Ayahs 43:40–45آیت 40
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کو اہل تکذیب کے ایمان نہ لانے اور آپ کی دعوت کو قبول نہ کرنے پر تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے، نیز واضح فرماتا ہے کہ ان میں کوئی بھلائی ہے نہ پاکیزگی جو انہیں ہدایت کی طرف بالئے۔ (افانت تسمع الصم) ” کیا آپ بہرے کو سنا سکتے ہیں۔ “ جو سنتے نہیں (اوتھدی العمی) ” یا اندھے کو راستہ دکھا سکتے ہیں ؟ “ جو دیکھتے نہیں یا کیا آپ اس شخص کی راہنمائی کرسکتے ہیں (آیت) ” جو واضح گمراہی میں مبتلا ہے ؟ کیونکہ وہ اپنی گمراہی اور اس کے بارے میں اپنی پسندیدگی کو خوب جانتا ہے۔ پس جس طرح بہرہ آوازوں کو نہیں سن سکتا اور اندھا دیکھ نہیں سکتا اسی طرح گمراہ شخص جو واضح گمراہی میں مبتلا ہے، ہدایت نہیں پاسکتا۔
قرآن سے ان کی روگردانی کی بنا پر ان کی فطرت اور عقل فاسد ہوگئی اور انہوں نے عقائد فاسدہ گھڑ لئے اور ان میں صفات خبیثہ پیدا ہوگئیں جو انہیں ایمان لانے سے روکتی ہیں اور ان کے اور ہدایت کے درمیان حائل ہیں اور انکی تباہی میں اضافے کی موجب ہیں۔ اب ان لوگوں کے لئے عذاب اور سزا کے سوا کچھ باقی نہیں اور یہ عاب انہیں دنیا ہی میں دے دیا جائے گا یا آخرت میں اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (فاما نذھبن بک فانا منھم منتقمون) یعنی ہم نے ان کے ساتھ جس عذاب کا وعدہ کیا ہے، آپ کو وہ عذاب دکھانے سے پہلے اگر آپ کو اٹھا لیں تو ہماری سچی خبر کی بنا پر آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ہم ان سے انتقام لیں گے۔ (اونرینک الذی وعدنھم) ” یا تمہیں دکھا دیں (وہ عذاب) جس کا ہم نے ان سے وعدہ کیا ہے۔ “ (فانا علیھم مقتدرون) ” پس بیشک ہم ان پر قابو رکھتے ہیں۔ “ مگر اس عذاب کی تعجیل و تاخیر اللہ تعالیٰ کی حکمت کے تاقضے پر موقوف ہے۔
یہ ہے آپ کا حال اور ان مکذبین کا حال، پس آپ (فاستمسک بالذی اوحی الیک) اپنے افعال میں اس چیز کو مضبوطی سے تھامے رکھیں جو آپ کی طرف وحی کی گئی ہے اور ان صفات سے تمصف ہوں جن سے متصف ہونے کا آپ کو یہ وحی حکم دیتی ہے۔ اس کی طرف دعوت دیں، اس کو اپنی ذات اور دوسرے پر نافذ کرنے کی خواہش رکھیں۔ (انک عل یصراط مستقیم) بیشک آپ سیدھے راستے پر ہیں، جو اللہ تعالیٰ اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے اور یہ وہ چیز ہے جو آپ پر اس سے تمسک کرنے اور اس سے راہنمائی حاصل کرنے کو اور زیادہ واجب کرتی ہے۔ جب آپ جانت یہیں کہ یہ حق، عدل اور سچائی ہے تو آپ اسی اصل اصیل پر قائم رہیں جبکہ دوسرے لوگوں نے شرک، اوہام اور ظلم وجور کو بنیاد بنا رکھا ہے۔
