Ayahs 39:32–35آیت 32
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ڈراتے اور خبردار کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ اس شخص سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں (ممن کذب علی اللہ) ” جس نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا “ یا تو کسی ایسی چیز کو اس کی طرف منسوب کیا جو اس کے جلال کے لائق نہیں یا اس نے نبوت کا دعویٰ کیا یا اللہ تعالیٰ کے بارے میں خبر دی کہ وہ یوں کہتا ہے یا یوں خبر دیتا ہے یا اس طرح کا حکم دیتا ہے، جبکہ اس نے جھوٹ کہا ہے۔ اگر کسی نے جہالت کی بنا پر ایسی بات کہی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے تحت آتا ہے : (آیت) ” اور (اللہ تعالیٰ نے تم پر حرام ٹھہرا دیا) یہ کہ تم اللہ کے بارے میں کوئی ایسی بات کہو جسے تم نہیں جانتے۔ “ ورنہ یہ بدترین بات ہے۔
(وکذب بالصدق اذ جآۂ ) یعنی اس شخص سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں جس کے پاس حق آیا، واضح دلائل جس کی تائید کرتے تھے مگر اس نے حق کی تکذیب کی۔ اس کی تکذیب بہت بڑا ظلم ہے کیونکہ حق واضح ہوجانے کے بعد اس نے حق کو رد کیا۔ اگر اس نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے اور حق کی تکذیب کو جمع کیا تو یہ ظلم در ظلم ہے۔ (آیت) ” کیا جہنم میں کافروں کو ٹھکانا نہیں ؟ “ جہنم کے عذاب میں مبتلا کر کے ان سے بدلہ لیا جائے گا اور ہر ظالم اور کافر سے اللہ تعالیٰ کا حق وصول کیا جائے گا۔ (ان الشرک لظلم عظیم) (لقمن :13/31) ” بیشک شرک بہت بڑا ظلم ہے۔ “
اللہ تبارک و تعالیٰ نے جھوٹے اور جھٹلانے والے کا جرم اور اس کی سزا کا ذکر کرنے کے بعد، صاحب صدق اور حق کی تصدیق کرنے والے اور اس کے ثواب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : (والذی جآء بالصدق) ” اور جو شخص سچی بات لے کر آئے۔ “ یعنی جو اپنے قول و عمل میں صدق کا حامل ہے۔ اس آیت کریمہ میں انبیاء اور ان کے متبعین داخل ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی ہوئی خبروں اور احکام کی تصدیق کی اور خصائل صدق کو اپنایا۔
(وصدق بہ) یعنی صدق (حق بات) کی تصدیقف کی۔ اناسن کبھی کبھی صاحب صدق تو ہوتا ہے، مگر وہ صدق کی تصدیق نہیں کرتا اس کا سبب کبھی تو اس کا متکبر ہونا ہوتا ہے اور کبھی اس کا سبب وہ حقارت ہوتی ہے جو صدق لانے والے کے لئے اپنے اندر رکھتا ہے، اس لئے مدح میں صدق اور تصدیق دونوں لازم ہیں۔ پس اس کا صدق اس کے علم اور عدل پر دلالت کرتا ہے اور اس کی تصدیق اس کے تواضح اور عدم تکبر پر دلالت کرتی ہے۔ (اولئک) یعنی وہ لوگ جنہیں ان دونوں امور کو جمع کرنے کی توفیق سے نوازا گیا (ھم المتقون) ” وہی متقی ہیں “ کیونکہ تقویٰ کے تمام خصائل و اوصاف صدق اور تصدیق حق کی طرف لوٹتے ہیں۔
(آیت) ” وہ جو چاہیں گے ان کے لئے ان کے رب کے پاس ہے۔ “ ان کے لئے ان کے رب کے پاس ایسا ثواب ہے جسے کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی بشر کے حاشیہ خیال میں اس کا کبھی گزر ہوا ہے۔ لذات و خواہشات میں سے جس چیز کا بھی ارادہ کریں گے وہ ان کو حاصل ہوگی اور ان کو مہیا کردی جائے گی۔ (ذلک جزواء المحسنین) ” نیکو کاروں کا یہی صلہ ہے۔ “ یہ وہ لوگ ہیں جو اس کیفیت میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں گویا کہ وہ اسے دیکھ رہے ہیں اگر ان میں یہ کیفیت نہ ہو تو انہیں یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں دیکھ رہا ہے۔ (المحسنین) سے مراد وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ بھلائی کرتے ہیں۔
(آیت) ” تاکہ اللہ ان سے برائیوں کو جو انہوں نے کیں دور کرے اور نیک کاموں کا جو وہ کرتے رہے بہتر بدلہ دے۔ “ اناسنی عمل کے تین احوال ہیں : اول : بدترین عمل۔ دوم : بہترین عمل۔ سوم : نہ برا نہ اچھا۔
یہ آخری قسم مباحات کے زمرے میں آتی ہے، جن پر کوئی ثواب و عقاب مترتب نہیں ہوتا۔ بدترین اعمال سب معاصی اور نافرمانیاں اور بہترین اعمال سب نیکیاں ہیں۔ اس تفصیل سے آیت کریمہ کا معنی واضح ہوجاتا ہے۔ فرمایا (لیکفر اللہ عنھم اسوا الذی عملوا) یعنی ان کے تقویٰ اور احاسن کے سبب سے ان کے صغیرہ گناہوں کو مٹا دے گا۔ (آیت) ” یعنی ان کی نیکیوں اور تقویٰ کے سبب سے ان کو ان کی تمام نیکیوں کا اجر ملے گا۔ (آیت) ” اللہ کسی پر ذرہ بھر ظلم نہیں کرتا۔ اگر نیکی ہو تو وہ اسے دوگنا کردیتا ہے اور اسے اپنی طرف سے بہت بڑا اجر عطا کرتا ہے۔ “
Ayahs 39:36–37آیت 36
(الیس اللہ بکاف عبدہ) ” کیا اللہ اپنے بندے کے لئے کافی نہیں ہے۔ “ یعنی کیا یہ اللہ کا اپنے اس بندے پر جو دو کرم اور اس کی عنایت نہیں جو اس کی عبودیت پر قائم ہے، اس کے اوامر کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب کرتا ہے۔ خاص طور پر وہ بندہ جو تمام مخلوق میں عبودیت کے کامل ترین مرتبے پر فائز ہے، یعنی محمد مصطفیٰ ﷺ اللہ تعالیٰ نے ان کے تمام دینی اور دنیاوی امور میں ان کے لئے کافی ہوگا اور جو کوئی آپ کے ساتھ برائی کا ارادہ کرے گا اللہ تعالیٰ اس سے آپ کی مدافعت کرے گا۔ (ویخوفونک بالذین من دونہ) یعنی یضلل اللہ فمالہ من ھاد ومن یھد اللہ فمالہ من مضل) ” اور اللہ جسے گمراہی میں مبتلا کر دے تو کوئی اسے راستہ نہیں دکھا سکتا اور جس کو اللہ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں “ کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس کے ہاتھ میں ہدایت اور گمراہی ہے۔ وہ جو چاہتا ہے وہی ہوتا ہے جو نہیں چاہتا وہ کبھی بھی نہیں ہوسکتا (الیس اللہ بعزیز) ” کیا اللہ غالب نہیں ؟ “ یعنی وہ کامل قہر اور غلبے کا مالک ہے جس کے ذریعے سے وہ ہر چیز پر غالب ہے اسی غلبہ و قہر کی بنا پر وہ اپنے بندے کے لئے کافی ہے اور اس سے ان کی اسزشوں اور مکر و فریب کو دور کرتا ہے۔ (ذی انتقام) جو کوئی اس کی نافرمانی کرتا ہے وہ اس سے انتقام لیتا ہے، اس لئے ان تمام امور سے بچو جو اس کی ناراضی کے موجب ہیں۔
Ayahs 39:38–39آیت 38
