Ayah 3:97آیات 97
اللہ تعالیٰ کعبہ شریف کا شرف بیان فرما رہا ہے کہ یہ پہلا گھر ہے جو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے لئے اس مقصد کے لئے مقرر کیا ہے کہ وہ اس میں اپنے رب کی عبادت کریں اور ان کے گناہ معاف ہوں اور انہیں وہ نیکیاں حاصل ہوں جن کی وجہ سے انہیں رب کی رضا حاص لہو، اور وہ ثواب حاصل کر کے اللہ کے عذاب سے بچ جائیں۔ اس لئے فرمایا : (مبرکا) ” برکت والا ہے “ اس میں بہت سی برکتیں اور دینی و دنیوی فوائد موجود ہیں۔ جیسے دوسرے مقام (لیشھدوا منافع لھم ویذکروا اسم اللہ فی ایام معلومت علی مارزقھم من بھیمۃ الانعام) (الحج :28/22) ” تاکہ وہ اپنے فائدے حاصل کرنے کو آجائیں اور ان مقررہ دنوں میں ان چوپایوں پر اللہ کا نام یاد کریں جو اس نے انہیں دیئے ہیں “ (وھدی للعلمین) ” اور ہدایت ہے جہان والوں کے لئے “ ہدایت کی دو قسمیں ہیں : علمی ہدایت اور عملی ہدایت۔ عملی ہدایت تو ظاہر ہے کہ اللہ نے ایسی عبادتیں مقرر کی ہیں جو اس مقدس گھر کے ساتھ مخصوص ہیں۔ علمی ہدایت یہ ہے کہ اس کی وجہ سے حق کا علم حاصل ہوتا ہے کیونکہ اس میں واضح نشانیاں موجود ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (فیہ ایت بینت) ” اس میں کھلی کھلی نشانیاں ہیں “ یعنی مختلف علوم الٰہی اور بلند مطالب پر واضح دلائل اور قطعی براہین موجود ہیں۔ مثلاً اللہ کی توحید کے دلائل، اس کی رحمت، حکمت، عظمت، جلالت، اس کے کامل علم اور بےحد و حساب جو دوسخا کے دلائل، اور انبیاء و اولیاء پر ہونے والے اللہ کے احسانات کی نشانیاں۔ ان نشانیوں میں سے ایک (مقام ابراہیم) ” مقام ابراہیم “ بھی ہے۔ اس سے وہ پتھر بھی مراد ہوسکتا ہے جس پر کھڑے ہو کر ابراہیم کعبہ کی عمارت بناتے رہے تھے۔ پہلے یہ کعبہ کی دیوار سے متصل تھا۔ حضرت عمر نے اپنے دور خلافت میں اسے موجودہ مقام پر منتقل کیا۔ اس پتھر میں نشان سے مراد ایک قول کے مطابق حضرت ابراہیم کے قدموں کے نشان ہیں کہ سخت چٹان میں نشان پڑگئے جو امت محمدیہ کے ابتدائی زمانے تک باقی رہے۔ یہ ایک خرق عادت معجزہ ہے۔ دوسرے قول کے مطابق نشان سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے دلوں میں اس کی عظمت، شرف اور احترام کے جذبات رکھ دیئے ہیں۔ (مقام ابراہیم “ کی دوسری تشریح یہ ہوسکتی ہے کہ یہ لفظ مفرد ہے جسے ابراہیم کی طرف مضاف کیا گیا ہے۔ اس لئے اس سے مراد وہ تمام مقامات ہیں جن سے آپ کا تعلق ہے یعنی وہ تمام مقامات جہاں حج کے مناسک ادا ہوتے ہیں۔ اس لحاظ سے حج کے تمام مناسب بھی ” آیات بینات “ میں شامل ہیں۔ مثلاً طواف، سعی اور ان کے مقامات، عرفان اور مزدلفہ میں ٹھہرنا، رمی کرنا اور دوسرے شعائر۔ اس میں نشانی یہ ہے کہ اللہ نے لوگوں کے دلوں میں ان کی عظمت و احترام نقش کردیا ہے۔ لوگ یہاں تک پہنچنے کے لئے مال و دولت خرچ کرتے اور ہر قسم کی مشقت برداشت کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں اس میں عجیب و غریب اسرار اور اعلیٰ معنویات پوشیدہ ہیں۔ اس کے افعال میں حکمتیں اور مصلحتیں ہیں کہ مخلوق ان میں سے تھوڑی سی حکمتیں شمار کرنے سے بھی عاجز ہے۔ اس کی کھلی نشانیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس میں داخل ہونے والے کو اللہ تعالیٰ امن عطا فرماتا ہے اور اسے شرعی حکم بھی قرار دے دیا گیا ہے، چناچہ اللہ تعالیٰ نے اور اس کے پیغمبر ابراہیم نے، پھر محمد ﷺ نے اس کے احترام کا حکم دیا ہے اور یہ حکم دیا ہے کہ جو اس میں داخل ہوجائے، اسے امن حاصل ہوجاتا ہے۔ اسے وہاں سے نکالا نہیں جاسکتا۔ یہ حرمت حرم کے شکار، درختوں اور نباتات کو بھی حاصل ہے۔ اس آیت سے بعض علماء نے استدلال کیا ہے کہ اگر کوئی شخص حدود حرم سے باہر کوئی جرم کرلے، پھر حرم میں آجائے تو اسے بھی امن حاصل ہوگا۔ جب تک وہ اس سے باہر نہیں آتا اس پر حد قائم نہیں کی جائے گی۔ اللہ کے قضا و قدر کے فیصلے کے مطابق اس مقام کے امن ہونے کی وضاحت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے دلوں میں، حتی کہ مشرکوں اور کافروں کے دلوں میں بھی اس کا احترام ڈال دیا۔ مشرکین عرب انتہائی لڑاکا طبیعت والے، غیرت والے اور کسی کا طعنہ برداشت نہ کرنے والے تھے۔ اس کے باوجود اگر کسی کو اپنے باپ کا قاتل بھی حرم کی حدود میں مل جاتا تھا تو وہ اسے کچھ نہیں کہتا تھا۔ اس کے حرم ہونے کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ جو اسے نقصان پہنچانا چاہے اللہ تعالیٰ اسے دنیا ہی میں سزا دے دیتا ہے۔ جیسے ہاتھی والوں کے ساتھ ہوا۔
اس موضوع پر میں نے ابن قیم کا بہت اچھا بیان پڑھا ہے۔ میرا جی چاہتا ہے کہ اسے یہاں ذکر کر دوں، کیونکہ اس کا معلوم ہونا بہت ضروری ہے۔ امام صاحب فرماتے ہیں :
فائدہ : (وللہ علی الناس حج البیت من استطعا الیہ سبیلا) اس آیت میں (حج البیت) مبتدا ہے۔ اس کی خبر اس سے پہلے دو چار و مجرور میں سے کوئی ایک ہوسکتا ہے۔ معنی کے لحاظ سے (علی الناس) کو بنانا بہتر ہے کیونکہ یہ وجوب کے لئے ہے اور وجوب کے لئے ہے اور وجوب کے لئے (علی) ہونا چاہیے۔ ممکن ہے ” وللہ “ خبر ہو۔ کیونکہ اس میں وجوب اور استحقاق کا مفوہم ہے۔ اس قول کو اس امر سے بھی ترجیح حاصل ہوتی ہے کہ فائدہ کا اصل مقام خبر ہے۔ اس مقام میں اس کو لفظاً مقدم کیا گیا ہے لیکن معنی کے لحاظ سے وہ موخر ہے۔ اس وجہ سے (وللہ علی الناس) کہنا بہتر ہوا۔ پہلے قول کی تائید میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ وجوب کے لئے (حج البیت علی الناس) ” بیت اللہ کا حج لوگوں پر واجب ہے “ کا انداز زیادہ استعمال ہوتا ہے بنسبت یوں کہنے کے (حج البیت للہ) ” بیت اللہ کا حج اللہ کا حق ہے۔ “
اس تشریح کے مطابق پہلے مجرور کو مقدم کرنا، حالانکہ وہ خبر نہیں، دو فوائد کا حامل ہے :
پہلا فائدہ : یہ حج کو واجب کرنے والے (اللہ) کا نام ہے۔ لہٰذا وجوب کے ذکر سے پہلے اس کا ذکر کرنا زیادہ حق رکھتا ہے۔ یعنی آیت میں تین اشیا کا ذکر ہے جو وقوع کے لحاظ سے بالترتیب ذکر ہوئی ہیں :
