15. Surah Al-Hijr

الحجرThe Rock · 99 ayahsسراج البیان

Ayahs 15:37–48

قَالَ فَاِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَۙ Open ayah 15:37 in the Quran reader

فرمایا ۔ تجھے مہلت ملی ۔ (ف 1) ۔

اِلٰى یَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُوْمِ Open ayah 15:38 in the Quran reader

مقررہ وقت کے دن تک ۔

قَالَ رَبِّ بِمَاۤ اَغْوَیْتَنِیْ لَاُزَیِّنَنَّ لَهُمْ فِی الْاَرْضِ وَ لَاُغْوِیَنَّهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 15:39 in the Quran reader

بولا اے رب اس لئے کہ تونے مجھے گمراہ کیا میں بھی ان سب آدمیوں کو زمین بہاریں دکھلاؤں گا اور گمراہ کروں گا ۔

اِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 15:40 in the Quran reader

سوائے ان کے جو تیرے برگزیدہ بندے ہیں ۔

قَالَ هٰذَا صِرَاطٌ عَلَیَّ مُسْتَقِیْمٌ Open ayah 15:41 in the Quran reader

فرمایا یہی (برگزیدگی) میرے پاس آن کی سیدھی راہ ہے ۔

اِنَّ عِبَادِیْ لَیْسَ لَكَ عَلَیْهِمْ سُلْطٰنٌ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْغٰوِیْنَ Open ayah 15:42 in the Quran reader

جو میرے بندے ہیں ان پر تیرا غلبہ نہ ہوگا مگر جو گمراہوں میں سے تیرا پیرو ہوا ۔

وَ اِنَّ جَهَنَّمَ لَمَوْعِدُهُمْ اَجْمَعِیْنَ۫ۙ Open ayah 15:43 in the Quran reader

اور ان سب کی وعدہ گاہ دوزخ ہے ۔

لَهَا سَبْعَةُ اَبْوَابٍ١ؕ لِكُلِّ بَابٍ مِّنْهُمْ جُزْءٌ مَّقْسُوْمٌ۠ Open ayah 15:44 in the Quran reader

جس کے سات دروازے ہیں (اور) ہر دروازے کے لئے ان میں سے ایک فرقہ مقرر ہے ۔

اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍؕ Open ayah 15:45 in the Quran reader

بیشک جو متقی ہیں وہ باغوں اور چشموں میں ہونگے ۔

اُدْخُلُوْهَا بِسَلٰمٍ اٰمِنِیْنَ Open ayah 15:46 in the Quran reader

سل امتی سے امن کے ساتھ اس میں داخل ہوجاؤ ۔

وَ نَزَعْنَا مَا فِیْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ اِخْوَانًا عَلٰى سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِیْنَ Open ayah 15:47 in the Quran reader

اور جو ان کے دلوں میں خفگی ہی ہم اسے نکال ڈالیں گے بھائی ہو کر آمنے سامنے تختوں پر ہوں گے ،

لَا یَمَسُّهُمْ فِیْهَا نَصَبٌ وَّ مَا هُمْ مِّنْهَا بِمُخْرَجِیْنَ Open ayah 15:48 in the Quran reader

