36. Surah Yaseen

يسYaseen · 83 ayahsتفسیرِ سعدی

Ayahs 36:41–51

وَ اٰیَةٌ لَّهُمْ اَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّیَّتَهُمْ فِی الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ Open ayah 36:41 in the Quran reader

اور ایک نشانی ان کے لئے یہ ہے کہ ہم نے ان کی اولاد کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کیا

وَ خَلَقْنَا لَهُمْ مِّنْ مِّثْلِهٖ مَا یَرْكَبُوْنَ Open ayah 36:42 in the Quran reader

اور ان کے کے لئے ویسی ہی اور چیزیں پیدا کیں جن پر وہ سوار ہوتے ہیں

وَ اِنْ نَّشَاْ نُغْرِقْهُمْ فَلَا صَرِیْخَ لَهُمْ وَ لَا هُمْ یُنْقَذُوْنَۙ Open ayah 36:43 in the Quran reader

اور ہم اگر چاہیں تو ان کو غرق کردیں پھر نہ تو ان کا کوئی فریاد رس ہو اور نہ ان کو رہائی ملے

اِلَّا رَحْمَةً مِّنَّا وَ مَتَاعًا اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 36:44 in the Quran reader

مگر یہ ہماری رحمت اور ایک مدت تک کے فائدے ہیں

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اتَّقُوْا مَا بَیْنَ اَیْدِیْكُمْ وَ مَا خَلْفَكُمْ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 36:45 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو تمہارے آگے اور جو تمہارے پیچھے ہے اس سو ڈرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے

وَ مَا تَاْتِیْهِمْ مِّنْ اٰیَةٍ مِّنْ اٰیٰتِ رَبِّهِمْ اِلَّا كَانُوْا عَنْهَا مُعْرِضِیْنَ Open ayah 36:46 in the Quran reader

اور ان کے پاس ان کے پروردگار کی طرف سے کوئی نشانی نہیں آئی مگر اس سے منہ پھیر لیتے ہیں

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ١ۙ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنُطْعِمُ مَنْ لَّوْ یَشَآءُ اللّٰهُ اَطْعَمَهٗۤ١ۖۗ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 36:47 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو رزق تم کو خدا نے دیا ہے اس میں سے خرچ کرو تو کافر مومنوں سے کہتے ہیں کہ بھلا ہم ان لوگوں کو کھانا کھلائیں جن کو اگر خدا چاہتا تو خود کھلا دیتا تم تو صریح غلطی میں ہو

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 36:48 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ اگر تم سچ کہتے ہو تو یہ وعدہ کب (پورا) ہوگا ؟

مَا یَنْظُرُوْنَ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً تَاْخُذُهُمْ وَ هُمْ یَخِصِّمُوْنَ Open ayah 36:49 in the Quran reader

یہ تو ایک چنگھاڑ کے منتظر ہیں جو ان کو اس حال میں کہ باہم جھگڑتے ہوں گے آپکڑے گی

فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ تَوْصِیَةً وَّ لَاۤ اِلٰۤى اَهْلِهِمْ یَرْجِعُوْنَ۠ Open ayah 36:50 in the Quran reader

پھر نہ تو وصیت کرسکیں گے اور نہ اپنے گھر والوں کے پاس واپس جاسکیں گے

وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَاِذَا هُمْ مِّنَ الْاَجْدَاثِ اِلٰى رَبِّهِمْ یَنْسِلُوْنَ Open ayah 36:51 in the Quran reader

اور (جس وقت) صور پھونکا جائے گا یہ قبروں سے (نکل کر) اپنے پروردگار کی طرف دوڑ پڑیں گے

