27. Surah An-Naml

النملThe Ant · 93 ayahsسراج البیان

Ayah 27:41

قَالَ نَكِّرُوْا لَهَا عَرْشَهَا نَنْظُرْ اَتَهْتَدِیْۤ اَمْ تَكُوْنُ مِنَ الَّذِیْنَ لَا یَهْتَدُوْنَ Open ayah 27:41 in the Quran reader

سلیمان نے کا کہ اس (ملکہ) کے آگے اس کے تخت کی شکل بدل ڈالو ہم دیکھیں کہ آیا وہ راہ پر آتی ہے یا ان میں ہوتی ہے جو راہ نہیں پاتے

نکروا حلیہ بگاڑ دو ۔ صورت تبدیل کردو
Ayahs 27:42–43

فَلَمَّا جَآءَتْ قِیْلَ اَهٰكَذَا عَرْشُكِ١ؕ قَالَتْ كَاَنَّهٗ هُوَ١ۚ وَ اُوْتِیْنَا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهَا وَ كُنَّا مُسْلِمِیْنَ Open ayah 27:42 in the Quran reader

پھر جب وہ آئی تو اس سے کہا گیا کہ تیرا تخت (ف 2) ایسا ہی ہے ، بولی گویا یہ وہی ہے اور ہمیں تو اس سے پہلے ہی (تمہارا نبی ہونا) معلوم ہوگیا تھا اور ہم مسلمان ہوگئے تھے

وَ صَدَّهَا مَا كَانَتْ تَّعْبُدُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّهَا كَانَتْ مِنْ قَوْمٍ كٰفِرِیْنَ Open ayah 27:43 in the Quran reader

اور سلیمان نے اس عورت کو ان چیزوں سے روکا جن کو وہ خدا کے سوا پوجتی تھی ۔ کیونکہ وہ کافر لوگوں میں سے تھی

ف 2: اس واقعہ سے بعض کو حیرت ہوتی ہے کہ اتنی دور سے اس قدر تخت کے آجانے میں کیونکر عقلی امکانات ہیں ! وہ اس قصے کو حقیقت پر مبنی نہیں سمجھتے اور افسانہ قرار دیتے ہیں ۔ حالانکہ یہ بالکل ناممکن ہے اس سلسلے میں دو باتوں کا سمجھ لینا ضروری ہے ۔ ایک تو یہ کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت بہت زیادہ وسیع ہے ۔ جب آفتاب ایسے بڑے کرے کو چند گھنٹوں میں اربوں میل گھمادیتا ہے تو اس کے لئے یہ کچھ مشکل نہیں کہ وہ سلیمان کے خدام کو میں سے کسی شخص کو اتنی طاقت دے کہ بہت جلد تخت کو لا حاضر کرے ۔ دوسری بات حرکت کی تجدید کا مسئلہ ہے اور تخت علم الحرکت کے ماہرین کا خیال ہے کہ کہ اس کو جھوٹ نہیں قرار دیا جاسکتا ۔ چناچہ اس نقطہ نگاہ کی وجہ سے آیئے دیکھیں کہ کس قدر وسیع السیر سواریاں ایجاد کی گئیں اور اگر تسلیم کرلیا جائے کہ حرکت ایک خاص ہدایت کا کام کرتی ہے اور اس سے آگے اس کو نہیں بڑھایا جاسکتا ۔ تو پھر یہ تمام اختراعات ختم ہوجائیں روشنی آواز اور نظر چند لمحات میں کہاں سے کہاں پہنچ جاتی ہے ۔ اسی طرح یہ بھی ممکن ہے کہ وہ شخص سرعت حرکت کے قانون سے آگاہ ہو جیسا کہ کہا گیا ہے کہ اس کے پاس کتاب کا علم تھا تو اس صورت میں یہ معجزہ نہیں رہے گا بلکہ حیرت انگیز واقعہ ہوگا جس کا تعلق اس وقت کی سائنس اور حکمت سے ہے ۔
Ayah 27:44

قِیْلَ لَهَا ادْخُلِی الصَّرْحَ١ۚ فَلَمَّا رَاَتْهُ حَسِبَتْهُ لُجَّةً وَّ كَشَفَتْ عَنْ سَاقَیْهَا١ؕ قَالَ اِنَّهٗ صَرْحٌ مُّمَرَّدٌ مِّنْ قَوَارِیْرَ١ؕ۬ قَالَتْ رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ وَ اَسْلَمْتُ مَعَ سُلَیْمٰنَ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 27:44 in the Quran reader

اس کے کہا گیا محل میں داخل ہو سو جب اس نے محل دیکھا ۔ تو گہرا پانی خیال کیا ۔ اور اپنی دونوں پنڈلیاں کھول دیں ۔ سلیمان نے کہا ۔ بیشک یہ تو محل ہے ۔ اس میں شیشے جڑے ہوئے ہیں ۔ بولی اے رب میں نے اپنی جان پر ظلم کیا اور میں سلیمان کے ساتھ اللہ کے جہانوں کے رب کے واسطے مسلمان ہوگئی ہوں

حل لغات : ۔ لجۃ ۔ میلان دریا میں عمیق ترین جگہ ، قواریر قارورۃ کی جمع بمعنی شیشہ الصرح ۔ محل ۔
Ayah 27:45

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ فَاِذَا هُمْ فَرِیْقٰنِ یَخْتَصِمُوْنَ Open ayah 27:45 in the Quran reader

