18. Surah Al-Kahf

الكهفThe Cave · 110 ayahsتفسیرِ سعدی

Ayah 18:74

فَانْطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا لَقِیَا غُلٰمًا فَقَتَلَهٗ١ۙ قَالَ اَقَتَلْتَ نَفْسًا زَكِیَّةًۢ بِغَیْرِ نَفْسٍ١ؕ لَقَدْ جِئْتَ شَیْئًا نُّكْرًا Open ayah 18:74 in the Quran reader

پھر دونوں چلے یہاں تک کہ (راستہ میں) ایک لڑکا ملا تو (خضر نے) اسے مار ڈالا (موسی نے) کہا کہ آپ نے ایک بےگناہ شخص کو (ناحق) بغیر قصاص کے مار ڈالا (یہ تو) آپ نے بری بات کی

آیت 74 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی موسیٰ اور بھلائی اور طلب علم میں ان کی شدید رغبت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ انہوں نے اپنے خادم سے فرمایا جو سفر و حضر میں ہمیشہ ان کے ساتھ ہوتا تھا اور وہ یوشع بن نون تھے جن کو بعد میں اللہ تعالیٰ نے نبوت سے سرفراز فرمایا : (آیت) ” جب تک میں دو دریاؤں کے ملنے کی جگہ نہ پہنچ جاؤں ہٹنے کا نہیں۔ “ یعنی میں سفر کرتا رہوں گا خواہ مسافت کتنی ہی طویل اور مشقت کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو یہاں تک کہ میں دونوں دریاؤں کے سنگم پر پہنچ جاؤں۔ یہ وہ جگہ ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کی طرف وحی کی تھی کہ وہاں آپ کو اللہ تعالیٰ کا علم رکھنے والے بندوں میں سے ایک بندہ ملے گا جس کے پاس ایسا علم ہے جو آپ کے پاس نہیں۔ (او امضی حقباً ) ” خواہ برسوں چلتا رہوں۔ “ یعنی طویل مسافت تک چلتا چلا جاؤں گا۔ معنی یہ ہے کہ مسوی نے شوق اور رغبت کی بنا پر اپنے نوجوان خادم سے یہ بات کہی اور یہ ان کا عزم جاز تھا جس کی بنا پر انہوں نے اپنا سفر جاری رکھا۔ (فلما بلغا) ” پھر جب دونوں پہنچے “ یعنی حضرت موسیٰ اور ان کا خادم (مجمع بینھما نسیاً حوتھما) ” دونوں دریاؤں کے ملاپ تک، تو بھول گئے اپنی مچھلی “ ان کے ساتھ مچھلی تھی جو ان کے لئے زاد راہ تھی جسے وہ تناول کرتے تھے، اللہ تبارک تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ فرمایا تھا کہ جہاں یہ مچھلی غائب ہوجائے گی وہیں وہ بندر رہتا ہے جس کے پاس جانے کا آپ قصد رکھتے ہیں۔ مچھلی نکل کر دریا میں چلی گئی یہ ایک معجزہ تھا۔ مفسرین نے کہا ہے کہ وہ مچھلی جسے انہوں نے زاد راہ کے طور پر لیا تھا، و جب اس مقام پر پہنچے تو اسے دریا کی نمی پہنچی اور وہ اللہ کے حکم سے کھسک کر دریا میں چلی گئی اور زندہ ہو کر دیگر حیوانات میں شامل ہوگئی۔ جب موسیٰ اور ان کا نوجوان خادم اس سنگم سے آگے بڑھ گئے تو حضرت موسیٰ نے اپنے خادم سے کہا : (آیت) ” لا ہمارے پاس ہمارا کھانا، تحقیق ہم نے پائی اس سفر میں تکلیف “ یعنی ہم اس سفر سے، جو اس سنگھ سے متجاوز سفر تھا، تھک گئے ہیں ورنہ اتنا طویل سفر جو انہوں نے دونوں دریاؤں کے سنگم تک کیا، اس میں نہیں تھکے تھے۔ یہ ایک علامت اور نشانی تھی جو موسیٰ کے لئے دلیل تھی کہ انہوں نے اپنا مقصد پا لیا ہے، نیز اس منزل پر پہنچنے کے شوق نے ان کے لئے سفر کو آسان بنادیا، جب وہ اس مقام سے آگے بڑھ گئے تو انہوں نے تھکاوٹ محسوس کی۔ جب موسیٰ نے اپنے خادم سے یہ بات کہی تو اس نے جواب دیا : (آیت) ” کیا دیکھا آپ نے جب ہم نے جگہ پکڑی اس پتھر کے پاس، سو میں بھول گیا مچھلی، اور یہ شیطان ہی نے مجھے اس کا ذکر کرنے سے بھلا دیا۔ “ کیونکہ وہ بھول جانے کا سبب بنا۔ (آیت) اور پکڑا اس نے اپنا راستہ دریا میں عجیب طرح “ یعنی جب مچھلی دریا میں چلی گئی تو یہ چیز عجائبات میں سے تھی۔ جب موسیٰ کے خادم نے یہ بات کہی۔۔۔ اور اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ سے وعدہ کیا ہوا تھا کہ جہاں مچھلی غائب ہوجائے گی، وہیں حضرت خضر کو پائیں گے۔۔۔ تو موسیٰ نے کہا : (ذلک ما کنا نبع) ” یہی تو ہے جسے ہم تلاش کرتے تھے۔ “ یعنی یہی جگہ مطلوب تھی۔ (فارتدا) ” پھر الٹے پھرے وہ دونوں “ یعنی واپس لوٹے (علی اثار ھما قصصا) ” اپنے پاؤں کے نشان پہچانتے ہوئے “ یعنی اپنے قدموں کے نشانات پر چلتے ہوئے واپس اس جگہ پہنچے جہاں مچھلی بھول گئے تھے۔ جب وہ وہاں پہنچے تو انہوں نے وہاں ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ پایا اور وہ خضر تھے، وہ ایک صالح شخص تھے اور صحیح مسلک یہ ہے کہ وہ نبی نہ تھے۔ (تینہ رحمۃ من عندنا) ” جس کو ہم نے اپنے پاس سے رحمت دی تھی۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی خاص رحمت سے نوازا تھا جس کی وجہ سے وہ بہت زیادہ علم اور حسن عمل سے بہرہ ور تھے۔ (وعلمنہ من لدنا علماً ) ” اور سکھایا تھا اس کو اپنے پاس سے ایک علم۔ “ حضرت خضر کو وہ علم عطا کیا گیا تھا جو موسیٰ کو عطا نہیں کیا گیا تھا۔ اگرچہ موسیٰ بہت سے امور میں سے ان سے زیادہ علم رکھتے تھے خاص طور پر علوم ایمانیہ اور علوم اصولیہ، کیونکہ حضرت موسیٰ اولوالعزم رسولوں میں سے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے علم و عمل کے ذریعے سے تمام مخلوق پر فضیلت سے نوازا تھا۔ جب موسیٰ حضرت خضر سے ملے تو از راہ ادب و مشاورت اور اپنا مقصد بیان کرتے ہوئے ان سے کہا : (آیت) ” یعنی کیا میں آپ کی پیروی کروں کہ آپ مجھے وہ علم سکھا دیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کر رکھا ہے، تاکہ اس کے ذریعے سے میں رشد و ہدیات کی راہ پا سکوں اور اس علم کے ذریعے سے ان تمام قضیوں میں حق کو پہچان سکوں ؟ خضر کو اللہ تعالیٰ نے الہام و کر اتم سے نوازا ہوا تھا جس کی وجہ سے انہیں بہت سی چیزوں کے اسرار نہاں کی، جو دوسرے لوگوں پر مخفی تھے حتی کہ موسیٰ پر بھی مخفی تھے، اطلاع ہوجاتی تھی۔ خضر نے موسیٰ سے کہا کہ میں ایسا کرنے سے انکار نہیں کرتا لیکن (لن تستطیع معی صبراً ) ” آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر پائیں گے۔ “ یعنی آپ کو میرے ساتھ رہنے اور میری پیروی کرنے کی قدرت حاصل نہیں کیونکہ آپ ایسے امور ملاحظہ کریں گے جن کا ظاہر برا اور باطن اس کے برعکس ہوگا۔ بناء بریں خضر نے فرمایا : (وکیف تصبر علی مالم تحط بہ خبراً ) ” اور کیوں کر صبر کریں گے آپ ایسی چیز پر کہ جس کا سمجھنا آپ کے بس میں نہیں۔ “ یعنی آپ کسی ایسے معاملے میں کیسے صبر کرسکتے ہیں جس کے ظاہر و باطن کا آپ کو علم ہے نہ اس کے مقصد و مآل کا۔ موسیٰ نے کہا : (ستجدنی ان شآء اللہ صابرا ولا اعصی لک امرا) ” اگر اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صابر پائیں گے اور آپ کے کسی حکم کی نافرمانی نہیں کروں گا۔ “ جس چیز کے بارے میں امحتان تھا، اس کے سامنے آنے سے پہلے یہ حضرت موسیٰ کے عزم کا اظہار تھا۔ عزم ایک الگ چیز ہے اور صبر کا وجود ایک دوسری چیز ہے، اس لئے جب وہ امر واقع ہوا تو موسیٰ اس پر صبر نہ کرسکے۔ اس وقت خضر نے حضرت موسیٰ سے کہا : (آیت) ’ دپس اگر میرے ساتھ رہنا ہے تو مت پوچھنا مجھج سے کسی چیز کی بابت، جب تک کہ میں شروع نہ کروں آپ کے سامنے اس کا ذکر “ یعنی مجھ سے کوئی سوال کرنے میں پہل کرنا نہ میرے کسی فعل پر مجھ پر کوئی نکیر کرنا جب تک کہ میں خود آپ کو مناسب وقت پر اس کے حال کے بارے میں نہ بتادوں۔ یہ گویا حضرت خضر نے ان سے وعدہ کیا کہ وہ بالاخر حقیقت حال سے انہیں آگاہ کریں گے۔ (فانطلقا حتی اذا رکبا فی السفینۃ خرقھا) ” پس وہ دونوں چلے، یہاں تک کہ جب وہ کشتی میں سوار ہوئے، تو اس کو پھاڑ ڈالا “ یعنی حضرت خضر نے اس کشتی کا ایک تختہ اکھاڑ دیا اور اس کے پیچھے ایک مقصد تھا جس کو وہ عنقریب بیان کریں گے۔ موسیٰ اس پر صبر نہ کرسکے کیونکہ ظاہری طور پر یہ ایک برا فعل تھا۔ خضر نے کشتی میں عیب ڈال دیا تھا جو کشتی میں سوار لوگوں کے ڈوبنے کا باعث ہوسکتا تھا۔ اس لئے موسیٰ نے کہا : (آیت) ” کیا آپ نے اس کو پھاڑ دیا تاکہ ڈبو دیں اس کے لوگوں کو، البتہ کی آپ نے ایک چیز انوکھی “ یعنی آپ نے بہت برا کام سر انجام دیا ہے۔ اس بولنے کا سبب موسیٰ کا عدم صبر تھا خضر نے ان سے کہا : (الم اقل انک لن تستطیع معی صبراً ) ” کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر کرنے کی طاقت نہیں رکھیں گے “ یعنی بالکل اسی طرح واقع ہوا جیسا میں نے آپ سے کہا تھا۔ یہ موسیٰ سے بھول کر صادر ہوا تھا، اس لئے انہوں نے کہا : (لاتواخذنی بمانسیت ولاتھقنی من امری عسراً ) ” میری بھول پر آپ مجھے نہ پکڑیں اور نہ ڈلایں مجھ پر میرا کام مشکل “ یعنی مجھے مشکل میں نہ ڈالئے، میرے ساتھ نرمی کیجیے کیونکہ بھول میں مجھ سے ایسا ہوا ہے۔ پہلی مرتبہ میری گرفت نہ کیجیے۔ پس انہوں نے اقرار اور عذر کو اکٹھا کردیا۔ اے خضر ! اپنے ساتھی پر سختی کرنا آپ کے شایان شان نہیں، چناچہ حضرت خضر نے ان سے درگزر کیا۔ (فانطلقا حتی اذا لقیا غلماً ) ” پھر وہ دونوں چلے، یہاں تک کہ ایک بچے کو ملے “ یعنی چھوٹا سا بچہ (فقتلہ) ” پس (خضر نے) اس کو قتل کر ڈالا “ اس پر موسیٰ سخت نارضا ہوئے۔ جب خضر نے اسے چھوٹے سے بچے کو قتل کردیا جس سے کوئی گناہ صادر نہیں ہوا تو موسیٰ کی حمیت دینی نے جوش مارا اور کہنے لگے : (اقتلت نفساً زکیۃ بغیر فنس لقد جئت شیاء نکراً ) ” کیا آپ نے ایک ستھری جان بغیر عوض کسی جان کے مار ڈالی، بیشک آپ نے ایک نامعقول کام کیا۔ “ چھوٹے سے معصوم بچے کے قتل جیسا برا کام اور کون سا ہوسکتا ہے، جس کا کوئی جرم نہیں اور نہ اس نے کسی کو قتل کیا ہے۔
Ayahs 18:75–82

قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكَ اِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا Open ayah 18:75 in the Quran reader

(خضر) نے کہا کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہیں کرسکو گے ؟

قَالَ اِنْ سَاَلْتُكَ عَنْ شَیْءٍۭ بَعْدَهَا فَلَا تُصٰحِبْنِیْ١ۚ قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَّدُنِّیْ عُذْرًا Open ayah 18:76 in the Quran reader

انہوں نے کہا اگر میں نے اس کے بعد (پھر) کوئی بات پوچھوں (یعنی اعتراض کروں) تو مجھے اپنے ساتھ نہ رکھیے گا کہ آپ میری طرف سے عذر (کے قبول کرنے میں غایت) کو پہنچ گئے

فَانْطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَیَاۤ اَهْلَ قَرْیَةِ اِ۟سْتَطْعَمَاۤ اَهْلَهَا فَاَبَوْا اَنْ یُّضَیِّفُوْهُمَا فَوَجَدَا فِیْهَا جِدَارًا یُّرِیْدُ اَنْ یَّنْقَضَّ فَاَقَامَهٗ١ؕ قَالَ لَوْ شِئْتَ لَتَّخَذْتَ عَلَیْهِ اَجْرًا Open ayah 18:77 in the Quran reader

پھر وہ دونوں چلے یہاں تک کہ ایک گاؤں والوں کے پاس پہنچے، اور ان سے کھانا طلب کیا، مگر انہوں نے ان کی ضیافت کرنے سے انکار کردیا۔ پھر انہوں نے وہاں ایک دیوار دیکھی جو (جھک کر) گرا چاہتی تھی، خضرنے اس کو سیدھا کردیا (موسیٰ نے کہا) اگر آپ چاہتے تو (اس کام) کا معاوضہ لیتے (تاکہ) کھانے کا کام چلتا

قَالَ هٰذَا فِرَاقُ بَیْنِیْ وَ بَیْنِكَ١ۚ سَاُنَبِّئُكَ بِتَاْوِیْلِ مَا لَمْ تَسْتَطِعْ عَّلَیْهِ صَبْرًا Open ayah 18:78 in the Quran reader

(خضر نے) کہا کہ اب تجھ میں اور مجھ میں علیحدگی ہے (مگر) جن باتوں میں تم صبر نہ کرسکے میں ان کا تمہیں بھید بتادیتا ہوں

اَمَّا السَّفِیْنَةُ فَكَانَتْ لِمَسٰكِیْنَ یَعْمَلُوْنَ فِی الْبَحْرِ فَاَرَدْتُّ اَنْ اَعِیْبَهَا وَ كَانَ وَرَآءَهُمْ مَّلِكٌ یَّاْخُذُ كُلَّ سَفِیْنَةٍ غَصْبًا Open ayah 18:79 in the Quran reader

(کہ وہ جو) کشتی تھی، غریب لوگوں کی تھی جو دریا میں محنت (کر کے یعنی کشتیاں چلا کر گزارہ) کرتے تھے اور انکے سامنے کی طرف ایک بادشاہ تھا جو ہر ایک کشتی کو زبردستی چھین لیتا تھا تو میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کردوں تاکہ وہ اسے غصب نہ کرسکے

وَ اَمَّا الْغُلٰمُ فَكَانَ اَبَوٰهُ مُؤْمِنَیْنِ فَخَشِیْنَاۤ اَنْ یُّرْهِقَهُمَا طُغْیَانًا وَّ كُفْرًاۚ Open ayah 18:80 in the Quran reader

اور وہ جو لڑکا تھا اس کے ماں باپ دونوں مومن تھے ہمیں اندیشہ ہوا کہ وہ (بڑا ہو کر بد کردار ہوگا کہیں) ان کو سرکشی اور کفر میں نہ پھنسا دے

فَاَرَدْنَاۤ اَنْ یُّبْدِلَهُمَا رَبُّهُمَا خَیْرًا مِّنْهُ زَكٰوةً وَّ اَقْرَبَ رُحْمًا Open ayah 18:81 in the Quran reader

تو ہم نے چاہا کہ ان کا پروردگار اس کی جگہ ان کو اور (بچہ) عطا فرمائے جو پاک طینتی اور محبت میں زیادہ قریب ہو

وَ اَمَّا الْجِدَارُ فَكَانَ لِغُلٰمَیْنِ یَتِیْمَیْنِ فِی الْمَدِیْنَةِ وَ كَانَ تَحْتَهٗ كَنْزٌ لَّهُمَا وَ كَانَ اَبُوْهُمَا صَالِحًا١ۚ فَاَرَادَ رَبُّكَ اَنْ یَّبْلُغَاۤ اَشُدَّهُمَا وَ یَسْتَخْرِجَا كَنْزَهُمَا١ۖۗ رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ١ۚ وَ مَا فَعَلْتُهٗ عَنْ اَمْرِیْ١ؕ ذٰلِكَ تَاْوِیْلُ مَا لَمْ تَسْطِعْ عَّلَیْهِ صَبْرًا٢ؕ۠ Open ayah 18:82 in the Quran reader

اور وہ جو دیوار تھی دو یتیم لڑکوں کی تھی جو شہر میں (رہتے تھے) اور اس کے نیچے ان کا خزانہ مدفون تھا، اور ان کا باپ ایک نیک بخت آدمی تھا تو تمہارے پروردگار نے چاہا کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچ جائیں اور (پھر) اپناخزانہ نکالیں یہ تمہارے پروردگار کی مہربانی ہے اور یہ کام میں نے اپنی طرف سے نہیں کیے یہ ان باتوں کی حقیقت ہے جن پر تم صبر نہ کرسکے

