24. Surah An-Noor

النورThe Light · 64 ayahsسراج البیان

Ayahs 24:41–42

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یُسَبِّحُ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ الطَّیْرُ صٰٓفّٰتٍ١ؕ كُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلَاتَهٗ وَ تَسْبِیْحَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 24:41 in the Quran reader

کیا تونے نہ دیکھا ، کہ جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہے اور اڑتے جانور پر کھولے ہوئے اللہ کی تسبیح کرتے ہیں ، سب کی تسبیح اور نماز اللہ جانتا ہے ، اور اللہ جانتا ہے جو وہ کرتے ہیں (ف 1) ۔

وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ اِلَى اللّٰهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 24:42 in the Quran reader

اور آسمانوں اور زمین کی سلطنت اللہ ہی کی ہے اور اسی کی طرف پھرجانا ہے ۔

(ف 1) (آیت) ” کل قد علم صلاتہ “۔ یعنی کائنات کا ہر ذرہ خدا کی تسبیح و ستائش میں مصروف ہے اور کوئی چیز نہیں جو اس کے ماتحت اور مسخر نہ ہو ، آسمان و زمین کے تمام حقائق اس کے عتبہ جلال کے سامنے جھکتے ہیں اور سجدہ کرتے ہیں ، مگر سجدہ اور نیاز مندی کے طریقے مختلف ہیں ، ہر شے اپنی فطرت اور ساخت کے مطابق اپنے فرائض کو ادا کر رہی ہے ، اور نہایت استقلال سے نیاز مندی ہے اور بندگی کا ثبوت دے رہی ہے ۔ حل لغات : یزجی : جلاتا ہے ہنکاتا ہے ۔ اصل میں ازجا کے معنے سہولت وآسانی سے چلانے کے ہیں ۔ الودق : ہلکی ہلکی بارش ۔
Ayahs 24:43–45

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یُزْجِیْ سَحَابًا ثُمَّ یُؤَلِّفُ بَیْنَهٗ ثُمَّ یَجْعَلُهٗ رُكَامًا فَتَرَى الْوَدْقَ یَخْرُجُ مِنْ خِلٰلِهٖ١ۚ وَ یُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ جِبَالٍ فِیْهَا مِنْۢ بَرَدٍ فَیُصِیْبُ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَصْرِفُهٗ عَنْ مَّنْ یَّشَآءُ١ؕ یَكَادُ سَنَا بَرْقِهٖ یَذْهَبُ بِالْاَبْصَارِؕ Open ayah 24:43 in the Quran reader

کیا تونے نہ دیکھا ، کہ اللہ بادل ہانک لاتا ہے ، پھر انہیں اکٹھے کرتا ، پھر تہ بہ تہ کرتا ہے ، پھر تو دیکھتا ہے کہ ان بادلوں کے درمیان سے مینہ نکلتا ہے ، اور وہ آسمان سے ان پہاڑوں سے جو آسمان میں ہیں اولے اتارتا ہے ، پھر وہ اولے جس پر چاہتا ہے ڈالتا ہے ، اور جس سے چاہتا ہے روک لیتا ہے ، قریب ہے کہ اس کی بجلی کی چمک آنکھیں لے جائے (ف 1) ۔

یُقَلِّبُ اللّٰهُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّاُولِی الْاَبْصَارِ Open ayah 24:44 in the Quran reader

اللہ رات اور دن کو پھراتا رہتا ہے ، اس میں آنکھ والوں کے لئے عبرت ہے ۔

وَ اللّٰهُ خَلَقَ كُلَّ دَآبَّةٍ مِّنْ مَّآءٍ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰى بَطْنِهٖ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰى رِجْلَیْنِ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰۤى اَرْبَعٍ١ؕ یَخْلُقُ اللّٰهُ مَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 24:45 in the Quran reader

اور اللہ نے ہر پھرنے والا پانی سے پیدا کیا ، سو ان میں بعض اپنے پیٹ کے بل چٹتے ، اور بعض دو پیروں پر چلتے ، اور بعض چار پیروں پر چلتے ہیں ، اللہ جو چاہے ، پیدا کرے ، بیشک اللہ ہر شئے پر قادر ہے ۔

(ف 1) ان سب آیات میں اللہ کے انواع قدرت کا بیان ہے ، ارشاد ہے کہ اگر تم اس کارگاہ حیات کی حیرت انگیزیوں پر غور کرو گے اور سوچو گے ، تو تمہیں اس کی حکمتوں اور قدرتوں کا وسیع علم حاصل ہوجائے گا تمہیں معلوم ہوگا ، کہ وہ کیونکر بادلوں کو حرکت دیتا ہے اور پھر کیونکر ان کو آپس میں ملا دیتا ہے تمہیں معلوم ہوگا کہ بارش کے قوانین کیا ہیں ؟ بارش میں اور اولوں میں کیا فرق ہے ؟ تم بجلی کو کو ندتے ہوئے دیکھو گے ۔ اور اس طرح لیل ونہار کے اختلافات کو ملاحظہ کرو گے ، اور اس طریق غور وفکر سے تمہیں معارف وحکم کا بہرہ وافر حاصل ہوجائے گا بشرطیکہ تم میں سوجھ بوجھ کی صلاحیت ہو ۔ حل لغات : سنابرقہ : بجلی کی روشنی برق روشن ۔
Ayah 24:46

لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اٰیٰتٍ مُّبَیِّنٰتٍ١ؕ وَ اللّٰهُ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 24:46 in the Quran reader

ہم نے کھلی نشانیاں نازل کیں ، اور اللہ جسے چاہے سیدھی راہ پر چلائے ۔ (ف 1) ۔

(ف 1) مقصد یہ ہے کہ قرآن میں رشد وہدایت کی واضح اور نمایاں نشانیاں موجود ہیں ، اس میں تمام انواع وقدرت و حکمت کی تشریح ہے اور اخلاق ومعاشرت کی توضیح ، اس میں فطرت کی باریکیوں سے عقائد کی مشکلات تک سب کو واضح کیا ہے ، غرض بحیثیت مجموعی یہ ایک ایسی کتاب ہے جس سے ہر قسم کے ذہن کا انسان ہر طرح کا استفادہ کرسکتا ہے مگر استفادہ کی توفیق اللہ کے ہاتھ میں ہے جو لوگ دلوں میں بعض وعناد کے بیج بوتے ہیں ، اس کی برکات سے تمتع نہیں ہوسکتے کیونکہ ان لوگوں سے توفیق اور استعداد چھن جاتی ہے ۔
Ayahs 24:47–53

وَ یَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ بِالرَّسُوْلِ وَ اَطَعْنَا ثُمَّ یَتَوَلّٰى فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ١ؕ وَ مَاۤ اُولٰٓئِكَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 24:47 in the Quran reader

اور وہ کہتے ہیں کہ ہم اللہ اور رسول پر ایمان لائے ، اور فرمانبردار ہوئے ، پھر اس اقرار کے بعد ان میں سے ایک فرقہ ایمان سے پھرجاتا ہے اور وہ ایمان لانے والے نہیں ہیں (ف 2) ۔

وَ اِذَا دُعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 24:48 in the Quran reader

اور جب اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف بلائے جاتے ہیں کہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے تو فورا ہی ایک فرقہ کے لوگ ان میں سے منہ موڑتے ہیں ۔

وَ اِنْ یَّكُنْ لَّهُمُ الْحَقُّ یَاْتُوْۤا اِلَیْهِ مُذْعِنِیْنَؕ Open ayah 24:49 in the Quran reader

اور اگر ان کو کچھ حق (مال غنیمت وغیرہ سے) پہنچتا ہو تو اس کے مطیع ہو کر آتے ہیں ۔

اَفِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ اَمِ ارْتَابُوْۤا اَمْ یَخَافُوْنَ اَنْ یَّحِیْفَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ وَ رَسُوْلُهٗ١ؕ بَلْ اُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ۠ Open ayah 24:50 in the Quran reader

کیا ان کے دلوں میں روگ ہے یا وہ شک میں پڑے ہیں ، یا اس سے ڈرتے ہیں کہ اللہ اور اس کا رسول ان پر بےانصافی کرے گا ، کوئی نہیں بلکہ وہی لوگ بےانصاف ہیں ۔

اِنَّمَا كَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذَا دُعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ اَنْ یَّقُوْلُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 24:51 in the Quran reader

ایمان والوں کی بات تو یہ ہے کہ جب وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف اس لئے بلائے جائیں کہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے تو کہیں کہ ہم نے سنا اور حکم مانا ، اور ایسے ہی لوگ نجات پائیں گے ۔

وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَخْشَ اللّٰهَ وَ یَتَّقْهِ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 24:52 in the Quran reader

اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانے اور اللہ سے ڈرے اور تقوی اختیار کرے سو وہی لوگ مراد کو پہنچیں گے ،

وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ لَئِنْ اَمَرْتَهُمْ لَیَخْرُجُنَّ١ؕ قُلْ لَّا تُقْسِمُوْا١ۚ طَاعَةٌ مَّعْرُوْفَةٌ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 24:53 in the Quran reader

اور وہ اللہ کی سخت قسمیں کھاتے ہیں کہ اگر تو ان کو حکم دے تو وہ ضرور اپنا وطن چھوڑ کر نکل جائیں تو کہہ قسمیں نہ کھاؤ (ہم کو) فرمانبرداری چاہئے کہ دستور ہے ، البتہ اللہ واقف ہے جو تم کرتے ہو ۔

