28. Surah Al-Qasas

القصصThe Stories · 88 ayahsتفسیرِ سعدی

Ayahs 28:52–55

اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِهٖ هُمْ بِهٖ یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 28:52 in the Quran reader

جن لوگوں کو ہم نے اس سے پہلے کتاب دی تھی وہ اس پر ایمان لے آتے ہیں

وَ اِذَا یُتْلٰى عَلَیْهِمْ قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِهٖۤ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّنَاۤ اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلِهٖ مُسْلِمِیْنَ Open ayah 28:53 in the Quran reader

اور جب (قرآن) انکو پڑھ کر سنایا جاتا ہے تو کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لے آئے بیشک ہمارے پروردگار کی طرف سے برحق ہے (اور) ہم تو اس سے پہلے کے حکم بردار ہیں

اُولٰٓئِكَ یُؤْتَوْنَ اَجْرَهُمْ مَّرَّتَیْنِ بِمَا صَبَرُوْا وَ یَدْرَءُوْنَ بِالْحَسَنَةِ السَّیِّئَةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ Open ayah 28:54 in the Quran reader

ان لوگوں کو دگنا بدلہ دیا جائے گا کیونکہ صبر کرتے رہے ہیں اور بھلائی کے ساتھ برائی کو دور کرتے ہیں اور جو (مال) ہم نے انکو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں

وَ اِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْهُ وَ قَالُوْا لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ١٘ سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ١٘ لَا نَبْتَغِی الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 28:55 in the Quran reader

اور جب بےہودہ باتیں سنتے ہیں تو اس سے منہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم کو ہمارے اعمال اور تم کو تمہارے اعمال تم کو سلام ہم جاہلوں کے خواستگار نہیں ہیں

(آیت 52 اللہ تبارک و تعالیٰ قرآن کی عظمت، صداقت اور حقانیت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ حقیقت کا علم رکھنے والے اہل علم ہی اس کو پہچانتے، اس پر ایمان لاتے اور اس کی حقانیت کا اقرار کرتے ہیں، چناچہ فرمایا : (آیت) ” جن لوگوں کو ہم نے اس سے پہلے کتاب دی تھی۔ “ اس سے مراد وہ اہل تورات اور اہل انجیل ہیں جنہوں نے اپنی کتاب میں تغیر و تبدل نہیں کیا۔ (ھم بہ) وہی اس قرآن اور قرآن کے لانے والے پر (یومنون) ” ایمان رکھتے ہیں۔ “ (آیت) ” اور جب ان کے سامنے اس قرآن کو پڑھا جاتا ہے “ تو اسے غور سے سنتے ہیں اور اس کے سامنے سرتسلیم خم کردیتے ہیں۔ (آیت) ” تو کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لے آئے بیشک وہ ہمارے رب کی طرف سے برحق ہےْ “ کیونکہ یہ ان کتابوں کے موافق ہے جنہوں نے انبیاء ورسل لے کر مبعوث ہوئے ہیں اور ان کتابوں میں جو کچھ مذکور ہے اس کے عین مطابق ہے، سچی خبروں اور حکمت پر مبنی اوامرونواہی پر مشتمل ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی شہادت مفید اور ان کا قول نفع مند ہے۔ وہ جو کچھ بھی کہتے ہیں، علم و بصیرت کی بنیاد پر کہتے ہیں کیونکہ وہ اہل خبر اور اہل کتاب ہیں۔ ان کے لاوہ دیگر لوگوں کا قرآن کو رد کرنا اور اس کی مخالفت کرنا ان کے لئے حجت ہونا تو کجا، وہ کسی شبہ پر بھی دلالت نہیں کرتا کیونکہ وہ لوگ جاہل یا حق کے بارے میں معاند متجاہل ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (آیت) (بنی اسرائیل : 71 / 701) ” کہہ دیجئے کہ تم اس پر ایمان لاؤ یا نہ لاؤ، جن لوگون کو اس سے پہلے علم دیا گیا ہے جب ان کے سامنے اسے پڑھا جاتا ہے تو وہ منہ کے بل سجدوں میں گرجاتے ہیں۔ “ اور ان کا قول ہے : (آیت) ” ہم تو اس کے پہلے سے مطیع ہیں۔ “ اسی لئے جب اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایمان اور اسلام سے سرفراز فرمایا تو ہم اس پر ثابت قدم رہے، ہم نے اس قرآن کی تصدیق کی اور ہم پہلی اور آخری کتاب پر ایمان لائے، ہمارے علاوہ دیگر لوگ جب اس کتاب کی تکذیب کرتے ہیں تو ان کی یہ تکذیب پہلی کتاب پر ایمان کے متناقض ہے۔ (آیت) ” یہی لوگ “ یعنی جو دونوں کتابوں پر ایمان لائے۔ (آیت) ” ان کو دو بار اجر عطا کیا جائے گا “ ایک اجر پہلی کتاب پر ایمان لانے پر اور ایک اجر دوسری کتاب پر ایمان لانے پر (آیت) اس کا سبب یہ ہے کہ انہوں نے اپنے ایمان پر صبر کیا اور عمل پر ثابت قدم رہے کوئی شبہ ان کے ایمان کو منزلزل کرسکا نہ کوئی ریاست و شہوت ان کو اپنے ایمان سے ہٹ اس کی (وَ ) ” اور “ وہ اپنے بہترین خصائل، جو ان کے ایمان صحیح کے آثار ہیں، کے ذریعے سے بیشک وہ (آیت) ” برائی کو بھلائیہ کے ساتھ دفع کرتے ہیں۔ “ یعنی ہر ایک کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا اور ان کی عادت اور طریقہ ہے۔ یہاں تک کہ جو کوئی قول و فعل کے ذریعے سے ان کے ساتھ برا سلوک کرتا ہے تو یہ اچھی بات اور اچھے فعل کے ذریعے سے ان کا مقابلہ کرتے ہیں کیونکہ انہیں اس خلق عظیم کی فضیلت کا اچھی طرح علم ہے اور انہیں یہ بھی علم ہے کہ اس خلق عظیم کی توفیق کسی خوش قسمت ہی کو حاصل ہوتی ہے۔ ہیں کیونکہ انہیں اس خلق عظیم کی فضیلت کا اچھی طرح علم ہے اور انہیں یہ بھی علم ہے کہ اس خلق عظیم کی توفیق کسی خوش قسمت ہی کو حاصل ہوتی ہے۔ (واذا سمعواللغو) ” اور جب وہ کوئی فضول بات سنتے ہیں “ کسی جاہل شخص سے جو ان سے لغو گفتگو کرتا ہے (قالوا) تو وہ رحمان کے عقلمند بندوں کی مانندان سے کہتے ہیں : (لنا اعمالنا ولکم اعمالکم) ” ہمارے لئے ہمارے اعمال ہیں اور تمہارے لئے تمہارے اعمال “۔ یعنی ہر شخص کو اسی اکیلے کے عمل کی جزا دی جائے گی اس پر کسی دوسرے کے عمل کا بوجھ نہیں ہوگا۔ اس سے لازم آتا ہے کہ وہ جہلاء کے لغو اور باطل کاموں اور بےفائدہ کلام سے بچے ہوئے ہیں۔ (سلم علیکم) ” سلامتی ہو تم پر “ یعنی تم لوگ ہم سے بھلائی کے سوا کچھ نہیں سنو گے اور نہ ہم تم سے تمہاری جہالت کے تقاضے کے مطابق مخاطب ہوں گے۔ کیونکہ تم اگرچہ اپنے لئے اس کمینگی پر راضی ہو مگر ہم اپنے آپ کو اس کمینے رویے سے پاک رکھتے ہیں اور اس میں ملوث ہونے سے بچتے ہیں۔ (لانبتعی الجھلین) ” ہم (کسی معاملے) میں جاہلوں سے نہیں الجھتے “۔
Ayahs 28:56–60

اِنَّكَ لَا تَهْدِیْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 28:56 in the Quran reader

(اے محمد) تم جس کو دوست رکھتے ہو اسے ہدایت نہیں کرسکتے بلکہ خدا ہی جس کو چاہتا ہے ہدایت کرتا ہے اور وہ ہدایت پانے والوں کو خوب جانتا ہے

وَ قَالُوْۤا اِنْ نَّتَّبِعِ الْهُدٰى مَعَكَ نُتَخَطَّفْ مِنْ اَرْضِنَا١ؕ اَوَ لَمْ نُمَكِّنْ لَّهُمْ حَرَمًا اٰمِنًا یُّجْبٰۤى اِلَیْهِ ثَمَرٰتُ كُلِّ شَیْءٍ رِّزْقًا مِّنْ لَّدُنَّا وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 28:57 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ اگر ہم تمہارے ساتھ ہدایت کی پیروی کریں تو اپنے ملک سے اچک لئے جائیں کیا ہم نے ان کو حرم میں جو امن کا مقام ہے جگہ نہیں دی جہاں ہر قسم کے میوے پہنچائے جاتے ہیں (اور یہ) رزق ہماری طرف سے ہے ؟ لیکن ان میں اکثر نہیں جانتے

وَ كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْیَةٍۭ بَطِرَتْ مَعِیْشَتَهَا١ۚ فَتِلْكَ مَسٰكِنُهُمْ لَمْ تُسْكَنْ مِّنْۢ بَعْدِهِمْ اِلَّا قَلِیْلًا١ؕ وَ كُنَّا نَحْنُ الْوٰرِثِیْنَ Open ayah 28:58 in the Quran reader

اور ہم نے بہت سی بستیوں کو ہلاک کر ڈالا جو اپنی (فراخی) معیشیت میں اترا رہے تھے سو یہ ان کے مکانات ہیں جو انکے بعد آباد ہی نہیں ہوئے مگر بہت کم اور ان کے پیچھے ہم ہی ان کے وارث ہوئے

وَ مَا كَانَ رَبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرٰى حَتّٰى یَبْعَثَ فِیْۤ اُمِّهَا رَسُوْلًا یَّتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِنَا١ۚ وَ مَا كُنَّا مُهْلِكِی الْقُرٰۤى اِلَّا وَ اَهْلُهَا ظٰلِمُوْنَ Open ayah 28:59 in the Quran reader

اور تمہارا پروردگار بستیوں کو ہلاک نہیں کیا کرتا جب تک ان کے بڑے شہر میں پیغمبر نہ بھیج لے جو انکو ہماری آیتیں پڑھ پڑھ کر سنائے اور ہم بستیوں کو ہلاک نہیں کیا کرتے مگر اس حالت میں کہ وہاں کے باشندے ظالم ہوں

وَ مَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَمَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتُهَا١ۚ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 28:60 in the Quran reader

اور جو چیز تم کو دی گئی ہے وہ دنیا کی زندگی کا فائدہ اور اس کی زینت ہے اور جو خدا کے پاس ہے وہ بہتر اور باقی رہنے والی ہے کیا تم سمجھتے نہیں ؟

