25. Surah Al-Furqaan

الفرقانThe Criterion · 77 ayahsسراج البیان

Ayah 25:41

وَ اِذَا رَاَوْكَ اِنْ یَّتَّخِذُوْنَكَ اِلَّا هُزُوًا١ؕ اَهٰذَا الَّذِیْ بَعَثَ اللّٰهُ رَسُوْلًا Open ayah 25:41 in the Quran reader

اور جب (اے محمد ﷺ) تجھے دیکھتے ہیں تو سوائے ٹھٹھے کے تجھ سے اور کچھ مطلب نہیں رکھتے کیا یہی شخص ہے جسے اللہ نے رسول بنا کر بھیجا ہے2

ف 2 گذشتہ اقوام وملل کی تباہی اور بربادی کا ذکر کرتے ہے اور اب یہ بتایا ہے کہ مشرکین کہ بھی انہیں منکرین کے نقش قدم پر جارہے ہیں یہ بھی اس اس پر رشدوہدایت اور ذات والا صفات پر طعنہ زن ہوتے ہیں اور نہایت تحقیر کے لہجے میں کہتے ہیں ۔ کیا اس شخص کو اللہ نے رسول بنا کر بھیجا ہے ، گویا رسول کے ضروری ہے کہ وہ مالدار بھی ہو اور ان لوگوں کی طرح جھوٹی عزت اور جھوٹے وقار کا بھی مالک ہو ۔ ان کے خیال میں حضور ﷺ کے لئے لازم تھا کہ وہ ان کے منتخب اکار میں سے ہوتے ، تحقیر واستہزا کی کوئی وجہ نہیں ۔ بلکہ حضور کمالات روحانی اور وجاہت وحسن جسمانی کے لحاظ سے ان تمام لوگوں سے بہتر تھے یا یوں کہیے کہ آپ تمام کمالات کے حامل تھے ۔ اور انسانیت کا صحیح نمونہ تھے گو ابتداً دولت نہ تھی مگر دولت غنا کے تو شہنشاہ تھے ۔ اور ایک وقت آیا کہ آپ کے قدموں میں سیم وزر کے انبار لگ گئے ۔
Ayahs 25:42–43

اِنْ كَادَ لَیُضِلُّنَا عَنْ اٰلِهَتِنَا لَوْ لَاۤ اَنْ صَبَرْنَا عَلَیْهَا١ؕ وَ سَوْفَ یَعْلَمُوْنَ حِیْنَ یَرَوْنَ الْعَذَابَ مَنْ اَضَلُّ سَبِیْلًا Open ayah 25:42 in the Quran reader

یہ تو ہم کو ہمارے معبودوں سے گمراہ کرنے ہی لگا تھا اگر ہم ان پر ثابت قدم نہ رہتے اور عنقریب جب وہ عذاب دیکھیں گے معلوم کرلیں گے (ف 3) کہ کون بڑا گمراہ ہے

اَرَءَیْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ١ؕ اَفَاَنْتَ تَكُوْنُ عَلَیْهِ وَكِیْلًاۙ Open ayah 25:43 in the Quran reader

کیا دیکھا تونے وہ شخص جس نے اپنی خواہش کو اپنا معبود بنایا ۔ کیا تو اس کا داروغہ ہوسکتا ہے

ف 3: یہ لوگ باوجود بت پرستی کے اپنے کو راہ راست پر سمجھتے اور کہتے کہ معاذ اللہ محمد ﷺ (ﷺ) نے تو ہمیں گمراہ کر ڈالا ہوتا ۔ یہ ہمارا استقلال اور عزائیت ہے کہ اپنے معتقدات سے نہیں پھرے ، ارشاد ہے کہ عنقریب جب اللہ کا عذاب و امتحان اور رسوائیوں کے ساتھ آموجود ہوگا ۔ اس وقت ان کو معلوم ہوگا کہ راہ راست پر کون ہے اور کون گمراہ ؟
Ayah 25:44

اَمْ تَحْسَبُ اَنَّ اَكْثَرَهُمْ یَسْمَعُوْنَ اَوْ یَعْقِلُوْنَ١ؕ اِنْ هُمْ اِلَّا كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ سَبِیْلًا۠ Open ayah 25:44 in the Quran reader

کیا تو سمجھتا ہے کہ انہیں بہت لگ سنتے یا سمجھتے ہیں ۔ وہ تو چارپایوں کی مانند ہیں ۔ بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ1 ۔