(1) اس فریضہ کو واجب کرنے والا۔ اس کا ذکر سب سے پہلے کیا گیا ہے۔ (2) واجب کو ادا کرنے والا، جس پر وہ فرض عائد ہوتا ہے۔ وہ ہیں لوگ (3) وہ حق جس کے ساتھ اللہ کا تعلق واجب کرنے کا اور بندوں کا تعلق واجب ہونے اور ادا کرنے کا ہے، وہ ہے حج۔
دوسرا فائدہ : مجرور اللہ تعالیٰ کا نام مبارک ہونے کی وجہ سے اہمیت کا مستحق ہے۔ لہٰذا اس کے واجب کئے ہوئے فریضہ کے احترام کی عظمت کا لحاظ رکھتے ہوئے، اس فریضہ کو ضائع کرنے سے منع کرنے کے لئے اسے پہلے ذکر کرنا ضروری ہے۔ کیونکہ اللہ کا واجب کیا ہوا کام کسی اور کے واجب کئے ہوئے کی طرح نہیں، بلکہ زیادہ اہم اور لازم ہے۔
لفظ ” من “ بدل ہے۔ بعض لوگوں نے اسے مصدر کا فاعل قرار دینا پسند کیا ہے گویا آیت کا مفہوم یوں ہے : (ان یحج البیت من اسطاع الیہ سبیلا) ” کہ جو شخص اس کی طرف راستے کی طاقت رکھتا ہے وہ بیت اللہ کا حج کرے “ یہ قول کئی وجہ سے ضعیف ہے۔ (1) حج فرض عین ہے۔ اگر آیت کا مفہوم یہ ہوتا جو ان لوگوں نے بیان کیا ہے تو اس سے حج کا فریضہ فرض کفایہ ہوتا۔ یعنی جب استطاعت والوں نے حج کرلیا تو دوسروں کے ذمہ سے ساقط ہوگیا۔ اس صورت میں معنی یوں بن جاتا ہے (واللہ علی الناس حج البیت مستطیعھم) ” لوگوں کے ذمے اللہ کے لئے بیت اللہ کا حج فرض ہے استطاعت رکھنے والے کے لئے “ اس کا نتیجہ ہوگا کہ جب استطاعت رکھنے والوں نے ادا کرلیا تو استطاعت نہ رکھنے والوں پر واجب نہیں رہا۔ حالانکہ صحیح صورتحال یہ نہیں۔ بلکہ حج ہر شخص پر فرض عین ہے۔ طاقت والا حج کرے یا نہ کرے وہ اس کے ذمے ہے۔ لیکن طاقت نہ رکھنے والے کو اللہ نے معذور قرار دیا ہے۔ لہٰذا اس سے مواخذہ نہیں کرے گا، نہ اس سے ادائیگی کا مطالبہ کرتا ہے۔ جب وہ حج کرے گا تو خود اس کا اپنا فرض ادا ہوگا۔ ایسا نہیں ہے کہ طاقت رکھنے والوں کے حج کرنے کی وجہ سے طاقت نہ رکھنے والوں سے فرضیت ساقط ہوجاتی ہو۔ اس کی مزید وضاحت اس مثال سے ہوتی ہے کہ جب کوئی کہے : (واجب علی اھل ھذہ الناحیۃ ان یجاھد منھم الطائفۃ المستطیعون للجھاد) ” اس علاقے والوں کا فرض ہے کہ ان میں سے جہاد کی طاقت رکھنے والی جماعت ضرور جہاد کرے “ تو اس کا یہ مطلب ہوگا کہ جب طاقت رکھنے والے جہاد کریں تو دوسرے لوگوں سے وجوب کا تعلق ختم ہوجائے گا۔ لیکن اگر یوں کہا جائے (واجب علی الناس کلھم ان یجاھد منھم المستطیع) ” سب لوگوں کا فرض ہے کہ ان میں سے طاقت رکھنے والا جہاد کرے “ تو وجوب کا تعلق تو ہر فرد سے ہوگا، لیکن طاقت نہ رکھنے والے معذور سمجھے جائیں گے۔ لہٰذا (للہ حج البیت علی المستطیعین) کے بجائے آیت مبارکہ کے انداز سے ارشاد فرمانے میں یہ نادر نکتہ ہے۔ لہٰذا سے غور کر کے سمجھنا چاہیے۔
دوسری وجہ : جملہ میں فاعل کی موجوگدی میں مصدر کی اضافت فاعل کی طرف کرنا مفعول کی طرف اضافت کرنے کی نسبت زیادہ اولیٰ ہے۔ اس اصول سے گریز صرف کسی منقول دلیل ہی کی بنیاد پر کیا جاسکتا ہے۔ آیت مبارکہ میں اگر (من) کو فاعل تسلیم کیا جائے تو اس کا تقاضا ہے کہ مصدر کو اس کی طرف مضاف کر کے یوں کہا جائے : (وللہ علی الناس حج من استطاع) اسے (یعجبنی ضرب زید عمراً ) جیسی مثال پر یا مصدر اور اس کے مضاف الیہ فاعل کے درمیان مفعول یا ظرف کے فاصلے کی صورت پر محمول کرنا گویا مکتوب پر محمول کرنا ہے جو مرجوع ہے۔ جیسے ابن عامر کی یہ قرأت مرجوح ہے (کذلک زین لکثیر من المشرکین قتل اولادھم شرکانھم) لہٰذا یہ قول درست نہیں ہے۔ جب یہ ثابت ہوگیا کہ (من استطاع) میں (من) بدل بعض ہے تو ضروری ہے کہ کلام میں کوئی ضمیر موجود ہو جو (الناس) کی طرف راجع ہو۔ یعنی عبارت گویا یوں ہے (من استطاع منھم) اکثر مقامات پر اس ضمیر کا حذف کرنا بہتر نہیں ہوتا۔ البتہ یہاں اس کا حذف کرنا اچھا ہے۔ اس کی کئی وجوہ ہیں : (1) (من) کا لفظ اس کے مبدل منہ کی طرح غیر عاقل پر واقع ہوا ہے اس لئے اس سے ربط قائم ہوگیا۔ (2) یہ اسم موصول ہے جس کا صلہ اس سے زیادہ خاص ہے۔ اگر صلہ عام ہوتا تو ضمیر حذف کرنا قبیح ہوتا۔ اس کی مثال یہ ہے کہ جب آپ کہیں : (رأیت اخوتک من ذھب الی السوق منھم) ” میں نے تیرے بھائیوں کو، ان میں سے جو بازار گیا، دیکھا “ تو یہ قبیح ہوگا۔ کیونکہ بازار جانیوالا دوسرے بھائیوں کی نسبت عام ہے۔ اسی طرح اگر یوں کہا جائے : (الیس الثیاب ماحسن) ” کپڑے پہن جو اچھے ہیں “ مطلب یہ ہوگا کہ (ماحس منھا) ” ان میں سے جو اچھے ہیں “ تو ضمیر ذکر نہ کرنا زیادہ غلط ہوگا۔ کیونکہ لفظ (ماحسن) میں ” الثبات “ کی نسبت عموم پایا جاتا ہے اور بدل بعض کو مبدل منہ سے زیادہ خاص ہونا چاہیے۔ اگر وہ زیادہ عام ہو پھر اسے مبدل منہ کی طرف لوٹنے والی چیز کی طرف مضاف کردیا جائے، یا اس ضمیر کے ساتھ مقید کردیا جائے تو عموم ختم ہوجائے گا اور خصوص کا مفہوم باقی رہ جائے گا۔ (3) یہاں مضاف کو حذف کرنا اس لئے بھی بہتر ہے کہ صلہ اور موصول کے ساتھ کلام زیادہ طویل ہوجاتا ہے۔
لفظ (للہ) کے مجرور کے بارے میں دو احتمال ہیں اول یہ کہ وہ (من سبیل) کے محل میں ہو۔ گویا وہ گویا وہ نکرہ کی صفت ہے جو نکرہ سے مقدم ہے۔ کیونکہ اگر اسے موخر کیا جاتا توہ (سبیل) کی صفت کی جگہ ہوتا۔ دوم یہ کہ (سبیل) کا متعلق ہو۔ اگر آپ کہیں کہ یہ اس کا متعلق کیسے ہوسکتا ہے جب کہ اس ” سبیل “ میں فعل کا معنی نہیں۔ جواب یہ ہے کہ یہاں ” سبیل “ کا مفہوم ” الموصل الی لبیت “ کعبہ تک پہنچانے والی چیز یعنی سامان سفر وغیرہ ہے۔ لہٰذا اس میں فعل کا تھوڑا سا مفہوم پایا جاتا ہے۔ یہاں ” سبیل “ سے وہ راستہ مراد نہیں جس پر چلتے ہیں۔ اس لئے جار مجرور اس کے متعلق ہوسکتا ہے اور حسن نظم اور اعجاز لفظی کے لحاظ سے جار مجرور کو مقدم کرنا بہتر تھا، اگرچہ اس کا اصل مقام موخر ہی ہے، کیونکہ یہ ضمیر ’ د بیت “ کی طرف راجع ہے اور اصل اہمیت ” بیت “ (کعبہ) ہی کو دینا مقصود ہے اور اہل عرب کلام میں اہم چیز کو مقدم کرتے ہیں۔ یہ سہیلی کے کلام کی وضاحت ہے۔ لیکن یہ قول بہت بعید ہے۔ بلکہ جار مجرور کے متعلق ان دونوں سے بہتر ایک قول ہے، وہی درست ہے اور اس آیت سے وہی مفہوم مناسبت رکھتا ہے۔ وہ ہے ” وجوب “ جو آیت کے لفظ (علی الناس) سے سمجھ میں آتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ (یحب للہ علی الناس الحج) ” لوگوں پر اللہ کے لئے حج کرنا واجب ہے۔ “ یعنی وہ اللہ کا وجوبی حق ہے۔ اسے ” سبیل “ کے متعلق قرار دے کر اس کا حال بنانا بہت ہی بعید ہے۔ آیت سے یہ مفہوم بالکل ذہن میں نہیں آتا۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے آپ کہیں ( للہ علیک الصلاۃ والزکاۃ و الصیام) ” آپ پر اللہ کے لئے نماز، زکوۃ اور روزہ ضروری ہے “
