمایا ہے کہ آفتاب اپنے ٹھکانے کی طرف چلتا رہنا ہے ۔ تو اس سے یہ غرض نہیں ہے کہ آفتاب حرکت کرتا رہتا ہے ۔ بلکہ یہ مراد ہے ۔ کہ آفتاب کا طلوع و غروب ایک مقرر انداز کے مطابق ہے ۔ جس کی تفسیر عا انک تقدیر العزیز العلیم کہہ کر خود فرمادی جس کے خلاف نہیں ہوتا ۔ اسی طرح چاند کی منازل بیان کرنے میں اس کی مختلف حالتوں کی طرف اشارہ مقصود ہے اور یہ بتایا ہے کہ اللہ کا نظام کس درجہ حیرت اور عبرت پیدا کرنیوالا ہے ۔ اور کل فی خطک یسبحون بھی ہی قبیل سے ہے ۔ یعنی ایک اس حقیقت کو بیان کیا ہے جس کو ہم مشاہدہ کرتے ہیں ۔ اس کی تحقیق سے بحث نہیں بہر آئینہ قرآن میں جہاں اس نوع کے وواقعات آئے ہیں ۔ ان سے مراد اللہ کی قدرتوں پر استیہاء ہوتا ہے کسی طبعی حقیقت کا اظہار نہیں ۔ اس ضمن میں یہ بات بھی یاد رکھنا چاہیے ۔ کہ طبعیات اور فلکیات کے نظرئیے ہمیشہ تبدیل ہوتے رہتے ہیں اور یہ ضروری نہیں ۔ کہ ہم ان کی قسمت کے متعلق یقین رکھیں ۔ اور جب یہ دیکھیں کہ قرآن کے پیش کردہ نظریہ میں اور اس میں تصادم ہے تو قرآن میں تاویل کرنے لگیں ۔ کیونکہ قرآن میں جو کچھ پیش کیا گیا ہے وہ قطعی دھیمی ہے گو اس کی حقیقت ہمیں نہ معلوم ہو ۔ اور نظریات ہر آن معرض بحث میں ہیں ۔ آج کچھ میں اور کل کچھ چناچہ زمین کی گردش ہی کے متعلق دیکھ لیجئے ! اب پھر ایک گروہ پیدا ہوگیا ہے ۔ جو اس کا انکار کررہا ہے ۔ اور ہی پرانا نظریہ ان کے نزدیک صحیح ہے ان حالات میں قرآن کو نظریات کا موافق بنانے کی کوشش کرنا محض بےشود ہے ۔ حل لغات :۔ لمستقر ۔ ٹھکانا یسجون ۔ پتے ہیں ۔ تیر رہے ہیں ۔ یہ عرف معنوی ہے اظہار حقیقت نہیں ۔ ائمشحون ۔ مملو صریخ ۔ فریاد رس ۔ صراح سے ہے ۔ جس کے معنے مدد کے لئے چیخ و پکار کرنا ہے ۔
Ayahs 36:51–58

وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَاِذَا هُمْ مِّنَ الْاَجْدَاثِ اِلٰى رَبِّهِمْ یَنْسِلُوْنَ Open ayah 36:51 in the Quran reader

اور نرسنگا (ف 1) پھونکا جائے گا ۔ پھر تبھی وہ قبروں سے اپنے رب کی طرف دوڑ پڑیں گے

قَالُوْا یٰوَیْلَنَا مَنْۢ بَعَثَنَا مِنْ مَّرْقَدِنَا١ؐٚۘ هٰذَا مَا وَعَدَ الرَّحْمٰنُ وَ صَدَقَ الْمُرْسَلُوْنَ Open ayah 36:52 in the Quran reader

کہیں گے ہائے ہماری کمبختی ہمیں ہماری نیند کی جگہ سے کس نے اٹھا دیا ؟ یہ وہ ہے جو رحمن نے وعدہ کیا تھا اور رسولوں نے سچ کہا تھا

اِنْ كَانَتْ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً فَاِذَا هُمْ جَمِیْعٌ لَّدَیْنَا مُحْضَرُوْنَ Open ayah 36:53 in the Quran reader

یہ واقعہ صرف ایک چنگھاڑ ہوگی پھر فوراً ہی وہ سب ہمارے پاس پکڑے آئیں گے

فَالْیَوْمَ لَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْئًا وَّ لَا تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 36:54 in the Quran reader