یعنی اگر آپ ان گمراہ لوگوں سے پوچھیں، جو آپ کو اللہ کے سوا خود اسختہ معبودوں سے ڈراتے ہیں جبکہ آپ نے ان کے خلاف انہی کے نفسوں سے دلیل قائم کی ہے اور ان سے کہیں : (من خلق السموت والارض) ” آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ؟ “ تو یہ مشرکین اس بات کو ثابت کرنے سے قاصر رہیں گے کہ ان کی تخلیق میں ان کے معبودوں کا کچھ حصہ ہے۔ (لقولن اللہ) وہ ضرور کہیں گے کہ اس کائنات کو اکیلے اللہ تعالیٰ نے تخلیق فرمایا۔ (قل) اللہ تعالیٰ کی قدرت واضح ہونے کے بعد ان کے معبودوں کی بےبسی ثابت کرتے ہونے کہہ دیجیے : (افر یتم) مجھے بتاؤ (ماتدعون من دون اللہ ان ارادنی اللہ بضر) ” جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو اگر اللہ مجھے (کسی بھی قسم کا) نقصان دینا چاہے “ (ھل ھن کشفت ضرہ) ” کیا وہ اس کی تکلیف کو دور کرسکتے ہیں۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ کے پہنچائے ہوئے ضرر کا مکمل ازالہ یا ایک حال سے دوسرے حال میں منتقل کر کے اس ضرر میں کوئی تخفیف کرسکتے ہیں ؟
(او ارادنی برحمۃ) یا وہ میرے ساتھ رحمت و فضل کا معاملہ کرنا چاہے جس کے ذریعے سے وہ مجھے کوئی دینی یا دنیاوی منفعت عطا کرے (ھل ھن ممسکت رحمتہ) کیا وہ خود اسختہ معبود اس رحمت کو مجھ تک پہنچنے سے روک سکتے ہیں ؟ یقیناً وہ یہی جواب دیں گے کہ ان کے معبود کسی نقصان کو دور کرسکتے ہیں نہ اللہ کی رحمت کو روک سکتے ہیں۔ قطعی دلیل کے واضح ہوجانے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ اکیلا ہی معبود برحق ہے وہی تمام کائنات کا خالق ہے، نفع و نقصان صرف اسی کے قبضہ قدرت میں ہے اس کے سوا دیگر معبود ان باطل ہر لحاظ سے کچھ پیدا کرنے اور کوئی نقصان پہنچانے سے عاجز ہیں۔ آپ اللہ تعالیٰ کی کفایت کے حصول اور ان مشرکین کے مکر و فریب سے بچنے کی دعا کرتے ہوئے کہہ دیجیے : (حسبی اللہ علیہ یتوکل المتوکلون) یعنی اپنے مصالح کے حصول اور دفع ضرر کے لئے بھرو اس کرنے والے اسی پر بھرو اس کرتے ہیں۔ وہ ہستی جو اکیلی کفایت کی مالک ہے، میرے لئے کافی ہے وہ میرے اہم اور غیر اہم امور میں مجھے کفایت کرے گی۔
Ayah 39:40آیت 40
(قد) ”(اے رسول ! ان سے) کہہ دیجیے : (یقوم اعملوا علی مکانتکم) ” اے میری قوم ! تم اپنی جگہ عمل کئے جاؤ “ یعنی تم اسی حالت میں عمل کرتے رہو جس پر تم اپنے لئے راضی ہو، یعنی ان ہستیوں کی عبادت کرتے رہو جو عبادت کی مستحق ہیں نہ انہیں کسی چیز کا کوئی اختیار ہے۔ (انی عامل) اور میں تمہیں اکیلے اللہ تعالیٰ کے لئے دین کو خالص کرنے کی دعوت دیتا رہوں گا۔ (فسوف تعلمون) ” تمہیں عنقریب معلوم ہوجائے گا “ کہ کس کا انجام اچھا ہے۔ (من یاتیہ عذاب یخزیہ) ” اور کس پر ایسا عذاب آتا ہے جو اسے رسوا کر دے گا ؟ “ یعنی دنیا میں (ویحل علیہ) ” اور نازل ہوگا اس پر “ یعنی آخرت میں (عذاب مقیم) ” ہمیشہ کا عذاب۔ “ آخرت میں اس کو ہمیشہ قائم رہنے والے عذاب میں ڈالا جائے گا، یہ عذات اس سے ہٹایا جائے گا نہ یہ ختم ہوگا۔ یہ مشرکین کے لئے سخت تہدید ہے۔ انہیں بھی معلوم ہے کہ وہ دائمی عذاب کے مستحق ہیں، مگر ظلم اور عناداں کے اور ان کے ایمان کے درمیان حائل ہوگیا ہے۔
Ayah 39:41آیت 41
اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے اپنے رسول ﷺ پر کتاب نازل فرمائی جو اپنی خبر اور اپنے اوامرونواہی میں حق پر مشتمل ہے، جو ہدایت کی اصل بنیاد اور ہر اس شخص کے لئے پیغام ہے جو اللہ تعالیٰ کے پاس اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر پہنچنا چاہتا ہے، نیز اس کتاب کے ذریعے سے تمام جہانوں پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہوگئی ہے۔
(فمن اھتدی) پس جس نے اس کی روشنی سے راہنمائی حاصل کی اور اس کے احکامات کی پیروی کی (فلنفسہ) تو اس کا فائدہ اسی کی طرف لوٹے گا (ومن ضل) اور جو ہدایت کے واضح ہوجانے کے بعد بھی گمراہ ہوا (فانما یضل علیھا) ” تو وہ اپنا ہی نقصان کرتا ہے “ اور وہ اللہ تعالیٰ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا (وما انت علیھم بوکیل) ” اور آپ ان پر نگران نہیں ہیں “ کہ آپ ان کے اعمال پر نگاہ رکھیں، ان پر ان کا محاسبہ کریں اور جس کام پر چاہیں ان کو مجبور کریں۔ آپ تو صرف پہنچا دینے والے ہیں اور آپ وہ چیز ان تک پہنچا دیتے ہیں جسے پہنچا دینے کا آپ کو حکم دیا جاتا ہے۔
Ayahs 39:42–43آیت 42
اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ اکیلا ہی بندوں پر، ان کی نیند اور بیداری میں، ان کی زندگی اور موت میں تصرف کرتا ہے، چناچہ فرمایا : (اللہ یتوفی الانس حین موتھا) ” اللہ لوگوں کے مرنے کے وقت ان کی روحیں قبض کرلیتا ہے۔ “ یہ وفات کبریٰ ، موت ہے۔ اللہ تعالیٰ کا یہ خبر دینا کہ وہ وفات دیتا ہے اور فعل کی اپنی طرف اضافت کرنا، اس بات کے منافی نہیں کہ اس نے اس کام کے لئے ایک فرشتہ اور اس کے کچھ اعوان و مددگار مقرر کر رکھے ہیں۔ جی اس کہ فرمایا : (آیت) ” کہہ دیجیے کہ موت کا فرشتہ تمہیں وفات دیتا ہے جو تمہارے لئے مقرر کیا گیا ہے “ نیز فرمایا : (آیت) ” حتی کہ جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آجاتا ہے تو ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے اس کی روح قبض کرلییت ہیں اور وہ کوتاہی کرتے۔ “ اللہ تعالیٰ نے تمام امور کی اضافت اس اعتبار سے اپنی طرف کی ہے کہ وہی خلاق اور تدبیر کرنے والا ہے اور ان امور کو اس اعتبار سے ان کے اسباب کی طرف مضاف کرتا ہے کہ اس کی سنت اور حکمت ہے کہ اس نے ہر کام کا کوئی سبب مقرر فرمایا ہے۔
(والتی لم تمت فی منامھا) ” اور اس جان کو بھی (عارضی وفات دیتا ہے) جو اپنی نیند میں نہیں مرتی۔ “ اور یہ موت صغریٰ ہے یعنی وہ اس نفس کو روک رکھتا ہے جو نیند کے دوران حقیقی موت سے ہم کنار نہیں ہوتا (فیمسک) پھر ان دونفسوں میں سے اس نفس کو روک رکھتا ہے (التی قضی علیھا الموت) ” جس کے بارے موت کا فیصلہ کردیتا ہے۔ “ اس سے مراد وہ نفس ہے جس پر حقیقی موت وارد ہوتی ہے یا نیند کے دوران اس پر موت آتی ہے۔ (ویرسل الاخری الی اجل مسمی) ” اور دوسرے نفس کو ایک مقررہ وقت تک کے لئے چھوڑ دیتا ہے “ یعنی اس کے رزق اور مدت کی تکمیل تک کے لئے (ان فی ذلک لایت لقوم یتفکرون) ” بیشک اس میں ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو (اس کے کامل اقتدار، مرنے کے بعد اس کی دوبارہ زندہ کرنے کی قدرت پر) غور و فکر کرتے ہیں۔ “
یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ روح اور نفس ایک جسم ہے اور بنفسہ قائم ہے۔ اس کا جوہر بدن کے جوہر سے مختلف ہے۔ یہ بھی مخلوق ہے، اللہ تعالیٰ کے دست تدبیر کے تحت ہے، وفات دینے، روک لینے اور چھوڑ دینے میں اللہ تعالیٰ کا اس پر تصرف ہے۔ زندوں کی اور مردوں کی ارواح عالم برز، میں ایک دوسرے سے ملاقات کرتی ہیں وہ اکٹھی ہو کر آپس میں باتیں کرتی ہیں، پس اللہ زندوں کی ارواح کو چھوڑ دیتا ہے اور مردوں کی روحوں کو روک لیتا ہے۔
Ayah 39:44آیت 44
اللہ تعالیٰ ان لوگوں پر سخت نکیر کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر دوسروں کو سفارشی بناتے ہیں، ان کی محبت میں گرفتار ہوجاتے ہیں، ان سے مانگتے ہیں اور ان کی عبادت کرتے ہیں۔ (قل) ان کی جہالت اور ان کے خود اسختہ معبودوں کے عبادت کے مستحق نہ ہونے کو واضح کرتے ہوئے کہہ دیجیے : (اولو کانوا) ” خواہ وہ “ یعنی جن کو تم نے اپنا سفارشی بنا رکھا ہے (لایملکون شیآء) زمین اور آسمان میں چھوٹی یا بڑی، کسی ذرہ بھر چیز کے بھی مالک نہ ہوں بلکہ (ولا یعقلون) ان میں عقل ہی نہیں کہ وہ مدح کے مستحق ہوں کیونکہ یہ جمادات، پتھر، درخت بت یا مرے ہوئے لوگ ہیں۔ کیا اس شخص میں بس نے اپن کو اپنا معبود بنایا ہے، کوئی عقل ہے ؟ یا وہ دنیا کا گمراہ ترین، جاہل ترین اور سب سے بڑا ظالم ہے ؟
(قل) آپ ان مشرکین سے کہہ دیجیے : (للہ الشفاعۃ جمعیاً ) ” سفارش تو سب اللہ ہی کے اختیار میں ہے “ کیونکہ تمام معاملات اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہیں۔ ہر سفارش کرنے والا اللہ سے ڈرتا ہے۔ کسی کی مجال نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کیپ اس، اس کی اجازت کے بغیر کسی کی سفارش کرسکے اور جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے پر رحم کرنا چاہتا ہے تو معزعز سفارشی کو اپنے ہاں سفارش کرنے کی اجازت عطا کردیتا ہے۔ یہ اس کی طرف سے ان دونوں پر رحمت ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے متحقق فرمایا کہ شفاعت تمام تراسی کا اختیار ہے، چناچہ فرمایا : (لہ ملک السموت ولارض) ” آسمانوں اور زمین کی حکومت اسی کے لئے ہے “ یعنی ان میں ذوات، افعال اور صفات جو کچھ بھی ہیں سب اللہ تعالیٰ کی ملکیت میں ہیں، لہٰذا واجب ہے کہ سفارش اسی سے طلب کی جائے جو اس کا مالک ہے اور اسی کے لئے عبادات کو خالص کیا جائے (ثم الیہ ترجعون) ” پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ “ اور وہ صاحب اخلاص کو ثواب جزیل عطا کرے گا اور جس نے شرک کیا اسے درد ناک عذاب میں مبتلا کرے گا۔
Ayahs 39:45–47آیت 45
اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کے حال اور ان کے شرک کے تقاضوں کا ذکر کرتا ہے۔ (وذا ذکر اللہ وحدہ) ” جب اکیلے اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے “ یعنی جب اس کی توحید کا ذکر کیا جاتا ہے، دین کو صرف اسی کے لئے خالص کر کے عمل کرنے اور اس کے سوا دیگر معبودوں کو چھوڑنے کے لئے کہا جاتا ہے جن کی وہ عبادت کرتے ہیں، تو وہ منقبض ہوجاتے ہیں، نفرت کرتے ہیں اور شدید ناگواری کا اظہار کرتے ہیں۔ (واذا ذکر الذین من دونہ) اور جب اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر بتوں اور خود اسختہ معبودوں کا ذکر کیا جاتا ہے اور دعوت دینے والا ان کی عبادت اور ان کی مدح کی دعوت دیتا ہے (اذھم یستبشرون) تو وہ اپنے معبودوں کا ذکر سن کر فرحت اور خوشی سے کھل اٹھتے ہیں کیونکہ شرک ان کی خواہشات نفس کے موافق ہے ان کی یہ حالت بدترین حالت ہے مگر ان سے روز جزا تک کے لئے مہلت کا وعدہ کیا گیا ہے، اس لئے اس دن ان سے حق وصول کیا جائے گا اور اس دن دیکھا جائے گا کہ آیا ان کے معبود ان کو کوئی فائدہ دے سکتے ہیں جن کی یہ لوگ عبادت کیا کرتے ہیں ؟
اسی لئے فرمایا : (قل اللھم فاطر السموت ولارض) یعنی کہہ دیجیے : اے اللہ ! زمین و آسمان کو پیدا کرنے اور ان کی تدبیر کرنے والے (علم الغیب) اور ان تمام امور کو جاننے والے جو ہماری آنکھوں اور ہمارے علم سے غائب ہیں (والشھادۃ) اور جن کا ہم مشاہدہ کرتے ہیں (آیت) ” تو ہی اپنے بندوں میں ان باتوں کا جن میں وہ اختلاف کرتے ہیں، فیصلہ کرے گا۔ “ سب سے بڑا اختلاف موحد و مخلص بندوں، جو کہتے ہیں کہ ان کا موقف حق ہے اور آخرت میں صرف انہی کے لئے بھلائی ہے، اور مشرکین کے درمیان ہے جنہوں نے تجھے چھوڑ کر بتوں اور دوسروں ہستیوں کو اپنا معبود بنا لیا اور ان ہستیوں کو تیرے برابر ٹھہرایا جو کسی طرح بھی برابر نہیں ہیں۔ وہ تجھے انتہائی حد تک ناقص قرار دیتے ہیں جب ان کے خود اسختہ معبودوں کا ذکر ہوتا ہے تو خوشی سے کھل اٹھتے ہیں اور جب تیرا ذکر ہوتا ہے تو وہ نہایت کراہت سے منقبض ہوجاتے ہیں بایں ہمہ ان کو زعم ہے کہ وہ حق پر ہیں اور دوسرے باطل پر ہیں اور وہ آخرت میں بھلائی سے بہرہ مند ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) ” بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے اور جو یہودی، عیاسئی، صابی اور مجوسی ہیں اور وہ لوگ جنہوں نے شرک کیا، قیامت کے روز اللہ تعالیٰ ان سب کے درمیان فیصلہ کرے گا۔ بیشک اللہ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے۔ “
