38. Surah Saad

صThe letter Saad · 88 ayahsتفسیرِ سعدی

Ayahs 38:41–44

وَ اذْكُرْ عَبْدَنَاۤ اَیُّوْبَ١ۘ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَسَّنِیَ الشَّیْطٰنُ بِنُصْبٍ وَّ عَذَابٍؕ Open ayah 38:41 in the Quran reader

اور ہمارے بندے ایوب کو یاد کرو جب انہوں نے اپنے رب کو پکارا کہ (بار الہا) شیطان نے مجھ کو ایذا اور تکلیف دے رکھی ہے

اُرْكُضْ بِرِجْلِكَ١ۚ هٰذَا مُغْتَسَلٌۢ بَارِدٌ وَّ شَرَابٌ Open ayah 38:42 in the Quran reader

(ہم نے کہا زمین پر) لات مارو (دیکھو) یہ (چشمہ نکل آیا) نہانے کو ٹھنڈا اور پینے کو (شیریں )

وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اَهْلَهٗ وَ مِثْلَهُمْ مَّعَهُمْ رَحْمَةً مِّنَّا وَ ذِكْرٰى لِاُولِی الْاَلْبَابِ Open ayah 38:43 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو اہل (و عیال) اور ان کے ساتھ ان کے برابر اور بخشے (یہ) ہماری طرف سے رحمت اور عقل والوں کے لئے نصیحت تھی

وَ خُذْ بِیَدِكَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِّهٖ وَ لَا تَحْنَثْ١ؕ اِنَّا وَجَدْنٰهُ صَابِرًا١ؕ نِعْمَ الْعَبْدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ Open ayah 38:44 in the Quran reader

اور اپنے ہاتھ جھاڑو لو اور اس سے مارو اور قسم نہ توڑو بیشک ہم نے ان کو ثابت قدم پایا بہت خوب بندے تھے بیشک وہ رجوع کرنے والے تھے

