Ayahs 3:149–151آیت 149-150
یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اہل ایمان کو منافقین و مشرکین کی اطاعت سے ممانعت ہے۔ کیونکہ وہ جب بھی کفار کی اطاعت کریں گے تو کفار ان کے مقابلے میں برا ارادہ ہی رکھیں گے اور ان کا قصد و ارادہ یہی ہوگا کہ وہ اہل ایمان کو کفر کی طرف لوٹا دیں جس کا انجام ناکامی اور خسارے کے سوا کچھ بھی نہیں۔
پھر اہل ایمان کو بتلایا کہ اللہ تعالیٰ ان کا مولی اور حامی و ناصر ہے اور اس میں اہل ایمان کے لئے خوشخبری ہے کہ وہ اپنے لطف و کرم سے ان کے امور کی سرپرستی کرتا ہے اور انہیں مختلف قسم کے شر سے محفوظ رکھتا ہے۔ اسی ضمن میں یہ بات بھی آتی ہے کہ وہ ہر ایک کو چھوڑ کر صرف اسی کو اپنا ولی اور مددگار بنائیں۔ اللہ کی سرپرستی اور اس کی طرف سے مسلمانوں کی مدد کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ کیا کہ وہ ان کے دشمن کفار کے دلوں میں رعب ڈال دے گا۔ یہاں رعب سے مراد وہ خوف عظیم ہے جو کفار کو ان کے بہت سے مقاصد سے روک دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ پورا فرمایا وہ اس طرح کہ ” احد “ کے واقعہ کے بعد جب مشرکین واپس لوٹے تو (راستے میں) انہوں نے باہمی مشورہ کیا اور کہنے لگے ” ہم کیسے لٹ سکتے ہیں۔ ہم نے ان کے بعض لوگوں کو قتل کیا اور ان کو شکست دی مگر ہم نے ان کا مکمل استیصال نہیں کیا۔ “ چناچہ انہوں نے اس کا ارادہ کیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا اور وہ خائب و خاسر ہو کر لوٹ گئے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ بہت بڑی فتح ہے۔ گزشتہ صفحات میں گزر چکا ہے کہ اللہ تعلایٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کے لئے فتح و نصرت، دو امور سے خالی نہیں ہوتی۔ (1) اللہ تعالیٰ یا تو کفار کی جڑ کاٹ دیتا ہے۔ (2) یا انہیں ذلت سے دوچار کرتا ہے اور وہ خائب و خاسر واپس لوٹ جاتے ہیں اور یہ (رعب ڈال کر انہیں ناکام لوٹا دینا) دوسری قسم سے ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ نے اس سبب کا ذکر فرمایا جو کفار کے دلوں میں رعب ڈالنے کا موجب تھا (بما اشرکوا باللہ مالم ینزل بہ سلطناً ) یعنی اس کا سبب یہ تھا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کے شریک ٹھہرا لئے اور اپنی خواہشات نفس اور اپنے فاسد ارادوں کے مطابق بتوں کو رب بنا لیا۔ جس پر کوئی حجت اور برہان نہیں تھی اور اس طرح وہ اللہ واحد و رحمٰ کی سرپرستی سے محروم ہوگئے۔ اسی وجہ سے مشرک اہل ایمان سے مرعوب ہوجاتا تھا اور اسے کوئی مضبوط سہارا حاصل نہیں تھا۔ کسی شدت اور تنگی کے وقت کوئی اس کی پناہ گاہ نہیں تھی۔ یہ اس کا دنیا میں حال ہے۔ آخرت کا حال اس سے زیادہ برا اور سخت ہوگا اس لئے فرمایا : (وما ولھم النار) یعنی ان کا ٹھکانا جہاں یہ پناہ لیں گے، جہنم ہے، اور پھر وہاں سے نکل نہیں سکیں گے (وبئس مثوی الظلمین) ” اور برا ہے ٹھکانا ظالموں کا “ ان کے ظلم اور تعدی کے سبب جہنم ان کا ٹھکانا ہوگا۔
Ayahs 3:152–153آیت 152
اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا کہ اس نے اپنی نصرت کا وعدہ پورا کردیا، پس تمہیں کفار کیم قابلے میں فتح و نصرت عطا کی حتی کہ تمہیں ان کی گردنوں پر اختیار دے دیا تھا اور تم نے ان کی گردنیں مارنا شروع کردیں یہاں تک کہ تم خو داپنے لئے ہزیمت کا سبب بن گئے اور تم خود اپنے مقابلے میں دشمن کی اعانت کا باعث بن گئے۔ پس جب تم بزدلی، کمزوری اور سستی کا شکار ہوگئے ” وتنازعتم فی الامر) اور تم نے جھگڑے میں پڑ کر اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو چھوڑ دیا جو اتحاد اور عدم اختلاف کے بارے میں تھا۔ پس تم اختلافات میں پڑے گئے۔ کوئی کہتا تھا کہ ہم تو اسی مقام پر ڈٹے رہیں گے جہاں رسول اللہ ﷺ نے ہمیں معتین فرمایا ہے اور کسی نے کہا، اب ہمارے یہاں ٹھہرے رہنے کا کیا کام ؟ جب کہ دشمن شکست کھاچکا اور کوئی خطرہ باقی نہیں رہا۔
پس تم نے رسول ﷺ کی نافرماین کی اور آپ کے حکم کو چھوڑ دیا (بعد مآ ارئکم ماتحبون) ” بعد اس کے، جب اللہ نے تمہیں وہ چیز دکھا دی جو تم پسند کرتے تھے “ اور وہ تھی تمہارے دشمن کی ناکامی اور شکست۔ اس لئے کہ جس کو اللہ تعالیٰ اس چیز سے نواز دے، جو اسے پسند ہو، اس پر دوسرے کی نسبت زیادہ ضروری ہے کہ وہ نافرمانی سے بچے۔ پس خاص طور پر اس حال میں اور عام طور پر ہرحال میں اس پر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکام پر عمل کرنا واجب ہے۔ (منکم من یرید الدنیا) ” تم میں سے بعض وہ ہیں جو دنیا چاہتے ہیں “ یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے عتاب فرمایا (ومنکم من یرید الاخرۃ) ” اور بعض تم میں سے آخرت چاہتے ہیں “ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کے حکم کا التزام کیا اور جو ان کو حکم دیا گیا تھا اس پر ثابت قدم رہے۔
(ثم صرفکم عنھم ) ” پھر تم کو پھیر دیا ان سے “ یعنی جب یہ تمام امور تم میں پائے گئے تو اللہ تعلایٰ نے تمہیں ان کے مقابلے میں پھیر کر بھگا دیا۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہاری آزمائش اور تمہارے امتحان کے طور پر جیت دشمن کے ہاتھ رہی تاکہ مومن اور کافر، فرمانبردار اور نافرمان کے درمیان امتیاز ہوجائے اور تاکہ تم سے جو غلطی سر زد ہوئی ہے اس مصیبت کے ذریعے سے تمہیں معاف کر دے۔ اس لئے فرمایا : (ولقد عفاعنکم واللہ ذو فضل علی المومنین) ” اس نے تمہیں معاف کردیا اور اللہ مومنوں پر فضل کرنے والا ہے “ یعنی وہ ان پر بہت زیادہ فضل کرنے والا ہے کیونکہ اس نے انہیں اسلام سے نوازا، اپنے احکام کی طرف راہنمائی کی، ان کے گناہوں کو معاف کردیا اور ان کے مصائب پر ان کو اجر عطا کیا۔
یہ اہل ایمان پر اللہ تعالیٰ کا فضل ہی ہے کہ وہ جو بھلائی یا مصیبت ان کے لئے مقدر کرتا ہے وہ بھی ان کے لئے بھلائی ہی ہوتی ہے۔ اگر انہیں خوشحالی عطا کرتا ہے اور وہ اس پر شکر ادا کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ انہیں شکر گزاروں کی جزا دیتا ہے۔ اگر انہیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے اور اس پر وہ صبر کرتے ہیں تو اللہ تبارک و تعالیٰ انہیں صبر کرنے والوں کے ثواب سے نوازتا ہے۔