آیت 41 نیز یہ امر کی دلل ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا معبود برحق ہے کیونکہ وہی اکیلا نعمتیں عطا کرتا ہے اور مصائب و شدائد کو دور کرتا ہے اور اس کی جملہ نعمتوں میں ایک نعمت یہ ہے کہ (انا حملنا ذریتھم) ” ہم نے ان کی اولاد کو سوار کیا۔ “ بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ اس سے مراد ان کے آباء و اجداد ہیں (وخلقنا لھم) ” اور ہم نے ان کے لئے پیدا کیں۔ “ یعنی موجود اور آنے والے لوگوں کے لئے (من مثلہ) ” ویسی ہی “ اس کشتی جیسی یعنی اس کی جنس میں سے (مایرکبون) ” جس پر یہ سواری کرتے ہیں۔ “ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے آباؤ اجداد پر اپنی نعمت کا ذکر فرمایا کہ اس نے ان کو کشتی میں سوار کرایا۔ ان پر نعمت کا فیضان گویا اولاد پر نعمت کا فیضان ہے۔ تفسیر کے اعتبار سے یہ مقام میرے لئے مشکل ترین مقام ہے کیونکہ بہت سے مفسرین نے اس رائے کا اظہار کیا ہے کہ یہاں ” ذریت “ سے مراد آباؤ اجداد ہیں، مگر قرآن کریم میں ذریت کا آباؤ اجداد پر اطلاق کہیں نہیں آتا، بلکہ یہ مفہوم لینے میں ابہام اور کلام کو اس کے موضوع سے ہٹانا ہے جس کا رب العالمین کا کلام انکار کرتا ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ کا ارادہ اپنے بندوں کے سامنے ایضاح وبیان ہے۔ یہاں ایک اور احتمال بھی ہے جو اس سے بہتر ہے اور یہ ہے کہ یہاں ” ذریت “ سے مراد جنس ہے یعنی اس سے مراد وہ خود ہیں، کیونکہ وہی آدم کی ذریت ہیں، مگر یہ معنی اللہ تعالیٰ کے اس قول کے متناقض ہیں۔ (وخلقنا لھم من مثلہ ما یرکبون) ” اور ان کے لئے اسی جیسی اور چیزیں پیدا کیں جن پر یہ سوار ہوجاتے ہیں۔ ‘ اگر اس سے مراد یہ ہو کہ ہم نے اس کشتی جیسی کشتی تخلیق کی، یعنی ان مخاطیبین کے لئے جو مختلف انواع کی کشتیوں پر سوار ہوتے ہیں۔۔۔ تو یہ معنی کا تکرار ہے، قرآن کریم کی فصاحت اس سے انکار کرتی ہے اور اگر اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد (وخلقنا لھم من مثلہ مایرکبون) سے اونٹ مراد لئے جائیں جو صحرا کے جہاز ہیں تو معنی نہایت درست اور واضح ہیں۔۔۔ البتہ اس معنی کے مطابق بھی کلام میں تشویش باقی رہ جاتی ہے، کیونکہ اگر یہ معنی مراد ہوتے تو اللہ یوں ارشاد فرماتا ہے : (آیت) ” اور ان کے لئے نشانی ہے کہ ہم نے انہیں بھری ہوئی کشتی میں سوار کیا اور ان کے لئے اسی جیسی دوسری چیزیں پیدا کیں جن پر وہ سوار ہوتے ہیں۔ “ رہا پہلی آیت کریمہ میں یہ فرمانا کہ ہم نے ان کی اولاد کو سوار کیا اور دوسری آیت کریمہ میں یہ فرمانا کہ ہم نے انہیں سوار کیا، تو اس سے معنی واضح نہیں ہوتے۔ سوائے اس کے یہ کہا جائے کہ ضمیر (ذریۃ) کی طرف لوٹتی ہو اور حقیقت حال کو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔ جب میں یہاں تک لکھ چکا تو مجھ پر ایک مطلب ظاہر ہوا جو اللہ تعالیٰ کی مراد سے بعید نہیں، جو کوئی کتاب اللہ کے جلال اور ہر لحاظ سے حال، ماضی اور مستقبل کے امور کے لئے اس کے بیان کامل کی معرفت رکھتا ہے، نیز وہ یہ بھی جانتا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ وہ معنی ذکر کرتا ہے جو اپنے احوال میں کامل ترین معنی ہوں۔ کشتی اللہ تعالیٰ کی ایک نشانی اور اس کے بندوں کے لئے اس کی نعمت ہے۔ جب سے اللہ تعالیٰ نے بندوں کو کشتی کی نعمت اور اس کی تعلیم سے نوازا ہے اس وقت سے لے کر روز قیامت اور قرآن کے مخاطبین کے زمانے تک، ہر زمانے میں شکتی موجود رہی ہے۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے انسانوں کو قرآن کے ذریعے سے مخاطب کیا اور کشتی کا حال بیان کیا تو اس وقت اللہ تعالیٰ کو علم تھا کہ ان مخاطبین کے زمانے کے بعد ایسی ایسی کشتیاں ایجاد ہوں گی جو اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیاں ہوں گی اور اللہ تعالیٰ ان کو بحری، بادبانی اور بھاپ سے چلنے والی، فضا میں پرندوں کے مانند تیرنے والی کشتیوں اور خشکی پر چنلے والی سواریوں کی صنعت کی تعلیم دے گا اور یہ عظیم نشانی صرف ان کی ذریت کے زمانے ہی میں پائی جائے گی۔ اللہ تعالیٰ نے کتاب کریم میں پانی نشانیوں کی تمام انواع میں سے اعلی ترین نشانی کی طرف اشارہ کیا ہے، چناچہ فرمایا : (وایۃ لھم انا حملنا ذریتھم فی الفلک المشحون) ” اور ان کے لئے ایک نشانی یہ ہے کہ ہم نے ان کی اولاد کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کیا۔ “ یعنی سواریوں اور سامان سے بھری ہوئی۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو ان سواریوں پر سوار کرایا اور ان اسباب کے ذریعے سے ان کو ڈوبنے سے بچایا جو اس نے انہیں سکھائے تھے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمت کی طرف توجہ دلائی کہ اس نے ان کو غرق کرنے کی قدرت کر ھنے کے باوجود ڈوبنے سے بچایا، چناچہ فرمایا : (وان نشانغرقھم فلا صریح لھم) ” اور اگر ہم چاہیں تو انہیں غرق کردیں پھر ان کا کو ئفریاد درس نہ ہو۔ “ یعنی کوئی ہستی ایسی نہیں جو اس مصیبت میں چیخ و پکار سن کر ان کی مدد کرسکے اور ان کی مصیبت کو دور کر کسے۔ (ولا ھم ینقذون) ” اور نہ وہ کسی طرح بچائے جاسکیں گے “ اس مصیبت سے جس میں وہ مبتلا ہیں (الا رحمۃ منا ومتاعاً الی حین) ” مگر یہ ہماری رحمت اور ایک مدت تک کے فائدے ہیں۔ “ یعنی ہم نے ان پر لطف و کرم کرنے اور ایک مدت تک ان کو متمتع کرنے کی بنا پر ان کو ڈبویا نہیں، شاید ! وہ ہماری طرف رجوع کریں یا اپنی کوتاہیوں کی تلافی کریں۔ (آیت) ” اور جب ان سے کہ کا گیا کہ جو تمہارے پیچھے ہے اور جو تمہارے آگے ہے اس سے ڈرو “ یعنی برزخ اور قیامت کے احوال اور دنیاوی سزاؤں سے اپنا بچاؤ کرو (لعلکم ترحمون) ” شاید ! تم پر رحم کیا جائے۔ “ تو انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم سے روگردانی کی اگرچہ ان کے پاس ہر قسم کی نشانی آئی، مگر انہوں نے اس کی کوئی پروانہ کی۔ اس لئے فرمایا : (آیت) ”” ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے جو بھی نشانی آتی یہ اس سے منہ پھیر لیتے ہیں۔ “ آیات کی، ان کے رب کی طرف اضافت ان آیات کے کامل اور واضح ہونے کی دلیل ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی آیات سے زیادہ کوئی چیز واضح نہیں۔ اپنے بندوں کے لئے اللہ تعالیٰ کی جملہ تربیت میں سے ایک چیز یہ ہے کہ اس نے اپنی آیات اپنے بندوں تک پہنچائیں جن کے ذریعے سے وہ ان امور میں رہنمائی حاصل کرتے ہیں جو ان کے لئے دین و دنیا میں فائدہ مند ہیں۔ (واذا قیل لھم انفقوا مما رزقکم اللہ) ” اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے میں سے کچھ دو “ یعنی اس رزق سے خرچ کرو جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے تم پر احسان کیا ہے، اگر وہ چاہتا تو وہ اسے تم سے طلب کرلیتا (قال الذین کفروا للذین امنوا) ” کافروں نے مومنوں سے کہا “ یعنی کفار نے حق کی مخالفت اور مشیت کو حجت بناتے ہوئے کہا : (آیت) ” اے مومنو ! ) کیا ہم ان لوگوں کو کھانا کھلائیں، جن کو اگر اللہ کھلانا چاہتا تو کھلا دیتا۔ نہیں ہو تم “ (الا فی ضلل مبین) ” مگر کھلی گمراہی میں “ کیونکہ تم ہمیں اس بات کا حکم دے رہے ہو۔ ان کا یہ قول ان کی جہالت یا تجاہل پر دلالت کرتا ہے، کیونکہ مشیت الٰہی کسی نافرمان کی نافرمانی کے لئے ہرگز دلیل نہیں۔ ہرچند کہ اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے وہی ہوتا ہے اور جو نہیں چاہتا وہ نہیں ہوسکتا، تاہم اس نے اپنے بندوں کو اختیار عطا کیا ہے اور انہیں قوت سے نوازا ہے جس کے ذریعے سے وہ اوامر کی تعمیل اور نواہی سے اجتناب کرسکتے ہیں۔ اگر وہ کسی ایسی چیز کو ترک کرتے ہیں جس کی تعمیل کا انہیں حکم دیا گیا ہے تو وہ اپنے اختیار سے ترک کرتے ہیں اور ان پر کوئی جبر نہیں ہوتا۔ (ویقولون) ” وہ تکذیب کرتے اور عذاب کے لئے جلدی مچاتے ہوئے کہتے ہیں (آیت) ” یہ وعدہ کب پورا ہوگا اگر تم سچے ہو۔ “ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ قیامت کو دور نہ سمجھیں، وہ بہت قریب ہے۔ (ماینظرون الال صیحۃ واحدۃ) ” وہ صرف ایک سخت چیخ کا انتظار کر رہے ہیں “ اور وہ صور پھونکنے کی آواز ہوگی (تاخذھم) یعنی صور کی چنگھاڑا نہیں آ لے گی (وھم یخصمون) ” جبکہ وہ جھگڑ رہے ہوں گے۔ “ اور وہ اس آواز کے بارے میں غافل ہوں گے۔ ان کے آپس میں جھگڑے کی حالت میں، جو کہ اکثر غفلت کے وقت ہوتا ہے، ان کے دل میں اس کے بارے میں خیال بھی نہ گزرا ہوگا۔ جب وہ چنگھاڑ ان کی غفلت کے وقت ان کو آلے گی تو اس وقت ان کو کوئی مہلت نہ دی جائے گی (فلا یستطیعون توضیۃ) وہ تھوڑی یا زیادہ کسی قسم کی وصیت نہ کرسکیں۔ (ولا الی اھلھم یرجعکن) ” اور نہ وہ اپنے گھروں کو لوٹ ہی سکیں گے۔ “
Ayahs 36:52–54