منافقین کے جذبہ اطاعت کی حقیقت : (ف 2) ان آیات میں منافقین کی ذہنیت کا آشکارا کیا ہے ارشاد ہے کہ ظاہر میں تو یہ لوگ اسلام کے فضائل و محاسن کا اقرار کرتے ہیں اور کہتے ہیں ہم مومن ہیں ، اور اللہ و رسول کے مطیع ومنقاد ہیں ، مگر حقیقت میں یہ مومن نہیں ، ان میں سرکشی اور تمرد کا مادہ ہنوز موجود ہے ، چناچہ جب ان سے کسی معاملہ میں کہا جاتا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کا حکم مان لو اور اس کے فیصلوں کے سامنے جھک جاؤ ان میں سے بعض لوگ روگردانی کرتے ہیں ، اور آپ کو اپنے معاملہ میں حکم ماننے کے لئے تیار نہ ہوں گے ، ہاں اگر انہیں یہ یقین ہوجائے ، کہ فیصلہ ہمارے حق میں ہوگا ، اور ہمیں کچھ دلایا جائے گا ، تو پھر ان کی سرکشی اور انکار انقیاد و اطاعت میں بدل جاتا ہے ، اور مخلصانہ طور پر اس وقت اپنے ایمان کا اظہار کرتے ہیں آپ کو حکم قرار نہ دینے کی وجہ یہ ہے قرآن حکیم فرماتا ہے ، ان کے دل میں نفاق کا مرض ہے ، اور اسلام کے متعلق شکوک و شبہات ہیں ، اور انہیں ڈر ہے کہ کہیں آپ انکے مخالف فیصلہ صادر نہ فرما دیں ۔ بات یہ تھی کہ ایک منافق اور یہودی کے درمیان زمین کی بابت کچھ جھگڑا تھا یہودی کہتا تھا ، آؤ محمد ﷺ کو منصف مان لیں ، وہ جو فیصلہ صادر فرمائیں گے ، ہمیں منظور ہوگا ، اور منافق کہتا تھا نہیں میں کعب بن اشرف کو حاکم مانتا ہوں ، (کیونکہ اسے معلوم تھا) کہ میں باطل پر ہوں ۔ اس لئے حضور میری رعایت نہیں کریں گے مگر بوجہ نفاق ودشمنی اس انصاف کو وہ یہودی کے سامنے ” حیف “ یعنی ظلم سے تعبیر کرتا ہے اور کہتا کہ مجھے محمد ﷺ سے ڈر ہے کہ وہ ناانصافی نہ کریں ، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ، بلکہ یہ لوگ خود ظالم اور جھوٹے ہیں ، اور دل میں خبث اور کھوٹ ہے ، اس لئے اسلام پر اطمینان نہیں ، اور حضور ﷺ کے متعلق بدگمان ہیں ، ورنہ کون ہے جو آپ کی صفت شعار اور عدل گستری کا انکار کرسکے ۔ (آیت) ” انی قلوبھم “۔ میں ہمزہ استفہام دراصل خیریت کے لئے ہے جس طرح جریر کہتا ہے ۔ السم خیر من رکب المطایا ۔ افشاء کے لئے نہیں ۔ کسی شخص کو قوت ایمان کا حال اس وقت معلوم ہوتا ہے ، جب کہ وہ ہر حالت اور ہر کیفیت میں اپنے کو اللہ اور اس کے رسول کے سپرد کردے ، اور کسی نفع اور نقصان کا خیال نہ کرے بلکہ یہ سمجھے کہ نفع کے معنی اللہ اطاعت اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کے ہیں ، اس لئے اگر اس محبت اور عقیدت میں جان بھی کھونا پڑے ، تو وہ یہی یقین رکھے کہ میں گھاٹے میں نہیں رہا ، ارشاد ہے کہ اس نوع کی اطاعت شعاری مومنین کا خاصہ ہے ، یہ بات منافقین میں نہیں پائی جاسکتی ، بلکہ یہی مقام امتیاز ہے اسی سے معلوم ہوتا ہے دولت ایمان کس کے پاس ہے ، اور کون محروم مومن کو جب اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تو وہ سمعنا واطعنا کہتا ہوا لپکتا ہے اور فوز و فلاح کو حاصل کرلیتا ہے ۔ حل لغات : مرض ، بیماری (یعنی نفاق) کہ وہ بھی روح کے لئے بمنزلہ بیماری کے ہے ۔ جھد ایمانھم : محاورہ ہے جس کے معنی مضبوط اور مستحکم قسم کھانے کے ہیں ۔
Ayah 24:54

قُلْ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ١ۚ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْهِ مَا حُمِّلَ وَ عَلَیْكُمْ مَّا حُمِّلْتُمْ١ؕ وَ اِنْ تُطِیْعُوْهُ تَهْتَدُوْا١ؕ وَ مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 24:54 in the Quran reader

تو کہہ اللہ اور رسول ﷺ کی تابعداری کرو ، پھر اگر تم منہ موڑو گے تو رسول ﷺ کا وہی ذمہ ہے تو اس پر لادا گیا اور تمہارا وہ ذمہ ہے جو تم پر لادا گیا اور اگر اس کی فرمانبرداری کرو گے تو ہدایت پاؤ گے اور رسول کا ذمہ صرف کھول کر پہنچانا ہے (ف 1) ۔