اور ہم نے ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا ۔ کہ اللہ کی بندگی کرو ۔ تو وہ اس کے آتے ہی دو فریق (مومن ۔ کافر) ہوکر آپس میں جھگڑنے لگے

حضرت سلیمان کا شیش محل ! 1: یہ دوسرا واقعہ ہے جس سے بلقیس کو حضرت سلیمان کی عظمت اور دانائی کا حال معلوم ہوا ۔ اور جس کی وجہ سے وہ اس درجہ متاثر ہوئی کہ فوراً اسلام کا اعلان کردیا واقعہ یہ ہے کہ حضرت سلیمان نے ایک عالیشان شیش محل تعمیر کرایا تھا ۔ اور اس کا صحن خصوصیت سے بلور کا بنوایا جس کے نیچے پانی رواں تھا اور یہ معلوم ہوتا تھا کہ سارے صحن میں پانی بہہ رہا ہے بلقیس جب محل میں داخل ہونے لگی تو اس نے اپنے پائنچے اٹھائے جب یہ معلوم ہوا کہ پانی نہیں بلور ہے ۔ اور اس کو اپنی غلطی کا احساس ہوا بات یہ تھی کہ حضرت سلیمان اصل میں یہ بتانا چاہتے تھے ۔ کہ آفتاب پرستی محض عقیدہ کا دھوکا اور فریب ہے اور اس کو انہوں نے اس طرح ثابت کیا ۔ کہ بلور کے نیچے پانی رواں کردیا تاکہ بلقیس کے ذہن فوراً اس حقیقت کی جانب منتقل ہو کہ جس طرح یہ بلور پانی نہیں ہے ۔ بالکل اس میں سے پانی نظر آتا ہے ۔ اسی طرح آفتاب بھی تجلیات الٰہی کا مظہر ہے ۔ بجائے خود خدا یا معبود نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ جس وقت اپنی غلطی کا احساس کرتی ہے ۔ تو فوراً اسلام قبول کرلیتی ہے اور اس کو معلوم ہوجاتا ہے کہ میرا سابق عقیدہ غلط تھا ۔ آفتاب پرستش کے لائق نہیں ہے ، بلکہ پرستش کے لائق وہ ہے جس کی روشنی کا یہ آئینہ دار ہے ۔ ممکن ہے تنکیر عرش سے بھی کوئی اس قسم کا اشارہ مقصود ہو ۔ یعنی علاوہ عظمت و اختیارات کے اظہار کے اس رمز کی جانب توجہ کو مبذول کرنا مطلوب ہو ۔ کہ جس طرح تم نے اپنے تبدیل شدہ تخت کو پہچان لیا ہے اسی طرح دین فطرت کی طرف رجوع کرو ۔ اور اس کی حقیقت کو پہچانو ۔ یہی وہ دین ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے انسان کو ہدایت کے لئے نازل فرمایا ہے ۔ ہاں اس کی موجودہ شکل یقینا تمہارے تخت کی طرح بگڑ چکی ہے اور اب تمہارا اور تم جیسے عقلمند لوگوں کا یہ فرض ہے کہ وہ اصل حقیقت تک پہنچنے کی کوشش کریں معلوم ہوتا ہے یہ انداز بیان تبلیغ کے لئے اس لئے اختیار فرمایا کہ اس زمانے کے لوگ حکمت اور دانائی اور رمز واشارات کی باتوں کو زیادہ اچھے کرتے تھے
Ayah 27:46

قَالَ یٰقَوْمِ لِمَ تَسْتَعْجِلُوْنَ بِالسَّیِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ١ۚ لَوْ لَا تَسْتَغْفِرُوْنَ اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 27:46 in the Quran reader

صالح نے کہا اے قوم بھلائی سے پہلے برائی مانگنے میں کیوں جلدی کرتے ہو اللہ سے مغفرت کیوں نہیں مانگتے ۔ شائد تم پر رحم ہو !

حل لغات :۔ باالسئیہ عذاب ۔ تکلیف اور برائی
Ayah 27:47

قَالُوا اطَّیَّرْنَا بِكَ وَ بِمَنْ مَّعَكَ١ؕ قَالَ طٰٓئِرُكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ تُفْتَنُوْنَ Open ayah 27:47 in the Quran reader

بولے ہم نے تجھے اور تمہارے ساتھیوں کو منحوس قدم دیکھا ۔ کہا تمہاری نحوست خدا کے پاس ہے ۔ بلکہ تم آزمائش میں ڈالے ہوئے لوگ ہو

حل لغات :۔ طیرنا بک الطیر کے معنی تشاؤم اور بدفالی کے ہیں ۔
Ayah 27:48

وَ كَانَ فِی الْمَدِیْنَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ یُّفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا یُصْلِحُوْنَ Open ayah 27:48 in the Quran reader

اور اس شہر میں تو آدمی تھے ۔ جو فساد کرتے اور اصلاح نہ کرتے

حل لغات :۔ رھط ۔ لوگ ، شخص ۔ جمع اور واحد دونوں پر بولا جاتا ہے ۔
Ayahs 27:49–51

قَالُوْا تَقَاسَمُوْا بِاللّٰهِ لَنُبَیِّتَنَّهٗ وَ اَهْلَهٗ ثُمَّ لَنَقُوْلَنَّ لِوَلِیِّهٖ مَا شَهِدْنَا مَهْلِكَ اَهْلِهٖ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ Open ayah 27:49 in the Quran reader

