Ayahs 18:34–36(آیت نمبر (34:
ان باغوں کے مالک نے اپنے صاحب ایمان ساتھی سے نہایت فخر سے کہا جبکہ وہ دونوں روز مرہ کے بعض معاملات میں ایک دوسرے سے بات چیت کر رہے تھے : ( انا اکثر منک ما لا و اعز نفرا) ” میرے پاس تجھ سے زیادہ مال ہے اور زیادہ آبرو والے لوگ “ اس نے اپنے مال کی کثرت اور اپنے اعوان و انصار ‘ یعنی اپنے غلام و خدام اور عزیز و اقارب کی طاقت پر فخر کا اظہار کیا۔ یہ اس کی جہالت تھی ورنہ ایک ایسے خارجی امر میں کون سی فخر کی بات ہے جس میں کوئی نفسی فضیلت ہے نہ معنوی صفت۔ یہ تو ایک بچے کا سا فخر ہے جو محض اپنی آرزوں پر فخر کرتا ہے جن کا حقیقت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوتا۔
پھر اس نے صرف اپنے ساتھی پر فخر کے اظہار پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اپنی جہالت اور ظلم کی بنا پر حکم لگایا اور جب وہ اپنے باغ میں داخل ہوا تو اس نے اپنے گمان کو الفاظ کا پیرا یہ دیا : ( قال ما اظن ان تبید ھذہ ابدا) ” اس نے کہا ‘ میں نہیں خیال کرتا کہ یہ ( باغ) کبھی تباہ ہو۔ “ یعنی یہ باغ کبھی ختم اور مضمحل نہ ہوگا۔ وہ اس دنیا پر مطمئن ہو کر اسی پر راضی ہوگیا اور اس نے آخرت کا انکار کردیا ‘ کہنے لگا : وما اظن الساعۃ قائمۃ و لئن رددت الی ربی (” اور نہیں خیال کرتا میں کہ قیامت قائم ہونے والی ہے اور اگر میں اپنے رب کی طرف لوٹایا گیا “ یعنی فرض کیا قیامت قائم ہوتی ہے) (لاجدن خیرا منھا منقلبا ) ” تو پاؤں گا اس سے بہتر وہاں پہنچ کر “ یعنی اللہ مجھے ان باغوں سے بہتر ٹھکانا عطا کرے گا ‘ اس کی یہ بات دوامور سے خالی نہیں :
(1) یا تو وہ حقیقت حال کا علم رکھتا ہے تب اس کا یہ کلام ٹھٹھے اور تمسخر کے طور پر ہے یہ اس کے کفر میں اضافے کا باعث ہے۔
(2) یا وہ حقیقت میں یہی سمجھتا ہے کہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ نہیں کیا جائے گا تب وہ دنیا کا جاہل ترین شخص اور عقل سے بےبہرہ ہے۔
دنیا کی عطا اور آخرت کی عطا میں کون سا تلازم ہے کہ کوئی جاہل شخص اپنی جہالت کی بنا پر یہ سمجھے کہ جسے اس دنیا میں عطا کردیا گیا ہے اسے آخرت میں بھی عطا کیا جائے گا بلکہ غالب طور پر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے اولیا اور خاص بندوں سے دنیا کو دور ہٹا دیتا اور اپنے دشمنوں کو دنیا عطا کرتا ہے جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوتا۔
بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس شخص کو حقیقت کا علم تھا مگر اس نے بات محض ٹھٹھے اور تمسخر کے طور پر کہی تھی اور اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے ( ودخل جنتہ و ھو ظالم لنفسہ ) ” اور وہ اپنے باغ میں گیا جب کہ وہ اپنے باغ میں گیا ‘ جب کہ وہ اپنے ساتھ ظلم کر رہا تھا “ پس باغ میں داخل ہوتے وقت اس سے صادر ہونے والے کلمات سے اس کے وصف ظلم کا اثبات ‘ اس کے تمرد اور عناد پر دلالت کرتا ہے۔
Ayahs 18:37–38(آیت نمبر (37