آیت 41 (واذکر) ” اور یاد کرو “ یعنی نصیحت والی اس کتاب عظیم کے اندر (عبدنا ایوب) ” ہمارے بندے ایوب کا “ بہترین پیرائے میں ذکر کیجیے اور احسن طریقے سے ان کی مدممح و ثنا کیجیے۔ جب انھیں تکلیف اور مصیبت پہنچتی تو انھوں نے اس تکلیف پر صبر کیا اور غیر کے سابنے اپنے رب کا شکوہ کیا نہ اس کے سوا کسی اور کا سہارا لیا (اذنادٰی ربہ) جب ایوب ( علیہ السلام) نے غیر اللہ کے پاس نہیں ‘ بلکہ اللہ تعالیٰ کے پاس شکوہ کرتے اور اس سے دعا کرتے ہوئے اسی کو پکارا اور عرض کیا : اے میرے رب : (انی مسنی الشطن بنصب و عذاب) یعنی شیطان نے مجھے مشقت انگیز اور نہایت تکلیف دہ عذاب میں ڈال دیا ہے۔ شیطان کو آپ کے جسد پر تسلط حاصل ہوگیا ‘ اس نے پھونک ماری تو جسم پر پھوڑے بن گئے ‘ پھر ان سے پیپ بہنے لگی اور اس کے بعد معاملہ بہت سخت ہوگیا اور اسی طرح ان کا مال اور ان کے اہل و عیال بھی ہلاک ہوگئے۔ ان سے کہا گیا (ار کض برجلک) یعنی اپنی ایڑی زمین ماریں۔ آپ کے لیے ایک چشمہ زمین سے پھوٹ پڑے گا ‘ اس چشمے کا پانی پیجیے اور اس سے غسل کیجیے۔ آپ کی بیماری اور تکلیف دور ہوجائے گی۔ آپ نے ایسا ہی کیا تو انپ کی میماری دور ہوگئی اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو شفا بخش دی۔ (ووھبنا لہ اھلہ) ” اور ہم نے نھیں ان کے اہل و عیال عطا کردیے۔ “ کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اہل و عیال کو زندہ کردیا تھا۔ (ومثلھم معھم) اور دنیا میں اتنے ہی اور عطا کردیے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بہت زیادہ مال سے بہرہ مند کر کے نہایت مال دار کردیا ( رحمۃ منا) یعنی ہماری طرف سے ہمارے بندے ایوب پر رحمت تھی ‘ کیونکہ انھوں نے صبر کیا اور ہم نے ان کو اپنی رحمت سے دنیاوی اور اخروی ثواب سے بہرہ مند کیا۔ (وذکرٰی لاول الالباب) تاکہ عقل مند لوگ حضرت ایوب ( علیہ السلام) کی حالت سے نصیحت اور عبرت پکڑیں اور انھیں معلوم ہوجائے کہ جو کوئی مصیبت میں صبر کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے دنیاوی اور اخروی ثواب سے نوازتا ہے اور جب وہ دعا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت ایوب ( علیہ السلام) کو حکم دیا۔ ( وخذ بیدک ضغثاً ) ” اور اپنے ہاتھ میں جھاڑو لو۔ “ یعنی درپت کی باریک شاخوں کا گٹھا ( فاضرب بہ والا تحنث) ” اور اس سے مارو اور قسم نہ توڑو۔ “ مفسرین کہتے ہیں کہ ایوب ( علیہ السلام) بیماری اور تکلیف کے دوران میں کسی معاملے میں اپنی بیوی سے ناراض ہوگئے تھے ‘ اس پر آپ نے قسم کھائی تھی کہ وہ اپنی بیوی کو سوکوڑے ماریں گے۔ ان کی بیوی ‘ انتہائی نیک اور آپ کے ساتھ بھلائی کرنے والی خاتون تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس خاتون پر اور حضرت ایوب ( علیہ السلام) پر رحم فرمایا اور فتوٰی دیا کہ وہ درخت کی باریک سو شاخوں کا گٹھا لے کر اس سے ایک ہی دفہ ماریں ‘ ان کی قسم پوری ہوجائے گی۔ (انا وجدنہ صابرًا) یعنی ہم نے آپ کو بہت بڑی بیماری اور تکلیف کے ذریعے سے آزمایا اور آپ نے اللہ تعالیٰ کی خاطر صبر کیا۔ (نعم العبد) ” وہ بہترین بندے تھے “ جنھوں نے خوشی اور مصیبت ‘ خوش حالی اور بدحالی میں عبودیت کے مراتب کی تکمیل کی (انہ اواب) یعنی اپ اپنے دینی اور دنیاوی مطالب میں اللہ تعالیٰ کی طرف بہت زیادہ رجوع کرنے والے ‘ اپنے رب کا بہت زیادہ ذکر کرنے والے ‘ اس کو بہت زیادہ پکارنے والے ‘ اس سے محبت اور اس کی عبادت کرنے والے تھے۔
Ayahs 38:45–48

وَ اذْكُرْ عِبٰدَنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ اُولِی الْاَیْدِیْ وَ الْاَبْصَارِ Open ayah 38:45 in the Quran reader

اور ہمارے بندوں ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کو یاد کرو جو قوت والے اور آنکھوں والے تھے

اِنَّاۤ اَخْلَصْنٰهُمْ بِخَالِصَةٍ ذِكْرَى الدَّارِۚ Open ayah 38:46 in the Quran reader

ہم نے ان کو ایک (صفت) خاص (آخرت کے) گھر کی یاد سے ممتاز کیا تھا

وَ اِنَّهُمْ عِنْدَنَا لَمِنَ الْمُصْطَفَیْنَ الْاَخْیَارِؕ Open ayah 38:47 in the Quran reader

اور وہ ہمارے نزدیک منتخب اور نیک لوگوں میں سے تھے

وَ اذْكُرْ اِسْمٰعِیْلَ وَ الْیَسَعَ وَ ذَا الْكِفْلِ١ؕ وَ كُلٌّ مِّنَ الْاَخْیَارِؕ Open ayah 38:48 in the Quran reader