قَالُوْا یٰوَیْلَنَا مَنْۢ بَعَثَنَا مِنْ مَّرْقَدِنَا١ؐٚۘ هٰذَا مَا وَعَدَ الرَّحْمٰنُ وَ صَدَقَ الْمُرْسَلُوْنَ Open ayah 36:52 in the Quran reader

کہیں گے اے ہے ہمیں ہماری خواب گاہوں سے کس نے (جگا) اٹھایا ؟ یہ تو وہی ہے جس کا خدا نے وعدہ کیا تھا اور پیغمبروں نے سچ کہا تھا

اِنْ كَانَتْ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً فَاِذَا هُمْ جَمِیْعٌ لَّدَیْنَا مُحْضَرُوْنَ Open ayah 36:53 in the Quran reader

صرف ایک زور کی آواز کا ہونا ہوگا کہ سب کے سب ہمارے روبرو آحاضر ہوں گے

فَالْیَوْمَ لَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْئًا وَّ لَا تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 36:54 in the Quran reader

اس روز کسی شخص پر کچھ بھی ظلم نہیں کیا جائے گا اور تم کو بدلا ویسا ہی ملے گا جیسے تم کام کرتے تھے

آیت 51 صور کی پہلی آواز گھبراہٹ اور موت کی آواز ہوگی اور یہ دوسری آواز مردوں کے زندہ ہونے اور اٹھنے کے لئے ہوگی۔ جب دوبارہ صور پھونکا جائے گا توہ اپنی قبروں سے نکل کر جلدی سے اپنے رب کے حضور حاضر ہوں گے اور وہ کسی قسم کی تاخیر اور دیر نہ کرسکیں گے۔ اس حال میں، رسولوں کی تکذیب کرنے والے بہت غم زدہ ہوں گے۔ وہ حسرت اور ندامت کا اظہار کرتے ہوئے کہیں گے : (یویلنا من بعثنا من مرقدنا) ” ہائے افسوس ! ہمیں ہماری خواب گاہوں سے کس نے اٹھایا ؟ “ یعنی ہمیں ہمارے قبروں میں نیند سے کس نے اٹھایا ؟ بعض احادیث میں وارد ہے کہ اہل قبور صور پھونکے جانے سے تھوڑی دیر پہلے تک سو رہے ہوں گے۔ ان کو جواب دیا جائے گا : (ھذا ما وعد الرحمٰن و صدق المرسلون) یعنی یہی وہ قیامت ہے جس کا تمہارے ساتھ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں نے وعدہ کیا تھا۔ تمہاری آنکھوں کے سامنے ان کی داقت ظاہر ہوگئی۔ اس مقام پر آپ یہ خیال نہ کریں کہ اللہ تعالیٰ کی صفت ” رحمٰن “ کا ذکر محض اس کے وعدے کی خبر کے لئے کیا گیا ہے۔ اس کا ذکر تو صرف اس بات سے آگاہ کرنے کے لئے کیا گیا ہے کہ وہ اس روز اللہ تعالیٰ کی رحمت کے ایسے مظاہر دیکھیں گے جو کبھی ان کے خیال میں بھی نہ گزرے ہوں گے اور حساب لگانے والوں نے بھی حساب نہ لگایا ہوگا، مثلاً فرمایا : (آیت) ” اس دن حقیقی اقتدار صرف رحمٰن کا ہوگا “ اور فرمایا : (آیت) ” اور رحمٰن کے آگے آوازیں دب جائیں گی۔ “ اور اسطرح کے دیگر مقامات جہاں اللہ تعالیٰ نے اپنے صفاتی نام ” رحمٰن “ کا ذکر فرمایا ہے۔ (ان کانت) ” نہیں ہوگا “ اہل قبور کا اپنی قبروں سے اٹھنا (الا صیحۃ واحدۃ) ” مگر ایک ہی زور کی چنگھاڑ “ اسرافیل صور پھونکیں گے اور تمام مردے جی اٹھیں گے (فاذا ھم جمیع لدینا محضرون) اولین و آخرین اور جن و انس سب ہمارے سامنے حاضر کئے جائیں گے تاہ ان کے اعمال کا حساب لیا جائے۔ (فالیوم لاتظلم نفس شیآء) ” پس اس روز کسی شخص پر کچھ بھی ظلم نہیں کیا جائے گا۔ “ یعنی ان کی نیکیوں میں کوئی کمی کی جائے گی نہ ان کی برئایوں میں اضافہ (ولا تجزون الا ماکنتم تعملون) یعنی جس خیر و شر کا تم ارتکاب کرو گے صرف اسی کی تمہیں جزا اور سزا ملے گی۔ پس جس نے بھلائی پائی وہ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرے جسے اس کے علاوہ کچھ اور ملا تو اسے صرف اپنے آپ کو ملامت کرنی چاہیے۔
Ayahs 36:55–58

اِنَّ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ الْیَوْمَ فِیْ شُغُلٍ فٰكِهُوْنَۚ Open ayah 36:55 in the Quran reader

اہل جنت اس روز عیش و نشاط کے مشغلے میں ہوں گے

هُمْ وَ اَزْوَاجُهُمْ فِیْ ظِلٰلٍ عَلَى الْاَرَآئِكِ مُتَّكِئُوْنَ Open ayah 36:56 in the Quran reader

وہ بھی اور ان کی بیویاں بھی سایوں میں تختوں پر تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے

لَهُمْ فِیْهَا فَاكِهَةٌ وَّ لَهُمْ مَّا یَدَّعُوْنَۚۖ Open ayah 36:57 in the Quran reader

وہاں ان کے لئے میوے اور جو چاہیں گے (موجود ہوگا )

سَلٰمٌ١۫ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِیْمٍ Open ayah 36:58 in the Quran reader

پروردگار مہربان کی طرف سے سلام (کہا جائے گا )