سو آج کسی شخص پر ظلم نہ کیا جائے گا ۔ اور وہی بدلہ پاؤگے جو کرتے تھے

اِنَّ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ الْیَوْمَ فِیْ شُغُلٍ فٰكِهُوْنَۚ Open ayah 36:55 in the Quran reader

بیشک بہشتی لوگ بیچ ایک کام کے خوش ہیں

هُمْ وَ اَزْوَاجُهُمْ فِیْ ظِلٰلٍ عَلَى الْاَرَآئِكِ مُتَّكِئُوْنَ Open ayah 36:56 in the Quran reader

وہ اور ان کی بیبیاں سایوں میں تختوں پر تکیے لگائے بیٹھی ہیں

لَهُمْ فِیْهَا فَاكِهَةٌ وَّ لَهُمْ مَّا یَدَّعُوْنَۚۖ Open ayah 36:57 in the Quran reader

ان کے لئے وہاں میوے ہیں اور جو کچھ وہ مانگیں گے ان کے لئے موجود ہے

سَلٰمٌ١۫ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِیْمٍ Open ayah 36:58 in the Quran reader

رب مہربان کی طرف سے سلام کہا جائے گا

نرسنگا پھونکا جائے گا 1: نفحہ ثانثہ مردہ قالبوں میں زندگی پیدا کردے گا ۔ اور قرنوں سے تیل نکل کر خدا کے حضور میں پہنچنے لگیں گے ۔ اور قبروں سے تیل نکل کر خدا کے حضور میں پہنچنے لگیں گے ۔ اس وقت یہ لوگ حیرت وتعجب سے کہیں گے ، کہ ہم کو ان خواب گاہوں سے کس نے اٹھا دیا ۔ ارشاد ہوگا ۔ کہ یہ وہی قیامت ہے ۔ جس کا ہم سب سے رحمن نے وعدہ کیا تھا ۔ اور پیغمبر سچ کہتے تھے ۔ ہوسکتا ہے کہ صور کی آواز بذاتہ موت اور زندگی پیدا کرنے میں موثر ہو ۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے ۔ کہ یہ آواز محض ایک نوع کا اعلان ہو ۔ اور موخر دوسرے اسباب ہوں ۔ بہرحال جہاں تک قرآن حکیم کا تعلق ہے ۔ اس میں اس حقیقت شرعیہ کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے ۔ کہ وہ دفعہ نرسنگا پھونکا جائے گا ۔ ایک دفعہ تو اس کا اثر یہ ہوگا کہ ساری کائنات موت کی نیند سوجائے گی اور دوسری دفعہ یہ اثر ہوگا کہ پھر اس نیند سے بیدار ہوجائے گی ۔ اور کوئی وجہ نہیں کہ اس کا انکار کیا جائے ۔ جب کہ آواز کی تاثیر کو انسانی جذبات محبت و غضب میں بہت بڑا دخل ہے ۔ بلکہ بعض اوقات تو یہ اثر حیوانات اور جمادات تک ممتد ہوجاتا ہے ۔ ان حالات میں آواز کی ایک ایسی مہیب صورت سمجھ میں آسکتی ہے ۔ جو فناء عالم پر منتج ہو ۔ اور اسی طرح یہ بھی قابل فہم حقیقت ہے کہ آواز ایسی حیات بخش اور زندگی آفرین ہو ۔ کہ صدیوں کے مرے ہوئے لوگوں میں حرارت زیسیت پیدا ہوجائے ۔ اور یہ امکانات اس وقت اور زیادہ قوی ہوجاتے ہیں ۔ جب کہ علیم وسکیم خدا اس کی زندگی اور موت کا وسیلہ قراردے ۔ موت کے بعد گو سزا وجزا کا قانون باقاعدہ نافذ نہیں ہوتا ہے ۔ مگر ہر شخص اپنے سابقہ اعمال اور سابقہ تجربات کی روشنی میں راحت ورنج ضرور محسوس کرتا ہے ۔ اور وہ اپنا مقام قطعاً دیکھ لیتا ہے ۔ کہ کہاں واقع ہے اس لئے اگر نیک اور صالح ہو ۔ تو مسرت واجتہاج کے جذبات سے معمور ہوجاتا ہے ۔ اور بڑا اور فاسق وفاجر ہو ۔ تو غم واندوہ کے احساسات متالم ہوتا ہے ۔ یہ عذاب باثواب قبر ہے ۔ اس سے اظہار افسوس اور تعجب سے کہ من بعثنا من مرتد نابظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ شاید موت کے بعد پوری آسودگی حاصل ہوتی ہے ۔ اور عذاب قبر کا نظریہ درست نہیں حالانکہ یہ غلط ہے ۔ بات یہ ہے کہ یہ عالم برزخ کی زندگی ہے ۔ جو بہ نسبت عالم حشر کے ایک نوع کی تنویم ہے ۔ پھر جس طرح کہ سویا ہوا آدمی بیدار ہونے پر عالم خواب کے تاثرات کو بھول جاتا ہے ۔ اسی طرح یہ لوگ جب بیدار ہوں گے ۔ تو اس وقت حقیقت ان کے سامنے پورے معنوں میں مثل اور متشکل ہوگی ۔ اس وقت یہ اس عالم خواب کی زندگی کو بہرآئینہ نیند کی زندگی قرار دیں گے ۔ اور اس کو آسودگی سے تعبیر کریں گے ۔ حل لغات :۔ توھیۃ ۔ وصیت الصور ۔ نرسنگا الاجداث ۔ جمع جدث ۔ بمعنی قبریں مرقدنا ۔ خواب گاہ ۔ رقود سے ہے جس کے معنے سونے کے ہیں ۔
Ayahs 36:59–64