آیت 56 اللہ تبارک و تعالیٰ رسول مصطفیٰ ﷺ کو آگاہ کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ آپ۔۔۔ اور آپ کے علاوہ لوگ بدرجہ اولیٰ ۔۔۔ کسی کو ہدایت دینے کا کوئی اختیار نہیں رکھتے خواہ وہ آپ کو کتنا ہی زیادہ محبوب کیوں نہ ہو، کیونکہ یہ ایسا معاملہ ہے جو مخلوق کے اختیار میں نہیں۔ ہدایت کی توفیق اور قلب میں ایمان جاگزیں کرنا اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہے وہ جسے چاہتا ہے ہدایت سے سرفراز کرتا ہے اور وہ خوب جانتا ہے کہ کون ہدایت کا اہل ہے پس اسے ہدایت عطا کردیتا ہے اور کون ہدایت عطا کئے جانے کا اہل نہیں پس اسے اس کی گمراہی میں سرگرداں چھوڑ دیتا ہے۔ رہا اللہ تعالیٰ کے ارشاد : (وانک لتھدی الی صراط مستقیم) (الشوریٰ : 23/25) ” اور بلاشبہ آپ صراط مستقیم کی طرف رہنمائی کر رہے ہیں “ میں رسول اللہ ﷺ کے لئے ہدایت کا اثبات، تو یہ ہدایت بیان و ارشاد ہے۔ رسول اللہ ﷺ صرابط مستقیم کو واضح کرتے ہیں لوگوں کو اس پر چلنے کی ترغیب دیتے ہیں اور لوگوں کو اس پر گامزن کرنے کی بھرپور جدوجہد کرتے ہیں۔ رہی یہ بات کہ آیا آپ دلوں میں ایمان پیدا کرنے پر قادر ہیں اور فعل کی توفیق عطا کرسکتے ہیں۔۔۔ تو حاشا و کلا ! ایسا ہرگز نہیں۔۔۔ لہذا اگر آپ اس پر قادر ہوتے تو آپ اس شخص کو ضرور ہدایت سے سرفراز فرماتے، جس نے آپ پر احسان فرمایا تھا، جس نے آپ کو اپنی قوم سے بچایا اور آپ کی مدد کی۔۔۔ یعنی آپ کا چچا ابو طالب۔۔۔ مگر آپ نے ابو طالب کو دین کی دعوت دی اور کامل خیر خواہی کے ساتھ اس پر احسان کیا اور یہ اس احسان سے بہت زیادہ ہے جو آپ کے چچا نے آپ کے ساتھ کیا مگر حقیقت یہ ہے کہ ہدایت اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ قریش میں سے اہل تکذیب اور دیگر اہل مکہ رسول اللہ ﷺ سے کہا کرتے تھے : (ان نتبع الھدی معک نتخطف من ارضنا) ” اگر ہم تمہارے ساتھ ہدایت کی پیروی کریں تو ہم اپنے ملک سے اچک لئے جائیں “۔ یعنی ہمیں قتل کرکے، قیدی بناکر اور ہمارا مال و متاع لوٹ کر زمین سے اچک لیا جائے گا کیونکہ لوگ آپ سے عداوت رکھتے ہیں اور آپ کی مخالفت کرتے ہیں، لہٰذا اگر ہم نے آپ کی اتباع کی تو ہمیں تمام لوگوں کی دشمنی کا سامنا کرنا پڑے گا اور ہم لوگوں کی دشمنی مول نہیں لے سکتے۔ ان کا یہ کلام اللہ تعالیٰ کے بارے میں ان کے سوئظن پر دلالت کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے دین کو فتح و نصرت سے نوازے گا نہ اپنے کلمہ کو بلند کرے گا، بلکہ اس کے برعکس وہ لوگوں کو اپنے دین کے حاملین پر غالب کرے گا جو انہیں بدترین عذاب میں مبتلا کریں گے اور وہ سمجھتے تھے کہ باطل حق پر غالب آجائے گا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی حالت بیان کرتے اور لوگوں کی بجائے ان کے اختصاص کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : (اولم نمکن لھم حرما امنا یجبی الیہ ثمرت کل شی رزقا من لدنا) ” کیا ہم نے پرامن حرم کو ان کا جائے قیام نہیں بنایا جہاں ہماری طرف سے رزق کے طور پر ہر طرح کے پھل کھچے چلے آتے ہیں ؟ “ یعنی کیا ہم نے انہیں حرم میں اصحاب اختیار نہیں بنایا جہاں نہایت کثرت سے لوگ پے در پے آتے ہیں اور زائرین اس کی زیارت کا قصد کرتے ہیں۔ قریب والے اور بعید والے سب لوگ اس کا احترام کرتے ہیں۔ حرم کے رہنے والوں کو خوف زدہ نہیں کیا جاتا اور لوگ انہیں کم یا زیادہ کوئی نقصان نہیں پہنچاتے۔ حالانکہ ان کے اردگرد ہر جگہ خوف میں گھری ہوئی ہی اور وہ ان کے رہنے والے محفوظ ہیں نہ مامون۔ اس لئے انہیں اپنے رب کی حمد وثناء بیان کرنی چاہیے کہ اس نے انہیں کامل امن سے نوازا جو دوسروں کو میسر نہیں، انہیں اس رزق کثیر پر اپنے رب کا شکر ادا کرنا چاہیے جو ہر طرف سے پھلوں، کھانوں اور دیگر سازوسامان کی صورت میں ان کے پاس پہنچاتا ہے جس سے یہ متمتع ہوتے ہیں اور انہیں فراخی اور کشادگی حاصل ہوتی ہے۔ انہیں چاہیے کہ وہ اس رسول کریم ﷺ کی اتباع کریں تاکہ انہیں ام تام اور فراخی سے نوازا جائے۔ وہ رسول اللہ ﷺ کی تکذیب اور اللہ تعالیٰ کی نعمت پر اترانے سے بچیں ورنہ ان کا امن خوف سے، ان کی عزت ذلت سے اور ان کی دولت مندی فقر سے بدل جائے گی۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے گزشتہ قوموں کو ان کی بداعمالیوں کی جو سزا دی ہے ان کو بھی اس سزا سے ڈرایا ہے، چناچہ فرمایا : (وکم اہلکنا من قریۃ بطرت معیشتھا) ” اور کتنی ہی بستیوں کو ہم نے تباہ و برباد کردیا جو اپنی معیشت پر اترایا کرتی تھیں “ یعنی یہ بستیاں اپنی معیشت پر فخر کرتی تھیں اور غفلت میں مبتلا تھیں اور ان کے رہائشی اللہ تعالیٰ کے رسول پر ایمان لانے کی بجائے اپنی خوشحالی میں مشغول رہے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کر ڈالا، ان سے نعمت چھین لی اور ان پر عذاب نازل کیا (فتلک مسکنھم لم تسکن من بعدھم الاقلیلا) یعنی ان پر لگاتار ہلاکت نازل ہونے، ان کے جان و مال کے تلف ہونے اور ان کے بعد ان کی بستیوں کے اجڑ جانے کے بعد وہ کبھی آباد نہ ہوئیں۔ (وکنا نحن الورثنین) ” اور ہم ہی ان کے وارث ہوئے “۔ یعنی ہم بندوں کے وارث ہیں، ہم انہیں موت دیں گے اور وہ تمام نعمتیں ہماری طرف لوٹ ائیں گی جو ہم نے ان کو عطا کی تھیں پھر ہم ان کو واپس اپنی طرف لوٹائیں گے اور ان کو ان کے اعمال کی جزا و سزادیں گے۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی حکمت اور رحمت ہے کہ وہ قوموں پر ان کے مجرو کفر کی بناء پر، ان پر حجت قائم کرنے اور ان کی طرف رسول مبعوث کرنے سے قبل، عذاب نازل نہیں کرتا۔ بنا بریں فرمایا : (ومان کان ربک مھلک القری) ” اور تمہارا رب بستیوں کو ہلاک نہیں کیا کرتا۔ “ یعنی ان کے کفر اور ظلم کی بناء پر (حتی یبعث فی امھا) ” جب تک ان کے برے شہر میں نہ بھیج لے۔ “ یعنی اس بستی اور شہر میں، جہاں سے وہ گزرتے ہیں، جہاں وہ آتے جاتے رہتے ہیں، ان بستیوں کے اردگرد پھرتے رہتے ہیں اور ان سے ان کی خبریں اور واقعات مخفی نہیں رہتے ہیں۔ (رسولاً یتلوا علیھم ایتنا) ” رسول جو ان پر ہماری آیتیں پڑھتا “۔ جو اس وحی کی صحت پر دلالت کرتیں جسے رسول لے کر آیا اور اس کی دعوت کی تصدیق کرتی تھیں اور اللہ کا رسول ان کے قریب اور دور سب کو اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچاتا تھا۔ اس کے برعکس دور دراز بستیوں اور زمین کے دور دراز گوشوں میں، رسولوں کا مبعوث ہونا ان پر مخفی رہ سکتا ہے، مگر بڑے بڑے شہروں میں ان اخبار و واقعات کا شائع ہونا زیادہ یقینی ہے اور غالب حالات میں شہروں کے باشندوں میں دوسروں کی نسبت جفا کم ہوتی ہے۔ (وما کنا مھل کی القری الا و اھلھا ظلمون) ” اور ہم بستیوں کو ہلاک نہیں کیا کرتے مگر اسی وقت جب کہ وہاں کے باشندے ظالم ہوں “۔ یعنی انہوں نے کفر اور معاصی کا ارتکاب کرکے ظلم کیا اور سزا کے مستحق ٹھہرے۔ حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کو اس کے ظلم کی بناء پر اور اس پر حجت قائم کرنے کے بعد ہی عذاب دیتا ہے۔
Ayahs 28:61–65

اَفَمَنْ وَّعَدْنٰهُ وَعْدًا حَسَنًا فَهُوَ لَاقِیْهِ كَمَنْ مَّتَّعْنٰهُ مَتَاعَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا ثُمَّ هُوَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ مِنَ الْمُحْضَرِیْنَ Open ayah 28:61 in the Quran reader

بھلا جس شخص سے ہم نے نیک وعدہ کیا اور اس نے اسے حاصل کرلیا تو کیا وہ اس شخص کا سا ہے جس کو ہم نے دنیا کی زندگی کے فائدے سے بہرہ مند کیا ؟ پھر وہ قیامت کے روز ان لوگوں میں ہو جو (ہمارے روبرو) حاضر کئے جائیں گے

وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ فَیَقُوْلُ اَیْنَ شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ Open ayah 28:62 in the Quran reader

اور جس روز خدا انکو پکارے گا اور کہے گا کہ میرے وہ شریک کہاں ہیں جن کا تم کو دعوی تھا ؟