یعنی اس کے صاحب ایمان ساتھی نے اس کو نصیحت کرتے ہوئے اور اس کو اس کی ابتدائی حالت یاد دلاتے ہوئے جس حالت میں اللہ تعالیٰ اسے وجود میں لایا تھا۔۔۔ کہا : (اکفرت بالذی خلقک من تراب ثم من نطفۃ ثم سوئک رجلاً ) ” کیا تو نے اس ذات کا انکار کیا جس نے تجھے پیدا کیا مٹی سے، پھر قطرے سے، پھر پورا کردیا تجھ کو مرد۔ “ پس وہی ہے جس نے تجھے وجود بخشا اور تجھ تک اپنی نعمتیں پہنچائیں، تجھے ایک ہئیت سے دوسری ہئیت میں منتقل کیا یہاں تک کہ تجھے کامل اعضائے محسوسہ و معقولہ کے ساتھ آدمی بنا کر پیدا کیا، تیرے لئے اسباب میں آسانی پیدا کی اور تجھے دنیا کی نعمتیں مہیا کیں۔ تو اپنی قوت و اختیار سے کبھی یہ دنیا حاصل نہ کرسکتا تھا بلکہ اللہ تعالیٰ نے تجھ پر فضل و کرم کیا ہے۔ تب تیرے لئے کیونکر یہ مناسب ہے کہ تو اللہ تعالیٰ کا انکار کرے جس نے تجھے مٹی سے پیدا کیا، پھر قطعہ سے جنم دیا اور نک سک درست کر کے آدمی بنایا اور تو اس کی نعمت کو جھٹلاتا ہے اور سمجھتا ہے کہ تیرے مرنے کے بعد وہ تجھ کو دوبارہ زندہ نہیں کرے گا اور اگر اس نے تجھے دوبارہ زندہ کیا تو تجھے تیرے اس باغ سے بہتر باغ عطا کرے گا اور یہ ایسی بات ہے جو تیرے لئے مناسب اور تیرے لائق نہیں۔ جب اس کے مومن ساتھی نے دیکھا کہ وہ اپنے کفر اور سرکشی پر جما ہوا ہے تو اس نے مجادلات و شبہات کے وارد ہونے کے وقت اپنے رب کی شکر گزاری اور پانے دین کا اعلان کرتے ہوئے بتایا : (لکنا ھو اللہ ربی ولا اشرک بربی احداً ) ” میں تو یہی کہتا ہوں کہ وہ اللہ میرا رب ہے، میں اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا۔ “ پس اس نے اپنے رب کی ربوبیت اور اس ربوبیت میں اس کی یکسائی اور اس کی اساعت و عبادت کے ضروری ہونے کا اقرار کیا اور یہ کہ وہ کسی کو اللہ تعالیٰ کا شریک نہیں ٹھہرائے گا، پھر اس نے آگاہ کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے ایمان اور اسلام کی نعمت سے نوازا ہے اگرچہ اس کے پاس مال اور اولاد قلیل ہے، لیکن حقیقی نعمت ایمان اور اسلام ہی ہے اور ان کے سوا ہر چیز زائل ہوجانے والی ہے اور سزا اور عقوبت کی باعث ہے، چناچہ فرمایا :
Ayahs 18:39–45آیت 39
یعنی صاحب ایمانشخص نے اس کافر سے کہا کہ تو اگرچہ کثرت مال و اولاد کی بنا پر مجھ پر فخر جتاتا ہے اور تو سمجھتا ہے کہ میں مال و اولاد کے لحاظ سے تجھ سے کم تر ہوں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ بہتر اور ہمیشہ باقی رہنے والا ہے اور جو امید اللہ تعالیٰ کی نواشز اور احسان پر رکھی جاسکتی ہے وہ اس دنیا ومافیہا سے بہتر ہے جس کو حاصل کرنے کے لئے لوگ ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ (آیت) ” پس امید ہے کہ میرا رب مجھے تیرے باغ سے بہتر عطا کرے گا اور بھیجے گا اس پر “ یعنی اس باغ پر جس کی بنا پر تو نے سرکشی کا رویہ اختیار کیا اور اس باغ نے تجھے دھوکے میں مبتلا کردیا ، (حسباناً من السمآء) ” عذاب آسمان سے “ یعنی طوفانی بارش یا اور کسی قسم کا عذاب (فتصبح) ’ دپس اس سبب سے وہ ہوجائے “ (صعیداً زلقاً ) ” میدان صاف “ کہ اس کے تمام درخت جڑوں سے اکھڑ جائیں، اس کا پھل تلف ہوجائے، اس کی کھیتی تباہ ہوجائے اور اسکا فائدہ مفقود ہو کر رہ جائے۔