اس کے بعد آگے چل کر اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنے فیصلے سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا : (آیت) ” یہ جھگڑے کے دو فریق ہیں جنہوں نے اپنے رب کے بارے میں جھگڑا کیا۔ پس ان میں سے جن لوگوں نے کفر کیا ان کو آگ کے کپڑے پہنائے جائیں گے اور ان کے سروں پر کھولتا ہوا پانی انڈیا جائے گا جس سے ان کی کھالیں اور پیٹ کے اندر تک کے حصے گل جائیں گے اور ان کے لئے لوہے کے گرز ہوں گے جب بھی وہ غم کے ارے جہنم سے نکلنا چاہیں گے تو اسی میں لوٹا دیئے جائیں گے ( اور انہیں کہا جائے گا) اب جلا دینے والے عذاب کا مزا چکھو۔ بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے اللہ تعالیٰ ان کو ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ انہیں اس میں سونے کے کنگن اور موتی پہنائے جائیں گے اور وہاں ان کے لباس ریشم کے ہوں گے۔ “
اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان کو ظلم کے ساتھ آلودہ نہ کیا، وہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے (مکمل) امن ہے اور وہی راہ راست پر ہیں۔ “ اور فرمایا (آیت) ” جس نے اللہ کے ساتھ شرک کیا تو بلاشبہ اس پر اللہ نے جنت حرام کردی اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے۔ “
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کے عموم تخلیق، عموم علم اور بندوں کے درمیان عموم حکم کا بیان ہے تمام مخلوقات اس کی قدرت سے پیدا ہوئی ہے۔ اس کا علم ہر شے کو محیط ہے اور دلالت کرتا ہے کہ وہ اپنے نبدوں کے درمیان فیصلہ کرے گا اور انہیں دوبارہ زندہ کرے گا۔ بندوں کے اچھے برے اعمال اور ان کی جزا و سزا اور اس کی تخلیق اس کے علم پر دلالت کرتی ہے۔ (الایعلم من خلق) (ملک :13/68) ” کیا وہ نہیں جانتا جس نے (انہیں) پیدا کیا ہے ؟ “
Ayah 39:48آیت 48
اللہ تعالیٰ نے یہ ذکر کرنے کے بعد کہ وہ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرے گا، مشرکین کے قول اور اس کی قباحت کا ذکر کیا۔ گویا نفوس اس انتظار میں ہیں کہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ کیا سلوک کرے گا۔ اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ ان کے لئے (سوء العذاب) سخت ترین اور بدترین عذاب ہے جس طرح وہ سخت ترین اور بدترین کفر کی باتیں کیا کرتے تھے۔ فرض کیا زمین کا تمام سونا، چاندی، جواہرات، اس کے تمام حیوانات، اس کے تمام درخت اور کھیتیاں، اس کے تمام برتن اور اثاثے اور اتنا ہی سب کچھ اور ان کی ملکیت ہو اور قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچنے اور اس سے نجات حاصل کرنے کے لئے خرچ کریں تو ان سے قبول نہیں کیا جائے گا۔ ان میں سے کچھ بھی اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کے لئے کام نہیں آسکے گا۔ (آیت) ” اس روز مال فائدہ دے گا نہ بیٹے، سوائے اس کے جو قلب سلیم کے ساتھ اللہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ “ (وبدالھم من اللہ مالم یکونوا یحتسبون) ” اور ان پر اللہ کی طرف سے وہ امر ظاہر ہوجائے گا جس کا انہیں خیال بھی نہ تھا۔ “ یعنی اس بہت بڑی ناراضی کا تو انہیں گمان تک نہ تھا وہ تو اپنے بارے میں اس کے برعکس فیصلے کرتے رہے تھے۔
(وبد الھم سیات ماکسبوا) یعنی ان کے کرتوتوں کے سبب ان پر وہ امور ظاہر ہوں گے جو ان کو بہت برے لگیں گے (وحاق بھم ما کانوا بہ یستھزون) اور وہ عذاب اور عید جن کا یہ تمسخر اڑایا کرتے تھے وہ ان پر آنا نازل ہوگی۔
Ayahs 39:49–52آیت 49
اللہ تعالیٰ اناسن کے حال اور اس کی فطرت کے بارے میں آگاہ کرتا ہے کہ جب اسے کوئی بیماری، شدت یا تکلیف پہنچتی ہے (دعانا) تو وہ اس نازل ہونے والی مصیبت کو دور کرنے کے لئے گڑا گڑا کر ہمیں پکارتا ہے۔ (ثم ادا خولنہ نعمۃ منا) ” پھر جب ہم اسے اپنی نعمت عطا کردیتے ہیں “ یعنی جب ہم اس کی تکلیف کو دور اور اس کی مشقت کو زائل کردیتے ہیں تو وہ اپنے رب کی نا سپاسی اور اس کے احاسن کا اعتراف کرنے سے انکار ہے اور (قال انما او تیتہ علی علم) ” کہتا ہے : مجھے تو یہ سب کچھ علم کے سبب دیا گیا ہے “ یعنی اللہ کی طرف سے علم کی بنا پر حاصل ہوا ہے اور میں اس کا اہل اور اس کا مستحق ہوں کیونکہ میں اس کے ہاں بہت برگزیدہ ہوں یا اس کا معنی یہ ہے کہ یہ سب کچھ مجھے مختلف طریقوں سے حاصل کئے گئے میرے علم کے سبب سے مجھے عطا ہوا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (بل ھی فتنۃ) ” بلکہ یہ ایک فتنہ ہے “ جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی آزمائش کرتا ہے تاکہ وہ دیکھے کہ کون اس کا شکر گزار رہے اور کون اس کی ناشکری کرتا ہے۔ (ولکن اکثرھم لا یعلمون) ” لیکن ان میں سے اکثر نہیں جانتے “ اس لئے وہ فتنہ اور آزمائش کو اللہ تعالیٰ کی نوازش سمجھتے ہیں۔ ان کے سامنے خالص بھلائی اس چیز کے ساتھ مشتبہ ہوجاتی ہے جو بھلائی یا برائی کا سبب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (قدقالھا الذین من قبلھم) یعنی ان سے پہلے لوگ بھی یہی کہتے تھے، یعنی ان کا یہ مقولہ (انما اوتیتہ علی علم) اہل تکذیب کے ہاں ہمیشہ سے متوارث چلا آرہا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اقرار کرتے ہیں نہ اس کا کوئی حق سمجھتے ہیں۔ گزشتہ لوگوں کی یہی عادت رہی یہاں تک کہ ان کو ہلاک کردیا گیا۔ (فما اغنی عنھم ما کانوا یکسبون) چناچہ جب ان کو اللہ تعالیٰ کے عذاب نے پکڑا تو ان کی کمائی ان کے کسی کام نہ آئی۔
(فاصابھم سیات ماکسبوا) ” ان پر ان کے اعمال کے وبال پڑگئے “ اس مقام پر (سیات) سے مراد ” عقوبات “ ہیں کیونکہ یہ عقوبات ہی اناسن کے لئے تکلیف دہ اور اس کو غم زدہ کرتی ہیں (والذین ظلموا من ھولاء سیصیبھم سیات ماکسبوا) ” اور جو لوگ ان میں سے ظلم کرتے رہے ہیں عنقریب ان پر ان کے عملوں کے وبال پڑیں گے۔ “ پس یہ لوگ نہ تو گزشتہ لوگوں سے بہتر ہیں اور نہ ان کو کوئی برأت نامہ ہی لکھ کردیا گیا ہے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ یہ لوگ اپنے مال کی وجہ سے فریب میں مبتلا ہوگئے ہیں اور اپنی جہالت کی بنا پر سمجھتے ہیں کہ مال اپنے مالک کے حسن حال پر دلالت کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو خبردار کرتے ہوئے فرمایا کہ اس کا رزق اس بات پر دلالت نہیں کرتا کیونکہ بیشک اللہ تعالیٰ (یبسط الرزق لمن یشآء) اپنے بندوں میں سے، خواہ وہ نیک ہوں یا بد، جس کے لئے چاہتا ہے رزق کو کشادہ کردیتا ہے (وقدر) اور جس کو چاہتا ہے نپا تلا دیتا ہے، یعنی وہ اپنے بندوں میں سے خواہ وہ نیک ہوں یا بد جس کا چاہے اس کا رزق تنگ کردیتا ہے اس کا رزق تمام مخلوق میں مشترک ہے مگر ایمان اور عمل صالح صرف ان لوگوں کے لئے مختص کرتا ہے جو مخلوق میں بہترین لوگ ہوتے ہیں۔