(ف 1) قرآن حکیم نے بار بار اطاعت رسول کو بیان فرمایا ہے اور بتایا ہے کہ مسلمان کیلئے ضروری ہے کہ اس اسوہ کامل کی تقلید کرے اور اپنی زندگی کے لئے مشکوۃ نبوت سے کسب انوار کرے ، کیونکہ پیغمبر ہی دنیا میں محاسن اور کمالات کا پیکر ہوتا ہے ، اور اس سے بےنیازی اللہ کے دین سے کفر کی مترادف ہے ، چناچہ (آیت) ” ان تطیعوہ تھتدوا “۔ کہہ کر اس حقیقت کو واضح کیا ہے کہ دنیا میں اللہ کی فرمانبرداری اور اس کی اطاعت شعاری کے معنے بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ عظمت رسول کو سمجھو ، اور اس کے مقام رفیع سے واقف ہو ، تاکہ تم ہدایت حاصل کرسکو ۔
Ayah 24:55

وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِی الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١۪ وَ لَیُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِیْنَهُمُ الَّذِی ارْتَضٰى لَهُمْ وَ لَیُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمْنًا١ؕ یَعْبُدُوْنَنِیْ لَا یُشْرِكُوْنَ بِیْ شَیْئًا١ؕ وَ مَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 24:55 in the Quran reader

جو تم میں سے ایمان لائے اور نیک کام کئے اللہ نے ان سے وعدہ کیا ہے کہ وہ ضرور انہیں زمین میں حاکم بنائے گا جیسے ان لوگوں کو حاکم بنایا تھا ، جو ان سے پہلے ہو گزرے ہیں اور ان کا دین جو اس نے ان کیلئے پسند کیا ہے ان کے واسطے محکم کرے گا اور ان کے خوف کے بعد انہیں امن بدل دیگا ، وہ میری عبادت کرینگے اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں گے ، اور جو کوئی اس کے بعد کافر ہوگا ، سو وہی لوگ نافرمان ہیں (ف 2) ۔

استخلاف فی الارض کا وعدہ : (ف 2) دین کے معنے اسلامی نقطہ نگاہ سے کامیابی کے کامل پروگرام کے ہیں ، اس لئے جو لوگ صحیح معنوں میں مومن ہوں گے اور ان کے اعمال اللہ کے تجویز کردہ پروگرام کے ماتحت ہوں گے ، ان کا دنیا آخرت میں کامیاب ہوتا یقینی اور حتمی ہے ، اس آیت میں قرآن نے اسی اصول کی جانب رہنمائی فرمائی ہے ارشاد ہے کہ مومنین سے اللہ کا وعدہ ہے کہ انہیں خلیفہ فی الارض یعنی ملک کا حاکم بنایا جائے گا انہیں دنیا کی تمام نعمتوں سے نوازا جائیگا ، اور ان کے سر پر تاج خسروی رکھا جائے گا ، اور ان کیلئے یہ مقدمات میں سے ہیں کہ جب تک اسلام کی پوری پابندی کرتے رہیں ، اس وقت تک دنیا کی قیادت کریں سب سے بلند رہیں ، اور اللہ کے فضل سے ساری کائنات پر حکومت کریں ، کیونکہ اسلام کے لائحہ عمل میں ایسے رفعت آگین اور تفوق آفرین اصول داخل ہیں ، کہ ان عمل پیرا ہونے کا یہی قطعی اور منطقی نتیجہ ہے جو مذکور ہوا اور یہ صرف نظریہ ہی نہیں ، بلکہ اسلام کی ساری تاریخ اس پر شاہد عدل ہے دیکھ لیجئے جب تک مسلمان صحیح معنوں میں مسلمان رہے ان کے دلوں میں احساس عزت کا جذبہ موجزن رہا ، اسلام کے حاکمانہ اصول ان کی زندگی میں کار فرما رہے ، اور جب تک انہوں نے قیادت و رہنمائی کے منصب جلیل پر اپنے کو فائز رہنے کا حق دار سمجھا ، تب تک حاکم رہے ، عزت واقتدار کے مالک رہے ، اور رونق ورنگ وتاج رہے اور جب تک مذہبی کے معنی ان کے ہاں خشک وقیود اور بےروح رسموں کے قرار پائے ۔ اور محض انتساب کو باعث فخر و مباہات سمجھا گیا ۔ تو اس وقت سے ذلت و ادبار کا دور مشؤم شروع ہوا ۔ جس نے زیر دستوں کو زبردست بنا دیا جس کی وجہ سے جہالت تعلیم سے بدل گئی ، اور بد اخلاق قوم سرخیل روحانیات ٹھہری یہی تو وہ اسلام ہے جس کی وجہ سے مٹھی بھر مسلمان کائنات پر چھا گئے اور لوگوں کی راہ نمائی کرنے لگے پھر آج اگر ہم میں ذہنی افلاس اور تسطل موجود ہے ، تو اسلام اور قرآن اس کا ذمہ دار نہیں بلکہ اس کی ساری ذمہ داری ہمارے اپنے اعمال اور کردار پر عائد ہوتی ہے ۔
Ayahs 24:56–57

وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 24:56 in the Quran reader

اور نماز قائم رکھو ، اور زکوۃ دو ، اور رسول کی اطاعت کرو ، شاید تم پر رحم ہو (ف 3) ۔

لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ مَاْوٰىهُمُ النَّارُ١ؕ وَ لَبِئْسَ الْمَصِیْرُ۠ Open ayah 24:57 in the Quran reader

تو گمان نہ کر کہ کافر لوگ زمین میں (بھاگ کر) تھکائیں گے ، اور ان کا ٹھکانا آگ ہے ، اور وہ بری جگہ ہے ۔

(ف 3) وعدہ استخلاف کے بعد اس آیت میں نہایت جامعیت کے ساتھ وہ پروگرام بتلایا ہے جس پر عمل پیرا ہونے سے خلافت ونیابت الہیہ کا منصب حاصل ہو سکتا ہے ، اور وہ پروگرام نماز اور زکوۃ کی تنظیم ہے ، رسول کی اطاعت اور فرمانبرداری ہے ، مسلمان اگر نماز کی روحانی واجتماعی برکات سے آگاہ ہوجائیں ، اور زکوۃ کی تنظیم کرلیں ، اور یہ طے کرلیں ، کہ ان کی زندگی اسوہ رسول کے کے مطابق ہوگی ، تو یقین جانئے ، آج ہی ان کی ہر قسم کی ذلتیں اور نحوستیں عزتوں اور سعادتوں سے بدل سکتی ہیں ۔
Ayahs 24:58–60

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِیَسْتَاْذِنْكُمُ الَّذِیْنَ مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ وَ الَّذِیْنَ لَمْ یَبْلُغُوا الْحُلُمَ مِنْكُمْ ثَلٰثَ مَرّٰتٍ١ؕ مِنْ قَبْلِ صَلٰوةِ الْفَجْرِ وَ حِیْنَ تَضَعُوْنَ ثِیَابَكُمْ مِّنَ الظَّهِیْرَةِ وَ مِنْۢ بَعْدِ صَلٰوةِ الْعِشَآءِ١ؕ۫ ثَلٰثُ عَوْرٰتٍ لَّكُمْ١ؕ لَیْسَ عَلَیْكُمْ وَ لَا عَلَیْهِمْ جُنَاحٌۢ بَعْدَهُنَّ١ؕ طَوّٰفُوْنَ عَلَیْكُمْ بَعْضُكُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 24:58 in the Quran reader

مؤمنو ! چاہئے کہ تمہارے ہاتھ کے مال (باندی غلام) اور تمہارے نابالغ لڑکے تین وقت تم سے اجازت لے کر گھر میں آیا کریں ، نماز فجر سے پہلے (ف 1) ۔ اور جب تم دوپہر کو اپنے کپڑے اتارتے ہو ، اور بعد نماز عشاء ، یہ تین وقت تمہارے پردہ کے ہیں ، بعد ان وقتوں کے ان پر اور تم پر کچھ گناہ نہیں ، کہ تم ایک دوسرے کے پاس پھرا ہی کرتے ہو ، (یعنی علاوہ ان وقتوں کے آجا سکتے ہو) یوں اللہ تمہارے لئے احکام بیان کرتا ہے ، اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے ۔

وَ اِذَا بَلَغَ الْاَطْفَالُ مِنْكُمُ الْحُلُمَ فَلْیَسْتَاْذِنُوْا كَمَا اسْتَاْذَنَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 24:59 in the Quran reader

اور جب تمہارے لڑکے بالغ ہوجائیں تو ان کو چاہئے کہ اذن مانگیں ، جیسے ان سے اگلے لوگ مانگتے رہے ہیں ، یوں اللہ تمہارے لئے اپنی آیتیں بیان کرتا ہے اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے ۔

وَ الْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَآءِ الّٰتِیْ لَا یَرْجُوْنَ نِكَاحًا فَلَیْسَ عَلَیْهِنَّ جُنَاحٌ اَنْ یَّضَعْنَ ثِیَابَهُنَّ غَیْرَ مُتَبَرِّجٰتٍۭ بِزِیْنَةٍ١ؕ وَ اَنْ یَّسْتَعْفِفْنَ خَیْرٌ لَّهُنَّ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 24:60 in the Quran reader

اور عورتوں میں سے بڈھی عورتیں جو نکاح کی امید نہیں رکھتیں ، ان پر اس میں کچھ گناہ نہیں ، کہ اپنے کپڑے اتار رکھیں ان پر اس میں کچھ گناہ نہیں ، کہ اپنے کپڑے اتار رکھیں جب کہ وہ زینت دکھانے والی نہ ہوں ، اور جو اس سے بھی بچیں ، تو ان کے لئے (اور) بہتر ہے ، اور اللہ سنتا جانتا ہے ۔