(او یصبح مآؤھا) ” یا ہوجائے پانی اس کا “ یعنی باغ کے پانی کا سرچشمہ (غوراً ) ” زمین میں اور گہرا “ (فلن تستطیع لہ طلبا) ” پس ہرگز نہیں لاسکے گا تو اسے ڈھونڈ کر “ یعنی اتنی گہرائی میں چلا جائے کہ تم کھدائی کے آلات کے ذریعے سے بھی وہاں تک نہ پہنچ سکو۔ اس صاحب ایمان شخص نے صرف اللہ تعالیٰ کی خاطر غضبناک ہو کر اس کے باغ کے لئے بد دعا کی تھی کیونکہ اس باغ نے اس کو دھوکے اور سرکشی میں مبتلا کردیا تھا اور وہ اس باغ پر مطمئن ہو کر رہ گیا تھا۔ اس بد دعا کا مقصد یہ تھا کہ شاید وہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرے اور اس کی رشد و ہدایت کی طرف لوٹ آئے اور اپنے بارے میں وہ خوب غور و فکر کرے۔
پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کی دعا قبول فرمائی۔ (واحیط بثمرہ) ” اور سمیٹ لیا گیا اس کا سارا پھل “ یعنی اس کے پھل پر عذاب نازل ہوگیا، اس نے اس کا احاطہ کر کے اس کو تباہ کردیا اور اس میں سے کچھ بھی باقی نہ چھوڑا۔ پھل کا احاطہ کرنا اس بات کو مستلزم ہے کہ اس کے باغ کے تمام درخت، ان کا تمام پھل اور زمین میں کاشت کی ہوئی تمام فصل سب کچھ تبا ہوگیا۔ پس وہ بےحد نادم ہوا اور اسے سخت افسوس ہوا۔ (فاصبح یقلب کفیہ علی ماانفق فیھا) ” پس رہ گیا وہ اپنے ہاتھوں کو پھیرتا ہوا، اس مال پر جو اس نے اس باغ میں لگایا تھا “ یعنی اس نے اپنے ابغ پر جو دنیاوی اخراجات کئے تھے وہ سب ضائع ہوگئے اور وہ کف افسوس ملتا رہ گیا اور اس کا کوئی عوض باقی نہ رہا، نیز وہ اپنے شرک اور اپنی بدی پر بھی پشیمان وہا، اس لئے وہ کہنے لگا : (ویقول یلیتنی لم اشرک بربی احداً ) ” کاش میں اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتا۔ “
اللہ تاعلیٰ نے فرمایا : (آیت) اور نہ ہوئی اس کی کوئی جماعت کہ وہ اس کی مدد کرے اور نہ ہوا وہ خود بدلہ لینے والا “ یعنی جب اس کے باغ پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا تو ہر چیز اس کے ہاتھوں سے نکل گئی جس پر وہ فخر کیا کرتا تھا جس کے زعم پر کہا کرتا تھا : (انا اکثر منک مالا وعزنفراً ) یہ اعوان و انصار اس سے کچھ بھی عذاب دور نہ کرسکے جبکہ اسے ان کی سخت ضرورت تھی اور وہ خود بھی اپنی مدد نہ کرسکا اور وہ اس عذاب سے کیسے بچ سکتا تھا اور اللہ تعالیٰ کی قضاء و قدر کے مقابلے میں کون اس کی مدد کرسکتا تھا جس کا فیصلہ جب اللہ تعالیٰ جاری فرما دیتا ہے تو زمین و آسمان کے تمام رہنے والے ملکر بھی اس میں سے کسی چیز کو زائل کرنا چاہیں تو وہ اس کی قدرت نہیں رکھتے۔
اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کے لطف و کرم سے بعید نہیں کہ اس شخص نے جس کے باغ پر آفت نازل ہوئی تھی، اپنے احوال کی اصلاح کرلی ہو، وہ اپنے رشد و ہدایت کی طرف لوٹ آیا ہو اور اس کا تمام تکبر اور اس کی سرکشی ختم ہوگئی ہو۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ اس نے اپنے شرک پر ندامت کا اظہار کیا تھا اور یہ بھی بعید نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے تمرد اور سرکشی کو دور کر کے اس کو دنیا ہی میں سزا دے دی ہو کیونکہ جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے ساتھ بھلائی چاہتا ہے تو اسے اس دنیا ہی میں سزا دے دیتا ہے۔ عقل و وہم اللہ تعالیٰ کے فضل کا احاطہ نہیں کرسکتے اور اس کا انکار صرف وہی شخص کرسکتا ہے جو ظالم اور سخت جاہل ہے۔