Ayah 3:154آیت 154
اللہ تبارک و تعالیٰ جنگ سے ان کی پسپائی کے وقت ان کا حال بیان کرتے ہئے ان پر عتبا کرتا ہے۔ چناچہ فرمایا : (اذ تصعدون) یعنی جب تم تیزی سے بھاگے جا رہے تھے (ولا تلون علی احد) یعنی تم ایک دوسرے کو پیچھے مڑ کر نہیں دیکھتے تھے بلکہ جنگ سے فرار اور نجات کے سوا تمہارا کوئی ارادہ نہ تھا اور حال یہ تھا کہ تم کسی بڑے خطرے سے بھی دوچار نہ تھے کیونکہ تم سب سے آخر میں تھے اور ان لوگوں میں سے نہ تھے جو دشمن کے قریب اور بلاواسطہ میدان جنگ میں تھے، بلکہ صورت حال یہ تھی (والرسول یدعوکم فی اخربکم) ” رسول تمہیں بلا رہے تھے، تمہارے پیچھے سیذ یعنی رسول اللہ ﷺ ان لوگوں کو بلا رہے تھے جو پہاڑوں پر چڑھ رہے تھے۔ آپ پکار رہے تھے ’ داے اللہ کے بندو ! میرے پاس آؤ “ مگر تم نے ان کی طرف پلٹ کر دیکھا نہ تم ان کے پاس رکے۔ پس میدان جنگ سے فرار فی نفسہ موجب ملامت ہے اور رسول اللہ ﷺ کا بلانا، جو اس امر کا موجب تھا کہ اپنی جان پر بھی آپ کی پکار کو مقدم رکھا جائے، سب سے بڑی ملامت کا مقام ہے، کیونکہ تم لگو بلانے کے باوجود آپ سے پیچھے رہے۔
(فاثابکم) یعنی اس نے تمہارے اس فعل پر تمہیں جزا دی (غما بغم) یعنی غم کے بعد غم۔ فتح حاصل نہ ہونے کا غم، مال غنیمت سے محروم ہونے کا غم، ہزیمت اٹھانے کا غم اور ایک ایسا غم جس نے تمام غموں کو بھلا دیا اور وہ تھا تمہارا اس افواہ کو سن لینا کہ محمد ﷺ کو شہید کردیا گیا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے لطف و کرم اور اپنے بندوں پر حسن نظر کی بنا پر ان تمام امور کے اجتماع کو ان کے لئے بھلائی بنادیا۔ فرمایا : (لکیلا تحزنوا علی مافاتکم) یعنی جو فتح و ظفر تمہیں حاصل نہ ہوسکی، اس پر غمزدہ نہ ہوں (ولا ما اصابکم) ” اور نہ اس پر جو تمہیں پہنچا “ یعنی تمہیں ہزیمت قتل اور زخموں کا جو سامنا کرنا پڑا اور جب تم نے اس بات کی تحقیق کرلی کہ رسول اللہ ﷺ شہید نہیں ہوئے تو تم پر تمام مصیبتیں آسان ہوگئیں تم رسول اللہ ﷺ کے زندہ ہونے پر خوش ہوگئے آپ کی زندگی کی خبر نے ہر مصیبت اور سختی کو فراموش کردیا۔
پس ابتلاء اور آزمائش میں اللہ تعالیٰ کی حکمتیں اور اسرار پنہاں ہوتے ہیں اور یہ سب کچھ اس کے علم، تمہارے اعمال اور ظاہر و باطن کے مکمل باخبر ہونے کے ساتھ صادر ہوتا ہے۔ اس لئے فرمایا : (واللہ خبیر بما تعملون) ” اللہ تمہارے اعمال کی خبر رکھتا ہے۔ “
اللہ تعالیٰ کے ارشاد (لکیلا تخزنوا علی مافاتکم ولا ما اصابکم) میں اس معنی کا احتمال بھی ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے تم پر یہ غم اور مصیبت اس لئے مقدر کئے ہیں تاکہ تمہارے نفس ان مصائب کا سامنا کرنے پر آمادہ اور ان پر صبر کرنے کے عادی ہوں اور تمہارے لئے مشقتوں کو برداشت کرنا آسان ہوجائے۔
(ثم انزل علیکم من بعدم الغم) ” پھر اتارا اس نے تم پر اس غم کے بعد “ یعنی وہ غم جو تمہیں پہنچا (امنۃ نعاسا یغشی طائفۃ منکم) ” ام نکو جو کہ اوگنھ تھی کہ اڈھانک لیا اس نے تمہارے ایک گروہ کو “ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت، احسان، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے دلوں کو ثابت قدم رکھنے اور طمانیت میں اضافہ کا باعث تھا۔ کیونکہ خوف زدہ شخص کو، دل خوف سے لبریز ہونے کی وجہ سے اونگھ اور نیند نہیں آتی۔ جب دل سے خوف زائل ہوجاتا ہے، تب نیند آنے کا امکان ہوتا ہے۔ یہ گروہ جس کو اللہ تعالیٰ نے نیند اور اونگھ سے نوازا، اہل ایمان ہیں جن کے سامنے اللہ تعالیٰ کے دین کو قائم کرنے، اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی رضا کے حصول اور مسلمانوں کے مصالح کے سوا کوئی اور مقصد نہیں تھا۔
رہا دوسرا گروہ جس کے بارے میں فرمایا : (قد اھمتھم انفسھم ” انہیں فکر میں ڈال دیا تھا ان کی جانوں نے “ تو ان کے نفاق یا ان کے ایمان کی کمزوری کی بنا پر، ان کا اپنی جان بچانے کے سوا کوئی اور ارادہ نہ تھا۔ اس لئے ان کو وہ اونگھ نہ آئی جو دوسروں کو آئی تھی (یقولون ھل لنا من الامر من شیء ) ” وہ کہتے تھے، کچھ بھی کام ہے ہمارے ہاتھ میں ؟ “ یہ استفہام انکاری ہے یعنی فتح و نصرت میں ہمارا کوئی اختیار نہیں۔ پس انہوں نے اپنے رب، اپنے دین اور اپن نبی کے بارے میں بدگمانی کی اور انہوں نے سمجھ لیا کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کی دعوت کو پورا نہیں کرے گا۔ انہوں نے یہ بھی سمجھ لیا کہ یہ شکست اللہ تعالیٰ کے دین کے خلاف ایک فیصلہ کن شکست ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جواب میں فرمایا : (قل ان الامر کلہ للہ) ” کہہ دو کہ تمام معاملے کا اختیار اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے۔ “ (امر) دو امور پر مشتمل ہوتا ہے امر قدری، اور امر شرعی۔
پس تمام چیزوں کا ظہور اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر سے ہے اور اللہ تعالیٰ کے اولیاء اور اس کی اطاعت کرنے والوں کے حق میں، ان چیزوں کا انجام فتح و ظفر ہی ہوتا ہے خواہ ان پر کچھ بھی گزر جائے۔
(یغفون) یعنی منافقین چھپاتے ہیں (فی انفسھم مالایبدون لک) ” اپنے دلوں میں جو آپ کے سامنے ظاہر نہیں کرتے “ پھر اللہ تعالیٰ نے اس معاملے کو واضح کردیا جو وہ چھپاتے تھے۔ چناچہ فرمایا : (یقولون لو کان لنا من الامر شیء) یعنی اگر اس واقعہ میں ہم سے رائے اور مشورہ لیا گیا ہوتا (ماقتلنا ھھنا) ” تو ہم یہاں مارے نہ جاتے۔ “ یہ ان کی طرف سے اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر کا انکار اور اس کی تکذیب ہے اور یہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اصحاب کرام کی رائے کو بیوقوفی کی طرف منسوب کرنا اور اپنے آپ کو پاک صاف اور صحیح قرار دینا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید کرتے ہوئے فرمایا : (قل لوکنتم فی بیوتکم) ” کہہ دیں، اگر تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے “ گھر ایسی جگہ ہے جہاں قتل کا گمان بعید ترین چیز ہے۔ فرمایا : (لبرز الذین کتب علیھم القتل الی مضاجعھم) ” تب بھی وہ لوگ ضرور اپنے پڑاؤ کی طرف نکلتے جن کا مارا جانا لکھ دیا گیا تھا “ پس معلوم ہوا کہ اسباب خواہ کتنے ہی بڑے کیوں نہ ہوں، وہ تب ہی فائدہ دیتے ہیں جب قضا و قدر معارض نہ ہو جب قضا و قدر اسباب کے خلاف ہو تو اسباب کوئی فائدہ نہیں دیتے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے موت وحیات کے جو فیصلے لوح محفوظ میں لکھ دیئے ہیں وہ نافذ ہو کر رہتے ہیں۔ (ولیبتلی اللہ ما فی صدورکم) ” تاکہ وہ آزمائے جو تمہارے سینوں میں (نفاق، ایمان اور ضعف ایمان) ہے۔ “ (ولیمحص مافی قلوبکم) ” تاکہ وہ تمہارے دلوں کو (شیطانی وسوسوں اور ان سے پیدا ہنے والی مذموم صفات سے) پاک کردے “ (واللہ علیم بذات الصدود) یعنی اللہ تعالیٰ ان تمام (خیالات اور ارادوں) کو جانتا ہے جو دلوں کے اندر ہیں اور ان میں چھپے ہوئے ہیں۔ پس اس کے علم و حکمت کا تقاضا ہوا کہ وہ ایسے اسباب پیدا کرے جن سے سینوں کے بھید اور معاملات کے اسرار نہاں ظاہر ہوں۔