آیت میں ایک نکتہ یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی ایسے کام کا ذکر کرتا ہے، جسے واجب یا حرام قرار دینا مقصود ہو تو وہ اکثر اوقات امرونہی کے الفاظ سے مذکورہ ہوتا ہے۔ بعض اوقات اس مقصد کے لئے ایجاب، کتابت اور تحریم کے الفاظ بھی وارد ہوتے ہیں۔ مثلاً (کتب علیکم الصیام) (البقرہ :183/2) ” تم پر روزہ رکھنا لکھ دیا گیا ہے۔ “ (حرمت علیکم المیتۃ) (المائدۃ :3/5) ” تم پر مردار حرام کیا گیا ہے “ (قل تعالوا اتل ماحرم ربکم علیکم) (الانعام :101/6) ” آؤ میں تمہیں پڑھ کر سناؤں کہ اللہ نے تم پر کیا پابندیاں لگائی ہیں۔ “ حج کے بارے میں جو لفظ استعمال ہوا ہے (وللہ علی الناس حج البیت) ” اس سے دس انداز سے وجوب ثابت ہوتا ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نام کو مقدم فرمایا ہے اور اس پر ” ل “ داخل کیا ہے، جس سے استحقاق اور اختصاص ظاہر ہوتا ہے۔ پھر جن پر واجب ہے ان کے لئے عموم کا صیغہ استعمال کیا ہے، اور اس پر ” علی “ داخل کیا ہے، جس سے اہل استطاعت کو بدل بنایا ہے پھر ” سبیل “ نکرہ ہے جو سیاق شرط میں واقع ہے۔ اس میں اشارہ ہے کہ حج ہر قسم کے ” سبیل “ میسر ہونے سے واجب ہوجاتا ہے مثلاً خوراک اور مال یعنی وجوب کا تعلق ہر اس چیز سے ہے جسے ” سبیل “ کہا جاسکے۔ پھر اس کے بعد سب سے عظیم تہدید ذکر فرمائی اور فرمایا (ومن کفر) یعنی جس نے اس واجب پر عمل نہ کر کے اور اسے ترک کر کے کفر کا ارتکاب کیا۔ پھر اس کی عظمت شان کے لئے وعید کو موکد فرمایا اور بتایا کہ اللہ تعالیٰ مستغنی ہے۔ اسے کسی کے حج کی ضرورت نہیں۔ یہاں استغنا کے ذکر کا مقصد ناراضی، غصے اور بےاعتنائی کا اظہار ہے، جو بہت عظیم اور بلیغ وعید ہے۔ اس کی مزید تائید اس سے ہوتی ہے کہ یہاں (العالمین) کا عام لفظ بولا گیا ہے۔ یہ نہیں فرمایا : (قان اللہ غنی عنہ) ” اللہ اس سے مستغنی ہے “ کیونکہ جب وہ تمام جہانوں سے مستغنی اور بےپروا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اسے ہر لحاظ سے اور ہر اعتبار سے کامل و مکمل استغنا حاصل ہے۔ اس طرح اس کے واجب کردہ حق کو ترک کرنے والے پر اس کی نارضای زیادہ تاکید سے ظاہر ہوتی ہے۔ پھر اس مفہوم کو لفظ (ان) کے ساتھ ذکر فرمایا گیا ہے جو بذات خود تاکید پر دلالت کرتا ہے۔ یہ دس وجوہ ہیں جن سے اس فرض عظیم کا ضروری اور موکد ہونا ظاہر ہوتا ہے۔
علاوہ ازیں آیت مبارکہ میں موجود بدل میں پوشید ہنکتہ پر بھی غور کیجے۔ بدل کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ اسناد دوبارہ ذکر ہوئی ہے۔ ایک دفعہ اسکی اسناد عمومی طور پر سب لوگوں سے ہے اور دوسری بار خاص طور پر استطاعت رکھنے والوں سے اور بدل کا ایک فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ اسناد کی تکرار سے معنی میں قوت پیدا ہوجاتی ہے۔ اسی لئے بدل عامل کی تکرار اور دہرانے کا مفہوم رکھتا ہے۔
پھر غور کیجیے کہ آیت میں کس طرح ابہام کے بعد توضیح اور اجمال کے بعد تفصیل ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ اسے اہمیت دیتے ہوئے اور اس کی شان کی تاکید فرماتے ہوئے کلام کو دو صورتوں میں وارد کیا گیا ہے۔ پھر یہ بھی غور کیجیے کہ کس طرح وجوب کا ذکر کرنے سے پہلے کعبہ شریف کی خوبیوں اور عظمت کا ذکر کیا گیا ہے۔ جس سے دلوں میں اس کی زیارت اور حج کا شوق پیدا ہوتا ہے۔ اگرچہ یہ چیز خود مقصود نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ان اول بیت وضع للناس للذی ببکۃ مبرکا وھدی للعلمین) چناچہ کعبہ شریف کی پانچ صفات بیان کی گئی ہیں۔ (1) وہ دنیا میں عبادت کے لئے مقرر کیا جانے والا سب سے پہلا اللہ کا گھر ہے۔ (2) برکت والا ہے۔ برکت کا مطلب خیر کا دوام اور کثرت ہے۔ دنیا میں اتنی برکت والا، اس قدر کثیر اور دائمی خیر والا اور مخلوق کے لئے اس قدر فوائد کا حامل کوئی گھر موجود نہیں۔ (3) وہ ہدایت ہے۔ ہدایت دینے والے کے بجائے ہدایت (مصدر) کا لفظ بولنے میں مبالغہ کا مفہوم پایا جاتا ہے گویا یہ خود سراپا ہدایت ہے۔ (4) اس میں آیات بینات (واضح نشانیاں) موجود ہیں۔ جن کی تعداد چالیس سے زیادہ ہے۔ (5) اس میں داخل ہونے والے کے لئے امن ہے۔ اگر یہی صفات ذکر کردی جاتیں اور اس کی زیارت کا حکم نہ دیا جاتا، تب بھی ان صفات کی وجہ سے دلوں میں اس کی زیارت کی تڑپ پیدا ہوتی، خواہ کتنی دور سے آنا پڑتا۔ یہاں تو یہ صفات ذکر کرنے کے بعد صراحت کے ساتھ فرض ہونے کا ذکر کیا گیا ہے اور اس کے ساتھ اس قدر تاکید ات لائی گئی ہیں، جن سے بالکل واضح ہوجاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس گھر کی بےحد اہمیت ہے اور اس کے نزدیک اس کی شان و عظمت کی کوئی حد نہیں۔ اگر اس میں یہی شرف ہوتا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی نسبت اپنی طرف کرتے ہوئے اسے (بیتی) ” میرا گھر “ فرمایا ہے، تو یہ نسبت ہی اتنی بڑی فضیلت اور اتنا بڑا شرف ہے کہ صرف اس کی وجہ سے جہان والوں کے دل اس کی طرف متوجہ ہوجاتے اور اس کی زیارت کے لئے دور دراز سے کھینچے آتے۔ محبت کرنے والوں کی یہی شان ہوتی ہے کہ وہ اس کے پاس اکٹھے ہو کر آتے ہیں، اس کی زیارت سے کبھی سیر نہیں ہوتے۔ جتنی زیادہ زیارت کرتے ہیں، اتنا ہی محبت اور شوق میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ نہ دور جانے سے محبت کی لو مدہم ہوتی ہے نہ وصال سے ان کی پیاس بجھتی ہے۔ جیسے کسی شاعر نے کہا ہے :
میں اس کا طواف کرتا ہوں اور دل پھر بھی شوق سے بھرپور ہے
کیا طواف کے بعد مزید قرب بھی ہوسکتا ہے ؟
میں اس کے حجر اسود کو چومتا ہوں اور اس طرح دل میں موج زن محبت اور پیاس کو ٹھنڈک پہنچاتا ہوں
قسم ہے اللہ کی ! میری محبت ہی میں اضافہ ہوتا ہے
اور دل اور زیادہ دھڑکنے لگتا ہے
اے جنت ماویٰ ! اے مقصود تمنا !