(آیت) ” بیشک اس میں بھی ان کے لئے نشانیاں ہیں جو ایمان لاتے ہیں۔ “ یعنی رزق کی کشادگی اور تنگی میں اہل ایمان کے لئے نشانیاں ہیں کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ رزق کی تنگی اور کشادگی کا مرجع محض اللہ تعالیٰ کی حکمت اور رحمت ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے حال کو خوب جانتا ہے۔ کبھی کبھی اپنے بندوں پر لطف و کرم کی وجہ سیبھی ان پر رزق تنگ کردیتا ہے کیونکہ اگر وہ ان کا رزق کشادہ کر دے تو وہ زمین میں سرکشی کرتے ہیں اور رزق کی اس تنگی میں اللہ تعالیٰ ان کے دین کی اصلاح کی رعایت رکھتا ہے جو انکی سعادت اور فلاح کی بنیاد ہے۔ واللہ اعلم
Ayahs 39:53–60آیت 53
اللہ تعالیٰ اپنے حد سے بڑھ جانے والے، یعنی بہت زیادہ گناہوں کا ارتکاب کرنے والے، بندوں کو آگاہ کرتا ہے کہ اس کا فضل و کرم بہت وسیع ہے نیز انہیں اپنی طرف رجوع کرنے پر آمادہ کرتا ہے، اس سے قبل کہ رجوع کرنا ان کے لئے ممکن نہ رہے، چناچہ : (قل) اے رسول اور جو کوئی دعوت دین میں آپ کا قائم مقام ہو ! اپنے رب کی طرف سے بندوں کو آگاہ کرتے ہوئے کہہ دیجیے : (آیت) ” اے میرے بندو ! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے “ یعنی جنہوں نے گناہوں کا ارتکاب کر کے اور علام الغیوب کی ناراضی کے امور میں کشواں ہو کر اپنے آپ پر زیادتی کی (لاتقنطوا من رحمۃ اللہ) اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہ ہوجاؤ کہ اپنے آپ کو ہلاک کر ڈالو اور کہنے لگو کہ ہمارے گناہ بہت زیادہ اور ہمارے عیوب بہت بڑھ گئے اب ایسا کوئی طریقہ نہیں جس سے وہ گناہ زائل ہوجائیں پھر اس بنا پر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پر مصر رہو اور اس طرح رحمٰن کی ناراضی مول لیتے رہو۔
اپنے رب کو اس کے ان اسما سے پہچانو جو اس کے جودو کرم پر دلالت کرتے ہیں اور جان رکھو کہ بیشک اللہ تعالیٰ (یغفر الذنوب جمیعاً ) ” اسرے ہی گناہ معاف کردیتا ہے۔ “ اللہ تعالٰ شرک، قتل، زنا، سود خوری اور ظلم وغیرہ تمام چھوٹے بڑے گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ (انہ ھو الغفور الرحیم) ” واقعی وہ بڑی بخشش بڑی رحمت والا ہے “ یعنی مغفرت اور رحمت دونوں اللہ تعالیٰ کے لازم اور ذاتی اوصاف ہیں جو اس کی ذات سے کبھی جدا ہوتے ہیں نہ ان کے آثار ہی زائل ہوتے ہیں جو تمام کائنات میں جاری و اسری اور تمام موجودات پر اس یہ کناں ہیں۔ دن رات اس کے ہاتھوں کی سخاوت جاری ہے، کھلے اور چھپے وہ اپنے بندوں کو اپنی لگاتار نعمتوں سے نوازتا رہتا ہے۔ عطا کرنا اسے محروم کرنے سے زیادہ پسند ہے اور اس کی رحمت اس کے غضب پر غالب اور اس پر سبقت لے گئی ہے۔
اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور رحمت کے حصول کے کچھ اسباب ہی، بندہ اگر ان اسباب کو اختیار نہیں کرتا تو وہ اپنے آپ پر عظیم ترین اور جلیل ترین رحمت و مغفرت کا دروازہ بند کرلیتا ہے، بلکہ خالص توبہ کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع، دعا، اس کے سامنے عاجزی و انکساری اور اظہار تعبد کے سوا کوئی سبب نہیں۔ پس اس جلیل القدر سبب اور اس عظیم راستے کی طرف بڑھو۔
بنا بریں اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف انابت میں جلدی کرن کا حکم دیتے ہوئے فرمایا : (وانبیوا الی ربکم) ” اور اپنے رب کی طرف رجوع کرو۔ “ یعنی اپنے دل سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرو (واسلموا لہ) اور اپنے جوارح کے ساتھ اس کے سامنے سر تسلیم خم کردو۔ اگر ” انابت “ کو مفرد بیان کیا گیا ہو تو اس میں اعمال جوارح بھی داخل ہوتے ہیں اور اگر ” انابت “ کو دوسرے امور کے ساتھ بیان کیا گیا ہوجی اس کہ اس مقام پر کیا گیا ہے تو اس کا معنی وہی ہوتا ہے جو ہم نے بیان کیا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد : (الی ربکم واسلموا لہ) اخلاص پر دلالت کرتا ہے کیونکہ اخلاص کے بغیر ظاہری اور باطنی اعمال کوئی فائدہ نہیں دیتے۔ (من قبل ان یاتیکم العذاب) ” اس سے پہلے کہ تم پر عذاب آواقع ہو “ اور اسے روکا نہ جاسکے گا (ثم لاتنصرون) پھر اس عذاب کے مقابلے میں تمہاری مدد کرنے والا کوئی نہ ہوگا۔
گویا کہ پوچھا گا کہ ” انابت “ اور ” اسلام “ کیا ہیں، ان کی جزئیات و اعمال کیا ہیں ؟ تو اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا : (واتبعوا احسن ما انزل الیکم من ربکم) ” اور پیروی کرو ان بہترین باتوں کی جو نازل کی گئیں تمہاری طرف تمہارے پروردگار کی طرف۔ “ یعنی باطنی اعمال کو بجا لاؤ جن کا تمہیں حکم دیا گیا ہے مثلاً محبت الٰہی، خشیت الٰہی، خوف الٰہی، اللہ پر امید، اس کے بندوں کی خیر خواہی، ان کے لئے ہمیشہ بھلائی چاہنا اور ان امور سے متضاد امور سے اجتناب اور ظاہری اعمال بجا لانا مثلاً نماز قائم کرنا، زکواۃ ادا کرنا، حج کرنا، صدقہ دینا اور بھلائی کے مختلف کام کرنا جن کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور یہی بہترین کام ہیں جن کو ہمارے رب نے ہماری طرف نازل فرمایا ہے، لہٰذا ان امور میں اپنے رب کے احکام کی تعمیل کرنے والا ” منیب “ اور ” مسلم “ ہے۔ (آیت) ” اس سے پہلے کہ تم پر اچانک عذاب آجائے اور تمہیں خبر بھی نہ ہو۔ “ یہ سب کچھ جلدی کرنے اور فرصت سے فائدہ اٹھانے کی ترغیب ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو ڈراتے ( اور ان کی خیر خواہی کرتے) ہوئے فرمایا : (ان) کہ وہ اپنی غفلت پر نہ جمے رہیں یہاں تک کہ وہ دن آجائے جس دن انہیں نادم ہونا پڑے اور اس دن ندامت کسی کام نہیں آئے گی۔ اور (تقول نفس یحسرتی علی مافرطت فی جنب اللہ) ” کوئی نفس کہے : اس تفصیر پر افسوس ہے جو میں نے اللہ کے حق میں کی۔ “ (وان کنت) ’ دبے شک میں تو تھا “ دنیا میں (لمن السخرین) ” مذاق اڑانے والوں میں سے “ یعنی وہ دنیا میں جزا و سزا کا تمسخر اڑایا کرتا تھا، یاں تک کہ میں نے اسے عیاں (آنکھوں سے) دیکھ لیا۔