قَالَ الَّذِیْنَ حَقَّ عَلَیْهِمُ الْقَوْلُ رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ اَغْوَیْنَا١ۚ اَغْوَیْنٰهُمْ كَمَا غَوَیْنَا١ۚ تَبَرَّاْنَاۤ اِلَیْكَ١٘ مَا كَانُوْۤا اِیَّانَا یَعْبُدُوْنَ Open ayah 28:63 in the Quran reader

تو جن لوگوں پر (عذاب کا) حکم ثابت ہوچکا ہوگا وہ کہیں گے کہ ہمارے پروردگار یہ وہ لوگ ہیں جن کو ہم نے گمراہ کیا تھا (اور) جس طرح ہم خود گمراہ ہوئے تھے اسی طرح انکو گمراہ کیا تھا (اب) ہم تیری طرف (متوجہ ہو کر) ان سے بیزار ہوتے ہیں یہ ہمیں نہیں پوجتے تھے

وَ قِیْلَ ادْعُوْا شُرَكَآءَكُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَهُمْ وَ رَاَوُا الْعَذَابَ١ۚ لَوْ اَنَّهُمْ كَانُوْا یَهْتَدُوْنَ Open ayah 28:64 in the Quran reader

اور کہا جائے گا کہ اپنے شریکوں کو بلاؤ تو وہ انکو پکاریں گے اور وہ ان کو جواب نہ دے سکیں گے اور (جب) عذاب کو دیکھ لیں گے (تو تمنا کریں گے کہ) کاش وہ ہدایت یاب ہوتے

وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ فَیَقُوْلُ مَا ذَاۤ اَجَبْتُمُ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 28:65 in the Quran reader

اور جس روز (خدا) ان کو پکارے گا اور کہے گا کہ تم نے پیغمبروں کو کیا جواب دیا ؟

آیت 61 اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندوں کو دنیا میں زہد کی ترغیب دی ہے نیز انہیں خبردار کیا ہے کہ وہ دنیا کے دھوکے میں نہ آئیں اور یہ کہ وہ آخرت میں رغبت رکھیں، نیز اس نے آخرت کو بندے کا مطلوب و مقصود قرار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ سب کچھ جو مخلوق کو عطا کیا گیا ہے، مثلاً سونا چاندی، حیوانات، مال و متاع، عورتیں، بیٹے، ماکولات، مشروبات اور لذات صرف دنیا کی متاع اور اس کی زینت ہیں۔ بندہ جن سے بہت تھوڑے وقت کے لئے متمتع ہوتا ہے وہ بہت ہی تھوڑی سی متاع ہے جو تکدر سے گھری ہوئی اور غم واندوہ سے لبریز ہے۔ بندہ نہایت قلیل مدت کے لئے فخر وریا کے طور پر اس دنیا سے اپنے آپ کو آراستہ کرتا ہے پھر جلد ہی یہ دنیا زائل اور تمام کی تمام ختم ہوجاتی ہے اور اس دنیا سے محبت کرنے والا حسرت، ندامت، ناکامی اور حرماں نصیبی کے سوا اس دنیا سے کچھ حاصل نہیں کر پاتا۔ (وماعنداللہ) ” اور جو اللہ کے پاس ہے “۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے پاس ہمیشہ رہنے والی نعمتیں اور ہر قسم کے تکدر سے محفوظ زندگی (خیر و ابقی) اپنے اوصاف اور کمیت کے اعتبار سے بہتر ہے وہ زندگی دائمی، سرمدی اور ابدی ہے۔ (افلا تعقلون) کیا تم لوگوں میں عقل نہیں جس کے ذریعے سے تم دونوں امور کے مابین موازنہ کرسکو کہ کون سی زندگی ترجیح دیئے جانے کی مستحق ہے اور کون سی زندگی اس بات کی زیادہ مستحق ہے کہ اس کے لئے بھاگ دوڑ کی جائے۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ بندہ اپنی عقل کے مطابق، آخرت کو دنیا پر ترجیح دیتا ہے اور اگر کوئی آخرت پر دنیا کو ترجیح دیتا ہے تو اس کا باعث اس کی کم عقلی ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے انسانی عقلوں کو اس طرف توجہ دلائی ہے کہ وہ دنیا کو ترجیح دینے والوں کے انجام اور آخرت کو ترجیح دینے والوں کے انجام کے مابین موازنہ کریں، چناچہ فرمایا : (افمن و عدنہ و عداً حسنا فھو لاقیہ) ” بھلا جسے ہم نے کوئی اچھا وعدہ دیا ہو اور وہ اسے پانے والا ہو “ کیا وہ مومن جو آخرت کے لئے کوشاں ہے، اپنے رب کے وعدۂ ثواب یعنی جنت کے لئے ثواب یعنی جنت کے لئے عمل پیرا ہے جس میں بڑی بڑی نعمتیں عطا ہوں گی اور بلاشبہ یہ وعدہ ضرور پورا ہوگا کیونکہ یہ ایک کریم ہستی کی طرف سے کیا گیا وعدہ ہے جس کا وعدہ سچا ہوتا ہے، وہ اپنے اس بندے سے کبھی وعدہ خلافی نہیں کرتی جو اس کی رضا پر چلتا ہے اور اس کو ناراض کرنے والے امور سے اجتناب کرتا ہے۔ (کمن متعنہ متاع الحیوظ الدنیا) ” اس شخص کی مانند ہوسکتا ہے جسے ہم نے دنیاوی زندگی کے سروسامان سے نوازا ہو “ جو اس دنیا کو حاصل کرتا ہے وہ کھاتا پیتا اور اس سے یوں متمتع ہوتا ہے جیسے جانورمتمتع ہوتے ہیں ؟ یہ شخص اپنی آخرت سے غافل ہو کر اپنی دنیا میں مشغول ہے اس نے ہدایت الٰہی کی کوئی پروا کی نہ انبیاء ومرسلین کی اطاعت کی۔ یہ اپنے اسی رویے پر جما ہوا ہے۔ اس دنیا سے اس نے جو کچھ زاد راہ سمیٹا ہے وہ ہلاکت اور خسارے کے سوا کچھ نہیں۔ (ثم ھم یوم القیمۃ من المحضرین) ” پھر قیامت کے دن وہ ان لوگوں میں ہوگا جو حاضر کئے جائیں گے “۔ یعنی پھر حساب کتاب کے لئے اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کیا جائے گا۔ اسے معلوم ہے کہ اس کے دامن میں کوئی بھلائی نہیں، اس کے پاس جو کچھ ہے وہ سب اس کے لئے نقصان دہ ہے۔۔۔ کیا تم جانتے ہو اس کا کیا انجام ہوگا ؟ اور اس کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا۔۔۔ عقل مند شخص کو وہی چیز اختیار کرنی چاہیے جو اختیار کئے جانے کی مستحق ہے اور اسی چیز کو ترجیح دینا چاہیے جو ترجیح دیئے جانے کے قابل ہے۔
Ayah 28:66

فَعَمِیَتْ عَلَیْهِمُ الْاَنْۢبَآءُ یَوْمَئِذٍ فَهُمْ لَا یَتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 28:66 in the Quran reader

تو وہ اس روز خبروں سے اندھے ہوجائیں گے اور آپس میں کچھ بھی نہ پوچھ سکیں گے

آیت 66 اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ قیامت کے روز خلائق سے چند سوال کرے گا۔ 1 ۔۔۔ اصولی چیزوں کے بارے میں سوال کرے گا۔ 2 ۔۔۔ اللہ تعالیٰ ان سے اپنی عبادت کے بارے میں سوال کرے گا۔ 3 ۔۔۔ اور انہوں نے اس کے رسولوں کو کیا جواب دیا اس بارے میں سوال کرے گا۔ چناچہ فرمایا : (یوم ینادیھم) یعنی اللہ تعالیٰ ان مشرکین کو پکار کر کہے گا جنہوں نے اس کے شریک بنائے، وہ ان کی عبادت کرتے رہے، جلب منفعت اور دفع ضرر میں ان پر امیدیں رکھتے رہے۔ اللہ تعالیٰ مخلوقات کے سامنے انہیں اس لئے پکار کر کہے گا تاکہ ان کے سامنے ان کے معبودوں کی بےبسی اور خود ان کی گمراہی ظاہر ہوجائے۔ (فیقول این شرکاء ی) ” پس وہ (اللہ تعالیٰ ) فرمائے گا کہ میرے وہ شریک کہاں ہیں ؟ “ حالانکہ اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک نہیں اللہ تعالیٰ کی یہ ندا ان کے زعم اور ان کی بہتان طرازی پر طنز کے طور پر ہوگی، اس لئے فرمایا : (الذین کنتم ترعمون) ” جن کا تمہیں دعویٰ تھا “۔ تمہارے مزعومہ معبود اپنی ذات کے ساتھ کہاں ہیں اور کہاں ہے ان کی نفع دینے اور نقصان دینے کی طاقت ؟ اور یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ اس وقت ان کے سامنے یہ بات اچھی طرح عیاں ہوجائے گی کہ جن خود ساختہ معبودوں کی وہ عبادت کرتے رہے ہیں جن پر ان کو بہت امیدیں اور توقعات تھیں، سب باطل اور کمزور تھے اور وہ امیدیں بھی بےثمر تھیں جو انہوں نے ان معبودوں سے وابستہ کر رکھی تھیں وہ اپنے بارے میں ضلالت اور بےراہ روی کا اعتراف کریں گے۔ بنابریں (قال الذین حق علیھم القول) ” وہ لوگ جن پر عذاب کی بات واجب ہوجائے گی کہیں گے “ کفر و شر میں ان کی قیادت کرنے والے سردار اپنے پیروکاروں کو گمراہ کرنے کا اقرار کرتے ہوئے کہیں گے (ربنا ھولا) ” اے ہمارے رب یہی “ وہ پیروکار ہیں (الذین اغوینا اغوینھم کما غوینا) ” جن کو ہم نے بد راہ کیا، ہم نے ان کو اسی طرح بدراہ کیا جس طرح ہم خود بدراہ ہوئے “۔ یعنی گمراہی اور بدراہی میں ہم میں سے ہر ایک شریک ہے اور اس پر عذاب واجب ہوگیا۔ وہ کہیں گے : (تبرانا الیک) یعنی ہم ان کی عبادت سے بری الذمہ ہیں ہم ان سے اور ان کے عمل سے براءت کا اظہار کرتے ہیں۔ (ماگانو ایانا یعبدون) ” یہ ہمیں نہیں پوجتے تھے “۔ یہ لوگ تو شیاطین کی عبادت کیا کرتے تھے۔ (رقیل) ” کہا جائے گا “ ان سے (ادعوا شرکاء کم) ” اپنے ان معبودوں کو بلا لو “ جن سے تمہیں کوئی نفع پہنچنے کی امید تھی چناچہ مصیبت کی ایسی گھری میں ان کو اپنے مزعومہ معبودوں کو بلانے کا حکم دیا جائے گا جس میں عابد اپنے معبود کو پکارنے پر مجبور ہوتا ہے۔ (قدعوھم) ” پس وہ ان کو پکاریں گے “ تاکہ وہ ان کی کوئی فائدہ پہنچائیں یا ان کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچائیں (فلم یستجیبوا لھم) ” مگر وہ ان کو کوئی جواب نہ دیں گے “ تب کفار کو معلوم ہوجائے گا کہ وہ جھوٹے اور سزا کے مستحق ہیں۔ (وراوا العذاب) ” اور وہ اس عذاب کو دیکھیں گے “ جو ان کے آنکھوں دیکھتے نازل ہوگا جس کو وہ جھٹلایا اور اس کا انکار کیا کرتے تھے۔ (لوانھم کانو یھتدون) ” کاش وہ ہدایت یاب ہوتے “۔ تو ان کو اس عذاب کا سامنا نہ کرنا پڑتا اور انہیں جنت کے راستے کی طرف راہنمائی حاصل ہوتی، جیسے انہیں دنیا میں رہنمائی حاصل ہوئی تھی، مگر اس کے برعکس وہ دنیا میں راہ راست پر گامزن نہ ہوئے، اس لئے آخرت میں انہیں جنت کا راستہ نہیں ملا۔ (ویوم ینادیھم فیقول ماذا جبتھم المرسلین) ” اور جس روز اللہ ان کو پکارے گا اور کہے گا کہ تم نے رسولوں کو کیا جواب دیا تھا ؟ “ یعنی آیا تم نے ان کی تصدیق کرکے ان کی اتباع کی یا تم نے ان کی تکذیب کرکے ان کی مکالفت کر راستہ اختیار کیا ؟ (فعمیت علیھم الانباء یومذ فھم لایتساء لون) یعنی انہیں اس سوال کا جواب بن نہیں پڑے گا اور نہ انہیں صواب کا راستہ ہی ملے گا اور یہ بھی اچھی طرح معلوم ہے کہ اس مقام پر صریح اور صحیح جواب دیئے بغیر ان کی جان نہیں چھوٹے گی۔ یعنی اپنے احوال کے مطابق انہیں بتانا پڑے گا کہ انہوں نے ایمان اور اطاعت کے ساتھ رسولوں کی آظاز پر لبیک کہی تھی، مگر جب انہیں اپنے رسولوں کو جھٹلانے کے رویے، ان کے ساتھ اپنے عناد اور ان کے احکام کی مخالفت کے بارے میں معلوم ہوگا تو وہ کچھ نہیں بولیں گے اور نہ ایک دوسرے سے پوچھ سکیں گے کہ کیا جواب دیں خواہ جواب جھوٹا ہی کیوں نہ ہو۔
Ayahs 28:67–69

فَاَمَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَعَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ مِنَ الْمُفْلِحِیْنَ Open ayah 28:67 in the Quran reader

لیکن جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور عمل نیک کیے تو امید ہے کہ وہ نجات پانے والوں میں ہو

وَ رَبُّكَ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ وَ یَخْتَارُ١ؕ مَا كَانَ لَهُمُ الْخِیَرَةُ١ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 28:68 in the Quran reader

اور تمہارا پروردگار جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور (جسے چاہتا ہے) برگزیدہ کرلیتا ہے انکو اس کا اختیار نہیں ہے یہ جو شرک کرتے ہیں خدا اس سے پاک و بالاتر ہے

وَ رَبُّكَ یَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُوْرُهُمْ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ Open ayah 28:69 in the Quran reader

اور ان کے سینے جو کچھ مخفی کرتے ہیں اور جو یہ ظاہر کرتے ہیں تمہارا پروردگار اس کو جانتا ہے

آیت 67 اللہ تبارک و تعالیٰ مخلوق سے ان کے معبود اور ان کے رسولوں کے بارے میں اپنے سوال کا ذکر کرنے کے بعد اس طریق کا ذکر کرتا ہے جس کے ذریعے سے بندہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ سکتا ہے۔ بیشک صرف وہی شخص نجات حاصل کرسکتا ہے جو شرک اور معاصی سے توبہ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتا ہے، اس کی عبادت کرتا ہے، اس کے رسولوں پر ایمان لاتا ہے، ان کی تصدیق کرتا ہے، نیک عمل کرتا ہے اور اپنے اعمال میں رسولوں کی اتباع کرتا ہے۔ (فعسی ان یکون) ” پس امید ہے کہ وہ ہوں “ یعنی وہ لوگ جن میں یہ تمام خصائل جمع ہیں۔ (من المفلحین) ” کامیاب ہونے والوں میں سے “۔ اپنا مطلوب و مقصود حاصل کرنے اور خوف سے نجات پانے میں کامیاب ہونے والے۔ پس متذکرہ بالا امور کے بغیر فلاح کا کوئی راستہ نہیں۔
Ayahs 28:70–72

وَ هُوَ اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ لَهُ الْحَمْدُ فِی الْاُوْلٰى وَ الْاٰخِرَةِ١٘ وَ لَهُ الْحُكْمُ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 28:70 in the Quran reader

اور وہی خدا ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں دنیا اور آخرت میں اسی کی تعریف ہے اور اسی کا حکم اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ جَعَلَ اللّٰهُ عَلَیْكُمُ الَّیْلَ سَرْمَدًا اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَنْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ یَاْتِیْكُمْ بِضِیَآءٍ١ؕ اَفَلَا تَسْمَعُوْنَ Open ayah 28:71 in the Quran reader

کہو بھلا دیکھو تو اگر خدا تم پر ہمیشہ قیامت کے دن تک رات (کی تاریکی) کئے رہے تو خدا کے سوا کون معبود ہے جو تم کو روشنی لادے ؟ تو کیا تم سنتے نہیں

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ جَعَلَ اللّٰهُ عَلَیْكُمُ النَّهَارَ سَرْمَدًا اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَنْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ یَاْتِیْكُمْ بِلَیْلٍ تَسْكُنُوْنَ فِیْهِ١ؕ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ Open ayah 28:72 in the Quran reader

کہو تو بھلا دیکھو تو اگر خدا تم پر ہمیشہ روز قیامت تک دن کئے رہے تو خدا کے سوا کون معبود ہے کہ تم کو رات لادے جس میں تم آرام کرو ؟ تو کیا تم دیکھتے نہیں ؟

آیت 70 اللہ تبارک و تعالیٰ ذکر فرماتا ہے کہ اس نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا پھر ان میں اپنی مشیت نافذ کی اور وہ اپنے اختیار میں متفرد ہے۔ وہ اشخاص، او امر، ازمان اور اماکن میں سے جو چاہتا ہے چن کر مختص کرلیتا ہے کسی کو اس معاملے میں کوئی اختیار نہیں۔ اللہ تعالیٰ ان تمام شریکوں، مددگاروں، اولاد اور بیوی وغیرہ سے منزہ اور مبرا ہے جنہیں یہ مشرکین اس کا شریک ٹھہراتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان تمام امور کو خوب جانتا ہے جنہیں یہ اپنے سینوں میں چھپاتے ہیں اور جنہیں یہ ظاہر کرتے ہیں۔ وہ اکیلا ہی دنیا و آخرت میں اپنی صفات جمال و کمال اور اپنی مخلوق پر احسان و اکرام کی بناء پر مستحق عبادت اور لائق ستائش ہے۔ وہی دنیا و آخرت میں فیصلے کرنے والا ہے، دنیا میں اپنے حکم کو فی و قدری کے مطابق فیصلے کرتا ہے جو تمام مخلوق میں جاری وساری ہیں اور وہ اپنے حکم دینی کے مطابق فیصلے کرتا ہے جس سے تمام شرائع او امر و نواہی وجود میں آتے ہیں۔ وہ آخرت میں بھی اپنے حکم قدری و جزائی کے مطابق فیصلے کرے گا اس لئے فرمایا : (والیہ ترجعون) ” اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے “۔ تب وہ تمام میں سے ہر ایک کو اس کے اچھے اور برے عمل کی جزا دے گا۔
Ayahs 28:73–74

وَ مِنْ رَّحْمَتِهٖ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 28:73 in the Quran reader

اور اس نے اپنی رحمت سے تمہارے لئے رات کو اور دن کو بنایا تاکہ تم اس میں آرام کرو اور (اس میں) اس کا فضل تلاش کرو اور تاکہ شکر کرو

وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ فَیَقُوْلُ اَیْنَ شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ Open ayah 28:74 in the Quran reader

اور جس دن وہ ان کو پکارے گا اور کہے گا کہ میرے وہ شریک جن کا تمہیں دعوی تھا کہاں گئے ؟

آیت 73 یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے بندوں پر احسان ہے۔ وہ ان کو اس احسان پر شکر ادا کرنے، اس کی عبودیت اور حق کو قائم کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ بیشک اس نے اپنی بےپایاں رحمت کی وجہ سے ان کے لئے دن بنایا تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کا فضل تلاش کریں اور دن کی روشنی میں اپنے رزق اور معیشت کی طلب میں زمین میں پھیل جائیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے رات پیدا کی تاکہ وہ اس میں سکون پائیں ان کے بدن، دن بھر کی تگ و دو کے بعد آرام کرکے تھکاوٹ کو دور کریں۔ یہ بندوں پر اس کا فضل و کرم اور اس کی رحمت ہے۔۔۔ کیا مخلوق میں سے کوئی ایسی ہستی ہے جو ایسا کرنے پر قادر ہو ؟ (ان جعل اللہ علیکم الیل سرھدا الی یوم القیمۃ من الہ غیر اللہ یاتیکم بضیاء افلا تسمعون) ” اگر اللہ تم پر قیامت کے دن تک ہمیشہ رات ہی طاری کر دے گا تو اللہ کے سوا کوئی الہ ہے جو تمہیں روشنی لا دیتا کیا تم سنتے نہیں ؟ “ اللہ کی نصیحتوں اور آیتوں کو سمجھنے اور قبول کرنے کی غرض سے ؟ اور ( ان جعل اللہ علیکم النھار سرمدا الی یوم القیمۃ من الہ غیر اللہ یاتیکم بلیل تسکنون فیہہ افلا تبصرون) ” اگر اللہ تم پر قیامت کے دن تک ہمیشہ دن ہی طاری کردے تو اللہ کے سوا کوئی الہ ہے جو تمہارے لئے رات لے آتا جس میں تم آرام کرسکتے ؟ کیا تم دیکھتے نہیں “ عبرت کے مواقع اور ایات الٰہی کے جگہیں تاکہ تمہاری بصیرت روشن رہے اور تم صرابط مستقیم پر گامزن رہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے رات کی آیت مبارکہ میں فرمایا : (افلا تسمعون) ” کیا تم سنتے نہیں ؟ “ اور دان کی آیت مبارکہ میں فرمایا : (افلا تبصرون) ” کیا تم دیکھتے نہیں ؟ “ اس کی وجہ یہ ہے کہ رات کے وقت سماعت کا حاسہ، بصارت کے حاسہ کی نسبت زیادہ قوی ہوتا ہے اور دن کے وقت بصارت کا حاسہ زیادہ قوی ہوتا ہے۔ ان آیات کریمہ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ بندے کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں غور و فکر کرے، ان میں بصرت حاصل کرے اور ان کے وجود اور عدم وجود کے مابین موازنہ کرے۔ جب وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے وجود اور ان کے عدم وجود کے مابین مواز نہ کرے گا تو اس کی عقل کو اللہ تعالیٰ کے احسان و عنایت پر تنبہ حاصل ہوگا۔ اس کے برعکس جو کوئی عادت کی پیروی کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ یہ ایسا معاملہ ہے جو ہمیشہ سے اسی طرح چلا آرہا ہے اور اسی طرح چلتا رہے گا اور اس کا دل اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر اس کی حمد وثناء سے خالی اور اس حقیقت کی روایت سے بےبہرہ ہے کہ وہ ہرحال میں اللہ تعالیٰ کا محتاج ہے۔۔۔ تو وہ ایسا شخص ہے جس کے دل میں کبھی شکر اور ذکر کا خیال پیدا نہیں ہوتا۔
Ayah 28:75