آیت 55 جب اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرما دیا کہ ہر شخص کو صرف اس کے اعملا کی جزا ملے گی تو دونوں ریقوں کی جزا اور سزا کا ذکر بھی کیا۔ پہلے اہل جنت کی جزا کا ذکر کرتے ہوئے آگاہ فرمایا کہ اہل جنت اس روز (فی شغل فکھون) ” لطف اٹھانے میں مشغول ہوں گے “ یعنی ایسے مشاغل میں مشغول ہوں گے جن سے نفس کو لطف اور لذت محسوس ہوگی، ہر ایسی چیز میں مشغول ہوں گے جو نفس چاہیں گے، آنکھیں جس سے لذت حاصل کریں گی اور تمنا کرنے والے تمنا کریں گے۔ ان نعمتوں میں خوبصورت دو شیزاؤں سے ملاقات شامل ہے، جیسا کہ فرمایا : (آیت) ” وہ اور ان کی بیویاں “ خوبصورت آنکھوں والی جو خوبصورت چہروں اور خوبصورت بدنوں والی ہونے کے ساتھ ساتھ خوب سیرت بھی ہوں گی (آیت) ” سایوں میں مسہریوں پہ ہوں گے “ یعنی وہ ایسی مسندوں پر بیٹھیں گے جو خوبصورت لباس سے مزین ہوں گی۔ (متکون) مسند پر تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے ان کا تکیہ لگانا، کمال راحت، طمانیت اور لذت پر دلالت کرتا ہے۔ (لھم فیھا فاکھۃ) اس میں ان کے لئے تمام قسم کے لذیذ پھل اور میوے بکثرت ہوں گے، مثلا انگور، انجیر اور انار وغیرہ (ولھم ما یدعون) یعنی جو کچھ بھی وہ طلب کریں گے اور تمنا کریں گے، پالیں گے۔ نیز ان کو (سلم) ” سلام “ حاصل ہوگا ” من رب رحیم “” مہربان رب کی طرف سے۔ “ اس آیت کریمہ میں دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل جنت کے ساتھ کلام فرمائے گا اور ان پر اس کا سلام ہوگا اور اللہ نے اسے اپنے ارشاد (قولاً ) کے ذریعے سے مؤکد کیا اور جب رب رحیم کی طرف سے ان کو سلام بھیجا جائے گا تو انہیں ہر لحاظ سے مکمل سلامتی حاصل ہوگی۔ انہیں سلام ہا جائے گا جس سے بڑھ کر کوئی سلام نہیں اور اس جیسی کوئی نعمت نہیں۔ آپ کا کیا خیال ہے بادشاہوں کے بادشاہ، رب عظیم اور رؤف و رحیم کی طرف سے اکرام و تکریم کے گھر میں رہنے والے ان لوگوں کو بھیجا گیا سلام کیسا ہوگا، جن پر اس کی رضا سایہ کناں اور جن سے ناراضی ہمیشہ کے لئے دور ہے ؟ اگر اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے موت مقدر کی ہوتی یا فرحت و سرور کی وجہ سے حرکت قلب کا بند ہوجانا مقرر کیا ہوتا تو وہ خوشی سے ضرور مرجاتے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ ہمارا رب ہمیں ان نعمتوں سے محروم نہیں کرے گا اور ہمیں اپنے چہرہ اقدس کا دیدار کرائے گا۔
Ayahs 36:59–67

وَ امْتَازُوا الْیَوْمَ اَیُّهَا الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 36:59 in the Quran reader

اور گنہگارو آج الگ ہوجاؤ

اَلَمْ اَعْهَدْ اِلَیْكُمْ یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ اَنْ لَّا تَعْبُدُوا الشَّیْطٰنَ١ۚ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 36:60 in the Quran reader

اے آدم کی اولاد ہم نے تم کو کہہ نہیں دیا تھا کہ شیطان کو نہ پوجنا وہ تمہارا کھلا دشمن ہے

وَّ اَنِ اعْبُدُوْنِیْ١ؔؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ Open ayah 36:61 in the Quran reader

اور یہ کہ میری ہی عبادت کرنا یہی سیدھا راستہ ہے

وَ لَقَدْ اَضَلَّ مِنْكُمْ جِبِلًّا كَثِیْرًا١ؕ اَفَلَمْ تَكُوْنُوْا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 36:62 in the Quran reader

اور اس نے تم میں بہت سی خلقت کو گمراہ کردیا تھا تو کیا تم سمجھتے نہیں تھے ؟

هٰذِهٖ جَهَنَّمُ الَّتِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ Open ayah 36:63 in the Quran reader

یہی وہ جہنم ہے جس کی تمہیں خبر دی جاتی ہے

اِصْلَوْهَا الْیَوْمَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ Open ayah 36:64 in the Quran reader

(سو) جو تم کفر کرتے رہے اس کے بدلے آج اس میں داخل ہوجاؤ

اَلْیَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰۤى اَفْوَاهِهِمْ وَ تُكَلِّمُنَاۤ اَیْدِیْهِمْ وَ تَشْهَدُ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 36:65 in the Quran reader

آج ہم ان کے مونہوں پر مہر لگا دیں گے اور جو کچھ یہ کرتے رہے تھے ان کے ہاتھ ہم سے بیان کردیں گے اور ان کے پاؤں (اس کی) گواہی دیں گے

وَ لَوْ نَشَآءُ لَطَمَسْنَا عَلٰۤى اَعْیُنِهِمْ فَاسْتَبَقُوا الصِّرَاطَ فَاَنّٰى یُبْصِرُوْنَ Open ayah 36:66 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہیں تو ان کی آنکھوں کو مٹا کر (اندھا کر) دیں پھر یہ راستے کو دوڑیں تو کہاں دیکھ سکیں گے

وَ لَوْ نَشَآءُ لَمَسَخْنٰهُمْ عَلٰى مَكَانَتِهِمْ فَمَا اسْتَطَاعُوْا مُضِیًّا وَّ لَا یَرْجِعُوْنَ۠ Open ayah 36:67 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہیں تو ان کی جگہ پر ان کی صورتیں بدل دیں پھر وہاں سے نہ آگے جاسکیں اور نہ (پیچھے) لوٹ سکیں