(اوتقول لو ان اللہ ہدینی لکنت من المتقین) ” یا یوں کہے کہ اگر للہ مجھے ہدایت دیتا تو میں پرہیز گاروں میں سے ہوتا۔ “ اس مقام پر (لو) تمنا کے معنی میں ہے، یعنی کاش اللہ تعالیٰ نے مجھے ہدایت عطا کی ہوتی تو میں بھی پرہیز گار بن جاتا اور عذاب سے بچ جاتا اور ثواب کا مستحق بن جاتا۔ یہاں (لو) شرطیہ نہیں ہے اگر یہاں (لو) شرطیہ ہوتا تو ان کو اپنی گمراہی کے لئے قضا و قدر کی حجت ہاتھ آجاتی ہے اور یہ باطل حجت ہے اور قیامت کے روز ہر باطل حجت مضمحل اور کمزور ہوجائے گی۔ (آیت) ”” یا جب عذاب دیکھ لے تو کہنے لگے۔ “ جب اسے عذاب کے وارد ہونے کا یقین ہوجائے گا تو وہ کہے گا ( لو ان لی کرۃ) یعنی اگر ایک بار اور مجھے دنیا میں واپس بھیجا جائے تو میں ہوجاؤں گا (من المحسنین) نیک عمل کرنے والوں میں سے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ فرمائے گا کہ اس کا دنیا میں دوبارہ بھیج جانا ممکن ہے نہ مفید، یہ تو محض باطل آرزو ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں کیونکہ اناسن کو دنیا میں دوبارہ نہیں بھیجا جائے گا اگر اسے دنیا میں بھیج بھی دیا جائیت و پہلے بیان اور احکامات کے بعد اب کوئی نیا بیان اور حکم نہیں آئے گا۔ (بلی قد جآء تک ایتی) ” کیوں نہیں میری آیتیں تیرے پاس پہنچ گئی تھیں “ جو حق پر دلالت کرتی تھیں، ایسی دلالت کہ اس میں کوئی شک نہیں رہ جاتا تھا۔ (فکذبت بھا واستکبرت) ” تو نے ان کو جھٹلایا اور تکبر کیا “ اور تکبر کی بنا پر تو نے ان کی اتباع نہیں کی (وکنت من الکفرین) ” اور تو کافر بن گیا۔ “ اس لئے دنیا کی طرف لوٹائے جانے کا مطالبہ عبث ہے۔ (آیت) ” اگر انہیں پھر دنیا کی زندگی کی طرف واپس بھیجا جائے تو پھر وہی سب کچھ کریں گے جس سے ان کو روکا گیا تھا اور بیشک وہ جھوٹے ہیں۔ “
Ayah 39:61آیت 61
جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے بارے میں افترا پردازی کی، اللہ تعالیٰ ان کی رسوائی بیان کرتا ہے کہ قیامت کے روز ان کے چہرے سیاہ تاریک رات کے مانند سیاہ ہوں گے ان کے سیاہ چہروں سے اہل موقف انہیں پہچانیں گے اور روشن صبح کی مانند حق صاف واضح ہوگا۔ جس طرح انہوں نے دنیا کے اندر حق کے چہرے کو جھوٹ کے ساتھ سیاہ کردیا تھا، اللہ تعالیٰ نے ان کے چہروں کو بھی سیاہ کردیا۔ یہ سزا ان کے عمل کی جنس ہی سے ہے۔ ان کے چہرے سیاہ ہوں گے اور ان کے لئے جہنم کا نہایت سخت عذاب ہوگا، اس لئے فرمایا : (الیس فی جھنم مثوی للمتکبرین) کیا جو لوگ حق اور اپنے رب کی عبادت کے بارے میں تکبر کا رویہ رکھتے تھے اور اس پر بہتان طرازی کرتے تھے ان کا ٹھکانا دوزخ میں نہیں ہے۔ اللہ کی قسم ! بلاشبہ جہنم میں شدید عذاب، بےانتہا رسوائی اور اللہ تعالیٰ کی سخت ناراضی ہوگی۔ جہاں متکبیرن کو پوری طرح عذاب دیا جائے گا اور ان سے حق وصول کیا جائے گا۔
اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرانا، اس کا بیٹا اور بوی قرار دینا، اس کی طرف سے کوئی ایسی خبر دینا جو اس کے جلال کے لائق نہ ہو، نبوت کا دعویٰ کرنا اس کی شریعت میں ایسی بات کہنا جو اس نے نہ کہی ہو اور دعویٰ کرنا کہ اسے اللہ تعالیٰ نے مشروع کیا ہے، یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ کے زمرے میں آتا ہے۔
متکبرین کا حال بیان کرن کے بعد اللہ تعالیٰ نے اہل تقویٰ کا حال بیان کیا ہے چناچہ فرمایا : (آیت) ” اور جو پرہیز گار ہیں ان کی کامیابی کے سبب اللہ ان کو نجات دے گا۔ “ کیونکہ ان کے پاس آلہ نجات، یعنی تقویٰ ہوگا جو ہر شدت اور ہولناکی کے وقت بچاؤ کا ذریعہ ہے۔ (لایمسھم السوآء) یعنی تکلیف دہ عذاب انہیں چھوئے گا نہیں۔ (ولاھم یحزنون) ” اور وہ غمگین نہیں ہوں گے۔ “ پس اللہ تعالیٰ نے ان سے عذاب اور خوف کی نفی کردی اور یہ امن کی انتہا ہے۔ ان کے لئے مکمل امن ہوگا اور یہ امن ان کے ساتھ رہے گا یہاں تک کہ وہ سلامتی کے گھر، یعنی جنت میں داخل ہوجائیں گے تب وہ ہر تکلیف اور ہر برائی سے محفوظ و مامون ہوں گے اور ان پر نعمتوں کی تازگی چھا جائے گی اور وہ پکار اٹھیں گے۔ (آیت) ” ہر قسم کی تعریف ہے اس ذات کے لئے جس نے ہم سے حزن و غم کو دور کیا بلا شبہ ہمارا رب بخشنے والا، قدر دان ہے۔ “
Ayahs 39:62–63آیت 62
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی عظمت و کمال کے متعلق آگاہ فرماتا ہے جو اس شخص کے لئے خاسرے کا باعث ہے جس نے اس کا انکار کیا، چناچہ فرمایا : (آیت) ” یہ عبارت اور اس قسم کی دیگر عبارات، قرآن کریم میں بکثرت ملتی ہیں، جو اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ (اور اس کے اسماء وصفات) کے سوا ہر چیز مخلوق ہے۔ اس آیت کریمہ میں ہر اس شخص کے نظریے کا رد ہے جو مخلوق کے قدیم ہونے کے قائل ہے، مثلاً فلاسفہ کہتے ہیں کہ یہ آسمان اور زمین قدیم ہیں۔ اس طرح ان لوگوں کے قول اور دیگر باطل نظریات کا بھی رو ہے جو روح کو قدیم مانتے ہیں۔ اہل باطل کے ان باطل نظریات کو مان لینے سے خالق کا اپنی تخلیق سے معطل ہونا لازم آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا کلام مخلوق نہیں کیونکہ کلام متکلم کی صفت ہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے اسماء وصفات کے ساتھ ہمیشہ سے موجود ہے، اس سے پہلے کچھ بھی موجود نہ تھا۔