وہ بولے باہم اللہ کی قسم کھاؤ کہ ہم صالح اور اس کے گھر والوں پر شبخون مارے گے پھر ہم اس کے ولی (یعنی دعوےٰ کرنے والے) سے کہیں گے کہ ہم اس کے گھر ان کی ہلاکت کے وقت حاضر نہ تھے اور بیشک ہم سچے (ف 1) ہیں

وَ مَكَرُوْا مَكْرًا وَّ مَكَرْنَا مَكْرًا وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 27:50 in the Quran reader

اور انہوں نے مکر کیا اور ہم نے بھی مکر کیا ۔ اور انہیں خبر بھی نہ ہوئی

فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ مَكْرِهِمْ١ۙ اَنَّا دَمَّرْنٰهُمْ وَ قَوْمَهُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 27:51 in the Quran reader

سو دیکھ کہ ان کے مکر کا انجام کیا ہوا ۔ ہم نے انہیں اور ان کی ساری قوم کو ہلاک کردیا

ف 1: ان آیات میں حضرت صالح اور قبیلہ ثمود کے حالات بیان فرمائے ہیں ۔ ارشاد ہے کہ ہم نے صالح کو ان لوگوں میں پیغمبر بنا کر بھیجا ۔ اور انہوں نے ان کو اللہ کی عبادت کی دعوت دی اور حق کی جانب بلایا ۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان میں دو فریق پیدا ہوگئے ۔ ایک ماننے والوں کا اور دوسرا نہ ماننے والوں کا ۔ ماننے والے کم تھے اور منکرین زیادہ منکرین نے حضرت صالح ، اور مومنین کی سخت مخالفت کی اور یہاں تک بدبختی کا اظہار کیا ۔ کہ عذاب کا مطالبہ کرنے لگے اور ہم تم کو اور تمہاری جماعت کو اپنے لئے منحوس خیال کرتے ہیں پھر ان میں سے نو آدمی اس پر آمادہ ہوئے ۔ حضرت صالح کو معران کی جماعت کے شہید کردیا جائے ۔ اور دریافت کرنے پر انکار کردیا جائے تاکہ کسی شخص پر ذمہ داری عائد نہ ہو ۔ فرمایا ایک طرف تو یہ لوگ یہ تدبیریں کررہے تھے ۔ تو دوسری جانب ہم نے ان کو مٹا دینے کی تدبیر کی اور آخر وہ حرف غلط کی طرح صفحہ ہستی سے مٹادیئے گئے
Ayahs 27:52–54

فَتِلْكَ بُیُوْتُهُمْ خَاوِیَةًۢ بِمَا ظَلَمُوْا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 27:52 in the Quran reader

سو ان کے گھر ان کے ظلم ( یعنی انکار) کے سبب اجاڑ پڑے ہیں بیشک اس میں ان لوگوں کے لئے جو علم رکھتے ہیں (ف 1) نشانی ہے

وَ اَنْجَیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَ Open ayah 27:53 in the Quran reader

اور ہم نے ان لوگو کو جو ایمان لائے تھے اور ڈرتے رہتے تھے بچا لیا

وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ وَ اَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ Open ayah 27:54 in the Quran reader

اور لوط کو بھیجا جب اس نے اپنی قوم سے کہا کہ تم بےحیائی کرتے ہو اور تم دیکھتے ہو ؟

سدومیت کے خلاف جہاد کی ضرورت 1: اللہ تعالیٰ کا قانون مکافات یا قانون عذاب انہی لوگوں پر ہی ہوتا ہے جو اس پیغام سے روگردان ہیں ۔ اور اپنے گناہوں پر اصرار کرتے ہیں ۔ حل لغات :۔ خاویۃ ۔ خوی البیت سے ہے ۔ معنے مکان کے گر جانے کے ہیں ۔
Ayahs 27:55–57

اَئِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِّنْ دُوْنِ النِّسَآءِ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُوْنَ Open ayah 27:55 in the Quran reader

کیا تم عورتیں چھوڑ کر مردوں پر شہوت سے دوڑتے ہو ، بلکہ تم جاہل لوگ ہو !

فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اَخْرِجُوْۤا اٰلَ لُوْطٍ مِّنْ قَرْیَتِكُمْ١ۚ اِنَّهُمْ اُنَاسٌ یَّتَطَهَّرُوْنَ Open ayah 27:56 in the Quran reader

سو اس کی قوم کا اس کے سوا اور کچھ جواب نہ تھا ۔ کہ انہوں نے کہا کہ اپنی بستی سے لوط کے گھرانے کو نکالو یہ لوگ ستھرا رہنا چاہتے ہیں

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ١٘ قَدَّرْنٰهَا مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 27:57 in the Quran reader

پھر ہم نے اسے اور اس کے گھروالوں کو بچالیا ۔ مگر اس کی عورت ۔ ٹھہرالیا تھا ہم نے اس کو کہ وہ پیچھے رہنے والوں میں رہے گی

الرجال ۔ جمع رجل بمعنے مرد ۔ تنفر پیدا کرنے کے لئے کہا ہے مقصود اس سے لونڈے ہیں ۔
Ayah 27:58

وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ مَّطَرًا١ۚ فَسَآءَ مَطَرُ الْمُنْذَرِیْنَ۠ Open ayah 27:58 in the Quran reader