آیت 59 اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل تقویٰ کی جزا کا ذکر کرنے کے بعد مجرموں کی سزا بیان کی ہے۔ (و) ” اور “ ان کو قیامت کے ورز کہا جائے گا : (امتا زوا الیوم ایھا المجرمون) اے مجرمو ! تم الہ ایمان سے الگ ہوجاؤ۔ یہ حکم اس لئے ہوگا تاکہ اللہ تعالیٰ انہیں جہنم میں داخل کرنے سے قبل برسر عام زجر و توبیخ کرے اور ان سے کہے : (الم اعھد الیکم) یعنی کیا میں نے اپنے رسولوں کے ذریعے سے تمہیں حکم نہیں دیا تھا اور تمہیں وصیت نہیں کی تھی اور تم سے یہ نہیں کہا تھا : (آیت) ” اے آدم کی اولاد ! شیطان کی عبادت نہ کرنا۔ “ یعنی اس کی اطاعت نہ کرو، یہ زجر و توبیخ ہے اور اس میں ہر قسم کے کفر و معصیت پر زجر و توبیخ داخل ہے، کیونکہ کفر و معاصی کی تمام اقسام شیطان کی اطاعت اور اس کی عبادت کے زمرے میں آتی ہیں۔ (انہ لکم عدومبین) ” بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔ “ پس میں نے تمہیں اس سے انتہائی حد تک بچنے کی ہدایت کی، تمہیں اس کی اطاعت سے ڈرایا اور وہ تمہیں جس چیز کی دعوت دیتا ہے میں نے تمہیں اس سے خبردار کیا تھا۔ (و) ” اور “ میں نے تمہیں حکم دیا تھا : (ان اعبدونی) کہ میرے اوامر کی تعمیل کرتے اور میری نافرمانی سے بچتے ہوئے میری عبادت کرو (ھذا) یعنی میری عبادت، میری اطاعت اور شیطانی کی نافرمانی کرنا (صراط مستقیم) ” سیدھا راستہ ہے۔ “ پس صراط مستقیم کے علوم و اعمال انھی مذکورہ و امور کی طرف راجع ہیں۔ تم نے میرے عہد کی حفاظت کی نہ میری وصیت پر عمل کیا، بلکہ تم نے اپنے دشمن یعنی شیطان سے دوستی رکھی، لہٰذا (اضل منکم جبلاً کثیراً ) اس نے تم میں سے بہت زیادہ مخلوق کو گمراہ کیا (افلم تکونوا تعقلون) یعنی کیا تم میں عقل نہیں جو تمہیں تمہارے رب اور حقیقی سرپرست کے ساتھ موالات رکھنے کا حکم دے اور تمہیں تمہارے بدترین دشمن کو اپنا دوست اور سرپرست بنانے سے روکے۔ اگر تمہاری عقل صحیح ہوتی تو تم ہرگز ایسا نہ کرتے۔ اب جبکہ تم نے شیطا نیک اطاعت کی، رحمٰن کے ساتھ عداوت کی، اس کے ساتھ ملاقات کو جھٹلایا، قیامت یعنی دار جزا میں آوارد ہوئے اور تم عذاب کے مستحق ٹھہرے تو (ھذہ جھنم التی کنتم توعدون) ” یہ ہے وہ جہنم جس کا تم وعدہ دیے جاتے تھے “ اور تم جھٹلایا کرتے تھے۔ اب اس کو تم اپنی آنکھوں کے ساتھ دیکھو، یہاں دل دہل جائیں گے، آنکھیں پھرجائیں گی اور بہت بڑی گھبراہٹ کا وقت ہوگا۔ پھر اس کی تکمیل یوں ہوگی کہ انہیں جہنم میں ڈال دیئے جانے کا حکم ہوگا اور ان سے کہا جائے گا : (اصلوھا الیوم بما کنتم تکفرون) ” اپنے کفر کا بدلہ پانے کے لئے جہنم میں داخل ہوجاؤ۔ “ جہاں آگ تمہیں جلائے گی، آگ کی حرارت تمہیں گھیر لے گی، آیات الٰہی کے انکار اور اللہ تعالیٰ کے رسولوں تک تکذیب کے سبب سے آگ تمہارے جسم کے ہر حصے کو جلائے گی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے بدبختی کے اس گھر میں ان کے بدترین احوال کو بیان کرتے ہوئے فرمایا : (آیت) ” آج ہم ان کے مونہوں پر مہر لگا دیں گے۔ “ یعنی ہم ان کو گونگا بنادیں گے، پس وہ بول نہ سکیں گے، کفر اور تکذیب پر مبنی اپنے اعمال کا انکار کرنے پر قادر نہیں ہوں گے (آیت) ” اور جو کچھ یہ کرتے رہے تھے ان کے ہاتھ ہم سے بیان کردیں گے اور ان کے پاؤں گواہی دیں گے۔ “ یعنی ان کے اعضا ان کے خلاف ان کے اعمال کی گواہی دیں گے اور وہ ہستی انہیں قوت گویائی عطا کرے گی جس نے ہر چیز کو قوت گویائی عطا کی ہے (آیت) ” یعنی ہم اگر چاہیں تو ان کی بینائ سلب کرلیں جس طرح ہم نے ان کی گویائی سلب کرلی (فاستبقوا الصراط) یعنی سیدھے راستے کی طرف سبقت کرو، کیونکہ جنت تک پہنچنے کا صرف یہی راستہ ہے (فانی یبصرون) ” تو وہ کہاں سے دیکھ سکیں گے “ کیونکہ ان کی آنکھوں کی بینائی سلب کرلی گئی ہے۔ (ولو نشآء لمسخنھم علی مکانتھ) ” اور اگر ہم چاہیں تو ان کی جگہ پر ان کی صورتیں بدل دیں۔ “ یعنی ہم ان کی حرکت سلب کرلیں (فما استطاعوا مضیاً ) ” تو وہ چل پھر نہ سکیں “ یعنی آگ کی جانب (ولا یرجعون) اور نہ آگ سے دور رہنے کے لئے پیچھے لوٹ سکیں۔ معنی یہ ہے کہ ان کفار کے لئے عذاب ثابت ہوگیا لہٰذا ان کو ضرور عذاب دیا جائے گا اور اس مقام پر جہنم کے سوا کچھ نہیں جو سامنے ہے اور اس پر بچھے ہوئے پل کو عبور کئے بغیر نجات کا کوئی راستہ نہیں اور اہل ایمان کے سوا اس پل کو کوئی عبور نہیں کرسکے گا۔ اہل ایمان اپنے ایمان کی روشنی میں پل کو عبور کریں گے۔ رہے یہ کفار تو اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کے لئے نجات کا کوئی وعدہ نہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ ان کی بینائی کو سلب کرلے اور ان کی حرکت کو باقی رکھے تب اگر یہ راستے یک طرف بڑھیں تو اس تک پہنچ نہیں پائیں گے اور اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو ان کی حرکت کو بھی سلب کرلے تب یہ آگے بڑھ سکیں گے نہ پیچھے لوٹ سکیں گے۔ مقصد یہ ہے کہ کفار پل صراط کو عبور کرسکیں گے نہ انہیں جہنم سے نجات حاصل ہوگی۔
Ayahs 36:68–69