ف 1: مقصود یہ ہے ۔ کہ یہ لوگ دلائل و ہوا مین کی وجہ سے اسلام کی صداقتوں کا انکار کرتے ۔ بلکہ محض ہوائے نفس کی پیروی میں ایسا کرتے ہیں ۔ ان لوگوں کا خدا تو ان کی اپنی خواہشات ہیں ۔
Ayahs 25:45–46

اَلَمْ تَرَ اِلٰى رَبِّكَ كَیْفَ مَدَّ الظِّلَّ١ۚ وَ لَوْ شَآءَ لَجَعَلَهٗ سَاكِنًا١ۚ ثُمَّ جَعَلْنَا الشَّمْسَ عَلَیْهِ دَلِیْلًاۙ Open ayah 25:45 in the Quran reader

کیا تونے اپنے رب کی طرف نہیں دیکھا کہ اس نے کیونکر سایہ کو پھیلایا ہے اور اگر چاہتا تہو اسے ٹھہرا رکھتا ۔ پھر ہم نے سورج کو اس کا راہ بتلانے والا مقرر کیا2

ثُمَّ قَبَضْنٰهُ اِلَیْنَا قَبْضًا یَّسِیْرًا Open ayah 25:46 in the Quran reader

پھر ہم نے اس کو سمیٹ کر اپنی طرف آہستہ آہستہ کھینچ لیا

ف 2: یعنی جس طرح چوپاثوں میں عقل و شعور کی استعداد نہیں ہوتی ۔ اسی طرح یہ لوگ بھی سمجھ بوجھ سے محروم ہیں ۔ بلکہ انہیں لحاظ سے تو ان سے بھی بدتر ہیں کہ وہ کم از کم ان فرائض کو ادا کرتے ہیں ۔ جو فطرت نے ان پر عائد کی ہیں مگر یہ ہیں کہ انسان فرائض کو بھی بھول چکے ہیں اور انسانی شرافت اور بزرگی کو یکسر کھوچکے ہیں ۔
Ayah 25:47

وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ لِبَاسًا وَّ النَّوْمَ سُبَاتًا وَّ جَعَلَ النَّهَارَ نُشُوْرًا Open ayah 25:47 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے تمہارے لئے رات کو اوڑھنا اور نیند کو آرام بنایا اور دن کو اٹھنے کا وقت مقرر کیا ۔

حل لغات سباتا ۔ منقطع کردینے والی چیز ۔ رات چونکہ ان کے تعلقات کدوکاوش سے انسان کو جدا کردیتی ہے ۔ اس لئے اسے سبات سے تعبیر کیا ہے ۔ سبات کے معنے خواب و راحت وآسائش کے بھی ہیں ۔ فرج ۔ بلائے ۔ فرات کے معنے عمدہ اور شریں پانی کے ہیں ۔ اجاج ۔ پانی ۔ تلخ ۔
Ayahs 25:48–53

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ الرِّیٰحَ بُشْرًۢا بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِهٖ١ۚ وَ اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً طَهُوْرًاۙ Open ayah 25:48 in the Quran reader

اور وہی (ف 3) ہے جو اپنی رحمت کے آگے خوشخبری دینے کے لئے ہوائیں بھیجتا ہے اور ہم نے آسمان سے پاک پانی اتارا ۔

لِّنُحْیَِۧ بِهٖ بَلْدَةً مَّیْتًا وَّ نُسْقِیَهٗ مِمَّا خَلَقْنَاۤ اَنْعَامًا وَّ اَنَاسِیَّ كَثِیْرًا Open ayah 25:49 in the Quran reader

تاکہ ہم اس سے مردہ شہر کو زندہ کریں اور اپنی مخلوقات میں سے بہت سے چوپایوں اور انسانیوں کو اس نے پلائیں

وَ لَقَدْ صَرَّفْنٰهُ بَیْنَهُمْ لِیَذَّكَّرُوْا١ۖ٘ فَاَبٰۤى اَكْثَرُ النَّاسِ اِلَّا كُفُوْرًا Open ayah 25:50 in the Quran reader

اور ہم نے اس (قرآن) کو ان کے درمیان طرح طرح سے بیان کیا تاکہ وہ دھیان رکھیں پھر بھی اکثر آدمی بغیر ناشکری کئے نہ رہتے

وَ لَوْ شِئْنَا لَبَعَثْنَا فِیْ كُلِّ قَرْیَةٍ نَّذِیْرًا٘ۖ Open ayah 25:51 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہتے تو ہر بستی میں ایک ڈرانے والا بھیج دیتے

فَلَا تُطِعِ الْكٰفِرِیْنَ وَ جَاهِدْهُمْ بِهٖ جِهَادًا كَبِیْرًا Open ayah 25:52 in the Quran reader