اور اسماعیل اور الیسع اور ذوالکفل کو یاد کرو اور وہ سب نیک لوگوں میں سے تھے

آیت 45 اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : (واذ کر عبدنا) ” ہمارے اور بندوں کا ذکر کیجیے “ جنھوں نے خالص ہماری عبادت کی اور ہمیں اچھی طرح یاد کیا (ابرھیم) ” ابرھیم “ خلیل اللہ (و) ” اور “ ان کے بیٹے (اسحق و) ” اسحاق اور “ ان (ابراھیم) کے پوتے (یعقوب اولی الیدی) ” یعقوب یہ سب قوت والے تھے۔ “ یعنی جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے قوت رکھتے تھے۔ ( والالصار) اور اللہ تعالیٰ کے دین میں بصیرت سے بہرہ مند تھے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان سب کو علم نافع اور عمل صالح سے موصوف کیا (انا اخلصنھم بخالصۃ) ” بیشک ہم نے نھیں ایک امتیازی بات کے ساتھ خاص کیا۔ “ یعنی بہت بڑی خالص صفت کیساتھ جو کہ (ذکری ادار) ” آخرت کی یاد ہے “ یعنی ہم نے آخرت کی یاد ان کے دلوں میں جاگزیں کردی ‘ عمل صالح کو ان کے وقت کا مصرف ‘ اخلاص اور مراقبے کو ان کا دائمی وصف بنادیا۔ ہم نے ان کو اس طرح آخرت کی یاد بنادیا کہ نصیحت پکڑنے والا ان کے احوال سے نصیحت اور عبرت حاصل کرنے والا عبرت کرتا ہے اور یہ بہترین طریقے سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں۔ ( وانھم عندنا لمن المصطفین) ” بہترین لوگ ہیں “ یعنی وہ لوگ اخلاق کریمہ اور صالح کے حامل ہیں۔
Ayah 38:49

هٰذَا ذِكْرٌ١ؕ وَ اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ لَحُسْنَ مَاٰبٍۙ Open ayah 38:49 in the Quran reader

یہ نصیحت ہے اور پرہیزگاروں کیلئے تو عمدہ مقام ہے

آیت 49 یعنی ان انبیائے کرام کو احسن طریقے سے یاد کیجیے اور بہترین طریقے سے ان کی مدح و ثنا کیجیے ‘ کیونکہ یہ سب بہترین لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے مخلوق میں سے چن لیا ‘ ان کو کامل ترین احوال ‘ بہترین اعمال و اخلاق ‘ قابل تعریف اوٹاف اور درست خصائل کا حامل بنایا۔ (ھذا) ” یہ “ یعنی انبیاء ومرسلین اور ان کے اوصاف کا تذکرہ تو (ذکر) ” نصیحت حاصل کریں ‘ اقتدا کرنے والے ان کے اوصاف حمیدہ کی پیروی کے مشتاق ہوں اور ان اوصاف رکیہ اور ثنائے حسن کی مچرٹت حاصل ہو جن اللہ تعالیٰ نے ان کو سرفراز فرمایا۔ یہ بھی ذکر کی ا کی قسم ہے ‘ یعنی اہل خیر کا تذکرہ اہل خیر اور اہل شر کی جز او سزا کا تذکرہ بھی ذکر ہی کی ایک قسم ہے ‘ اس لیے فرمایا : (وان للمتّقین) یعنی ان تمام مومنین اور مومنات کے لیے جو اپنے رب کے حکم کی تعمیل اور نواہی سے اجتناب کے ذریعے سے تقوی اختیار کرتے ہیں (لحسن ماٰب) بہترین ٹھکانا اور خوب ترین مرجع ہے ‘ پھر اللہ تعالیٰ نے اس بہترین ٹھکانے کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا :
Ayahs 38:50–54

جَنّٰتِ عَدْنٍ مُّفَتَّحَةً لَّهُمُ الْاَبْوَابُۚ Open ayah 38:50 in the Quran reader

ہمیشہ رہنے کے باغ جن کے دروازے ان کے لئے کھلے ہوں گے

مُتَّكِئِیْنَ فِیْهَا یَدْعُوْنَ فِیْهَا بِفَاكِهَةٍ كَثِیْرَةٍ وَّ شَرَابٍ Open ayah 38:51 in the Quran reader

ان میں تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے اور (کھانے پینے کے لئے) بہت سے میوے اور شراب منگواتے رہیں گے

وَ عِنْدَهُمْ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ اَتْرَابٌ Open ayah 38:52 in the Quran reader

اور ان کے پاس نیچی نگاہ رکھنے والی (اور) ہم عمر (عورتیں) ہوں گی

هٰذَا مَا تُوْعَدُوْنَ لِیَوْمِ الْحِسَابِ Open ayah 38:53 in the Quran reader

یہ وہ چیزیں ہیں جن کا حساب کے دن کے لئے تم سے وعدہ کیا جاتا تھا

اِنَّ هٰذَا لَرِزْقُنَا مَا لَهٗ مِنْ نَّفَادٍۚۖ Open ayah 38:54 in the Quran reader