(آیت 75) پہلی مرتبہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا اعتراض ان کے نسیان کا نتیجہ تھا۔ دوسری مرتبہ اعتراض نسیان کی وجہ سے نہ تھا بلکہ اس کا سبب عدم صبر تھا، اس لئے حضرت خضر (علیہ السلام) نے عتاب کرتے ہوئے اور ان کو یاد دلاتے ہوئے کہا : (الم اقل لک انک لن تستطیع معی صبرا) ” کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کرسکیں گے “ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا : (ان اسلتک عن شیء بعدھا) ” اگر اس کے بعد میں نے آپ سے کسی چیز کی بابت پوچھا “ یعنی اس مرتبہ کے بعد (فلا تصحبنی) ” تو آپ مجھے ساتھ نہ رکھیں “ یعنی آپ مجھے مصاحبت میں نہ رکھنے پر معذور ہیں۔ (قد بلغت من لدنی عذرا) ” آپ میری طرف سے عذر کو پہنچ گئے “ یعنی آپ میری طرف سے معذور ہیں اور آپ نے کوتاہی نہیں کی۔ (فانطلقا حتی اذا اتیا اھل قریٓ استطعما اھلھا) ” پس وہ دونوں چلے یہاں تک کہ جب آئے وہ ایک بستی کے لوگوں تک، تو کھانا مانگا بستی کے لوگوں سے “ یعنی بستی والوں سے مہمان کے طور پر ٹھہرانے کی استدعا کی۔ (فابوا ان یضیفوھما فوجدا فیھا جدارا یرید ان ینقض) ” پس انہوں نے ان کی مہمان نوازی کرنے سے انکار کردیا، تو انہوں نے ایک دیوار کو دیکھا جو گرا چاہتی تھی “ یعنی وہ منہدم ہوا چاہتی تھی : (فاقامہ) ” پس اس کو سیدھا کردیا “ یعنی خضر (علیہ السلام) نے اسے تعمیر کر کے دوبارہ نیا بنادیا۔ جناب موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے کہا : (لو شئت لتخذت علیہ اجرا) ” اگر آپ چاہتے تو اس بستی والوں سے اس کام کی اجرت لے سکتے تھے۔ “ بستی والوں نے ہمیں مہمان نہیں ٹھہرایا تھا اور آپ ہیں کہ بغیر کسی اجرت کے ان کی دیوار تعمیر کر رہے ہیں، حالانکہ آپ ان سے اجرت طلب کرسکتے ہیں۔ اس وقت موسیٰ (علیہ السلام) وہ شرط پوری نہ کرسکے جس کا انہوں نے وعدہ کیا تھا۔ اس پر حضرت خضر نے ان کی رفاقت سے معذرت کرلی اور ان سے کہا : (ھذا فراق بینی و بینک) ” اب جدائی ہے میرے اور آپ کے درمیان “ کیونکہ جو شرائط آپ نے خود اپنے آپ پر عائد کی تھیں (ان کو آپ پورا نہ کرسکے) اب کوئی عذر باقی نہیں رہا اور نہ مصاحبت کی کوئی وجہ۔ (اسنبئک بتاویل ما لم تستطع علیہ صبرا) ” اب میں آپ کو بتاؤں گا ان چیزوں کی حقیقت، جن پر آپ صبر نہ کرسکے “ یعنی میں ان امور کے بارے میں آپ کو بتاؤں گا جن کے بارے میں آپ نے مجھ پر نکیر کی اور آپ کو بتاؤں گا کہ ان تمام کاموں کے پیچھے کچھ مقاصد تھے جن پر معاملہ مبنی تھا۔ (اما السفینٓ) یعنی وہ کشتی جس میں میں نے سوراخ کردیا تھا (فکانت لمسکین یعملون فی البحر) ” وہ مسکینوں کی تھی جو سمندر میں کام کرتے تھے “ ان پر ترس اور ان کے ساتھ مہربانی اس فعل کی مقتضی تھی۔ (فاردت ان اعیبھا و کان وراء ھم ملک یاخذ کل سفینٓ غصبا) ” تو میں نے چاہا کہ اس کو عیب دار کر دوں اور ان کے ورے ایک بادشاہ تھا جو ہر کشتی کو لے لیتا تھا چھین کر “ یعنی ان کا راستہ اس ظالم بادشاہ کے پاس سے گزرتا تھا، لہٰذا اگر کشتی صحیح اسلم ہوتی اور اس میں کوئی عیب نہ ہوتا تو ظلم کی بنا پر اسے پکڑ لیتا اور غصب کرلیتا۔ میں نے اس کشتی میں اس لئے سوراخ کردیا تھا تاکہ یہ کشتی عیب دار ہوجائے اور اس ظالم کی دست برد سے بچ جائے۔ (واما الغلم) ” رہا وہ لڑکا “ یعنی وہ لڑکا جس کو میں نے قتل کیا تھا : (فکان ابوہ موٓمنین فخشینا ان یرھقھما طغیانا وکفرا) ” پس اس کے ماں باپ مومن تھے، پھر ہم کو اندیشہ ہوا کہ وہ ان کو مجبور کر دے گا سرکشی اور کفر اختیار کرنے پر۔ “ یعنی اس لڑکے کے بارے میں یہ مقدر تھا کہ اگر وہ بالغ ہوجاتا تو اپنے والدین کو کفر اور سرکشی پر مجبور کرتا۔ یا تو ان دونوں کی اس سے محبت کی بنا پر یا اس سبب سے کہ دونوں اس کے ضرورت مند ہوں گے اور ضرورت ان کو ایسا کرنے پر مجبور کر دے گی، یعنی میں اس بچے کے بارے میں مطلع تھا اس لئے میں نے اس کے والدین کے دین کی حفاظت کے لئے اس کو قتل کردیا۔ اس جلیل القدر فائدے سے بڑھ کر اور کون اس فائدہ ہوسکتا ہے۔ اگرچہ اس بچے کے قتل کرنے میں ان کے لئے تکلیف اور ان کی نسل کا انقطاع ہے۔ پس اللہ تعالیٰ ان کو اور اولاد عطا کرے گا جو اس سے بہتر ہوگی بناء بریں فرمایا : (فاردنا ان یبد لھما ربھما خیرا منہ زکوٓ و اقرب رحما) ” پس ہم نے چاہا کہ بدلہ دے ان کو ان کا رب اس سے بہتر پاکیزگی میں اور نزدیک تر شفقت میں “ یعنی اللہ تعالیٰ اس کے بدلے ایسا بیٹا عطا کرے گا جو نیک، پاک اور صلہ رحمی کرنے والا ہوگا کیونکہ وہ بچہ جس کو قتل کردیا گیا تھا اگر بالغ ہوجاتا تو وہ والدین کا سخت نافرمان ہوتا اور وہ ان کو کفر اور سرکشی پر مجبور کردیتا۔ (واما الجدار) ” وہ دیوار “ جس کو میں نے سیدھا کردیا تھا (فکان لغلمین یتیمین فی المدینٓ و کان تحتہ کنز لھما و کان ابوھما صالحا) ” تو وہ دو یتیموں کی تھی اس شہر میں اور اس کے نیچے ان کا خزانہ تھا اور ان کا باپ نیک تھا “ یعنی ان کا حال ان پر رافت و رحمت کا تقاضا کرتا تھا کیونکہ وہ دونوں بہت چھوٹے تھے اور باپ سے محروم تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کے باپ کی نیکی کی بنا پر ان دونوں کی حفاظت فرمائی۔ (فارادربک ان یبلغا اشدھما و یستخرجا کنزھما) ” پس آپ کے رب نے چاہا کہ یہ دونوں بچے اپنی جوانی کو پہنچیں اور اپنا مدفون خزانہ نکالیں “ یعنی اس لئے میں نے دیوار منہدم کردی اور اس کے نیچے سے ان کا خزانہ نکال لیا اور خزانے کو دوبارہ دفن کرکے دیوار کو بغیر کسی اجرت کے دوبارہ تعمیر کردیا۔ (رحآ من ربک) یعنی یہ جو میں نے افعال سرانجام دیئے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے جس سے اس نے اپنے بندے خضر کو نوازا ہے۔ (وما فعلتہ عن امری) ” اور میں نے اسے اپنی طرف سے نہیں کیا “ یعنی میں نے ان میں سے کوئی کام اپنی طرف سے مجرد اپنے ارادے سے نہیں کیا بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا حکم تھا۔ (ذلک) یعنی یہ جو میں نے آپ کے سامنے وضاحت کی ہے (تاویل ما لم تسطع علیہ صبرا) ” یہ حقیقت ہے ان تمام واقعات کی جن پر آپ صبر نہ کرسکے۔ “ اس تعجب خیز اور جلیل القدر قصے میں بہت سے فوائد، احکام اور قواعد ذکر کئے گئے ہیں ہم اللہ تعالیٰ کی مدد سے ان میں سے بعض کی طرف اشارہ کرتے ہیں : (1) اس قصے سے علم اور طلب علم کے لئے رحلت کی فضیلت ثابت ہوتی ہے نیز یہ کہ طلب علم اہم ترین معاملہ ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے طلب علم کے لئے طویل سفر کیا اور تکالیف برداشت کیں۔ بنی اسرائیل کو تعلیم دینے اور ان کی راہنمائی کے لئے ان کے پاس بیٹھنا ترک کر کے علم میں اضافے کے لئے سفر اختار کیا۔ (2) اس قصے سے مستفاد ہوتا ہے کہ سب سے زیادہ اہم کام سے ابتداء کی جائے۔ اناسن کا علم اور اس علم میں اضافہ کرنا اس کو ترک کرنے اور علم حاصل کئے بغیر تعلیم میں مشغول رہنے سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ مگر دونوں امور کا یکجا ہونا زیادہ کامل اور افضل ہے۔ (3) سفر و حضر میں، کام کاج اور راحت کے حصول کے لئے خادم رکھنا جائز ہے جی اس کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کیا تھا۔ (4) اگر کوئی شخص طلب علم یا جہاد وغیرہ کے لئے سفر کرتا ہے اور مصلحت کے تقاضے کے مطابق اگر وہ اپنے مقصد اور منزل کے بارے میں بتاتا ہے تو یہ اس کو چھپانے سے بہتر ہے کیونکہ اس کو ظاہر کرنے میں بہت سے فوائد ہیں، مثلاً اس سفر کی تیاری، اسمان مہیا کرنے، اس کام کو دیکھ بھال کر احسن طریقے سے سرانجام دینے کا اہتمام اور اس جلیل القدر عبادت کے لئے شوق کا اظہار وغیرہ۔ جی اس کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا تھا : (لا ابرح حتی ابلغ مجمع البحرین او امضی حقبا) (الکھف : 81/06) ” میں اس وقت تک سفر کرتا رہوں گا جب تک کہ میں دونوں دریاؤں کے سنگم پر نہ پہنچ جاؤں، ورنہ میں برسوں چلتا رہوں گا۔ “ اور جیسے نبی اکرآ نے جب غزوہ تبوک کا ارادہ فرمایا تو صحابہ کرام ؓ عہنم کو اس کے بارے میں آگاہ فرما دیا تھا حالانکہ ایسے امور میں تو ریہ کرنا آپ کی عادت مبارکہ تھی۔ یہ چیز مصلحت کے تابع ہے۔ (5) اس سے ثابت ہوتا ہے کہ شر اور اس کے اسباب کو اس لحاظ سے شیطان کی طرف منسوب کرتے ہیں کہ وہ بہکاتا ہے اور شر کو مزین کرتا ہے اگرچہ خیر و شر ہر چیز اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر سے واقع ہوتی ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے خادم نے کہا : (وما انسنیہ الا الشیطن ان اذکرہ) (الکھف : 81 /36) ” شیطان نے مجھے اس کا تذکرہ کرنا بھلا دیا۔ “ (6) اناسن کے لئے جائز ہے کہ وہ اپنی طبیعت کے تقاضوں، مثلاً تھکاوٹ، بھوک اور پیاس وغیرہ کے بارے میں اطلاع دے، جبکہ اس میں صداقت ہو اور اس میں (اللہ تعالیٰ اور تقدیر پر) ناراضی کے اظہار کا کوئی پہلو نہ ہو۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا : (لقد لقینا من سفرنا ھذا نصبا) (الکھف : 81 /26) ” ہمیں اپنے اس سفر میں بہت تھکاوٹ لاحق ہوئی ہے۔ “ (7) خادم کا ذہین و فطین اور سمجھ دار ہونا پسندیدہ ہے تاکہ اناسن اپنے مطلوبہ ارادوں کی بہتر طریقے سے تکمیل کرسکے۔ (8) اناسن کا اپنے خادم کو اپنے کھانے سے اور اپنے ساتھ بٹھا کر کھلانا مستحب ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قول سے یہی ظاہر ہوتا ہے فرمایا : (اتنا غداءنا) (الکھف : 81 /26) ” لاؤ ہمارے پاس ہمارا کھانا “ یہ اضافت سب کی طرف ہے، کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے خادم نے اکٹھے کھانا کھایا۔ (9) اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ بندے پر، اللہ تعالیٰ کے احکام کو قائم کرنے کے مطابق، اللہ تعالیٰ کی مدد نازل ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی موافقت کرنے والے کی جو مدد کی جاتی ہے وہ کسی اور کی نہیں کی جاتی۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا : (لقد لقینا من سفرنا ھذا نصبا) (الکھف : 81 /26) ” اس سفر سے ہم کو بہت تکان ہوگئی۔ “ یہ دریاؤں کے سنگم سے متجاوز سفر کی طرف اشارہ ہے۔ دریاؤں کے سنگم سے ماقبل سفر کے بارے میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے تھکاوٹ کی شکایت نہیں کی، حالانکہ وہ بہت طویل سفر تھا کیونکہ یہی حقیقی سفر تھا۔ (لیکن اللہ کی مدد کی وجہ سے وہ محسوس نہیں ہوا) رہا دریاؤں کے سنگم کے بعد والا سفر تو ظاہر ہے کہ وہ سفر کا کچھ حصہ یعنی دن کا ایک حصہ تھا کیونکہ جب انہوں نے چٹان پر بیٹھ کر آرام کیا تھا وہاں مچھلی غائب ہوئی تھی، ظاہر ہے وہاں چٹان کے پاس ہی انہوں نے رات بسر کی پھر اگلی صبح سفر پر روانہ ہوئے۔ حتیٰ کہ جب صبح کے کھانے کا وقت ہوا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے خادم سے کہا : (اتنا غدآء نا) (الکھف : 81 /26) ” ہمارے لئے کھانا لاؤ۔ “ یہاں آ کر خادم کو یاد آیا کہ اسے اس مقام پر مچھلی کے غائب ہونے کے بارے میں ذکر کرنا بھول گیا جو ان کی منزل اور مقصودسفر تھا۔ (لیکن اس تھوڑے سے سفر میں انہیں تھکاوٹ ہوگئی تھی) (01) اللہ تعالیٰ کا وہ بندہ جس سے ان دونوں نے ملاقات کی تھی، نبی نہیں تھا بلکہ ایک صالح بندہ تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو عبودیت کی صفت سے موصوف کیا ہے اور یہ بھی ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو رحمت اور علم سے نوازا تھا مگر راسلت اور نبوت کا ذکر نہیں فرمایا۔ اگر جناب خضر نبی ہوتے تو اللہ تعالیٰ ان کی نبوت کا ضرور ذکر کرتا جی اس کہ دوسرے انبیاء ومرسلین کے بارے میں ذکر کیا ہے۔ جہاں تک قصے کے آخر میں ان کے اس قول (وما فعلتہ عن امری) (الکھف : 81 /28) کا تعلق ہے تو یہ ان کے نبی ہونے کی دلیل نہیں۔ یہ تو الہام اور تحدیث کی طرف اشارہ ہے۔ جیسا کہ غیر انبیا کو الہام سے نوازا جاتا ہے۔ جی اس کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (واوحینا الی ام موسیٰ ان ارضعیہ) (القصص : 82 /7) ” ہم نے موسیٰ کی ماں کی طرف الہام کیا کہ اس کو دودھ پلا۔ “ اسی طرح ارشاد ہے : (واوحی ربک الی النحل ان اتخذی من الجبال بیوتا) (النحل : 61 /86) ” آپ کے رب نے شہد کی مکھی کی طرف وحی کی کہ وہ پہاڑوں میں اپنے چھتے بنائے۔ “ (11) وہ علم جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو عطا کرتا ہے، اس کی دو اقاسم ہیں : (i علم اکتاسبی : جسے بندہ اپنی جدوجہد اور اجتہاد سے حاصل کرتا ہے۔ (ii علم لدنی : اللہ اپنے بندوں میں سے جس پر کرم نوازی کرتا ہے اسے یہ علم عطا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (وعلمنہ من لدنا علما) (الکھف : 81 /56) ” ہم نے انہیں اپنی طرف سے ایک خاص علم سے نوازا تھا۔ “ (21) ان آیات سے مستفاد ہوتا ہے کہ معلم کے ساتھ ادب کے ساتھ پیش آنا چاہیے اور متعلم کو چاہیے کہ وہ نہایت لطیف طریقے سے معلم سے مخاطب ہو۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے حضرت خضر سے اس طرح عرض کی تھی : (ھل اتبعک علی ان تعلمن مما علمت رشدا) (الکھف : 81 /66) ” کیا میں آپ کے پیچھے آسکتا ہوں تاکہ آپ مجھے وہ علم و دانش سکھائیں جو آپ کو عطا کی گئی ہے۔ “ چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) نے ملاطفت اور مشاورت کے اسلوب میں بات کی گویا عرض کی کہ کیا آپ مجھے اجازت عنایت فرمائیں گے یا نہیں اور ساتھ ہی یہ اقرار کیا کہ وہ متعلم ہیں۔ بےادب اور متکبر لوگوں کا رویہ اس کے برعکس ہوتا ہے جو معلم پر یہ ظاہر نہیں کرتے کہ وہ اس کے علم کے محتاج ہیں بلکہ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ حصول علم میں وہ ایک دوسرے کی مدد کر رہے ہیں بلکہ باس اوقات ان میں سے بعض تو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے معلم کو تعلیم دے رہے ہیں۔ ایسا شخص سخت جاہل ہے۔ معلم کے سامنے تذلل اور انکساری اور معلم کے علم کا محتاج ہونے کا اظہار متعلم کے لئے بہت فائدہ مندہ چیز ہے۔ (31) اس قصہ سے مستفادہ ہوتا ہے کہ ایک عالم اور صاحب فضیلت شخص کو بھی علم حاصل کرتے وقت تواضع اور انکساری کا اظہار کرنا چاہیے، چاہے اس کا استاذ اس سے درجے میں کمتر ہی ہو کیونکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بلاشبہ حضرت خضر (علیہ السلام) سے افضل تھے۔ (41) اس واقعے سے یہ بھی استنباط ہوتا ہے کہ عالم فاضل شخص کسی علم میں مہارت حاصل کرنے کے لئے جس میں وہ ماہر نہیں، اس شخص سے علم حاصل کرے جو اس علم میں مہارت رکھتا ہے اگرچہ وہ علم و فضل میں اس سے بدرجہا کمتر کیوں نہ ہو۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اولوالعزم رسولوں میں شمار ہوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے وہ علم عطا کیا جو دوسروں کو عطا نہیں کیا مگر یہ خاص علم جو حضرت خضر کے پاس تھا، آپ اس سے محروم تھے اس لئے اس علم کو سیکھنے کی خواہش ظاہر کی۔ بناء بریں ایک محدث وفقیہ کے لئے مناسب نہیں۔۔۔. جبکہ وہ علم صرف و نحو وغیرہ میں کم مایہ ہو۔۔۔. کہ وہ اس شخص سے یہ علم سیکھنے کی کوشش نہ کرے جو اس میں ماہر ہے اگرچہ وہ محدث اور فقیہ نہ ہو۔ (51) ان آیات کریمہ سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ علم اور دیگر فضائل کی اضافت اللہ تعالیٰ کی طرف کرنی چاہیے، اس کا اقرار کرنا چاہیے اور اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (تعلمن مماعلمت) (الکھف : 81 /66) ” آپ مجھے سکھائیں اس میں سے جو آپ کو سکھایا گیا ہے “ یعنی اس علم سے جو اللہ نے آپ کو سکھایا ہے۔ (61) علم نافع وہ علم ہے جو خیر کی طرف راہنمائی کرے، ہر وہ علم جس میں رشد و ہدایت اور خیر کے راستے کی طرف راہنمائی ہو، شر کے راستے سے ڈرایا گیا، یا ان مقاصد کے حصول کا وسیلہ ہو، وہ علم نافع ہے۔ اس کے علاوہ دیگر علوم، وہ یا تو نقصان دہ ہوتے ہیں یا ان میں کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ جیسے فرمایا : (ان تعلمن مما علمت رشدا) (الکھف : 81 /66) (71) اس واقعے سے مستفاد ہوتا ہے کہ جس شخص میں عالم اور علم کی صحبت کے لئے قوت صبر اور حسن ثبات نہیں وہ علم حاصل کرنے کا اہل نہیں۔ جو صبر سے محروم ہے وہ علم حاصل نہیں کرسکتا۔ جو شخص صبر کو کام میں لاتا اور اس کا التزام کرتا ہے وہ جس امر میں بھی کوشش کرے گا اس کو حاصل کرلے گا۔ حضرت خضر (علیہ السلام) نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے معذرت کرتے ہوئے اس مانع کا ذکر کیا تھا جو ان کے لئے حصول علم سے مانع تھا اور وہ تھا جناب خضر کی معیت میں ان کا عدم صبر۔ (81) اس قصے سے ثابت ہوا کہ حصول صبر کا سب سے بڑا سبب، اس امر میں اس کا علم و آگہی ہے جس میں صبر کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ پس وہ شخص جو اس بارے میں کچھ نہیں جانتا، نہ اس کے غرض وغایت، اس کے نتیجہ، اس کے فوائد وثمرات کا اسے علم ہے وہ صبر کے اسباب سے بےبہرہ ہے اور اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (وکیف تصبر علی ما لم تحط بہ خبرا) (الکھف : 81 /86) ” جس چیز کے بارے میں آپ کو کوئی خبر نہ ہو آپ اس بارے میں کیسے صبر کرسکتے ہیں۔ “ پس جناب خضر نے اس چیز کے بارے میں عدم علم کو بےصبری کا سبب قرار دیا۔ (91) اس قصے سے مستنبط ہوتا ہے کہ جب تک کسی چیز کے مقصد اور اس بات کی معرفت حاصل نہ ہوجائے کہ اس سے کیا مراد ہے تو اس وقت تک اس پر خوب غور و فکر کیا جائے اور اس پر حکم لگانے میں جلدی نہ کی جائے۔ (02) اس قصے سے مستفاد ہوتا ہے کہ مستقبل میں واقع ہونے والے بندوں کے افعال کو مشیت الٰہی سے معلق کیا جائے۔ جب بندہ کسی چیز کے بارے میں کہے کہ وہ مستقبل میں یہ کرے گا تو اس کے ساتھ انشاء اللہ ” اگر اللہ نے چاہا “ ضرور کہے (12) کسی چیز کے فعل کا عزم، اس فعل کے قائم مقام نہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا تھا : (ستجدنی انشاء اللہ صابرا) (الکھف : 81 /96) ” اگر اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صابر پائیں گے۔ “ پس انہوں نے اپنے نفس کو صبر پر مجبور کیا مگر صبر نہ کرسکے۔ (22) ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اگر معلم اس امر میں مصلحت سمجھتا ہو کہ متعلم بعض چیزوں کے متعلق سوال میں ابتدا نہ کرے جب تک کہ معلم خود اسے ان چیزوں سے واقف نہ کرائے۔۔۔. تو مصلحت ہی کی پیروی جائے، مثلاً : اگر معلم سمجھے کہ متعلم کم فہم ہے یا معلم متعلم کو زیادہ باریک سوال کرنے سے روک دے جبکہ اس کے علاوہ دیگر امور زیادہ اہم ہوں یا متعلم کا ذہن اس کا ادراک نہ کرسکتا ہو یا وہ کوئی ایسا سوال کرے جو زیر بحث موضوع سے متعلق نہ ہو۔ (32) اس سے مستفاد ہوتا ہے کہ ایسی حالت میں سمندر میں سفر کرنا جائز ہے جبکہ خوف نہ ہو۔ (42) اس سے یہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ بھول جانے والے شخص کا اس کے نسیان کی بنا پر حقوق اللہ اور حقوق العباد میں کوئی مواخذہ نہیں اور اس کی دلیل موسیٰ (علیہ السلام) کا یہ قول ہے : (لاتوٓا خذنی بما نسیت) (الکھف : 81 /37) ” میری بھول پر مجھے نہ پکڑیئے۔ “ (52) اناسن کو چاہیے کہ وہ لوگوں کے اخلاق اور معاملات میں عفو سے کام لے۔ ان کے ساتھ رویہ نرم رکھے ان کو ایسے امور کا مکلف نہ کرے جن کی وہ طاقت نہ رکھتے ہوں، یا ان پر شاق گزرتے ہوں یا ایسا کرنا ان پر ظلم کا باعث ہو کیونکہ یہ چیز نفرت اور اکتاہٹ کا باعث بنتی ہے بلکہ وہ طریقہ اختیار کرے جو آسان ہو تاکہ اس کا کام آسان ہوجائے۔ (62) تمام معاملات میں ان کے ظاہر پر حکم لگایا جاتا ہے، مال اور خون وغیرہ کے دنیاوی معاملات میں ان کے ظاہر کے مطابق فیصلہ کیا جاتا ہے، اس لئے کہ جناب موسیٰ (علیہ السلام) نے خضر (علیہ السلام) کے کشتی میں سوراخ کرنے اور بچے کے قتل کرنے پر نکیر فرمائی کیونکہ یہ دونوں ایسے امور ہیں جو بظاہر منکر ہیں۔ جناب خضر کی مصاحبت کے علاوہ کوئی اور صورت حال ہوتی تو موسیٰ (علیہ السلام) خاموش نہ رہ سکتے تھے۔ اس لئے آنجناب نے اس پر عام معاملات کے مطابق حکم لگانے میں جلدی کی اور اس عارض کی طرف التفات نہ کیا جو آپ پر صبر اور انکار میں عدم عجلت کو واجب کرتا ہے۔ (72) اس قصے سے ایک نہایت جلیل القدر قاعدہ مستنبط ہوتا ہے اور وہ یہ ہے کہ ” چھوٹی برائی کے ارتکاب کے ذریعے سے بڑی برائی کا سدباب کیا جائے “ اور چھوٹی مصلحت کو ضائع کر کے بڑی مصلحت کی رعایت رکھی جائے۔ معصوم بچے کا قتل یقیناً بہت بڑی برائی ہے مگر اس کے زندہ رہنے سے ماں باپ کا دین کے بارے میں فتنہ میں مبتلا ہونا اس سے زیادہ بڑی برائی ہے، بچے کا قتل نہ ہونا اور اس کا باقی رہنا اگرچہ بظاہر نیکی ہے مگر اس کے والدین کے دین و ایمان کا باقی رہنا زیادہ بڑی نیکی ہے اسی وجہ سے خضرعلیہ السلام نے اس بچے کو قتل کیا تھا۔ اس قاعدے کے بہت سے فوائد اور بہت سی فروع ہیں جن کو شمار نہیں کیا جاسکتا۔ پس تمام مصالح اور مفاسد جو ایک دوسرے سے متصادم ہوتے ہیں سب اسی زمرے میں آتے ہیں۔ (82) اس واقعے سے ایک اور جلیل القدر قاعدہ مستفاد ہوتا ہے اور وہ یہ کہ ” کسی شخص کے مال میں کسی دوسرے شخص کا ایسا عمل جو کسی مصلحت یا ازالہ مفسدہ کی خاطر ہو وہ جائز ہے، خواہ وہ بغیر اجازت ہی کیوں نہ ہو، خواہ اس سے کسی کے مال میں کچھ اتلاف ہی کیوں نہ واقع ہو۔ “ جیسے جناب خضر (علیہ السلام) نے کشتی میں سوراخ کر کے اس میں عیب ڈال دیا تھا اور اس طرح وہ اس ظالم بادشاہ کے ہاتھوں غصب ہونے سے بچ گئی۔ اسی طرح کسی شخص کے گھر یا مال کے ڈوبنے یا آگ لگنے کی صورت میں اگر کچھ مال کو تلف کر کے باقی مال یا گھر کے کچھ حصہ کو منہدم کر کے باقی گھر کو بچایا جاسکتا ہو تو ایسا کرنا جائز ہے بلکہ دوسرے کے مال کو بچانے کے لئے ایسا کرنا مشروع ہے۔ اسی طرح اگر کوئی ظالم شخص کسی دوسرے کے مال کو غصب کرنا چاہتا ہے، کوئی دوسرا شخص جو مال کا مالک نہیں، اصل مالک کی اجازت کے بغیر، مال کا کچھ حصہ ظالم اور غاصب شخص کو دے کر باقی مال کو بچا لے تو ایسا کرنا جائز ہے۔ (92) اس سے ثابت ہوتا ہے کہ سمندر میں کام کرنا اسی طرح جائز ہے جس طرح خشکی میں۔ ارشاد فرمایا : (یعملون فی البحر) (الکھف : 81 /97) اور یہ فرمانے کے بعد ان کے عمل پر نکیر نہیں فرمائی۔ (03) کبھی کبھی یہ بھی ہوتا ہے کہ مسکین کچھ مال رکھتا ہے مگر وہ اس کے لئے کافی نہیں ہوتا اس لئے وہ ” مسکین “ کے نام کے اطلاق سے خارج نہیں ہوتا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ ان ماسکین کے پاس ایک کشتی تھی۔ (13) اس واقعے سے مستفاد ہوتا ہے کہ قتل بہت بڑا گناہ ہے۔ اس بچے کے قتل کے بارے میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا : (لقد جئت شیئا نکرا) (الکھف : 81 /47) ” آپ نے ایک بہت برا کام کیا۔ “ (23) اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ قصاص کے طور پر قتل کرنا برائی نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (بغیر نفس) الکھف : 81 /47) (33) ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی جان اور اولاد کی حفاظت کرتا ہے۔ (43) ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ صالحین یا ان کے متعلقین کی خدمت کرنا کسی اور کی خدمت کرنے سے افضل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان یتیموں کے مدفون خزانہ کو باہر نکالنے اور پھر ان کی دیوار تعمیر کردینے میں یہ علت بیان فرمائی ہے کہ ان کا باپ ایک صالح شخص تھا۔ (53) اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں الفاظ استعمال کرتے وقت ادب کو ملحوظ رکھنا چاہیے، چناچہ جناب خضر (علیہ السلام) نے کشتی کو عیب دار کرنے کے فعل کی اضافت اپنی طرف کی : (فاردت ان اعیبھا) الکھف : 81 /97) ” میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کردوں “ اور خیر کی اضافت اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف کی۔ فرمایا : (فاراد ربک ان یبلغا اشدھما و یستخرجا کنزھما رحآ من ربک) الکھف : 81 /28) اور جی اس کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا : (واذا مرضت فھو یشفین) (الشعراء : 62 /08) ” جب میں بیمار پڑجاتا ہوں تو وہی مجھے شفا عطا کرتا ہے۔ “ اور جنات نے کہا تھا : (وانا لا نذری اشر ارید بمن فی الارض ام اراد بھم ربھم رشدا) (الجن : 27 /01) ” اور ہم نہیں جانتے کہ زمین پر رہنے والوں کے لئے کوئی برا ارادہ کیا گیا ہے یا ان کے بارے میں ان کے رب نے اچھا ارادہ کیا ہے۔ “ حالانکہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی قضاء و تقدیر سے ہوتا ہے۔ (63) کسی شخص کے لئے مناسب نہیں کہ وہ کسی بھی حال میں اپنے ساتھی سے علیحدہ ہوجائے اور اس کی صحبت کو ترک کر دے جب تک کہ اس کی سرزنش نہ کرے اور اس کا عذر نہ سن لے جی اس کہ خضر (علیہ السلام) نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ کیا تھا۔ (73) ان امور میں جو ناجائز نہیں، ایک ساتھی کی دوسرے ساتھی سے موافقت کرنا مطلوب اور دوستی کی بقا کا سبب ہے۔ اسی طرح عدم موافقت رشتہٓ دوستی کے منقطع ہونے کا سبب ہے۔
Ayahs 18:83–88

وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنْ ذِی الْقَرْنَیْنِ١ؕ قُلْ سَاَتْلُوْا عَلَیْكُمْ مِّنْهُ ذِكْرًاؕ Open ayah 18:83 in the Quran reader

اور تم سے ذوالقرنین کے بارے میں دریافت کرتے ہیں کہہ دو کہ میں اس کا کسی قدر حال تمہیں پڑھ کر سناتا ہوں

اِنَّا مَكَّنَّا لَهٗ فِی الْاَرْضِ وَ اٰتَیْنٰهُ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ سَبَبًاۙ Open ayah 18:84 in the Quran reader

ہم نے اس کو زمین میں بڑی دسترس دی تھی اور ہر طرح کا سامان عطا کیا تھا

فَاَتْبَعَ سَبَبًا Open ayah 18:85 in the Quran reader

تو اس نے سفر کا ایک سامان کیا

حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ مَغْرِبَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا تَغْرُبُ فِیْ عَیْنٍ حَمِئَةٍ وَّ وَجَدَ عِنْدَهَا قَوْمًا١ؕ۬ قُلْنَا یٰذَا الْقَرْنَیْنِ اِمَّاۤ اَنْ تُعَذِّبَ وَ اِمَّاۤ اَنْ تَتَّخِذَ فِیْهِمْ حُسْنًا Open ayah 18:86 in the Quran reader

یہاں تک کہ وہ سورج کے غروب ہونے کی جگہ پہنچے تو اسے ایسا پایا کہ ایک کیچڑ کی ندی میں ڈدوب رہا ہے اور اس (ندی) کے پاس ایک قوم دیکھی ہم نے کہا ذوالقرنین ! تم کو ان کو خواہ تکلیف دو خواہ ان (کے بارے) میں بھلائی اختیار کرو (دونوں باتوں) کی تم کو قدرت ہے

قَالَ اَمَّا مَنْ ظَلَمَ فَسَوْفَ نُعَذِّبُهٗ ثُمَّ یُرَدُّ اِلٰى رَبِّهٖ فَیُعَذِّبُهٗ عَذَابًا نُّكْرًا Open ayah 18:87 in the Quran reader

(ذوالقرنین) نے کہا کہ جو (کفر و بدکاری سے) ظلم کرے گا اسے ہم عذاب دیں گے پھر (جب) وہ اپنے پروردگار کی طرف لوٹایا جائے گا تو وہ بھی اسے برا عذاب دے گا

وَ اَمَّا مَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَهٗ جَزَآءَ اِ۟لْحُسْنٰى١ۚ وَ سَنَقُوْلُ لَهٗ مِنْ اَمْرِنَا یُسْرًاؕ Open ayah 18:88 in the Quran reader