اور ہم نے ان پر ایک منہ برسایا ۔ سو ان (ف 1) ٹڈائے ہواؤں کا مینہ کیا برا تھا

ف 1: حضرت لوط قوم سدوم کی طرف آئے اور دنیا کی بدترین قوم تھی ۔ سب سے پہلے انہیں لوگوں کے خلاف وضع فطری فعل ایجاد کیا ۔ اس میں اس درجہ فلواختیار کیا ۔ کیہ بدعملی ان میں عام ہوگئی ۔ حضرت لوط نے کہا ۔ کہ یہ بہت بےحیائی کا کام ہے تمہیں اپنی حرکات پر شرمانا چاہیے ۔ اور اپنی اس جہالت کا احساس ہونا چاہئے ۔ کہ مردوں سے جنسی تعلقات قائم کرتے ہو تو انہوں نے بہت ناگواری کے ساتھ ان نصیحتوں کو سنا ۔ اور کہا ۔ کہ لوط اور اس کے ماننے والوں کو بستی سے نکال دو ۔ یہ لوگ بڑی پاکبازی کا اظہار کرتے ہیں ۔ اور اس لائق نہیں ہیں کہ ہمارے ساتھ رہیں ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے اصرار گناہ اور انتہائی بداخلاقی کے باعث اللہ تعالیٰ کا غضب بھڑکا ۔ اور یہ لوگ شدید عذاب میں مبتلا ہوگئے
Ayah 27:59

قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ وَ سَلٰمٌ عَلٰى عِبَادِهِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰى١ؕ آٰللّٰهُ خَیْرٌ اَمَّا یُشْرِكُوْنَؕ Open ayah 27:59 in the Quran reader

تو کہہ تعریف ہے اللہ کی اور اس کے برگزیدہ (ف 1) بندوں پر سلام ۔ بھلا اللہ اچھا ہے یا جن کو وہ شریک کرتے ہیں ؟

ف 1: افسوس ہے ۔ کہ آج کل بھی تقریباً یہی حالت رونما ہیں ۔ لوگوں میں یہ مرض سرعت کے ساتھ پھیل رہا ہے ۔ اور نوجوان اس شنیع افعال سے قطعاً شرم اور ندامت محسوس نہیں کرتے ۔ اور اب ان کے روز مرہ میں یہ چیز داخل ہوگئی ہے ۔ کہ وہ پاکباز نوجوانوں پر آوازے کستے ہیں ۔ اور مختلف مذاق کو روشن خیال سمجھتے ہیں ۔ یہ کس قدر شرم کا مقام ہے ۔ کہ جو بیماری قوموں کی ہلاکت وتباہی کا باعث ہے ۔ آج ہم اس بیماری پر فخر کر رہے ہیں ۔ ہماری مجلسوں میں ، کالجوں اور مدرسوں میں ۔ تربیت گاہوں اور مذہبی اداروں میں ہر وقت اس مدح کے چرچے رہتے ہیں ۔ گویا فضا بالکل شہوانی ہوچکی ہے ۔ اور وقت آگیا ہے ۔ کہ بدکاروں کی نسل دنیا سے مٹ جائے اور اس کی جگہ کوئی صالح اور نیک نسل لے ۔ کیونکہ اس مرض سے ہمیشہ تباہی پھیلتی ہے او گو آسمان سے پتھر کی بارش نہ ہو ۔ مگر نسلیں ضرور بیکار کم حوصلہ اور بزدل ہوجاتی ہیں ۔ اور یہ عذاب پتھراؤ سے زیادہ شدید اور ہولناک ہے ۔ کیونکہ اس میں تو یہ ہونا ہے کہ قوم بالکل مٹ جاتی ہے ۔ اور اس کا وجوہ دوسری کے لئے باعث ہدایت نہیں ہوتا ۔ اور اس میں یہ ہوتا ہے ۔ کہ بظاہر زندہ رہتی ہے مگر روح اور عمل کے لحاظ سے بالکل مردہ اور آئندہ آنے والی نسلوں کے لئے مجسم عذاب اور مجسم ہر آس و ناامیدی اس لئے ضرورت ہے کہ علما اور اکابر ملت حضرت لوط کی طرح میدان میں آئیں اور قوم میں اخلاق کی اصلاح کے لئے ٹھوس کام کریں ۔ اور اس سے ہرگز نہ شرمائیں کہ یہ کس نوع کا کام ہوگا ۔ جب ایک پیغمبر خاص اس مشن کی تکمیل کے لئے آسکتا ہے ۔ تو پھر اس سنت پر عمل کرنے سے علماء اور اکابر کیوں شرمائیں ۔
Ayahs 27:60–62

اَمَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ اَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً١ۚ فَاَنْۢبَتْنَا بِهٖ حَدَآئِقَ ذَاتَ بَهْجَةٍ١ۚ مَا كَانَ لَكُمْ اَنْ تُنْۢبِتُوْا شَجَرَهَا١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ بَلْ هُمْ قَوْمٌ یَّعْدِلُوْنَؕ Open ayah 27:60 in the Quran reader

بھلا آسمانوں اور زمین کو کس نے بنایا (ف 1) ۔ اور تمہارے لئے آسمان سے پانی اتارا ۔ پھر ہم نے اس سے رونق دار باغ اگائے ۔ تمہاری طاقت نہ تھی کہ تم ان باغوں کے درخت اگا لیتے ۔ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور بھی معبود ہے ؟ کوئی نہیں بلکہ وہ لوگ راہ سے ٹیڑھے چلتے ہیں