یہ ہمارا رزق ہے جو کبھی ختم نہیں ہوگا

آیت 50 ( جنت عدن) یعنی ہمیشہ سرسبز و شاداب رہنے والے باغات ‘ جن کے کمال اور جن کی نعمتوں کے باعث یہاں کے رہنے والے ان کو کبھی بدلنا نہیں چاہیں گے۔ وہ وہاں سے خود نکلیں گے نہ ان کو نکالا جائے گا۔ (مفتحۃ لھم الابواب) یعنی ان کی خاطر جنت کی منازل و مساکن کے دروازے کھلے رکھے جائیں گے ‘ ان کو خود دروازے کھلوانے کی حاجت نہیں ہوگی ‘ بلکہ انکی خدمت کی جائے گی۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہاں مکمل امن وامان ہوگا۔ جنت عدن میں کوئی ایسی خطرے کی بات نہ ہوگی جو دروازے بند رکھنے کی موجب ہو۔ (متکئین فیھا) وہ سجائی ہوئی نشست گاہوں اور آراستہ کیے ہوئے تختوں پر ٹیک لگا کر بیٹھیں گے (یدعون فیھا) یعنی وہ اپنے خدام کو حکم دیں گے (بفا کھۃ کثیرۃ وشراب) کہ وہ ان کی خدمت میں مکثرت پھل اور مشروبات پیش کریں ‘ جن کو ان کے نفس پسند کریں گے اور ان کی آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔ یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ وہاں ان کو کامل نعمت ‘ کامل راحت و طمانیت اور کامل لذت حاصل ہوگی۔ (وعندھم) ” ان کے پاس “ گوری چٹی موٹی آنکھوں والی بیویاں ہوں گی۔ (قصرت الطرف) یعنی دونوں میاں بیوی آپس میں ایک دوسرے کیحسن و جمال اور ایک دوسرے کے ساتھ محبت کے باعث نظریں جھکائے ہوئے ہوں گے۔ وہ دونوں میاں بیوی کسی اور طرف نظر اٹھا کر نہیں دیکھیں گے ‘ وہ اپے ساتھی کو بدلنا چاہیں گے نہ اس کے عوض کچھ اور چاہیں گے۔ (اتراب) یعنی وہ میاں بیوی ہم عمر ہوں گے۔ وہ جوانی کے بہترین دور اور انتہائی لذت انگیز عمر میں ہوں گے۔ (ھذا ما توعدون) ”(اے تقوٰی شعار لوگو ! ) یہ وہ چیزیں ہیں جن کا تمہارے ساتھ وعدہ کیا گیا تھا “ (لیوم الحساب) ” حساب کے دن کے لیے۔ یہ تمہارے نیک اعمال کی جزا ہے۔ (ان ھذا لرزقنا) ” یقیناً یہ ہمارا رزق ہے۔ جو ہم نے اہل جنت کو عطا کیا ہے۔ (مالہ من نفاد) یہ رزق کبھی منقطع نہ ہوگا بلکہ وہ دائمی ہوگا اور ہر آن اس میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔ یہ سب کچھ رب کریم کے لیے کوئی بڑا کام نہیں جو رؤف و رحیم ‘ محسن و جو او ’ ؓ ‘ واسع و غنی ‘ قابل تعریف ‘ لطف عظیم کا حامل ‘ نہایت مہربان بادشاہ ‘ با اختیار ‘ جلیل القدر ‘ جمیل الشان ‘ احسان کرنے والا ‘ بےپناہ فضل اور متواتر کرم کا مالک ہے۔ وہ ایسی ہستی ہی جس کی نعمتوں کی شمار کیا جاسکتا ہے نہ اس کے کسی احسان کا احاطہ کیا جاسکتا ہے۔
Ayahs 38:55–73

هٰذَا١ؕ وَ اِنَّ لِلطّٰغِیْنَ لَشَرَّ مَاٰبٍۙ Open ayah 38:55 in the Quran reader

یہ (نعمتیں تو فرماں برداروں کے لئے ہیں) اور سرکشوں کے لئے برا ٹھکانا ہے

جَهَنَّمَ١ۚ یَصْلَوْنَهَا١ۚ فَبِئْسَ الْمِهَادُ Open ayah 38:56 in the Quran reader