وَ نَزَعْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِیْدًا فَقُلْنَا هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ فَعَلِمُوْۤا اَنَّ الْحَقَّ لِلّٰهِ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ Open ayah 28:75 in the Quran reader

اور ہم ہر ایک امت میں سے گواہ نکالیں گے پھر کہیں گے کہ اپنی دلیل پیش کرو تو وہ جان لیں گے کہ سچ بات خدا کی ہے اور جو وہ افترا کیا کرتے تھے ان سے جاتا رہے گا

آیت 75 جس روز اللہ تعالیٰ مشرکین کو اور ان لوگوں کو۔۔۔ جو غیر اللہ کو اس کا ہمسر ٹھہراتے ہیں، جو یہ سمجھتے ہیں کہ الوہیت میں غیر اللہ کا حصہ ہے اور ان کے یہ خود ساختہ معبود عبادت کے مستحق ہیں اور نفع و نقصان دینے کی طاقت رکھتے ہیں۔۔۔ پکارے گا۔ پس جب قیامت کا دن ہوگا تو اللہ تعالیٰ مشرکین کی جسارت، ان کے زعم کاذب اور ان کی خظد اپنے آپ کی تکذیب کو ظاہر کرنا چاہے گا۔ (ینادیھم فیقول این شرکاء ی الذین کنتھم تزعمون) ” تو ان کو پکار کر پوچھے گا کہ میرے وہ شریک کہاں ہیں جن کو تم ” شریک سمجھتے تھے “۔ یہ نفس امر میں شریک نہیں بلکہ ان کے زعم باطل کے مطابق شریک ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہےُ (وما یتبع الذین یدعون من دون اللہ شرکاء ان یتبعون الا الظن و ان ھم الا یغرصون) (یونس : 01/66) ” اور وہ لوگ جو اللہ کے سوا اپنے خود ساختہ شریکوں کو پکارتے ہیں وہ تو محض اپنے وہم و گمان کے پیرو ہیں اور وہ صرف قیاس آرائیاں کر رہے ہیں “۔ جب یہ مشرکین اور ان کے معبود ان باطل اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوں گے تو اللہ تعالیٰ (من کل امۃ شھیدا) ” ہر امت میں سے ایک گواہ “ یعنی جھٹلانے والی ہر امت میں سے ایک گواہ کھڑا کرے گا جو دنیا میں ان کے کرتوتوں، ان کے شرک اور ان کے اعتقادات پر گواہی دے گا اور یہ منتخب لوگ ہوں گے یعنی ہم جھٹلانے والوں کے سرداروں میں سے کچھ لوگوں کو منتخب کرلیں گے جو اپنی طرف سے اور اپنے بھائیوں کی طرف سے جھگڑیں گے کیونکہ وہ ایک ہی راستے پر چلتے رہے ہیں اور جب وہ محاکمہ کے لئے سامنے آئیں گے (فقلنا ہاتوا برھانکم) ” تو ہم (ان سے) کہیں گے اپنی دلیل لاؤ “ یعنی اپنے شرک کی صحت پر حجت وبرہان کہ آیا ہم نے تمہیں اس شرک کا حکم دیا ؟ کیا میرے رسولوں نے تمہیں اس کا حکم دیا ؟ یا اس شرک کے جواز کے بارے میں تم نے میری کتابوں میں کچھ لکھا ہوا پایا ؟ کیا ان خود ساختہ شریکوں میں کوئی ایسا ہے جو الوہیت کا مستحق ہو ؟ کیا یہ معبود تمہیں کوئی فائدہ دے سکتے ہیں ؟ یا تم سے اللہ تعالیٰ کے عذاب کو ہٹانے میں تمہارے کوئی کام آسکتے ہیں ؟ اگر ان میں کوئی اہلیت ہے تو وہ یہ کام کر دیکھیں وہ تم سی عذاب الٰہی کو دور کریں اگر وہ ایسا کرنے کی قدرت رکھتے ہیں۔ (فعلموا) ” تب وہ جان لیں گے “ اپنے قول کے بطلان و فساد کو اور انہیں یہ بھی معلوم ہوجائے گا (ان الحق للہ) ” کہ حق اللہ ہی کے لئے ہے “ خصومت ان کی طرف رخ کرلے گی۔ ان کی حجت ناکام اور اللہ تعالیٰ کی حجت غالب آجائے گی۔ (وصل عنھم ماکانو یفترون) ” جو جھوٹ اور بہتان انہوں نے گھڑا تھا سب مضمحل، ناپید اور معدوم ہوجائے گا “۔ انہیں معلوم ہوجائے گا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں انصاف کیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے صرف اسی شخص کو سزا دی ہے جو اس کا مستحق اور اہل ہے۔
Ayahs 28:76–82

اِنَّ قَارُوْنَ كَانَ مِنْ قَوْمِ مُوْسٰى فَبَغٰى عَلَیْهِمْ١۪ وَ اٰتَیْنٰهُ مِنَ الْكُنُوْزِ مَاۤ اِنَّ مَفَاتِحَهٗ لَتَنُوْٓاُ بِالْعُصْبَةِ اُولِی الْقُوَّةِ١ۗ اِذْ قَالَ لَهٗ قَوْمُهٗ لَا تَفْرَحْ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْفَرِحِیْنَ Open ayah 28:76 in the Quran reader

قارون موسیٰ کی قوم میں سے تھا اور ان پر تعدی کرتا تھا اور ہم نے اسکو اتنے خزانے دئیے تھے کہ ان کی کنجیاں ایک طاقتور جماعت کو اٹھانی مشکل ہوتیں جب اس سے اس کی قوم نے کہا کہ اترائیے مت کہ خدا اترانے والوں کو پسند نہیں کرتا

وَ ابْتَغِ فِیْمَاۤ اٰتٰىكَ اللّٰهُ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ وَ لَا تَنْسَ نَصِیْبَكَ مِنَ الدُّنْیَا وَ اَحْسِنْ كَمَاۤ اَحْسَنَ اللّٰهُ اِلَیْكَ وَ لَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِی الْاَرْضِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 28:77 in the Quran reader

اور جو (مال) تم کو خدا نے عطا فرمایا ہے اس سے آخرت (کی بھلائی) طلب کیجئے اور دنیا سے اپنا حصہ نہ بھلائیے اور جیسی خدا نے تم سے بھلائی کی ہے (ویسی) تم بھی (لوگوں سے) بھلائی کرو اور ملک میں طالب فساد نہ ہو کیونکہ خدا فساد کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا

قَالَ اِنَّمَاۤ اُوْتِیْتُهٗ عَلٰى عِلْمٍ عِنْدِیْ١ؕ اَوَ لَمْ یَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ قَدْ اَهْلَكَ مِنْ قَبْلِهٖ مِنَ الْقُرُوْنِ مَنْ هُوَ اَشَدُّ مِنْهُ قُوَّةً وَّ اَكْثَرُ جَمْعًا١ؕ وَ لَا یُسْئَلُ عَنْ ذُنُوْبِهِمُ الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 28:78 in the Quran reader

بولا کہ یہ (مال) مجھے میری دانش (کے زور) سے ملا ہے کیا اس کو معلوم نہیں کہ خدا نے اس سے پہلے بہت سی امتیں جو اس سے قوت میں بڑھ کر اور جمعیت میں بیشتر تھیں ہلاک کر ڈالی تھیں ؟ اور گنہگاروں سے ان کے گناہوں کے بارے میں پوچھا نہیں جائے گا

فَخَرَجَ عَلٰى قَوْمِهٖ فِیْ زِیْنَتِهٖ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ یُرِیْدُوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا یٰلَیْتَ لَنَا مِثْلَ مَاۤ اُوْتِیَ قَارُوْنُ١ۙ اِنَّهٗ لَذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ Open ayah 28:79 in the Quran reader

تو (ایک روز) قارون (بڑی) آرائش (ٹھاٹھ) سے اپنی قوم کے سامنے نکلا جو لوگ دنیا کی زندگی کے طالب تھے کہنے لگے کہ جیسا (مال و متاع) قارون کو ملا ہے کاش (ایسا ہی) ہمیں بھی ملے وہ تو بڑا ہی صاحب نصیب ہے

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ وَیْلَكُمْ ثَوَابُ اللّٰهِ خَیْرٌ لِّمَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا١ۚ وَ لَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الصّٰبِرُوْنَ Open ayah 28:80 in the Quran reader

اور جن لوگوں کو علم دیا گیا تھا وہ کہنے لگے کہ تم پر افسوس مومنوں اور نیکوکاروں کے لئے (جو) ثواب خدا (کے ہاں تیار ہے وہ) کہیں بہتر ہے اور وہ صرف صبر کرنے والوں کو ہی ملے گا

فَخَسَفْنَا بِهٖ وَ بِدَارِهِ الْاَرْضَ١۫ فَمَا كَانَ لَهٗ مِنْ فِئَةٍ یَّنْصُرُوْنَهٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ۗ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُنْتَصِرِیْنَ Open ayah 28:81 in the Quran reader

پس ہم نے قارون کو اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسا دیا تو خدا کے سوا کوئی جماعت اس کی مددگار نہ ہوسکی اور نہ وہ بدلا لے سکا