(آیت) ” وہاں سب اختیار اللہ برحق کا ہے، اسی کا انعام بہتر ہے اور اسی کا دیا ہوا بدلہ اچھا ہے “ یعنی اس حال میں جس میں اللہ تعالیٰ اس شخص کو سزا دینے کا حکم جاری کرتا ہے جس نے سرکشی اختیار کی اور دنیاوی زندگی کو ترجیح دی اور عزت و تکریم اس شخص کے لئے جس نے ایمان لا کر نیک عمل کئے، اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لاتا رہا اور دوسروں کو اس کی طرف دعوت دیتا رہا اس بنا پر واضح ہوگیا کہ حقیقی ولایت کا مالک صرف اکیلا اللہ تعالیٰ ہے۔ پس جو کوئی اللہ تعالیٰ پر ایمان لا کر تقویٰ اختیار کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کا ولی اور دوست ہے، وہ اسے مختلف اقسام کی کرامات کے ذریعے سے تکریم بخشتا ہے اور اس کو شر اور تمام آفتوں سے بچاتا ہے۔ جو اپنے رب پر ایمان نہیں رکھتا اور نہ اسے اپنا والی اور سرپرست بناتا ہے، وہ دنیا و دنیا میں خسارہ اٹھاتا ہے۔۔۔ پس اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ دنیاوی اور اخروی ثواب بہترین ثواب ہے جس پر امیدوں کو مرتکز ہونا چاہیے۔
اس عظیم قصے میں اس شخص کے حال میں جس کو اللہ تعالیٰ نے دنیاوی نعمتیں عنایت کیں، مگر ان نعمتوں نے اسے آخرت سے غافل کر کے سرکش بنادیا اور وہ ان میں مگن ہو کر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے لگا۔۔۔ لوگوں کے لئے عبرت ہے کہ ان نعمتوں کا انجام زوال اور اضمحلال ہے اگر بندہ ان نعمتوں سے تھوڑا فائدہ اٹھاتا ہے تو طویل عرصے تک محرومی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور بندہ مومن کے لئے مناسب یہی ہے کہ جب اسے اپنے مال اور اولاد میں سے کچھ اچھا لگے تو وہ اس نعمت کو نعمت عطا کرنے والے کی طرف منسوب کرے اور یہ کہے : (ماشاء اللہ لا قوۃ الا باللہ) تاکہ وہ شکر گزار بنے اور اللہ تعالیٰ کی نعمت کی بقا کے لئے سبب بنے والا بنے۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : (آیت) ” کیوں نہ، جب تو داخل ہوا اپنے باغ میں، کہا تو نے، جو چاہے اللہ سو وہ ہو۔ طاقت نہیں مگر جو دے اللہ۔ “
ان آیات کریمہ میں لذات دنیا اور اس کی شہوات کے بدلے میں ان بہتر چیزوں کے ذریعے تسلی کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں۔ فرمایا : (ان ترن انا اقل منک مالا وولدا، فعسی ربی ان یوتین خیرامن جنتک)
ان آیات کریمہ سے یہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ مال اور اولاد اگر اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں مددگار نہ بنیں تو وہ کوئی فائدہ نہیں دیتے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) ” تمہارا مال اور تمہاری اولاد نہیں، جو تمہیں ہم سے قریب کرتی ہو مگر وہی قریب ہوتا ہے جو ایمان لائے اور نیک کام کرے۔ “ اس سے یہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ جس شخص کا مال اس کی سرکشی، کفر اور اس کے لئے اخروی خسارے کا سبب ہو اس مال کے تلف ہونے کی دعا کرنا جائز ہے۔ خاص طور پر جبکہ وہ اس مال کی بنا پر اپنے آپ کو اہل ایمان سے افضل سمجھتا ہو اور ان پر فخر کا اظہار کرتا ہو۔