اور جو ایمان لائے گا اور عمل نیک کرے گا اس کے لیے بہت اچھا بدلہ ہے اور ہم اپنے معاملے میں (اس پر کسی طرح کی سختی نہیں کریں گے بلکہ) اس سے نرم بات کہیں گے

آیت 83 اہل کتاب تھے یا مشرکین انہوں نے رسول اللہٓ نے ذوالقرنین کے بارے میں سوال کیا تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ آپ ان سے کہیں : (استلوا علیکم منہ ذکرا) ” میں پڑھتا ہوں تم پر اس کا کچھ حال “ جس میں نہایت مفید مگر تعجب خیز خبر ہے۔ یعنی میں تمہیں ذوالقرنین کے صرف وہی احوال سناؤں گا جن میں نصیحت اور عبرت ہے۔ ان کے علاوہ دیگر احوال، تو وہ ان کو نہیں سنائے گئے۔ (انا مکنا لہ فی الارض) ” ہم نے اس کو قوت عطا کی تھی زمین میں “ یعنی اللہ تعالیٰ نے اسے بادشاہی سے نوازا اور زمین کیگوشوں پر اس کے حکم کو نافذ کیا اور لوگوں کو اس کا مطیع بنایا۔ (واتینہ من کل شیء سببا۔ فاتبع سببا) ” اور دیا ہم نے اس کو ہر چیز کا اسمان پھر پیچھے پڑا وہ ایک اسمان کے “ یعنی اللہ تعالیٰ نے اسے وہ تمام اسباب مہیا کئے جن کے ذریعے سے وہ ہر اس جگہ پہنچا جہاں وہ پہنچنا چاہتا تھا، جن کے ذریعے سے اس نے شہروں پر غلبہ حاصل کیا اور نہایت سہولت کے ساتھ دور دراز علاقوں تک پہنچ گیا۔ اس نے وہ تمام اسباب جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کئے تھے بہتر طریقے سے استعمال کئے۔ پس ہر شخص کو اسباب مہیا نہیں ہوتے اور نہ ہر شخص اسباب مہیا کرنے کی قدرت ہی رکھتا ہے۔ پس جب سبب حقیقی اور اس کو عمل میں لانے کی قدرت یکجا ہوجائے تو مقصد حاصل ہوجاتا ہے اور اگر دونوں یا کوئی ایک معدوم ہو تو مقصد حاصل نہیں ہوتا۔ اور وہ اسباب جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کئے تھے، ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں آگاہ فرمایا نہ اس کے رسول ٓ نے اور نہ اس بارے میں کوئی ایسی اخبار منقول ہیں جو افادہ علم کی موجب ہوں، اس لئے اس بارے میں سکوت اور ان اسرائیلیات کی طرف عدم التفات کے سوا کوئی چارہ نہیں جن کو ناقلین روایت کرتے ہیں۔ مگر ہم اجمالی طور پر یہ ضرور جانتے ہیں کہ داخلی اور خارجی طور پر یہ اسباب نہایت قوی تھے جن کی بنا پر اس کے پاس ایک عظیم فوج تیار ہوگئی تھی جو اپنی عددی قوت، اسمان حرب اور نظم کے اعتبار سے ایک بہت بڑی فوج تھی۔ اس فوج کی مدد سے اس نے اپنے دشمنوں پر غلبہ حاصل کیا اور زمین کے مشرق و مغرب اور اس کے دور دراز گوشوں تک پہنچنے کی سہولت حاصل ہوئی۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے وہ اسباب عطا کئے جن کے ذریعے سے وہ غروب آفتاب کی حد تک پہنچ گیا جہاں اس نے چشمے میں سورج کا عکس دیکھا گویا کہ وہ گدلے یعنی سیاہ پانی میں ڈوب رہا تھا۔ یہ منظر اس شخص کے لئے عام ہے، جس کے اور مغربی افق کے درمیان پانی ہو۔ اسے ایسے نظر آئے گا گویا سورج پانی کے اندر غروب ہو رہا ہے۔ اگرچہ وہ بہت بلندی پر ہو۔ اور مغرب کی سمت میں ذوالقرنین کو ایک قوم ملی۔ (قلنا یذا القرنین اما ان تعذب و اما ان تتخذ فیھم حسنا) ” ہم نے کہا : اے ذوالقرنین ! یا تو لوگوں کو تکلیف دے یا ان میں (اپنی بابت) خوبی رکھ “ یعنی خواہ تو ان کو قتل و ضرب یا قیدی بنا کر عذاب میں مبتلا کر یا ان پر احسان کر۔ ذوالقرنین کو ان دو امور میں سے ایک کو منتخب کرنے کا اختیار دیا گیا تھا کیونکہ ظاہر ہے کہ وہ کفار یا فاسق کی قوم تھی یا ان میں کچھ کفر اور فسق موجود تھا کیونکہ اگر وہ غیر فاسق مومن ہوتے تو ان کو عذاب دینے کی اجازت نہ دی جاتی۔ پس ذوالقرنین کو سیاست شرعیہ کا کچھ حصہ ملا تھا، جس کے ذریعے سے اس نے اللہ کی توفیق سے ایسے کام کئے جن پر وہ مدح و ستائش کا مستحق ٹھہرا، چناچہ اس نے کہا : ان کو دو قسموں میں تقسیم کر دوں گا۔ (اما من ظلم) ” جس نے ظلم کیا “ یعنی کفر کیا۔ (فسوف نعذبہ ثم یرد الی ربہ فیعذبہ عذابا نکرا) ” سو ہم اس کو سزا دیں گے، پھر لوٹ جائے گا وہ رب کے پاس، پس وہ عذاب دے گا اس کو برا عذاب “ یعنی اسے دو سزائیں ملیں گی، ایک سزا اس دنیا میں اور ایک سزا آخرت میں۔ (واما من امن و عمل صالحا فلہ جزآء الحسنی) ” اور جو کوئی ایمان لایا اور کیا اس نے بھلا کام، سو اس کا بدلہ بھلائی ہے۔ “ یعنی اس کو جزا کے طور پر قیامت کے دن جنت عطا ہوگی اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اچھے احوال سے نوازا جائے گا۔ (وسنقول لہ من امرنا یسرا) ” اور ہم حکم دیں گے اس کو اپنے کام میں آسانی کا “ یعنی ہم اس سے اچھا سلوک کریں گے، ہم اس سے نرم بات اور آسان معاملہ کریں گے۔ یہ بات اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ ذوالقرنین نیک بادشاہوں، اولیائے صالحین اور عدل کرنے والوں میں سے تھا کیونکہ اس نے اللہ تعالیٰ کی رضا کی موافقت کرتے ہوئے ہر شخص کے ساتھ وہی معاملہ کیا جس کے وہ لائق تھا۔
Ayahs 18:89–98

ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا Open ayah 18:89 in the Quran reader

پھر اس نے ایک اور سامان سفر کا کیا

حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ مَطْلِعَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا تَطْلُعُ عَلٰى قَوْمٍ لَّمْ نَجْعَلْ لَّهُمْ مِّنْ دُوْنِهَا سِتْرًاۙ Open ayah 18:90 in the Quran reader

یہاں تک کہ سورج کے طلوع ہونے کے مقام پر پہنچا تو دیکھا کہ وہ ایسے لوگوں پر طلوع کرتا ہے جن کے لئے سورج کے اس طرف کوئی اوٹ نہیں بنائی تھی

كَذٰلِكَ١ؕ وَ قَدْ اَحَطْنَا بِمَا لَدَیْهِ خُبْرًا Open ayah 18:91 in the Quran reader

حقیقت الحال یوں (تھی) اور جو کچھ اس کے پاس تھا ہم کو اس کی خبر تھی

ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا Open ayah 18:92 in the Quran reader

پھر اس نے ایک اور سامان کیا

حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ بَیْنَ السَّدَّیْنِ وَجَدَ مِنْ دُوْنِهِمَا قَوْمًا١ۙ لَّا یَكَادُوْنَ یَفْقَهُوْنَ قَوْلًا Open ayah 18:93 in the Quran reader

یہاں تک کہ دو دیواروں کے درمیاں پہنچا تو دیکھا کہ ان کے اس طرف کچھ لوگ ہیں کہ بات کو سمجھ نہیں سکتے

قَالُوْا یٰذَا الْقَرْنَیْنِ اِنَّ یَاْجُوْجَ وَ مَاْجُوْجَ مُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ فَهَلْ نَجْعَلُ لَكَ خَرْجًا عَلٰۤى اَنْ تَجْعَلَ بَیْنَنَا وَ بَیْنَهُمْ سَدًّا Open ayah 18:94 in the Quran reader

ان لوگوں نے کہا کہ ذوالقرنین ! یاجوج اور ماجوج زمین میں فساد کرتے رہتے ہیں بھلا ہم آپ کے لئے خرچ (کا انتظام) کردیں کہ آپ ہمارے اور ان کے دریمان ایک دیوار کھینچ دیں ؟

قَالَ مَا مَكَّنِّیْ فِیْهِ رَبِّیْ خَیْرٌ فَاَعِیْنُوْنِیْ بِقُوَّةٍ اَجْعَلْ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ رَدْمًاۙ Open ayah 18:95 in the Quran reader

(ذوالقرنین نے) کہا کہ خرچ کا جو مقدور خدا نے مجھے بخشا ہے وہ بہت اچھا ہے تم مجھے قوت (بازو) سے مدد دو میں تمہارے اور ان کے درمیان ایک مضبوط اوٹ بنادوں گا

اٰتُوْنِیْ زُبَرَ الْحَدِیْدِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا سَاوٰى بَیْنَ الصَّدَفَیْنِ قَالَ انْفُخُوْا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَعَلَهٗ نَارًا١ۙ قَالَ اٰتُوْنِیْۤ اُفْرِغْ عَلَیْهِ قِطْرًاؕ Open ayah 18:96 in the Quran reader

تو تم لوہے کے (بڑے بڑے) تختے لاؤ (چنانچہ کام جاری کردیا گیا) یہاں تک کہ جب اس نے دونوں پہاڑوں کے درمیان (کا حصہ) برابر کردیا اور کہا کہ (اب اسے) دھونکو یہاں تک کہ جب اسکو (دھونک دھونک کر) آگ کردیا گیا تو کہا کہ (اب) میرے پاس (تانبا) لاؤ کہ میں اس پر پگھلا کر ڈال دوں

فَمَا اسْطَاعُوْۤا اَنْ یَّظْهَرُوْهُ وَ مَا اسْتَطَاعُوْا لَهٗ نَقْبًا Open ayah 18:97 in the Quran reader

پھر ان میں یہ قدرت نہ رہی کہ اس پر چڑھ سکیں اور نہ یہ طاقت رہی کہ اس میں نقب لگا سکیں

قَالَ هٰذَا رَحْمَةٌ مِّنْ رَّبِّیْ١ۚ فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ رَبِّیْ جَعَلَهٗ دَكَّآءَ١ۚ وَ كَانَ وَعْدُ رَبِّیْ حَقًّاؕ Open ayah 18:98 in the Quran reader