انہیں وہاں کچھ تکلیف نہ پہنچے گی اور وہاں سے کبھی نہ نکلیں گے ۔

شیطان کی وجہ تخلیق : (ف 1) شیطان کو سجدہ نہ کرنے کی یہ سزا ملی کہ ہمیشہ کیلئے معتوب الہی ہوا ، اسے حکم دیا گیا ، کہ تم اب آسمان کی وسعتوں سے نکل جاؤ اور مکرو فریب کے لئے زمین پر رہو ، تمہیں قیامت تک مہلت ہے اپنی شیطنت کو بروئے کار لاؤ ، پوری قوت کے ساتھ اولاد آدم کو گمراہ کرنے کی کوشش کرو ، یاد رکھو وہ لوگ جو پاکباز اور متقی ہیں ، وہ تیری دستبر سے ہمیشہ بالا رہیں گے ، اور نفوس قدسیہ کو گمراہ نہیں کر سکوگے ، سوائے ان چند شریر النفس لوگوں کے جو تیرے ہم خیال ہیں ، اور کوئی تیری دوستی کا دم نہیں بھرے گا اور بالاخر تم سب لوگ جہنم کا ایندھن بنوگے ، شیطان اپنے تمام گروہ کے ساتھ جہنم میں داخل ہوگا ، اور کوئی قوت انہیں عذاب الہی سے نہیں بچا سکے گی ۔ اس مقام پر دو شبہ قدرتی طور پر پیدا ہوتے ہیں ، ایک یہ کہ اللہ نے شیطان کو کیوں قیامت تک مہلت دی ، کہ وہ اس کی بھولی بھالی مخلوق کو گمراہ کرتا رہے ، کیا وہ گمراہی کو پسند کرتا ہے ؟ اور کیا اسے شیطان کے مشاغل محبوب ہیں ؟ دوسرے یہ کہ شیطان کو آخر نافرمانی کی جرات کیوں ہوئی ، جب کہ وہ جناب باری کے بالکل قریب تھا ، نافرمانی کا ارتکاب تو اس وقت ہوتا ہے جب دوری کے حجاب دل پر چھائے ہوں ، ابلیس جیسی شخصیت نے جس کو قرب حاصل تھا ، جو خدا سے بالمواجہ باتیں کر رہا ہے ، کیونکہ انکار کیا ؟ پہلے شبہ کا جواب یہ ہے کہ دنیا میں اللہ نے مختلف چیزیں پیدا کی ہیں اور اس اختلاف وتنوع میں ہی دنیا کی زندگی مستور ہے ، دن پیدا کیا تو ساتھ رات کی تاریکی لگا رکھی ہے ۔ پھولوں کی پتیاں پیدا کی تو کانٹے بھی ہیں ، عسل ولبن کی اگر فروانی ہے تو حنطل وزقوم بھی ہے ، غرض کہ دنیا کی رونق اس کو قلمونی پر موقوف ہے ، شیطان کا وجود انسان کے ساتھ ساتھ ایسا ہی ضروری ہے جیسے آفتاب کے بعد تاریی اور ظلمت کی حکمرانی ، پھول کے ساتھ کانٹے اور شہد کے ساتھ زہر ۔ شیطان نے انکار اس لئے کیا کہ اس کی آنکھوں پر بھی غرور وحسد کے پردے پڑگئے ، اسے گو قرب حاصل تھا ، مگر پھر بھی بہت سے حجاب ایسے تھے ، جن کی وجہ سے گمراہ ہوا ، ہمارے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان جیسے بعد و حجاب ہے ، اسی طرح فرشتوں اور اللہ کے درمیان بھی بیشمار پردے حائل ہیں ، جن کی تفصیل کو ہم نہیں جانتے اسلئے شیطان کی گمراہی تعجب خیز نہیں ۔ حل لغات : الغوین : گمراہ ، غوایۃ سے مشتق ہے ۔
Ayahs 15:49–54

نَبِّئْ عِبَادِیْۤ اَنِّیْۤ اَنَا الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُۙ Open ayah 15:49 in the Quran reader

میرے بندوں سے کہہ دے کہ میں بخشنے والا مہربان ہوں (ف 1) ۔

وَ اَنَّ عَذَابِیْ هُوَ الْعَذَابُ الْاَلِیْمُ Open ayah 15:50 in the Quran reader

اور کہ میرا عذاب دیکھ دینے والا عذاب ہے ۔

وَ نَبِّئْهُمْ عَنْ ضَیْفِ اِبْرٰهِیْمَۘ Open ayah 15:51 in the Quran reader

اور انہیں ابراہیم (علیہ السلام) کے مہمانوں کا حال سنا دے ،

اِذْ دَخَلُوْا عَلَیْهِ فَقَالُوْا سَلٰمًا١ؕ قَالَ اِنَّا مِنْكُمْ وَ جِلُوْنَ Open ayah 15:52 in the Quran reader