معتزلہ نے اس آیت کریمہ اور اس قسم کی دیگر آیات سے یہ استدلال کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کلام مخلوق ہے۔ یہ ان کی سب سے بڑی جہالت ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے اسماء وصفات سمیت قدیم ہے، اس کی صفات نئی پیدا ہوئی ہیں نہ اس سے کسی صفت کا تعطل ہوا ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے بارے میں خود خبر دی ہے کہ اس نے عالم علوی اور عالم سلفی کو پیدا کیا اور وہ ہر چیز پر وکیل ہے اور کالت کامل میں وکیل کے لئے لازم ہے کہ وہ جس چیز کی وکالت کر رہا ہے اسے اس کا پورا علم ہوا اور وہ اس کی تمام تفاصیل کا احاطہ کئے ہوئے ہو، جس چیز پر وہ وکیل ہے، اس میں تصرف کرنے کی پوری قدرت رکھتا ہو، اس کی حفاظت کرسکتا ہو، تصرف کے تمام پہلوؤں کی حکمت اور معرفت رکھتا ہوں کہ بہترین طریقے سے اس میں تصرف اور اس کی تدبیر کرسکے۔ مذکورہ بالا تمام امور کے بغیر وکالت کی تکمیل ممکن نہیں۔ ان امور میں جتنا نقص واقع ہوگا اس کی وکالت بھی اتنی ہی ناقص ہوگی۔
یہ چیز متحقق اور معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی صفات میں سے ہر صفت میں ہر قسم کے نقص سے منزہ ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کا یہ خبر دینا کہ وہ ہر چیز پر وکیل ہے دلالت کرتا ہے کہ اس کا علم ہر چیز کا احاطہ کئے ہوئے ہے، وہ ہر چیز کی تدبیر پر کامل قدرت اور کامل حکمت رکھتا ہے جس کے ذریعے سے اس نے تمام اشیاء کو اپنے اپنے مقام پر رکھا ہے۔
(لہ مقالید السموت والارض) ” آسمانوں اور زمین کی کنجیاں اسی کے پاس ہیں۔ “ یعنی علم اور تدبیر کے لحاظ سے زمین و آسمان کی کنجیاں اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہیں اس لئے (آیت) ” اللہ اپنے بندوں کے لئے اپنی رحمت کا جو دروازہ کھول دے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور اگر وہ اپنی رحمت کو روک لے تو اس کے بعد اسے کوئی کھول نہیں سکتا اور وہ غالب حکمت والا ہے۔ “
جب اللہ تعالیٰ کی عظمت واضح ہوگئی جو اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ بندوں کے دل اللہ تعالیٰ کے اجلاس و اکرام سے لبریز ہوں تو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا حال بیان کیا جن کا معاملہ اس کے برعکس ہے۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی قدر نہ کی جس طرح قدر کرنے کا حق ہے۔ فرمایا : (والذین کفروا بایت اللہ) ” اور جنہوں نے آیات الٰہی کا انکار کیا “ جو حق، یقین اور صراط مستقیم کی طرف راہنمائی کرتی ہیں (اولئک ھم الخسرون) ” یہی لوگ ہیں خاسرہ پانے والے۔ “ یعنی اس چیز کے بارے میں خاسرے میں رہے جس سے قلوب کی اصلاح ہوتی ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کے لئے اخلاص۔ جس سے زبانوں کی اصلاح ہوتی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مشغول ہوتی ہیں اور جس سے جوارح کی اصلاح ہوتی ہے اور وہ اللہ کی اطاعت کرتے ہیں اور اس کے بدلے انہوں نے ہر وہ چیز لے لی جو قلوب و ابدان کو فاسد کرتی ہے، وہ نعمتوں بھری جنت سے محروم رہے اور اس کے بدلے انہوں نے درد ناک عذاب لے لیا۔
Ayahs 39:64–66آیت 64
(قل) اے رسول ! ان جہلا سے، جو آپ کو غیر اللہ کی عبادت کی دعوت دیتے ہیں، کہہ دیجیے : (آیت) ” اے جاہلو ! کیا تم مجھے یہ کہتے ہو کہ میں اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت کروں۔ “ یہ معاملہ تمہاری جہالت کی بنا پر صادر ہوا ہے ورنہ اگر تمہیں اس بات کا علم ہوتا کہ اللہ تعالیٰ ہر اعتبار سے کامل ہے وہی نعمتیں عطا کرتا ہے اور وہی عبادت کا مستحق ہے اور وہ ہستیاں عبادت کی مستحق نہیں جو ہر لحاظ سے ناقص ہیں، جو نفع دے سکتی ہیں نہ نقصان، تب تم مجھے ان کی عبادت کا کیوں حکم دیتے ہو ؟
شرک اعمال کو اسقط اور احوال کو فاسد کردیتا ہے، بنا بریں فرمایا : (آیت) ” اور (اے نبی ! ) آپ کی طرف اور ان کی طرف جو تم سے پہلے ہوچکے ہیں یہ وحی کی گئی “ یعنی تمام انبیائے کرام کی طرف (لئن اشرکت لیجطن عملک) ” اگر تم نے شرک کیا تو تمہارے اسرے عمل برباد ہوجائیں گے۔ “ یہ مفرد مضاف ہے جو تمام اعمال کو متضمن ہے۔
اسبقہ جمیع انبیائے کرام کی نبوتوں میں یہ حکم تھا کہ شرک تمام اعمال کو ضائع کردیتا ہے جی اس کہ سورة الانعام میں اللہ تعالیٰ نے بہت سے انبیاء کا ذکر کرنے کے بعد ان کے بارے میں فرمایا : (آیت) ” یہ ہے اللہ کی ہدایت، وہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اس طرح کی ہدایت دے دیتا ہے اور اگر یہ لوگ (انبیائے کرام) شرک کرتے ہوئے تو ان کا اسرا کیا دھرا ضائع ہوجاتا ہے۔ “ (ولتکونن من الخسرین) ” اور آپ (دین اور آخرت کے بارے میں) خاسرے میں پڑجائیں گے۔ “ پس معلوم ہوا کہ شرک سے تمام اعمال اکارت ہوجاتے ہیں اور بندہ عذاب اور سزا کا مستحق بن جاتا ہے۔
پھر فرمایا : (بل اللہ فاعبد) ” بلکہ آپ اللہ ہی کی عبادت کیجیے۔ “ اللہ تعالیٰ نے جب جہلا کے بارے میں آگاہ فرمایا کہ وہ آپ کو شرک کا حکم دیتے ہیں اور یہ خبر بھی دی کہ شرک بہت قبیح جرم ہے تو نبی ﷺ کو اخلاص کا حکم دیا اور فرمایا : (بل اللہ فاعبد) یعنی اللہ وحدہ لاشریک کے لئے اپنی عبادت کو خالص کیجیے (وکن من الشکرین) اور اللہ تعالیٰ کی توفیق پر اس کا شکر ادا کیجیے۔ جس طرح دنیاوی نعمتوں، مثلاً جسمانی صحت و عافیت اور حصول رزق وغیرہ پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا جاتا ہے اسی طرح دینی نعمتوں، مثلاً توفیق اخلاص اور تقویٰ وغیرہ پر بھی اس کا شکر ادا کیا جاتا اور اس کی حمد وثناء کی جاتی ہے، بلکہ دینی نعمتیں ہی حقیقی نعمتیں ہیں اور یہ تدبر کرنا کہ یہ تمام نعمتیں اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ہیں اور ان پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا واجب ہے کیونکہ یہ اناسن کو غرور اور خودپسندی کی آفت سے محفوظ رکھتا ہے۔ بہت سے عمل کرنے والے اپنی جہالت کے باعث غرور میں مبتلا ہوجاتے ہیں ورنہ اگر بندہ حقیقت حال کی معرفت حاصل کرلے تو اللہ تعالیٰ کی کسی نعمت پر غرور میں مبتلا نہ ہو جو زیادہ سے زیادہ شکر کی مستحق ہے۔
Ayahs 39:67–69آیت 67