اور اے میری آرزو ! ہر امان سے قریب تر !
غلبہ ہائے شوق تیرے قرب پر اصرار کرتے ہیں
تجھ سے فراق میرے بس میں نہیں
میں اگر تجھ سے دور ہوا تو اس کی وجہ بےاعتنائی نہیں
اس کا گواہ میری (اشک بار) آنکھیں اور (نالہ وشیون کرتی) زبان ہے
تجھ سے دور ہونے کے بعد میں نے صبر کو بھی آواز دی اور گریہ کو بھی
گریہ نے (فوراً ) لبیک کہا (اور آگیا) اور صبر نے میری بات نہ مانی (صبر نہ آیا)
لوگ گمان کرتے ہیں کہ جب محب دور چلا جائے
تولمبا عرصہ گزرنے کے بعد اس کی محبت کمزور ہوجاتی ہے
اگر یہ خیال درست ہوتا، تو یقینا
ہر زمانے کے لوگوں کے لئے محبت کا علاج ہوتا
ہاں ہاں محب کمزور ہوجائے گا اور محبت
اسی حال میں ہوگی، اسے رات دن کے گزرنے نے کمزور نہیں کیا ہوگا۔ (1)
یہ محبت کرنے والا ہے، جسے شوق اور عشق لئے جاتا ہے
بغیر کسی لگام اور باگ کے جو اسے کھینچے لئے جاتی ہو
زیارت گاہ دور ہونے کے باوجود، وہ تیرے در پر آپہنچا ہے
اگر اس کی سواری کمزور ہوجاتی تو اس کے قدم ہی اسے لے آتے
یہاں امام ابن قیم کا کلام ختم ہوا۔
(1) امام ابن قیم کا یہ کلام ان کی ان کی کتاب ” بدائع الفوائد “ سے منقول ہے اس میں یہ شعر اس طرح درج ہے۔
بلی انہ یبلی التصبر والھوی علی حالہ لم یبلہ الملوان
ہاں صبر تو کمزور ہوجاتا ہے لیکن محبت۔۔۔۔۔۔۔ اپنے حال پر رہتی ہے، وہ رات دن کے گزرنے سے کمزور نہیں ہوتی (ازمحقق)
Ayahs 3:98–101اللہ تعالیٰ یہود و نصاریٰ کو زجر وتوبیخ فرماتا ہے کیونکہ انہوں نے اللہ کی آیات کے ساتھ کفر کیا، جو اس نے اپنے رسولوں پر نازل کیں، جنہیں اللہ نے اپنے بندوں کے لئے رحمت بنایا کہ ان کی رہنمائی میں اللہ تک پہنچ سکیں اور ان کی مدد سے تمام اہم مقاصد اور مفید علوم حاصل کریں۔ ان کافروں نے ان کا انکار بھی کیا، ان پر ایمان لانے والوں کو روکا، ان میں تحریف کی، انہیں اصل مفہوم سے پھیرنے کی کوشش کی۔ وہ خود ان جرائم کو تسلیم کرتے ہیں۔ انہیں خوب معلوم ہے کہ ان کا یہ کام بہت بڑا کفر ہے، جس کی سزا بہت سخت ہے۔ جیسے ارشاد ہے : (الذین کفروا وصدوا عن سبیل اللہ زدنھم عذاباً فوق العذاب بما کانوا یفسدون) (النحل :88/16) ” جنہوں نے کفر کیا، اور اللہ کی راہ سے روکا، ہم انہیں عذاب پر مزید عذاب دیں گے کیونکہ وہ فساد کرتے تھے “ یہاں انہیں یہ فرما کر تنبیہ کی۔ (وما اللہ بغافل عما تعملون) ” اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے بیخبر نہیں۔ “ بلکہ تمہارے اعمال، تمہاری نیتوں اور تمہاری بری تدبیروں سے پوری طرح باخبر ہے، وہ تمہیں ان کی بہت بری سزا دے گا۔ ان کو تنبیہ کرن کے بعد اپنی رحمت، عطا اور احسان کا ذکر کیا اور اپنے مومن بندوں کو ان سے متنبہ کیا، تاکہ وہ بیخبر ی میں ان کے مکر و فریب کا نشانہ بن جائیں۔ چناچہ فرمایا : (یایھا الذین امنوا ان تطیعوا فریقاً من الذین اوتوا الکتب یردوکم بعد ایمانکم کفرین) ” اے ایمان والو ! اگر تم اہل کتاب کی کسی جماعت کی باتیں مانو گے تو وہ تمہیں، تمہارے ایمان لانے کے بعد مرتد کافر بنادیں گے۔ “ اس کی وجہ ان کا حسد، ظلم اور تمہیں مرتد کردینے کی شدید خواہش ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ود کثیرمن اھل الکتب لویردونکم من بعد ایمانکم کفارا حسدا من عند انفسھم من بعد ماتبین لھم الحق) (البقرہ :109/2) ” اہل کتاب کے اکثر لوگ باوجود حق واضح ہوجانے کے، محض حسد و بغض کی بنا پر تمہیں بھی ایمان سے ہٹا دینا چاہتے ہیں۔ “ پھر اللہ تعالیٰ نے مومنوں کی اپنے ایمان پر ثابت قدمی کا اور یقین میں ڈانواں ڈول نہ ہونے کا سب سے بڑا سبب بیان کیا ہے اور یہ کہ ان کا ایمان سے پھرجانا انتہائی ناممکن ہے۔ چناچہ فرمایا : (وکیف تکفرون وانتم تتلی علیکم ایت اللہ وفیکم رسولہ) ” اور تم کیسے کفر کرسکتے ہو جب کہ تم پر اللہ کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں اور تم میں اس کا رسول موجود ہے۔ “ یعنی رسول تمہارے اندر موجود ہیں، وہ ہر وقت تمہیں رب کی آیتیں سناتے ہیں۔ یہ واضح آیات ہیں جو بیان کردہ مسائل پر قطعی یقین کا فائدہ دیتی ہیں اور یہ کہ ان سے جو کچھ ثابت ہوتا ہے اس میں کسی بھی لحاظ سے شک کی گنجائی نہیں۔ خاص طور پر اس لئے بھی کہ اسے بیان کرنے والا وہ انسان (محمد ﷺ ہے، جو تمام مخلوق میں سب سے افضل، زیادہ عالم، زیادہ فصیح، زیادہ مخلص و خیر خواہ اور مومنوں پر زیادہ شفیق، مخلوق کو ہر ممکن طریقے سے ہدایت دینے اور ان کی رہنمائی کرنے کا انتہائی شوق رکھنے والا ہے۔ اللہ کے درود وسلام نازل ہوں آپ کی ذات اقدس پر۔ آپ نے یقیناً خیر خواہی فرمائی اور پوری وضاحت سے اللہ کا دین پہنچا دیا۔ حتی کہ کسی کو بات کرنے کی گنجائش نہ رہی اور نیکی کے کسی طلببگار کو تلاش کی ضرورت نہ رہی، آخر میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط کرے، اس پر توکل کیر، ہر برائی سے بچاؤ کے لئے اس کی قوت و رحمت کا سہارا تلاش کرے اور ہر خیر کے لئے اس سے مدد طلب کرے (فقد ھدی الی صراط مستقیم) شخص اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط کرے، اس پر توکل کرے، ہر برائی سے بچاؤ کے لئے اس کی قوت و رحمت کا سہارا تلاش کرے اور ہر خیر کے لئے اس سے مدد طلب کرے (فقد ھدی الی صراط مستقیم) ” تو بلاشبہ اسے راہ راست دکھا دی گئی “ جو مطلوب منزل تک پہنچانے والی ہے۔ کیونکہ اس نے رسول اللہ ﷺ کے اقوال، افعال اور احوال کی اتباع بھی کی، اور اللہ کا سہارا بھی حاصل کیا۔
Ayahs 3:102–104آیت 103