غلاموں اور نوکروں کیلئے قواعد : (ف 1) ان میں پھر سورة نور کے اصل موضوع کی طرف رجوع فرمایا ہے سورة کا اصل موضوع تمدن انسانی کے مسائل مہمتہ کو بیان کرنا ہے ، اور یہ بتانا ہے کہ اخلاق حسنہ اور عوائد رسمیہ میں کون کون سی باتیں داخل ہیں ، قرآن حکیم کا یہ مخصوص انداز بیان ہے کہ وہ موضوع کی تفصیلات میں بھی تنوع کو باقی رکھتا ہے ، اور صرف مسئلہ کے مالہ وما علیہ پر عموما بحث نہیں کرتا ، کیونکہ اس طریق سے قرآن سے میں جو ایک جاذبیت اور وسعت معانی ہے ، وہ جاتی رہتی ہے تنوع کا بہت بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ پڑھنے والا بےتکان پڑھتا چلا جاتا ہے ، اور طبیعت میں کسی نوع کا تکدر پیدا نہیں ہوتا اور اس کی مثال بالکل اس شخص کی سی ہوتی ہے ، جو ایک سرسبزوشاداب مقام سے گزر رہا ہو ، کہیں سبزہ ہے تو ، کہیں پھول ، کہیں اونچے اونچے درخت اور دریا ہیں ، تو کہیں پہاڑ اور چشمے نظر آتے ہیں جس طرح یہ شخص ان بوقلمون اور گوناگون نظاروں سے لطف اندوز ہوتا ہے اسی طرح قرآن پڑھنے والا دیکھتا ہے کہ کہاں مضامین ومعانی کا گلزار کھلا ہوا ہے ، کہیں توحید کے دریا بہہ رہے ہیں کہیں حشر ونشر کے مذکور اور کہیں اخلاق کا ذکر ہے تو کہیں معاشرت انسانی کی مشکلات کا اسی طرح سارے قرآن میں یہ دلچسپیاں قائم رہتی ہیں ، سورة نور کی ابتداء تعارف سے ہوتی ہے پھر حدود زنا کی تفصیل ہے پھر مسئلہ لعان ہے اس کے بعد حدیث افک ، پھر پردہ کے مسائل ہیں ، اور نکاح کا فلسفہ اور حکمتیں ، اس کے بعد مکاتیب کا ذکر ہے اور درمیان میں اللہ کے اقرارآگئے ہیں ، اسی طرح برابر تنوع چلا رہا ہے ۔ اس آیت میں پردہ سے متعلقہ دوسرے مسائل کی تشریح فرمائی ہے ۔ عام طور پر گھروں میں بچے اور عورتیں کام کاج کرتی ہیں ، اور بےتکلف ان کا گھروں میں آنا جانا رہتا ہے ، بعض دفعہ یہ ہوتا ہے کہ ایک ملازم اچانک اندر آجاتا ہے ، جب کہ آپ اس کا سامنا نہیں چاہتے ، تو اس حالت میں ایک دوسرے کو دیکھتے ہی دونوں شرمندہ ہوجاتے ہیں ، ۔ قرآن حکیم نے اس سلسلے میں یہ ہدایت فرمائی ہے کہ نماز صبح سے پہلے ، دوپہر قیلولہ کے وقت اور عشاء کے بعد اگر ان لوگوں کو اندر آنا ہو ، تو باقاعدہ اجازت لے کر آئیں ، کیونکہ یہ اوقات سونے اور آرام کرنے کے ہیں ، اور ان اوقات میں آدمی سارے کپڑے عموما نہیں پہنتا ہے ، یا کپڑے اور پردہ کی جانب سے غافل ہوتا ہے اس لئے خطرہ ہے کہ بےپردگی نہ ہوجائے ۔ حل لغات : القواعد : بڑی بوڑھی عورتیں ، جو بےچاری زیادہ ہل جل نہ سکیں ۔ غیر متبرجت بزینۃ : یعنی اس نوع کی عورتوں کو عموما زیادہ سخت پردے کی ضرورت نہیں ہوتی ، تاہم ان کو بھی محتاط رہنا چاہئے ۔
Ayah 24:61

لَیْسَ عَلَى الْاَعْمٰى حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْاَعْرَجِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْمَرِیْضِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ اَنْ تَاْكُلُوْا مِنْۢ بُیُوْتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اٰبَآئِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اُمَّهٰتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اِخْوَانِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَخَوٰتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَعْمَامِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ عَمّٰتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَخْوَالِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ خٰلٰتِكُمْ اَوْ مَا مَلَكْتُمْ مَّفَاتِحَهٗۤ اَوْ صَدِیْقِكُمْ١ؕ لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَاْكُلُوْا جَمِیْعًا اَوْ اَشْتَاتًا١ؕ فَاِذَا دَخَلْتُمْ بُیُوْتًا فَسَلِّمُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ تَحِیَّةً مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُبٰرَكَةً طَیِّبَةً١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 24:61 in the Quran reader