وَ امْتَازُوا الْیَوْمَ اَیُّهَا الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 36:59 in the Quran reader

اور اے مجرموں آج تم الگ (ف 1) ہوجاؤ

اَلَمْ اَعْهَدْ اِلَیْكُمْ یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ اَنْ لَّا تَعْبُدُوا الشَّیْطٰنَ١ۚ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 36:60 in the Quran reader

اے نبی آدم کیا میں نے تم سے عہد نہ کیا تھا کہ شیطان کو نہ پوجنا وہ تمہارا کھلا دشمن ہے

وَّ اَنِ اعْبُدُوْنِیْ١ؔؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ Open ayah 36:61 in the Quran reader

اور یہ کہ مجھی کو پوجنا یہ سیدھی راہ ہے

وَ لَقَدْ اَضَلَّ مِنْكُمْ جِبِلًّا كَثِیْرًا١ؕ اَفَلَمْ تَكُوْنُوْا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 36:62 in the Quran reader

اور اس نے تم میں بہت خلقت کو بہکایا ۔ سو کیا تم سمجھتے نہ تھے

هٰذِهٖ جَهَنَّمُ الَّتِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ Open ayah 36:63 in the Quran reader

یہ وہ دوزخ ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا

اِصْلَوْهَا الْیَوْمَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ Open ayah 36:64 in the Quran reader

آج اس میں داخل ہو کیونکہ تم کفر کرتے تھے

ف 1: جنت والوں کی زندگی کا جو نقشہ کھینچا اس کا مطلب محض یہ ہے کہ وہ ہر طرح بہترین حالت میں ہوں گے ۔ اور کلفتوں اور مصیبتوں سے آزاد ہوں گے ۔ اس دن ان میں اور مجرموں میں ایک قسم کا امتیاز ہوگا ۔ کہا جائے گا ۔ چونکہ تم لوگوں نے خدا کی پرستش نہیں کی ہے ۔ اور دنیا میں شیطان کی پیروی کو اپنا شعار بنایا ہے ۔ اس لئے آج تمہاری یہ سزا ہے ۔ کہ جہنم میں اپنا مسکن بناؤ حل لغات :۔ فاذاھم ۔ مفاجاۃ کے لئے ۔ یعنی غیر متوقع ۔ یکایک الارائک ۔ الغی کہ کی جمع ہے ۔ بمعنی تخت ہائے آراستہ ۔
Ayahs 36:65–67

اَلْیَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰۤى اَفْوَاهِهِمْ وَ تُكَلِّمُنَاۤ اَیْدِیْهِمْ وَ تَشْهَدُ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 36:65 in the Quran reader

آج ہم ان کے منہ پر مہریں کردیں گے اور ان کے ہاتھ ہم سے بولیں گے اور ان کے پیر بتلائیں گے جو وہ کرتے (ف 1) تھے

وَ لَوْ نَشَآءُ لَطَمَسْنَا عَلٰۤى اَعْیُنِهِمْ فَاسْتَبَقُوا الصِّرَاطَ فَاَنّٰى یُبْصِرُوْنَ Open ayah 36:66 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہیں تو ان کی آنکھیں مٹا دیں پھر وہ راہ لینے کو دوڑیں ۔ پھر انہیں کہاں سے سوجھ پڑے