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو حکم دیا ہے کہ اس سے ایسے ڈریں جیسے ڈرنے کا حق ہے، پھر اس تقویٰ پر قائم اور ثابت قدم رہیں اور موت تک استقامت ہو۔ کیونکہ انسان جس طرح کی زندگی گزارتا ہے، اسے ویسی ہی موت نصیب ہوتی ہے۔ جو شخص صحت، نشاط اور طاقت کی حالت میں اللہ کے تقویٰ اور اس کی اطاعت پر قائم رہتا ہے اور ہمیشہ اس کی طرف متوجہ رہتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے موت کے وقت استقامت عطا فرماتا ہے اور اسے حسن خاتمہ سے نوازتا ہے۔ اللہ سے کما حقہ تقویٰ رکھنے کی وضاحت جناب عبداللہ بن مسعود نے ان الفاظ میں کی ہے : (ھو ان یطاع فلا یعصی ویذکر فلاینسی ویشکر فلایکفر) ” اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی فرماں برداری کی جائے، نافرمانی نہ کی جائے، اسے یاد کیا جائے، فراموش نہ کیا جائے، اس کا شکر کیا جائے، ناشکری نہ کی جائے۔ “ اس آیت میں وضاحت ہے تقویٰ کے سلسلے میں اللہ کا کیا حق ہے۔ اس بارے میں بندے کا جو فرض ہے۔ وہ اللہ کے اس فرمان میں بیان ہوا ہے : (فاتقوا اللہ ما استطعتم) (التغابن :16/63) ” جہاں تک تمہارا بس چلے، اللہ سے ڈرتے رہو “ دل اور جسم کے متعلق تقویٰ کی تفصیلات بہت زیادہ ہیں، جن کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ جس جس کام کا حکم دے اسے انجام دینا اور جس جس کام سے منع کرے، اس سے باز رہنا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس کام کا حکم دیا ہے جو تقویٰ اختیار کرنے میں مدد دیتا ہے، وہ ہے متحد رہنا، اللہ کے دین پر مضبوطی سے کاربند رہنا، تمام مومنوں کا یک آواز ہونا، مل جل کر رہنا اور اختلاف نہ کرنا۔ دین پر متحد رہنے سے اور باہمی الفت و مودت سے ان کا دین بھی درست رہے گا اور دنیا بھی درست رہے گی۔ اتحاد کی وجہ سے وہ کام کرسکیں گے اور انہیں وہ تمام فوائد حاصل ہوں گے جن کا دار و مدار اتفاق و اتحاد پر ہے۔ یہ فوائد اتنے زیادہ ہیں کہ ان کا شمار ممکن نہیں۔ علاوہ ازیں نیکی اور تقویٰ میں تعاون بھی ممکن ہوجائے گا۔ اس کے برعکس اختلاف اور تفرقہ کی وجہ سے ان کا نظام درہم برہم ہوجائے گا، باہمی رابطے ٹوٹ جائیں گے اور ہر شخص اپنے ذاتی فائدے کے لئے بھاگ دوڑ کرے گا، اگرچہ اس سے اجتماعی طور پر نقصان ہی کیوں نہ ہو۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنی ایک نعمت ذکر فرمائی اور حکم دیا کہ اسے یاد رکھیں۔ چناچہ فرمایا : (واذکروا نعمت اللہ علیکم اذ کنتم اعدآء) ” اور اللہ کی اس وقت کی نعمت یاد کرو، جب تم (یہ نعمت حاصل ہونے سے پہلے) ایک دوسرے کے دشمن تھے “ ایک دوسرے کو قتل کرتے تھے۔ ایک دوسرے کا مال چھینتے تھے، قبیلوں کی قبیلوں سے دشمنی تھی، ایک ہی شہر کے رہنے والے آپس میں عداوت اور جنگ وجدل کا شکار تھے۔ غرض بہت بری حالت تھی۔ یہ وہ حالت ہے جو نبی ﷺ کی بعث سے پہلے عرب میں عام تھی۔ جب اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو مبعوث فرمایا اور وہ لوگ ایمان لے آئے، تو وہ اسلام کی بنیاد پر اکٹھے ہوگئے، ان کے دلوں میں ایمان کی وجہ سے محبت پیدا ہوگئی۔ وہ باہمی محبت اور مدد کے لحاظ سے فرد واحد کی حیثیت اختیار کر گئے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (فالف بین قلوبکم فاصبحتم بنعمتہ اخواناً ” اس نے تمہارے دلوں میں الف ڈال دی، پس تم اس کی مہربانی سے بھائی بھائی ہوگئے۔ “ اس کے بعد فرمایا : (وکنتم علی شفاحقرۃ من النار) ” اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے پر پہنچ چکے تھے “ یعنی تم جہنم کے مستحق ہوچکے تھے۔ صرف اتنی کسر رہ گئی تھی کہ تمہیں موت آجائے تو جہنم میں داخل ہوجاؤ۔ (فانقذکم منھا) ” تو اس نے تمہیں اس سے بچا لیا “ وہ اس طرح کہ تم پر یہ احسان کیا کہ تمہیں محمد ﷺ پر ایمان صنیب فرما دیا۔ (کذلک یبین اللہ لکم ایتہ) ” اللہ اسی طرح تمارے لئے اپنی نشانیاں بیان کرتا ہے “ یعنی ان کی وضاحت اور تشریح کرتا ہے اور تمہارے لئے حق و باطل اور ہدایت و گمراہی الگ الگ کر کے واضح کردیتا ہے (لعلکم تھتدون) ” تاکہ تم (حق کو پہچان کر اور اس پر عمل کر کے) ہدایت پاؤ “ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو یہ بات پسند ہے کہ بندے دلوں اور زبانوں کے ساتھ اس کی نعمت کو یاد کریں، تاکہ ان میں شکر اور اللہ کی محبت کے جذبات پروان چڑھیں اور اللہ تعالیٰ مزید فضل و احسانات سے نوازے۔ اللہ کی جو نعمت سب سے زیادہ ذکر کئے جانے کے قابل ہے وہ ہے اسلام کا شرف حاصل ہوجانے کی نعمت، اتباع رسول کی توفیق مل جانے کی نعمت اور مسلمانوں میں اتحاد و اتفاق کی موجوگدی اور اختلاف و افتراق نہ ہونے کی نعمت۔
Ayahs 3:105–107آیت 105
مطلب یہ ہے کہ اے مومنو ! جن پر اللہ نے ایمان لانے اور اپنی رسی کو مضبوطی سے پکڑنے کی توفیق دے کر احسان فرمایا ہے، تم میں سے (امہ) ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے (یدعون الی الخیر) ” جو بھلائی کی طرف بلائے۔ “ (خیر) ” بھلائی “ میں ہر وہ چیز شامل ہے جو اللہ سے قریب کرنے والی اور اس کی ناراضی سے دور کرنے والی ہو۔ (ویامرون بالمعروف) ” اور وہ نیک کاموں کا حکم کرے “ (معروف) اسے کہتے ہیں جس کا اچھا ہونا عقل اور شریعت کی روشنی میں معلوم ہوچکا ہو۔ (وینھون عن المنکر) ” اور برے کاموں سے روکے “ (منکر) اسے کہتے ہیں جس کا برا ہونا عقل اور شریعت کے ذریعے سے معلوم ہوچکا ہو۔ اس میں مومنوں کو یہ ہدایت کی گئی ہے کہ ان میں ایک ایسی جماعت موجود ہونی چاہیے جو لوگ کو اس کی راہ کی طرف بلائے اور اس کے دین کی طرف رہنمائی کرنے کے لئے ہمہ وقت تیار رہے۔ اس جماعت میں وہ علماء بھی شامل ہیں جو لوگوں کو دین سکھاتے ہیں، وہ مبلغ بھی جو دوسرے مذاہب والوں کو دین اسلام میں داخل ہونے کی اور بدعملی میں مبتلا لوگوں کو دین پر کار بند ہونے کی تبلیغ کرتے ہیں، اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے بھی اور وہ لوگ بھی شامل ہیں، جن کی ڈیوٹی یہ ہے کہ وہ لوگوں کے حالات معلوم کرتے رہیں اور انہیں شرعی احکام مثلاً نماز، روزہ، حج اور زکواۃ وغیرہ کی پابندی کروائیں اور غلط کاموں سے روکیں مثلاً ماپ تول کے پیمانوں اور باٹوں کو چیک کریں، بازار میں خریدو فروخت کرنے والوں کو دھوکا بازی سے اور لین دین کے ان معاملات سے روکیں جو شرعاً ناجائز ہیں۔ یہ سب کام فرض کفایہ ہیں۔ جیسے کہ آیت کریمہ کے الفاظ (ولتکن منکم امۃ) ” تم میں سے ایک جماعت ہنی چاہیے “ سے ظاہر ہوتا ہے۔ یعنی تم میں ایک جماعت ایسی موجود ہونی چاہیے جس سے مذکورہ بالا مقاصد حاصل ہوسکیں۔ یہ ایک جانا پہچانا اور مانا ہوا اصول ہے کہ جب کسی خاص کام کا حکم دیا جائے، تو اس میں ان تمام کاموں کا حکم شامل ہوتا ہے، جو اسے پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے ضروری ہوں۔ لہٰذا وہ تمام کام جن پر ان اشیاء کا وجود موقوف ہے، وہ سب ضروری ہیں اور اللہ کی طرف سے ان کا حکم سمجھا جاتا ہے۔ مثلاً جہاد کے لئے طرح طرح کے سامان تیار کرنا، جن سے دشمنوں کا قلع قمع کیا جاسکے اور اسلام کا نام بلند کیا جاسکے، وہ علم سیکھنا جس کی مدد سے نیکی کی طرف بلایا جاسکے۔ علم وہ رہنمائی کے لئے مدارس کی تعمیر، لوگوں میں شریعت نافذ کرنے کے لئے حکمرانوں کی قولی، عملی اور مالی امداد اور ایسے دوسرے کام جن پر ان امور کا دار و مدار ہے۔ یہ جماعت جو نیکی کی طرف بلانے، بھلائی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کے لئے کمربستہ ہے، یہ خاص مومنین ہیں۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (واولئک ھم المفلحون) ” اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں “ یعنی کامیاب ہیں جنہیں مطلوب حاصل ہوگا اور خطرناک نتائج سے محفوظ رہیں گے۔ اس کے بعد انہیں اہل کتاب کی طرح اختلاف و انتشار میں گرفتار ہونے سے منع کرتے ہوئے فرمایا : (ولا تکونوا کالذین تفرقوا و اختلفوا) ” اور تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا، جنہوں نے تفرقہ ڈالا اور اختلاف کیا “ اور عجیب بات یہ ہے کہ انہوں نے اختلاف بھی کیا تو (من بعد ماجآء ھم البینت) ” روشن دلیلیں آجانے کے بعد “ حالانکہ ان کا نتیجہ تو یہ ہونا چاہیے تھا کہ افتراق و اختلاف نہ ہوتا۔ انہیں دین پر دوسروں کی نسبت زیادہ پابندی اختیار کرنا چاہیے تھی۔ لیکن انہوں نے بالکل الٹ کام کیا حالانکہ انہیں معلوم تھا کہ وہ اللہ کے احکام کی مخلافت کر رہے ہیں۔ اس لئے وہ سخت عذاب کے مستحق ہوگئے۔ اسی لئے اللہ نے فرمایا ہے : (واولئک لھم عذاب عظیم) ” اور انہی لوگوں کے لئے بڑا عذاب ہے۔ “
Ayah 3:108آیت 108
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن کے حالات بیان فرمائے ہیں۔ اس دن عدل اور فضل کی بنیاد پر ملنے والی جزا و سزا کے اثرات بیان فرمائے ہیں۔ اس بیان کا مقصد ترغیب و ترہیب ہے۔ جس کا فائدہ خوف اور امید کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (یوم تبیض وجوہ) ” جس دن بعض چہرے سفید ہوں گے “ وہ خوش نصیبوں اور نیکی کرنے والوں کے چہرے ہوں گے، جنہوں نے آپس میں الفت و محبت رکھی اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھا۔ ( وتسود وجوہ) ” اور بعض چہرے سیاہ ہوں گے “ وہ بدنصیبوں اور بدکاروں کے چہرے ہیں گے، جو اختلاف و اتفراق پیدا کرنے والے تھے۔ ذلت و رسوائی کی وجہ سے ان کے دلوں کی جو کیفیت ہوگی، اس کے نتیجے میں ان کے چہرے سیاہ ہوجائیں گے۔ اور نیک لوگوں کو نعمتیں اور خوشیاں نصیب ہوں گی، ان کے اثرات ان کے چہروں پر ظاہر ہوں گے اور ان کے چہرے سفید اور روشن ہوں گے۔ جیسے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ولقھم نضرۃ وسروراً ) (الدھر :11/86) ” اور انہیں تازگی اور خوشی پہنچائی “ ترو تازہ ہونے کا تعلق چہروں سے ہے، اور خوشی دلوں میں ہوتی ہے۔ دوسرے مقام پر ارشاد ہے : (والذین کسبوا السیات جزآء سیءۃ بمثلھا وترھقھم ذلۃ مالھم من اللہ من عاصم کانما اغشیت وجوھھم قطعاً من الیل مظلماً اولئک اصحب النارھم فیھا خلدون) (یونس :28/1) ” جنہوں نے گناہ کمائے تو ہر برائی کا بدلہ اس کے برابر ہے اور ان پر ذلت چھائی ہوگی۔ انہیں اللہ سے کوئی بچانے والا نہ ہوگا۔ یوں ہوگا گویا ان کے چہروں پر رات کے تاریک ٹکڑے اوڑھا دیئے گئے ہیں۔ یہی لوگ آگ والے ہیں۔ وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ “ (فاما الذین اسودت وجوھم) ” اور جن کے چہرے سیاہ ہوں گے “ انہیں ڈانٹ ڈپٹ اور زجر و توبیخ کے انداز سے کہا جائے گا : (اکفرتم بعد ایمانکم) ” کیا تم نے ایمان لانے کے بعد کفر کیا “ یعنی تم نے ہدایت اور ایمان کے بجائے کفر و ضلالت کو کیوں ترجیح دی ؟ تم نے ہدایت والا راستہ چھوڑ کر گمرایہ کا راستہ کیوں اختیار کیا ؟ (قذوقوا العذاب بما کنتم تکفرون) اب ” اپنے کفر کے بدلے عذاب کا مزہ چکھو “ تمہارے لائق صرف جہنم کا مقام ہے تم صرف ذلت و رسوائی کے مستحق ہو (واما الذین ابیضت وجوھھم ) ” اور جن کے چہرے سفید ہوں گے “ انہیں مبارک باد دی جائے گی اور عظیم ترین بشارت ملے گی۔ یعنی انہیں جنت میں داخلے کی، رب کی خوشنودی کی اور اس کی رحمت کی خوش خبری دی جائے گی۔ (فقی رحمتۃ اللہ ھم فیھا خلدون) ” وہ اللہ کی رحمت میں داخل ہوں گے اور اس میں ہمیشہ رہیں گے “ چونکہ وہ ہمیشہ رحمت میں رہیں گے اور جنت بھی اللہ کی رحمت کا ایک مظہر ہے۔ لہٰذا وہ ہمیشہ جنت میں رہیں گے جس میں دائمی نعمتیں اور سلامتی والی زندگی ہوگی۔ وہ ارحم الراحمین کے پڑوس میں ہوں گے۔
جب اللہ تعالیٰ نے احکام واوامر بھی بتا دیئے اور ان کی جزا بھی بیان فرما دی، تو اس کے بعد فرمایا : (تلک ایت اللہ نتلوھا علیک بالحق) ” یہ اللہ کی آیتیں ہیں، جو ہم آپ کو ٹھیک ٹھیک بیان کر رہے ہیں “ کیونکہ اس کے اوامرو نواہی حکمت و رحمت پر اور جزا و سزا پر مشتمل ہیں۔ اس طرح وہ حکمت و رحمت پر اور عدل پر مشتمل ہیں جن میں ظلم کا کوئی شائبہ نہیں “ اس لئے فرمایا : (وما اللہ یرید ظلما للعلمین) ” اور اللہ کا ارادہ لوگوں پر ظلم کرنے کا نہیں “ ظلم کرنا تو بہت دور کی بات ہے، اللہ تعالیٰ ظلم کا ارادہ بھی نہیں فرماتا۔ لہٰذا کسی کی نیکیوں میں کمی نہیں کرتا، اور ظالموں کے ظلم میں اضافہ نہیں فرماتا، بلکہ صرف ان کے کئے ہوئے اعمال کی سزا دیتا ہے۔
Ayahs 3:109–111آیت 109
یعنی آسمان اور زمین میں جو کچھ ہے، اس سب کا مالک وہی ہے۔ جس نے انہیں پیدا کیا، انہیں رزق دیا، اور اپنی قضاء و قدر کے مطابق اور اپنی شریعت اور احکام کے مطابق ان میں تصرف کرتا ہے۔ قیامت کے دن وہ اسی کے پاس واپس جائیں گے، پھر وہ انہیں اچھے اور برے اعمال کا بدلہ دے گا۔
Ayahs 3:112–114آیت 112
