Ayahs 2:255–256آیت 255
یہ آیت قرآن مجید کی عظیم ترین آیت ہے اور یہ سب سے افضل آیت ہے جس میں عظیم مسائل اور اللہ کی صفات کریمہ بیان ہوئی ہیں اس لئے بہت سی احادیث میں اس کی تلاوت کی ترغیب وارد ہے کہ اسے صبح شام، سوتے وقت اور فرض نمازوں کے بعد پڑھا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے بارے میں فرمایا : (لا الہ الا ھو) ” اللہ ہی معبود برحق ہے۔ “ لہٰذا ہر قسم کی عبادت اور اطاعت اسی کے لئے ہونی چاہیے کیونکہ وہ تمام صفات سے متصف اور عظیم نعمتیں دینے والا ہے۔ بندے کا یہ حق ہے کہ اپنے رب کا بندہ بن کر رہے، اس کے احکامات کی تعمیل کرتا رہے، اس کے منع کئے ہوئے کاموں سے بچتا رہے۔ اللہ کے سوا ہر شے باطل ہے، پس اس کے سوا ہر ایک کی عبادت باطل ہے، کیونکہ اللہ کے سوا ہر چیز مخلوق اور ناقص اور ہر لحاظ سے محتاج ہے۔ لہٰذا کسی قسم کی کسی عبادت کا حق نہیں رکھتی۔ : (الحی القیوم) ” وہ زندہ اور سب کا تھامنے والا ہے۔ “ ان دواسمائے حسنیٰ (الحی القیوم) میں دیگر تمام صفات کی طرف اشارہ موجود ہے۔ خواہ وہ دلالت مطابقت سے ہو، یا دلالت تضمن سے یا دلالت لزوم سے۔ (الحی) سے مراد وہ ہستی ہے جسے کامل حیات حاصل ہو، اور یہ مستلزم ہے تمام صفات ذاتیہ کو مثلاً سننا، دیکھنا، جاننا اور قدرت رکھنا وغیرہ (القیوم) سے مراد وہ ذات ہے جو خود قائم ہوا اور دوسروں کا قیام اس سے ہو، اس میں اللہ تعالیٰ کے وہ تمام افعال شامل ہوجاتے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ متصف ہے یعنی وہ جو چاہے کرسکتا ہے، استواء، نزول، کلام، قول، پیدا کرنا، رزق دینا، موت دینا، زندہ کرنا اور دیگر انواع کی تدبیر سب اس کے قیوم ہونے میں شامل ہیں۔ اس لئے بعض محققین کا کہنا ہے کہ یہی وہ اسم اعظم ہے جس کے ذریعے کی ہوئی دعا رد نہیں ہوتی۔ اس کی حیات اور قیومیت کے تمام ہونے کا ایک مظہر یہ بھی ہے کہ : (لاتاخذہ سنۃ ولا نوم) ” اسے اونگھ آتی ہے نہ نیند۔ “ : (لہ مافی السموت وما فی الارض) ” اس کی ملکیت میں آسمان و زمین کی تمام چیزیں ہیں۔ “ وہ مالک ہے، باقی سب مملوک ہیں۔ وہ خالق، رازق اور مدبر ہے باقی سب مخلوق، مرزوق اور مدبر۔ کسی کے ہاتھ میں آسمان و زمین کے معاملات میں سے، نہ اپنے لیے ذرہ بھر اختیار ہے نہ دوسروں کے لئے۔ اسی لئے فرمایا : (من ذا الذی یشفع عندہ الا باذنہ) ” کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے سامنے شفاعت کرسکے ؟ “ یعنی کوئی شفاعت نہیں کرسکتا۔ تو شفاعت کا مالک اللہ تعالیٰ ہے۔ لیکن وہ جب کسی بندے پر رحم کرنا چاہے گا، تو اپنے جس بندے کی عزت افزائی کرنا چاہے گا، اسے اس کے حق میں شفاعت کی اجازت دے گا۔ اجازت ملنے سے پہلے کوئی شفاعت نہیں کرسکتا۔ پھر فرمایا : (یعلم مابین ایدیھم وما خلفھم) ” وہ جانتا ہے جو ان کے سامنے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے۔ “ یعنی ان کے گزشتہ اور آئندہ معاملات سے باخبر ہے۔ یعنی وہ تمام معاملات کی تمام تفصیلات جانتا ہے یعنی اگلے پچھلے، ظاہر، پوشیدہ، غیب اور حاضر سب جانتا ہے۔ بندوں کو ان میں کوئی اختیار حاصل نہیں، نہ وہ ذرہ برابر معلومات رکھتے ہیں، سوائے اس کے جو اللہ تعالیٰ خود بتادے۔ اس لئے فرمایا : (ولا یحیطون بشیء من علمہ الا بماشآء وسع کرسیہ الش موت والارض) ” اور وہ اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کرسکتے، مگر جتنا وہ چاہے۔ اس کی کرسی کی وسعت نے آسمان و زمین کو گھیر رکھا ہے۔ “ اس سے اس کی عظمت کا کمال اور سلطنت کی وسعت کا پتہ چلتا ہے۔ جب کرسی کی یہ شان ہے کہ آسمان و زمین کے اتنے بڑے ہونے کے باوجود وہ ان سے بہت بڑی ہے۔ حالانکہ وہ اللہ کی سب سے بڑی مخلوق نہیں بلکہ اللہ کی اس سے بڑی مخلوق بھی موجود ہے۔ یعنی عرش اور ایسی مخلوقات جن کا علم صرف اللہ کو ہے۔ ان مخلوقات کی عظمت کا تصور کرنے سے بھی عقلیں عاجز ہیں تو ان کے خالق کی عظمت کا اندازہ کیسے لگایا جاسکتا ہے۔ جس نے انہیں وجود بخشا اور ان میں بیشمار حکمتیں اور اسرار رکھ دیے۔ جس نے زمین و آسمان کو اپنی جگہ چھوڑنے سے روک رکھا ہے اور وہ اسے تھکتا نہیں۔ اس لئے فرمایا : (ولا یودہ حفظھما) ” اور نہ وہ ان دونوں کی حفاظت سے تھکتا ہے۔ “ یعنی اس کے لئے ان کی حفاظت دشوار نہیں : (وھو) ” اور وہ “ اپنی ذات کے لحاظ سے : (العلی) ” بہت بلند ہے۔ “ اور عرش عظیم پر مستوی ہے۔ وہ اس لئے بھی بلند ہے کہ تمام مخلوقات اس کے زیرنگیں ہیں۔ اس لئے بھی بلند شان والا ہے کہ اس کی صفات کامل ہیں اور : (العظیم) ” بہت بڑا ہے۔ “ جس کی عظمت کے سامنے بڑے سے بڑے جبار، متکبر اور زبردست بادشاہوں کی کوئی حیثیت نہیں۔ اس آیت میں توحید الوہیت بھی ہے، توحید ربوبیت بھی اور توحید اسماء وصفات بھی۔ اس میں اس کی بادشاہت کا محیط ہونا بھی مذکور ہے اور علم کا بھی، اس کی سلطنت کی وسعت بھی ہے اس کا جلال، مجد اور اس کی عظمت وکبریائی کا بھی بیان ہے۔ لہٰذا یہ آیت اکیلی ہی اللہ کے تمام اسماء وصفات اور تمام اسمائے حسنیٰ کے معانی کی جامع ہے۔ اس کے بعد ارشاد ہے :
Ayah 2:257آیت 257
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دین کے بارے میں کوئی زبردستی نہیں۔ اس کی ضرورت بھی نہیں۔ کیونکہ زبردستی تو اس کام کے لئے کی جاتی ہے جسکے حقائق واضح نہ ہوں یا جو کام انتہائی ناپسندیدہ ہو۔ اس صراط مستقیم کا تو ہر گوشہ واضح ہے۔ اس کا چپہ چپہ روشن ہے۔ کوئی بھی سمجھ دار آدمی معمولی سا غور و فکر کرے تو اسے قبول کرنے پر آمادہ ہوجائے گا۔ لیکن جس کی نیت درست نہ ہو، غلط ارادے رکھتا ہو، ایسا بدظن آدمی حق کو دیکھ کر بھی باطل کو اختیار کرلیتا ہے۔ اچھی چیز کو دیکھ کر پھر گندی چیز کی طرف مائل ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو کوئی ضرورت نہیں کہ اسے دین کو قبول کرنے پر مجبور کرے کیونکہ اس کا کوئی فائدہ نہیں اور زبردستی قبول کرایا گیا ایمان معتبر بھی نہیں۔ اس آیت کا یہ مطلب نہیں کہ جو کافر مسلمانوں سے لڑتے ہیں ان کے خلاف جہاد نہ کیا جائے۔ یہ آیت تو صرف یہ بات واضح کرتی ہے کہ دین بنیادی طور پر ایسی چیز ہے کہ ہر انصاف پسند اسے قبول کرنے پر خود کو مجبور پاتا ہے۔ جنگ کرنے یا نہ کرنے کا اس آیت سے کوئی تعلق نہیں۔ وہ مسئلہ دوسری نصوص سے ثابت ہے۔ البتہ اس سے یہ استدلال کیا جاسکتا ہے کہ یہود و نصاریٰ کے علاوہ دوسرے غیر مسلموں سے بھی جز یہ لینا درست ہے۔ جیسا کہ بہت سے علماء کا قول ہے۔ لہٰذا جو شخص غیر اللہ کی عبادت اور شیطان کی اطاعت ترک کر کے اللہ پر صحیح ایمان لے آئے جس کے نتیجے میں وہ اللہ کی عبادت و اطاعت پر قائم ہوجائے : (فقد استمسک بالعروۃ الوثقی) ” تو اس نے مضبوط کڑے کو تھام لیا۔ “ یعنی ایسا پختہ دین اختیار کرلیا، جس کی بنیادیں بھی مضبوط ہیں اور عمارت بھی۔ وہ پورے اعتماد سے اس پر قائم رہتا ہے کیونکہ اس نے ایسا مضبوط کڑا تھام لیا ہے : (لاانفصام لھا) ” جو کبھی نہ ٹوٹے گا۔ “ اس کے برعکس جو شخص اللہ کا انکار کر کے شیطانوں پر یقین رکھتا ہے اس نے اس مضبوط کڑے کو چھوڑ دیا، جس کے ذریعے سے نجات حاصل ہوسکتی ہے اور ایسے باطل کو پکڑ لیا جو اسے جہنم میں لے جائے گا۔ : (واللہ سمیع علیم) ” اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔ “ وہ ہر ایک کے نیک و بداعمال سے واقف ہے لہٰذا اس کے مطابق جزا و سزا دے گا۔ اس کڑے کو پکڑنے والے اور نہ پکڑنے والے کا یہی انجام ہے۔ اس کے بعد اللہ نے وہ سبب بیان فرمایا ہے جس کی وجہ سے یہ نتیجہ حاصل ہوا وہ یہ ہے کہ : (اللہ ولی الذین امنوا) ” ایمان لانے والوں کا کار ساز اللہ خود ہے۔ “ یہ آیت ان کی اپنے رب سے دوستی پر مشتمل ہے، بایں طور کہ وہ اپنے رب سے محبت رکھتے ہیں، پس اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے۔ اس کے پیاروں سے محبت کرتے اور اس کے دشمنوں سے دشمنی رکھتے ہیں، اللہ نے بھی ان پر لطف و کرم اور احسان فرماتے ہوئے انہیں کفر، معاصی اور جہل کے اندھیروں سے نکالا اور ایمان، نیکی اور علم کی روشنی میں پہنچا دیا۔ اس کے نتیجے میں وہ قبر، حشر اور قیامت کے اندھیروں سے محفوظ رہ کر دائمی نعمت، راحت اور سرور والی جنت میں پہنچ گئے۔ : (والذین کفروآ اولءھم الطاغوت) ” اور کافروں کے اولیاء شیطان ہیں۔ “ پس انہوں نے شیطان سے اور اس کی پارٹی سے دوستی کی۔ اپنے مالک اور آقا کی دوستی چھوڑ دی۔ اس کی سزا کے طور پر اللہ نے ان پر شیطانوں کو مسلط کردیا، جو انہیں گناہوں کی طرف ہانکتے اور برائی پر آمادہ کرتے ہیں۔ اس طرح انہیں ایمان، علم اور نیکی کے نور سے ہٹا کر کفر، معاصی اور جہالت کے اندھیروں میں لے جاتے ہیں۔ ان کے نتیجے میں وہ نیکیوں سے محروم ہوجاتے ہیں اور نعمت اور خوشی حاصل نہیں کرسکتے۔ یہ حسرت کے جہان (جہنم) میں بھی شیطان کی جماعت اور اس کے دوست ہی شمار ہوں گے۔ اس لئے اللہ نے فرمایا : (اولئک اصحب النارھم فیھا خلدون) ” یہ لوگ جہنمی ہیں۔ وہ ہمیشہ اس میں پڑے رہیں گے۔ “
Ayah 2:258آیت 258
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (الم تر الی الذی حآج ابرھم فی ربہ) ” کیا تو نے اسے نہیں دیکھا جو ابراہیم سے اس کے رب کے بارے میں جھگڑا رہا تھا۔ “ یعنی کیا آپ نے اس کی جرأت، تجاہل، عناد اور ناقابل شک حقیقت کے بارے میں جھگڑے کا مشاہدہ نہیں فرمایا ؟ اس کی وجہ صرف یہ تھی۔ : (ان اتہ اللہ الملک) ” کہ اسے اللہ نے حکومت دی تھی۔ “ تو وہ سرکشی اور بغاوت پر اتر آیا۔ اس نے دیکھا کہ وہ رعیت کا حکمران بن گیا ہے تو اتنی جرأت کی کہ ابراہیم سے اللہ کی ربوبیت کے بارے میں بحث کرنے لگا اور یہ دعویٰ کیا کہ وہ بھی اللہ تعالیٰ جیسے کام کرسکتا ہے۔ ابراہیم نے فرمایا : (ربی الذی یحی ویمیت) ” میرا رب تو وہ ہے جو جلاتا اور مارتا ہے۔ “ یعنی ہر کام کا اختیار اسی کو حاصل ہے آپ نے زندہ کرنے اور مارنے کا خاص طور پر ذکر فرمایا کیونکہ یہ سب سے عظیم تدبیر ہے اور اس لئے بھی کہ زندگی بخشنا دنیا کی زندگی کی ابتدا ہے اور موت دینا آخرت کے معاملات کی ابتدا ہے۔ اس کے جواب میں اس نے کہا : (انا اخی وامیت) ” میں بھی جلاتا اور مارتا ہوں “ اس نے یہ نہیں کہا :” میں ہی زندہ کرتا اور مارتا ہوں۔ “ کیونکہ اس کا دعویٰ مستقل تصرف کا نہیں تھا۔ بلکہ وہ کہتا تھا کہ وہ بھی اللہ تعالیٰ جیسے کام کرسکتا ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ ایک آدمی کو قتل کردیتا ہے تو گویا اسے موت دے دی اور ایک آدمی کو زندہ رہنے دیتا ہے تو گویا اسے زندگی بخش دی۔ جب ابراہیم نے دیکھا کہ یہ شخص بحث میں مغالطہ سے کام لیتا ہے اور ایسی باتیں کہتا ہے جو دلیل تو درکنار شبہ بننے کی بھی صلاحیت نہیں رکھتیں تو ایک دوسری دلیل پیش کرتے ہوئے فرمایا : (فان اللہ یاتی بالشمش من المشرق) ” اللہ سورج کو مشرق کی طرف سے لے آتا ہے۔ “ یہ حقیقت ہر شخص تسلیم کرتا ہے، حتی کہ وہ کافر بھی اس کا انکار نہیں کرسکتا تھا۔ : (فات بھا من المغرب) ” پس تو اسے مغرب کی جانب سے لے آ۔ “ یہ الزامی دلیل ہے۔ اگر وہ اپنے دعویٰ میں سچا ہوتا تو یہ اس کے موافق ہوجاتی۔ جب آپ نے ایسی بات فرما دی جس میں شبہ پیدا کرنے کی کوئی گنجائش نہ تھی۔ نہ اس کے پاس اس دلیل کا کوئی توڑ موجود تھا۔ : (فبھت الذی کفر) ” اس لئے وہ کافر حیران رہ گیا۔ “ یعنی حیرت زندہ ہوگیا، اس سے کوئی جواب نہ بن پڑا۔ اس کی دلیل غلط ثابت ہوگئی اور اس کا پیش کردہ شبہ کالعدم ہوگیا۔ جو بھی جھوٹا ضد اور عناد کے ذریعے سے حق کا مقابلہ کرنا چاہے، وہ اسی طرح مغلوب اور شکست خوردہ ہوجایا کرتا ہے۔ اس لئے اللہ نے فرمایا : (واللہ لایھدی القوم الظلمین) ” اور اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔ “ بلکہ انہیں کفر و ضلالت میں مبتلا رہنے دیتا ہے۔ کیونکہ انہوں نے اپنے لئے خود یہ چیز پسند کرلی ہوتی ہے۔ اگر ان کا مقصد ہدایت کا حصول ہوتا تو اللہ انہیں ہدایت دے دیتا، اور ہدایت تک پہنچنے کے اسباب مہیا کردیتا۔ یہ آیت ایک قطعی دلیل ہے کہ اللہ ہی خالق ہے اور وہی مختار کل ہے۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ عبادت اور ہرحال میں توکل اسی کا حق ہے۔ ابن القیم (رح) نے فرمایا :” اس مناظرہ میں ایک باریک نکتہ ہے کہ دنیا میں شرک کا دار و مدار ستاروں اور قبروں کی عبادت پر ہے۔ بعد میں انہی کے نام سے بت تراشے گئے۔ ابراہیم نے جو دلائل پیش کئے ہیں ان میں ان سب کی الوہیت کی اجمالاً تردید موجود ہے کیونکہ اللہ وحدہ لاشریک ہی زندہ کرتا اور موت دیتا ہے۔ وہ زندہ، جو مرجانے والا ہے وہ زندگی میں معبود بننے کی اہلیت رکھتا ہے نہ مرنے کے بعد۔ کیونکہ اس کا ایک رب ہے، جو قادر ہے، زبردست ہے، وہ اس کی زندگی اور موت کا فیصلہ کرتا ہے۔ جو ایسا مجبور ہو وہ معبود کیسے ہوسکتا ہے کہ اس کی صورت کا بت بنایا جائے اور اس کی پوجا کی جائے۔ اسی طرح ستاروں کا حال ہے۔ ان میں سے بڑا نظر آنے والا سورج ہے۔ یہ بھی حکم کا پابند ہے، اپنے بارے میں آزادی سے کوئی فیصلہ نہیں کرسکتا۔ بلکہ اس کا خلاق ومالک ہی اسے مشرق سے لاتا ہے تو وہ اس کے حکم اور مرضی کے مطابق اطاعت کرتا ہے۔ یعنی یہ بھی مربوب اور مسخر یعنی حکم کا پابند غلام ہے۔ معبود نہیں کہ اس کی عبادت کی جائے۔ “ (مفتاح دارالسعادۃ :211-210/3)
Ayah 2:259اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
یہ ایک اور دلیل ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اکیلا اللہ ہی خالق ہے۔ وہی سب فیصلے کرتا ہے۔ اسی کے ہاتھ میں زندگی اور موت ہوے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (او کالذی مرعلی قریۃ وھی خاویۃ علی عروشھا) ” یا اس شخص کے مانند جس کا گزر ایک بستی پر ہوا، جو چھتوں کے بل اوندھی پڑی ہوئی تھی۔ “ یعنی اس کے باشندے مرکھپ گئے تھے اور چھتیں گر کر ان کے اوپر دیواریں گر چکی تھیں، وہاں کوئی نہیں رہتا تھا بلکہ بالکل ویران ہوچکی تھی۔ وہ شخص وہاں کھڑا ہو کر تعجب سے بولا : (انی یحی ھذہ اللہ بعد موتھا) ” اس کی موت کے بعد اللہ اسے کس طرح زندہ کرے گا ؟ “ اسے یہ چیز ناممکن محسوس ہوئی، اس نے اللہ کی قدرت کا صحیح اندازہ نہ کیا۔ اللہ نے اس کے ساتھ خیر کا ارادہ فرمایا تو خود اس کی ذات میں اور اس کے گدھے میں اپنی قدرت کا مشاہدہ کرا دیا۔ اس کے پاس کھانے پینے کا سامان بھی تھا۔ : (فاماتہ اللہ ماءۃ عام ثم بعثہ قال کم لئثت قال لبثت یوما اوبعض یوم) ” پس اللہ نے اسے سو سال کے لئے مار دیا۔ پھر اسے اٹھایا، پوچھا : کتنی مدت تجھ پر گزری ؟ کہنے لگا : ایک دن یا دن کا کچھ حصہ۔ “ اسے یہ موت انتہائی مختصر محسوس ہوئی، کیونکہ اس کے احساسات ختم ہوچکے تھے۔ اسے اپنی صرف وہ حالت یاد تھی جو اسے موت سے پہلے معلوم تھی۔ اسے بتایا گیا : (بل لبثت ماءۃ عام فانظر الی طعامک و شرابک لم یتسنہ) ” بلکہ تو سو سال تک رہا۔ پس اپنے کھانے پینے کو دیکھ کہ بالکل خراب نہیں ہوا۔ “ سالوں کی مدت گزرنے کے باوجود اور مختلف اوقات گزرنے کے باوجود اس میں تبدیلی نہیں آئی۔ اس میں اللہ کی قدرت کی بہت بڑی دلیل ہے کیونکہ اس نے کھانے پینے کی چیزوں کو تبدیل یا خراب ہونے سے بچائے رکھا حالانکہ یہ چیزیں سب سے جلدی خراب ہوتی ہیں۔ : (وانظر الی حمارک) ” اور اپنے گدھے کو بھی دیکھ۔ “ اور تاکہ ہم تجھے لوگوں کے لئے ایک نشانی بنائیں۔ “ جس سے اللہ کی قدرت ظاہر ہو کہ وہ مردوں کو زندہ کر کے قبروں سے اٹھا سکتا ہے۔ تاکہ یہ ایسی مثال بن جائے جس کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرلیں اور انہیں معلوم ہوجائے کہ پیغمبر نے جو خبریں دی ہیں وہ واقعی سچی ہیں۔ (وانظر الی العظام کیف ننشزھا) ” اور تو دیکھ کر ہم ہڈیوں کو کس طرح اٹھاتے ہیں۔ “ اور انہیں ایک دوسری سے جوڑتے ہیں۔ (ثم نکسوھا لحماً ) ” پھر ہم ان پر گوشت چڑھاتے ہیں۔ “ پس اس نے اپنی آنکھوں سے یہ سب کچھ ہوتے دیکھ لیا۔ (فلما تبین لہ) ” جب یہ سب ظاہر ہوچکا۔ “ اور اسے اللہ کی قدرت کا علم ہوگیا تو کہنے لگا : قال اعلم ان اللہ علی کل شی ءٍ ” میں جانتا ہوں کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ “ آیت کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص موت کے بعد کی زندگی کا منکر تھا۔ اللہ تعالیٰ کی مرضی ہوئی کہ اسے ہدایت دے کر لوگوں کے لئے نشانی اور قیامت کی دلیل بنا دے۔ اس موقف کے تین دلائل ہیں : (1) اس نے کہا (انی یحی ھذہ اللہ بعد موتھا) ” اس کی موت کے بعد اللہ اسے کس طرح زندہ کرے گا ؟ “ اگر وہ نبی یا نیک بندہ ہوتا تو یوں نہ کہتا۔ (2) اللہ تعالیٰ نے اسے اس کی خوراک، اس کے مشروب، اس کے گدھے اور اس کی ذات میں اپنی نشانی دکھا دی، تاکہ وہ جس چیز کا انکار کرتا ہے اسے آنکھوں سے دیکھ کر اقرار کرلے۔ آیت میں یہ ذکر نہیں کہ وہ بستی بعد میں پہلے کی طرح آباد ہوگئی تھی۔ نہ سیاق کلام ہی سے اس کا اشارہ ملتا ہے۔ نہ اس کا کوئی خاص فائدہ ہی ہے۔ ایک بستی جو بےآباد ہوگئی۔ بعد میں اس کے باشندوں نے واپس آ کر یا دوسرے لوگوں نے رہائش اختیار کر کے اسے آباد کردیا تو اس سے یہ کیسے ثابت ہوا کہ اللہ مردوں کو زندہ کرے گا ؟ اصل دلیل تو خود اسے اور اسکے گدھے کو زندہ کرنے میں اور اس کے سامان خوردو نوش کو اصلی حالت میں باقی رکھنے میں ہے۔ (3) اللہ نے فرمایا : (فلما تبین لہ) ” جب اس کے لئے ظاہر ہوگیا۔ “ یعنی جو چیز اسے معلوم نہیں تھی، اسے مخفی تھی، وہ ظاہر اور واضح ہوگئی۔ اس سے معلوم ہوا کہ ہمارا قول صحیح ہے۔ واللہ اعلم۔
Ayah 2:260آیت 260