وَ مَنْ نُّعَمِّرْهُ نُنَكِّسْهُ فِی الْخَلْقِ١ؕ اَفَلَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 36:68 in the Quran reader

اور جس کو ہم بڑی عمر دیتے ہیں اسے خلقت میں اوندھا کردیتے ہیں تو کیا یہ سمجھتے ہیں ؟

وَ مَا عَلَّمْنٰهُ الشِّعْرَ وَ مَا یَنْۢبَغِیْ لَهٗ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ وَّ قُرْاٰنٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 36:69 in the Quran reader

اور ہم نے ان (پیغمبر) کو شعر گوئی نہیں سکھائی اور نہ وہ ان کو شایان ہے یہ تو محض نصیحت اور صاف صاف قرآن (پراز حکمت) ہے

آیت 68 (ومن نعمرہ) ” اور ہم جس کو بڑی عمر دیتے ہیں۔ “ یعنی بنی آدم میں سے (ننکسہ فی الخلق) یعنی وہ اسی حالت کی طرف لوٹ آتا ہے جس سے ابتدائی کی تھی یعنی، ضعف عقل اور ضعف قوت کی طرف (افلا یعقلون) ” کیا وہ سمجھتے نہیں۔ “ آدمی ہر لحاظ سے ناقص ہے پس انہیں چاہیے کہ وہ اپنی قوت اور عقل کا تدارک کریں اور انہیں اپنے رب کی اطاعت میں استعمال کریں۔
Ayah 36:70

لِّیُنْذِرَ مَنْ كَانَ حَیًّا وَّ یَحِقَّ الْقَوْلُ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 36:70 in the Quran reader

تاکہ اس شخص کو جو زندہ ہو ہدایت کا راستہ دکھائے اور کافروں پر بات پوری ہوجائے

آیت 70 مشرکین نبی مصطفیٰ ﷺ پر شاعر ہونے کا بہتان لگایا کرتے تھے نیز یہ کہ جو کچھ آپ پیش کر رہے ہیں و شاعری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے محمد ﷺ کو شاعری سے منزہ قرار یدتے ہوئے فرمایا (آیت) ” یعنی آپ کے لئے مناسب نہیں ہے کہ آپ شاعری کریں یعنی آپ کا شاعر ہونا جنس محال میں سے ہے آپ تو ہدایت یافتہ ہیں جبکہ شعرا گمراہ ہوتے ہیں اور گمراہ لوگ ہی ان شعرا کی پیروی کرتے ہیں، نیز اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ سے تمام شبہات کو دور کردیا جن کا یہ گمراہ لوگ سہارا لیا کرتے ہیں، چناچہ اس شب ہے کو بھی ختم کردیا کہ آپ لکھ سکتے ہیں یا پڑھ سکتے ہیں اور آگاہ فرماتا ہے اس نے آپ کو شاعری نہیں سکھائی اور نہ شاعری آپ کے شایان شان ہے (ان ھو الا ذکر و قرآن مبین) یعنی یہ چیز جو محمد رسول ﷺ لے کر آئے ہیں ” ذکر “ ہے جس سے عقل مند لوگ تمام دینی مطالب میں راہنمائی حاصل کرتے ہیں، وہ تمام دینی مطالب پر کامل ترین طریقے سے مشتمل ہے اور وہ عقلوں کو اس چیز کی یاد دہانی کرواتا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اچھے کام کر کے حکم اور برے کام سے ممانعت کے طور پر انسانی فطرت میں ودیعت کردیا ہے۔ (و قرآن مبین) ” اور واضح قرآن ے “ یعنی جن امور کی تبیین مطلوب ہے ان سب کو بیان کرتا ہے۔ یہاں سا لئے معمول کو حذف کردیا تاکہ وہ اس حقیت پر دلالت کرے کہ وہ پورے حق کو اور باطل کے بظلان کو اجمالی اور تفصیلی کے ذریعے سے بیان کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے رسول ﷺ پر اسی طرح نازل فرمایا۔ (لینذر من کان حیا) ’ دتا کہ اس شخص کو، جو زندہ ہو، متنبہ کرے۔ “ یعنی جو شخص دل زندہ رکھتا ہے وہی اس قرآن کے لائق ہے، اسی شخص کے علم و عمل میں اضافہ ہوتا ہے۔ قرآن اس کے دل کے لئے وہی حیثیت رکھتا ہے جو نہایت عمدہ اور زرخیز زمین کے لئے بارش کی حیثیت ہوتی ہے (آیت) ” اور کافروں پر بات پوری ہوجائے “ کیونکہ ان پر حجت الٰہی قائم ہوگئی اور ان کی حجت منقطع ہوگئی اور ان کے پاس ایک ادنیٰ سا عذر اور شبہ بای نہیں رہا جس کا وہ سہارا لے سکیں۔
Ayahs 36:71–73