وَ لَوْ نَشَآءُ لَمَسَخْنٰهُمْ عَلٰى مَكَانَتِهِمْ فَمَا اسْتَطَاعُوْا مُضِیًّا وَّ لَا یَرْجِعُوْنَ۠ Open ayah 36:67 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہیں تو جہاں وہ ہوں ۔ وہیں انہیں مسخ کردیں (یعنی صورت بدل دیں) پھر نہ آگے چل سکیں اور نہ پیچھے لوٹ سکیں

اعضاء بھی بولیں گے 1: تم حجت کی بنا پر خدا کے سامنے ہمارا منہ بند ہوجائے گا ۔ جو کہ اس دنیا میں ہر گناہ کی وکالت کرتا ہے ۔ زبانیں گونگ ہوجائیں گی ۔ جو کہ طاقت اور تیزی سے معصیت کی اس طرح تابید کرتی ہے ۔ کہ اس پر صواب کا شبہ ہونے لگتا ہے ۔ ہاتھ پاؤں اور دیگر جو ائع جو چھپ چاپ ہماری خواہشات نفس کی تکمیل میں معروف ہوجاتے ہیں ۔ وہاں فرمانبرداری نہیں کریں گے ۔ اور ہماری مخالفت میں گواہی دیں گے ۔ اور کوئی بات رب العزت سے پوشیدہ اور مستتر نہیں رہے گی ۔ یہ گواہی اور شہادت کس نوح کی ہوگی ہاتھ ، پاؤں اور جوارح کہیں نفرح بولیں گے ۔ یہ ایسی باتیں ہیں جن کو اس دنیا میں پوری طرح سمجھنا فہم انسانی کی وسعت سے باہر ہے ۔ ہاں یہ چیزیں ناممکن نہیں ہیں ۔ آج اگر گراموفون کے ریکارڈ متکلم اور گویائی کا مظاہرہ کرسکتے ہیں ۔ تو کل گوشت پوست کے یہ اعضاء بھی گفتگو کرسکیں گے ۔ اور زبان آخرسوائے گوشت کے اور کیا چیز ہے ؟ جب یہ وہ انگل کی چیز بڑھ بڑھ کر باتیں بناسکتی ہے ۔ تو اللہ تعالیٰ اعضاء وجمارح میں بھی یہ استعداد پیدا کرسکتے ہیں ۔ کہ وہ بول سکیں ۔ اور جہاں تک اس کی قدرت کا تعلق ہے ۔ وہ اتنی وسیع ہے ۔ کہ اس قسم کے سوالات پیدا ہی نہیں ہوتے ۔ وہ چاہے تو لوہے میں نغمے پیدا کردے ۔ اور پہاڑوں میں حساس دل رکھ دے ۔ حل لغات :۔ فطمسنا ۔ طمس سے مشتق سے ۔ جس کے معنے کسی چیز کے نقش اور اثر کو مٹا دینا ہے ۔ جیسے واذا النجوم طمست ۔ یعنی جب ستاروں کی روشنی ان سے چھین لی جائے گی تختم ۔ مہر کردیں گے ۔
Ayahs 36:68–72

وَ مَنْ نُّعَمِّرْهُ نُنَكِّسْهُ فِی الْخَلْقِ١ؕ اَفَلَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 36:68 in the Quran reader

اور جسے ہم بڑی عمر دیتے ہیں اسے پیدائش میں نگونساز (الٹا) کرتے ہیں ، پھر کیا یہ سمجھتے (ف 1) نہیں ؟

وَ مَا عَلَّمْنٰهُ الشِّعْرَ وَ مَا یَنْۢبَغِیْ لَهٗ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ وَّ قُرْاٰنٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 36:69 in the Quran reader

اور ہم نے اسے شعر کہنا نہیں سکھلایا اور وہ اس (کی شان) کے لائق ہی نہیں یہ تو نری نصیحت اور صاف قرآن ہے

لِّیُنْذِرَ مَنْ كَانَ حَیًّا وَّ یَحِقَّ الْقَوْلُ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 36:70 in the Quran reader