یہ بھی ایک عظیم اور محسوس دلیل ہے، جس سے اللہ کی قدرت ظاہر ہوتی ہے اور ثابت ہوتا ہے کہ وہ فوت شدہ لوگوں کو جزا و سزا دینے کے لئے زندہ فرمائے گا۔ اللہ نے اپنے خلیل ابراہیم کے بارے میں خبر دی ہے کہ انہوں نے اللہ سے درخواست کی کہ انہیں مردوں کو زندہ ہوتا آنکھوں سے دکھا دیا جائے۔ آپ کو اللہ کے بتانے سے اس کا یقین تو حاصل ہوچکا تھا، لیکن آپ کی خواہش تھی کہ اس کا بچشم سر مشاہدہ فرما لیں تاکہ انہیں حق الیقین کا مقام حاصل ہوجائے۔ اس لئے اللہ نے انہیں فرمایا : (اولم تو من قال بلی ولکن لیطمئن قلبی) ” کیا تمہیں ایمان نہیں ؟ جواب دیا : ایمان تو ہے، لیکن میرے دل کی تسکین ہوجائے گی۔ “ اس کی وجہ یہ ہے کہ یقینی دلائل یکے بعد دیگرے آنے سے ایمان تو ہے، لیکن میرے دل کی تسکین ہوجائے گی۔ “ اس کی وجہ یہ ہے کہ یقینی دلائل یکے بعد دیگرے آنے سے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے اور یقین کامل ہوجاتا ہے۔ اہل عرفان اسی کے حصول کے لئے کوشاں رہتے ہیں۔ اس کے رب نے اسے فرمایا : (فخذاربعہ من الطیر فھرھن الیک) ” یعنی چار پرندے لے کر اکٹھے کرلے۔ تاکہ سب کچھ آپ کی آنکھوں کے سامنے واقع ہو اور آپ کے ہاتھوں سے اس کا مشاہدہ کرایا جائے۔ : (ثم اجعل علی کل جبل منھن جزاء) ” پھر ہر پہاڑ پر ان کا ایک ایک ٹکڑا رکھ دو ۔ “ یعنی ان کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے ان کے اجزا کو باہم ملا دو اور قریب پہاڑوں میں سے ہر پہاڑ پر ان کا ایک حصہ رکھ دو ۔ : (ثم ادعھن یاتینک سعیاً ) ” پھر انہیں پک اور، تمہارے پاس دوڑتے ہوئے آجائیں گے۔ “ یعنی انہیں مکمل زندگی حاصل ہوجائے گی۔ تو وہ پوری قوت سے دوڑتے ہوئے اور تیزی سے اڑتے ہوئے آپ کے پاس آجائیں گے۔ ابراہیم نے ایسے ہی کیا، تو انہیں مردوں کے زندہ ہونے کا مطلوبہ مشاہدہ حاصل ہوگیا اور یہ معاملہ بھی (ملکوت السموات والارض) ” آسمانوں اور زمین کی سلطنت “ میں شامل ہے جس کا ذکر اس آیت مبارکہ میں ہے :: (وکذلک نری ابراہیم ملکوت السموت ولارض ولیکون من الموقینین) (الا نعام : 85/6) ” اور ہم نے ایسے ہی طور پر ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کی مخلوقات دکھائیں اور تاکہ وہ کامل یقین کرنے والوں میں سے ہوجائیں۔ “ اس کے بعد فرمایا : (واعلم ان اللہ عزیز حکیم) ” اور جان رکھو کہ اللہ غالب ہے حکمتوں والا۔ “ یعنی عظیم قوتوں والا ہے، جس سے اس نے مخلوقات کو مسخر کر رکھا ہے۔ کوئی مخلوق اس کے حکم سے سرتابی نہیں کرسکتی۔ بلکہ سب کی سب اس کی عظمت کے آگے سرنگوں اور اس کے جلال کے سامنے جھکی ہوئی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اس کے افعال اس کی حکمت کے تابع ہیں۔ وہ کوئی کام بےمقصد نہیں کرتا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
Ayahs 2:261–262آیت 261
اس آیت میں اللہ کے اس ارشاد کی تشریح ہوتی ہے : (من ذا الذی یقرض اللہ قرضاً حسناً فیضعفہ لہ اصعافاً کثیرۃ) (البقرہ :28/2) ” کون شخص ہے جو اللہ کو اچھا قرض دے تو اللہ اس کے قرض کو اس کے لئے کئی گنا بڑھا دے گا یہاں فرمایا : (مثل الذین ینفقون اموالھم فی سبیل اللہ) ” مثال ان لوگوں کی جو اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔ “ یعنی اس کی اطاعت میں اور اس کی خوشنودی کے کاموں میں۔ ان میں سب سے اہم جہاد فی سبیل اللہ میں خرچ کرنا ہے۔ : (کمثل حبۃ انبتت سبع سنابل فی کل سنبلۃ ماءۃ حبۃ) ” مثال اس دانے جیسی ہے جس میں سے سات بالیاں نکلیں، اور ہر بالی میں سودانے ہوں۔ “ اس مثال کے ذریعے عمل کے ثواب میں اضافے کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ یہ اضافہ بندہ دنیا میں اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہے اور ثواب میں اضافے کو اپنی بصیرت سے دیکھتا ہے۔ اس طرح آنکھوں دیکھی چیز کی وجہ سے ایمان کے ذریعے دیکھی ہوئی چیز پر یقین بڑھتا ہے۔ لہٰذا دل حکم کی تعمیل کرتے ہوئے پوری آمادگی کے ساتھ خرچ کرتا ہے۔ کیونکہ اسے اس قدر اضافے اور اس اللہ کے عظیم احسان کی امید ہوتی ہے۔ : (واللہ یضعف لمن یشآء) ” اور اللہ جسے چاہے بڑھا چڑھا کر دے۔ “ یعنی خرچ کرنے والے کے حال اور اس کے خلوص کے مطابق، یا خرچ کی کیفیت، منافع اور برمحل ہونے کی مناسبت سے ثواب میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ : (واللہ یضعف) ” اور اللہ بڑھا چڑھا کر دے۔ “ اس سے بھی زیادہ (لمن یشآء) ” جسے چاہے “ یعنی بےحساب اجر وثواب عنایت فرمائے۔ (واللہ واسع) ” اور اللہ کشادگی والا ہے۔ “ اس کا فضل وسیع ہے، اس کی عطا بےحساب ہے جس میں کسی قسم کی کمی نہیں آتی۔ لہٰذا خرچ کرنے والے کو یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ شاید کئی گنا بڑھا کردینے کا ذکر مبالغے کے طور پر کیا گیا ہے۔ اللہ کے لئے تو کوئی انعام بھی مشکل نہیں۔ بیشمار عطا کے باوجود اسے کمی نہیں آئی۔ اس کے ساتھ ساتھ : (علیم) ” وہ علیم بھی ہے اسے خوب معلوم ہے کہ کون اس دگنے چوگنے ثواب کا مستحق ہے اور کون نہیں۔ لہٰذا وہ اضافہ وہیں کرتا ہے جہاں اس کا صحیح مقام ہو، کیونکہ اس کا علم بھی کامل ہے اور حکمت بھی۔
Ayah 2:263آیت 263
جو لوگ اپنے مال اللہ کی فرماں برداری کے کاموں میں اور اس کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔ اس کے بعد ایسے کام نہیں کرتے جن سے عمل میں نقص واقع ہوجائے یا عمل ضائع ہوجائے۔ یعنی جس کو دیا ہے اس پر زبان سے یا دل سے احسان نہیں دھرتے مثلاً اپنے احسانات گن گن کر بتانا اور اس کے بدلے ان سے کسی چیز کا مطالبہ کرنا، نہ زبانی نہ عملی طور پر ایذا دیتے ہیں، تو ان کو وہ ثواب ملے گا جو ان کے شایان شان ہوگا۔ انہیں کوئی خوف یا غم بھی لاحق نہیں ہوگا۔ لہٰذا انہیں ہر خیر حاصل ہوجائے گی اور ہر برائی ان سے دور ہوجائے گی۔ کیونکہ انہوں نے اللہ کے لئے ایسی نیکی کی تھی، جو ضائع کرنے والے اسباب سے پاک تھی۔ (قول معروف) ” اچھی بات “۔ جس کو دل پہچانتے ہیں اور اسے ناپسند نہیں کرتے۔ اس میں ہر اچھی بات شامل ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ مسلمان کے دل کی خوشی کا باعث بننا کار ثواب ہے۔ اس میں یہ اشارہ بھی ہے کہ سائل کو جواب دینا ہو تو اچھے الفاظ سے جواب دیا جائے اور اسے دعا دی جائے۔ (ومغفرۃ) ” اور برائی کرنے والے کو معاف کردینا۔ “ یعنی اسے مواخذہ نہ کرنا۔ اس میں یہ بھی شامل ہے کہ اگر سائل کوئی نامناسب حرکت کرے تو اسے معاف کردیا جائے۔ یہ دونوں احسان ایسے ہیں، جن کے ساتھ ان کو تباہ کرنے والی کوئی غلطی موجود نہیں۔ لہٰذا یہ اس صدقے کے احسان سے بہتر ہیں، جن کے ساتھ احسان جتلانے کی یا کسی اور انداز سے تکلیف پہچانے کی خرابی موجود ہے۔ اس آیت سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ جس صدقہ کے ساتھ تکلیف پہنچانے کی خرابی موجود نہو، وہ صدقہ نرم بات کہنے اور معاف کرنے سے افضل ہے۔ صدقہ کر کے احسان جتلانا حرام ہے جس سے عمل ضائع ہوجاتا ہے۔ کیونکہ اصل احسان اللہ ہی کا ہے۔ لہٰذا بندے کے لئے مناسب نہیں کہ کسی کو ایسا احسان جتلائے جو اس کی طرف سے نہیں ہوا (بلکہ اصل میں اللہ کی طرف سے ہوا ہے) علاوہ ازیں احسان جتلانا غلام بنانے کے مترادف ہے اور عبودیت اور جھکنا صرف اللہ کے لئے روا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ غنی ہے۔ جو تمام مخلوقات سے مستغنی ہے اور تمام مخلوقات تمام حالات اور تمام اقوات میں اس کی محتاج ہیں، لہٰذا تمہارا صدقہ، تمہارا خرچ کرنا اور تمہاری نیکیاں ان سب کا فائدہ خود تم ہی کو حاصل ہوتا ہے۔ (واللہ غنی) ” اور اللہ بےنیاز ہے ‘ اسے ان کی ضرورت نہیں، اسے ان کی ضرورت نہیں، اس کے ساتھ ساتھ وہ (حلیم) ” بردبار ہے “ جو اس کی نافرمانی کرے اسے فوراً سزا نہیں دیتا، حالانکہ وہ اس کی قدرت رکھتا ہے۔ لیکن اس کی رحمت، احسان اور برد باری اسے گناہگاروں کو فوری سزا دینے سے مانع ہوجاتی ہے۔ بلکہ وہ انہیں مہلت دیتا ہے، انہیں مختلف انداز سے اپنی آیات سناتا اور دکھاتا ہے، تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں، البتہ جب یہ ظاہر ہوجاتا ہے کہ ان لوگوں میں خیر کی کوئی رمق نہیں رہی اور انہیں آیات سے کوئی فائدہ نہیں ہو رہا۔ پھر ان پر عذاب نازل فرما دیتا ہے اور اپنے عظیم ثواب سے محروم فرما دیتا ہے۔
Ayah 2:264آیت 264
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر رحمت و شفقت فرماتے ہوئے انہیں اس بات سے منع کرتا ہے کہ وہ احسان جتلا کر اور تکلیف دے کر اپنے صدقے ضائع کر بیٹھیں۔ اس میں اشارہ ہے کہ احسان جلانے اور تنگ کرنے سے صدقہ کالعدم ہوجاتا ہے۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ گندا ہوں کے ارتکاب کے نتیجے میں نیک اعمال ضائع ہوجاتے ہیں۔ جیسے ارشاد ربانی ہے : (ولا تجھروالہ بالقول کجھر بعضکم لبعض ان تحبط اعمالکم وانتم لاتشعرون) (الحجرات :2/79) ” نبی سے اونچی آواز سے بات نہ کرو، جیسے آپس میں ایک دوسرے سے کرتے ہو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارے اعمال اکارت جائیں اور تمہیں خبر بھی نہ ہو۔ “ چناچہ جس طرح نیکیوں کی وجہ سے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح گناہ بھی اپنے مقابلے میں آنے والی نیکیوں کو ضائع کرسکتے ہیں۔ ایک اور مقام پر ارشاد ہے : (ولا تبطلوآ اعمالکم) (محمد :33/78) ” اور اپنے اعمال کو غارت نہ کرو۔ “ ان دونوں آیات میں عمل کو مکمل کرنے اور اسے خراب کرنے والی اشیاء سے محفوظ رکھنے کی ترغیب ہے تاکہ عمل بےکار نہ ہوجائے۔ پھر فرمایا : (کالذی ینفق مالہ رء آء الناس ولا یومن باللہ والیوم الاخر) ” یعنی اگر تم نے شروع میں اللہ کی رضا کی نیت رکھ کر بھی عمل کیا ہو تو احسان جلانے سے وہ تباہ ہوجاتا ہے۔ چناچہ تمہارا یہ عمل اس شخص کے عمل کی طرح ہوجائے گا جو صرف دکھاوے کے لئے نیکی کرتا ہے۔ اس کا مقصد اللہ کی رضا اور جنت کا حصول نہیں ہوتا۔ ظاہر ہے کہ اس کا عمل سرے سے ناقابل قبول ہے۔ کیونکہ عمل مقبول کی شرط یہ ہے کہ وہ صرف اللہ کے لئے ہو۔ اس شخص نے اصل میں عمل کیا ہی لوگوں کے لئے ہے، اللہ کے لئے کیا ہی نہیں۔ لہٰذا اس کا عمل کالعدم ہوگا اور اس کی محنت بےکار جائے گی۔ اس کے حال کے مطابق تو اس کی مثال : (کمثل صفوان) ” ملائم اور سخت پتھر کی سی ہے۔ “: (علیہ تراب فاصابہ واہل) ” جس پر کچھ مٹی پڑی ہے۔ پھر سا پر زور دار مینہ برسا “ : (فتر کہ صلدا ) ” یعنی اسے اس طرح کا کر کے چھوڑا کہ اس پر وہ مٹی بالکل بای نہیں رہی۔ دکھاوا کرنے والے کی بھی یہی مثال ہے۔ اس کا سخت دل صاف اور سخت پتھر کے مشابہ ہے۔ اس کا صدقہ وغیرہ اس پتھر پر پڑی ہوئی مٹی کی حیثیت رکھتا ہے۔ جو شخص اس پتھر کی حقیقت سے واقف نہیں، وہ خیال کرے گا کہ یہ قابل کاشت اور زرخیز زمین ہے۔ جب حقیقت ظاہر ہوگئی تو گویا وہ مٹی ہٹ گئی اور معلوم ہوگیا کہ اس کا عمل ایک سراب کی حیثیت رکھتا تھا۔ اس کا دل تو اس قابل تھا ہی نہیں کہ اس میں (نیکی کی) کھیتی اگ سکے اور بڑھ پھول کسے۔ اس کی ریاکاری اور بدنیتی اسے کسی نیکی سے مستفید ہونے کے قابل نہیں چھوڑتی۔ اس لئے فرمایا : (لایقدون علی شیء) ” یعنی وہ اپنے کمائے ہوئے اعمال میں سے کچھ بھی حاصل نہیں کرسکتے، کیونکہ انہوں نے ان اعمال کو غلط جگہ پر رکھا اور اپنے جیسی مخلوق کے لئے انجام دیا جس کے ہاتھ میں نہ نفع ہے نہ نقصان۔ جس رب کی عبادت سے فائدہ ہوسکتا ہے اس کی عبادت سے منہ موڑ لیا، تو اللہ نے بھی ان کے دلوں کو ہدایت سے پھیر دیا۔ اس لئے فرمایا : (واللہ لایھدی القوم الکفرین) ” اللہ کافروں کی قوم کو راہ نہیں دکھاتا۔ “
Ayah 2:265آیت 265
یہ ان لوگوں کی مثال ہے جو اپنے مال اس انداز سے خرچ کرتے ہیں کہ ان کے صدقات قبول ہوتے اور بڑھتے ہیں۔ اللہ نے فرمایا : (ومثل الذین ینفقون اموالھم ابتغآء مرضات اللہ) ” ان لوگوں کی مثال جو اپنا مال اللہ کی رضامندی کی طلب میں خرچ کرتے ہیں۔ “ یعنی ان کا مقصد اللہ کی رضا اور اس کا قرب حاصل کرنا ہوتا ہے۔ : (وتثبیتاً من انفسھم) ” دل کی خوشی اور یقین کے ساتھ “ یعنی جب وہ خرچ کرتے ہیں تو ان کے دلوں میں سخاوت اور خوشی کی کیفیت ہوتی ہے۔ تردد کے ساتھ بادل نخواستہ خرچ نہیں کرتے۔ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے نیک عمل پر دو طرح کی آفتیں آتی ہیں یا تو انسان کا یہ ارادہ ہوتا ہے کہ لوگ تعریف کریں۔ یہ ریا کی بیماری ہے یا کمزور نیت کے ساتھ ہچکچاتا ہوا خرچ کرتا ہے۔ سچے مومن ان دونوں آفتوں سے بچ کر صرف اللہ کی رضا کے حصول کے لئے خرچ کرتے ہیں۔ ان کے سامنے کوئی اور مقصد نہیں ہوتا۔ ان کے خرچ کی مثال ایسے ہے (کمثل جنۃ) ” جیسے ایک باغ “ جس میں درخت بیشمار ہیں اور سایہ گھنا ہے۔ (جنۃ) کا لفظ (اجتنان) سے ماخوذ ہے یعنی چھپالینا۔ لہٰذا جنت سے مراد ایسا باغ ہے جس کے درخت زمین کو چھپالیتے ہیں اس تک دھوپ نہیں پہنچنے دیتے۔