Ayah 3:155آیت 155
اللہ تبار کو تعالیٰ ان لوگوں کے احوال کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جنہوں نے احد کے روز ہزیمت اٹھائی اور ان عوامل کی خبر دی جو ان کے فرار کا موجب بنے۔ نیز یہ کہ شیطان نے ان کو گمراہ کیا اور وہ ان کے بعض گناہوں کے سبب سے ان پر مسلط ہوگیا۔ پس یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے شیطان کو در اندازی کی اجازت دی اور اپنی نافرمانیوں پر اسے اختیار دے دیا کیونکہ معصیت شیطان کی سواری اور اس کی در اندازی کا ذریعہ ہے۔ اگر وہ اپنے رب کی اطاعت کے ذریعے سے محفوظ رہنے کی کوشش کرتے تو شیطان کو ان پر کوئی اختیار نہ ہوتا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (ان عبادی لیس لک علیھم سلطن) (بنی اسرائیل :65/18) ” بیشک میرے جو بندے ہیں ان پر تیرا کوئی اختیار نہیں۔ “ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس نے ان لوگوں کو معاف کردیا جن سے یہ قابل مواخذہ فعل سر زد ہوا اور اگر وہ ان کا مواخذہ کرتا تو ان کی جڑ کاٹ کر رکھ دیتا (ان اللہ غفور) بیشک اللہ خطا کار گناہ گاروں کو توبہ و استغفار کی توفیق عطا کر کے اور ان کو مصائب میں مبتلا کر کے بخش دیتا ہے (حلیم) یعنی جو کوئی اس کی نافرمانی کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے سزا دینے میں جلدی نہیں کرتا۔ وہ اسے توبہ وانابت کے لئے اپنی طرف بلاتا ہے اگر وہ توبہ کر کے اس کیطرف لوٹ آئے تو وہ اس کی توبہ قبول کرلیتا ہے اور اسے ایسے کردیتا ہے جیسے اس سے کوئی گناہ اور عیب صادر ہی نہیں ہوا۔ اللہ تعالیٰ کے اس احسان پر اللہ تعالیٰ ہی کی حمد وثناء ہے۔
Ayahs 3:156–158آیت 156-158
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے اہل ایمان بندوں کو کفار اور منافقین وغیرہ کی مشابہت اختیار کرنے سے روکا ہے جو اپنے رب اور اس کی قضا و قدر پر ایمان نہیں رکھتے۔ اس نے ہر چیز میں ان کی مشابہت اختیار کرنے سے روکا ہے جو اپنے رب اور اس کی قضا و قدر پر ایمان نہیں رکھتے۔ اس نے ہر چیز میں ان کی مشابہت اختیار کرنے سے روکا ہے۔ خاص طور پر اس معاملے میں کہ وہ اپنے دینی یا نسبی بھائیوں سے کہتے ہیں : (اذا ضربوا فی الارض) یعنی جب تجارت وغیرہ کے لئے سفر کرتے ہیں (اوکانوا غزی) یا وہ غزوات کے لئے نکلتے ہیں۔ پھر اس دوران میں انہیں موت آجاتی ہے یا وہ قتل ہوجاتے ہیں تو وہ اللہ تعالیٰ کی قضاء قدر پر اعتراض کرتے ہوئے کہتے ہیں (لوکانوا عندنا ماما توا وماقتلوا) ” اگر وہ ہمارے پاس ہوتے تو وہ نہ مرتے اور نہ قتل ہوتے “ یہ ان کا جھوٹ ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (قل لوکنتم فی بیوتکم لبرز الذین کتب علیھم القتل الی مضاجعھم) (آل عمران :153/3) ” کہہ دو اگر تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے تو جن کی تقدیر میں قتل ہونا لکھا تھا توہ وہ اپنی اپنی قتل گاہوں کی طرف نکل آتے۔ “ مگر اس تکذیب نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا البتہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس قول اور عقیدے کو ان کے دلوں میں حسرت بنادیا پس ان کی مصیبت میں اور اضافہ ہوگیا۔ رہے اہل ایمان، تو وہ جانتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر ہے پس وہ اس پر ایمان رکھتے ہیں اور اسے تسلیم کرتے ہیں اور یوں اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کو ہدایت دیتا ہے اور ان کو مضبوط کردیتا ہے اور اس طرح ان کی مصیبت میں تخفیف کردیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ منافقین کی تردید کرتے ہوئے فرماتا ہے : (واللہ یحی ویمیت) یعنی زندہ کرنے اور موت دینے کا اختیار وہ اکیلا ہی رکھتا ہے۔ اس لئے صرف احتیاط تقدیر سے نہیں بچا سکتی۔ (واللہ بما تعملون بصیر) ” اور اللہ جو کچھ تم کرتے ہو اس کو دیکھ رہا ہے۔ “ اس لئے وہ تمہارے اعمال اور تمہاری تکذیب کا بدلہ ضرور دے گا۔
پھر اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں قتل ہوجانا یا مرجانا، اس میں کوئی نقص یا کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس سے پرہیز کیا جائے بلکہ یہ تو ایک ایسا معاملہ ہے جس میں رغبت کے لئے لوگوں کو مسابقت کرنی چاہیے کیونکہ یہ ایک سبب ہے جو اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور رحمت تک پہنچاتا ہے اور یہ اس دنیاوی مال و متاع سے کہیں بہتر ہے جسے دنیا والے جمع کرتے ہیں، نیز مخلوق کو جب بھی موت آئے گی یا کسی بھی حالت میں ان کو قتل کیا جائے انہیں اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے اور وہ ہر ایک کو اس کے عمل کا بدلہ دے گا۔ اس لئے اللہ کے سوا کوئی جائے فرار نہیں اور مخلوق کو کوئی بچانے والا نہیں، سوائے اس کے کہ اس کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیا جائے۔
Ayah 3:159آیت 159