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان مشرکین نے اپنے رب کی قدر اور تعظیم نہیں کی جی اس کہ اس کی قدر و تعظیم کا حق ہے بلکہ اس کے برعکس انہوں نے ایسے افعال سر انجام دیے جو اس کی تعظیم سے متناقض ہیں، مثلاً ایسی ہستیوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرانا جو اپنے اوصاف و افعال میں ناقص ہیں۔ ان کے اوصاف ہر لحاظ سے ناقص ہیں اور ان کے افعال ایسے ہیں کہ وہ کسی کو نفع دے سکتی ہیں نہ نقصان، وہ کسی کو عطا کرسکتی ہیں نہ محروم، وہ کسی چیز کا کوئی اختیار نہیں رکھتیں۔ پس انہوں نے اس ناقص مخلوق کو، خالق کائنات، رب عظیم کے برابر ٹھہرا دیا جس کی عظمت باہرہ اور قدرت قاہرہ یہ ہے کہ قیامت کے روز، تمام زمین رحمٰن کی مٹھی میں ہوگی اور استوں آسمان اپنی وسعتوں اور عظمتوں کے باوجود اس کے دائیں ہاتھ پر لپٹے ہوئے ہوں گے۔ اس شخص نے اللہ تعالیٰ کی تعظیم نہیں کی جی اس کہ اس کی تعظیم کرنے کا حق ہے جس نے دوسری سہتیوں کو اس کے ماسوی ٹھہرا دیا۔ جس نے یہ کام کیا اس سے بھی بڑھ کر کوئی ظالم ہے ؟ (سبحنہ و تعلی عما یشرکون) اللہ تعالیٰ ان کے شرک سے منزہ، پاک اور بہت بلند ہے۔
Ayah 39:70آیت 70
اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اپنی عظمت کا خوف دلانے کے بعد، قیامت کے احوال کے ذریعے سے انہیں ڈرایا اور انہیں ترغیب و ترہیب دی، چناچہ فرمایا : (ونفخ فی الصور) ” اور صور پھونکا جائے گا۔ “ یہ بہت بڑا سینگ ہے جس کی عظمت اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی شخص نہیں جانتا یا صرف اس شخص کو علم ہے جسے اللہ تعالیٰ نے مطلع کردیا ہو، اس صور میں اسرافیل جو اللہ تعالیٰ نے مطلع کردیا ہو، اس صور میں اسرافیل جو اللہ تعالیٰ کے مقرب اور اس کا عرش اٹھانے والے فرشتوں میں ہیں۔ پھونک ماریں گے۔ (فصعق) تو بےہوش ہوجائیں گے یا مرجائیں گے۔ اس بارے میں یہ دونوں قول منقول ہیں۔ (من فی السموت ومن فی الارض) ” جو بھی آسمانوں اور زمین میں ہیں۔ “ یعنی زمین اور آسمانوں کی تمام مخلوق جب صور پھونکنے کی آواز سنے گی تو اس کی شدت اور ان احوال کے بارے میں علم ہونے کے باعث گھبرا اٹھے گی، جن کا یہ آواز مقدمہ ہے۔ (الا من شآء اللہ) ” مگر جسے اللہ (بچانا) چاہے۔ “ یعنی ان لوگوں کے سوا جن کو اللہ تعالیٰ مضبوط اور ثابت قدم رکھے، مثلاً شہد اور بعض دیگر لوگ، ان پر بےہوشی طاری نہیں ہوگی یہپ ہلی پھونک نفخۃ الصعق اور تفخۃ الفزع ہے۔ (ثم نفخ فیہ) ” پھر اس میں (ایک اور) پھونک ماری جائے گی۔ “ یہ نفخۃ الصعق اور نفخۃ الفزع ہے۔ (ثم نفخ فیہ) ” پھر اس میں (ایک اور) پھونک ماری جائے گی۔ “ یہ نفخۃ البعث ہے (فاذا ھم قیام ینظرون) ” تو وہ فوراً اٹھ کر دیکھنے لگیں گے۔ “ یعنی وہ حاسب و کتاب کے لئے اپنی قبروں میں سے اٹھ کھڑے ہوں گے، جبکہ ان کی تخلیق اجاسرو اور تخلیق ارواح مکمل ہوچکی گی۔ ان کی آنکھیں اوپر کو اٹھی ہوئی ہوں گی (ینظرون) وہ دیکھ رہے ہوں گے “ کہ اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ کیا کرتا ہے۔
(واشرقت الارض بنور ربھا) ” اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی “ اس سے معلوم ہوا کہ موجودہ تمام روشنیاں قیامت کے روز مضمحل ہو کر ختم ہوجائیں گی اور حقیقت میں ایسا ہی ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ (قیامت کے روز) سورج بےنور ہوجائے گا، چاند کی روشنی ختم ہوجائے گی، ستارے بکھر جائیں گے اور لوگ تاریکی میں ڈوب جائیں گے، تب اس وقت زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی جب وہ تجلی فرمائے گا اور بندوں کے درمیان فیصلہ کرنے کے لئے نازل ہوگا۔ اس دن اللہ تعالیٰ تمام مخلوق کو ایسی قوت اور ایسی تخلیق عطا کرے گا جس کی بنا پر وہ اللہ تعالیٰ کی تجلی کو برداشت کرنے کی قوت سے سرفراز ہوں گے، اللہ تعالیٰ کا نور ان کو جلا نہیں ڈالے گا، اس دن ان کے لئے اللہ تعالیٰ کا دیدار کرنا ممکن ہوگا ورنہ اللہ تعالیٰ کا نور اس قدر عظیم ہے کہ اگر وہ اپنے چہرے سے پردہ ہٹا دے تو جہاں تک اس کی نگاہ پہنچے اس کے چہرے کا نور تمام مخلوق کو جلا کر راکھ کر ڈالے۔
(ووضع الکتب) ” اور (اعمال کی) کتاب رکھ دی جائے گی۔ “ یعنی اعمال نامہ کھول کر پھیلا دیا جائے گا تاکہ بندہ اپنی نیکیوں اور گناہوں کو پڑھ لے۔ جی اس کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” اور اعمال نامہ رکھ دیا جائے گا تو آپ مجرموں کو دیکھیں گے کہ وہ اپنے اعمال نامے کے مندرجات سے ڈر رہے ہوں گے اور کہیں گے ہائے ہماری ہلاکت ! یہ کیسی کتاب ہے کہ ہمارا کوئی چھوٹا بڑا عمل ایسا نہیں جو اس نے درج نہ کیا ہو۔ وہ اپنے تمام اعمال کو اپنے سامنے موجود پائیں گے اور آپ کا رب کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔ “ اور عمل کرنے والے سے مکمل عدل و انصاف کے ساتھ کہا جائے گا۔ (آیت) ” اپنی کتاب (اعمال) پڑھ، آج اپنا حاسب لینے کے لئے تو خود ہی کافی ہے۔ “
(آیت) ” اور نبیوں کو لایا جائے گا “ تاکہ ان سے تبلیغ اور ان کی امتوں کے رویے کے بارے میں سوال کیا جائے اور یہ ان پر گواہی دیں (والشھدآء) ” اور گواہ “ یعنی فرشتے، زمین اور اناسن کے اعضا گواہی دیں گے (وقضی بینھم بالحق) ” اور ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کیا جائے گا۔ “ یعنی پورے عدل اور کامل انصاف کے ساتھ فیصلہ کیا جائے گا کیونکہ یہ حاسب ایسی ہستی کی طرف سے کیا جائے گا جو ذرہ بھر ظلم نہیں کرتی اس کا علم ہر چیز کا احاطہ کئے ہوئے ہے اور اس کی کتاب، یعنی لوح محفوظ ان کے تمام اعمال پر مشتمل ہے۔ کراماً کاتبین اپنے رب کی نافرمانی نہیں کرتے، بندے جو عمل بھی کرتے ہیں یہ ان کے اعمال ناموں میں درج کرلیتے ہیں۔ عادل ترین گواہ اس فیصلے میں گواہی دیں گے اور فیصلہ وہ ہستی کرے گی جو اعمال کی مقدار اور ان کے ثواب و عقاب کے استحقاق کی مقدار کو خوب جانتی ہے۔ فیصلہ ہوگا اور تمام مخلوق اس کا اقرار کرے گی۔ تمام مخلوق اللہ تعالیٰ کی حمد اور اس کے عدل کا اعتراف کرے گی۔ وہ اس کی عظمت، اس کے علم و حکمت، اور اس کی رحمت کا اس طرح اعتراف کریں گے کہ دل میں کبھی اس کا خیال گزرا ہوگا نہ ان کی زبانوں نے کبھی اس کی تعبیر کی ہوگی، اس لئے فرمایا : (آیت) ” جس شخص نے جو عمل کیا اس کو اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور جو کچھ یہ کرتے ہیں اس کو سب کی خبر ہے۔ “