اور یہ باغ (بربوۃ) ” او نچی زمین پر “ ہے۔ جس کو صبح، دوپہر اور شام سورج کی پوری روشنی حاصل ہوتی ہے۔ ایسے باغ کے پھل زیادہ اور بہتر ہوتے ہیں۔ یہ ایسی جگہ نہیں جہاں نہ ہوا لگے نہ دھوپ۔ اونچی زمین پر موجود اس باغ پر (اصابھا وابل فاتت اکلھا ضعفین) ” زور دار بارش برسے تو وہ اپنا پھل دگنا لائے۔ “ زمین نم دار ہونے کی وجہ سے اور دوسرے معاون اسباب کی وجہ سے اور بکثرت پانی کی موجوگدی کی وجہ سے اس باغ سے دگنا پھل حاصل ہوا۔ (فان لم یصبھا وابل فطل) ” اور اگر اس پر بارش نہ برسے تو پھوار ہی کافی ہے۔ “ یعنی عمدہ زمین کی وجہ سے معمولی بارش بھی کافی ہے۔ یہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والوں کا حال ہے۔ کوئی زیادہ خرچ کرے یا کم، ہر ایک کو اپنے حالات کے مطابق فائدہ حاصل ہوتا ہے اور ہر ایک کے ثواب میں پوری طرح اضافہ ہوتا ہے۔ اس کو بڑھانے والا وہ ہے جو تجھ پر تجھ سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ جہاں تجھے اپنے فائدے کا خیال نہیں رہتا، اسے وہاں بھی تیرا فائدہ مقصو دہوتا ہے۔ اگر اس دنیا میں اس طرح کا کوئی باغ ہوتا، تو لوگ اس کے حصول کے لئے پوری کوشش کرتے، بلکہ ایک دوسرے سے مقابلہ کرتے اور جنگ وجدل تک نوبت پہنچ جاتی۔ حالانکہ یہ دنیا فنا ہونے والی ہے اور یہاں بیشمار آفات و مصائب ہیں اور یہ ثواب جس کا اللہ نے ذکر فرمایا ہے، مومن اسے بصیرت ایمانی کے نور سے گویا سامنے دیکھتا ہے، وہ جہاں دائمی ہے اس کی تمام خوشیاں اور نعمتیں دائمی ہیں۔ اس کے باوجود ہم دیکھتے ہیں لوگ اس کی طرف توجہ نہیں کرتے۔ ان کی ہمت بیدار نہیں ہوتی، اس کے لئے جدوجہد کا کوئی داعیہ پیدا نہیں ہوتا۔ کیا اس کی وجہ آخرت سے بےرغبتی ہے یا اللہ کے وعدے پر یقین کمزور ہے ؟ ورنہ اگر بندے کو واقعی کما حقہ یقین ہوتا اور دل میں ایمان سریات کرچکا ہوتا، تو دل اس کے لئے جذبے اور ولولے سے معمور ہوجاتے، اور ثواب کے حصول کے لئے زیادہ سے زیادہ خرچ کرنا آسان ہوجاتا۔ اس لئے اللہ نے فرمایا : (واللہ بما تعملون بصیر) ” اور اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے۔ “ وہ ہر شخص کے عمل سے بھی ابخبر ہے اور یہ بھی جانتا ہے کہ اس عمل کا باعث کیا ہے۔ لہٰذا وہ اس کے مطابق مکمل جزا دے گا اس کے بعد ارشاد ہے۔
Ayahs 2:266–267آیت 266
یہ مثال اس شخص کی ہے جو صدقہ وغیرہ نیکی کا کام اللہ کی رضا کے لئے کرتا ہے، پھر کوئی ایسا کام کردیتا ہے جس سے وہ نیکی تباہ ہوجائے۔ اس کی مثال ایک باغ کے مالک کی سی ہے جس کے باغ میں ہر قسم کے پھل ہیں۔ ان میں سے کھجور اور انگور کا ذکر خاص طور پر کیا گیا ہے کیونھ کہ یہ دوسروں سے افضل ہیں اور ان کے فوائد بھی زیادہ ہیں۔ ان کا استعمال خوراک کے طور پر بھی ہوتا ہے اور میوہ کے طور پر (لطف اندوزی کے لئے) بھی ہے۔ اس باغ میں نہریں بھی چل رہی ہیں، جن کی وجہ سے آب پاشی میں کوئی مشقت نہیں ہوتی۔ اس کا مالک اس پر خوشی ہے، لوگ رشک کرتے ہیں۔ یہ آدمی بوڑھا ہوگیا، کام کاج کے قابل نہیں رہا۔ اس لئے اب اسے باغ ہی سے امید ہے۔ اس کی اولاد کمزور ہے، جو کام کاج میں اس کی مد نہیں کرسکتی۔ بلکہ اس کے لئے بوجھ ہے۔ اس کا اپنا خرچ بھی باغ سے چلتا ہے اور بچوں کا بھی۔ ان حالات میں باغ پر آندھی آگئی۔ (اعصار) اس تیز ہوا کو کہتے ہیں جو گول گھومتی ہے اور اوپر کو بلند ہوتی ہے۔ اس بگولے میں آگ تھی جس سے باغ جل گیا۔ اس حادثے سے جو رنج و غم حاصل ہوگا اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ اگر غم سے مرا جاسکتا تو یہ آدمی ضرور مرجاتا۔ اس طرح جو شخص اللہ کی رضا کے لئے عمل کرتا ہے تو اس کے عمل کھیتی اور پھلوں کے بیج کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس کے اعمال کے نتیجے میں اسے وہ باغ مل جاتا ہے جو بےانتہا دلکش ہے۔ نیکیوں کو ضائع کرنے والے اعمال اس بگولے کی طرح ہیں، جس میں آگ ہے۔ بندہ اپنے اعمال کا انتہائی ضرورت مند اس وقت ہوتا ہے جب وہ فوت ہوتا ہے۔ اس وقت اس کی یہ حالت ہوتی ہے کہ وہ مزید کوئی عمل نہیں کرسکتا اور جس عمل سے فائدے کی امید کی جاسکتی ہے وہ گرد و غبار کی طرح بےحقیقت ہوچکا ہوتا ہے۔ اگر انسان اس صورتحال کو سمجھ لے اور اس کا تصور کرے تو اگر اسے تھوڑی سی عقل حاصل ہے تو ایسا کام ہرگز نہ کرے گا، جس میں اس کا اس قدر نقصان ہے اور جس کا انجام حسرت و افسوس ہے، لیکن ایمان و عقل کی کمزوری کی وجہ سے اور بصیرت کی کمی کی وجہ سے انسان اس حال کو پہنچ جاتا ہے کہ اگر ایسی حرکت کسی مجنوں سے بھی سر زد ہو تو وہ عظیم اور انتہائی خطرناک ہو۔ اس لئے اللہ نے غور و فکر کرنے کا حکم دیا ہے اور فرمایا : (کذلک یبین اللہ لکم الایت لعلکم تتفکرون) ” اسی طرح اللہ تمہارے لئے آیتیں بیان کرتا ہے تاکہ تم غور و فکر کرو۔ “
Ayah 2:268آیت 268
اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو حکم دیتا ہے کہ اس نے انہیں جس کمائی کی توفیق دی ہے اور ان کے لئے زمین سے جو کچھ نکالا ہے، اس میں سے کچھ پاکیزہ اموال خرچ کریں۔ جس طرح اس نے تم پر احسان کیا ہے کہ اس کا حصول تمہارے لئے آسان فرما دیا، اسی طرح اس کا شکر ادا کرنے کے لئے، اپنے بھائیوں کے کچھ حقوق ادا کرنے کے لئے اور اپنے مالوں کو پاک کرنے کے لئے اس میں سے کچھ حصہ اللہ کی راہ میں خرچ کرو۔ خرچ کرنے کے لئے وہ عمدہ چیز منتخب کرو، جو تمہیں اپنے لئے پسند ہے۔ ایسی نکمی چیز دینے کا قصد نہ کرو، جو خود تمہیں پسند نہیں اور جسے تم خود دوسروں سے وصول کرنا پسند نہیں کرتے۔ (واعلموآ ان اللہ غنی حمید) ” اور جان لو کہ اللہ بےنیاز اور خوبیوں والا ہے۔ “ وہ تم سے بےنیاز ہے۔ تمہارے صدقات اور دوسرے اعمال کا فائدہ خود تمہی کو حاصل ہوگا۔ وہ اس بات پر تعریف کے قابل ہے کہ اس نے تمہیں اچھے اعمال کے کرنے کا اور اچھی خوبیاں اپنانے کا حکم دیا ہے۔ لہٰذا تمہارا فرض ہے کہ اس کے احکام کی تعمیل کرو، کیونکہ ان سے دلوں کو روحانی غذا ملتی ہے۔ دل زندہ ہوتے ہیں اور روح کو نعمت حاصل ہوتی ہے اپنے دشمن یعنی شیطان کی پیروی ہرگز نہ کرنا، جو تمہیں بخل کا حکم دیتا ہے اور تم کو ڈراتا ہے کہ خرچ کرنے سے مفلس ہوجاؤ گے۔ وہ تمہاری خیر خواہی کے طور پر یہ مشورہ نہیں دیتا، بلکہ یہ اس کا بہت بڑا دھوکا ہے۔ (انما یدعوا حزبہ لیکونوا من اصحب السعیر) (فاطر :6/35) ” وہ اپنی جماعت کو (گناہ کی طرف) بلاتا ہے، تاکہ وہ بھی جہنمی بن جائیں۔ “ بلکہ اپنے رب کا حکم مانو، جو تمہیں ایسے انداز سے خرچ کرنے کا حکم دیتا ہے، جو تمہارے لئے آسان ہو، اور جس میں تمہارا کوئی نقصان نہ ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ (یعدکم مغفرۃ منہ) ” وہ تم سے وعدہ کرتا ہے اپنی بخشش کا “ یعنی تمہیں گناہوں سے پاک کرنے کا (وفضلاً ) ” اور فضل کا “ جس سے دنیا اور آخرت میں تمہارا بھلا ہوگا۔ یعنی جو خرچ کرتے ہو، ویسا ہی جلد ہی (دنیا میں) تمہیں دے گا، دلوں کو خوشی اور سکون اور قبر میں راحت حاصل ہوگی۔ قیامت کے دن اس کا پورا پورا ثواب بھی ملے گا۔ اور اللہ تعالیٰ کے لئے اتنا زیادہ اجر وثواب اور انعام دینا مشکل نہیں۔ کیونکہ وہ (واسع) ” وسعت والا “ یعنی وسیع فضل اور عظیم احسان کرنے والا ہے اور تمہارے کئے ہوئے خرچ کو (علیم) ” جاننے والا ہے “ خواہ وہ کم ہو یا زیادہ، خفیہ ہو یا ظاہر، لہٰذا اپنے فضل و احسان سے اس کا بدلہ دے گا۔ اب بندے کو خود سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا چاہیے کہ اسے اللہ کی بات ماننی ہے یا شیطان کی ؟
ان دو آیات میں بہت سے اہم مسائل مذکور ہیں : (1) اللہ کی راہ میں خرچ کی ترغیب (2) وضاحت کہ خرچ کرنا کیوں ضروری ہے (3) سونے چاندی اور سامان تجارت میں زکوۃ کا حکم کیونکہ یہ (من طیبت ماکسبتم) میں شامل ہیں۔ (4) غلہ، پھل اور معدنیات میں زکوۃ واجب ہے۔ (5) زکوۃ اس پر واجب ہے جو غلہ اور پھل کا مالک ہے۔ زمین کے مالک پر واجب نہیں کیونکہ ارشاد ہے : (اخرجنا لکم) لہٰذا زمین جس کے لئے یہ اشیا اگاتی ہے، زکوۃ بھی اس پر واجب ہے۔ (6) ان مالوں پر زکوۃ نہیں جو اپنی ذاتی ضروریات کے لئے رکھے گئے ہوں مثلاً قطعہ زمین اور برتن وغیرہ۔ اسی طرح اگر معلوم نہ ہو کہ فلاں نے میرا قرض ادا کرنا ہے، یا کسی نے مال پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، یا مال اور قرض ایسے شخص کے پاس ہے جس سے واپس لینے کی طاقت نہیں، تو ایسے اموال پر زکوۃ نہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان مالوں سے خرچ کرنے کا حکم دیا ہے جو بڑھتے ہیں یعنی زمین سے حاصل ہونے والی اشیا اور اموال تجارت اور جو مال اس مقصد کے لئے تیار نہیں رکھے گئے یا جن مالوں کو حاصل کرنا ممکن نہیں، ان میں یہ صوف نہیں پایا جاتا ہے۔ (7) نکمی چیز دینا منع ہے، ایسی چیز دینے سے زکوۃ کا فرض ادا نہیں ہوگا۔
Ayah 2:269آیت 269
چونکہ اللہ تعالیٰ نے بہت عظیم احکامات نازل فرمائے ہیں جن میں بہت سے اسرار اور بہت سی حکمتیں ہیں اور ان پر عمل کی توفیق ہر کسی کو نہیں ملتی بلکہ صرف اسی کو ملتی ہے جس پر اللہ کا خاص احسان ہو اور اسے اللہ حکمت عطا فرما دے۔ حکمت سے مراد علم نافع، عمل صالح اور شریعت کے اسرار اور حکمتوں سے واقفیت ہے۔ جسے اللہ ایسی حکمت دے دے اسے اللہ نے بہت بھلائی عطا فرما دی۔ اس بھلائی سے عظیم تر بھلائیک ون سی ہوسکتی ہے جس میں دنیا اور آخرت کی خوش نصیبی پنہاں ہو، اور جس کے ذریعے سے دنیا اور آخرت کی بدنصیبی سے نجات مل جائے ؟ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ نعمت خاص خاص لوگوں کو ملتی ہے اور یہ انبیاء کا ترکہ ہے۔ پس بندے کو کمال صرف حکمت سے حاصل ہوسکتا ہے۔ کیونکہ کمال نام ہے علمی اور علمی قوت کے کامل ہونے کا۔ علمی قوت تو حق کی معرفت سے اور اس کے مقصود کی معرفت سے کامل ہوتی ہے اور عملی قوت نیکی کرنے اور برائی سے اجتناب کرنے سے مکمل ہوتی ہے۔ اس کے نتیجے میں بندہ صحیح قول اور صحیح عمل کا خحامل ہوسکتا ہے اور اپنی ذات کے بارے میں نیز دوسروں کے بارے میں ہر حکم کو اس کے صحیح مقام پر رکھ سکتا ہے اور اپنی ذات کے بارے میں، نیز دوسروں کے بارے میں ہر حکم کو اس کے صحیح مقام پر رکھ سکتا ہے۔ اس کے بغیر یہ ممکن نہیں۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی فطرت میں یہ رکھ دیا ہے کہ وہ اس کی عبادت کریں، بھلائی سے محبت رکھیں، حق کے طالب ہوں، اس لئے اللہ تعالیٰ نے رسول مبعوث فرمائے کہ لوگوں کو ان کی عقل و فطرت میں جڑیں رکھنے والی ان اشیاء کی یاد دہانی کرائیں اور جو تفصیلات لوگوں کو معلوم نہیں، وہ بیان فرمائیں۔ پھر لوگ دو قسموں میں تقسیم ہوگئے۔ ایک قسم میں وہ لوگ شامل ہیں جنہوں نے انبیاء کی دعوت کو قبول کیا، تو انہیں اپنے فائدے کی باتیں یاد ہوگئیں، انہوں نے اس پر عمل کیا اور انہیں اپنے نقصان کی باتیں معلوم ہوگئیں، لہٰذا وہ ان سے بچ گئے۔ یہ لوگ کامل عقل و فہم کے حامل ہیں۔ دوسری قسم کے لوگ وہ ہیں جنہوں نے انبیاء کی دعوت قبول نہیں کی، بلکہ ان کی فطرت میں جو خربای پیدا ہوگئی تھی اسی کے مطابق عمل کیا، رب کا حکم نہیں مانا۔ یہ لوگ عقل والے نہیں۔ اسی لئے اللہ نے فرمایا : (وما یذکر الا اولوا الالباب) ” نصیحت صرف عقل مند ہی حاصل کرتے ہیں۔ “
Ayah 2:270آیت 270
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جس خرچ کا اللہ نے حکم دیا ہے وہ واجب ہو یا مستحب، کم ہو یا زیاد، ہر خرچ کا ثواب ملتا ہے۔ نذر اسے کہتے ہیں جسے کوئی مکلف انسان خود اپنے ذمے لے لے اور اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے کیونکہ اس سے کچھ بھی پوشیدہ نہیں اور وہ یہ بھی جانتا ہے کہ یہ عمل خلوص سے کیا گیا ہے یا کسی اور نیت سے۔ اگر صرف اللہ کی رضا کے لئے اخلاص کے ساتھ کیا گیا ہے تو اللہ اس کی جزا کے طور پر عظیم فضل اور کثیر ثواب عطا فرماتا ہے۔ اگر بندہ واجب اخراجات نہ کرے، یا مانی ہوئی نذر پوری نہ کرے۔ یا یہ عمل مخلوق کی خوشنودی کے لئے کرے تو وہ ظالم بن جاتا ہے کیونکہ اس نے ایک چیز کو غلط مقام پر رکھ دیا ہے۔ لہٰذا وہ سخت سزا کا مستحق ہے۔ جس سے اسے کوئی نہیں بچا سکتا اس لئے فرمایا : (وما للظلمین من انصار) ” اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔ “
Ayah 2:271آیت 271
(ان تبدوالصدقت) ” اگر تم صدقے خیرات کو ظاہر کرو۔ “ یعنی علانیہ خیرات کرو، جبکہ اس کا مقصد اللہ کی رضا کا حصول ہو : (فیعماھی) ” تو وہ بھی اچھا ہے۔ “ کیونکہ اس سے مقصود حاصل ہوجاتا ہے۔ (وان تخفوھا وتوتوھا الفقرآء فھوخیرلکم) ” اور اگر تم اسے پوشید ہمسکینوں کو دے دو ، تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے۔ “ اس میں یہ نکتہ ہے کہ غریب آدمی کو پوشیدہ طور پر صدقہ دینا، ظاہر کر کے دینے سے افضل ہے لیکن جب غریبوں کو صدقات نہ دیے جا رہے ہوں تو اس آیت میں اشارہ ہے کہ اس صورت میں پوشیدہ طور پر صدقہ کرتا ظاہر کرنے سے افضل نہیں۔ یعنی اس کا دار و مدار مصلحت اور فائدے پر ہے۔ اگر اس کے ظاہر کرنے سے ایک دینی حکم کی اشاعت ہوتی ہو اور امید ہو کہ دوسرے لوگ بھی یہ نیک کام کرنے لگیں گے، تو چھپانے کی نسبت ظاہر کر کے دینا افضل ہوگا۔ (وتوتوھا الفقرآء) ” اور اسے مسکینوں کو دے دو ۔ “ سے معلوم ہوتا ہے کہ صدقہ دینے والے کو چاہیے کہ ضرورت مندوں کو تلاش کر کے صدقہ دے۔ زیادہ ضرورت مند کی موجودگی میں کم ضرورت مند کو نہ دے اور اللہ کے اس فرمان میں کہ صدقہ دینا صدقہ دینے والے کے لئے بہتر ہے، یہ اشارہ ہے کہ اسے ثواب حاصل ہوگا اور (ویکفرعنکم من سیاتکم) میں بتایا ہے کہ سزا ختم ہوجائے گی اور عذاب سے نجات مل جائے گی۔ : (واللہ بما تعملون خبیر) ” اور اللہ تمہارے تمام اعمال کی خبر رکھنے والا ہے “ یعنی وہ اچھے ہوں یا برے، کم ہوں یا زیادہ، یہ بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ان کی جزا و سزا ملے گی۔
Ayahs 2:272–274آیت 272-274
دلالت ہے کہ مال کا یہ خرچ کرنا عام ہے جیسے مسلم پر خرچ کرنا واجب ہے اسی طرح کافر ( اہل ذمہ وغیرہ) پر بھی خرچ کیا جائے گا اگرچہ اس نے ہدایت قبول نہ کی ہو۔ اس لئے فرمایا : (وما تنفقوا من خیر) تم جو کچھ خرچ کرو گے۔ “ کم ہو یا زیادہ اور چاہے یہ مال تم مسلمان پر خرچ کرو یا کافر پر : (فلا نفسکم) ” اس کا فائدہ خود پاؤ گے (وما تنفقون الا ابتغآء وجہ اللہ) ” اور تم صرف اللہ کی رضا مندی کی طلب کے لئے خرچ کرتے ہو۔ “ یہاں یہ بتایا گیا ہے کہ مومنوں کے خرچ کی بنیاد ایمان ہوتی ہے اور وہ صرف اللہ کی رضا کے لئے خرچ کرتے ہیں۔ کیونکہ ان کا ایمان انہیں فضول مقاصد کے لئے کام کرنے سے منع کرتا ہے اور اخلاص پیدا کرتا ہے۔ (وماتنفقوا من خیریوف الیکم) ” تم جو کچھ مال خرچ کرو گے اس کا پورا پورا بدلہ تمہیں دیا جائے گا۔ “ یعنی قیامت کے دن تم پورا اجر وثواب حاصل کرو گے۔ (وانتم لاتظلمون) ” اور تم پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ “ تمہارے نیک عملوں میں ذرہ برابر کمی نہیں کی جائے گی، اور تمہارے گناہوں میں بلاوجہ اضافہ نہیں کیا جائے گا اس کے بعد اللہ تعالیٰ یہ بیان کرتا ہے کہ کون لوگ زیادہ مستحق ہیں کہ ان پر خرچ کیا جائے۔ چناچہ ان کی چھ صفات بیان فرمائی ہیں۔ (1) فقر اور تنگ دستی (2) (احصروا فی سبیل اللہ) یعنی جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے کاموں، جہاد وغیرہ کے لئے وقف ہوچکے ہیں، وہ اس کے لئے ہر قوت تیار رہتے ہیں (3) رزق کی تلاش کے لئے فر کے قابل نہ ہوں۔ جیسے فرمایا : (لایستطیعون ضرباً فی الارض) یعنی روزی کمانے کے لئے زمین میں سفر نہیں کرسکتے۔ (4) (یحسبھم الجاھل اغنیآء من الثعفف) ” نادان لوگ ان کی بےسوالی کی وجہ سے انہیں مال دار خیال کرتے ہیں۔ “ اس سے ان کا مخلصانہ صبر اور سوال سے بچنے کی صفت کا بیان ہے۔ (5) اللہ نے فرمایا : (تعرفھم بسیمھم) ” آپ ان کے چہرے دیکھ کر قیافہ سے پہچان لیں گے۔ “ یعنی اس علامت کے ذریعے سے پہچان لیں گے جو اللہ نے ان کے وصف کے طور پر ذکر کی ہے اور یہ ارشاد (یحسبھم الجاھل اغنیآء) نادانوں کے انہیں مال دار خیال کرنے کے منافی نہیں۔ کیونکہ جو ان کے حالات سے واقف نہیں۔ اس میں اتنی سمجھ نہیں کہ دیکھ کر ان کے حالات سمجھ لے۔ سمجھ دار آدمی تو انہیں دیکھتے ہی ان کی علامت کی وجہ سے پہچان لیتا ہے۔ (6) (لایسئلون الناس الحافاً ) یعنی لوگوں سے اصرار کے ساتھ نہیں مانگتے۔ بلکہ اگر حالات انہیں سوال کرنے پر مجبور کردیں تب بھی ان کے سوال میں اصرار اور چمٹ جانے کی کیفیت نہیں ہوتی۔ یہ لوگ اپنی ان صفات کی وجہ سے صدقات دیے جانے کے زیادہ مستحق ہیں۔ دوسروں پر خرچ کرنا فی نفسہ ایک نیکی اور احسان ہے۔ خواہ کسی شخص پر خرچ کیا جائے۔ آدمی کو اس کا اجر وثواب ملے گا۔ اس لئے فرمایا : (وما تنفقوا من خیرفان اللہ بہ علیم) ” تم جو کچھ مال خرچ کرو، اللہ اس کا جاننے والا ہے۔ “ اس کے بعد ان لوگوں کا ذکر فرمایا جو ہرحال میں ہر وقت صدقہ کرتے ہیں۔ چناچہ فرمایا : (الذین ینفقون اموالھم فی سبیل اللہ) ” جو لوگ اپنے مال خرچ کرتے ہیں اللہ کی راہ میں “ یعنی اس کی اطاعت میں، اور اس کی خوشنودی کی راہ میں خرچ کرتے ہیں، حرام اور مکروہ کاموں میں یا اپنے دل کی خواہش پوری کرنے کے لئے خرچ نہیں کرتے : (بالیل والنھار سرا وعلانیۃ فلھم اجرھم عندربھم) ” رات دن، چھپے کھلے (خرچ کرتے ہیں) ان کے لئے ان کے رب کے پاس اجر ہے۔ “ یعنی رحمتوں والے مالک کے پاس عظیم اجر ہے۔ (ولا خوف علیھم) ” انہیں نہ خوف ہوگا “ جب کوتاہی کرنے والے خوف میں مبتلا ہوں گے (ولاھم یحزنون) ” اور نہ غم “ جب جائز حد سے آگے بڑھنے والے غم میں مبتلا ہوں گے تو یہ اپنا اصل مقصود اور مطلوب حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے اور ہر قسم کے شر سے محفوظ رہیں گے۔ جب اللہ تعالیٰ نے اس کے بندوں پر مختلف انداز سے خرچ کر کے احسان کرنے والوں کا ذکر مکمل کرلیا تو اس کے بعد ان ظالموں کا ذکر فرمایا جو اللہ کے بندوں پر انتہائی برا ظلم کرتے ہیں۔ ارشاد ہے۔