جب اس کے پاس آئے ، بولے سلام وہ بولا ہم تم سے ڈرتے ہیں ۔

قَالُوْا لَا تَوْجَلْ اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلٰمٍ عَلِیْمٍ Open ayah 15:53 in the Quran reader

بولے ، خوف نہ کر ہم تجھے ایک ہوشیار لڑکے کی بشارت دیتے ہیں ۔

قَالَ اَبَشَّرْتُمُوْنِیْ عَلٰۤى اَنْ مَّسَّنِیَ الْكِبَرُ فَبِمَ تُبَشِّرُوْنَ Open ayah 15:54 in the Quran reader

کہا تم مجھے خوشی سناتے ہو جب کہ مجھ پر بڑھاپا آچکا ہے تو کس بات کی خوشی سناتے ہو ۔

خدا اصل میں غفور ورحیم ہے ! (ف 1) ان دو آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے نہایت وضاحت سے ارشاد فرمایا ہے کہ صفات میں حقیقتا عفو ومغفرت ہے ، اللہ تعالیٰ چاہتے تو یہی ہیں کہ اس کے بندے ہمیشہ اس کے انعامات سے متمتع رہیں ، اور اس کی رحمتیں ابدا اس کے بندوں پر چھائی ہیں ، مگر جب بندے دائرہ عبودیت سے نکل جائیں ، اور اللہ کے کرم وعفو سے استفادہ نہ کریں تو پھر اس کے غضب میں جوش پیدا ہوتا ہے اور اس کا غصہ نافرمانوں پر بھڑکتا ہے ، یہ غصہ اور غضب بھی درحقیقت غفران ورحمت کا نتیجہ ہے ، جس طرح والدین ناراض ہوتے ہیں اور ان کی ناراضگی میں بھی شفقت کا ایک رنگ ہوتا ہے ، اسی طرح اللہ جو والدین سے زیادہ رحیم ہے ، جب ناراض ہوتا ہے تو اس کی ناراضگی میں بھی الوان شفقت کی جھلک ہوتی ہے ۔ یہ عجب لطیفہ ہے کہ رحمت کو تو مؤکد ترین انداز میں ذکر فرمایا ہے ۔ (آیت) ” انی ، انا ، و غفور ، ورحیم “ ، کی تکرار ، اور پھر الف لام کے ساتھ تعرفی و تخصیص ، مگر عذاب الیم کو بیان کرنے میں اس قدر تاکیدات کا اظہار نہیں فرمایا ، جس سے صاف ظاہر ہے کہ رحمت کا پہلو بہت غالب ہے ، اس کا دریائے رحمت جب جوش میں آجائے تو پھر عذاب وثواب کس قطار و شمار میں ۔ حل لغات : غل : کینہ ، خیانت ، و کدورت ، سرر : جمع سریر ، تخت ، نصب : تکان ، تھکن ، تکدر باتکلیف وجلون : خوفزدہ ۔
Ayahs 15:55–65

قَالُوْا بَشَّرْنٰكَ بِالْحَقِّ فَلَا تَكُنْ مِّنَ الْقٰنِطِیْنَ Open ayah 15:55 in the Quran reader

کہا کہ ہم تجھے ٹھیک بشارت دیتے ہیں سو تو ناامیدوں میں نہ ہو (ف 1) ۔

قَالَ وَ مَنْ یَّقْنَطُ مِنْ رَّحْمَةِ رَبِّهٖۤ اِلَّا الضَّآلُّوْنَ Open ayah 15:56 in the Quran reader

بولا اپنے رب کی رحمت سے گمراہوں کے سوا اور کون ناامید ہوتا ہے ۔

قَالَ فَمَا خَطْبُكُمْ اَیُّهَا الْمُرْسَلُوْنَ Open ayah 15:57 in the Quran reader

بولا اے رسولو ! تمہارا مطلب کیا ہے ۔

قَالُوْۤا اِنَّاۤ اُرْسِلْنَاۤ اِلٰى قَوْمٍ مُّجْرِمِیْنَۙ Open ayah 15:58 in the Quran reader

