Ayahs 2:275–281آیت 275-281
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے سود خوروں کا انجام بدبیان فرمایا ہے۔ وہ قیامت کے دن قبروں سے اٹھیں گے : (الا کما یقوم الذی یتخبطہ الشیطن من المس) ” تو ان کی حالت یہ ہوگی گویا انہیں شیطان نے پاگل بنادیا ہے۔ یہ لوگ قبروں سے اٹھیں گے تو حیران پریشان ہوں گے۔ انہیں سخت سزا ملنے کا یقین ہوگا۔ : (قالوآ انما البیع مثل الربوا) ” انہوں نے کہا تھا : تجارت بھی تو سود ہی کی طرح ہے۔ “ یہ بات کوئی ایسا جاہل ہی کہہ سکتا ہے جو جہالت کے انتہائی درجے تک پہنچا ہوا ہو، یا دین کا انتہائی دشمن کہہ سکتا ہے۔ جس طرح ان کی عقلیں اوندھی ہوگئی تھیں تو اس کا بدلہ بھی یہ ملے گا کہ ان کی حالت پاگلوں کے مشابہ ہوگی۔ آیت مبارکہ کے اس حصے کی تشریح اس طرح بھی کی جاسکتی ہے کہ چونکہ سود کی کمائی کے حصول میں ان کی عقلیں سلب ہوگئیں، اس لئے وہ احمق بن گئے اور ان کی حرکات پاگلوں کے مشابہ ہوگئیں۔ جو بےسروپا ہوتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید کرتے ہوئے اور عظیم حکمت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا : (واحل اللہ البیع) ” اور اللہ نے تجارت کو حلال کیا “ کیونکہ اس میں سب کا فائدہ ہے، سب کو اس کی ضرورت ہے اور اسے حرام قرار دینے میں نقصان ہے اور حصول رزق سے تعلق رکھنے والوں کاموں میں یہ ایک عظیم اصل ہے۔ اس سے صرف وہی تصرفات مستثنیٰ ہوں گے جن سے صاف طور پر منع کردیا گیا ہے۔ (وحرم الربوا) ” اور سود کو حرام کیا۔ “ کیونکہ یہ ظلم پر مبنی ہے اور اس کا انجام برا ہے۔ سود کی دو قسمیں ہیں : (1) ربانسیہ مثلاً سودی چیز کا اس کی علت میں شریک چیز کے عوض ادھار تبادلہ اور اس کی صورت یہ بھی ہے کہ واجب الادا رقم کو راس المال کا نام دے کر بیع سلم کرلی جائے (2) ربا الفضل : کسی ایسی چیز کو جس میں سود ہوسکتا ہے، اس کی ہمہ جنس چیز کے عوض اضافے کے ساتھ بیچنا، دونوں کی حرمت پر قرآن و حدیث کے دلائل موجود ہیں اور ربانسیہ کی حرمت پر اجماع بھی ہے۔ جس نے ربا الفضل کو جائز قرار دیا ہے اس کا قول شاذ ہے جو بکثرت نصوص کے خلاف ہے بلکہ سود تباہ کن کبیرہ گناہوں میں شامل ہے۔ : (فمن جآءہ موعظۃ من ربہ) ” جس شخص کے پاس اللہ کی نصیحت آئی۔ “ یعنی اللہ نے کسی کو توفیق دی کہ اسے نصیحت کرے، جو اس کے لئے رحمت کا باعث ہے اور اس کی وجہ سے اس پر حجت قائم ہوگئی۔ (فانتھی) پس اس کے ڈرانے سے وہ سود لینے سے باز آگیا۔ اس گناہ سے رک گیا تو (فلہ ماسلف) ” اس کے لئے ہے جو گزرا۔ “ یعنی یہ نصیحت کی بات پہنچنے سے پہلے اس نے جو غلط لین دین کیا وہ معاف ہوجائے گا۔ یہ نصیحت قبول کرنے کی جزا ہے۔ اس میں یہ اشارہ ہے کہ جو باز نہیں آئے گا، اسے پہلے اور پچھلے دونوں گناہوں کی سزا ملے گی۔ (وامرہ الی اللہ) ” اور اس کا معاملہ اللہ کی طرف ہے۔ “ یعنی اسے سزا دینا اور مستقبل میں اس کے عمل دیکھنا اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ (ومن عاد) ” اور جس نے پھر بھی کیا “ دوبارہ سود لیا، نصیحت سے فائدہ نہیں اٹھایا بلکہ سود خوری پر اصرار کیا (فاولئک اصحب النارھم فیھا خلدون) ” تو وہ جہنمی ہیں۔ ایسے لوگ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔ “
شرک کے علاوہ جن گناہوں کے بارے میں قرآن و حدیث میں دوزخ میں ہمیشہ رہنے کی سزا مذکور ہے۔ ان کے بارے میں علماء کے مختلف اقوال ہیں۔ زیادہ بہتر قول یہ ہے کہ جن اعمال کا نتیجہ اللہ نے دائمی جہنم مقرر کیا ہے یہ اسب کا سبب ہیں۔ لیکن سبب کے ساتھ اگر کوئی مانع نہ ہو تو نتیجہ ضرور ظاہر ہوا کرتا ہے۔ قرآن و حدیث اور اجماع سے ثابت ہے کہ توحید اور ایمان جہنم میں ہمیشہ رہنے سے مانع ہیں۔ یعنی یہ عمل ایسا ہے کہ اگر بندہ توحید کا حامل نہ ہوتا تو یہی عمل اسے جہنم میں ہمیشہ رکھنے کا باعث بن سکتا تھا۔ اس کے بعد فرمایا : (یمحق اللہ الربوا) ” اللہ سود کو مٹاتا ہے۔ “ یعنی اسے بھی اور اس کی برکت کو بھی ذاتی اور صفاتی طور پر ختم کرتا ہے۔ یہ آفات کا باعث بنتا ہے اور برکت چھن جانے کا سبب ہوتا ہے۔ اگر اس (حرام کمائی) سے وہ اللہ کی راہ میں خرچ کرے تو اسے اس کا کوئی ثواب نہیں ملے گا، بلکہ یہ اسے جہنم میں لے جائے گا۔ (ویربی الصدقت) ” اور صدقات کو بڑھاتا ہے۔ “ یعنی جس مال سے صدقہ دیا جائے اس میں برکت نازل فرماتا ہے اور ثواب میں اضافہ کرتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جزا و سزا عمل کی جنس سے ہوتی ہے۔ سود خور لوگوں پر ظلم کرتا ہے اور ان کے مال غیر شرعی طریقے سے لیتا ہے اس لئے اس کی سزا یہ ہے کہ اس کا مال تباہ ہوجائے اور جو شخص لوگوں پر کسی بھی انداز سے احسان کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس سے زیادہ سختی ہے۔ جس طرح اس شخص نے اس کے بندوں پر احسان کیا ہے، اللہ بھی اس پر احسان کرتا ہے۔ (واللہ لایحب کل کفار) ” اور اللہ نہیں دوست رکھتا کسی ناشکرے کو۔ “ جو اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کرتا ہے اور اللہ کے واجب کئے ہوئے صدقے اور زکوۃ ادا نہیں کرتا، اور اللہ کے بندے اس کے شر سے محفوظ نہیں۔ (اثیم) ” اور گناہ گار کو “ یعنی اس نے گناہ کا ارتکاب کیا ہے جو اسے سزا ملنے کا باعث ہے۔
اللہ تعالیٰ نے جب سود خوروں کا ذکر فرمایا اور واضح ہے کہ اگر انہیں ایمان نافع حاصل ہوتا تو ان سے یہ جرم سر زد نہ ہوتا۔ تو اس کے بعد مومنوں کا ذکر فرمایا، ان کو ملنے والا ثواب بیان فرمایا اور انہیں ایمان والے کہ کر مخاطب فرمایا اور انہیں حکم دیا کہ سود لینا چھوڑ دیں اگر وہ مومن ہیں۔ ایسے لوگ ہی اللہ کی نصیحتیں قبول کرتے اور اس کے احکامات تسلیم کرتے ہیں۔ اللہ نے انہیں تقویٰ کا حکم دیا ہے اور تقویٰ میں یہ بات بھی شامل ہے کہ موجودہ لین دین کے سلسلے میں جو سود کسی کے ذمہ ہے اسے چھوڑ دیں، وصول نہ کریں۔ باقی رہا وہ سود جو پہلے لیا جا چکا ہے تو اس کے بارے میں یہ حکم ہے کہ جو شخص نصیحت قبول کر کے آئندہ سود لینے سے اجتناب کرے گا، اس کا سابقہ گناہ معاف ہوجائے گا اور جس نے اللہ کی نصیحت قبول نہ کی اور باز نہ آیا وہ اللہ کا مخالف اور اللہ سے جنگ کرنے والا ہے۔ بھلا ایک عاجز ضعیف بندہ اس رب کا مقابلہ کیسے کرسکتا ہے جو غلاب اور حکمت والا ہے۔ وہ ظالم کو مہلت تو دیتا ہے، اسے چھوڑتا نہیں۔ (وان تبتم) ” ہاں اگر تم (سود سے) توبہ کرلو “ (فلکم رء وس اموالکم) ” تو تمہارے لئے تمہارا اصل مال ہے۔ “ یعنی وہ وصول کرلو (لاتظلمون) ” نہ تم ظلم کرو۔ “ کہ اصل قرض سے زیادہ وصول کرو، جو سود ہے۔ (ولا تظلمون) ” اور نہ تم پر ظلم کیا جائے۔ “ کہ تمہاری اصل رقم میں کمی کی جائے۔ (وان کان) ” اور اگر کوئی “ مقروض (ذوعسرۃ) ” تنگی والا ہو “ جسے قرض کی ادائیگی کے لئے مال میسر نہ ہو (فنظرۃ الی میسرۃ) ” تو اسے آسانی تک مہلت دینی چاہیے۔ “ یہ واجب ہے کہ ایسے مقروض کو اتنی مہلت دی جائے کہ اسے قرض واپس کرنے کے لئے مال مل جائے۔ (وان تصدقوا خیر لکم ان کنتم تعلمون) ” اور صدقہ کرو (کہ سارا یا کچھ قرض معاف کردو) تو تمہارے لئے بہت ہی بہتر ہے۔ اگر تمہیں علم ہو۔ “
(واتقوا یوماً ترجعن فیہ الی اللہ ثم تو فی کل نفس ما کسبت وھم لایظلمون) ” اور اس دن سے ڈرو جس میں تم سب اللہ کی طرف وٹائے جاؤ گے اور ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ “ یہ آیت مبارکہ قرآن مجید کی ان آیات میں شامل ہے جو سب سے آخر میں نازل ہوئیں۔ اس پر ان احکام اور اوامرونواہی کو ختم کیا گیا کیونکہ اس میں نیکی پر جزا کا وعدہ ہے، برائی پر سزا کی وعید ہے اور یہ بیان ہے کہ جس شخص کو یہ یقین ہوتا ہے کہ وہ اللہ کے پاس جانے والا ہے، جو اسے ہر چھوٹے بڑے ظاہر اور پوشیدہ عمل کی جزا دے گا، اور وہ اس پر ذرہ برابر ظلم نہیں کرے گا، اس یقین کے نتیجے میں اس کے دل میں رغبت و رہبت (شوق اور خوف) کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے۔ جب تک دل میں یہ یقین جاگزیں نہ ہو، یہ چیز کسی طرح پیدا نہیں ہوسکتی۔