(وانہ) یعنی یہ قرآن کریم (لذکر لک و لقومک) ” تمہارے لئے اور تمہاری قوم کے لئے ذکر (نصیحت) ہے۔ “ تم لوگوں کے لئے فخر، منقبت جلیلہ اور ایسی نعمت ہے جس کا اندازہ کیا جاسکتا ہے نہ اس کے وصف کی معرفت حاصل کی جاسکتی ہے، نیز یہ قرآن تمہارے سامنے اس دنیوی اور آخروی بھلائی کو بیان کرتا ہے جس پر یہ مشتمل ہے اور تمہیں اس کی ترغیب دیتا ہے اور تمہیں برائی کے بارے میں بتاتا اور اس سے ڈراتا ہے (وسوف تسئلون) ” اور عنقریب تم سے پوچھا جائے گا۔ “ اس کے بارے میں کہ آیا تم نے اس کو قائم کر کے رفعت حاصل کی اور اس سے فائدہ اٹھایا، یا تم نے اس کو قائم نہیں کیا تو یہ تمہارے خلاف حجت ہوا اور تمہاری طرف سے اس نعمت کی ناسپاسی گردانی جائے ؟
(آیت) ” اور ہمارے ان بنیوں سے پوچھو ! جنہیں ہم نے آپ سے پہلے بھیجا تھا، کیا ہم نے سوائے رحمٰن کے اور معبود مقرر کئے تھے کہ ان کی عبادت کی جائے ؟ “ یہاں تک کہ وہ الہ مشرکین کے لئے ایک قسم کی حجت بن جاتے جس میں وہ انبیاء ومرسلین میں سے کسی کی اتباع کرتے۔ اگر آپ ان سے پوچھیں اور انبیاء ومرسلین کے احوال کی خبر دریافت کریں تو آپ ایک بھی ایسا رسول نہیں پائیں گے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور ہستی کو معبود بنا لینے کی دعوت دیتا ہو، آپ دیکھیں گے اول سے لے کر آخر تک تمام انبیاء اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کی طرف دعوت دیتے ہیں، چناچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” اور ہم نے ہر قوم میں ایک رسول مبعوث کیا جو انہیں دعوت دیتا تھا کہ تم اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت سے بچو۔ “ ہر رسول نے، جس کو اللہ تعالیٰ نے مبعوث فرمایا، اپنی قوم سے یہی کہا کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ مشرکین کے پاس اپنے شرک پر کوئی دلیل نہیں، عقل صحیح کی رو سے نہ رسولوں کی تعلیمات میں سے نقل صحیح کی رو سے۔
Ayahs 43:46–56آیت 46
جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” تو حضرت موسیٰ اور ان کی دعوت کا ذکر فرمایا جو انبیاء ومرسلین کی دعوت میں سب سے زیادہ شہرت رکھتی ہے، نیز اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اس کا سب سے زیادہ ذکر کیا ہے، پس اللہ تعالیٰ نے فرعون کے ساتھ حضرت موسیٰ کا حال بیان کیا، فرمایا : (ولقد ارسلنا موسیٰ بایتنا) ” اور ہم نے موسیٰ کو نشانیاں دے کر بھیجا۔ “ جو قطعی طور پر دلالت کرتی ہیں کہ جو چیز حضرت موسیٰ لے کر آئے ہیں وہ صحیح ہے، مثلاً عصا، سانپ، ٹڈی ول بھیجنا، جوئیں پڑنا اور یدگر تمام آیات اور معجزات وغیرہ (الی فرعون وملاۂ فقال انی رسول رب العلمین) ” فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف، تو اس نے کہا : میں رب العالمین کی طرف سے رسول ہوں۔ “ سو حضرت موسیٰ نے ان کو اپنے رب کے اقرار کی دعوت دی اور انہیں غیر اللہ کی عبادت سے روکا۔ (فلما جآء ھم بایتنا اذھم منھا یضحکون) ’ دپس جب وہ ان کے پاس ہماری نشانیاں لے کر آئے تو وہ نشانیوں سے مذاق کرنے لگے۔ “ یعنی انہوں نے ان آیات کا انکار کر کے ان کو ٹھکرا دیا اور ظلم وتکبر سے ان کا تمسخر اڑایا۔