یعنی یہ آپ پر اور آپ کے اصحاب پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے اور یہ اللہ کا آپ پر احسان ہے کہ آپ ان کے لئے نہایت نرم دل ہوگئے، آپ ان سے نہایت مہربانی اور شفقت سے پیش آتے ہیں اور ان کے ساتھ آپ کا خلق بہت اچھا ہے اس لئے وہ آپ کے اردگرد جمع ہوگئے اور وہ آپ سے محبت کرتے اور آپ کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں۔ (ولو کنت فظا) یعنی اگر آپ بد اخلاق ہوتے (غلیظ القلب) یعنی سخت دل ہوتے (لانفضوا من حولک) ” تو وہ آپ کے پاس سے چھٹ جاتے “ کیونکہ بدخوئی اور سخت دلی لوگوں کو متنفر اور ان کے دلوں میں بغض پیدا کرتی ہے۔ پس دنیاوی سربراہ کے اچھے اخلاق لوگوں کو اللہ کے دین کی طرف کھینچتے ہیں اور دین کے بارے میں لوگوں میں رغبت پیدا کرتے ہیں اس کے علاوہ وہ لوگوں میں قابل تعریف اور اللہ کے ہاں اجر خاص کا مستحق ہوتا ہے اور دینی سربراہ کے برے اخلاق لوگوں کو دین سے متنفر کرتے اور دین کے بارے میں لوگوں میں بغض پیدا کرتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ بدخو دینی سربراہ قابل مذمت اور خاص سزا کا مستحق ہے۔ یہ رسول معصوم ﷺ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ یہ فرما رہا ہے تب کسی دوسرے کا کیا حال ہوگا۔
کیا یہ سب سے زیادہ واجب اور سب سے زیادہ اہم بات نہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے اخلاق کی پیروی کریں اور اللہ تعالیٰ کے حکم پر عمل کرتے ہوئے اور لوگوں کو اللہ کے دین کی طرف راغب کرنے کے لئے ہم ان کے ساتھ نرمی، حسن خلق اور الفت کے ساتھ پیش آئیں جیسے رسول اللہ ﷺ پی شایٓا کرتے تھے ؟ پھر اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا ہے کہ وہ ان کی کو تاہیاں معاف کردیں جو آپ کے حق میں ان سے صادر ہوئی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے حق میں جو کو تاہیاں ان سے سرزد ہوئی ہیں اس بارے میں اللہ تعالیٰ سے ان کے لئے بخشش طلب کریں اور اس طرح عفو اور احسان کو یکجا کردیں۔ (وشاورھم فی الامر) یعنی ان امور میں ان سے مشورہ کریں جو مشاورت اور فکر و نظر کے محتاج ہیں۔ کیونکہ مشاورت میں بہت سے فوائد اور بیشمار دینی اور دنیاوی مصالح ہیں۔ جیسے :
1۔ مشاورت دینی عبادات میں شمار ہوتی ہے جن سے اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل ہوتا ہے۔
2۔ مشاورت میں لوگوں کے دل جوئی اور اس قلق کا ازالہ ہوتا ہے جو حوادث کے وقت دلوں میں پیدا ہوتا ہے۔ اس لئے کہ جس شخص کے ہاتھ میں لوگوں کے معاملات کا اختیار ہوتا ہے، جب وہ کسی حادثہ اور اہم موقع پر اہل رائے اور اہل فضیلت اصحاب کو جمع کر کے ان سے مشورہ لیتا ہے تو لوگوں کے دل اس پر مطمئن ہوجاتے ہیں اور وہ اس سے محبت کرنے لگتے ہیں اور انہیں معلوم ہوجاتا ہے کہ وہ اپنی ہی رائے کو ترجیح نہیں دیتا بلکہ وہ تمام لوگوں کے لئے کلی مصلحت عامہ میں غور و فکر کرتا ہے۔ تب وہ اس کی اطاعت کی پوری کوشش کرتے ہیں کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ وہ مصالح عامہ میں تگ و دو کرتا ہے۔ اس کے برعکس جو یہ طرز عمل اختیار نہیں کرتا لوگ اس سے سچی محبت کرتے ہیں نہ اس کی اطاعت کرتے ہیں اور اگر وہ اس کی اطاعت کرتے بھی ہیں تو یہ اطاعت کا مل نہیں ہوتی۔
3۔ مشاورت میں افکار نکھر کر سامن آجاتے ہیں کیونکہ ان کو ان کے اصل مقام پر استمال کیا جاتا ہے اور اس طرح لوگوں کی عقل و فہم میں اضافہ ہوتا ہے۔
4۔ مشاوتر کے نتیجے میں صحیح رائے سامنے آجاتی ہے مشاورت سے کام لینے والا عام طور پر غلطی نہیں کرتا۔ اگر اس سے غلطی سر زد ہو بھی جائے یا مقصد پورا نہ ہو تو وہ ملامت کا مستحق نہیں ٹھہرتا۔
جب اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ سے فرمایا ہے (وشاورھم فی الامر) درآنحالیکہ آپ لوگوں میں سب سے زیادہ عقل، سب سے زیادہ علم اور سب سے افضل رائے رکھتے ہیں۔۔۔ تو وہ دوسروں کو یہ حکم کیسے نہ دے گا ؟ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : (فاذا عزمت) یعنی اگر کسی ایسے معاملے میں جس میں مشاورت کی حاجت ہو تو مشاورت کے بعد جب آپ کوئی عزم کرلیں (فتوکل علی اللہ) تو اپنی طاقت اور اپنی دور بینی پر بھروسہ چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کی قوت وقدرت پر بھروسہ کریں (ان اللہ یحب المتوکلین) اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو پسند کرتا ہے جو اس پر بھروسہ کرتے ہیں اور اس کے پاس پناہ لیتے ہیں۔
Ayah 3:160آیت 160
اگر اللہ تعالیٰ اپنی فتح و نصرت اور اعانت کے ذریعے سے تمہاری مدد کرے (فلا غالب لکم) تو تم پر کوئی غالب نہیں آسکتا، خواہ دنیا کے تمام شوگوں سے جمع ہو کر لوگ تمہارے خلاف کیوں نہ آجائیں اور خواہ ان کے پاس کتنی ہی زیادہ تعداد اور کتنا ہی سرو سامان کیوں نہ ہو۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ پر کوئی غالب نہیں آسکتا۔ تمام بندے اس کے سامنے مغلوب و مقہور ہیں۔ ان کی پیشانی اس کے قبضہ قدرت میں ہے، پس کوئی جاندار اس کی اجازت کے بغیر حرکت کرسکتا ہے نہ اس کی اجازت کے بغیر سکون اختیار کرسکتا ہے۔ (وان یخذلکم) ” اور اگر وہ تمہیں مدد نہ کرے “ یعنی تمہیں تمہارے نفس کے حوالے کر دے (فمن ذا الذی ینصرکم من بعدہ) ” پس کون ہے جو اس کے بعد تمہاری مدد کرے ؟ “ اس لئے اگر تمام مخلوق بھی تمہاری اعانت پر مجتمع ہوجائے تو پھر بھی تم مدد سے محروم ہوگئے۔ یہ آیت کریمہ اس حکم کو متضمن ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ سے فتح و نصرت طلب کی جائے، اسی پر بھروسہ کیا جائے اور اپنی طاقت وقدرت سے برأت کا اظہار کیا جائے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (علی اللہ فلیتوکل المومنون) معمول کو عامل سے قبل لانا حصر کا معنی دیتا ہے۔ یعنی تم صرف اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ کرو، کسی اور پر بھروسہ نہ کرو۔ کیونکہ یہ حقیقت معلوم ہے کہ وہ اکیلا مدد کرنے والا ہے۔ اس لئے اس پر اعتماد اور بھروسہ کرنا توحید ہے اور اس سے مقصود و مطلوب حاصل ہوتا ہے اور کسی دوسرے پر بھروسہ کرنا شرک ہے اور بھروسہ کرنے والے کو کچھ حاصل نہیں ہوتا بلکہ وہ نقصان دہ ہے۔ اس آیت میں صرف اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنے کا حکم ہے اور بندہ مومن کے ایمان کے مطابق ہی اس کا توکل ہوتا ہے۔
Ayahs 3:161–162آیت 161