بولا کہ یہ میرے پروردگار کی مہربانی ہے جب میرے پروردگار کا وعدہ آپہنچے گا تو اس کو (ڈھا کر) ہموار کر دے گا اور میرے پروردگار کا وعدہ سچا ہے

آیت 89 یعنی جب وہ غروب آفتاب کی حدود تک پہنچ گیا تو واپس لوٹا اور ان اسباب کے ذریعے سے جو اللہ نے اسے عطا کر رکھے تھے طلوع آفتاب کی حدود کا قصد کیا پس وہ طلوع آفتاب کی حدود میں پہنچ گیا تو (وجدھا تطلع علی قوم لم نجعل لھم من دونھا سترا) ” پایا سورج کو کہ وہ ایسی قوم پر نکلتا ہے کہ نہیں بنایا ہم نے ان کے لئے آفتاب کے ورے کوئی پردہ “ یعنی اس نے دیکھا کہ سورج ایسی قوم پر طلوع ہو رہا ہے کہ جس کے پاس دھوپ سے بچنے کے لئے کوئی اسمان نہ تھا یا تو اس بنا پر کہ وہ بنانے کی استعداد نہ رکھتے تھے اور اس کا سبب یہ تھا کہ وہ یکسر وحشی اور غیر متمدن تھے۔۔۔. یا اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کے پاس سورج غروب نہیں ہوتا تھا ہمیشہ نظر آتا رہتا تھا۔ جی اس کہ جنوبی افریقہ کے مشرقی حصوں میں ہوتا ہے۔ ذوالقرنین اس مقام پر پہنچ گیا جہاں کسی اناسن کا اپنے ظاہری بدن کے ساتھ پہنچنا تو کجا اناسن کو ان علاقوں کے بارے میں علم تک نہ تھا۔۔۔. بایں ہمہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی تقدیر اور اس کے علم کے مطابق تھا۔ اس لئے فرمایا : (کذلک وقد احطنا بما لدیہ خبرا) ” یونہی ہے اور تحقیق ہم نے گھیر لیا تھا اس کے پاس کی تمام خبروں کو “ یعنی ذوالقرنین کے پاس جو بھلائی اور عظیم اسباب تھے اور جہاں کہیں وہ جاتا تھا سب اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا۔ (ثم اتبع سببا۔ حتی اذا بلغ بین السدین) ” پھر لگا وہ ایک اسمان کے پیچھے، یہاں تک کہ جب پہنچا وہ دو پہاڑوں کے درمیان “ اصحاب تفسیر کہتے ہیں کہ وہ مشرق سے شمال کی طرف روانہ ہوا اور وہ دو پہاڑوں کے درمیان پہنچا اور یہ دونوں اس زمانے میں معروف تھے۔ یہ دائیں بائیں دو بندوں کی مانند دو پہاڑی سلسلے تھے اور دونوں پہاڑ یاجوج و ماجوج اور لوگوں کے درمیان رکاوٹ تھے۔ ذوالقرنین کو ان پہاڑی سلسلوں کے اس طرف ایک ایسی قوم ملی جو اپنی اجنبی زبان اور اذہان و قلوب میں ابہام ہونے کی وجہ سے کوئی بات سمجھنے سے قاصر تھی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذوالقرنین کو ایسے علمی اسباب مہیا کر رکھے تھے جن کی بنا پر وہ اس اجنبی قوم کی زبان سمجھ سکتا تھا، ان سے بات چیت کرسکتا تھا اور وہ اس سے بات کرسکتے تھے۔ پس ان لوگوں نے اس کے سامنے یاجوج و ماجوج کی مار دھاڑ کی شکایت کی۔ یاجوج و ماجوج آدم (علیہ السلام) کی نسل سے دو بہت بڑے گروہ تھے۔۔۔. ان لوگوں نے ذوالقرنین کے پاس شکایت کرتے ہوئے کہا : (ان یاجوج و ماجوج مفسدون فی الارض) ” یاجوج و ماجوج زمین میں فاسد مچاتے ہیں “ یعنی قتل و غارت اور لوٹ مار کے ذریعے سے زمین میں فاسد برپا کرتے ہیں۔ (فھل نجعل لک خرجا) ” پس (تو کہے) تو ہم مقرر کردیں تیرے واسطے کچھ محصول “ یعنی خراج (علی ان تجعل بیننا و بینھم سدا) ” اس شرط پر کہ تو بنا دے ہمارے اور ان کے درمیان ایک بند “ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ وہ بند بنانے کی خود قرت نہ رکھتے تھے اور انہیں علم تھا کہ ذوالقرنین یہ دیوار تعمیر کروا سکتا ہے۔ پس انہوں نے ذوالقرنین کو اجرت ادا کرنے کی پیشکش کی تاکہ وہ ان کے لئے دیوار تعمیر کروا دے اور انہوں نے ذوالقرنین کو وہ سبب بھی بتایا جو دیوار تعمیر کرنے کا داعی تھا۔۔۔. اور وہ تھا یاجوج ماجوج کا ان کے علاقے میں مار دھاڑ کرنا اور فاسد پھیلانا۔ ذوالقرنین لالچی تھا نہ دنیا کی اسے کوئی رغبت تھی اور نہ وہ رعایا کی اصلاح احوال کے لئے کوشش ترک کرنیوالا تھا بلکہ اس کا مقصد تو محض اصلاح تھا، اس لئے اس نے ان کا مطالبہ مان لیا کیونکہ اس میں مصلحت تھی اور ان سے دیوار تعمیر کروانے کی اجرت نہ لی، اس نے بس اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کیا جس نے اسے دیوار بنانے کی طاقت اور قدرت عطا کی چناچہ ذوالقرنین نے ان سے کہا : (ما مکنی فیہ ربی خیر) ” مجھے میرے رب نے جو قوت عطا کی ہے، وہ بہتر ہے “ یعنی جو بھلائی مجھے اللہ تعالیٰ نے عطا کی ہے وہ اس سے بہتر ہی جو تم مجھے عطا کرنا چاہتے ہو۔ البتہ میں چاہتا ہوں کہ تم افرادی قوت اور اپنے ہاتھوں کے ذریعے سے میری مدد کرو۔ (اجعل بینکم و بینھم ردما) ” میں بنا دیتا ہوں تمہارے اور ان کے درمیان ایک موٹی دیوار “ یعنی میں ایسی رکاوٹ تعمیر کئے دیتا ہوں جسے وہ عبور کر کے تم پر حملہ آور نہیں ہوسکیں گے۔ (اتونی زبر الحدید) ” لا دو تم مجھے لوہے کے تختے “ یعنی لوہے کے ٹکڑے۔ پس انہوں نے لوہے کے بڑے بڑے ٹکڑے لا دیئے۔ (حتی اذا اسوی بین الصدفین) ” حتی کہ جب اس نے دونوں کناروں تک برابر کردیا “ یعنی جب دیوار ان دو پہاڑوں کے برابر ہوگئی جن کے درمیان یہ دیوار بنائی گئی تھی۔ (قال انفخوا) ” کہا دھنکو “ یعنی بہت بڑا الاؤ جلاؤ اس کے لئے بڑی بڑی دھونکنی استعمال کرو تاکہ آگ کی تپش بہت شدید ہوجائے اور تانبا اچھی طرح پگھل جائے۔ جب تانبا پگھل گیا جس کو وہ فولاد کے تختوں کے درمیان ڈالنا چاہتا تھا تو (قال اتونی افرغ علیہ قطرا) ” کہا لاؤ میرے پاس کہ ڈالوں اس پر پگھلا ہوا تانبا۔ “ پس اس نے پگھلا ہوا تانبا دیوار پر ڈالا جس سے دیوار بےپناہ مضبوط ہوگئی اور یوں دیوار سے ادھر رہنے والے لوگ یا جوج اور ماجوج کی تباہ کاریوں سے محفوظ ہوگئے۔ (فما اسطاعوا ان یظھروہ وما استطاعوا لہ نقبا) یعنی وہ اس دیوار پر چڑھنے کی قدرت نہیں رکھتے تھے کیونکہ یہ بہت بلند تھی اور نہ اس میں نقب لگا سکتے تھے کیونکہ یہ بےحد مضبوط تھی۔ جب وہ اس اچھے اور جلیل القدر کام سے فارغ ہوا تو اس نے اس نعمت کی اضافت نعمت عطا کرنے والے کی طرف کی۔ اس نے کہا : (ھٰذا رحآ من ربی) ” یہ ایک مہربانی ہے میرے رب کی “ یعنی یہ مجھ پر اللہ تعالیٰ کا فضل اور احاسن ہے۔ اور یہ صالح خلفاء کا حال ہے، جب اللہ تعالیٰ انہیں جلیل القدر نعمتوں سے نوازتا ہے تو ان کے شکر، اللہ تعالیٰ کی نعمت کے اقرار اور اعتراف میں اضافہ ہوجاتا ہے جی اس کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے۔۔۔. جب اتنی دور سے ملکہٓ سبا کا تخت ان کی خدمت میں حاضر کیا گیا تھا۔۔۔. اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اقرار کرتے ہوئے کہا تھا : (ھذا من فضل ربی لیبلونیء اشکر ام اکفر) (النمل : 72 /04) ” یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ آیا میں شکر کرتا ہوں یا کفران نعمت کا مرتکب ہوتا ہوں۔ “ اس کے برعکس جابر، متکبر اور زمین پر عام غالب لوگوں کو بڑی بڑی نعمتیں اور زیادہ متکبر اور مغرور بنا دیتی ہیں، جی اس کہ قارون نے، جس کو اللہ تعالیٰ نے اتنے بڑے خزانے عطا کئے تھے کہ ان کی کنجیاں ایک طاقتور جماعت اٹھاتی تھی، کہا تھا : (انما اوتیتہ علی علم عندی) (القصص : 82 /87) ” یہ دولت مجھے اس علم کی بنا پر دی گئی ہے جو مجھے حاصل ہے۔ “ (فاذا جاء وعد ربی) ” پس جب میرے رب کا وعدہ آجائے گا “ یعنی یاجوج و ماجوج کے خروج کا وعدہ (جعلہ دکاء) ” اس کو برابر کر دے گا۔ “ یعنی اس مضبوط اور مستحکم دیوار کو گرا کر منہدم کردے گا اور وہ زمین کے ساتھ برابر ہوجائے گی۔ (وکان وعد ربی حقا) ” اور میرے رب کا وعدہ سچا ہے۔ “
Ayahs 18:99–101

وَ تَرَكْنَا بَعْضَهُمْ یَوْمَئِذٍ یَّمُوْجُ فِیْ بَعْضٍ وَّ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَجَمَعْنٰهُمْ جَمْعًاۙ Open ayah 18:99 in the Quran reader

(اس روز) ہم ان کو چھوڑ دیں گے کہ (روئے زمین پر پھیل کر) ایک دوسرے میں گھس جائیں گے اور صور پھونکا جائے گا تو ہم سب کو جمع کرلیں گے