Ayah 2:282آیت 282
یہ آیت (آیت دین) ” قرض کے مسائل والی آیت “ کے نام سے معروف ہے۔ یہ قرآن مجید کی سب سے طویل آیت ہے۔ اس میں بڑے عظیم مسائل بیان ہوئے ہیں جو بیشمار عظیم فوائد پر مشتمل ہیں۔
(1) اس سے قرض کی تمام صورتوں مثلاً سلم وغیرہ کا جواز ثابت ہوتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرض کا ذکر کیا ہے جو مومنوں میں رائج تھا، اس کے مسائل بیان کئے ہیں، جس سے ان کا جواز ثابت ہوتا ہے۔ ( 3-2) بیع سلم میں مدت ضروری ہے اور وہ مدت متعین ہونی چاہیے اس لئے نہ تو نقد بیع سلم درست ہے، نہ اس صورت میں جب کہ اس کی مدت مقرر نہ ہو۔ (4) تمام قرض وغیرہ کے معاملات لکھنا شرعاً مطلوب ہے۔ البتہ اس میں اختلاف ہے کہ یہ واجب ہے یا مستحب۔ اس کی مشروعیت میں یہ حکمت ہے کہ لوگوں کو اس کی سخت ضرورت ہے اور نہ لکھنے کی صورت میں غلطی، بھول، اختلاف اور جھگڑا واقع ہونے کا اندیشہ ہے (5) کاتب کو حکم ہے کہ وہ لکھے۔ (6) کاتب کو عادل (قابل اعتماد) ہونا چاہیے۔ تاکہ اس کی تحریر پر اعتبار کیا جاسکے۔ فاسق کے نہ قول کا اعتبار ہے نہ لکھنے کا۔ (7) کاتب پر فرض ہے کہ فریقین کے درمیان انصاف سے کام لے۔ وہ رشتہ داری، دوستی وغیرہ کی وجہ سے کسی ایک فریق کی طرف مائل نہ ہو۔ (8) کاتب کا ایسی تحریریں لکھنے کے طریق کار سے، اور فریقین کے لئے جو کچھ واجب ہے اور جس چیز سے تحریر قابل اعتماد بنتی ہے ان سب امور سے باخبر ہونا ضروری ہے۔ ان مسائل کی دلیل یہ فرمان الٰہی ہے۔ (ولیکتب بینکم کاتب بالعدل) ” اور لکھنے والے کو چاہیے کہ تمہارا آپس کا معاملہ عدل سے لکھے۔ “ (9) جب کوئی ایسی تحریر موجود ہو، جس کی کتابت معروف عادل (قابل اعتماد) آدمی کے ہاتھ کی ہو، تو اس پر عمل کیا جائے گا۔ اگرچہ لکھنے والا اور گواہ فوت ہوچکے ہوں۔ (10) اللہ نے فرمایا : (ولایاب کاتب ان یکتب) ” کاتب کو چاہیے کہ لکھنے سے انکار نہ کرے “ یعنی جس پر اللہ نے یہ احسان کیا ہے کہ اسے لکھنے کا علم عطا فرمایا ہے، اسے بھی اللہ کے ان بندوں پر احسان کرنا چاہیے جو اس سے لکھوانے کے محتاج ہیں۔ لہٰذا ان کو لکھ کردینے سے انکار نہ کرے۔ (11) کاتب کو حکم ہے کہ صرف وہی چیز لکھے، جس کو وہ شخص لکھوائے جس کے ذمہ حق ہے۔ (12) فریقین میں سے لکھوانے کا ذمہ داری اس کی ہے جس کے ذمہ قرض ہے۔ (13) اسے حکم ہے کہ پورا حق بیان کرے، اس میں کچھ نہ چھپائے۔ (14) انسان کا اپنے بارے میں اقرار شرعاً معتبر ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مقروض کو حکم دیا ہے کہ وہ کاتب کو لکھوائے، جب وہ اس کے اقرار کے مطابق لکھے گا تو اس کا مضمون اور اس کے نتائج بھی معتبر ہوں گے۔ اگرچہ بعد میں غلطی لگ جانے کا یا بھول جانے کا دعویٰ کرے۔ (15) قول اس کا معتبر ہوگا جس کے ذمے کوئی حق ہے کہ بیع شدہ چیز کی مقدار، صفت، قلت، کثرت اور مقررہ مدت کیا ہے۔ جس کا حق ہے (قرض خواہ) اس کا قول معتبر نہیں ہوگا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے جو حکم دیا ہے کہ جتنا حق ہے، اس سے کم نہ لکھوائے، اس کی وجہ یہی ہے کہ مقدار اور وصف میں اس کا قول معتبر ہے۔ (16) جس کے ذمہ حق ہے اس پر حرام ہے کہ مقدار میں، عمدگی اور ظاہری اچھائی میں، یا مدت وغیرہ میں کمی کرے۔ (17) جو شخص کسی عذر مثلاً کم سنی، کم عقلی، گونگا ہونا وغیرہ کی وجہ سے خود نہ لکھوا سکے تو لکھوانے اور اقرار کا کام اس کا سرپرست اس کا نائب ہونے کی حیثیت سے کرے گا۔ (18) جو عدل اس پر واجب ہے جس کے ذمے حق ہے، وہی عدل اس کے سرپرست پر واجب ہے۔ کیونکہ اللہ نے فرمایا : (بالعدل) ” عدل کے ساتھ “ (19) سرپرست کا عادل ہونا شرط ہے۔ کیونکہ عدل کے ساتھ لکھوانا فاسق سے نہیں ہوسکتا۔ (20) مالی معاملات میں سرپرستی کا ثبوت۔ (21) حق بچے، کم عقل، مجنون اور کمزور کے ذمے واجب ہوتا ہے اس کے سرپرست کے ذمے نہیں ہوتا۔ (22) بچے، کم عقل، مجنون وغیرہ کا اقرار اور تصرف صحیح نہیں کیونکہ اللہ نے لکھوانے کی ذمہ داری ولی (سرپرست) پر ڈالی ہے۔ ان معذور افراد کے ذمہ نہیں۔ اس میں ان پر لطف و رحمت ہے اور ان کے مال کا ضائع ہونے سے بچاؤ ہے۔ (23) مذکورہ افراد کے مال میں ولی (سرپرست) کا تصرف (قانوناً ) درست ہے۔ (24) انسان کے لئے ایسے معاملات کا جاننا مشروع ہے جس سے قرض کا لین دین کرنے والوں کا ایک دوسرے پر اعتماد رہتا ہے۔ لہٰذا اصل مقصود معاملے کا قابل اعتبار رکھنا اور انصاف ہے اور جس عمل کے بغیر مشروع کام پر عمل نہ کیا جاسکے، وہ عمل بھی مشروع ہوتا ہے۔ (25) کتابت سیکھنا فرض کفایہ ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرض وغیرہ کے معاملات لکھنے کا حکم دیا ہے اور یہ کام کتابت سکیھے بغیر نہیں ہوسکتا۔ (26) لین دین کے معاہدوں پر گواہ بنانا مشرع ہے اور یہ مشروعیت مندوب کے درجے میں ہے۔ کیونکہ اس حکم کا مقصد حقوق کی حفاظت کا طریقہ بتانا ہے اور اس میں آخر کار مکلف افراد ہی کا فائدہ ہے۔ ہاں اگر تصرف کرنے والا یتیم کا سرپرست ہو یا کسی وقف کا نگران ہو یا اسی قسم کا کوئی معاملہ ہو جس کی حفاظت واجب ہو۔ تب حق کو محفوظ رکھنے والی یہ گواہی وجاب ہوجائے گی۔ (27) مالی معاملات میں گواہوں کی کم از کم مطلوب تعداد یہ کہ دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتیں ہوں اور حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ ایک گواہ کی موجودگی میں مدعی کی ایک قسم سے بھی فیصلہ ہوسکتا ہے۔ (28) بچوں کی گواہی معتبر نہیں۔ کیونکہ (رجل) ” مرد “ کے لفظ سے یہی ظاہر ہوتا ہے۔ (29) مال وغیرہ کے معاملات میں صرف عورتوں کی گواہی قبول نہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں مرد کے ساتھ ہی گواہ کے طور پر قبول کیا ہے۔ البتہ کوئی کہہ سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دو عورتوں کو ایک مرد کے قائم مقام اس حکمت کی وجہ سے قرار دیا ہے جو آیت میں مذکور ہے اور یہ حکمت مرد کی موجودگی اور غیر موجودگی دونوں صورتوں میں موجود ہے۔ واللہ اعلم (30) بالغ غلام کی گواہی بھی بالغ آزاد لوگوں کی طرح مقبول ہے کیونکہ اللہ کے اس فرمان میں عموم ہے : (واستشھدوا شھیدین من رجالکم) ” اور اپنے مردوں میں سے دو مرد گواہ رکھ لو۔ “ اور بالغ غلام ” ہمارے مردوں “ میں شامل ہے۔ (31) غیر مسلم مرد ہوں یا عورتیں، ان کی گواہی قبول نہیں۔ کیونکہ وہ ہم میں شامل نہیں۔ علاوہ ازیں گواہی کا دارو مدار ” عدل “ (نیک قابل اعتماد) ہونے پر ہے۔ اور غیر مسلم ” عدل) نہیں۔ (32) اس سے مرد کا عورت سے افضل ہونا ظاہر ہوتا ہے اور ایک مرد کو دو عورتوں کے مقابلے میں رکھا گیا ہے کیونکہ مرد کا حافظہ مضبوط ہوتا ہے، عورت کا کمزور (33) جو شخص گواہی بھول جائے اور اسے یاد دلانے پر یاد آجائے، تو اس کی گواہی قبول ہے کیونکہ ارشاد ہے : (فتذکر احدھما الاخری) ” ایک کی بھول چوک کو دوسری یاد دلا دے “ (34) اس سے یہ مسئلہ بھی نکلتا ہے کہ جب گواہ کو واجب حقوق سے تعلق رکھنے والی گواہی بھول جانے کا خطرہ ہو تو اس پر واجب ہے کہ اسے لکھ لے۔ کیونکہ جس عمل کے بغیر واجب ادا نہ ہوسکے، وہ بھی واجب ہوتا ہے۔ (35) جب گواہی کو گواہی دینے کے لئے بلایا جائے تو اگر اسے کوئی عذر لاحق نہ ہو تو اسے گواہی دینا واجب ہے۔ اس سے انکار کرنا جائز ہے۔ کیونکہ ارشاد ہے : (ولایاب الشھدآء اذامادعوا) ” اور گواہوں کو چاہیے کہ وہ جب بلائے جائیں تو انکار نہ کریں۔ “ (36) جس شخص میں ایسی صفات موجود نہ ہوں جن کی بنیاد پر گواہی قبول کی جاتی ہے، تو اس پر گواہی کے لئے حاضر ہونا واجب نہیں، کیونکہ اس میں کوئی فائدہ نہیں اور وہ گواہوں میں شامل بھی نہیں۔ (37) قرض چھوٹے ہوں یا بڑے سب لکھنے چاہئیں۔ مدت اور شروط وقیود لکھنا بھی ضروری ہیں۔ ارشاد ہے : (ذلکم اقسط عنداللہ و اقوم للشھادۃ و ادنی الاترتابوآ) ” اللہ کے نزدیک یہ بات زیادہ انصاف والی ہے اور گواہی کو درست رکھنے والی اور شک و شبہ سے زیادہ بچانے والی ہے “ یعنی اس میں انصاف پایا جاتا ہے جس سے بندوں کے اور سب کے معاملات درست رہتے ہیں اور تحریری شہادت زیادہ پختہ، زیادہ کامل، شک و شبہ سے زیادہ دور رکھنے والی اور جھگڑے سے بچانے والی ہے۔ (39) اس سے یہ بھی مسئلہ نکلتا ہے کہ جسے گواہی میں شک ہوجائے، اسے گواہی دینے سے پرہیز کرنا چاہیے۔ اس کے لئے یقین ضروری ہے۔ (40) اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (الا ان تکون تجارۃ حاضرۃ تدیرونھا بینکم فلیس علیکم جناح الاتکتبوھا) اگر تجارت دست بدست اور نقد ہو تو نہ لکھنے کی اجازت ہے۔ کیونکہ اس میں تحریر کی ضرورت اتنی شدید نہیں۔ (41) نقد لین دین میں تحریر نہ کرنا تو جائز ہے۔ تاہم اس میں گواہ بنانا مشروع ہے کیونکہ فرمایا : (واشھدوآ اذا تبایعتم) ” خریدو فروخت کے وقت گواہ مقرر کرلیا کرو۔ “ (42) کاتب کو تنگ کرنا منع ہے۔ مثلاً اسے اس وقت طلب کیا جائے جب وہ کسی اور کام میں مشغول ہو، یا جس وقت اسے حاضر ہونے میں مشقت ہو۔ (43) گواہ کو بھی تنگ کرنا منع ہے مثلاً اسے اس وقت گواہ بننے کے لئے یا گواہی دینے کے لئے بلایا جائے جب وہ بیمار ہو، یا ایسے کام میں مشغول ہو، جسے چھوڑ کر آنے میں پریشانی اور مشقت ہو۔ یہ اس صورت میں ہے جب (ولا یضآر کاتب ولاشھید) ” نہ لکھنے والے کو نقصان پہنچایا جائے نہ گواہ کو “ میں لفظ (یضار) کو مجہول قرار دیا جائے اور اگر اسے فعل معروف سمجھا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ گواہ اور کاتب کے لئے صاحب حق کو تنگ کرنے کے لئے گواہی یا کتابت سے انکار کرنا، یا بہت زیادہ اجرت طلب کرنا منع ہے، اس صورت میں انہیں فائدہ نمبر 44 اور نمبر 45 شمار کیا جاسکتا ہے۔ (46) ان حرام کاموں کا ارتکاب فسق ہے کیونکہ ارشاد ہے : (وان تفعلوا فانہ فسوق بکم) ” اگر تم یہ کرو تو یہ تماری کھلی نافرمانی ہے۔ “ (47) فسق، ایمان، نفاق، عداوت، محبت وغیرہ جیسے اوصاف کسی بھی انسان میں کم یا زیادہ مقدار میں ہوسکتے ہیں۔ ممکن ہے کہ ایک آدمی میں فسق وغیرہ کا مادہ موجود ہو اور اسی طرح ایمان یا کفر کا مادہ موجود ہو۔ کیونکہ اللہ نے فرمایا : (فانہ فسوق بکم) ” یہ تمہارے اندر نافرمانی ہے “ یہ نہیں فرمایا : (فانتم فاسقون) ” تم فاسق ہو “ (48) یہ نکتہ پہلے بیان ہونا چاہیے تھا کیونکہ وہاں اس کی مناسب جگہ تھی۔ وہ یہ ہے کہ گواہ عادل (نیک اور قابل اعتماد) ہونا چاہیے کیونکہ ارشاد ہے : (ممن ترضوان من الشھدآء) ” جنہیں تم گواہوں میں سے پسند کرو۔ “ (49) عدالت (قابل اعتماد ہونا) ، اس میں ہر زمانے اور ہر مقام کا عرف معتبر ہے۔ جو شخص لوگوں کے نزدیک قابل اعتبار ہو اس کی گواہی قبول کی جائے گی۔ (50) اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جس شخص کا عادل یا فاسق ہونا معلوم نہ ہو۔ اس کی گواہی بھی قبول نہیں، حتی کہ اس کے نیک ہونے کی تصدیق ہوجائے۔ موجودہ حالات میں ناقص سمجھ کے مطابق یہ مسائل اخذ کئے گئے ہیں۔ اللہ کے کلام میں اور بہت سی حکمتیں اور اسرار ہیں۔ اللہ جسے چاہتا ہے ان کی سمجھ عطا فرما دیتا ہے۔
Ayah 2:283آیت 283
آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اگر تم سفر میں ہو، (ولم تجدوا کاتباً ) ” اور تمہیں کاتب نہ ملے “ جو تمہارے لئے تحریر کلھ دے، جس سے بات پکی اور قابل اعتماد ہوجائے (فرھن مقبوضۃ) ” تو رہن قبضہ میں رکھ لیا کرو۔ “ صاحب حق (قرض خواہض اسے قبضہ میں رکھے اور یہ اس کے اطمینان کا باعث (اور ضمانت کے طور پر) رہے حتیٰ کہ اس کا حق (قرض) اسے واپس مل جائے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اگر راہن (رہن والی چیز کا مالک) اور مرتہن (رہن رکھ کر قرض دینے والا) رہن شدہ چیز کی مقدار میں اختلاف کریں تو مرتہن کا قول قبول کیا جائے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرض خواہ کے اعتبار کے لئے رہن کو تحریر کا قائم مقام بنادیا ہے۔ اگر رہن شدہ چیز کی قیمت کے بارے میں مرتہن کی بات نہ مانی جائے تو رہن کا مقصود (اعتماد اور اطمینان) حاصل نہیں ہوگا۔ کیونکہ رہن کا مقصد اعتماد و اعتبار ہے۔ اس لئے یہ سفر اور حضر (دونوں صورتوں) میں جائز ہے۔ آیت میں سفر کا ذکر اس لئے کیا گیا ہے کہ اس کی ضرورت سفر میں زیادہ پیش آسکتی ہے کیونکہ سفر میں ہوسکتا ہے کاتب میسر نہ ہو۔ یہ حکم تب ہے کہ جب صاحب حق (قرض خواہ) اپنے حق (قرض) کے بارے میں تسلی کرنا چاہتا ہے۔ اگر صاحب حق کو مقروض سے کوئی خطرہ نہ ہو اور وہ بغیر رہن کے معاملہ کرنا چاہیے تو مقروض کو چاہیے کہ قرض پورا پورا ادا کرے۔ نہ ظلم کرے نہ اس کی حق تلفی کرے (ولیتق اللہ ربہ) ” اور اللہ سے ڈرتا ہے جو اس کا رب ہے۔ “ حق ادا کرے۔ اور جس نے اس کے بارے میں حسن ظن رکھا اس کی نیکی کا اچھا بدلہ دے۔ (ولا تکتموا الشھادۃ) ” اور گواہی کو مت چھپاؤ۔ “ کیونکہ حق کا دار و مدار گواہی پر ہے۔ اس کے بغیر حق ثابت نہیں ہوتا ۔ لہٰذا اسے چھپانا عظیم ترین گناہ ہے۔ کیونکہ اس نے سچی بات بتائے کا فریضہ ترک کر کے جھوٹ بولا۔ جس کے نتیجے میں حق والے کا حق مارا گیا۔ اس لئے فرمایا : (ومن یکتمھا فانہ اثم قلبہ واللہ بما تعلون علیم) ” اور جو کوئی اسے چھپالے، وہ گناہ گار دل والا ہے اور جو تم کرتے ہو اللہ اسے خوب جانتا ہے۔ “ اللہ نے اپنے بندوں کو یہ جو عمدہ مسائل بتائے ہیں ان میں بہت سی حکمتیں اور عام فوائد موجود ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اگر بندے اللہ کی ہدایات پر عمل بتائے ہیں ان میں بہت سی حکمتیں اور عام فوائد موجود ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اگر بندے اللہ کی ہدایات پر عمل کریں تو ان کا دین درست ہونے کے ساتھ ساتھ دنیا بھی سنور جائے۔ کیونکہ ان میں انصاف، فائدہ، حقوق کی حفاظت اور لڑائی جھگڑے کا خاتمہ، اور معاشی معاملات کی درستی پائی جاتی ہے۔ اللہ کا شکر ہے جیسے اس کے چہرہ اقدس کے جلال اور عظیم سلطنت کے لائق ہے۔ ہم اس کی کما حقہ تعریف کرنے سے قاصر ہیں۔
Ayah 2:284آیت 284
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ آسمان اور زمین میں جو کچھ ہے سب اللہ ہی کا ہے۔ سب کو اسی نے پیدا کیا، رزق دیا، ان کے دینی اور دنیوی فوائد کا بندوبست فرمایا۔ چناچہ وہ سب اس کی ملکیت اور اس کے غلام ہیں۔ وہ اپنی ذات کے لئے نفع کا اختیار رکھتے ہیں نہ نقصان کا، نہ موت کا نہ حیات کا، نہ مرکز جینے کا۔ وہ ان کا رب ہے، ان کا مالک ہے، جو اپنی حکمت، عدل اور احسان کے مطاب ان میں جیسے چاہتا ہے تصرف کرتا ہے۔ اس نے انہیں کچھ کاموں کا حکم دیا ہے، کچھ کاموں سے منع فرمایا۔ لہٰذا وہ ان سے ان کے ظاہر اور پوشیدہ اعمال کا حساب لے گا۔ (فیغفرلمن یشآء ) ” پھر جسے چاہے گا بخشے گا۔ “ یعنی جس کے پاس مغفرت کے اسباب موجود ہوں گے۔ (ویعذب من یشآء) ” اور جسے چاہے گا سزا دے گا۔ “ اسے ان گناہوں کی سزا ملے گی، جن کی معافی کے اسباب حاصل نہیں ہوئے۔ (واللہ علی کل شیء قدیر) ” اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ “ کوئی چیز اس کے بس سے باہر نہیں۔ بلکہ تمام مخلوقات اس کے غلبہ، مشیت، تقدیر اور جز اور سزا کے قوانین کے ماتحت ہیں۔
Ayah 2:285آیت 285