یہاں (غلول) سے مراد ہے مال غنیمت چھپانا اور اس چیز میں خیانت کرنا جس کا اسے منتظم بنایا گیا ہے۔ خیانت کے حرام ہونے پر اتفاق ہونے پر اتفاق ہے بلکہ اس کا شمار کبائر میں ہوتا ہے۔ جیسا کہ یہ آیت کریمہ اور دیگر نصوص اس پر دلالت کرتی ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ مال غنیمت میں خیانت کرنا ایک نبی کے شایان شان نہیں۔ کیونکہ مال غنیمت میں خیانت، جیسا کہ آپ کو علم ہے۔ سب سے بڑا گناہ اور بدترین عیب ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے انبیائے کرام کو ہر عیب سے محفوظ رکھا ہے جو ان میں کسی اعتراض کا باعث بن سکتا تھا۔ اخلاق واطوار کے لحاظ سے انہیں دنیا میں افضل ترین انسان، سب سے زیادہ پاک نفوس کے مالک اور سب سے زیادہ طیب و طاہر ہستیاں بنایا ہے اور انہیں ہر عیب سے پاک کیا ہے۔ انہیں اپنی رسالت کا محل اور اپنی حکمت کا خزانہ بنایا ہے۔ (اللہ اعلم حیث یجعل رسالتہ) (الانعام :127/6) ” اللہ ہی خوب جانتا ہے کہ اس کی رسالت کا کون سا محل ہے اور وہ اپنی رسالت کسے عنایت فرمائے۔ “
ان میں سے کسی ایک سرول کے بارے میں بندے کا مجرد علم، تمام رسولوں کے ہر عیب سے محفوظ اور سلامت ہونے کا قطعی فیصلہ کردیتا ہے اور انبیاء ومرسلین کے بارے میں ان کے دشمنوں کی طرف سے جو کچھ کہا گیا ہے اس کے فاسد ہونے پر کسی دلیل کی حاجت نہیں، کیونکہ ان کی نبوت کی معفرت ان تمام اعتراضات کو دفع کرنے کو مستلزم ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ایسے اسلوب کے ساتھ ذکر کیا جو اس فعل کے وجود کو مانع ہے چناچہ فرمایا : (وما کان لنبی ان یغل) یعنی جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے اپنی نبوت کے لئے چنا ہے اس کے بارے میں یہ ممتنع اور محال ہے کہ وہ مال غنیمت میں خیانت کرے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے مال غنیمت میں خیانت کرنے والوں کے لئے وعید سنائی ہے، فرمایا : (ومن یغلل یات بما غل یوم القیمۃ) یعنی مال غنیمت میں خیانت کرنے والا قیامت کے روز اس مال کو، خواہ وہ کوئی حیوان ہے یا مال و متاع وغیرہ، اپنی پیٹھ پر اٹھائے ہوئے آئے گا اور اس مال کے ذریعے سے اسے عذاب دیا جائے گا۔
(ثم توفی کل نفس ماکسبت) یعنی مال غنیمت میں خیانت کرنے والے کو اس کی خیانت کی مقدار کے مطابق اس کے گناہ کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا (وھم لایظلمون) ” اور ان پر ظلم نہیں ہوگا “ یعنی ان کے برائیوں میں اضافہ اور ان کی نیکیوں میں کمی نہیں کی جائے گی۔ اس آیت کریمہ میں آپ اس حسن احتراز (مفہوم مخالف سے بچاؤ کے احسن پیرائے) پر غور کیجیے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے یہاں مال غنیمت میں خیانت کرنے والے کی سزا کا ذکر کیا ہے کہ وہ قیامت کے روز خیانت شدہ مال کے ساتھ آئے گا اور چونکہ وہ اس غنیمت میں خیانت کرنے والے کی پوری جزا کا ذکر کرنا چاہتا ہے اور اس میں صرف غنیمت میں خیانت کی سزا کے ذکر پر اقتصار کیا ہے۔ یوں اس آیت کے مفہوم مخالف سے یہ وہم لازم آتا ہے کہ یدگر عمل کرنے والوں کو ہوسکتا ہے کہ پورا پورا بدلہ نہ دیا جائے۔ اس لئے یہاں ایسا لفظ استعمال کیا گیا ہے جو غنیمت میں خیانت کرنے والوں اور دیگر عمل کرنے والوں، دونوں کے لئے جامع ہے۔
Ayah 3:163آیت 163
اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ وہ شخص، جس کا مقصود صرف اللہ تعالیٰ کی رضا ہو اور اللہ تعالیٰ کی رضا ہی کے مطابق اس کے اعمال ہوں، اس شخص کے برابر نہیں ہوسکتا جو گناہوں میں مشغول ہے اور اپنے رب کو ناراض کرنے میں لگا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے حکم، اس کی حکمت اور فطرت انسانی میں یہ دونوں ق سم کے اشخصا مساوی نہیں ہوسکتے (افمن کان مؤمنا کمن کان فاسقا لایستون) (السجدہ :18/32) ” بھلا جو شخص مومن ہے وہ اس شخص کی مانند ہوسکتا ہے جو فاسق ہے ؟ دونوں برابر نہیں ہوسکتے۔ “ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ھم درجت عند اللہ) ” لوگوں کے مختلف درجے ہیں اللہ کے ہاں “ یعنی یہ تمام لوگ اپنے اعمال میں تفاوت کی بنا پر اپنے درجات اور منزلت میں بھی متفاوت ہیں چناچہ اللہ تعالیٰ کی رضا کی پیروی کرنے والے بلند درجات و منازل اور بالاخانوں کو حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، پس اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کے مطابق اپنے فضل و کرم سے انہیں عطا کرتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کی ناراضی کے سبب والے امور کی پیروی کرنے والے پست سے پست اور فرو ترین ٹھکانے کے لئے کوشش کرتے ہیں۔ ہر شخص اپنے اپنے اعمال کے مطابق جزا پائے گا۔ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کو دیکھتا ہے اور ان کا کوئی عمل اس سے چھپا ہوا نہیں۔ بلکہ ان کے تمام اعمال اس کے احاطہ علم میں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو لوح محفوظ میں ثبت کر رکھا ہے اور اس کے امین و کریم فرشتے ان اعمال کو لکھ کر محفوظ رکھتے ہیں۔
Ayah 3:164آیت 164
اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ احسان جو اس نے اپنے بندوں پر کیا ہے اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت ہے، بلکہ اصل نعمت ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے اس رسول کریم ﷺ کو مبعوث فرما کر ان پر بہت بڑا احسان کیا۔ جس کے ذریعے سے اس نے ان کو گمراہی کے گڑھے سے بچایا اور انہیں ہلاکت سے محفوظ کیا۔ پس فرمایا : (لقد من اللہ لعیالمومنین اذبعث فیھم رسولا من انفسھم) ” یقیناً اللہ نے مومنوں پر احسان فرمایا، جو بھیجا ان میں رسول، انہی میں سے “ یعنی وہ اس کا حسب و نسب، اس کے احوال اور اس کی زبان جانتے ہیں۔ وہ ان کی اپنی قوم اور ان کے اپنے قبیلے سے تعلق رکھتا ہے وہ ان کے لئے خیر خواہی کے جذبات رکھتا اور ان پر بہت شفیق اور مہربان ہے۔ (یتلوا علیھم ایتہ) یعنی وہ ان کو ان آیات کے الفاظ اور معانی سکھاتا ہے (ویزکیھم) یعنی وہ ان کو شرک، گناہ، رذائل اور دیگر تمام برے اخلاق واطوار سے پاک کرتا ہے (ویعلمھم الکتب) ” اور انہیں کتاب سکھاتا ہے “ یا تو اس سے مراد جنس کتاب ہے جو کہ قرآن مجید ہے تب اللہ تعالیٰ کے ارشاد (یتلوا علیھم ایتہ) سے مراد آیات کو نیہ ہوں گی۔ یا کتاب سے مراد ” کتابتذ ہے تب اس کے معنی یہ ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کتاب اور کتابت کی تعلیم دے کر ان پر بڑا احسان کیا ہے، جس کے ذریعے سے علوم حاصل کئے جات یہیں اور ان کو محفوظ کیا جاتا ہے۔ (والحکمۃ) یہاں حکمت سے مراد سنت ہے جو کہ قرآن مجید کی مانند ہے نیز اس سے مراد تمام اشیاء کو اپنے اپنے مقام پر رکھنا اور اسرار شریعت کی معرفت بھی ہے۔
پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے تعلیم احکام، تنفیذ احکام کے ذرائع اور ان احکام کے فوائد وثمرات کے حصول کے ذرائع کو جمع کردیا۔ پس وہ ان عظیم امور کی بنا پر تمام لوگوں سے آپے نکل گئے اور ان کا شمار علمائے ربانی میں ہونے لگا۔ (وان کانوا من قبل) یعنی اس رسول ﷺ کی بعثت سے قبل (لفی ضلل مبین) ” وہ کھلی گمراہی میں تھے “ اور اپنے رب تک پہنچانے والے راستے کی معرفت سے محروم تھے اور نہ انہیں اس طریق کا علم تھا جو ان کا تزکیہ نفس کر کے ان کو پاک کرے بلکہ وہ تو اس راستے پر گامزن تھے جو ان کی جہالت کو مزین کرتا تھا۔ خواہ یہ جہالت تمام جہانوں کی عقل کے متناقض ہی کیوں نہ ہو۔
Ayahs 3:165–168آیت 165-168
جب اہل ایمان کو غزوہ احد میں بہت بڑی مصیبت کا سامنا کرنا پ ڑا اور ان میں سے تقریباً ستر صحابہ نے جام شہادت نوش کیا۔ یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے ان مومن بندوں کے لئے تسلی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا (قد اصبتم مثلیھا) ” پہنچا چکے ہو تم اس سے دو چند “ یعنی تمہارے ہاتھوں سے دشمنوں پر دو چند مصیبت پڑچکی ہے۔ تم نے ان کے ستر آدمیوں کو قتل کیا اور ستر آدمیوں کو قیدی بنایا تھا۔ بنا بریں تمہارے لئے یہ معاملہ آسان اور تم پر یہ مصیبت ہلکی ہونی چاہئی اور اس کے ساتھ ساتھ تم اور وہ برابر نہیں ہو۔ تمہارے مقتول جنت میں ہیں اور ان کے مقتول جہنم میں۔
(قلتم انی ھذا) ” تم نے کہا، یہ کہاں سے آئی ؟ “ یعنی یہ مصیبت جو ہمیں پہنچی ہے اور یہ ہزیمت جو ہمیں اٹھانا پڑی ہے کہاں سے آگئی ؟ (قل ھو من عند انفسکم) یہ مصیبت تمہارے نفس ہی کی طرف سے وارد ہوئی ہے جس وقت اللہ تعالیٰ نے تمہیں وہ چیز دکھائی جسے تم پسند کرتے تھے اس کے بعد تم نے آپس میں جھگڑا کیا اور رسول کے حکم کی نافرمانی کی پس اپنے ہی نفسوں کو ملامت کرو اور ہلاکت کے اسباب سے بچو (ان اللہ علی کل شیء قدیر) پس اللہ تعالیٰ کے بارے میں برے گمان سے بچو وہ تمہاری مدد کرنے پر قادر ہے مگر تمہیں آزمائش اور مصیبت میں مبتلا کرنے میں اس کی کامل حکمت ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : (ذلک ولویشآء اللہ لانتصر منھم ولکن لیبلوا بعضکم ببعض) (محمد :3/78) ” یہ (حکم یاد رکھو) ” اگر اللہ چاہتا تو ان سے انتقام لے لیتا مگر وہ ایک دوسرے کے ذریعے سے تمہاری آزمائش کرتا ہے۔ “
پھر اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ دونوں لشکروں یعنی مسلمانوں کے لشکر اور کفار کے لشکر میں مڈ بھیڑ ہونے کے روز، احد میں، ان کو ہزیمت اور قتل کی جو مصیبت پہنچی وہ اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی قضا و قدر سے پہنچی۔ جس کو کوئی روکنے والا نہیں، لہٰذا اس مصیبت کا واقع ہونا ایک لابدی امر تھا اور جب امر قدری نافذ ہوجائے تب اس کے سامنے سر تسلیم خم کئے بغیر کوئی چارہ نہیں اور یہ حقیقت تسلیم کرنی پڑتی ہے کہ اس نے اس امر کو عظیم حکمتوں اور بہت بڑے فوائد کے لئے مقدر کیا ہے۔ تاکہ جب مسلمانوں کو جنگ کا حکم دیا جائے تو اس امر قدری کے ذریعے سے مومن اور منافق کے مابین فرق واضح ہوجائے۔
(وقیل لھم تعالوا قاتلوا فی سبیل اللہ) ” اور ان سے کہا گیا کہ آؤ ! اللہ کی راہ میں لڑو “ یعنی تم دین کی مدافعت اور حمایت اور اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کی خاطر اللہ کے راستے میں جنگ کرو (او ادفعوا) ” یا دشمن کو دفع کرو “ یعنی اگر تمہاری نیت صالح نہیں ہے تو پھر تم اپنے حرم اور شہر کے دفاع کی خاطر لڑو۔ مگر انہوں نے انکار کردیا اور عذر یہ پیش کیا (قالو لو نعلم قتالاً لاً اتبعنکم) یعنی اگر ہم یہ جانتے ہوتے کہ تمہارے درمیان اور ان کے درمیان جنگ ہوگی تو ہم ضرور تمہارے ساتھ چلتے، حالانکہ وہ اس میں جھوٹے تھے۔ وہ جانتے تھے اور انہیں یقین تھا بلکہ ہر شخص جانتا تھا کہ مشرکین کو اہل ایمان نے شکست دی ہے اس لئے مشرکین کے دل اہل ایمان کے بارے میں غیظ و غضب سے لبریز ہیں۔ ان سے انتقام لینے کے لئے مشرکین نے مال خرچ کیا۔ اہل ایمان کے خلاف لوگوں اور سامان حرب کو اکٹھا کرنے کے لئے اپنی پوری قوت صرف کردی ہے اور وہ ایک بہت بڑے لشکر کے ساتھ اہل ایمان پر ان کے شہر میں حملہ آور ہو رہے ہیں۔ مسلمانوں کے ساتھ لڑائی میں ان میں سخت جوش و خروش پایا جاتا ہے۔ جب حملہ آوروں کی یہ حالت اور کیفیت ہو تو کیسے کہا جاسکتا ہے کہ ان کے اور مسلمانوں کے درمیان جنگ نہیں ہوگی۔ خاص طور پر جبکہ مسلمان کفار کا مقابلہ کرنے کے لئے مدینہ سے باہر نکل آئے تھے ؟۔۔۔ یہ محال ہے مگر منافقین کا خیال تھا کہ ان کا یہ عذر مسلمانوں کو مطمئن کر دے گا۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ھم للکفریومئذ) ” وہ اس دن کفر کے “ یعنی اس حال میں جس میں انہوں نے مسلمانوں کے ساتھ مدینہ منورہ سے باہر نکلنے سے انکار کیا (اقرب منھم للایمان یقولون بافواھھم ما لیس فی قلوبھم) ” زیادہ قریب ہیں، بہ نسبت ایمان کے، اپنے منہ سے وہ باتیں کہتے ہیں جو انکے دلوں میں نہیں ہیں “ یہ منافقین کی خاصیت ہے کہ وہ اپنے کلام اور افعال سے وہ کچھ ظاہر کرتے ہیں جو ان کے دلوں میں چھپے ہوئے خیالات اور ارادوں کی ضد ہوتا ہے۔ ان کا یہ کہنا کہ (لو نعلم قتالاً لا اتبعنکم) بھی اسی زمرے میں آتا ہے کیونکہ انہیں علم تھا کہ جنگ ضرور ہوگی۔
اس آیت کریمہ میں اس فقہی قاعدہ پر دلیل ملتی ہے ” کہ بوقت ضرورت بڑی برائی کو روکنے کے لئے چھوٹے برائی کو اختیار کرنا جائز ہے۔ اسی طرح دو مصلحتوں میں سے اگر بڑی مصلحت پر عمل کرنے سے عاجز ہو تو اسے چھوڑ کر کم تر مصلحت پر عمل کرنا جائز ہے۔ “ اس لئے کہ منافقین کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ دین کے لئے جنگ کریں۔ اگر وہ دین کے لئے جنگ نہیں کرتے تو اپنے اہل و عیال اور وطن کے دفاع کے لئے ہی جنگ کریں (واللہ اعلم بما یکتمون) ” اور اللہ خوب جانتا ہے جو وہ چھپاتے ہیں “ پس وہ اسے اپنے مومن بندوں کے سامنے ظاہر کر گا۔ اس پر ان منافقین کو سزا دے گا۔