یہ سب کچھ آیات اور نشانیوں میں کسی کمی اور ان میں عدم وضاحت کی وجہ سے نہ تھا۔ اس لئے فرمایا : (وما یریھم من ایۃ الاھی اکبر من اختھا) ” اور ہم انہیں جو نشانی دکھاتے تو وہ دوسری سے بڑھ چڑھ کر ہوتی۔ “ یعنی بعد والی نشانیاں گزشتہ نشانیوں سے بڑی تھیں۔ (واخذنھم بالعذاب) ” اور ہم نے انہیں عذاب میں پکڑا۔ “ مثلاً : ٹڈی دل، جوئیں، مینڈک اور خون جیسی مفصل نشانیوں کے ساتھ ہم نے ان کو پکڑا۔ (لعلھم یرجعون) شاید کہ وہ اسلام کی طرف لوٹیں اور اس کی اطاعت کریں تاکہ ان کا شرک اور شر زائل ہو۔
(وقالوا) یعنی ان پر عذاب نازل ہوتا تو کہتے : (یا یہ السحر) ” اے جادوگر ! “ اس سے ان کی مراد موسیٰ تھے ان کا یہ طرز خطاب یا تو استہزاء و تمسخر کے باب سے تھا یا یہ خطبا ان کے ہاں مدح تھا۔ پس انہوں نے عاجز آ کر موسیٰ کو ایسے خطاب کے ساتھ مخاطب کیا جس کے ساتھ وہ ایسے لوگوں کو خطبا کرتے تھے جن کو وہ اہل علم سمجھتے تھے۔ یعنی جادوگروں کو پس وہ کہنے لگے : (یا یہ السحر داع لنا ربک بما عھدک عندک) ” اے جادوگر ! اس عہد کے مطابق جو تیرے رب نے تجھ سے کر رکھا ہے اس سے دعا کر۔ “ یعنی جس چیز کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے تجھے خصوصیت بخشی اور فضائل و مناقب عطا کئے اس کے ذریعے سے دعا کر کہ اللہ ہم سے عذاب کو دور کر دے۔ (اننا لمھتدون) اگر اللہ نے ہم سے عذاب کو ہٹا دیا تو ہم راہ راست اختیار کرلیں گے۔
(فلما کشفنا عنھم العذاب اذا ھم ینکثون) ” پس جب ہم نے ان سے عذاب دور کردیا تو انہوں نیق ول وقرار توڑ دیا۔ “ یعنی انہوں نے جو عہد کیا تھا اسے پورا نہ کیا بلکہ عہد کو توڑ ڈالا اور اپنے کفر پر جمے رہے۔ ان کا یہ رویہ اللہ تعالیٰ کے اس اس ارشاد کے مانند ہے : (آیت) ” پس ہم نے ان پر طوفان بھیجا، ان پر ٹڈی دل، جوئیں، مینڈک بھیجے اور ان پر خون برسایا یہ سب الگ الگ نشانیاں دکھائیں مگر انہوں نے تکبر کیا اور وہ مجرم لوگ تھے اور جب کبھی ان پر عذاب نازل ہوتا تو کہتے : اے موسیٰ ! تجھ سے تیرے رب نے وعدہ کیا ہے اس بنا پر ہمارے لئے دعا مانگ اگر تو ہم سے عذاب ہٹا دے تو ہم تجھ پر ایمان لے آئیں گے اور تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دیں گے۔ جب ہم نے ان سے عذاب کو ایک وقت مقررہ تک کے لئے جس کو وہ پہنچنے والے تھے، ٹال دیا تو وہ اپنے عہد سے پھرگئے۔ “
(ونادی فرعون فی قومہ قال) ” اور فرعون نے اپنی قوم کو پکار کر کہا :“ یعنی اپنے باطل موقف کی بنا پر تکبر کا اظہار کرتے ہوئے کہا، اس کے اقتدار نے اس کو فریب میں مبتلا کردیا تھا اور اس کے مال اور لشکروں نے اس کو سرکش بنادیا تھا۔ (یقوم الیس لی ملک مصر) یعنی اے میری قوم ! کیا میں ملک مصر کا مالک اور اس میں تصرف کرنے والا نہیں ؟ (وھذہ النھر تجری من تحتی) ” اور یہ نہیں میرے نیچے چلتی ہیں۔ “ یعنی یہ نہریں جو دریائے نیل میں سے نکل کر محلات اور باغات میں سے ہو کر بہ رہی ہیں۔ (افلا تبصرون) کیا تم اس وسیع و عریض سلطنت کو دیکھتے نہیں ؟ یہ اس کی بےانتہا جہالت کے سبب سے تھا کیونکہ اس نے اوصاف حمیدہ اور افعال سدیدہ کی بجائے ایسے معاملے پر فخر کا اظہار کیا جو اس کی ذات سے خارج تھا۔