اللہ تعالیٰ رسولوں اور مومنوں کے ایمان، اطاعت اور طلب مغفرت کا ذکر فرماتا ہے کہ وہ لوگ اللہ پر، اس کے فرشتوں پر اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں۔ اس میں ان تمام صفات کمال و جلال پر ایمان لانا داخل ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بارے میں بتائی ہیں اور رسولوں نے بتائی ہیں۔ ان پر اجمالاً اور تفصیلا ایمان لانا داخل ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بارے میں بتائی ہیں اور رسولوں نے بتائی ہیں۔ ان اجمالاً اور تفصیلاً ایمان رکھنا، اور اللہ کی ذات کو تشلبیہ و تمثیل، تعطیل اور تمام صفات نقص سے پاک ماننا بھی شامل ہے۔ شریعتوں میں جن فرشتوں کا ذکر کیا گیا ہے، ان سب پر اجمالاً اور تفصیلاً ایمان رکھنا، رسولوں کی بتائی ہوئی اور ان پر نازل ہونے والی کتابوں میں موجود تمام خبروں اور احکامات پر ایمان رکھنا بھی شامل ہے۔ مومن رسولوں میں تفریق نہیں کرتے، بلکہ تمام انبیاء و رسل پر ایمان رکھتے ہیں کیونکہ وہ اللہ اور بندوں کے درمیان واسطہ ہیں (جن کے ذریعے ہمیں اللہ کے اوامرو نواہی کا علم ہوتا ہے) لہٰذا کسی نبی کا انکار کرنا تمام نبیوں کا انکار کرنے کے مترادف ہے۔ (وقالوا سمعنا) ” انہوں نے کہہ دیا کہ ہم نے سنا۔ “ یعنی اے اللہ تو نے ہمیں جن کاموں کا حکم دیا ہے اور جن سے منع کیا ہے ہم نے انہیں توجہ سے سن لیا ہے (واطعنا) ” اور ہم نے اطاعت کی “ یہ تمام احکام تسلیم کرلیے۔ ان لوگوں میں شامل نہیں ہوئے جنہوں نے کہا تھا : (سمعنا وعصینا) (البقرہ :93/2) ” ہم نے سنا اور ہم نے نافرمانی کی۔ “ کیونکہ بندے سے اللہ کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی ہو ہی جاتی ہے، لہٰذا اسے ہمیشہ اس کی مغفرت کی ضرورت رہتی ہے۔ اس لئے وہ کہتے ہیں (غفرانک) ” تیری بخشش “ یعنی ہم سے جو کوتاہی اور گناہ ہوئے ہیں، ہم تجھ سے ان کی بخشش طلب کرتے ہیں اور ہم جن عیوب میں ملوث ہوئے ہیں، ان گناہوں کو مٹا دینے کی درخواست کرتے ہیں۔ (والیک المصیر) ” اور تیری ہی طرف لوٹنا ہے۔ “ یعنی تمام مخلوقات واپس تیرے پاس ہی پہنچیں گی۔ پھر تو ان کے اچھے اور برے اعمال کا بدلہ دے گا۔
Ayah 2:286آیت 286
جب یہ آیت نازل ہوئی : (وان تبدوا ما فی انفسکم اوتخفوہ یحاسبکم بہ اللہ) ” تمہارے دلوں میں جو کچھ ہے۔ تم اسے ظاہر کردیا چھپاؤ۔ اللہ اس کا حساب تم سے لے گا “ تو مسلمان بہت پریشان ہوئے کیونکہ انہوں نے یہ سمجھا کہ دل میں جس قسم کے خیالات ہوں خواہ وہ پختہ یقین کی صورت میں ہوں، یا عارضی خیالات، دل میں جاگزین ہوں یا آ کر گزر جانے والے، سب کا مواخذہ ہوگا۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرما دیا کہ اللہ تعالیٰ کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ کام کا مکلف نہیں فرماتا۔ ان کاموں کا حکم دیتا ہے جو وہ کرسکتا ہے۔ ان کا حکم نہیں دیتا جو اس کی طاقت سے بڑھ کر ہوں۔ جیسے ارشاد ہے : (وما جعل علیکم فی الدین من حرج “ (الحج :88/22) ” اس نے دین میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی “ اوامرو نواہی بنیادی طور پر ایسے نہیں جو انسانوں کے لئے انتہائی دشوار ہوں۔ بلکہ یہ تو روح کی غذا، بدن کی دوا اور نقصان سے بچاؤ کا ذریعہ ہیں۔ اللہ نے بندوں کو جن کاموں کا حکم دیا ہے، وہ رحمت اور احسان کی بنا پر دیا ہے۔ اس کے باوجود جب کوئی عذر پیش آجائے جس سے مشقت کا اندیشہ ہو تو اللہ تعالیٰ تخفیف اور آسانی فرما دیتا ہے۔ کبھی تو اس عمل کو مکلف کے ذمہ سے مکمل طور پر ساقط فرما دیتا ہے۔ کبھی اس کا کچھ حصہ معاف کردیتا ہے۔ جیسے بمیار اور مسافر کے لئے بعض احکام میں تخفیف کردی گئی ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ ہر کسی کو وہی نیکی ملیے گی جو اس نے کمائی، اور اس کے ذمے وہی گناہ لکھا جائے گا جس کا اس نے ارتکاب کیا۔ کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا اور کسی کی وجہ سے دوسرے کی نیکیاں ضائع نہیں ہوں گی۔ نیکی میں (کسبت) کا لفظ فرمایا گیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کو نیکی معمولی سی کوشش سے بھی حاصل ہوجاتی ہے۔ بلکہ بعض اوقات صرف نیت کی وجہ سے ہی ثواب مل جاتا ہے۔ جبکہ گناہ کے لئے (اکتسبت) کا لفظ فرمایا گیا ہے جس میں یہ ارشاد ہے کہ انسان کے ذمے گناہ اس وقت تک نہیں لکھا جاتا، جب تک وہ اس کا ارتکاب نہ کرلے اور اس کی کوشش نہ کی جائے۔ جب اللہ نے رسول اور مومنوں کے ایمان کا ذکر فرمایا، اور بتایا کہ انسان سے کو تاہی، غلطی اور بھول چوک کا صدور ممکن ہے اور یہ بتایا کہ اس نے ہمیں صرف ایسے اعمال کا حکم دیا ہے جس کو انجام دینے کی طاقت ہم میں موجود ہے، تو اس کے بعد بتایا کہ مومن بھی یہ دعا کرتے ہیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ دعا قبول کر کے فرمایا :” میں نے یہ کردیا۔ “ ارشاد ہے : (ربنا لاتواخذنآ ان نسینآ اواخطانا) ” اے ہمارے رب ! ہم بھول گئے ہوں یا خطا کی ہو، تو ہمیں نہ پکڑنا “ بھول اور غلطی میں فرق یہ ہے کہ نسیان (بھول) کا مطلب ہوتا ہے، مامور کام کا دل سے فراموش ہوجانا، اور بھول جانے کی وجہ سے اس عمل کا چھوٹ جانا۔ خطا (غلطی) یہ ہوتی ہے کہ انسان ایک جائز کام کا ارادہ کرے، لیکن اس سے کام اس انداز سے واقع ہوجائے جو جائز نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس امت پر رحمت اور احسان فرماتے ہوئے اس سے واقع ہونے والے یہ دونوں طرح کے کام معاف فرما دیے۔ اس اصول کی روشنی میں کہا جاتا ہے کہ جو شخص چھینے ہوئے یا ناپاک کپڑے پہن کر نماز پڑھے۔ بدن پر سے نجاست دور کرنا بھول گیا ہو، یا نماز کے دوران بھول کر کسی سے بات کرلے۔ یا روزے کے دوران بھول کر کچھ کھالے، یا احرام کے دوران بھول کر کوئی ممنوع کام کرلے، بشرطیکہ اسمیں کسی جان دار کی ہلاکت شامل نہ ہو۔ تو اس کی یہ غلطیاں معاف ہیں۔ اسی طرح اگر ایک کام نہ کرنے کی قسم کھا رکھی ہو، پھر بھول کر وہ کام کرلے۔ اس طرح اگر غلطی سے کسی کی جان یا مال کا نقصان کر بیٹھے تو اس کو گناہ نہیں ہوگا۔ نقصان پورا کرنے کیلئے ادائیگی کرنے کا تعلق نقصان کرنے سے ہے (ارادہ یا بھول وغیرہ سے نہیں) اس طرح جن موقعوں پر (بسم اللہ) پڑھنا واجب ہے۔ اگر وہاں (بسم اللہ) پڑھنا بھول جائے تو کام درست سمجھا جائے گا۔ (ربنا ولا تحمل علینا اصرا کما حملتہ علی الذین من قبلنا) ” اے ہمارے رب ! ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جو ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا، اس سے مشکل احکام مراد ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ درخواست قبول فرما لی اور اس امت پر طہارت اور عبادت کے مسائل میں ایسی نرمی فرما دی، جو کسی اور امت پر نہیں فرمائی تھی۔ (ربنا ولاتحملنا مالا طاقۃ لنابہ) ” اے ہمارے رب ! ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جس کی ہمیں طاقت نہ ہو “ اللہ نے یہ درخواست بھی قبول فرما لی۔ (واعف عنا واغفرلنا وارحمنا) ” اور ہم نے سے درگزر فرما، ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم کر “ معافی اور بخشش کے نتیجے میں مصائب اور شر دور ہوتے ہیں اور رحمت کے نتیجے میں معاملات درست ہوتے ہیں۔ (انت مولنا) ” تو ہمارے مولیٰ ہے “ یعنی ہمارا رب، ہمارا بدشاہ اور ہمارا معبود ہے۔ جب سے تو نے ہمیں پیدا فرمایا تیری مدد اور توفیق ہمیں حاصل رہی ہے۔ تیری نعمتیں ہر وقت مسلسل ہمیں مل رہی ہیں۔ پھر تو نے ہم پر ایک عظیم احسان کیا کہ اسلام کی نعمت عطا فرما دی۔ باقی سب نعمتیں اس کے تابع ہیں۔ اس لئے اے ہمارے مالک اور ہمارے مولیٰ ہم تجھ سے اس نعمت کی تکمیل کا سوال کرتے ہیں کہ ان کافروں کے خلاف ہماری مدد فرما جنہوں نے تیرے ساتھ کفر کیا، تیرے نبیوں کا انکار کیا، تیرا دین ماننے والوں سے مقابلہ کیا، تیرے احکامات کو پس پشت ڈالا۔ لہٰذا دلیل وبرہان اور شمشیر وسنان کے ساتھ ہماری مدد فرما۔ ہمیں زمین میں شوکت عطا فرما۔ ان کو ذلیل کر دے۔ ہمیں ایسا ایمان اور ایسے اعمال نصیب فرما، جن کی برکت سے فتح حاصل ہوتی ہے۔ آمین والحمد اللہ رب العالمین