پس تو کافروں کا کہا نہ مان اور اس کے ساتھ ان کا بڑے زور سے مقابلہ کر

وَ هُوَ الَّذِیْ مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ هٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَّ هٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ١ۚ وَ جَعَلَ بَیْنَهُمَا بَرْزَخًا وَّ حِجْرًا مَّحْجُوْرًا Open ayah 25:53 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے دو دریابنائے (بحیرہ روم بحرہ فارس ) یہ شیریں پیاس بجھانے والا ہے اور یہ کھاری کڑوا ہے اور ان کے درمیان آڑا اور مضبوط بند رکھ دیا ہے

تذکیربآلا اللہ 3: قرآن حکیم دلائل وبراہین کا بےنظیر مجموعہ ہے ۔ اس میں ہر نوع اور ہر طبقے کے لوگوں کے لئے تسکین کا بہتر اور وافر سامان موجود ہے ۔ یہ ایک ایسی کتاب ہے جس میں دعوت و اشاعت کے کسی طریق کو اٹھا نہیں رکھا گیا ۔ اس میں حکمت وفلسفہ بھی ہے ۔ اور نفسیات انسانی کی عکاسی بھی ۔ معقول اور ٹھوس دلائل بھی ہیں ۔ اور اقوام و ملل کے حالات بھی ممکن طریقے تصور میں آسکتے ہیں ۔ وہ سب اس میں موجود ہیں ۔ ان آیات میں مشاہدات فطرت کا بیان ہے ۔ اور تذکیر بآلاء اللہ کے اصول پر ان لوگوں کو دعوت ایمان ہے ۔ جو غرو وفکر کے عادی ہیں ۔ ارشاد ہے کہ دیکھو ہم نے انسانوں کے سکھ اور آرام کے لئے آفات پیدا کیا ۔ اس کی وجہ سے ساری کائنات میں روشنی پھیل جاتی ہے ۔ اور ایک عجیب خوشگوار فضا پیدا ہوجاتی ہے ۔ اگر وہ نہ ہو تو دنیا میں تاریکی وظلمت چھا جائے ۔ کیا وہ اسی طرح کفر کی ظلمتوں اور تاریکیوں کو دور کرنے کے لئے کسی نے آفتاب ہدایت کی ضرورت نہیں ! ہم نے رات پیدا کی ہے کہ وہ تمام عیوب لوالتیاس کی طرح ڈھانک لیتی ہے ۔ اور نیند کو آرام کرنے کے لئے بنایا ، نیز دن کو پیدا کیا ۔ جس میں تم اٹھ کھڑے ہوتے ہو ؟ تو کیا موت کی نیند سے بیداری اور العثثت ممکن نہیں ؟ اور ہم خوشخبری دینے والی ہوائیوں کو بھیجتے ہیں ۔ جو باران رحمت کی خبردیتی ہیں اور آسمان سے پاک وصاف پانی برساتے ہیں ۔ کہ خشک اور مردہ زمینیں اس کی وجہ سے زندہ ہوجاتیں ہیں ۔ اور حیوانات اور انسان اس پانی سے استفادہ کریں ۔ تو کیا دل کی خشک اور مردہ زمینیں الہام و وحی کی بارش کے پانی سے تر وتازہ نہ ہوگی ؟ یعنی تم ان تمام معجزاہ توین پر غور کرو ۔ تو تمہیں معلوم ہوگا کہ حکیم وعلیم اللہ اپنے بندوں پر کس درجہ مہربان ہے ۔ ارشاد ہے کہ ہم چاہتے تو ہر بستی میں پیغمبر بھیجتے ۔ اور آپ کی سہولت و آسانی ہر آئنہ مدنظر رکھتے ۔ مگر طے یہ تھا ۔ کہ ان تمام رسالت کی ذمہ داریاں کو آپ تنہا نہ اٹھائیں ۔ اس لئے اپنے اس منصب جلیل کو دیکھتے ہوئے منکرین کی خواہشات کا احترام نہ کیجئے ۔ اور انکی جہالت اور سرکشی کے خلاف زبردست جہاد کیجئے ۔ اس کے بعد پھر مختلف نعمتوں کا ذکر ہے ارشاد ہوتا ہے ۔ کہ دیکھو بعض دفعہ ایک دریا ہوتا ہے اور اس میں دو قسم کے دھارے الگ الگ اور ممتاز طریق پر بہتے ہیں ۔ ایک دھارا میٹھا اور شیریں ہوتا ہے ۔ اور دوسرا کڑوا اور کھاری اور دونوں کے درمیان ایک آڑ اور مضبوط اوٹ ہوتی ہے ۔ جو ان کو آپس میں ملنے نہیں دیتی ۔ کیا یہ اللہ تعالیٰ کے وجود اور زبردست قدرت پر حیرت انگیز دلیل نہیں ۔ آخر ان دونوں دھاروں کو آپس میں ملنے سے کس نے روک رکھا ہے ۔ اور کس نے ان دونوں میں الگ الگ خواص اور رنگ پیدا کئے ہیں ؟ یہ بھی اس کی قدرت باہرہ ہے کہ ایک قطرہ آب سے آدمی پیدا کرکے اسے کنبوں اور قبیلوں والا بنادیتا ہے ۔
Ayah 25:54

وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ مِنَ الْمَآءِ بَشَرًا فَجَعَلَهٗ نَسَبًا وَّ صِهْرًا١ؕ وَ كَانَ رَبُّكَ قَدِیْرًا Open ayah 25:54 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے پانی (نطفہ) سے آدمی بنایا ۔ پھر اس کے لئے نسب یعنی جد) اور دامادی کا رشتہ (یعنی) سسرال بنایا اور تیرا رب قادر ہے

حل لغات :۔ صھرا ۔ خسر ، داماد ، بہنوئی ، سسرال یا وہ مادی قرابت والا ظھیرا ۔ اصل معنے مددگار اور معاون کے ہیں ۔ مگر جب صلہ علی ہو تو اس کے معنے مخالف اور دشمن کے ہوجاتے ہیں ۔
Ayah 25:55

وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُهُمْ وَ لَا یَضُرُّهُمْ١ؕ وَ كَانَ الْكَافِرُ عَلٰى رَبِّهٖ ظَهِیْرًا Open ayah 25:55 in the Quran reader

اور وہ اللہ کے سوا ان کو پوجتے ہیں جو نہ انہیں نفع پہنچا سکتے ہیں اور نہ نقصان (ف 1) اور کافر اپنے رب کی طرف پیٹھ دے رہا ہے

شرک اللہ کا کھلا انکار ہے ! 1: اللہ کے مختلف انعامات آپ دیکھ چکے اور آپ کو معلوم ہوگیا ۔ کہ ہر قسم اور ہر نوع کی قدرتیں اس کے ساتھ مختص ہیں وہی کائنات کا مالک ہے اور اسی کی ذات بابرکات کو ہر طرح کے اختیارات حاصل ہیں ۔ اگر مشرکوں کی بےوقوفی اور کم عقلی ملاحظہ ہو ۔ کہ باوجود ایک قادر و عظیم خدا کے یہ ایسی چیزیں کی پوجا اور عبادت میں مصروف ہیں ۔ جو ان کو نہ تو کئی نفع پہنچا سکتی ہیں ۔ اور نہ نقصان ۔ ارشاد ہے ۔ کہ یہ شرک اللہ تعالیٰ کا کھلا انکار ہے اور کھلی بغاوت ہے ۔
Ayahs 25:56–58

وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًا Open ayah 25:56 in the Quran reader

اور ہم نے تجھے صرف خوشی (ف 2) اور ڈر سنانے کے لئے بھیجا ہے

قُلْ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ اِلَّا مَنْ شَآءَ اَنْ یَّتَّخِذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِیْلًا Open ayah 25:57 in the Quran reader

تو کہہ میں تم سے تبلیغ قرآن پر کچھ ضروری نہیں مانگتا ۔ مگر جو کوئی چاہے کہ اپنے رب کی طرف راہ پکڑے (وہ واپس آجائے)

وَ تَوَكَّلْ عَلَى الْحَیِّ الَّذِیْ لَا یَمُوْتُ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِهٖ١ؕ وَ كَفٰى بِهٖ بِذُنُوْبِ عِبَادِهٖ خَبِیْرَا٤ۚۛۙ Open ayah 25:58 in the Quran reader

اور تو اسی زندہ پر جو نہیں مرتا بھروسا کر اور اس کی حمد کے ساتھ اس کی پاکی بیان کر اور وہ اپنے بندوں کے گناہوں سے کافی خبردار ہے

بشیر اور نذیر 2: حضور سے قبل جس قدر انبیاء تشریف لائے ۔ وہ یا تو بشیر تھے ۔ یا نذیر ۔ یعنی ان کے پیغام میں یا تو انداز کا عنصر قوی تھا ۔ یا بشارت کا ۔ مگر حضور ﷺ کی جامعیت عقلا کی گئی ۔ آپ بیک وقت بشیر بھی تھے اور نذیر بھی ۔ آپ نے اپنے ماننے والوں اور عقیدتمندوں کو جنت اور فلاح کی ۔ اور کینوز واملاک کی خوشخبریاں سنائیں ۔ اور منکروں کو جہنم اور ناکامی کی خبردی ۔
Ayahs 25:59–60