(ام اناخیر من ھذا الذی ھو مھین) اللہ تعالیٰ اس کا برا کرے حقیر سے اس کی مراد رحمان کے کلیم اور بلند متربہ ہستی حضرت موسیٰ بن عمران تھے۔ یعنی میں غلاب اور قوت والا ہوں اور موسیٰ نہایت ذلیل اور حقیر تب ہم میں سے کون بہتر ہے ؟ (و) ” اور “ بایں ہمہ (لایکادیبین) موسیٰ اپنے مافی الضمیر کا گفتوگ کے ذریعے سے اظہار نہیں کرسکتا کیونکہ وہ فصیح اللسان نہیں ہے۔ مگر یہ کوئی عیب نہیں، جبکہ آپ اپنے مافی الضمیر کو واضح کرسکتے تھے اگرچہ بولنا ان کے لئے بوجھل تھا۔ پھر فعون نے کہا : (فلو لا القی علیہ اسورۃ من ذھب) ” پس اس پر سونے کے کنگن کیوں نہیں آپڑے۔ “ کہ اس کی یہ حالت ہوتی کہ وہ کنگن اور زیور سے آراستہ ہوتا (اوجآء معہ الملئکۃ مقترنین) یا فرشتے اس کے پکارنے پر، اس کی مدد کرتے اور اس کی بات کی تائید کرتے۔
(فاستخف قومہ فاطاعوہ) ’ دپس بیوقوف بنایا اس نے اپنی قوم کو اور وہ اس کے کہنے میں آگ گئے۔ “ یعنی فرعون نے اپنی قوم کے لوگوں کی عقل کو حقیر جانا اور یوں اس نے ان کے سامنے ان شبہات کا اظہار کیا جن کا کوئی فائدہ اور ان کی کوئی حقیقت نہیں، یہ شبہات حق پر دلالت کرتے تھے نہ باطل پر۔ یہ صرف کم عقل لوگوں کو متاثر کرسکتے تھے۔
مصر پر فرعون کے اقتدار اور اس کے محلات میں نہروں کے بہنے میں اس کے برحق ہونے کی کون سی دلیل ہے ؟ حضرت موسیٰ کی زبان کی ثقالت، ان کے متبعین کی قلت اور ان کو اللہ تعالیٰ یک طرف سے سونے کے کنگنوں سے آراستوں نہ کرنے میں ان کی دعوت کے بطلان کی کون سی دلیل ہے ؟ مگر حقیقت یہ ہے کہ فرعون کو ایسے لوگوں سے واسطہ پڑا تھا جو معقولات سے بےبہرہ تھے، فرعون حق یا باطل جو کچھ بھی کہتا تھا وہ بےچون و چرا اسے مان لیتے تھے۔ (فاستخف قومہ فاطاعوہ) ” درحقیقت وہ تھے ہی فاسق لوگ۔ “ پس ان کے فسق کے سبب سے ان پر فرعون کو مسلط کردیا گیا جو ان کے سامنے شرک اور شر کو مزین کرتا تھا۔ (فلما اسفنا) یعنی جب انہوں نے اپنی بد اعمالیوں کے ذریعے سے ہمیں ناراض کردیا تو (آیت) ”” ہم نے ان سے انتقام لیا اور ان سب کو غرق کردیا اور ان کو گئے گزرے کردیا اور پچھلوں کے لئے عبرت بنادیا۔ “ تاکہ ان کے احوال سے عبرت حاصل کرنے والے عبرت اور نصیحت حاصل کرنے والے نصیحت حاصل کریں۔
Ayahs 43:57–65آیت 57
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : (ولما ضرب ابن مریم مثلاً ) ” اور جب مریم کے بیٹے کی مثال بیان کی گئی۔ “ یعنی جب ابن مریم کی عبادت سے منع کیا گیا اور اس کی عبادت کو بتوں کی عبادت قرار دیا گیا۔ (اذا قومک) ” تو آپ کی قوم کے لوگ “ جو آپ کو جھٹلانے والے ہیں (منہ) یعنی اس ضرب المثل کی وجہ سے (یصدون) آپ کے ساتھ جھگڑا کرتے ہیں، چیختے چلاتے اور سمجھتے ہیں کہ انہوں نے دلیل کے ذریعے سے غلبہ حاصل کرلیا ہے۔ (وقالوا الھتنا خیر ام ھو) ” اور کہنے لگے کیا ہمارے معبود بہتر ہیں یا یہ ؟ “ یعنی عیسیٰ کیونکہ تمام خود ساختہ معبودوں کی عبادت سے منع کیا گیا ہے اور ان سب کو جن کی یہ عبادت کرتے ہیں، وعید میں شامل کیا گیا ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد بھی نازل ہوا ہے : (آیت) ” بیشک تم اور جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو، سب جہنم کا ایندھن ہو اور تم سب اس میں داخل ہو کر رہو گے۔ “ ان کی اس بےموقع دلیل کی توجیہ یہ ہے وہ کہتے ہیں کہ اے محمد ! ﷺ تمہارے نزدیک یہ ایک مسلمہ امر ہے کہ حضرت عیسیٰ اللہ تعالیٰ کے ان مقرب بندوں میں سے ہیں جن کا انجام بہت اچھا ہے، پھر تو نے حضرت عیسیٰ اور ہمارے معبودوں کو ان کی عبادت کی ممانعت میں برابر کیوں کر قرار دے دیا ؟ اگر تیری دلیل باطل نہ ہوتی تو اس میں کوئی تناقض نہ ہوتا اور تو نے یہ کیوں کہا : (آیت) ” ان کے زعم کے مطابق یہ حکم عیسیٰ اور تمام بتوں کو شامل ہے، تب کیا یہ تناقص نہیں ؟ اور دلیل کا تناقض دلیل کے بطلان پر دلالت کرتا ہے۔
یہ بعید ترین دلیل ہے جس کے ذریعے سے لوگ اس شب ہے کو ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس پر یہ خوشی کا اظہار کرتے ہوئے شور مچا رہے ہیں اور ایک دوسرے کو خوشخبری دے رہے ہیں، حالانکہ شبہ الحمد اللہ کمزور ترین اور باطل ترین شبہ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح کی عبادت کی ممانعت اور بتوں کی عبادت کی ممانعت کو مساوی قرار دیا ہے اور چونکہ عبادت اللہ تعالقٰ کا حق ہے، مخلوق میں سے اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتے، انبیاء ومرسلین اور دیگر کوئی ہستی عبادت کی مستحق نہیں، اس لئے حضرت عیسیٰ کی عبادت کی ممانعت اور دیگر خود ساختہ معبودوں کی عبادت کی ممانعت کے مساوی ہونے میں کون سا شبہ ہے ؟
اس مقام پر حضرت عیسیٰ کی فضیلت اور آپ کا اللہ تعالیٰ کے ہاں مقرب ہونا اس بات کی دلیل نہیں کہ آپ کی عبادت اور بتوں کی عبادت کی حرمت میں کوئی فرق ہے۔ حضرت عیسیٰ کی حیثیت تو وہی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ان ھو الا عبد انعمنا علیہ) ” وہ تو ہمارا یک بندہ ہے جس پر ہم نے انعام کیا ہے۔ “ یعنی ہم نے انہیں نبوت و حکمت اور علم و عمل کی نعمت سے سرفراز فرمایا۔ (وجعلنہ مثلا لبنی اسرآئیل) ” اور ہم نے بنی اسرائیل کے لئے انہیں ایک نمونہ بنادیا۔ “ ان کے ذریعے سے بنی اسرائیل نے اس حقیقت کی معرفت حاصل کی کہ اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ کو باپ کے بغیر بھی وجود میں لانے کی قدرت رکھتا ہے۔
رہا اللہ تعالیٰ کا ارشاد : (آیت) ” تو اس کا جواب تین طرح سے دیا جاتا ہے۔
اول : (آیت) ” غیر ذی عقل کے لئے استعملا ہوا ہے، اس میں حضرت مسیح داخل نہیں ہیں۔
ثانی : یہ خطاب مکہ اور اس کے اردگرد رہنے والے مشرکین سے ہے جو بتوں کی عبادت کیا کرتے تھے۔