اللہ تعالیٰ اس امت کی تعریف کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ یہ تمام امتوں سے بہتر اور افضل امت ہے جسے اللہ نے لوگوں کے لئے پیدا کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو کامل کرتے ہیں یعنی ایسا ایمان رکھتے ہیں جو اللہ کے ہر حکم پر عمل کرنے کو مستلزم ہے اور دوسروں کو بھی کامل بناتے ہیں۔ یعنی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پر عمل پیرا ہوتے ہیں، جس میں مخلوق کو اللہ کی طرف بلانا، اس مقصد کے لئے ان سے جہاد کرنا، ان کو گمراہی اور نافرمانی سے روکنے کے لئے ہر ممکن کوشش کرنا شامل ہے۔ اس وجہ سے وہ بہترین امت ہیں۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے گزشتہ آیت میں یعنی اس فرمان الٰہی میں : (ولتکن منکم امۃ یدعون الی الخیر و یامرون بالمعروف وینھون عن المنکر) ” تم میں سے ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے جو بھلائی کی طرف بلائے، نیک کاموں کا حکم کرے اور برے کاموں سے روکے۔ “ اللہ کی طرف سے اس امت کو ایک حکم دیا گیا تھا۔ اور جسے حکم دیا جائے وہ بعض اوقات حکم کی تعمیل کرتا ہے اور بعض اوقات تعمیل نہیں کرتا۔ لہٰذا اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ اس امت نے وہ کام انجام دیا ہے، جس کا اسے حکم دیا گیا تھا، اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی ہے اور تمام امتوں سے افضل قرار پانے کی مستحق ہوگئی ہے۔ (ولو امن اھل الکتب للکان خیراً لھم) ” اگر اہل کتاب بھی ایمان لاتے تو ان کے لئے بہتر ہوتا۔ “ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے نرم انداز اختیار کرتے ہوئے اہل کتاب کو ایمان کی دعوت دی ہے۔ لیکن ان میں سے بہت کم افراد ایمان لائے۔ زیادہ فاسق، اللہ کے نافرمان اور اللہ کے دوستوں سے طرح طرح سے دشمنی کا اظہار کرن والے تھے۔ لیکن اللہ کا اپنے مومن بندوں پر یہ لطف و کرم ہے کہ اس نے دشمن کے ناپاک منصوبوں کو ناکام بنادیا اور مومنوں کو ان سے نہ دینی نقصان پہنچا، نہ جسمانی، وہ زیادہ سے زیادہ جو کچھ کرسکتے ہیں وہ یہ ہے کہ زبان سے تکلیف پہنچ اسکتے ہیں اور یہ چیز ایسی ہے کہ اس سے کوئی بھی دشمن بچ نہیں سکتا۔ اگر وہ مومنوں سے جنگ کریں گے تو پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے۔ ان کی یہ ہزیمت دائمی ہوگی اور ان کی ذلت ہمیشہ رہے گی۔ ان کی کبھی مدد نہیں کی جائے گی۔ اس لئے اللہ نے ان کا انجام یہ بتایا کہ باطنی طور پر وہ ذلت کا شکار ہوں گے اور ظاہری طور پر فقر و مسکنت کا۔ لہٰذا وہ کہیں اطمینان اور سکون سے نہیں رہ سکیں گے۔
(الا بحبل من اللہ وحبل من الناس) ” مگر یہ کہ اللہ کی یا لوگوں کی پناہ میں ہوں “ اس لئے یہودی یا تو مسلمانوں سے معاہدہ کر کے ان کے ماتحت (ذمی بن کر) رہیں گے، ان سے جزیہ لیا جائے گا۔ وہ ذلیل ہوں گے۔ یا نصاری کے ماتحت ہوں گے۔ (وبآء و بغضب من اللہ) ” یہ غضب الٰہی کے مستحق ہوگئے “ اور یہ سب سے بڑی سزا ہے۔ وہ اس حال کو کیوں پہنچے، اس کی وجہ اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں بیان فرمائی ہے : (ذلک بانھم کانوا یکفرون بایت اللہ) ” یہ اس لئے کہ یہ لوگ اللہ کی آیتوں کے ساتھ کفر کرتے تھے “ یہ لوگ ان آیتوں کا انکار کرتے تھے، جنہیں اللہ نے اپنے رسول محمد ﷺ پر نازل کیا ہے، جن سے ایمان اور یقین حاصل ہوتا ہے۔ لیکن انہوں نے سرکشی اور عناد کی وجہ سے ان کا انکار کیا۔ (ویقتلون الانبیآء بغیر حق) ” اور انبیاء کو بےوجہ قتل کرتے تھے “ وہ انبیاء جو ان پر سب سے عظیم احسان کرتے تھے، وہ اس احسان کے بدلے میں بدترین سلوک کرتے تھے یعنی انہیں شہید کردیتے تھے۔ کیا اس جسارت اور اس جرم سے بڑھ کر بھی کوئی جرم ہوسکتا ہے ؟ ان سب بداعمالیوں کی وجہ ان کی نافرمانی اور ظلم تھا، جس کی وجہ سے انہوں نے اللہ کے ساتھ کفر کرنے اور انبیاء کرام کو شہید کرنے کی جسارت کی۔ اس کے بعد فرمایا :
Ayahs 3:115–116آیت 115
جب اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کے فاسق گروہ کا ذکر کیا، ان کی بداعمالیاں اور ان کیسزائیں بیان کیں، تو ان آیات میں حق پر قائم رہنے والی جماعت کا ذکر فرمایا، ان کے نیک اعمال اور ان کا ثواب ذکر فرمایا اور یہ بتایا کہ اللہ کے نزدیک یہ دونوں گروہ برابر نہیں بلکہ ان کے درمیان اتنا زیادہ فرق ہے کہ بیان نہیں کیا جاسکتا۔ اس فاسق گروہ کا ذکر تو پہلے ہوچکا۔ باقی رہے یہ مومن، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان میں (امۃ قآئمۃ) ایک جماعت اللہ کی تلاوت بھی کرتے ہیں اور سجدے بھی کرتے ہیں “ یہ رات کے اوقات میں ادا کی جانے والی ان کی نمازوں کا بیان ہے کہ وہ طویل تہجد پڑھتے ہیں اور اپنے رب کے کلام کی تلاوت کرتے ہیں۔ اللہ کے لئے خشوع و خضوع کے ساتھ رکوع اور سجدے کرتے ہیں۔ (یومنون باللہ والیوم الاخر) ” اللہ پر اور قایمت کے دن پر ایمان بھی رکھتے ہیں “ جس طرح مسلمانوں کا ایمان ان کے لئے ضروری قرار دیتا ہے کہ وہ اللہ کے بھیجے ہوئے ہر نبی پر، اور اللہ کی نازل کی ہوئی ہر کتاب پر ایمان رکھیں۔ وہ بھی اس طرح کا ایمان رکھتے ہیں۔ قیامت پر ایمان کا خاص طور پر ذکر فرمایا، کیونکہ قیامت پر صحیح یقین و ایمان ہی مومن کو ان اعمال پر آمادہ کرتا ہے جو اسے اللہ سے قریب کرتے ہیں اور جن کا قیامت کو ثواب ملے گا اور ہر اس عمل کے ترک پر آمادہ کرتا ہے جس سے اس دن سزا ملے۔ (ویامرون بالمعروف وینھون عن المنکر) ” اور بھلائیوں کا حکم کرتے ہیں اور برائیوں سے روکتے ہیں “ اس طرح ان سے یہ عمل انجام پاتا ہے۔ ایمان اور ایمان کے لوازم کے ذریعے سے اپنی تکمیل کرتے ہیں اور دوسروں کو ہر نیکی کا حکم دے کر ہر برائی سے منع کر کے دوسروں کی تکمیل کرتے ہیں۔ اس میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ اپنے ہم مذہبوں کو اور دوسروں لوگوں کو محمد ﷺ پر ایمان لانے کی دعوت دیتے ہیں۔ پھر ان کی عالی ہمتی بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ (ویسارعون فی الخیرت) ” بھلائی کے کاموں میں جلدی کرتے ہیں “ نیکی کے ہر موقع سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور جب بھی ہوسکے فوراً نیکی کرلیتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ نیکی کی شدید رغبت اور خواہش رکھتے ہیں اور اس کے فوائد وثمرات سے خوب واقف ہیں۔ یہ لوگ جن کی تعریف اللہ نے ان عمدہ صفات اور عظیم اعمال کے ساتھ کی ہے۔ (من الصلحین) ” یہی نیک لوگوں میں سے ہیں “ جنہیں اللہ تعالیٰ اپنی رحمت میں داخل کرے گا، انہیں اپنی بخشش کے سائے میں لے لے گا اور انہیں اپنے فضل و احسان سے نوازے گا۔ (وما یفعلوا من خیر) ” اور یہ جو کچھ بھی بھلائیاں کریں “ تھوڑی ہوں یا زیادہ (فلن یکفروہ) ” ان کی ناقدری نہیں کی جائے گی “ انہیں ان کے ثواب سے محروم نہیں رکھا جائے گا، بلکہ اللہ تعالیٰ انہیں ان اعمال کا مکمل ترین ثواب دے گا۔ لیکن اعمال کے ثواب کا دار و مدار عمل کرنے والے کے دل میں موجود ایمان وتقویٰ پر ہوتا ہے۔ اس لئے فرمایا : (واللہ علیم بالمتقین) ” اور اللہ پرہیز گاروں کو خوب جانتا ہے “ جیسے دوسرے مقام پر فرمایا : (انما یتقبل اللہ من المتقین) (المائدہ :28/5) ” اللہ صرف پرہیز گاروں کی قربانی قبول کرتا ہے۔ “