تاکہ وہ اس کو جس میں جان ہے ڈرائے ۔ اور کافروں پر بات ثابت ہو

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا خَلَقْنَا لَهُمْ مِّمَّا عَمِلَتْ اَیْدِیْنَاۤ اَنْعَامًا فَهُمْ لَهَا مٰلِكُوْنَ Open ayah 36:71 in the Quran reader

کیا انہوں نے یہ نہیں دیکھا کہ ہم نے ان کے لئے چار پائے پیداکئے جو ہمارے ہاتھوں نے بنائے ہیں ، پھر وہ ان کے مالک ہیں

وَ ذَلَّلْنٰهَا لَهُمْ فَمِنْهَا رَكُوْبُهُمْ وَ مِنْهَا یَاْكُلُوْنَ Open ayah 36:72 in the Quran reader

اور ہم نے ان کے سامنے انہیں عاجز کردیا پھر ان میں سے بعض ان کی سواری ہیں اور بعض کو وہ کھاتے ہیں

ف 1: کفار کا ایک عذر یہ ہوسکتا ہے ۔ کہ ہمیں دنیا میں غوروفکر کی کافی مہلت نہیں دی گئی ۔ ورنہ ہم ضرور ہدایت ورشد کو پالیتے اور دین حقہ کی سعادت سے بہرہ مند ہوتے ۔ تو اس کا جواب اس آیت میں دیا ہے ۔ کہ جہاں تک اس عمر طبعی کا ذکر ہے ۔ جو عبرت پذیری کے لئے موزوں ہوتی ہے ۔ وہ تمہیں بغیر تمہارے مطالبہ کے عطا کی گئی ۔ اور جب تم نے اس طویل عرصے میں حق کو قبول نہیں کیا ۔ تو کیا ایسے وقت تم اس کو قبول کرتے ۔ جب زیادتی عمر کے باعث تمہارے توانے ذہنی وفکری مضمحل ہوجاتے ۔ اور تم میں قبولیت کی کوئی استعداد ہی باقی نہ رہتی ۔ یہ یاد رہے کہ یہ قانون کوئی کلیہ نہیں ہے ۔ انبیاء اس سے مستثنیٰ ہیں ۔ وہ جس قدر عمر میں بڑھتے ہیں ۔ ان کی روحانیت اور فیوض میں اضافہ ہوتا رہتا ہے ۔
Ayahs 36:73–76

وَ لَهُمْ فِیْهَا مَنَافِعُ وَ مَشَارِبُ١ؕ اَفَلَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 36:73 in the Quran reader

اور ان میں ان کے لئے بہت فائدے اور (ان کے دودھ دینے والے تھن ہیں گویا کہ) پینے (ف 2) کے گھاٹ ہیں پھر کیا وہ شکر نہیں کرتے ؟

وَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اٰلِهَةً لَّعَلَّهُمْ یُنْصَرُوْنَؕ Open ayah 36:74 in the Quran reader

اور انہوں نے اللہ کے سوا اور معبود پکڑے ہیں کہ شائد ان کو مدد پہنچے

لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَهُمْ١ۙ وَ هُمْ لَهُمْ جُنْدٌ مُّحْضَرُوْنَ Open ayah 36:75 in the Quran reader

وہ ان کی مدد نہ کرسکیں گے اور یہ ان کی فوج ہوکر پکڑے آئیں گے

فَلَا یَحْزُنْكَ قَوْلُهُمْ١ۘ اِنَّا نَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ Open ayah 36:76 in the Quran reader