وَ اَصْبَحَ الَّذِیْنَ تَمَنَّوْا مَكَانَهٗ بِالْاَمْسِ یَقُوْلُوْنَ وَیْكَاَنَّ اللّٰهَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ وَ یَقْدِرُ١ۚ لَوْ لَاۤ اَنْ مَّنَّ اللّٰهُ عَلَیْنَا لَخَسَفَ بِنَا١ؕ وَیْكَاَنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الْكٰفِرُوْنَ۠ Open ayah 28:82 in the Quran reader

اور وہ لوگ جو کل اس کے رتبے کی تمنا کرتے تھے صبح کو کہنے لگے ہائے شامت خدا ہی تو اپنے بندوں میں سے جس کے لئے چاہتا ہے رزق فراخ کردیتا ہے اور (جس کے لئے چاہتا ہے) تنگ کردیتا ہے اگر خدا ہم پر احسان نہ کرتا تو ہمیں بھی دھنسا دیتا ہائے خرابی کافر نجات نہیں پاسکتے

اللہ تبارک و تعالیٰ قارون کے احوال اور اس کے کرتوتوں اور ان کرتوتوں کی پاداش میں اس کے ساتھ جو کیا گیا ‘ اس کے ساتھ خیر خواہی اور جو اسے نصیحت کی گئی تھی ان سب کے بارے میں خبر دیتا ہے ‘ چناچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ان قارون کان من قوم موسٰی) یعنی قارون ‘ بنی اسراتیل میں سے تھا جن کو تمام جہانوں پر فضیلت اور اپنے دور میں ان کو سب پر فوقیت دی گئی تھی۔ اللہ تعالیٰ ‘ نے ان کو اپنے احسانات سے نوازا پس ان کا حال استقامت سے مناسبت رکھتا تھا ‘ مگر قارون اپنی قوم کے راستے سے منحرف ہوگیا ‘ اس نے ان پر ظلم کیا اور سرکشی کی راہ اختیار کی کیونکہ بڑے بڑے امور م اس کے سپرد کئے تھے۔ (واٰتینٰہ من الکنوز) ” ہم نے اسے (مال و دولت بہت سے) خزانے عطا کئے تھے “ (ما ان مفاتحہ لتنو ابالعصبۃ اولی الیوۃ) ” ان (خزانوں) کی کنجیاں ایک طقتور ” عصبہ “ کو اٹھانی مشکل ہوتیں۔ “ (عصبۃ) کا اطلاق سات سے دس تک کی تعداد پر ہوتا ہے ‘ یعنی حتٰی کہ خزانوں کی کنجیاں اٹھانا ایک طاقتور جماعت کے لئے بھی بہت بھاری تھا۔ یہ تو تھیں ان خزانوں کی کنجیاں ‘ اس کی خیر خواہی کرتے اور اسے سرکشی سے ڈراتے ہوئے : (لا تفرح ان اللہ لا یحب الفرحین) یعنی اس دنیاوی شان و شوکت پر خوش ہو نہ اس پر فخر کر کہ یہ تجھے آخرت سے غافل کر دے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ اترانے والوں ‘ فخر کرنے والوں اور دنیا کی محبت میں مشغول ہونے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ (وابتغ فیما اٰ تٰک اللہ الدار لاٰخرۃ) یعنی تجھے آخرت کے لئے ایسے مال وسائل حاصل ہیں جو دوسروں کو حاصل نہیں لٰہذا ان وسائل کے ذریعے سے وہ کچھ طلب کر جو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے ‘ اللہ کی راہ میں صدقہ کر محض لذات و شہوات کے حصول پر اقتصار نہ کر ( ولا تنس نصیبک من الدنیا) ” اور دنیا سے اپن حصہ نہ بھلا۔ “ ہم تجھے یہ نہیں کہتے کہ تو اپنا سارا مال صدقہ کر دے اور خود ضائع ہوجا ‘ ملکہ اپنی آخرت کے لئے خرچ کر اور اپنی دنیا سے اس طرح فائدہ اٹھا جس سے تیرے دین کو نقصان پہنچے نہ تیری آخرت خراب ہو۔ (واحسن) ” اور بھلائی کر “ اللہ تعالیٰ کے بندوں سے ( کما احسن اللہ الیک) ” جیسے اللہ تعالیٰ نے (تجھے یہ مال و دولت عطا کر کے) تیرے ساتھ مھلائی کی ہے۔ “ (والا تمع الفسادد فی الارض) اور تکبر کے ساتھ ‘ اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں اور منعم کو فراموش کر کے نعمتوں میں مشغول ہو کر زمین میں فساد برپا نہ کر (ان اللہ لا یحب المفسدین) ” کیونکہ اللہ فساد کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔ “ ملکہ فساد برپا کرنے پر انہیں سخت سزا دیتا ہے۔ (قال) قارون نے اپنی قوم کی خیر خواہی کو ٹھکراتے اور اپنے رب کی نا شکری کرتے ہوئے کہا (انما اوتیتہ علٰی علم عندی) ” یہ (مال) مجھے میرے علم کی وجہ سے ملا ہے۔ “ یعنی یہ ملا و دولت میں نے اپنے کسب مختلف مکاسب کے بارے میں اپنی معرفت اور مہارت کے ذریعے سے حاصل کیا ہے۔ یا اس بنا پر یہ مال مجھے حاصل ہوا ہے کہ اللہ تعاٰی کو میرے حال کا علم ہے اور وہ جانتا ہے کہ میں اس مال و دولت کا اہل ہوں تب تم اس چیز کے بارے میں مجھے کیوں نصیحت کرتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کر رکھی ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس حقیقت کو واضح کرتے ہوئے کہ اللہ کی عطا و بخش اس بات کی دلیل نہیں کہ جس کو عطا کیا جا رہا ہے اس کے احوال اچھے ہیں فرمایا : (اولم یعلم ان اللہ قد اھلک من قبلہ من القرون من ھو اشد منہ قوۃ واکثرجمعاً ) ” کیا اس کو معلوم نہیں کہ اللہ نے اس سے پہلے بہت سی امتیں ‘ جو اس سے قوت میں بڑھ کر اور جمعیت میں بیشتر تھیں ‘ ہلاک کر ڈالی ہیں ؟ “ پس دوسرے زمانوں کے لوگوں کو ہلاک کرنے سے کون سی چیز مانع ہے حالانکہ ان جیسے اور ان سے بھی بڑے لوگوں کو ہلاک کرنے کے متعلق ہماری پوچھا نہیں جائے گا۔ “ بلکہ اللہ تعالیٰ ان کو سزا دیتا ہے اور ان کی بد اعمالیوں پر ان کو عذاب میں مبتلا کرتا ہے۔ پس اگر وہ اپنے بارے میں حسن احوال کا دعویٰ کرتے ہیں اور ان احوال کو ذریعہء نجات سمجھتے ہیں تو ان کا یہ دعویٰ قابل قبول نہیں اور یہ دعویٰ ان سے عذاب کو دور نہیں کرسکے گا۔ کیونکہ ان کے کرتوت چھپے ہوئے نہیں ہیں اس لئے ان کا اکار بےمحل ہے۔ قارون اپنے عناد اور سرکشی پر جما رہا اس نے تکبر اور غرور کی بنا پر اپنی قوم کی خیر خواہی کو قبول نہ کیا ‘ وہ خود پسندی میں مبتلا تھا ‘ جو مال و دولت اسے عطا کیا گیا تھا اس نے اسے دھوکے میں ڈال رکھا تھا۔ (فخرج) ایک روز باہر آیا (علی قومہ فی زینتہ) ” اپنی قوم کے لوگوں کے سامنے بڑی ٹھاٹھ باٹھ سے “ یعنی وہ اپنے بہترین دنیاوی حال میں اپنی قوم کے سامنے آیا ‘ اس کے پاس بہت زیادہ مال و دولت تھا وہ پوری طرح تیار ہو کر اور پوری سج دھج کے ساتھ ‘ اپنی قوم کے سامنے آیا۔ اس قسم کے لوگوں کی یہ سج دھج ‘ عام طور پر بہت ہی مرعوب کن ہوتی ہے جس میں دنیاوی زیب وزینت ‘ اس کی خوبصورتی ‘ اس کی شان و شوکت ‘ اس کی آسودگی اور اس کا تفاخرسب شامل ہوتے ہیں۔ قارون کو اس حالت میں انکھوں نے دیکھا ‘ اس کے لباس کی ہیئت نے دلوں کو لبریز کردیا اور اس کی سج دھج نے نفوس کو اپنی طرف کھینچ لیا۔ دیکھنے والے دو گرہوں میں منقسم ہوگئے ہر گروہ نے اپنے اپنے عزم و ہمت اور اپنی اپنی رغبت کے مطابق تبصرہ کیا۔ (قال الذین یریدون الحیوۃ الدنیا) یعنی وہ لوگ جن کے ارادے صرف دنیاوی شان و شوکت ہی سے متعلق ہیں ‘ دنیا ہی کی منتہائے رغبت ہے اور دنیا کے سوا ان کا کوئی مقصد نہیں انہوں نے کہا : (یلیت لنا مثل ما اوتی قارون) ” کاش ہمیں بھی وہ (دنیاوی سازو سامان اور اس کی خوبصورتی) عطا کردی جاتی جس سے قارون کو نوازا گیا ہے۔ “ (انہ لذو حظ عظیم) ” بیشک وہ تو بڑا ہی صاحب نصیب ہے۔ “ اگر ان کی رغبتوں کا منتہائے مقصود یہی ہے کہ اس دنیا کی زندگی کے بعد کوئی اور زندگی نہیں تو وہ کہنے میں حق بجانب تھے کہ وہ تو بڑے نصیبے والا ہے کیونکہ وہ دنیا کی بہترین نعمتوں سے بہرہ ور ہے جن کے ذریعے سے وہ اپنی زندگی کے مطالب و مقاصد کے حصول پر قادر تھا۔ یہ عظیم حصہ لوگوں کے ارادوں کے مطابق تھا۔ یہ ان لوگوں کے ارادے اور ان کے مقاصد و مطالب ہیں جو نہایت گھٹیا ہمتوں کے مالک ہیں ‘ جن کے ارادے اعلٰی مقاصد و مطالب کی طرف ترقی کرنے سے قاصر ہیں۔ (وقال الذین اوتوا العلم) ’ اور جن لوگوں کو علم دیا گیا تھا وہ کہنے لگے۔ “ یعنی جنہوں نے اشیاء کے حقائق کو پہچانا اور دنیا کے باطن (بےثباتی) کو مد نظر رکھا ہوا تھا۔ جبکہ ان لوگوں کی نظر دنیا کے ظاہر ( زیب وزینت) پر تھی ‘(ویلکم) ” تم پر افسوب “ ان کے حال کو دیکھتے ‘ ان کی تمناؤں پر دکھ محسوس کرتے اور ان کی بات پر نکیر کرتے ہوئے کہا : (ثواب اللہ) ثواب عاجل یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت ‘ اس کی محبت کی لذت ‘ اس کی طرف انابت ‘ اس کی طرف اقبال اور ثواب آخرت یعنی جنت کی نعمتیں اور جو کچھ اس میں ہے کہ نفس جن کی خواہش کرتے اور آنکھیں لذت حاصل کرتی ہیں ( خیر) ” بہتر ہے “ اس چیز سے جس کی تم تمنا کر رہے ہو اور جس کی طرف تم رغبت رکھتے ہو۔ یہ تو ہے معاملے کی اصل حقیقت ‘ مگر اس حقیقت کا علم رکھنے والے سب لوگ تو اس کی طرف توجہ نہیں کرتے (الا الصبرون) اس کی توفیق صرف ان لوگوں کو عطا کی گئی ہے جو صبر سے بہرہ ور ہیں اور جن لوگوں نے نافرمانی کو چھوڑ کر اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا پابند کر رکھا ہے ‘ جو اللہ تعالیٰ کی تکلیف دہ قضا و قدر پر صبر کرتے ہیں ‘ جو اپنے رب کو فراموش کر کے دنیا کی پرکشش لذات و شہوات میں مشغول ہوتے ہیں نہ یہ لذات و شہوات ان کے ان مقاصد کی راہ میں حائل ہوتی ہیں جن کے لئے ان کو پیدا کیا گیا ہے .... یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے ثواب کو اس دنیائے فانی پر ترجیح دیتے ہیں۔ جب قاروں کی سرکشی اور فخر کی حالت انتہا کو پہنچ گئی اور اس کے سامنے دنیا پوری طرح آراستہ ہوگئی اور دنیا نے اس کو بےانتہا تکبر اور غرور میں ڈال دیا تو اس کو اچانک عذاب نے آلیا۔ (فخسفنا بہ وبدارہ الارض) ” پس ہم نے سزا کے طور پر اس کو اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسا دیا “ سزا اس کے عمل کی جنس میں سے تھی۔ جس طرح وہ اپنے آپ کو اللہ کے بندوں سے بلند سمجھتا تھا اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اسے ‘ اس کے گھر اور مال و دولت سمیت ‘ جس نے سے فریب میں مبتال کر رکھا تھا ‘ انتہائی پستیوں میں اتار دیا (فما کان لہ من فءۃ) ” اس کی کوئی جماعت نہ تھی۔ ” یعنی کوئی جماعت ‘ گروہ ‘ خدام اور افواج نہ تھیں ( ینصرونہ من دون اللہ وما کان من المنتصرین) ” اللہ کے سوا جو اس کی مدد کرتی اور نہ وہ بدلہ لے سکا۔ “ یعنی عذاب الہی آپہنچا کسی نے اس کی مدد کی نہ وہ کسی سے مدد حاصل کرسکا۔ (واصبح الذین تمنوا مکانہ بالامس) ” اور وہ لوگ جو کل اس کے مقام و مرتبے کی تمنا کرتے تھے۔ “ یعنی وہ لوگ دو دنیا کی زندگی کے خواہش مند تھے اور کہا کرتے تھے : (یلیت لنا مثل ما اوتی قارون) ” کاش ہمیں بھی وہ کچھ مل جاتا جو قارون کو عطا کیا گیا ہے۔ (یقولون) ” وہ کہنے لگے “ دکھ محسوس کرتے ‘ عبرت پکڑتے اور ڈرتے ہوئے کہ کہیں وہ بھی عذاب کی گرفت میں نہ آجائیں : (دیکان اللہ یبسط الرزق لمن یشاء منعبادہ ویقدر) ” ہماری حالت پر افسوس ! اللہ اپنے بندوں سے جس کا چاہے رزق وسیع کردیتا ہے اور جس کا چاہے تنگ کردیتا ہے “ تب ہمیں معلوم ہوا کہ اللہ تعالٰٰی کی طرف سے قارون کے رزق میں فراخی ‘ اس بات کی دلیل نہیں کہ اس میں اس میں کوئی بھلائی ہے ‘ اور ہم یہ کہتے میں حپ بجانب نہ تھے (انہ لذو حظ عظیم) ” قارون تو بڑے ہی نصیبے والا ہے۔ “ (لو لا ان من اللہ علینا) ” اگر ہم پر اللہ کی عنیت نہ ہوتی “ تو وہ ہماری بات پر ہماری گرفت کرلیتا اور اگر اس کا فضل و کرم نہ ہوتا (لخسف بنا) ” تو وہ ہمیں بھی زمین میں دھنسا دیتا “۔ قارون کی ہلاکت اس کے لئے سزا اور دوسروں کے لئے عبرت اور نصیحت تھی۔ حتٰی کہ وہ لوگ بھی ‘ جو قارون پر ریک کیا کرتے تھے نادم ہوئے اور قارون کے بارے میں ان کا نقطہ نظر بدل گیا۔ (ویکانہ لا یفلح الکفرون) ” اور حقیقت یہی ہے کہ کافر فلاح نہیں پائیں گے “ یعنی دنیا و آخرت میں۔
Ayah 28:83

تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًا١ؕ وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ Open ayah 28:83 in the Quran reader

وہ (جو) آخرت کا گھر (ہے) ہم نے اسے ان لوگوں کے لئے (تیار) کر رکھا ہے جو ملک میں ظلم اور فساد کا ارادہ نہیں کرتے اور انجام (نیک) تو پرہیزگاروں ہی کا ہے

آیت 83 اللہ تبارک و تعالیٰ نے قارون اور جو کچھ اس کو عطا کیا گیا اور اس کے انجام کا ذکر کیا نیز اہل علم کے اس قول سے آگاہ فرمایا : ( ثواب اللہ خیرلمن امن وعمل صالحا) ” اس شخص کے لئے اللہ کا ثواب بہتر ہے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرے۔ “ پھر اللہ تعالیٰ نے آخرت کی ترغیب اور وہ سبب بیان فرمایا جو آخرت کے گھر تک پہنچاتا ہے۔ فرمایا : (تلک الدار الاخرۃ) ” آخرت کا یہ گھر “ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے اپنی کتابوں میں خبر دی ‘ اس کے رسولوں نے آگاہ کیا ‘ جس میں ہر نعمت جمع کردی گئی اور جہاں سے ہر تکدر کو دور کردیا گیا ہے ( نجعلھا) ہم اس کو گھر اور ٹھکانا بنادیں گے (للذین لا یریدون علوا فی الرض والا فسادا والعاقبۃ للمتقین) ” ان لوگوں کے لئے جو زمین میں اپنی بڑائی چاہتے ہیں نہ فساد کرتے ہیں “ یعنی ان کا زمین میں فساد کرنے کا ارادہ تک نہیں تو پھر زمین میں اللہ تعالیٰ کے بندوں پر بڑائی حاصل کرنے کی کوشش کرنا ‘ ان کے ساتھ تکبر سے پیش آنا اور حق کے بارے میں تکبر کا رویہ رکھنا تو بہت دور کی بات ہے۔ (فسادا) ” اور نہ فساد “ اور یہ تمام معاصی کو شامل ہے۔ جب ان کا زمین میں بڑائی حاصل کرنے اور فساد برپا کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تو اس سے یہ بات لازم آئی کہ ان کے ارادے اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی میں مصروف ‘ آخرت کا گھر ان کا مطلوب و مقصود ‘ اللہ کے بندوں کے ساتھ تواضع سے پیش آنا ان کا حال ہے ‘ وہ حق کی اطاعت اور عمل صالح میں بشغول رہتے ہیں۔ یہی وہ اہل تقویٰ ہیں ‘ جن کے لئے اچھا انجام ہے بنا بریں فرمایا : (ولعاقبۃ) یعنی فلاح اور کامیابی دائمی طور پر ان لوگوں کا حال ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں۔ ان کے علہ دیگر لوگ اگچہ ان کو کچھ غلبہ اور راحت حاصل ہوتی ہے مگر یہ لمبی مدت کے لئے نہیں ہوتی ‘ جلد ہی زائل ہوجاتی ہے۔ آیت کریمہ میں اس حصر سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ جو لوگ زمین میں بڑائی یا فساد کا ارادہ کرتے ہیں ان کے لئے آخرت کے گھر میں کوئی حصہ نہیں۔
Ayah 28:84

مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ خَیْرٌ مِّنْهَا١ۚ وَ مَنْ جَآءَ بِالسَّیِّئَةِ فَلَا یُجْزَى الَّذِیْنَ عَمِلُوا السَّیِّاٰتِ اِلَّا مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 28:84 in the Quran reader

جو شخص نیکی لے کر آئے گا اس کے لئے اس سے بہتر (صلہ موجود) ہے اور جو برائی لائے گا تو جن لوگوں نے برے کام کئے ان کو بدلا بھی اسی طرح کا ملے گا جس طرح کے وہ کام کرتے تھے

آیت 84 اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم کے کئی گنا زیادہ ہونے اور اپنے عدل کامل کے بارے میں آگے فرماتا ہے : (من جاء بالحسنۃ) ” جو شخص نیکی لے کر آئے گا۔ “ اس میں شرط عائد کی گئی ہے عامل نیکی کے ساتھ آئے کیونکہ کبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ انسان کوئی نیکی کرتا ہے اور اس نیکی کے ساتھ کچھ ایسے اعمال بھی ہوتے ہیں جو قابل قبول نہیں ہوتے یا وہ اس نیکی کو باطل کردیتے ہیں .... تو یہ شخص در حقیقتتی کی لے کر اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر نہیں ہوتا۔ (الحسنۃ) ” نیکی “ یہاں اسم جنس ہے جو ان تمام امور کو شامل ہے جن کا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے حکم دیا ہے مثلاً حقوق اللہ اور حقوق العباد سے متعلق تمام اقوال اور تمام ظاہر اور باطنی اعمال (فلہ خیر منھا) ” تو اس کے لیے اس سے بہتر نیکی ملے گی ‘ یعنی اس کی جز ازیادہ بڑی اور زیادہ جلیل القدر ہے ایک اور آیت کریمہ میں آتا ہے (فلہ عشر امثالھا) (الانعام : 6؍26) ” اس کے لئے ویسی ہی دس نیکیاں ہیں۔ “ نیکی کا اس طرح کئی گنا ہونا لازمی امر ہے۔ بسا اوقات اس کے ساتھ کچھ اسباب مقرون ہوتے ہیں جو اس کو اور زیادہ کردیتے ہیں : (واللہ یضعف لمن یشاء واللہ واسع علیم) (البقرۃ : 2؍162) ” اللہ جس کی نیکیوں کو چاہتا ہے کئی گنا کردیتا ہے ’ وہ بہت وسعت والا اور جاننے والا ہے۔ “ اور یہ اضافہ نیکی کرنے والے کے حال ‘ اس کے اس نیک عمل ‘ اس عمل کے فائدے اور اس کے محل و مقام کے مطابق ہوتا ہے۔ (ومن جاء بالسیءۃ) ” اور جو شخص برائی لے آئے “ یہاں (السیءۃ) ” برائی “ سے مراد ہر وہ کام ہے جس کو شرع نے حرام ٹھہرا کر اس سے روک دیا ہو (فلا یجزی الذین عملوا السیات الا ما کانو یعملون) ” تو ایسے لوگوں کو برائیوں کا اتنا ہی بدلہ ملے گا جس قدر انہوں نے کی ہوں گی “ یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے : (من جاء بالحسنۃ فلہ عشر امثالھا ومن جاء بالسیءۃ فلا یجزی الا مثلھا وھم لا یظلموں) (الانعام : 6؍061) ” جو کوئی اللہ کے حضور ایک نیکی لے کر آئے گا تو اس کے لئے ویسی ہی دس نیکیاں ہیں اور جو کوئی ایک برائی لے کر حضر ہوگا تو اس کو صرف اتنی ہی سزا ملے گی جتنی اس نے برائی کی ہے اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ “
Ayahs 28:85–88