وَّ عَرَضْنَا جَهَنَّمَ یَوْمَئِذٍ لِّلْكٰفِرِیْنَ عَرْضَاۙ Open ayah 18:100 in the Quran reader

اور اس روز جہنم کو کافروں کے سامنے لائیں گے

اِ۟لَّذِیْنَ كَانَتْ اَعْیُنُهُمْ فِیْ غِطَآءٍ عَنْ ذِكْرِیْ وَ كَانُوْا لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَمْعًا۠ Open ayah 18:101 in the Quran reader

جن کی آنکھیں میری یاد سے پردے میں تھیں اور وہ سننے کی طاقت نہیں رکھتے تھے

آیت 99 (وترکنا بعضھم یومئذ یموج فی بعض) ” اور چھوڑ دیں گے ہم ان کے بعض کو اس دن ایک دوسرے میں گھستے “ اس میں یہ احتمال ہے کہ ضمیر یاجوج و ماجوج کی طرف لوٹتی ہو۔ جب وہ اپنے علاقوں سے نکل کر لوگوں پر حملہ آور ہوں گے تو اپنی کثرت اور تمام زمین پر پھیل جانے اور اس کو بھر دینے کی وجہ سے سمندر کی موجوں کی مانند ایک دوسرے سے گتھم ہوں گے۔ جی اس کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (حتی اذا فتحت یا جوج و ماجوج وھم من کل حدب ینسلون) (الانبیاء : 12 /69) ” یہاں تک کہ یا جوج و ماجوج کو کھول دیا جائے گا اور وہ بلند جگہ سے اتر پڑیں گے۔ “ اور یہ احتمال بھی ہے کہ ضمیر خلائق کی طرف لوٹتی ہو یہ کہ لوگ قیامت کے روز اکٹھے ہوں گے وہ بہت زیادہ ہوں گے اور اضطراب، ہول اور زلزلوں کی وجہ سے ایک دوسرے کو دھکم پیل کر رہے ہوں گے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ : (ونفخ فی الصور فجمعنھم جمعا۔ و عرضنا جھنم یومئذ للکفرین عرضا۔ الذین کانت اعینھم فی غطاء عن ذکری وکانوا لا یستطیعون سمعا) یعنی جب اسرافیل (علیہ السلام) صورپ ھونکیں گے تو اللہ تعالیٰ تمام ارواح کو جسموں میں واپس لوٹا دے گا۔ پھر تمام اولین و آخرین، کفار اور مومنین کو اکٹھا کر کے میدان قیامت میں جمع کرے گا، تاکہ ان سے ان کے اعمال کے بارے میں پوچھا جائے، ان کا محاسبہ کیا جائے اور ان کے اعمال کی جزا دی جائے پس کفار کو، ان کے کفر کے مطابق، جہنم میں ڈالا جائے گا جہاں وہ ابدا الآباد تک رہیں گے۔ اسی لئے فرمایا : (وعرضنا جھنم یومئذ للکفرین عرضا) ” اور دکھلا دیں گے ہم جہنم اس دن کافروں کو اسمنے “ جی اس کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وبرزت الجحیم للغوین) (العشراء : 62 /19) ” اور دوزخ گمراہوں کے سامنے لایا جائے گا۔ “ یعنی کفار کے سامنے پیش کیا جائے گا تاکہ یہ ان کا ٹھکانہ بنے اور تاکہ کفار جہنم کی بیڑیوں اس کی بھڑکتی ہوئی آگ، اس کے ابلتے ہوئے پانی اور اس کی ناقابل برداشت سردی سے متمتع ہوں اور اس کے عذاب کا مزا چکھیں جس سے دل گونگے اور کان بہرے ہوجائیں گے یہ ان کے اعمال کا نتیجہ اور ان کے افعال کی جزا ہے۔ یہ لوگ دنیا میں اس حال میں تھے : (الذین کانت اعینھم فی غطاء عن ذکری) ” ان کی آنکھوں پر پردہ پڑا تھا میری یاد سے “ یعنی یہ لوگ ذکر حکیم اور قرآن کریم سے روگردانی کیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے : (قلوبنا فی اکآ مما تدعونا الیہ) (حم السجآ : 14 /5) ” جس چیز کی طرف تم ہمیں دعوت دیتے ہو اس سے ہمارے دل پردوں میں ہیں۔ “ اور ان کی آنکھوں پر پردے پڑے ہوئے ہیں جو ان کو اللہ تعالیٰ کی فائدہ مند نشانیوں کو دیکھنے سے روکتے ہیں۔ جی اس کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (وعلی ابصارھم غشاوٓ) (البقآ : 2 /8) ” اور ان کی آنکھوں پر پردہ پڑا ہوا ہے۔ “ (وکانوا لا یستطیعون سمعا) ” اور وہ نہیں طاقت رکھتے تھے سننے کی “ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو، جو ایمان تک پہنچاتی ہیں، قرآن اور رسول (ٓ) کے ساتھ بغض رکھنے کی وجہ سے سن نہیں سکتے کیونکہ بغض رکھنے والا شخص جس کے خلاف بغض رکھتا ہے اس کی بات کو غور سے سن نہیں سکتا۔ جب وہ علم اور بھلائی کے راستوں سے محجوب ہوجاتے ہیں تب ان کے پاس سننے کے لئے کان ہوتے ہیں نہ دیکھنے کے لئے آنکھیں اور نہ سمجھنے کے لئے عقل نافع۔ پس انہوں نے اللہ تعالیٰ سے کفر کیا، اس کی آیات کا انکار کیا اور اس کے رسولوں کو جھٹلایا، اس لئے وہ جہنم کے مستحق ٹھہرے جو بہت برا ٹھکانا ہے۔
Ayah 18:102

اَفَحَسِبَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنْ یَّتَّخِذُوْا عِبَادِیْ مِنْ دُوْنِیْۤ اَوْلِیَآءَ١ؕ اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا جَهَنَّمَ لِلْكٰفِرِیْنَ نُزُلًا Open ayah 18:102 in the Quran reader

کیا کافر یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ ہمارے بندوں کو ہمارے سوا (اپنا) کار ساز بنائیں گے (تو ہم خفا نہیں ہوں گے) ؟ ہم نے (ایسے) کافروں کے لئے جہنم کی (مہمانی) تیار کر رکھی ہے

آیت 102 یہ مشرکین اور کافروں کے دعوے کے بطلان کی دلیل ہے جنہوں نے بعض انبیائے کرام اور اولیاء اللہ کو اللہ تعالیٰ کا شریک بنادیا، وہ ان کی عبادت کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ اولیائے کرام ان کے مددگار ہوں گے جو ان کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات دلائیں گے اور ثواب عطا کریں گے، حالانکہ انہوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں سے کفر کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ استفہام اور انکار کے پیرائے میں، جس سے ان کے اس عقیدے کا عقلی طور پر بطلان متحقق ہوتا ہے۔۔۔. فرماتا ہے : (افحسب الذین کفروا ان یتخذوا عبادی من دونی اولیاء) ” کیا سمجھتے ہیں کافر لوگ کہ ٹھہرائیں میرے بندوں کو میرے سوا دوست “ یعنی ایسا نہیں ہوسکتا اور کوئی ولی اللہ، اللہ تعالیٰ کے کسی دشمن کو اپنا دوست نہیں بنا سکتا کیونکہ تمام اولیاء اللہ، اللہ تعالیٰ سے محبت، اس کی رضا، اس کی ناراضی اور اس کے بغض کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی موافقت کرتے ہیں۔ اس معنی میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد، اس کے اس ارشاد کے مشابہہ ہے۔ (ویوم یحشرھم جمیعا ثم یقول لملٓئکٓ اھولاء ایاکم کانوا یعبدون۔ قالوا سبحنک انت ولینا من دونھم) (سبا : 43 /04۔ 14) ” جس روز اللہ تمام لوگوں کو جمع کرے گا پھر فرشتوں سے (ان مشرکین کے متعلق) پوچھے گا کیا یہی وہ لوگ ہیں جو تمہاری عبادت کیا کرتے تھے ؟ تو وہ جواب میں عرض کریں گے، تو پاک ہے ان کی بجائے تو ہمارا ولی (دوست) ہے۔ “ پس جو کوئی اس زعم میں مبتلا ہے کہ اس نے ولی اللہ کو اپنا دوست بنا لیا ہے جب کہ وہ خود اللہ تعالیٰ کا دشمن ہے۔ تو وہ سخت جھوٹا ہے۔۔۔. ظاہر میں اس آیت میں اس معنیٰ کا احتمال ہے کہ کیا کفار نے، جو اللہ تعالیٰ کے منکر اور اس کے رسولوں کے ساتھ دشمنی کرتے ہیں یہ گمان کیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کو اپنا ولی و مددگار بنالیں گے جو ان کی مدد کریں گے، ان کو فائدہ پہنچائیں گے اور ان سے تکلیفوں کو دور کریں گے ؟ یہ ان کا باطل خیال اور فاسد گمان ہے کیونکہ مخلوق میں سے کسی کے قبضہٓ قدرت میں نفع و نقصان نہیں۔ یہ معنی اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے مشابہت رکھتا ہے۔ (قل ادعوا الذین زعمتم من دونہ فلا یملکون کشف الضر عنکم ولا تحویلا) (بنی اسرائیل : 71 /65) ” کہہ دیجئے کہ تم پکاردیکھو اپنے ان خود اسختہ معبودوں کو جن کو تم اللہ کے سوا کار اسز سمجھتے ہو، تو (یاد رکھو) وہ تمہاری تکلیف دور کرنے کی قدرت رکھتے ہیں نہ بدلنے کی۔ “ اور اللہ تعالیٰ کے اس قول کے مشابہہ ہے۔ (ولا یملک الذین یدعون من دونہ الشف آپ) (الزخرف : 34 /68) ” وہ لوگ جن کو یہ اللہ کے سوا پکارتے ہیں، سفارش کا کوئی اختیار نہیں رکھتے۔ “ اور اس قسم کی دیگر آیات جن میں اللہ تعالیٰ ذکر فرماتا ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر کسی کو ولی و مددگار بناتا ہے تاکہ وہ اس کی مدد کرے اور اس سے موالات رکھے وہ گمراہ ہے، وہ خائب و خاسر ہے اس کی امید پوری نہیں ہوگی اور نہ وہ اپنے مقصد کو پا سکے گا۔ (انا اعتدنا جھنم للکفرین نزلا) ” بیشک ہم نے تیار کیا ہے جہنم کو کافروں کی مہمانی کے لئے۔ “ یعنی ہم نے کفار کی ضیافت اور مہمانی کے لئے جہنم تیار کر رکھی ہے۔ پس کیا بدترین قیام گاہ ان کا مسکن ہے اور کیا بدترین جہنم ان کی مہمانی ہے !