پس ان کا قول غمگین نہ کرے ہم جانتے ہیں جو وہ چھپاتے ہیں اور جو وہ ظاہر کرتے ہیں

پیغمبر شاعر نہیں ہوتا 2: چونکہ فطرت کے ترجمان تھے ۔ اس لئے آپ کو پیغام دیا گیا وہ باوجود بلاغت وفصاحت کے اعلیٰ ترین درجہ میں ہونے کے نثر میں نظم وشعر میں نہیں تھا ۔ کیونکہ نثر اظہار مدعا کا فطری طریقہ ہے جس میں قافیہ اور ردیف کا تکلف نہیں ہوتا ۔ صرف مقصود بالذات معانی اور مطالب ہوتے ہیں ۔ الفاظ نہیں ہوتے اور شعر پیر آئینہ ایک قسم کا تصنع ہے ۔ جو باوجود اپنے تاثر اور موسیقی کے نثر کا اس اعتبار سے ہم رتبہ نہیں ہے کہ اس کا حسن و جمال وزن اور قافیہ کار میں منت ہے اور نثر کا حسن اپنا ذاتی حسن ہے ؎ تکلف سے بری ہے حسن ذاتی نبائے گل میں گل بوٹا کہاں ہے شعر اور نغمہ سے اس لئے بھی انبیاء کو مناسبت نہیں ہوت ۔ کہ ان کا پیغام صرف قلب اور دل میں ایک کیف پیدا کرنے کے لئے نہیں ہوتا ۔ بلکہ اس سے مقصود یہ ہوتا ہے کہ عمل کی تمام قوتوں کو بیدار کیا جائے ۔ شعر سن کر تاثر تو طاری ہوتا مگر عمل کے لیے تحریک نہیں ہوتی ۔ بےاختیار دل یہ تو چاہتا ہے کہ اس کے حسن کی داد دی جائے ۔ مگر یہ اکثرہوتا ہے ۔ کہ وہ جہاد اور سخت کوشش پر آمادہ کرے ۔ اس آیت میں جو نفی ہے ۔ وہ تصنع اور اختلاف کی نفی ہی حکمت وبلاغت کی نفی نہیں ہے یعنی یہ صحیح نہیں ہے کہ پیغمبر شاعر نہیں ہوتا ۔ مگر اس معنے یہ نہیں ہیں کہ اس کے کلام میں شاعرانہ فضیلتیں نہیں ہوتیں ۔ قرآن حکیم کو ہی دیکھئے کہ گو نثر میں اسے مگر فصاحت وبلاغت میں دنیا کے سارے ذخیرہ شعر پر بھاری ہے ۔ کون ہے جو اس کو سنے اور متاثر نہ ہو ۔ حل لغات :۔ فیھا منافع یعنی حیوانات میں ان عام فوائد کے علاوہ اور بھی بہت سے فوائد ہیں ۔ آج اس لفظ کی تشریح ہمارے ساتھ ہے ۔ کہ دنیا میں کتنی کارآمد اور قیمتی چیز ہے ۔ اور تمدن انسانی میں اس کا کیا درجہ ہے ؟ رمیم ۔ بوسیدہ ۔ کہنہ ۔
Ayahs 36:77–78

اَوَ لَمْ یَرَ الْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰهُ مِنْ نُّطْفَةٍ فَاِذَا هُوَ خَصِیْمٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 36:77 in the Quran reader

کیا انسان (ف 1) یہ نہیں دیکھتا کہ ہم نے اس نطفہ سے پیدا کیا ، تھر تبھی وہ ہوگیا جھگڑنے بولنے والا

وَ ضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَّ نَسِیَ خَلْقَهٗ١ؕ قَالَ مَنْ یُّحْیِ الْعِظَامَ وَ هِیَ رَمِیْمٌ Open ayah 36:78 in the Quran reader

اور ہماری نسبت مثال بیان کی اور اپنی پیدائش کو بھول گیا ۔ کیا کہ کون گلی ہوئی ہڈیوں کو جلائے گا