اَمَّنْ جَعَلَ الْاَرْضَ قَرَارًا وَّ جَعَلَ خِلٰلَهَاۤ اَنْهٰرًا وَّ جَعَلَ لَهَا رَوَاسِیَ وَ جَعَلَ بَیْنَ الْبَحْرَیْنِ حَاجِزًا١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَؕ Open ayah 27:61 in the Quran reader

بھلا کس نے زمین کو ٹھہرنے کی جگہ بنایا ۔ اور اس کے درمیان نہریں بنائیں ۔ اور اس کے لئے پہاڑ پیدا کیے اور دو سمندروں کے درمیان پردہ رکھا ۔ کیا اللہ کے ساتھ اور کوئی معبود ہے ؟ کوئی نہیں بلکہ ان میں سے بہتوں کو سمجھ نہیں

اَمَّنْ یُّجِیْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاهُ وَ یَكْشِفُ السُّوْٓءَ وَ یَجْعَلُكُمْ خُلَفَآءَ الْاَرْضِ١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَؕ Open ayah 27:62 in the Quran reader

بھلا کون بےقرار کی دعا قبول کرتا ہے جب وہ اس کو پکارتا ہے اور برائی کو دفع کرتا ہے اور کون ہے کہ تم کو اگلوں کا خلیفہ نشین پر بناتا ہے کیا اللہ کے ساتھ اور کوئی معبود ہے ! تم بہت کم سوچ کرتے ہو

معبود حقیقی کون ہے ؟ 1: یہاں سے بیسواں پارہ شروع ہوتا ہے مگر یہ ضروری نہیں ۔ کہ یہاں سے کسی نئے مضمون کا آغاز ہو ۔ کیونکہ پاروں کی تقسیم مضامین کے اعتبار سے نہیں ہے ۔ اس سے قبل کی آیت میں سوال کیا گیا تھا ۔ ء اللہ خیر امایشرکون ۔ یعنی ان گذشتہ واقعات کو دیکھو اقوام و باطل کی تاریخ کو پڑھو اور یہ معلوم کرنے کی کوشش کرو ۔ کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو عذاب سے بچایا ۔ اور کیونکر مخالفین کو عبرتناک سزائیں دیں ۔ اس کے بعد یہ فیصلہ کرو کہ عزیز و غالب خدا بہتر ہے یا وہ جو تمہارے لئے بےجان بت ہیں ۔ اور جن میں نفع وضرر کی کوئی استعداد موجود نہیں ۔ ان آیات میں قرآن نے نہایت بلیغ اور دلنشین انداز میں مناظر قدرت کی جانب انسان کی توجہ کو مبذول کیا ہے ۔ اور دریافت کیا ہے ۔ کہ جمال و کمال کے ان مشاہدات کے بعد تمہاری رائے کیا ہے ! کیا تم اس خدا کو ماننے کے لئے آمادہ ہو جس کی حکمت سے کائنات زندہ اور قائم ہے ۔ یا ان کو جن کا دنیا میں کوئی حصہ نہیں اور وہ محض بیکار اور مہمل ہیں ۔ قرآن حکیم کا یہ مخصوص انداز بیان ہے ۔ کہ وہ انسان کے دل میں مواہب ۔ وجدان کو بیدار کردیتا ہے ۔ اور اس کے دل و دماغ پر قطعی دلائل وبراہین کا بوجھ نہیں ڈالتا ۔ وہ یہ چاہتا ہے کہ انسان ذاتی مطالعہ سے ان نتائج تک پہنچے جن کو وہ پیش کرتا ہے اور براہ راست ان معارف اور معلومات سے جو فطرت کے حسن و جمال سے حاصل ہوں توحید تجرید تک رسائی حاصل کرلے ۔ جن کو بار بار بیان کیا جاتا ہے ۔ قرآن کا نقطہ نگاہ یہ ہے کہ لوگ خود بخود سوچ سمجھ کر اس کے ہمنوا ہوں ۔ حل لغات :۔ حدائق ۔ حدیقہ کی جمع ہے بمعنی محفوظ باغ یعنی جس باغ کے اردگرد دیوار ہو یا چاروں طرف لکڑی وغیرہ کوئی چیز لگائی گئی ہو یعدلون عدول سے ہے یعنی کجروی یا راہ راست سے ہٹ جانا حاجزا ۔ پردہ ۔ آڑ السوء ۔ تکلیف ۔ دیکھ ۔ برائی ۔
Ayah 27:63

اَمَّنْ یَّهْدِیْكُمْ فِیْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ وَ مَنْ یُّرْسِلُ الرِّیٰحَ بُشْرًۢا بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ تَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا یُشْرِكُوْنَؕ Open ayah 27:63 in the Quran reader

بھلا کون جنگل اور دریا کی تاریکیوں میں تمہیں راہ بتاتا ہے اور کون اپنی رحمت (ف 1) کے آگے آگے خوشخبری دینے کے لئے ہوائیں بھیجتا ہے ۔ کیا اللہ کے ساتھ اور کوئی معبود ہے اللہ ان کے شرک سے بہت بلند ہے