اِنَّ الَّذِیْ فَرَضَ عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ لَرَآدُّكَ اِلٰى مَعَادٍ١ؕ قُلْ رَّبِّیْۤ اَعْلَمُ مَنْ جَآءَ بِالْهُدٰى وَ مَنْ هُوَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 28:85 in the Quran reader

(اے پیغمبر) جس (خدا) نے تم پر قرآن (کے احکام) کو فرض کیا ہے وہ تمہیں باز گشت کی جگہ لوٹا دے گا کہہ دو کہ میرا پروردگار اس شخص کو بھی خوب جانتا ہے جو ہدایت لے کر آیا اور (اسکو بھی) جو صریح گمراہی میں ہے

وَ مَا كُنْتَ تَرْجُوْۤا اَنْ یُّلْقٰۤى اِلَیْكَ الْكِتٰبُ اِلَّا رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ ظَهِیْرًا لِّلْكٰفِرِیْنَ٘ Open ayah 28:86 in the Quran reader

اور تمہیں امید نہ تھی کہ تم پر یہ کتاب نازل کی جائے گی مگر تمہارے پروردگار کی مہربانی سے (نازل ہوئی) تو تم ہرگز کافروں کے مددگار نہ ہونا

وَ لَا یَصُدُّنَّكَ عَنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ بَعْدَ اِذْ اُنْزِلَتْ اِلَیْكَ وَ ادْعُ اِلٰى رَبِّكَ وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۚ Open ayah 28:87 in the Quran reader

اور وہ تمہیں خدا کی آیتوں (کی تبلیغ) سے بعد اس کے کہ وہ تم پر نازل ہوچکی ہیں روک نہ دیں اور اپنے پروردگار کو پکارتے رہو اور مشرکوں میں ہرگز نہ ہو جائیو

وَ لَا تَدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ١ۘ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١۫ كُلُّ شَیْءٍ هَالِكٌ اِلَّا وَجْهَهٗ١ؕ لَهُ الْحُكْمُ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ۠ Open ayah 28:88 in the Quran reader

اور خدا کے ساتھ کسی اور کو معبود (سمجھ کر) نہ پکارنا اس کے سوا کوئی معبود نہیں اس کی ذات (پاک) کے سوا ہر چیز فنا ہونے والی ہے اسی کا حکم ہے اور اسی کی طرف تم کو لوٹ کر جانا ہے

آیت 85 اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : (ان الذی فرض علیک القراٰن) ” جس (اللہ) نے تم پر قرآن (کے احکام) کو فرض کیا ہے۔ “ یعنی جس ہستی نے آپ پر قرآن نازل کیا ‘ اس میں احکام فرض کئے ‘ اس میں حلال اور حرام کو واضح کیا ہے۔ “ آپ کو اسے تمام لوگوں لوگوں تک پہنچانے کا حکم دیا ‘ نیز آپ کو حکم دیا کہ آپ تمام مکلفین کو ان احکام پر عمل کرنے کی دعوت دیں اس اللہ تعالیٰ کی حکمت کے لائق نہیں کہ صرف اسی دنیا کی زندگی ہوتی اور بندوں کو جزا و سزا نہ دی جاتی ‘ بلکہ ضروری ہے کہ وہ آپ کو (معاد) ” انجام کار “ کی طرف لوٹائے جہاں نیکو کاروں کو ان کی نیکی کی جزا دی جائے اور بدکاروں کو ان کے گناہوں کی سزا۔ آپ نے ان کے سامنے ہدایت کو کھول کھول کر بیان کردیا اور ہدایت کے راستے کو واضح کردیا ہے اب اگر وہ آپ کی پیروی کریں تو یہ ان کی خوش تصیبی اور سعادت مندی ہے اور اگر وہ آپ کی مخالفت پر ڈٹ جائیں ‘ اس ہدایت میں جرح و خدح کریں جسے آپ لے کر ائے ہیں اور اپنے باطل موقف کو حق پر ترجیح دیں تو بحث کی کوئی گنجائش نہیں رہتی اور غیب و موجود کا علم رکھنے والی اس ہستی کی طرف سے ان کے اعمال کی جزا کے سوا کچ باقی نہیں رہتا جو حق کا احقاق اور باطل کا ابطال کرتی ہے۔ بنابریں فرمایا : (قل ربی اعلم من جاء با لھدی ومن ھو فی ضلال مبین) اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ اس کا رسول ﷺ خود راہ راست پر گامزن اور راہ راست کی طرف راہنمائی کرنے والا ہے۔ اور آپ کے دشمن گمراہ اور دوسروں کو گمراہ کرنے والے ہیں۔ فرمایا : (وما کنت ترجوا ان یلقی الیک الکتب) یعنی آپ اس بات کے خواہش مند نہ تھے کہ یہ کتاب آپ پر نازل کی جاتی اور نہ اس کے لئے تیار تھے اور نہ اس کے درپے تھے (الا رحمۃ من ربک) یہ تو آپ کے رب کی طرف سے آپ پر اور بندوں پر بےپایاں رحمت تھی کہ اس نے آپ کو اس کتاب کے ساتھ مبعوث کیا ‘ اس نے تمام جہانوں پر رحم فرمایا اور انہیں وہ کچھ سکھایا جو وہ نہیں جانتے تھے ‘ انہیں پاک کیا اور انہیں کتاب و حکمت کا علم سکھایا اگرچہ اس سے پہلے لوگ صریح گمراہی میں مبتلا تھے۔ جب آپ کو یہ معلوم ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف سے رحمت کے طور پر آپ کی طرف یہ کتاب نازل کی ہے تو آپ کو یہ بھی معلوم ہوگیا کہ وہ تمام امور جن کا للہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور جن سے اللہ تعالیٰ نے روکا ہے سب اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا فضل و کرم ہے ‘ اس لئے آپ کے دل میں کسی قسم کی کچھ تنگی نہ ہو اور آپ یہ نہ سمجھیں کہ جو کچھ اس کے خلاف ہے ‘ زیادہ درست اور زیادہ نفع مند ہے۔ (فلا تکو نن ظھیرا للکفرین) یعنی کفار کے کفر پر ان کی اعانت نہ کیجئے۔ کفار کے کفر پر منجملہ اعانت یہ ہے کہ قرآن کی کسی آیت یا حکم کے بارے میں کہا جائے کہ یہ حکمت ‘ مصلحت اور منفعت کے خلاف ہے۔ (ولا یصدنک عن ایت اللہ بعد اذ انزلت الیک) ” اور وہ تمہیں اللہ کی آیتوں سے بعد اس کے کہ وہ آپ پر نازل ہوچکی ہیں روک نہ دیں۔ “ بلکہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو آگے پہنچایئے ان کے احکام کو نافذ کیجئے ان کی چالوں کی پروا نہ کیجئے کفار آپ کو ان آیات کے بارے میں فریب میں مبتلا نہ کریں اور آپ ان کی خواہشات کی پیروی نہ کیجئے۔ (وادع الی ربک) یعنی اپنے رب کی طرف دعوت کو اپنا منتہائے مقصود اور اپنے عمل کی غرض وغایت بنائیے اور جو جو چیز بھی اس کے خلاف ہو اسے چھوڑ دیجئے مثلاً ریا ‘ شہرت کی طلب اور اہل باطل کی اغراض کی موافقت وغیرہ۔ کیونکہ یہ تمام چیزیں اہل باطل کی معیت اور ان کے امور میں ان کی اعانت کی داعی ہیں (ولا تکونن من المشرکین) یعنی ان کے ساتھ ان کے شرک میں شامل ہوں نہ اس کی فرع میں۔ شرک کی فروع سے مراد تمام گناہ ہیں۔ (ولا تدع مع اللہ الھا اٰخر) ” اور اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہ پکارنا۔ “ بلکہ اپنی عبادت کو اللہ تعالیٰ کے لئے خالص رکھئے ! (لا الہ الاھو) یعنی اللہ تعالیٰ کی کامل اور ہمیشہ باقی رہنے والی ہستی کے سوا کوئی ہستی ایسی نہیں جس کو الٰہ بنایا جائے ‘ اس سے محبت کی جائے اور اس کی عبادت کی جائے ( کل شیء ھالک الا وجھہ) ” اس کی ذات کے سوا ہر چیز فنا ہونے والی ہے۔ “ جب اللہ تعالیٰ کے سوا ہر چیز مضمحل ہو کر ہلاک ہونے والی ہے تو ہلاکت کا شکار ہونے والی باطل ہستی کی عبادت بھی انتہائی باطل ہے۔ ( لہ الحکم) دنیا و آخرت میں اسی کا حکم نافذ ہے۔ ( والیہ ترجعون) ” اور تمہیں صرف اسی کی طرف لوٹنا ہے۔ “ جب اللہ تعالیٰ کے سوا ہر چیز باطل اور ہلاک ہونے والی ہے اور اللہ باقی رہنے والا ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ‘ وہی تمام خلائق کا مرجع ہے تاکہ وہ ان کو ان کے اعمال کی جزا دے۔ جس شخص میں ادنٰی سی مھی عقل ہے اس کے سامنے یہ حقیقت متعین ہوگئی کہ صرف اللہ تعالیٰ وحدہ لا شریک کی عبادت کی جائے ایسے اعمال کئے جائیں جو اس کے تقرب کا ذریعہ ہیں ‘ اس کی ناراضی اور اس کے عذاب سے سچا جائے اور اس چیز سے بھی بچا جائے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور عدم توبہ کی حالت میں اور گناہ اور خطاؤں کو ختم کئے بغیر حاضر ہوا جائے۔