انعامات الٰہی کا تقاضا 1: اللہ کے انعامات کا ذکر ہے ۔ کہ کیونکر انسان کو اس نے تسخیر کی قوتیں عطا کی ہیں ۔ وہ تمام حیوانات کو اپنے تابع کرلیتا ہے ۔ پھر کسی سے سواری کا کام لیتا ہے اور کسی کو کھاتا ہے ۔ اور اس سے غذا کا کام لینا ہے ۔ پھر ایسے جانور بھی ہیں ، جو دودھ ایسی سے نعمتوں سے اس کا پیٹ بھرتے ہیں کیا وہ اس کرم اور نوازش پر بھی رب العالمین کا شکریہ ادا نہیں کرتا کہ ساری کائنات سے متمنع ہونے کے اختیارات اس نے انسان کو دے رکھے ہیں ۔ اور بڑے بڑے سرکش اور قوی جانوروں کو اس طرح اس کا غلام بنا دیا ہے کہ وہ جو چاہتا ہے ان سے کام لیتا ہے اس سے یہ معلوم ہوا کہ انسان کا درجہ کائنات کی ہر چیز سے بڑا ہے ۔ اور ساری دنیا اور اصل اسی کے استعمال اور فائدے کے لئے بنائی گئی ہے ؟ اور اسی لئے گوشت خوری سے یہ لازم نہیں آتا کہ مسلمان بےرحمی کا ارتکاب کرتا ہے کیونکہ جب انسان کا مرتبہ تمام حیوانات سے افضل ہے ، اور حیوانات کی زندگی کا مقصد ہی یہ ہے کہ وہ حیات کبری کی ہر آئینہ مدد کریں ۔ تو انکا کھانا ادنیٰ ترین زندگی میں بدلتا ہے ۔ اور فطرت کے قانون بقاء الاصلح کی تائید کرتا ہے اور ایسی روح کی ترقی اور پابندی کا انتظام کرتا ہے ۔ جو ان کی روح سے کہیں زیادہ قیمتی ہے جس کا باقی رہنا بقائے عالم کے لئے ضروری ہے ۔ چناچہ آج انسان صفحہ دنیا سے مٹ جائے تو پھر حیوانات کی تو کیا ہستی ہے ۔ زندگی کے بڑے بڑے مظاہر ختم ہوجائیں نہ آفتاب کی حاجت باقی رہے اور نہ ستاروں کی ۔ زمین گھوے اور نہ آسمان قبائے نیلگوں پہنے ہوئے دکھائی دے ۔ فطرت کا مطالبہ یہ ہے کہ تم ہر چیز کو اپنے حسب منشا استعمال کرو ۔ ہوا میں اڑو ۔ پہاڑوں کو کھودو ۔ اسرار و رموز طبیعت پر قابو حاصل کرو ۔ اور زندگی کے بلند ترین نقطہ تک پرواز کرو ۔ مگر ایک چیز کہ نہ بھولو ۔ اور وہ یہ ہے کہ یہ سارے احسانات اس لئے ہیں ۔ کہ تم خدا کا شکرادا کرو اس کی ممنونیت میں اس کے احکام کی اطاعت کرو ۔ لہٰذا جہاں تم کو یہ آسانیاں حاصل ہیں ۔ کہ جو چاہو کرو ۔ وہاں یہ پابندی بھی بھی تمہارے لئے ضروری ہے ۔ کہ فطرت کے تقاضوں کو پورا کرو ۔ اور منشاء الٰہی کو سمجھو ۔ حل لغات : رمیم ۔ بوسید ۔ کہنہ ۔
Ayah 36:79

قُلْ یُحْیِیْهَا الَّذِیْۤ اَنْشَاَهَاۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ١ؕ وَ هُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِیْمُۙ Open ayah 36:79 in the Quran reader

تو کہہ جس نے انہیں پہلی بار پیدا کیا ہے وہی انہیں جلائے گا اور وہ ہر طرح کا پیدا کرنا جانتا ہے (ف 2)

ف 2: ان آیات میں اظہار افسوس کیا ہے ۔ کہ انسان اپنے محسن حقیقی کو نہیں پہچانتا اور شرک جیسے گناہ کا ارتکاب کرتا ہے ۔ وہ خدا جس نے اس کے لئے ساری کائنات کو پیدا کیا ہے ۔ یہ اس کو چھوڑ کر دوسروں کے آستانوں پر جھکتا ہے ۔ حالانکہ وہ مشکلات اور مصیبتوں میں ان کی کوئی مدد نہیں کرسکتے ۔ اور آخرت میں ان کے فریق مخالف کی حیثیت سے پیش ہونگے ۔ اس کے بعد حضور کی تسکین کے لئے رمایا ۔ کہ آپ ان کے ملحدانہ اقوال سے ازرہ خاطر نہ ہوں ۔ ہم ان کے اعمال کی پوری پوری نگرانی کررہے ہیں ۔ اس کے بعد کی آیات میں ان کی توجہ کو نفس انسان کی پیدائش کی طرب مبذول کرکے ۔ غور وفکر پر آمادہ کیا ہے ۔ کہ اگر یہ لوگ جو قیامت کے منکر ہیں ۔ اور اس کا مذاق اڑھتے ہیں ۔ اپنی پیدائش کی منزلوں پر خیال کریں تو انہیں اس باب میں کوئی شک وشبہ نہ رہے ۔ اور یہ معلوم کرلیں کہ جس خدا نے ایک قطرہ آب سے اس انسان کو پیدا کیا ہے ۔ وہ لامحالہ بوسیدہ ہڈیوں سے بھی اس کو دوبارہ زندہ کرسکتا ہے ۔ فرمایا : وہ آن واحد میں موت کو زندگی سے تبدیل کرسکتا ہے اور اس میں یہ قدرت ہے ۔ کہ اضداد کے بطن سے اضداد نو کو پیدا کردے ۔