ثالث : اس آیت کریمہ کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” بیشک وہ لوگ جن کے لئے پہلے ہی سے ہماری طرف سے بھلائی کا فیصلہ ہوچکا ہے، وہ اس جہنم سے دور رکھے جائیں گے۔ “ بلا شبہ حضرت عیسیٰ انبیاء ومرسلین اور اولیاء اللہ اس آیت کریمہ میں داخل ہیں۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” یعنی اگر ہم چاہتے تو تمہاری جگہ فرشتوں کو مقرر کردیتے جو زمین میں تمہاری جانشینی کرتے اور زمین میں رہتے حتی کہ ہم فرشتوں کو ان کی طرف رسول بنا کر بھیجتے۔ اے نوع بشریٰ ! تم یہ طاقت نہیں رکھتے کہ فرشتوں کو رسول بنا کر تمہاری طرف مبعوث کیا جائے۔ پس یہ اللہ تعالیٰ کی تم پر رحمت ہے کہ اس نے تمہاری ہی جنس سے تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجا جس سے سیکھنے کی تم طاقت رکھتے ہو۔ (وانہ لعلم للساعۃ) ” اور بیشک وہ قیامت کی نشانی ہیں۔ “ یعنی حضرت عیسیٰ کا وجود قیامت کی دلیل ہے۔ وہ ہستی جو حضرت عیسیٰ کو بغیر باپ کے وجود میں لانے پر قادر ہے، وہ مردوں کو ان کی قبروں میں سے دوبارہ زندہ کرنے کی قدرت بھی رکھتی ہے یا یہ اس بات کی دلیل ہے کہ حضرت عیسیٰ آخری زمانے میں نازل ہوں گے اور ان کا نزول قیامت کی علامات میں سے ایک علامت ہے۔ (فلا مترن بھا) یعنی قیامت کے قائم ہونے کے بارے میں شک نہ کرو، اس کے بارے میں شک کرنا کفر ہے (واتبعون) اور جو میں نے تمہیں حکم دیا ہے اس کی تعمیل کرو اور جس سے روکا ہے اس سے اجتناب کرو۔ (ھذا صراط مستقیم) ” یہی سیدھا راستہ ہے۔ “ جو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا ہے۔ (ولا یصدنکم الشیطن) اور شیطان تمہیں اس چیز سے نہ روک دے جس کا اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم دیا ہے، بیشک شیطاں (لکم عدو) ” تمہارا دشمن ہے۔ “ وہ تمہیں گمراہ کرنے پر حریص ہے اور اس بارے میں وہ پوری جدوجہد کر رہا ہے۔
(ولما جآء عیسیٰ بالبینت) جب حضرت عیسیٰ وہ دلائل لے کر آئے جو ان کی نبوت کی صداقت اور ان کی دعوت کے صحیح ہونے پر دلالت کرتے تھے، مثلاً مردوں کو زندہ کرنا، مادر زاد اندھے اور برص زدہ کو شفایاب کرنا اور دیگر معجزات (قال) تو حضرت عیسیٰ نے بنی اسرائیل سے فرمایا : (قد جئتکم بالحکمۃ) میں تمہارے پاس نبوت اور ان امور کا علم لے کر آیا ہوں جس کا علم تمہیں ہونا چاہیے اور اس طریقے سے ہونا چاہیے جو مناسب ہے۔ (ولابین لکم بعض الذی تختلقون فیہ) یعنی تاکہ میں تمہارے سامنے تمہارے اختلافات میں راہ صواب اور جواب واضح کر دوں اور اس طرح تمہارے شکوک و شبہات زائل ہوجائیں۔ پس حضرت عیسیٰ شریعت موسوی اور احکام تورات کی تکمیل کے لئے تشریف لائے، آپ بعض آسانیاں لے کر آئے جو آپ کی اطاعت اور آپ کی دعوت کو قبول کرنے کی موجب تھیں۔