اِ۟لَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١ۛۚ اَلرَّحْمٰنُ فَسْئَلْ بِهٖ خَبِیْرًا Open ayah 25:59 in the Quran reader

جس نے آسمان (ف 3) اور زمین اور جو ان میں ہے چھ دن میں بنایا ۔ (ف 1) پھر عرش پر قرار پکڑا اور رحمن ہے سو تو اس کا حال کسی خبردار سے پوچھ

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اسْجُدُوْا لِلرَّحْمٰنِ قَالُوْا وَ مَا الرَّحْمٰنُ١ۗ اَنَسْجُدُ لِمَا تَاْمُرُنَا وَ زَادَهُمْ نُفُوْرًا۠۩ Open ayah 25:60 in the Quran reader

اور سب اہل مکہ سے کہا جاتا ہے کہ رحمن کو سجدہ کرو تو کہتے ہیں کہ رحمن کیا ہوتا ہے کیا ہم اسے سجدہ کریں جس کے لئے تو حکم دیتا ہے اور ان کی نفرت بڑھتی ہے

پیغمبربلا معاوضہ تبلیغ کرتے ہیں 3: یہ اصل میں حضور ﷺ کی سیرت کی ترجمانی ہے ۔ آپ ﷺ نے تیئس سال تک برابر قوم کو دعوت رشد ہدایت دی اور پیہم اور مسلسل انسانیت کے ارتقا کے لئے جدوجہد فرمائی ۔ گمراہ اور پست خیال انسانوں کو قصر ذات سے اٹھا کر ہدایت اور عروج کے آسمان تک پہنچا دیا ۔ اور ان سے بےمثل خدمت کا بھی کوئی معاوضہ طلب نہ کیا ۔ ہمیشہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھا ۔ اور دنیا والوں سے بےنیاز رہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ معاوضہ اور اجر سے مستغنی ہوکر اسلام کی خدمت کرتے ہیں ۔ اللہ ان لوگوں کو بذات خود دست گیری کرتا ہے اور دنیا والوں کو ان کی اعانت پر آمادہ کردیتا ہے آج اگر ہمارے علماء وقائدین کی باتوں میں اثر نہیں ہے باوجود شیوا بیان اور جادہ مقال ہونے کے قوم میں کوئی انقلاب اور تبدیلی نہیں پیدا کرسکتے ۔ تو اس کیوجہ یہی ہے کہ وہ قوم کے محتاج ہیں او قوم کو انگی چنداں ضرورت نہیں ۔ وہ پیشہ ور ہیں اور مجلب منقعت کے لئے دعوت وتبلیغ کے فرائض انجام دیتے ہیں ۔ ضرورت ہے کہ ہمارے مصلحین اور قائدین حضور ﷺ کے اسوہ سے کسب انوار کریں ۔ اور اللہ کے دین کی بےمزہ خدمت کریں ۔ آگے اللہ کا کام ہے کہ وہ اپنے ان بندوں کی ضروریات کو پورا کردے ۔ 1: یوم کے معنے عربی میں مدت طویل کے ہیں ۔ بارہ گھنٹے کا دن اس سے مراد نہیں ہے ۔ اس لئے آیت کے معنی یہ ہوں گے کہ ہم نے آسمان اور زمین کو چھ طویل قرنوں میں پیدا کیا ۔ عرش حکومت واقتصاد پر خیال اگر ہوتا ۔ اللہ کے شیؤان جمال میں ایک شان ہے ۔ صفت نہیں
Ayahs 25:61–62

تَبٰرَكَ الَّذِیْ جَعَلَ فِی السَّمَآءِ بُرُوْجًا وَّ جَعَلَ فِیْهَا سِرٰجًا وَّ قَمَرًا مُّنِیْرًا Open ayah 25:61 in the Quran reader

بڑی برکت والا ہے وہ جس نے آسمان میں برج بنائے اور اس میں چراغ (یعنی سورج) اور روشن چاند رکھا

وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ خِلْفَةً لِّمَنْ اَرَادَ اَنْ یَّذَّكَّرَ اَوْ اَرَادَ شُكُوْرًا Open ayah 25:62 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے اس کے لئے دودھیان کرتا اور شکرگزار ہونا چاہتا ہے رات اور دن کو ایک دوسرے کا جانشین مقرر کیا

حل لغات : بروجا ۔ منازل ۔ برج کی جمع ہے ۔ یعنی ستاروں کے لئے مفلوہ لائن سرا ہیں ۔
Ayahs 25:63–67

وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا Open ayah 25:63 in the Quran reader

اور رحمن کے بندے وہ ہیں جو زمین پر بےپاؤں چلتے ہیں ۔ اور جب ان سے جاہل لوگ باتیں کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ سلام (ف 2)

وَ الَّذِیْنَ یَبِیْتُوْنَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَّ قِیَامًا Open ayah 25:64 in the Quran reader

اور وہ اپنے رب کے آگے سجدہ اور قیام میں رات کاٹتے ہیں

وَ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ١ۖۗ اِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًاۗۖ Open ayah 25:65 in the Quran reader

اور وہ جو کہتے ہیں ۔ اے ہمارے رب جہنم کا عذاب ہم سے ہٹا بیشک اس کا عذاب ایک بڑی چٹی ہے

اِنَّهَا سَآءَتْ مُسْتَقَرًّا وَّ مُقَامًا Open ayah 25:66 in the Quran reader

بیشک وہ بری قرار گاہ اور برا مقام ہے

وَ الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَنْفَقُوْا لَمْ یُسْرِفُوْا وَ لَمْ یَقْتُرُوْا وَ كَانَ بَیْنَ ذٰلِكَ قَوَامًا Open ayah 25:67 in the Quran reader

اور وہ لوگ کہ جب خرچ کرتے ہیں نہ تو بیجا اڑاتے ہیں اور نہ تنگی کرتے ہیں اور اس کے درمیان معتدل گزران کرتے ہیں

ف 2: یعنی مکہ والوں کے دل میں اس دجہ بتوں کی محبت ہے کہ وہ غلو میں معبود حقیقی کو بھی بھول گئے ہیں ۔ اور جب انہیں دعوت دی جاتی ہے ۔ کہ خدائے رحمن کے سامنے جھکو ۔ اور کسی چیز کی عبادت نہ کرو ۔ تو وہ ازراہ سرکشی کہتے ہیں ۔ یہ خدائے رحمن کون ہے ؟ کیا تمہارے کہنے پر ہم اللہ کی عبادت کرنے لگیں ۔ اور اپنے دیوتاؤں کو چھوڑ دیں ۔ یہ ملحوظ رہے کہ قالوا وما الرحمن سے اسم کا انکار مقصود نہیں ۔ مسمیٰ کا انکار مطلوب ہے اور یہ اس قلیل سے ہے جیسا کہ فرعون نے موسیٰ سے کہا ۔ وما رب العلمین ! حل لغات :۔ ھونا ۔ سہج سے ۔ ہولے ہولے ، بمعنے آرام وآہستگی ووقار ونرمی اور سی کی غراما ۔ عذاب ۔ ہلاک ۔ ہمیشہ اور پیوستہ بدی ۔ شنیفتگی ۔ حرص
Ayahs 25:68–73

وَ الَّذِیْنَ لَا یَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ وَ لَا یَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ لَا یَزْنُوْنَ١ۚ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ یَلْقَ اَثَامًاۙ Open ayah 25:68 in the Quran reader

اور وہ جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے اور کسی جان کو جس کا پکارنا خدا نے حرام کیا ہے ، ناحق نہیں مارتے اور زنا (ف 1) نہیں کرتے او جو کوئی یہ کام کرے وہ بڑے وبال سے ملاقات کرے گا

یُّضٰعَفْ لَهُ الْعَذَابُ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ یَخْلُدْ فِیْهٖ مُهَانًاۗۖ Open ayah 25:69 in the Quran reader

اور قیامت کے دن اس کو دگنا عذاب دیا جائے گا اور ہمیشہ اس میں خوار ہوکر پڑا رہے گا

اِلَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَاُولٰٓئِكَ یُبَدِّلُ اللّٰهُ سَیِّاٰتِهِمْ حَسَنٰتٍ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 25:70 in the Quran reader

جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور نیک کام کئے سو ایسوں کی بدیوں کو خدا نیکیوں سے بدل دے گا اور اللہ بخشے والا مہربان ہے

وَ مَنْ تَابَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَاِنَّهٗ یَتُوْبُ اِلَى اللّٰهِ مَتَابًا Open ayah 25:71 in the Quran reader

اور جس نے توبہ کی اور نیک کام کئے سو وہ اللہ کی طرف رجوع ہونے کی جگہ رجوع ہوتا ہے

وَ الَّذِیْنَ لَا یَشْهَدُوْنَ الزُّوْرَ١ۙ وَ اِذَا مَرُّوْا بِاللَّغْوِ مَرُّوْا كِرَامًا Open ayah 25:72 in the Quran reader