نہ اندھے پر کچھ گناہ ہے ، اور نہ لنگڑے پر کچھ گناہ ہے ، اور نہ بیمار پر کچھ گناہ ہے ، اور نہ تمہاری جانوں پر کچھ گناہ ہے ، کہ تم اپنے گھروں سے کھاؤ یا اپنے باپوں کے گھروں سے ، یا اپنی ماؤں کے گھروں سے ، یا اپنے بھائیوں کے گھروں سے ، یا اپنی بہنوں کے گھروں سے ، یا اپنے چچاؤں کے گھروں سے یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں سے ، یا اپنے ماموؤں کے گھروں سے ، یا اپنی خالاؤں کے گھروں سے یا اس کے گھر سے جس کی کنجیوں کے تم مالک ہو ، یا اپنے دوست کے گھر سے ، تم پر گناہ نہیں کہ اکٹھے ہو کر کھاؤ ، یا الگ الگ (ف 1) ۔ بیٹھ کر (کھاؤ ) ، پھر جب تم گھروں میں جاؤ ، تو اپنے لوگوں پر سلام کرو ، یہ خدا کی طرف سے برکت والی پاکیزہ دعا مقرر ہوئی ہے ، یوں اللہ تمہارے لئے آیتیں بیان کرتا ہے ، شاید تم سمجھو ،

آداب طعام : (ف 1) بات یہ تھی کہ بعض لوگ دوسرے کے ہاں کھانا کھانے سے بربنائے خودداری پرہیز کرتے تھے ، یا ان کا یہ خیال تھا کہ شاید اس طرح بےتکلفی سے دوسرے کے ہاں کھانے سے تقوی ودیانت کی خلاف ورزی ہوگی ان آیات میں یہ بتایا ہے کہ اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں کے ہاں کھانے پینے میں کوئی ہرج نہیں ، (آیت) ” لیس علی الاعمی حرج “۔ الخ مقصود یہ ہے کہ یہ لوگ چونکہ اس قابل نہیں ہوتے کہ آزادی کے ساتھ کسی کے ساتھ شریک طعام ہو سکیں ، اس لئے ان کو کسی کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھانے میں تکلف ہونا تھا ، قرآن حکیم کہتا ہے ، ان لوگوں کے ساتھ کھانا جو اپنے اور قریبی ہیں ، برا نہیں ، اور شرعا اس میں کوئی حرج نہیں ، یا ہوسکتا ہے کہ دوسروں کو ان کے ساتھ شریک طعام ہونے میں اعتراض ہو اور اس اعتراض کو اس آیت میں دور کیا گیا ہو ، اس صورت میں علی بمعنی فی ہوگا (آیت) ” ان تاکلوا جمیعا او اشتاتا “۔ عربوں میں رواج تھا کہ وہ تنہا خوری کو معیوب سمجھتے تھے ، چناچہ بنی لیث بن عمرو کے متعلق مشہور ہے کہ وہ لوگ اس وقت تک بھوکے رہتے جب تک کہ کوئی مہمان ان کے ساتھ بیٹھ کر کھانا نہ کھاتا ۔ انصار کا بھی یہی طریقہ تھا ، وہ بھی انتہا درجے کے مہمان نواز تھے قرآن حکیم نے اس آیت میں ان لوگوں کو اجازت دی کہ وہ جس طرح چاہیں ، کھا سکتے ہیں ، چاہے اکٹھا مہمانوں کے ساتھ کھائیں ، اور چاہے الگ کھائیں ، اور مہمان کو الگ بھیج دیں ، دونوں صورتیں جائز ہیں ۔ حل لغات : بیوت : جمع بیت ، بمعنے گھر ، عمتکم ، عمہ کی جمع ہے بمعنے پھوپھی ، اخوالکم : جمع خال ، ماموں ، خلتکم : واحد خالۃ ، معنے مشہور ہیں ، ماں کی سگی بہن ، اشتاتا : شت ۔ اشتات کی جمع ہے ، متفرق الگ الگ ۔
Ayah 24:62

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اِذَا كَانُوْا مَعَهٗ عَلٰۤى اَمْرٍ جَامِعٍ لَّمْ یَذْهَبُوْا حَتّٰى یَسْتَاْذِنُوْهُ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَاْذِنُوْنَكَ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ۚ فَاِذَا اسْتَاْذَنُوْكَ لِبَعْضِ شَاْنِهِمْ فَاْذَنْ لِّمَنْ شِئْتَ مِنْهُمْ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُمُ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 24:62 in the Quran reader

مومن وہی ہیں ، جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لائے ، اور جب کسی جمع ہونے کے کام میں اس کے ساتھ ہوں ، تو بغیر اس سے اجازت لئے نہ چلے جایا کریں ، جو لوگ تجھ سے اجازت لے کر جاتے ہیں ، وہی ہیں جو اللہ اور رسول ﷺ پر ایمان لائے ہیں ، پھر جب وہ اپنے کسی کام کے لئے تجھ سے اجازت مانگیں ، تو ان میں سے جسے چاہے اجازت مانگیں ، تو ان میں سے جسے چاہئے اجازت دے اور اللہ سے ان کے لئے معافی مانگ ، بیشک اللہ بخشنے والامہربان ہے ۔ (ف 1) ۔