ف 1: چناچہ ارشاد ہے ۔ بتاؤ کہ الوہیت اور خدائی کے لئے وہ ذات زیادہ موزوں ہے ۔ جس نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا جس نے آسمان کی بلندیوں سے تمہارے لئے پانی نازل کیا ۔ اور نہایت عمدہ عمدہ باغ پیدا کئے ۔ جن کو تم سر سبز و شاداب نہیں کرسکتے تھے ۔ یا وہ خود اصنام خیالی جو تم نے بنا رکھے ہیں کہو وہ عقیدت اور نیازمندی کے لئے سزاوار ولائق ہے ۔ جس نے زمین کو جائے قرار بنایا ۔ اس میں نہریں رواں کیں اور اس کے استقرار کے لئے پہاڑ پیدا کئے ! اور دو دریاؤں میں بکمال حقیقت ایک قسم کی آڑ بنادی تاکہ آپس میں مختلط نہ ہونے پائیں ۔ ان میں ایک میٹھا ہے اور دوسرا کھاری یا تمہارے معبودان باطل ۔ قرآن پوچھتا ہے کہ آیا وہ ذات رحمت آیات عبادت اور بندگی کے لئے بہتر ہے جو بےقرار اور بےچین انسان کی دعاؤں کو سنتا ہے اور جس نے تمہیں اپنا نائب بنا کر بھیجا ہے یا وہ ذات جس کو تم اپنے زعم میں خدا سمجھتے ہو ۔ فرماتے ہیں کہ سمندر اور جنگل کی تاریکیوں میں تمہاری کون راہ نمائی کرتا ہے ۔ اور ٹھنڈی ٹھنڈی فرحت ناک ہواؤں کو باران رحمت سے پہلے کون بھیجتا ہے ۔ مقصد یہ ہے کہ ان واقعات پر مبصرانہ نظر دوڑاؤ اور پھر دل کی گہرائیوں میں جھانک کر دیکھو کہ ان میں توحید کے چشمے بہتے ہیں ۔ یا شرک سایہ افگن ہے ۔ مشرکین مکہ سے قرآن حکیم کو یہ شکایت ہے ۔ بل ھم قوم یعدلون بل اکثرھم لایعلمون قلیلا ما تذکرون ۔ یہ لوگ ان تفصیلات کے باوجود عذاب اور کجروی کو پسند کرتے ہیں ان میں اکثر بےعلم اور جاہل ہیں اور بہت کم ہیں نصیحت پذیری کی استعداد ہے ۔ توحید کے بام ہند فراز اعلیٰ تک پہنچے کے لئے کوئی دقت نہیں صرف معدلت شعاری علم اور اثر پذیر دل کی ضرورت ہے
Ayahs 27:64–65

اَمَّنْ یَّبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ وَ مَنْ یَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 27:64 in the Quran reader

بھلا کون نئے سرے سے پیدا کرتا ہے ۔ پھر اسے دہراتا ہے ، اور کون تمہیں آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہے ۔ کیا اللہ کے سوا اور کوئی معبود ہے یا تو کہہ (ف 2) اپنی دلیل لاؤ اگر تم سچے ہو

قُلْ لَّا یَعْلَمُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ الْغَیْبَ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ اَیَّانَ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 27:65 in the Quran reader

تو کہہ جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہے ان میں سے اللہ کے سوا غیب کی بات کوئی نہیں جانتا اور وہ یہ بھی نہیں جانتے کہ کس وقت اٹھائے جائیں گے

توحید یا دہریت 2: یہ آیات توحید کا بقیہ حصہ ہیں اس میں وہی سوال چلا آرہا ہے کہ بتاؤ۔ خالق اور رازق خدا عبادت اور بندگی کا مستحق ہے یا تمہارے مقرر کردہ معبود قل ھاتو برھانکم سے مراد ہے کہ شرک کے جواز کے لئے کوئی عقلی دلیل پیش نہیں کی جاسکتی ۔ اور کسی دلیل سے یہ نہیں ثابت کیا جاسکتا ۔ کہ رب الا کو ان کا کوئی شریک بھی ہے ۔ کیونکہ عقل وبصیرت کے لئے صرف دو راہیں ہیں ۔ جن کو اختیار کیا جاسکتا ہے ۔ ایک توحید کی راہ ۔ یعنی خدا ایک ہے وہ بےمثل ہے اور بےنظیر ذات ہے ۔ اور اس کے تخیل میں کثرت اور تعدد کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ اس کا نفس تصور ہی شرکت اور کثرت کو مانع ہے ۔ دوسری راہ یہ ہوسکتی ہے کہ اس ذات بےہمتا کو مانا جائے اور دنیا کو محض مادہ کے مختلف مظاہر سے تعبیر کیا جائے ۔ چونکہ موخرالذکر سوال مشاہدہ کے سراسر خلاف ہے ۔ دنیا کا سارا نظم و نسق اور اس کا حسن و جمال ایک شاہد حسین کا پتہ دے رہا ہے ۔ اور بتارہا ہے کہ کوئی معشوق ہے اس پردہ زنگاری میں ۔ اس لئے غور وفکر کے لئے صرف یہ گنجائش رہ جاتی ہے کہ وہ توحید کے عقیدے ہی کو قرین عقل و دانش قرار دے ۔ اور شرک کو یکسر غیر عقلی اور غلط سمجھے ۔ حل لغات :۔ برھانکم ۔ برہان کے معنی دلیل قاطع اور روشن حجت ہیں جو مقصود اور دعویٰ کو بالکل واضح کردے ۔
Ayahs 27:66–71