(یعنی) دوزخ جس میں وہ داخل ہوں گے اور وہ بری آرام گاہ ہے

هٰذَا١ۙ فَلْیَذُوْقُوْهُ حَمِیْمٌ وَّ غَسَّاقٌۙ Open ayah 38:57 in the Quran reader

یہ کھولتا ہوا گرم پانی اور پیپ (ہے) اب اس کے مزے چکھیں

وَّ اٰخَرُ مِنْ شَكْلِهٖۤ اَزْوَاجٌؕ Open ayah 38:58 in the Quran reader

اور اسی طرح کے اور بہت سے (عذاب ہوں گے)

هٰذَا فَوْجٌ مُّقْتَحِمٌ مَّعَكُمْ١ۚ لَا مَرْحَبًۢا بِهِمْ١ؕ اِنَّهُمْ صَالُوا النَّارِ Open ayah 38:59 in the Quran reader

یہ ایک فوج ہے جو تمہارے ساتھ داخل ہوگی ان کو خوشی نہ ہو یہ دوزخ میں جانے والے ہیں

قَالُوْا بَلْ اَنْتُمْ١۫ لَا مَرْحَبًۢا بِكُمْ١ؕ اَنْتُمْ قَدَّمْتُمُوْهُ لَنَا١ۚ فَبِئْسَ الْقَرَارُ Open ayah 38:60 in the Quran reader

کہیں گے کہ بلکہ تم ہی کو خوشی نہ ہو تم ہی یہ (بلا) ہمارے سامنے لائے سو (یہ) برا ٹھکانا ہے

قَالُوْا رَبَّنَا مَنْ قَدَّمَ لَنَا هٰذَا فَزِدْهُ عَذَابًا ضِعْفًا فِی النَّارِ Open ayah 38:61 in the Quran reader

وہ کہیں گے اے پروردگار جو اس کو ہمارے سامنے لایا ہے اس کو دوزخ میں دونا عذاب دے

وَ قَالُوْا مَا لَنَا لَا نَرٰى رِجَالًا كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِّنَ الْاَشْرَارِؕ Open ayah 38:62 in the Quran reader

اور کہیں گے کیا سبب ہے کہ (یہاں) ہم ان شخصوں کو نہیں دیکھتے جن کو بروں میں شمار کرتے تھے

اَتَّخَذْنٰهُمْ سِخْرِیًّا اَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الْاَبْصَارُ Open ayah 38:63 in the Quran reader

کیا ہم نے ان سے ٹھٹھا کیا ہے یا (ہماری) آنکھیں ان (کی طرف) سے پھر گئی ہیں ؟

اِنَّ ذٰلِكَ لَحَقٌّ تَخَاصُمُ اَهْلِ النَّارِ۠ Open ayah 38:64 in the Quran reader

بیشک یہ اہل دوزخ کا جھگڑنا برحق ہے

قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا مُنْذِرٌ١ۖۗ وَّ مَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّا اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُۚ Open ayah 38:65 in the Quran reader

کہہ دو کہ میں تو صرف ہدایت کرنے والا ہوں اور خدائے یکتا اور غالب کے سوا کوئی معبود نہیں

رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا الْعَزِیْزُ الْغَفَّارُ Open ayah 38:66 in the Quran reader

جو آسمانوں اور زمین اور جو مخلوق ان میں ہے سب کا مالک ہے غالب (اور) بخشنے والا

قُلْ هُوَ نَبَؤٌا عَظِیْمٌۙ Open ayah 38:67 in the Quran reader

کہہ دو کہ یہ ایک بڑی (ہولناک چیز کی) خبر ہے

اَنْتُمْ عَنْهُ مُعْرِضُوْنَ Open ayah 38:68 in the Quran reader

جس کو تم دھیان میں نہیں لاتے

مَا كَانَ لِیَ مِنْ عِلْمٍۭ بِالْمَلَاِ الْاَعْلٰۤى اِذْ یَخْتَصِمُوْنَ Open ayah 38:69 in the Quran reader

مجھ کو اوپر کی مجلس (والوں) کا جب وہ جھگڑتے تھے کچھ بھی علم نہ تھا

اِنْ یُّوْحٰۤى اِلَیَّ اِلَّاۤ اَنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 38:70 in the Quran reader