(فاتقوا اللہ واطیعون) ” پس اللہ سے ڈر و اور میری اطاعت کرو۔ “ یعنی اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو جس کا کوئی شریک نہیں، اس کے اوامر کی تعمیل اور اس اور اس کے نواہی سے اجتناب کرو، مجھ پر ایمان لاؤ، میری تصدیق اور میری اطاعت کرو۔ (ان اللہ ھو ربی و ربکم فاعبدوہ ھذا صراط مستقیم) ” یقیناً اللہ میرا رب بھی ہے اور تمہارا بھی، لہٰذا اسی کی عبادت کرو، یہی صراط مستقیم ہے۔ “ اس آیت کریمہ میں توحید ربوبیت کا اقرار ہے، اللہ تعالیٰ مختلف انواع کی ظاہری اور باطنی نعمتوں کے ذریعے سے تمام مخلوق کی تربیت کرتا ہے، نیز توحید عبودیت کا اقرار ہے، یعنی اکیلئے اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دیا گیا ہے جس کا کوئی شریک نہیں اور حضرت عیسیٰ کی طرف سے خبر دی گئی ہے کہ وہ بھی اللہ کے بندوں میں سے ایک بندے ہیں۔” وہ اللہ تعالیٰ کا بیٹا یا تین میں سے تیسرا۔ “ نہیں ہیں جیسا کہ نصاری کا خیال ہے اور یہ بھی خبر دی گئی ہے کہ یہی راستہ سیدھا راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کی جنت تک پہنچاتا ہے۔
جب حضرت عیسیٰ یہ دعوت لے کر ان کے پاس آئے (فاختلف الاحزاب) تو آپ کی تکذیب پر گروہ بندی کرنے والوں نے اختلاف کیا (من بینھم) ” آپس میں۔ “ ان میں سے ہر گورہ نے حضرت عیسیٰ کے بارے میں باطل بات کہی اور جو کچھ آپ لے کر آئے تھے اسے رد کردیا، سوائے مومتین کے جن کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت سے سرفراز فرمایا جنہوں نے رسالت کی گواہی دی اور ہر اس چیز کی تصدیق کی جو آپ لے کر آئے تھے اور کہا کہ عیسیٰ اللہ تعالیٰ کے بندے اور رسول ہیں۔ (آیت) ” تو ظالموں کے لئے ہلاکت ہے، درد ناک عذاب والے دن سے۔ “ ظالموں کو کتنا شدید حزن و غم ہوگا۔ اس روز انہیں کتنے بڑے خسارے کا سامنا کرنا پڑے گا !
Ayahs 43:66–73آیت 66
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : یہ تکذیب کرنے والے کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں ؟ اور کیا وہ توقع رکھتے ہیں ” قیامت ان پر اچانک آموجود ہو اور ان کو خبر بھی نہ ہو ؟ “ یعنی جب قیامت کی گھڑی آجائے گی تو ان لوگوں کے احوال کے بارے میں مت پوچھو جنہوں نے قیامت کی تکذیب کی، اس کا اور اس کے بارے میں آگاہ کرنے والے کا مذاق اڑایا۔ (الاخل آپ یومئذ) یعنی کفر، تکذیب اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پر ایک دوسرے کے ساتھ دوستی رکھنے والے قیامت کے دن (بعضھم لبعض عدو) ” ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے۔ “ کیونکہ دنیا میں ان کی دوستی اور محبت غیر اللہ کی خاطر تھی تو قیامت کے دن یہ دوستی، دشمنی میں بدل جائے گی۔ (الا المتقین) سوائے ان لوگوں کی دوستی کے جو شرک اور معاصی سے بچتے رہے۔ پس ان کی محبت دائمی اور متصل ہوگی کیونکہ جس ہستی کی خاطر انہوں نے محبت کی اس کو دوام ہے جنت میں ان کا دوام اور خلو وجود جنت کی نعمتوں کے دوام، ان میں اضافے اور عدم انقطاع کو متضمن ہے۔