بَلِ ادّٰرَكَ عِلْمُهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ١۫ بَلْ هُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْهَا١۫٘ بَلْ هُمْ مِّنْهَا عَمُوْنَ۠ Open ayah 27:66 in the Quran reader

بلکہ آخرت کے بارے میں ان کا علم عاجز آگیا ۔ بلکہ وہ آخرت کی نسبت شبہ میں ہیں ۔ بلکہ (ف 1) وہ اس سے اندھے ہیں

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا وَّ اٰبَآؤُنَاۤ اَئِنَّا لَمُخْرَجُوْنَ Open ayah 27:67 in the Quran reader

اور کافروں نے کہا کہ جب ہم اور ہمارے باپ دادا مٹی ہوگئے تو کیا البتہ ہم پھر نکالے جائیں گے

لَقَدْ وُعِدْنَا هٰذَا نَحْنُ وَ اٰبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ١ۙ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 27:68 in the Quran reader

ہمیں اور ہم سے پہلے ہمارے باپ دادوں کو یہی وعدہ ملتارہا ہے کچھ نہیں ۔ یہ صرف اگلے لوگوں کے ڈھکوسلے ہیں

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 27:69 in the Quran reader

تو کہہ تم ملک میں سیر کرو ۔ پھر دیکھو مجرموں کا انجام کیا ہوا ہے

وَ لَا تَحْزَنْ عَلَیْهِمْ وَ لَا تَكُنْ فِیْ ضَیْقٍ مِّمَّا یَمْكُرُوْنَ Open ayah 27:70 in the Quran reader

اور تو ان پر غم نہ کر ۔ اور ان کے مکر سے دل تنگ نہ رہ

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 27:71 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو (عذاب دنیا کا) وعدہ کب آئے گا ؟

علم غیب کی تعریف 1: قرآن حکیم نے بار بار اس حقیقت کی صراحت فرمائی ہے کہ اللہ کے سوا کوئی علوم غیب سے آگاہ نہیں اسی نے کائنات کو پیدا کیا اور وہی کائنات کے اسرار سے آشنا ہے ۔ بہت کم لوگ غیب اصلیت سے واقف ہیں ۔ اکثر غیب کے معنے یہ سمجھتے ہیں کہ ان چیزوں کے جاننے کو غیب کہتے ہیں ، جس کا پیشتر سے علم نہ ہو ۔ ظاہر ہے کہ ان معنوں کے ا اعتبار سے ہر شخص عالم الغیب ہے ۔ کیونکہ ہر شخص کچھ نہ کچھ ایسی باتیں معلوم کرلیتا ہے ۔ جس کا پیشتر سے اس کو علم نہیں ہوتا ۔ اور اس طرح اس کی معلومات میں اضافہ ہوتا رہتا ہے ۔ یہ ایجادات و اعتراضات کیا ہیں ۔ کیا یہ پیشتر سے انسانوں کو معلوم تھیں ؟ اور اگر معلوم نہیں تھیں تو کیا ان سے آگاہی علم غیب ہے ! اور اگر نوع کی معلومات علم غیب کی تعریف میں آسکتی ہیں تو پھر صرف خدا کے عالم الغیب ہونے کے کیا معنی ہیں ! یہ سوالات ہیں جو قدرتاً غیب کی صحیح تعریف نہ جاننے کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں ۔ بات اصل میں یہ ہے کہ : کہ غیب کے معنی مطلقاً کسی چیز کو اس طرح جاننے کے ہیں ۔ کہ استدلال اور استنباط کی درمیانی کڑیاں مفقود ہوں ۔ یعنی اس چیز کو معلوم کرنے کا کوئی منطقی اور طبعی ذریعہ نہ ہو اور باوجود اس کے تعین ویقین کے ساتھ اس کا پتہ دیا جائے ۔ اس قسم کا علم اللہ تعالیٰ کے ساتھ مختص ہے ۔ کیونکہ وہ ہر چیز کو بلا کسی توسط کے بطور خود جانتا ہے اور اس کو کسی استدلال اور استنباط کی ضرورت نہیں ۔ اور چونکہ انسان کا علم اکتسابی ہے اس لئے وہ علوم غیب پر مطلع نہیں ہوسکتا ۔ حل لغات : بل ادارک ۔ اصل میں تبارک تھا ۔ یعنی آخرت کی بابت ان کا علم ختم ہوچکا ہے ۔
Ayah 27:72

قُلْ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ رَدِفَ لَكُمْ بَعْضُ الَّذِیْ تَسْتَعْجِلُوْنَ Open ayah 27:72 in the Quran reader

تو کہہ جس کی تم جلدی مچا رہے ہو شائد اس میں سے کچھ تمہاری پیٹھ پیچھے آلگا ہو

حل لغات :۔ عسیٰ ۔ یعنی یقینا قرآن میں حرف مقاربتہ کا استعمال ہمیشہ قطعیت کے معنوں میں ہوتا ہے
Ayah 27:73