بولے ہم گنہ گار لوگوں کی طرف بھیجے گئے ہیں ،

اِلَّاۤ اٰلَ لُوْطٍ١ؕ اِنَّا لَمُنَجُّوْهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 15:59 in the Quran reader

مگر لوط (علیہ السلام) کے گھر والے کہ ہم ان سب کو نجات دیں گے ،

اِلَّا امْرَاَتَهٗ قَدَّرْنَاۤ١ۙ اِنَّهَا لَمِنَ الْغٰبِرِیْنَ۠ Open ayah 15:60 in the Quran reader

لیکن اس کی عورت کو نہیں کہ ہم نے مقرر کردیا ہے کہ وہ پیچھے رہنے والوں میں ہو ،

فَلَمَّا جَآءَ اٰلَ لُوْطِ اِ۟لْمُرْسَلُوْنَۙ Open ayah 15:61 in the Quran reader

پھر جب رسول لوط (علیہ السلام) کے گھر آئے ۔

قَالَ اِنَّكُمْ قَوْمٌ مُّنْكَرُوْنَ Open ayah 15:62 in the Quran reader

بولا تم اوپرے لوگ معلوم ہوتے ہو ،

قَالُوْا بَلْ جِئْنٰكَ بِمَا كَانُوْا فِیْهِ یَمْتَرُوْنَ Open ayah 15:63 in the Quran reader

بولے نہیں ہم تیرے پاس وہ چیز لے کر آئے ہیں ، جس میں اہل شہر شک کرتے تھے (یعنی عذاب)

وَ اَتَیْنٰكَ بِالْحَقِّ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ Open ayah 15:64 in the Quran reader

اور ہم تیرے پاس حق بات لائے اور ہم سچے ہیں ،

فَاَسْرِ بِاَهْلِكَ بِقِطْعٍ مِّنَ الَّیْلِ وَ اتَّبِعْ اَدْبَارَهُمْ وَ لَا یَلْتَفِتْ مِنْكُمْ اَحَدٌ وَّ امْضُوْا حَیْثُ تُؤْمَرُوْنَ Open ayah 15:65 in the Quran reader

سو تو اپنے گھر والوں کو کچھ رات رہے لے نکل اور خود ان کے پیچھے چل اور تم میں کوئی مڑ کر نہ دیکھے ، اور چلے جاؤ جہاں تم کو حکم ہوا ہے ۔

(ف 1) قرآن حکیم کا یہ مخصوص شیوہ بیان ہے کہ احکام کا ذکر کرتے ہوئے عبروبصائر کا انبار لگا دیتا ہے ، اور درمیان میں قوام وملل کے قصص بھی بیان کرتا جاتا ہے کہ حالات کا موازنہ ہوتا رہے ۔ اس سے قبل دعوت رسالت کا ذکر تھا ، پھر مکہ والوں کے تعصب کو بیان کیا ، پھر نوع انسانی کو اپنے ابتدائی حالات کی جانب توجہ دلائی ، تاکہ وہ اپنے اصلی مقام کو پہچانیں ، اب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ اور قوم لوط (علیہ السلام) کے حالات ہیں ، ابراہیم (علیہ السلام) کے قصہ میں (آیت) ” انی انا الغفور الرحیم “۔ کی تشریح ہے ، اور قوم لوط (علیہ السلام) کی داستان میں (آیت) ” وان عذابی وھو ال عذاب الالیم “۔ کی ۔ بات یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس جب فرشتے آئے تو انہوں نے سلام عرض کیا ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جواب دیا مگر ڈرتے ڈرتے ، خیال یہ تھا کہ کہیں دشمن اور مخالف نہ ہوں ، انہوں نے کہا آپ ڈریں نہیں ہم آپ کے لئے خوشخبری لائے ہیں ، اللہ آپ کو ایک لائق بچہ عنایت فرمانے والے ہیں ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) چونکے اور تعجب سے کہا ، اس بڑھاپے میں اب اولاد ہوگی ، فرشتوں نے سمجھا ، مایوس ہے اس لئے تردیدا انہوں نے کہا ہم جو کچھ کہہ رہے ہیں ، حق اور واقعہ ہے ، آپ مایوس نہ ہوں ، اللہ ضرور آپ کو ایک بچہ مرحمت فرمائیں گے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے معاملہ سمجھ لیا ، اور کہا میں نے بربنائے مایوسی نہیں کہا ، کیونکہ مایوسی تو گمراہی ہے ، بلکہ اس لئے کہ عادتا اس عمر میں اولاد نہیں ہوتی ، اس کے بعد تشریف آوری کی وجہ پوچھی ، انہوں نے کہ ہم قوم لوط (علیہ السلام) کے گناہ گاروں کی جانب آئے ہیں کہ انہیں ہلاکت وتباہی کا پیغام سنائٰں اس قصہ میں مندرجہ ذیل اسباب موجود ہیں ۔ (1) مہمان جب آئے پہلے سلام کہے ۔ (2) مہمان کے متعلق کوئی شبہ ہو تو فورا اس کا ازالہ کرلے ۔ (3) خدا کی رحمت سے بہرنوع مایوس نہ ہو ۔ (4) حق بات کو فورا قبول کرلے ۔ حل لغات : خطبکم : حالت کیفیت ۔
Ayahs 15:66–76