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا خَلَقْنَا لَهُمْ مِّمَّا عَمِلَتْ اَیْدِیْنَاۤ اَنْعَامًا فَهُمْ لَهَا مٰلِكُوْنَ Open ayah 36:71 in the Quran reader

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ جو چیزیں ہم نے اپنے ہاتھوں سے بنائیں ان میں سے ہم نے ان کے لئے چار پائے پیدا کر دئیے اور یہ ان کے مالک ہیں

وَ ذَلَّلْنٰهَا لَهُمْ فَمِنْهَا رَكُوْبُهُمْ وَ مِنْهَا یَاْكُلُوْنَ Open ayah 36:72 in the Quran reader

اور ان کو ان کے قابو میں کردیا تو کوئی تو ان میں سے ان کی سواری ہے اور کسی کو یہ کھاتے ہیں

وَ لَهُمْ فِیْهَا مَنَافِعُ وَ مَشَارِبُ١ؕ اَفَلَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 36:73 in the Quran reader

اور ان میں ان کے لئے (اور) فائدے اور پینے کی چیزیں ہیں تو یہ شکر کیوں نہیں کرتے ؟

آیت 71 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ اس بارے میں غور کریں کہ اس نے مویشیوں کو ان کے لئے مسخر کردیا اور ان کو ان مویشیوں کا مالک بنایا، ان مویشیوں کے اندر ان کے لئے بیشمار فوائد رکھے، چناچہ وہ ان پر سواری کرتے ہیں، ان پر بوجھ لادتے ہیں، ان کے ذریعے سے اپنے سامان کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرتے ہیں، ان کا گوشت کھاتے ہیں، ان سے گرمی حاصل کرتے ہیں، ان کی اون، ان کی پشم اور ان کے بالوں میں ایک مدت تک ان کے لئے اثاثہ اور فائدہ ہے، نیز ان مویشویں میں ان کے لئے زینت و جمال اور دیگر فوائد ہیں جس کا روزمرہ مشاہدہ ہوتا ہے۔ (افلا یشکرون) ” کیا یہ لوگ شکر ادا نہیں کرتے “ اس اللہ تعالیٰ کا جس نے ان کو ان نعمتوں سے نوازا ہے ؟ تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کو خلاص کریں اور وہ ان نعمتوں سے اس طرح فائدہ نہ اٹھائیں کہ وہ عبرت اور غور و فکر سے خالی ہو۔
Ayahs 36:74–75

وَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اٰلِهَةً لَّعَلَّهُمْ یُنْصَرُوْنَؕ Open ayah 36:74 in the Quran reader

اور انہوں نے خدا کے سوا (اور) معبود بنا لئے ہیں کہ شاید (ان سے) ان کو مدد پہنچے

لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَهُمْ١ۙ وَ هُمْ لَهُمْ جُنْدٌ مُّحْضَرُوْنَ Open ayah 36:75 in the Quran reader

(مگر) وہ ان کی مدد کی (ہر گز) طاقت نہیں رکھتے اور وہ ان کی فوج ہو کر حاضر کئے جائیں گے

آیت 74 یہ مشرکین کے خود ساختہ معبودوں کے بطلان کا بیان ہے جن کو انہوں نے اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرا رکھا ہے اور ان سے مدد اور سفارش کی امید رکھتے ہیں، حالانکہ وہ انتہائی عاجز ہیں (لایستطیعون نصرھم) ” نہ وہ ان کی مدد کرسکتے ہیں “ اور نہ خود اپنی مدد پر قادر ہیں۔ جب وہ اپنی مد نہیں کرسکتے تو وہ ان کی مد کیسے کرسکتے ہیں۔ مدد کرنا دو امور سے مشروط ہے استطاعت اور ارادہ جب کوئی مدد کرنے کی استطاعت رکھتا ہو تو ایک چیز بای رہ جاتی ہے کہ آیا وہ اپنے عبادت گزار بندے کی مدد کرنا چاہتا بھی ہے یا نہیں۔ استطاعت کی نفی سے دونوں امور کی نفی ہوجاتی ہے (وھم لھم جند محصرون) یعنی وہ ان کے حاضر باش لشکر ہوں گے۔ وہ سب عذاب میں ڈالے جائیں گے اور ایک دوسرے سے برأت کا اظہار کریں گے۔ انہوں نے دنیا میں ان خود ساختہ معبودوں کی عبادت سے برأت کا اظہار کر کے اپنی عبادت کو اس ہستی کے لئے خالص کیوں نہیں کیا جس کے ہاتھ میں نفع و نقصان ہے، عطا کرنا اور محروم کرنا اسی کے اختیار میں ہے اور وہی والی اور مددگار ہے۔
Ayah 36:76

فَلَا یَحْزُنْكَ قَوْلُهُمْ١ۘ اِنَّا نَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ Open ayah 36:76 in the Quran reader

تو ان کی باتیں تمہیں غمناک نہ کردیں یہ جو کچھ چھپاتے اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں ہمیں سب معلوم ہے

آیت 76 اے رسول ! جھٹلانے والوں کی باتیں آپ کو غم زدہ نہ کریں۔ یہاں (باتوں “ سے مراد وہ باتیں ہے جن پر سیاق آیت دلالت کرتا ہے، یعنی ہر وہ بات جو رسول اور اس کی لائی ہوئی کتاب میں عیب لگاتی ہو۔ یعنی آپ کا دل ان کے غم میں مشغول نہ ہو (انا نعلم مایسرون وما یعلنون) ” یہ جو کچھ چھپاتے اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں ہم سب جانتے ہیں “ اس لئے ہم ان کو اپنے علم کے مطابق جزا اور سزا دیں گے ان کی باتیں آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتیں۔