میری طرف تو یہی وحی جاتی ہے کہ میں کھلم کھلا ہدایت کرنے والا ہوں

اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اِنِّیْ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنْ طِیْنٍ Open ayah 38:71 in the Quran reader

جب تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے کہا کہ مٹی سے انسان بنانے والا ہوں

فَاِذَا سَوَّیْتُهٗ وَ نَفَخْتُ فِیْهِ مِنْ رُّوْحِیْ فَقَعُوْا لَهٗ سٰجِدِیْنَ Open ayah 38:72 in the Quran reader

جب اس کو درست کرلوں اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو اس کے آگے سجدے میں گرپڑنا

فَسَجَدَ الْمَلٰٓئِكَةُ كُلُّهُمْ اَجْمَعُوْنَۙ Open ayah 38:73 in the Quran reader

تو تمام فرشتوں نے سجدہ کیا

آیت 55 (ھذ) ” یہ “ جزا جس کا ہم نے وصف بیان کیا ہے اہل تقوٰی کے لیے ہے۔ (وان للطغین) یعنی کفر و معاصی میں حد سے بڑھے ہوئے لوگوں کے لیے (لشر ماٰب) بدترین ٹھکانا اور لوٹنے کی جگہ ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا : (جھنم) ” جہنم ہے “ جس میں ہر قسم کا عذاب جمع کردیا گیا ہے ‘ جس کی حرارت بہت شدید اور اس کی ٹھنڈک انتہا کو پہنچی ہوئی ہوگی۔ (یصلونھا) جہاں ان کو عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔ یہ عذاب انھیں ہر طرف سے گھیر لے گا ان کے نیچے بھی آگ ہوگی اور اوپر سے بھی آگ برے گی۔ (فبئس المھاد) بدترین مسکن اور ٹھکانا ہوگا جو ان کے لیے تیار کیا گیا ہوگا۔ (ھذا) یہ بدترین ٹھکانا ‘ یہ سخت عذاب ‘ یہ فضیحت ور سوائی اور یہ سزا (فلیذوقوہ حمیم) پس اسے چکھو ‘ کھولتا ہوا پانی ہوگا، جو سخت گرم ہوگا جسے جہنمی پئیں گے جو ان کی انتڑیوں کو کاٹ ڈالے گا۔ (وغساق) یہ بدترین پینے کی چیز ہوگی جو پیپ اور خون پر مشتمل ہوگی جو بہت کڑوی اور انتہائی بدبودار ہوگی۔ (واخر من شکلۃ) یعنی اس کی ایک اور قسم (اذواج) یعنی عذاب کی متعدد انواع و اقسام ہوں گی جن میں ان کو مبتلا کیا جائے گا اور اس عذاب کے ذریعے سی ان کو رسوا کیا جائے گا۔ جب وہ جہنم میں داخل ہوں گے تو ایک دوسرے کو سب و شتم کرتے ہوئے کہیں گے : (ہذا فوج مقھم معکم) ” یہ ایک فوج ہے جو تمہارے ساتھ گھسی چلی ارہی ہے “ آگ میں (لامرحبا بھم انھم صالو النار) ” ان کے لئے کوئی خیر مقدم نہیں ہے۔ بیشک یہ دوزخ میں جانے والے ہیں “۔ (قالوا) وہ گھسے چلے آنے والے لوگ کہیں گے : (بل انتم لامرحبایکم انتم قدمموہ) ” بلکہ تم ہی ہو، تمہارا خیر مقدم نہ ہو، تم ہی تو لائے تھے اسے “ یعنی عذاب کو (لنا) ” ہمارے پاس “ کیونکہ تم نے ہمیں دعوت دی، ہمیں فتنے میں مبتلا کرکے گمراہ کیا اور تم ہی ہمارے لئے اس عذاب کا سبب بنے ہو۔ (فبئس القرار) اب ہم سب کے لئے یہ بدترین ٹھکانا ہے۔ پھر وہ ان گمراہ کنندہ لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے درخواست کریں گے اور (قالوا ربنا من قدم لنا ہذا فردہ عذابا ضعفا فی النار) ” کہیں گے : اے ہمارے رب ! جو اس کو ہمارے سامنے لایا ہے، اسے دوزخ میں دگنا عذاب دینا “ ایک دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (قال لکل ضعف ولکن لاتعلمون) (الاعراف : 8/73) ”(آس وقت) اللہ فرمائے گا : سب کے لئے دگنا عذاب ہے، مگر تم جانتے نہیں “۔ (وقالوا) اور وہ جہنم کے اندر کہین گے (مالنا لانری رجالاً کنانعد ھم من الاشرار) یعنی ہمیں خیا ہوگیا ہے، جن کے بارے میں ہم سمجھتے تھے کہ یہ برے لوگ ہیں اور جہنم کے عذاب کے مستحق ہیں وہ آج ہمیں نظر نہیں آرہے ؟ مراد اہل ایمان ہیں، جہنمی ان کو جہنم میں تلاش کریں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے، کیا وہ ان کو جہنم میں نظر آئیں گے ؟ اتخذنھم سخریا ام زاغت عنھم الابصار) ” کیا ہم نے ان سے مذاق کیا تھا یا ہماری آنکھیں پھر گئی ہیں “۔ یعنی ان کا ہمیں نظر نہ آنا دواسباب میں سے ایک سبب پر مبنی ہے یا تو ہم ان کو اشرارشمار کرنے میں غلطی پر تھے، حالانکہ وہ اچھے لوگ تھے۔ تب ان کے بارے میں ہماری باتیں تمسخر و استہزا کے زمرے میں آئیں گی۔ حقیقت فی الواقع یہی ہے، جیسا کہ جہنمیوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (انہ کان فریق من عبادی یقولون ربنا امنا فاغفرلنا ارحمنا و انت خیر الرحمین۔ فاتخذ تمھم سخریا حتی انسوکم ذکری و کنتھم منھم تضحکون) (المومنون : 32/901۔ 011) ” بیشک میرے بندوں میں سے کچھ لوگ جب یہ کہتے : اے ہمارے رب ! ہم ایمان لے آئے، لہٰذا ہمیں بخش دے، ہم پر رحم فرما اور تو سب سے اچھا رحم فرمانے والا ہے، تو تم نے ان کا تمسخر اڑایا اور انہیں نشانہء تضحیک بنایا کرتے تھے “۔ دوسری بات یہ بھی ہوسکتی ہے کہ شاید وہ ہمارے ساتھ عذاب میں مبتلا ہوں مگر وہ ہماری نظروں سے اوجھل رہ گئے ہوں۔ ایک احتمال یہ ہے کہ ان کا اہل ایمان کے بارے میں یہ موقف، دنیا میں ان کے دلوں میں جڑ پکڑ کر عقائد میں ڈھل گیا تھا، انہوں نے اہل ایمان کے بارے میں نہایت کثرت سے جہنمی ہونے کا حکم لگایا، وہ ان کے دلوں میں بیٹھ گیا تھا اور ان کے دل اسی رنگ میں رنگے گئے تھے۔ اسی حال میں انہوں نے متذکرہ بالا الفاظ کہے۔ یہ احتمال بھی ہوسکتا ہے کہ ان کا کلام، خلاف واقعہ اور ملمع سازی کے زمرے میں آتا ہے، جیسا کہ وہ دنیا میں ملمع سازی کیا کرتے تھے، حتی کہ انہوں نے جہنم میں بھی ملمع سازی کی، اسی لئے اہل اعراف اہل جہنم سے کہیں گے {{: (اھولاء الذین اقستم لا ینا لھم اللہ برحمتہ ادخلو الجنۃ لاخوف علیکم و الاانتھم تحزنون) (الاعراف : 8/93) ” کیا یہ وہی لوگ نہیں جن کے بارے میں تم لوگ قسمیں کھا کھا کر کہا کرتے تھے کہ اللہ ان کو اپنی رحا 8 ت سے بہرہ مند نہیں کرے گا۔ (ان کو یوں حکم ہوگا کہ) تم جنت میں داخل ہوجاؤ، تم پر کوئی خوف ہے نہ تم غمگین ہو گے “۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی دی ہوئی خبر کی تاکید کے طور پر فرمایا اور وہ سب سے زیادہ سچ کہنے والا ہے۔ (ان ذلک) ” بیشک یہ “ جس کا میں نے تمہارے سامنے ذکر کیا ہے (لحق) ” حق ہے “ اور اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ یہ (تخاصم اہل النار) ” اہل جہنم کا ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑا اور تنازعہ ہے “۔