وَ قَضَیْنَاۤ اِلَیْهِ ذٰلِكَ الْاَمْرَ اَنَّ دَابِرَ هٰۤؤُلَآءِ مَقْطُوْعٌ مُّصْبِحِیْنَ Open ayah 15:66 in the Quran reader

اور لوط (علیہ السلام) کے دل میں ہم نے یہ بات قائم کردی تھی کہ صبح ہوتے ہی ان لوگوں کی جڑ کاٹی جائے گی (ف 1) ۔

وَ جَآءَ اَهْلُ الْمَدِیْنَةِ یَسْتَبْشِرُوْنَ Open ayah 15:67 in the Quran reader

اور اہل شہر خوشیاں کرتے آئے ۔

قَالَ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ ضَیْفِیْ فَلَا تَفْضَحُوْنِۙ Open ayah 15:68 in the Quran reader

بولا یہ میرے مہمان ہیں سو مجھے رسوا نہ کرو ،

وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ لَا تُخْزُوْنِ Open ayah 15:69 in the Quran reader

اور خدا سے ڈرو اور میری آبرو مت کھوؤ ۔

قَالُوْۤا اَوَ لَمْ نَنْهَكَ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 15:70 in the Quran reader

بولے ، کیا ہم نے تجھے جہان کی حمایت سے نہ روکا تھا ،

قَالَ هٰۤؤُلَآءِ بَنٰتِیْۤ اِنْ كُنْتُمْ فٰعِلِیْنَؕ Open ayah 15:71 in the Quran reader

بولا یہ میری بیٹیاں حاضر ہیں اگر (نکاح) کرنا چاہو ۔

لَعَمْرُكَ اِنَّهُمْ لَفِیْ سَكْرَتِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 15:72 in the Quran reader

تیری جان کی قسم وہ اپنی مستی میں مدہوش ہیں ۔

فَاَخَذَتْهُمُ الصَّیْحَةُ مُشْرِقِیْنَۙ Open ayah 15:73 in the Quran reader

سو سورج نکلتے وقت انہیں چنگھاڑ نے پکڑ لیا ،

فَجَعَلْنَا عَالِیَهَا سَافِلَهَا وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ حِجَارَةً مِّنْ سِجِّیْلٍؕ Open ayah 15:74 in the Quran reader

پھر ہم نے اس بستی کو اوپر نیچے کردیا ، اور ان پر کھنگر کی قسم سے پتھر برسائے ۔

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّلْمُتَوَسِّمِیْنَ Open ayah 15:75 in the Quran reader

بیشک اس قصہ میں دھیان کرنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں ،