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 27:73 in the Quran reader

اور بیشک تیرا رب لوگوں پر فضل کرتا ہے ۔ لیکن اس میں بہت ناشکرے (ف 1) ہیں

منکرین کے لئے وعدہ عذاب کی تکمیل 1: منکرین نے جب یہ سنا کہ مرنے کے بعد بھی زندگی ہے اور سب لوگوں کو عالم موت سے نکال کر عالم حشر میں اٹھا کر کھڑا کیا جائیگا ۔ تو وہ ہنسے اور کہنے لگے ۔ یہ کیونکر ممکن ہے : کیا ہم اور ہمارے باپ دادا دوبارہ زندگی کی نعمتوں سے بہرہ ور ہوں گے ! یہ تو محض افسانہ معلوم ہوتا ہے اور اس قسم کے افسانے ہم پہلے بھی سن چکے ہیں ۔ اور اس کے بعد کمال شوخ چشمی سے کہنے لگے کہ وہ وعدہ عذاب کب آئے گا ! جس کے متعلق تم کہتے ہو کہ مکذبین کے لئے مقدر ہے اور جس کے لئے اقوام و باطل کی تاریخ ہم سے بیان کی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے ۔ فانظروا کیف کان عاقبۃ المجرمین ارشاد ہوتا ہے ۔ کہ وہ وعدہ عذاب بہت قریب ہے تم عجلت نہ کرو ۔ اور اصل بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ یہ نہیں چاہتے کہ حتی الامکان اس کے بندے اس کے غضب وغصہ کا باعث ہوں ۔ وہ ہمیشہ عفو وکرم سے کام لیتا ہے ۔ ہاں اگر بندوں کو اسی بات پر اصرار ہو کہ عذاب آئے ۔ اور ضرور آئے ۔ تو پھر اللہ تعالیٰ ان کی تازیب واصلاح کے لئے ضرور عذاب بھیج دیتے ہیں ۔ چناچہ جب مکہ والوں کی سرکشیاں حد سے بڑھ گئیں ۔ اور انہوں نے طے کرلیا ۔ کہ ہجرت کے بعد بھی مسلمانوں کو چین سے نہیں بیٹھنے دیا جائے گا ۔ تو معرکہ بدر کے سامان پیدا ہوگئے ۔ اور مشرکین نے اس معرکہ میں سخت شکست کے سامان پیدا ہوگئے ۔ اور بصد حسرت ویاس باقی ماندہ واپس لوٹے ۔ حل لغات : ماتکن ۔ کنان سے ہے ۔ معنی چھپاتا ۔ مستور رکھنا ۔
Ayah 27:74

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَیَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُوْرُهُمْ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ Open ayah 27:74 in the Quran reader

اور تیرا رب البتہ جانتا ہے جو ان کے سینوں میں چھپا ہوا ہے اور وہ ظاہر (ف 2) کرتے ہیں

ف 2: اس آیت میں کفار کے مخفی ارادے سے اور بھید جو تھے ان کے متعلق ارشاد ہے کہ وہ ہم سب کو معلوم ہیں ۔ تم یہ نہ سمجھو ۔ کہ اللہ اور اس کا رسول تمہارے مکار سے آگاہ نہیں
Ayahs 27:75–76

وَ مَا مِنْ غَآئِبَةٍ فِی السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 27:75 in the Quran reader

اور آسمان اور زمین میں کوئی چھپی ہوئی شے نہیں کو کتاب (ف 3) میں نہ لکھی ہو

اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ یَقُصُّ عَلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اَكْثَرَ الَّذِیْ هُمْ فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 27:76 in the Quran reader

یہ قرآن بنی اسرائیل کو اکثر وہ باتیں سناتا ہے جن میں وہ اختلاف کرتے ہیں

ف 3: کتاب مبین لوح محفوظ ہے اور لوح محفوظ باری تعالیٰ کے علم سے تعبیر ہے ۔
Ayahs 27:77–78

وَ اِنَّهٗ لَهُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 27:77 in the Quran reader

اور مومنوں (ف 4) کے لئے ہدایت اور رحمت ہے

اِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ بِحُكْمِهٖ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْعَلِیْمُۙۚ Open ayah 27:78 in the Quran reader

تیرا رب اپنے حکم سے ان کے درمیان فیصلہ کرتا ہے ۔ اور وہ غالب جاننے والا ہے

ف 4: یعنی قرآن حکیم کا نزول اس لئے ہوا ہے ۔ کہ اہل کتاب نے جو اختلافات پیدا کر رکھے ہیں ۔ ان کو دور کرے ۔ اور ان میں حقیقی اور سچا فیصلہ صادر فرمائے ۔ اور ان لوگوں کے جو مومن ہیں ۔ ان کا وجود باعث ہدایت ورحمت ہے ۔
Ayah 27:79

فَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّكَ عَلَى الْحَقِّ الْمُبِیْنِ Open ayah 27:79 in the Quran reader

سو تو اللہ پر بھروسہ رکھ بیشک تو صحیح (ف 1) راہ پر ہے

ف 1: غرض یہ ہے کہ اگر یہ لوگ دنیا میں اختلافات کو دور نہ کریں اور اسلامی کی نعمتوں سے محروم رہیں ۔ تو آپ چنداں پرواہ نہ کیجئے ۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان میں عملی طور پر فیصلہ کردیگا ۔ اور اس وقت ان کو معلوم ہوگا ۔ کہ دنیا میں یہ راہ راست پر نہ تھے ۔
Ayah 27:80

اِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى وَ لَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ Open ayah 27:80 in the Quran reader

تو مردوں کو سنا نہیں سکتا اور نہ بہروں کو پکار سنا سکتا ہے جب وہ پیٹھ پھیر کر بھاگیں

حل لغات :۔ الموتی ۔ باعتبار اوصاف کے مردہ الصم ۔ صم کی جمع ہے ۔ بمعنی بہرہ