آداب مجلس : (ف 1) یہ آداب مجلس میں ہے کہ بغیر اجازت ہر مجلس یا شرکاء مجلس کے وہاں سے کوئی شخص نہ اٹھے ، منافقین کی عادت تھی کہ جب چاہا وعظ یا خطبے میں بیٹھ گئے ، اور جب چاہا ، اٹھ کھڑے ہوئے ، اللہ تعالیٰ کو یہ ادا ناپسند تھی ، اس لئے اس آیت میں ارشاد فرمایا کہ آداب مجلس کو ملحوظ رکھنا جزو ایمان ہے ، اور وہ لوگ جو ان آداب کو ملحوظ نہیں رکھتے ۔ وہ صحیح معنوں میں مسلمان نہیں ۔ غور فرمائیے ، قرآن میں آداب وعوائد رسمیہ کی کس قدر اہمیت ہے ، اور اس وقت کا مسلمان ان آداب سے کس قدر عاری ہے ، آج یورپ والے ان اخلاق و عادات کو اس طرح اپنا کرچکے ہیں کہ گویا یہ ان کا خاصہ معلوم ہوتا ہے حالانکہ سب چیزیں اسلام سے لی گئی ہیں ۔
Ayahs 24:63–64

لَا تَجْعَلُوْا دُعَآءَ الرَّسُوْلِ بَیْنَكُمْ كَدُعَآءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًا١ؕ قَدْ یَعْلَمُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ یَتَسَلَّلُوْنَ مِنْكُمْ لِوَاذًا١ۚ فَلْیَحْذَرِ الَّذِیْنَ یُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِهٖۤ اَنْ تُصِیْبَهُمْ فِتْنَةٌ اَوْ یُصِیْبَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 24:63 in the Quran reader

اور اپنے درمیان رسول ﷺ کا بلانا ، ایسا نہ ٹھہراؤ جیسے تم آپس میں ایک دوسرے کو بلاتے ہو ، اللہ انہیں جانتا ہے جو تم میں سے نظر بچا کر کھسک جاتے ہیں ، سو جو لوگ اس کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں ، چاہئے کہ ڈریں کہ ان پر کوئی آفت نہ آجائے ، یا انہیں دکھ دینے والا عذاب پہنچے (ف 1) ۔

اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قَدْ یَعْلَمُ مَاۤ اَنْتُمْ عَلَیْهِ١ؕ وَ یَوْمَ یُرْجَعُوْنَ اِلَیْهِ فَیُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 24:64 in the Quran reader

خبردار ہو جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے ، اللہ ہی کا ہے ، وہ جانتا ہے جس حال میں تم ہو ، اور جس دن اس کی طرف پھیر لئے جائیں گے تو وہ ان کے اعمال سے انہیں مطلع کرے گا ، اور اللہ ہر شئے کو جانتا ہے ۔

(ف 1) حرمت رسول ﷺ کے بارہ میں صاف طور پر فرمایا کہ رسول ﷺ کے حکموں کو ایسا نہ سمجھنا جس طرح تم ایک دوسرے کو مخاطب کرکے حکم دیتے ہو یعنی خواہ ان پر عمل کرو یا نہ کرو ، رسول کی ہر بات واجب تعمیل ہے ، اور جو لوگ اس کے ارشادات کو نہیں مانتے ، اور اپنے لئے ان ارشادات کو صحیح اور سند نہیں سمجھتے ان کو ڈرنا چاہئے ، کہ اس انکار کی بنا پر کسی آفت یا اللہ کے عذاب میں مبتلا نہ ہوجائیں ، بعض کی رائے میں آیت کا مقصد یہ ہے کہ رسول ﷺ کو عام تخاطب کے انداز میں مخاطب نہ کیا جائے بلکہ حرمت وحترام کو مدنظر رکھ کر یا رسول اللہ یا نبی اللہ وغیرہ الفاظ سے پکارا جائے ، بعض اکابر کی رائے میں اس سے مراد ہے کہ حضور ﷺ کو مخاطب کرنے میں آواز کا لہجہ عامیانہ یا ملائم نہ ہو ، بعض کہتے ہیں کہ یہاں دعا سے مراد بددعا ہے یعنی یہ نہ سمجھو کہ رسول کی بددعا عام لوگوں کی طرح بےاثر ہے ، اس صورت میں بینکم ، علیکم کے مترادف ہوگا ۔ مگر پہلے معنی زیادہ درست اور سباق کے مطابق ہیں ۔ حل لغات : یتسئلون : کھسک جاتے ہیں ، آنکھ بچا کر چل دیتے ہیں ۔ فتنۃ : آزمائش عذاب ، دیوانگی ۔