وَ اِنَّهَا لَبِسَبِیْلٍ مُّقِیْمٍ Open ayah 15:76 in the Quran reader

اور وہ بستی سیدھی راہ پر ہے (یعنی شاہراہ عام ہے ) ۔

قوم لوط کی ہلاکت : (ف 1) حضرت لوط (علیہ السلام) جس قوم کی جانب معبوث ہو کر آئے یہ وہ لوگ تھے جو حد درجہ کے شہوانی تھے ، یہ فواحش کے ارتکاب میں نہایت دلیر تھے ، اور اس درجہ پست اور ذلیل قسم کے جذبات کے مالک تھے کہ تسکین نفس کے لئے لونڈوں کو بہ نسبت عورتوں کے پسند کرتے ، قوم کی قوم اس خبیث مرض میں مبتلا تھی ، اخلاقی حس مردہ ہوچکی تھی ، ہر آن شہوت پرستی میں مشغول اور بدمست رہتے ۔ حضرت لوط کو ان کی اصلاح کے لئے بھیجا گیا ، انہوں نے ہرچند عفت وپاکبازی کی تلقین کی ، مگر یہ بدبخت کہاں مانتے تھے بدمعاشی رگ رگ میں سرایت کرچکی تھی ، بالآخر اللہ کی غیرت نے فیصلہ کرلیا کہ اس ناپاک قوم کو فنا کر کے گھاٹ اتار دیا جائے ، تاکہ بدمعاشی کے جراثیم دوسری نسلوں تک منتقل نہ ہونے پائیں ، اور انہوں ان کی بداخلاقی کی سزا مل جائے ، چناچہ اللہ کے فرشتے آئے ، مگر حضرت لوط (علیہ السلام) نے انہیں اولا نہ پہچانا ، جب انہوں نے اپنا تعارف کرایا تو حضرت لوط (علیہ السلام) کو معلوم ہوا کہ قوم کی تباہی کا وقت آپہنچا ہے ۔ فرشتوں نے کہا ، آج ہی رات اپنے اہل و عیال کو لے کر یہاں سے نکل جاؤ ، کیونکہ یہ فیصلہ ہوچکا ہے ، کہ صبح ہوتے ہوتے قوم کو تباہ کردیا جائے ، اور ان کی ساری نسل کو برباد کردیا جائے ، مزید یہ بھی بتلایا ، کہ جس وقت جاؤ ، سرعت سے جاؤ پیچھے مڑ کر نہ دیکھنا بلکہ ان لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑ کر اس ارض سے جلد تر دور نکل جانے کی کوشش کرو ، شہر والوں نے جب سنا کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کے ہاں نہایت خوبصورت لڑکے مہمان آئے ہیں تو خوش خوش ان کے ہاں کے ہاں آئے اور اپنی خواہش نفس کا اظہار کیا ، مضرت لوط نے کہا کمبختو ، یہ تو دیکھو کہ یہ میرے مہمان ہیں کیا تم میں ذرہ بھر بھی شرافت باقی نہیں رہی ، اللہ سے ڈرو ، اور تم اپنی بدکرداریوں سے مجھے رسوا نہ کرو ، مگر وہ نصیحت اور پاکبازی کی باتوں کو کہاں سنتے تھے ، ان کے دل تو خباثت نفس کی وجہ سے سیاہ ہوچکے تھے ، وہ شہوت سے اندھے ہو رہے تھے ، انہوں نے اصرار کیا ، حضرت لوط (علیہ السلام) نے کہا نہیں میری بہو ، بیٹیوں (یعنی عورتوں) سے کیوں نفرت ہے ، تم کیوں ان سے جذبہ شہوت کی تسکین نہیں کرتے ، یہ واقعہ اس لئے ذکر کیا ہے تاکہ ان کے اخلاقی تسفل کا آپ کو اندازہ ہو سکے ، اور آپ جان سکیں کہ کس طرح وہ سارا دن بدمعاشی کی ٹوہ میں لگے رہتے تھے ، جہاں برائی کے لئے کان میں بھنک پڑتی ، اٹھ دوڑتے ، انکی بدمعاشیوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ بستی کو تہ وبالا کردیا گیا ، اور قوم لوط زمانہ کے لئے عبرت قرار پائی ۔ حل لغات : بقطع : رات کے آخری حصہ کو کہتے ہیں ۔