اور وہ جھوٹی گواہی نہیں دیتے اور جب بیہودہ (شخص یا کام) کے پاس سے گزرتے ہیں تو بزرگانہ روش پر گزر جاتے ہیں

وَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ لَمْ یَخِرُّوْا عَلَیْهَا صُمًّا وَّ عُمْیَانًا Open ayah 25:73 in the Quran reader

اور وہ کہ جب ان کو ان کے رب کی آیتوں کے ساتھ نصیحت کی جاتی ہے تو ان پر بہرے اور اندھے ہوکر نہیں گرتے

عبادالرحمن 1: ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے عبادالرحمن کی صفات بتائی ہیں ۔ یعنی وہ کون لوگ ہیں جو اللہ کے صحیح معنوں میں بندے ہیں ۔ اور ان کو رحمن کی غلامی اور نیاز مندی کا فخر حاصل ہے ۔ ارشاد ہے کہ وہ دنیا میں ظلم ومعصیت سے علو و برتری نہیں چاہتے ۔ نہایت نرم اور مریخاں مریخ ہوتے ہیں ۔ عجزوانکساری کا یہ عالم ہے کہ چلتے ہیں تو ہولے ہولے ، وقار اور حشمت کے باوجود ان میں شیخی اور گھمنڈ نہیں ہوتا ۔ متانت اور سنجیدگی کو مدنظر رکھتے ہیں او اپنے وقت کی قیمت کو پہنچانتے ہیں ۔ وہ ان لوگوں سے خوب آگاہ ہوتے ہیں ۔ جن میں جہالت ہوتی ہے ۔ اس لئے جہاں ایسے لوگوں سابقہ پڑتا ہے تو سلام کہہ کر گزرجاتے ہیں ۔ ان لوگوں کے دلوں میں تقویٰ اور پرہیزگاری کے جذبات موجزن ہوتے ہیں ۔ اور ان کا شعار ہوتا ہے کہ رات کی تاریکیوں میں اللہ کے ذکر سے کسب انوار کرتے ہیں اور رات کا اکثر حصہ سجود و قیام میں گزار دیتے ہیں ۔ مگر اپنی عبادت پر انہیں ناز نہیں ہوتا ۔ ہر وقت خرماں اور ترساں رہتے ہیں ۔ اور عذاب خدا سے پناہ رہتے ہیں ۔ ان کے مزاج میں توازن و اعتدال کا مادہ ہوتا ہے ۔ یہ لوگ جب اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ۔ تو بےدریغ ہوتے ہیں ۔ ہاں معصیت کے کام میں ایک حبہ بھی خرچ نہیں کرتے ۔ اور نہ یہ حقوق اللہ میں خرچ کرنے سے کوتاہی کرتے یا دل میں کوئی تنگی یا عنیق محسوس کرتے ہوں ۔ توحید کے قائل اور یہ واضح رہے کہ اللہ کی راہ میں سب کچھ لٹا دینا بھی اسراف نہیں مگر معصیت اور گناہ کی راہ میں ایک پائی بھی اٹھا دینا اسراف ہے ۔ اس لئے لم یسرفوا ولم یقتروا کے معنے یہی ہوں گے ۔ جو ہم نے بیان کئے ہیں ۔ عباد الرحمن میں ایک وصف یہ بھی ہوتا ہے کہ وہ توحید کے قاتل اور حقوق العباد میں بہت زیادہ محتاط ہوتے ہیں ۔ ان سے قتل وغارنگری کے واقعات ظہور پذیر نہیں ہوتے ۔ اور نہ یہ کہ وہ دولت عقاف وعصمت سے محروم ہیں ۔ وہ انتہا درجے کے پاکباز ہوتے ہیں غور فرمائیے کہ اللہ کے بندوں میں کیا کیا خوبیاں ہوتی ہیں ۔ اور اللہ کا بندہ ہونا کن صفات پر موقوف ہے کیا وہ پیشہ ور لوگ جو انتہا درجے کے مغرور اور ضدی ہوتے ہیں ۔ جن کی راتیں مے نوشی اور بدمستیوں میں گزرتی ہیں ۔ جو عذاب الٰہی سے قطعاً بےخوف ہوتے ہیں ۔ اور جلب منفعت جن کا مقصد ہوتا ہے ۔ جو خدا کے سوا قبروں اور مزاروں کو معبودجانتے ہیں ۔ اور ادنی فرد علی اختلاف پر قتل و غارت گری پر آمادہ ہوجاتے ہیں ۔ زنا اور بدمعاشیوں سے جن کو عار نہیں ۔ کیا اللہ کے نیک بندے اس کے محبوب ہوسکتے ہیں ؟ کیا اس قماش کے لوگ ولایت اور عبودیت کے مقام بلند پر فائز ہوسکتے ہیں ؟ اور کیا ان لوگوں کے ہاتھ میں قوم کی باگ ڈور دینا سود مند ہوسکتا ہے ؟
Ayahs 25:74–76