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : (الذین قالو الاخوانھم وقعدوالواطاعونا ماقتلوا) ” وہ لوگ جنہوں نے کہا اپنے بھائیوں سے اور خود بیٹھے رہے، اگر وہ ہماری بات مانتے تو مارے نہ جاتے “ یعنی انہوں نے دو برائیوں کو اکٹھا کرلیا تھا، جہاد سے جی چرا کر پیچھے رہنا اور اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر پر اعتراض اور اس کی تکذیب کرنا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا رد کرتے ہوئے فرمایا : (قل فادرء وا) یعنی دور ہٹا دو (عن انفسکم الموت ان کنتم صدقین) ” اپنے اوپر سے موت کو، اگر تم سچے ہو “ یعنی اگر تم یہ کہنے میں سچے ہو کہ اگر وہ تمہاری بات مانتے تو کبھی قتل نہ ہوتے۔ تم اس پر قدرت نہیں رکھتے اور نہ تم ان کو قتل ہونے سے بچانے کی استطاعت رکھتے ہو۔ ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ بندے میں کبھی کبھی کفر کی کوئی خصلت ہوتی ہے اور اس کے ساتھ ایمان کی خصلت بھی اس کے اندر موجود ہوتی ہے اور کبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ وہ ایک خصلت کی نسبت دوسری خصلت کے زیادہ قریب ہوتا ہے۔
Ayahs 3:169–171آیت 169-171
ان آیات کریمہ میں شہداء کی کرامت اور فضیلت بیان کی گئی ہے اور اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کا ذکر ہے جن سے شہدئا کو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و احسان سے نوازا ہے اور اسی ضمن میں ان زندہ لوگوں کے لئے تسلی اور تعزیت ہے جن کے اقرباء نے جام شہادت نوش کیا تھا۔ نیز ان کو جہاد فی سبیل اللہ کی ترغیب دینا اور ان میں شوق شہادت پیدا کرنا ہے اس لئے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : (ولا تحسبن الذین قتلوا فی سبیل اللہ) یعنی جو دشمنان دین کے ساتھ اس قصد کے ساتھ جہاد کرتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ کا کلمہ بلند ہو، قتل ہوگئے (امواتاً ) ” ان کو مردہ گمان مت کرو “ یعنی ان کے بارے میں تمہارے دل میں اس خیال کا گزر بھی نہ ہو کہ وہ موت سے ہم کنار ہو کر مفقود ہوگئے اور دنیاوی زندگی کی لذات ان سے دور ہوگئیں اور وہ دنیا کی رنگینیوں سے متمتع ہونے سے محروم ہوگئے۔ جن سے محرومی کے خوف اور بزدلی کی وجہ سے جہاد سے گریز کیا جاتا اور شہادت سے بچا جاتا ہے۔ (بل) بلکہ وہ اس سے بھی بلند مراتب حاصل کرچکے ہیں جن کے حصول کے لئے لوگ بڑھ چڑھ کر کر کوشش کرتے ہیں۔ (احیآء عند ربھم) یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے عزت و تکریم کے گھر میں زندہ ہیں۔ (عند ربھم) کا لفظ ان کے بلند درجات اور ان کے رب کے قرب پر دلالت کرتا ہے (یرزقون) یعنی ان انواع و اقسام کی نعمتوں سے رزق عطا کیا جاتا ہے جن کے اوصاف کو صرف وہی ہستی جانتی ہے جس نے ان کو یہ نعمتیں عطا کی ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ (فرحین بمآ اتھم اللہ من فضلہ) یعنی ان نعمتوں کے حصول پر وہ خوش ہوتے ہیں۔ ان کی آنکھیں ٹھنڈی اور نفس خوش ہوتے ہیں۔ یہ فرحت ان نعمتوں کی خوبصورتی، ان کی کثرت و عظمت، ان نعمتوں تک پہنچنے میں کامل لذت اور ان نعمتوں کے کبھی ختم نہ ہونے کی بنا پر ہوگی۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے رزق کے ذریعے سے بدنی نعمت اور اپنے فضل و کرم پر فرحت کے ذریعے سے قلبی اور روحانی نعمت کو جمع کردیا ہے۔
پس ان کے لئے نعمت اور مسرت کی تکمیل ہوگئی (ویستبشرون بالذین لم یلحقوا بھم من خلفھم) یعنی وہ ایک دوسرے کو اپنے ان بھائیوں کے پہنچنے پر جو ابھی تک نہیں پہنچے، خوشخبری دیتے ہیں نیز انکو بھی وہی نعمتیں حاصل ہوں گی جن سے وہ بہرہ ور ہوچکے ہیں (الا خوف علیھم ولا ھم یحزنون) یعنی ڈرانے والے امور کے ان سے اور ان کے بھائیوں سے زائل ہونے کی وجہ سے بہت خوش ہوں گے جن کا زوال کامل مسرت کو مستلزم ہے۔ (یستبشرون بنعمۃ من اللہ و فضل) وہ ایک دوسرے کو ہدیہ تبریک پیش کر رہے ہوں گے اور یہ ان کے رب کی نعمت اور اس کا فضل و کرم ہے۔ (وان اللہ لایضیع اجر المومنین) اور اہل ایمان کے اجر کو ضائع نہیں کرتا بلکہ وہ اسے بڑھاتا ہے اس کی قدر کرتا ہے اپنے فضل و کرم سے اس میں اتنا اضافہ کرتا ہے کہ ان کی کوشش وہاں تک پہنچ ہی نہیں سکتی۔ ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ برزخ میں بھی نعمتیں عطا ہوں گی اور برزخ میں شہداء اپنے رب کے پاس بلند ترین مقامات پر فائز ہوں گے۔ نیز نیک ارواح ایک دوسرے سے ملاقات اور ایک دوسرے کی زیارت کرتی ہیں اور ایک دوسرے کو خوشخبری دیتی ہیں۔
Ayahs 3:172–176آیت 172-175
جب رسول اللہ ﷺ احد سے مدینہ کی طرف لوٹ آئے آپ نے سنا کہ ابوسفیان اور اس کے ساتھ جو مشرک ہیں وہ مدینہ پر دوبارہ حملہ کرنا چاہتے ہیں تو آپ نے اپنے اصحاب کرام کو جنگ کے لئے نکلنے کو کہا۔ اس کے باوجود کہ صحابہ کرام سخت زخمی تھے، رسول اللہ ﷺ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے نکل آئے۔ جب وہ ” حمراء الاسد “ پہنچے تو ایک آنے والے نے ان کے پاس آ کر کہا (ان الناس قد جمعوا لکم) اس نے خوف زدہ کرنے کی غرض سے کہا کہ لوگ تمہیں مٹانے کے لئے اکٹھے ہو رہے ہیں۔ اس کے اس قول نے اللہ تعالیٰ پر ایمان اور بھروسے میں اور اضافہ کیا اور انہوں نے کہا۔ (حسبنا اللہ) یعنی ہماری پریشانیوں میں اللہ تعالیٰ ہمیں کافی ہے (ونعم الوکیل) اور وہ بہترین کار ساز ہے اور بندوں کی تدبیر اسی کے سپرد ہے اور وہ ان کے مصالح کا اتنظام کرتا ہے۔
(فانقلبوا) یعنی مسلمان لوٹے (بنعمۃ من اللہ و فضل لم یمستھم سوآء) ” اللہ کے احسان اور فضل کے ساتھ، ان کو کوئی برائی نہ پہنچی ‘ جب یہ خبر مشرکین کے پاس پہنچی کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اصحاب کرام تمہارے تعاقب میں آرہے ہیں اور جو پیچھے رہ گئے تھے وہ بھی اب نادم ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا اور وہ مکہ واپس چلے گئے اور اہل ایمان اللہ تعالیٰ کی نعمت اور اس کے فضل و کرم سے مستفید ہو کر لوٹے کیونکہ اس حالت میں بھی ان کو جنگ کے لئے نکلنے کی توفیق ہوئی اور انہوں نے اپنے رب پر بھروسہ کیا۔ علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے غازیوں کا پورا اجر لکھ دیا۔ پس اپنے رب کے لئے حسن اطاعت اور اس کی نافرمانی سے بچنے کی وجہ سے ان کے لئے بہت بڑا اجر ہے۔