(وتلک الجنۃ) وہ جنت جو کامل ترین اوصاف سے موصوف ہے (آیت) ” جس کے تم مالک بنا دیئے گئے وہ تمہارے اعمال کا صلہ ہے۔ “ یعنی جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں تمہایر اعمال کے بدلے میں عطا کی ہے، اپنے فضل و کرم سے اس کو اعمال کی جزا قرار دیا اور اس نے اپنی رحمت سے اس میں ہر چیز عاط کردی۔ (لکم فیھا فاکھۃ کثیرۃ) ” وہاں تمہارے لئے بہت سے پھل ہیں۔ “ جیسا کہ ایک اور آیت کریمہ میں فرمایا : (فیھما من کل فاکھۃ زوجن) (الرحمٰن :52/55) ” ان جنتوں میں تمام پھل دو دو اقسام کے ہوں گے۔ “ (منھا تاکلون) یعنی تم ان مزے دار میوؤں اور لذیذ پھلوں کو چن چن کر کھاؤ گے۔ جنت کی نعمتوں کا ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے جہنم کے عذاب کا ذکر فرمایا۔
Ayahs 43:74–78آیت 74
(ان المجرمین) جنہوں نے کفر اور تکذیب ک جرم کا ارتکاب کیا (فی عذاب جھنم) وہ جہنم کے عذاب میں مبتلا ہوں گے، عذاب انہیں ہر جانب سے گھیر لے گا۔ (خلدون) وہ عذاب میں ہمیشہ رہیں گے اور کبھی اس عذاب سے باہر نہیں نکلیں گے۔ (لایفترعنھم) ایک گھڑی کے لئے بھی انہیں عذاب سے چھٹکارا نہیں ملے گا، نہ تو عذاب ختم ہوگا اور نہ ہی اس میں نرمی ہوگی۔ (وھم فیہ مبلسون) یعنی وہ ہر بھلائی سے مایوس اور ہر خوشی سے ناامید ہوں گے۔ وہ اپنے رب کو پکاریں گے : (ربنا اخرجنا منھا فان عدنا فانا ظلمون قال اخسوا فیھا ولاتکلمون) ” اے ہمارے رب ہمیں جہنم سے نکال لے، اگر ہم نے دوبارہ گناہ کئے تو ہم ظالم ہوں گے، اللہ تعالیٰ فرمائے گا، اسی میں ذلیل و خوار ہو کر پڑے رہو اور مجھ سے کلام نہ کرو۔ “ یہ عذاب عظیم ان کی بد اعمالیوں کا نتیجہ اور اس ظلم کی پاداش ہے جو انہوں نے اپنے آپ پر کیا۔ اللہ تعالیٰ ان پر ظلم نہیں کرتا اور نہ وہ کسی کو گناہ اور جرم کے بغیر سزا ہی دیتا ہے۔
(ونادوا) ” اور وہ پکاریں گے۔ “ درآنحالیکہ وہ آگ میں ہوں گے، شاید کہ انہیں کوئی آرام ملے۔ (یملک لیقض علینا ربک) ” اے مالک ! تمہارا رب ہمارا کام تمام کر دے۔ “ یعنی تیرا رب ہمیں موت دے دے تاکہ ہم عذاب سے آرام پائیں کیونکہ ہم شدید غم اور سخت عذاب میں مبتلا ہیں، ہم اس عذاب پر صبر کرسکتے ہیں نہ ہم میں اسے برداشت کرنے کی قوت ہے۔ (قال) جب وہ جہنم کے داروغے ” مالک “ سے التماس کریں گے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرے کہ وہ انہیں موت عطا کر دے تو مالک جواب دے گا : (انکم مکثون) تم جہنم ہی میں رہو گے اور اس میں سے کبھی نہیں نکلو گے۔ انہیں ان کا مقصد حاصل نہیں ہوگا بلکہ انہیں ان کے مقصد کے بالکل الٹ جواب دیا جائے گا اور ان کے غم میں اور اضافہ ہوجائے گا۔
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے افعال بد پر زجر و توبیخ کرتے ہوئے فرمائے گا : (لقد جئنکم بالحق) ” بلاشبہ ہم تمہارے پاس حق لے کر آئے۔ “ جو اس بات کا موجب تھا کہ تم اس کی اتباع کرتے اور اگر تم نے حق کی اتباع کی ہوتی تو فوز وسعادت سے بہرہ مند ہوتے (ولکن اکثرکم للحق کرھون) ” لیکن تم میں سے اکثر حق کو ناپسند کرتے رہے۔ “ بنابریں تم ایسی بدبختی کا شکار ہوگئے کہ اس کے بعد کوئی سعادت نہیں۔