Ayah 3:117آیت 117
اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ کافروں کو ان کے مال اور ان کی اولاد اللہ کے ہاں کچھ کام نہ آئیں گی۔ یعنی اللہ کے عذاب سے بچانے میں یا اللہ سے ثواب کے حصول میں معمولی سا بھی فائدہ نہیں دیں گی۔ جیسے فرمان الٰہی ہے : (وما اموالکم ولا اولادکم بالتی تقربکم عندنا زلفی الا من امن وعمل صالحاً ) (سبا :38/37) ” یہ تمہارے مال اور تمہاری اولادیں ایسی نہیں کہ جو تمہیں ہمارا قرب بخش سکیں، لیکن جو ایمان لایا اور اس نے نیک عمل کئے (اسے قرب حاصل ہوگا) “ بلکہ ان کے مال و اولاد جہنم کی طرف سفر میں ان کا زاد راہ ہیں۔ اللہ کی نعمتوں میں اضافے کا تقاضا یہ ہے کہ ان کا شکر ادا کیا جائے، لیکن ان کے لئے یہ چیزیں شکر نہ کرنے کی وجہ سے ان کے خلاف حجت ہوں گی، اس لئے ان پر شکر نہ کرنے اور ناشکری کی پادشا میں انہیں سزا دی جائے گی۔ اس لئے فرمایا : (واولئک اصحب النارھم فیھا خلدون) ” یہ تو جہنمی ہیں، جو ہمیشہ اس میں پڑے رہیں گے۔ “
پھر اللہ نے کافروں کے مال خرچ کرنے کے بارے میں ایک مثال بیان فرمائی، کہ وہ لوگ مال خرچ کر کے اللہ کے نور کو بجھانے کی کوشش کرتے ہیں اور لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکتے ہیں، تو یہ کوششیں ناکام رہیں گی، جیسے کوئی شخص فصل بوائے اسے اس کا نتیجہ ملنے اور اس سے پیداوار حاصل ہونے کی امید ہو، اچانک کھیتی پر ایک سخت ٹھنڈی ہوا چلے، جس سے کھیتی تباہ ہوجائے۔ اس کے حصے میں صرف محنت، مشقت اور حسرت و افسوس ہی آئے۔ کافروں کا بھی یہی حال ہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے دوسرے مقام پر فرمایا : (ان الذین کفروا ینفقون اموالھم یصدواعن سبیل اللہ فسینفقونھا ثم تکون علیھم حسرۃ ثم یغلبون) (الانفال :36/8) ” بیشک کافر اپنے مال اللہ کی راہ سے روکنے کے لئے خرچ کرتے ہیں، یہ خرچ کریں گے، پھر یہ ان کے لئے حسرت کا باعث بن جائیں گے، پھر یہ مغلوب ہوجائیں گے “ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (وما ظلمھم اللہ) ” اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا۔ “ کہ ان کے عمل ضائع کردیے۔ (ولکن انفسھم یظلمون) ” بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے۔ “ وہ اس طرح کہ انہوں نے اللہ کی آیتوں کا انکار کیا، اس کے رسولوں کو جھٹلایا اور اللہ کے نور کو بجھانے کی کوشش کی۔ ان بداعمالیوں کی وجہ سے ان کی نیکیاں ضائع ہوگئیں اور مال تباہ ہوگئے۔ اس کے بعد فرمایا :
Ayahs 3:118–121آیت 118-120
اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو اس بات سے منع فرماتا ہے کہ وہ اہل کتاب کے یا دوسرے مذاہب کے منافقوں کو دلی دوست بنائیں، انہیں اپنے راز بتائیں، یا بعض اسلامی ذمہ داریاں ان کے سپرد کردیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ دشمن ہیں جن کے دل بغض و عداوت سے بھرے ہوئے ہیں۔ حتیٰ کہ یہ عداوت ان کی زبان سے بلا ارادہ ظاہر ہوجاتی ہے۔ (وما تخفی صدورھم اکبر) ” اور جو ان کے سینوں میں پوشیدہ ہے، وہ ظاہر ہوجانے والی دشمنی سے بہت زیادہ ہے۔ “ اسی لئے (لایالونکم خبالا) ” وہ تمہاری تباہی میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے “ یعنی تمہیں نقصان پہنچانے اور مشکلات پیدا کرنے میں کمی نہیں کرتے۔ وہ ایسے اسباب پیدا کرتے ہیں جس کے نتیجے میں تمہیں نقصان پہنچے اور تمہارے خلاف تمہارے دشمنوں کی مدد کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ مومنوں سے فرماتا ہے : (قدبینا لکم الایت) ” ہم نے تمہارے لئے آیتیں بیان کردی ہیں “ جن میں تمہاری دینی اور دنیاوی مصلحتیں اور فوائد موجود ہیں۔ (ان کنتم تعقلون) ” اگر تم عقل مند ہو “ تو ان نشانیوں کو پہچان کر دوستوں اور دشمنوں کی پہچان کرو، کیونکہ ہر شخص اس قابل نہیں ہوتا کہ اسے ہم راز بنایا جائے۔ عقل مند وہ ہوتا ہے جسے اگر دشمن سے میل جول رکھنے کی ضرورت پیش آجائے تو اس سے میل جول صرف ظاہری معاملات میں ہو، اور اپنے اندرونی معاملات اسے نہ بتائے۔ اگرچہ دشمن کتنی ہی چاپلوسی کرے اور قسمیں کھائے کہ وہ دوست ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ مومنوں کو یہودی اور عیسائی منافقوں سے احتیاط کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے ان کی شدید دشمنی کو واضح کرتا ہے۔ ارشاد ہے (ھانتم اولآء تحبونھم ولایحبونکم وتومنون بالکتب کلہ) ” ہاں، تم تو انہیں چاہتے ہو، اور وہ تم سے محبت نہیں رکھتے، اور تم پوری کتاب کو مانتے ہو “ یعنی ان تمام کتابوں پر ایمان رکھتے ہو جو اللہ نے اپنے بنیوں پر نازل کی ہیں۔ حالانکہ وہ تمہاری کتاب، قرآن پر ایمان نہیں رکھتے۔ بلکہ جب وہ تم سے ملتے ہیں تو اوپر اوپر سے ایمان کا اظہار کرتے ہیں۔ (واذا لقوکم قالوآ امنا واذا خلوا عضوا علیکم الانامل من الغیظ) ” اور جب تم سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں، ہم ایمان لائے۔ لیکن نتہائی میں تم پر غصے کے مارے اپنی انگلیاں چباتے ہیں “ (انامل) کا مطلب ” انگلیوں کے سرے “۔ (قل موتوا بغیظلکم ان اللہ علیم بذات الصدور) ” کہہ دو ! اپنے غصے ہی میں مرجاؤ۔ اللہ تعالیٰ دلوں کے راز بخوبی جانتا ہے۔ “ اس میں مومنوں کے لئے خوش خبری ہے کہ یہ دشمن تمہیں نقصان پہنچانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ لیکن اپنا ہی نقصان کر رہے ہیں۔ وہ اپنے غصے کو عملی جامہ پہنانے کے قابل نہیں۔ وہ مرتے دم تک دنیا کا یہ عذات سہتے رہیں گے اور مرنے کے بعد دنیا کے عذاب سے آخرت کے عذاب کی طرف منتقل ہوجائیں گے۔ (ان تمسکم حسنۃ) ” تمہیں اگر بھلائی ملے “ مثلاً دشمنوں پر فتح نصیب ہو، یا غنیمت حاصل ہو (تسوھم) ” تو یہ ناخوش ہوتے ہیں “ یعنی انہیں اس سے غم ہوتا ہے (وان تصبکم سیءۃ یفرحوا بھا وان تصبروا وتتقوا لایضرکم کیدھم شیاً ان اللہ بما یعملون محیط) ” اور اگر تمہیں برائی پہنچے تو وہ خوش ہوتے ہیں اور تم اگر صبر کرو اور پرہیز گاری کرو تو ان کا مکر تمہیں کچھ نقصان نہ دے گا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ ان کے مکر کو انہی پر الٹ دے گا۔ کیونکہ اس کا علم اور اس کی قدرت ان کو گھیرے ہوئے ہے، وہ اس کی قدرت کے دائرے سے باہر نہیں نکل سکتے اور ان کی کوئی بات اللہ سے چھپی نہیں رہ سکتی۔