(انما ذلکم الشیطن یخوف اولیآء ہ) یعنی مشرکین میں سے جس نے ڈرایا اور کہا کہ لوگ تمہارے لئے اکٹھے ہوچکے ہیں۔ وہ شیطان کے داعیوں میں سے ایک داعی ہے جو اپنے دوستوں کو ڈراتا ہے جو ایمان سے محروم ہیں یا جن کا ایمان کمزور ہے۔ فرمایا (فلا تخافوھم وخافون ان کنتم مؤمنین) یعنی شیطان کے دوست مشرکین سے نہ ڈرو کیونکہ ان کی پیشانیاں اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر کے مطابق ہی تصرف کرسکتے ہیں۔ بلکہ اللہ تعالیٰ سے ڈرو جو اپنے ان دوستوں کی مدد کرتا ہے جو اس سے ڈرتے ہیں اور اس کی دعوت پر لبیک کہتے ہیں۔ اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ کا خوف واجب ہے اور اللہ تعالیٰ کا خوف لوازم ایمان میں شمار ہوتا ہے۔ بندہ اپنے ایمان کی مقدار کے مطابق خوف الٰہی رکھتا ہے اور خوف محمود وہ ہے جو بندے کو اللہ تعالیٰ کے حرام کردہ امور کے ارتکاب سے روک دے۔
Ayah 3:177آیت 177
رسول اللہ ﷺ لوگوں کی ہدایت کے بہت آرزو مند تھے اور ان کو ہدایت کی راہ پر لانے کے لئے جدوجہد کرتے تھے۔ جب وہ ہدایت قبول نہ کرتے تو آپ بہت آزردہ ہوتے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ولا یحزنک الذین یسارعون فی الکفر) یعنی ان کی کفر میں شدید رغبت اور چاہت کی وجہ سے آپ آزردہ خاطر نہ ہوں (انھم لن یضروا اللہ شیآء) ” وہ اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے “ پس اللہ تعالیٰ اپنے دین کا حامی و ناصر، اپنے رسول ﷺ کی مدد کرنے والا اور ان کے بغیر اپنے حکم کو نافذ کرنے والا ہے۔ اس لئے آپ ان کی پروا نہ کریں۔ یہ محض اپنے آپ کو نقصان پہنچا رہے ہیں، ایمان سے محروم ہو کر اس دنیا میں اپنے آپ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں اور قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کے سامنے حقیر ہونے، اس کی نظر سے گرنے اور اللہ تعالیٰ کے اس ارادے کی وجہ سے کہ آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہ ہو۔۔۔ ان کے لئے درد ناک عذاب ہوگا۔ ان کی جزایہ ہے کہ اس نے ان کو اپنے حال پر چھوڑ دیا اور انہیں اس توفیق سے نہ نوازا جو اس نے نہایت عدل و حکمت کی بنا پر اپنے اولیاء اور ان بندوں کو عطا کی جن کے ساتھ وہ بھلائی چاہتا ہے۔۔۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کو علم ہے کہ وہ راہ ہدایت کے ذریعے سے تزکیہ نفس نہیں چاہتے اور اپنے فاسد اخلاق واطوار اور برے مقاصد کی بنا پر رشد و ہدایت کو قبول نہیں کرتے۔
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ وہ لوگ جنہوں نے ایمان کے مقابلے میں کفر کو چن لیا پھر اس کفر میں اس شخص کی مانند رغبت کرنے لگے جو کسی محبوب مال تجارت کو خریدنے کے لئے اپنا محبوب مال خرچ کرتا ہے۔ فرمایا : (لن یضروا اللہ شیئاً ) ” وہ اللہ کو کچھ نقصان نہیں پہنچاتے۔ “ بلکہ ان کے فعال کا نقصان خود ان کی ذات کو پہنچتا ہے۔ بنا بریں فرمایا : (ولھم عذاب الیم) ” اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہے “ وہ اللہ تعالیٰ کو کیسے نقصان پہنچا سکتے ہیں، وہ ایمان سے دور بھاگتے رہے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر میں پوری طرح راغب رہے۔ اللہ ان سے بےنیاز ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کے لئے ان کفار کے سوا اپنے نیک اور پاک بندوں کو مقرر کر رکھا ہے اور اپنے دین کی مدد اور نصرت کے لئے اپنے پسندیدہ بندوں میں سے اصحاب عقل و بصیرت اور بڑے بڑے ذہین لوگوں کو تیار کر رکھا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (قل امنوا بہ اولا تومنوا ان الذین اوتوا العلم من قبلہ اذا یتلی علیھم یخرون للاذقان سجدا) (بنی اسرائیل : 108/18) ” کہہ دیجیے کہ تم اس قرآن پر ایمان لاؤ یا نہ لاؤ جن کو اسسیپ ہلے علم دیا گیا جب یہ ان کے سامنے پڑھا جاتا ہے تو وہ ٹھوڑیوں کے بل سجدے میں گرجاتے ہیں۔ “
Ayah 3:178آیت 178
وہ لوگ جو اپنے رب کے ساتھ کفر کرتے ہیں، اس کے دین کو دور پھینکتے ہیں اور اس کے رسول ﷺ کے خلاف جنگ کرتے ہیں، یہ نہ سمجھیں کہ ہمارا انکو اس دنیا میں چھوڑ دینا، ان کا استیصال نہ کرنا اور ان کو مہلت دینا، ان کے لئے بہتر ہے اور ہم ان سے محبت کرتے ہیں۔ ہرگز نہیں، معاملہ ایسا نہیں جیسا وہ سمجھتے ہیں۔ یہ مہلت دینا تو ان کے حق میں برا ہے ان کی سزا اور عذاب میں اضافہ ہوگا اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (انما نملی لھم لیزدادوآ اثما ولھم عذاب مھین) ” ہم تو انہیں اس لئے مہلت دیتے ہیں تاکہ وہ گناہوں میں اور ترقی کریں اور ان کے لئے رسوا کن عذاب ہے “ پس اللہ تعالیٰ ظالم کو ڈھیل دیتا ہے یہاں تک کہ اس کی سرکشی بڑھ جاتی ہے اس کے رویے میں پے درپے کفر کا اظہار ہوتا ہے۔ پھر وہ اس کو غلب اور مقتدر ہستی کے طور پر پکڑ لیتا ہے۔ پس ظالموں کو اس مہلت سے ڈرنا چاہیے اور وہ یہ نہ سمجھ لیں کہ وہ اس بڑی اور بلند ہستی کی پکڑ سے رہ جائیں گے۔
Ayah 3:179آیت 179
یعنی یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت نہیں کہ وہ اہل ایمان کو پرکھے بغیر خلط ملط حالت میں چھوڑ دے۔ وہ ان کو پرکھے گا اور پاک کو ناپاک میں سے، مومن کو منافق میں سے اور سچے کو جھوٹے میں سے علیحد کرے گا۔ نیز یہ بھی اللہ تعالیٰ کی حکمت نہیں کہ اپنے بندوں کو اس غیب پر مطلع کرے جس کا علم اس نے اپنے بعض بندوں (رسولوں) کو عطا کیا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ وہ اپنے بندوں کو مختلف قسم کی آزمئاش اور امتحان میں مبتلا کرے تاکہ پاک میں سے ناپاک ممیز ہوجائے۔ اس مقصد کے لئے اللہ تعالیٰ نے انبیاء و رسل مبعوث فرمائے اور نیک اطاعت، ان کی پیروی اور ان پر ایمان لانے کا حکم دیا۔ ایمان اور تقویٰ کے بدلے میں مقنسم ہیں : اطاعت گزار اور نافرمان، مومنین اور منافقین، مسلمان اور کفار۔ تاکہ ان پر اللہ تعالیٰ کا ثواب و عقاب مترتب ہو اور تاکہ اس کا عدل و فضل اور اس کی مخلوق پر اس کی حکمت ظاہر ہو۔