وَ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَ ذُرِّیّٰتِنَا قُرَّةَ اَعْیُنٍ وَّ اجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَامًا Open ayah 25:74 in the Quran reader

اور وہ جو کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہمیں (ف 1) عورتوں اور ہماری اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک بخش کہ وہ نیکوکار ہوں اور متقیوں کا پیشوا بنا

اُولٰٓئِكَ یُجْزَوْنَ الْغُرْفَةَ بِمَا صَبَرُوْا وَ یُلَقَّوْنَ فِیْهَا تَحِیَّةً وَّ سَلٰمًاۙ Open ayah 25:75 in the Quran reader

ایسے لوگوں کو بدلے میں بسبب اس کے کہ انہوں نے صبر کیا ، بالاخانے ملیں گے اور ہاں ان کا دعا اور سلام کے ساتھ استقبال کیا جائے گا

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ حَسُنَتْ مُسْتَقَرًّا وَّ مُقَامًا Open ayah 25:76 in the Quran reader

ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔ وہ ٹھہراؤ اور مقام کی خوب جگہ ہے

بالا خانوں کے مکین 1: عبادالرحمن کی تفصیل کے بعد ان آیات میں یہ بتایا ہے کہ وہ لوگ کون ہیں ۔ جو بہشت میں بالاخانوں پر رہیں گے ۔ جن کے مرتبے بلندہوں گے اور فرشتوں کی جانب سے جن کا دعا اسلام کے ساتھ خیر مقدم ہوگا ۔ ارشاد ہے کہ یہ لوگ ہیں ۔ جو مجالس فسق وفجور میں شریک نہیں ہوتے اور عفیف اور پاکباز رہتے ہیں ۔ جو نہایت باوقار اور متین ہوتے ہیں ۔ بےہودہ محفلوں سے باعزت و کرامت گزر جاتے ہیں ۔ اور آنکھ اٹھا کر بھی اس کی جانب نہیں دیکھتے ۔ پھر ان میں یہ بھی خوبی ہوتی ہے ۔ کہ جب اللہ تعالیٰ کی باتیں ان کو سمجھائی جاتی ہیں ۔ تو وہ فکر اور غور سے سنتے ہیں ۔ اندھا دھند ان پر ٹوٹ نہیں پڑتے ۔ اپنی بیوی بچوں کے لئے اللہ سے دعا کرتے ہیں ۔ کہ وہ نیک اور سعادت مندہوں ۔ اور ان کی راحت و آسائش کا سبب بنیں ۔ ان کی خواہش ہوتی ہے ۔ کہ پرہیز گاروں کی امامت ملے اور انتہا درجے کے پارسا ہوں ۔ اس کے بعداللہ تعالیٰ کے استغناء اور اس کی بےنیازی کا اعلان فرمایا ہے ، ارشاد ہے کہ اگر تم اللہ کو نہیں پکارتے تو اللہ بھی تمہاری کوئی پرواہ نہیں کرتا چاہے تو چشم زون میں تم سب کو فنا کے گھاٹ اتاردے ۔ اس نے جو تم کو باقی رکھا ہے ۔ تو اس لئے کہ اس کی عبادت کرتے ہو ۔ اور اپنی ضروریات کے لئے اس کو پکارتے ہو ۔ حل لغات :۔ قرۃ اعین ۔ آنکھوں کی ٹھنڈک
Ayah 25:77

قُلْ مَا یَعْبَؤُا بِكُمْ رَبِّیْ لَوْ لَا دُعَآؤُكُمْ١ۚ فَقَدْ كَذَّبْتُمْ فَسَوْفَ یَكُوْنُ لِزَامًا۠ Open ayah 25:77 in the Quran reader

تو کہہ میرا پروردگار تمہاری کچھ پرواہ نہیں رکھتا اگر تم اس کو پکارو سو تم تو قرآن کو جھٹلا (ف 1) چکے سو جلدی اس کے وبال میں مبتلا ہوگئے

ف 1: فقد کذبتم سے مراد منکرین ہیں ۔ جو اللہ کے عذاب سے نہیں ڈرتے ۔ اور اس کی بےنیازی اور غناء کی تکذیب کرتے ہیں ۔ فرمایا عنقریب تمہیں اس کی سزا ضرور ملے گی ۔ لزاما ۔ چپک جانے والا عذاب ۔ لازم ہونا ۔