ان آیات کریمہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰکی ولایت اور عدم ولایت، اس وقت ظاہر ہوگی جب غبار چھٹ جائے گا، جزا و سزا ثابت ہوگی اور علم کرنے والے اپنا اجر پالیں گے : (ھنالک الولایۃ للہ الحق ھو خیر ثواباً وخیر عقباً ) ” اس وقت معلوم ہوگا کہ کارسازی تو اللہ برحق کے اختیار میں ہے، اسی کا انعام بہتر ہے اور اسی کا دیا ہوا بدلہ اچھا ہے۔ “
Ayahs 18:46–48آیت 46
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی سے اصلاً اور ان لوگوں سے تبعاً فرماتا ہے جو آپ کے بعد آپ کے قائم مقام ہیں کہ لوگوں کے سامنے دنیاوی زندگی کی مثال بیان کردیجیے تاکہ وہ اس زندگی کا اچھی طرح تصور کرلیں اور اس کے ظاہر و باطن کی معرفت حاصل کرلیں۔ پس وہ دنیاوی زندگی اور ہمیشہ باقی رہنے والی زندگی کے درمیان تقابل کریں اور ان میں جو ترجیح دیئے جانے کی مستحق ہے اسے ترجیح دیں۔ اس دنیاوی زندگی کی مثال بارش کی سی ہے جو آسمان سے زمین پر برستی ہے جس سے زمین کی روئیدگی بہت گھنی ہوجاتی ہے اور ہر قسم کی خوش منظر نباتات اگ آتی ہیں۔ پس اس وقت کہ جب اس کی خوبصورتی اور سجاوٹ دیکھنے والوں کو خوش کن لگتی ہے، لوگ اس سے فرحت حاصل کرتے ہیں اور زمین کا یہ حسن غافل لوگوں کی نظروں کو اپنی طرف متوجہ کرلیتا ہے کہ اچانک نباتات بھس بن کر رہ جاتی ہیں اور ہوائیں اسے اڑائے لے جاتی ہیں۔ پس وہ تروتازہ، خوبصورت اور خوش منظر روئیدگی ختم ہوجاتی ہے، زمین چٹیل میدان بن جاتی ہے جہاں خاک اڑتی ہے جس سے نظریں دور ہٹ جاتی ہیں اور دل وحشت محسوس کرتے ہیں۔
دنیا کی زگندی کا بھی یہی حال ہے دنیا کی زندگی میں مگن شخص کو اپنا شباب بہت اچھا لگتا ہے، وہ اس زندگی میں اپنے ساتھیوں اور ہم جو لیوں سے آگے نکل جاتا ہے، اس کے درہم و دنیار کے حصول میں لگا رہتا ہے، اس کی لذت سے خوب حظ اٹھاتا ہے، ہر وقت اس کی شہوات کے سمندر میں غوطہ زن رہتا ہے اور وہ یہی سمجھتا ہے کہ زندگی بھر اس دنیا کی لذتیں اور شہوتیں زائل نہ ہوں گی۔۔۔ کہ اچانک موت اسے آلیتی ہے یا اس کا مال تلف ہوجاتا ہے۔ خوشیاں اس سے روٹھ جاتی ہیں، اس کی لذتیں اس سے چھن جاتی ہیں، اس کا قلب مصائب و آلام سے وحشت کھاتا ہے، اس کی جوانی، اس کی طاقت اور اس کا مال سب اس کا ساتھ چھوڑ دیتے ہیں اور وہ نیک یا برے اعمال کے ساتھ اکیلا باقی رہ جاتا ہے۔
یہی وہ حال ہے کہ جب ظالم کو اس کی حقیقت کا علم ہوگا تو اپنے ہاتھوں کو کاٹے گا۔ وہ تمنا کرے گا کہ اسے دنیا میں واپس بھیجا جائے، اس لئے نہیں کہ وہ ان شہوات کو پورا کرے جو نامکمل رہ گئی تھیں بلکہ اس لئے کہ اس سے غفلت میں جو کو تاہیاں صادر ہوئیں تو بہ و استغفار اور اعمال صالحہ کے ذریعے سے ان کی تلافی کرسکے، لہٰذا عقل مند اور پختہ ارادے والا شخص، جسے توفیق سے نوازا گیا ہو، اپنے آپ پر یہی حالت طاری کرتا ہے اور اپنے آپ سے کہتا ہے : ’ دفرض کرلو کہ تم مرچکے ہو “ اور موت ایک یقینی امر ہے۔ پس مذکورہ دونوں حالتوں میں سے کون سی حالت کو تو اختیار کرتا ہے ؟ اس دنیا کی زیب وزینت سے دھوکہ کھانا، اس سے اس طرح فائدہ اٹھانا جس طرح چراگاہ میں مویشی چرتاے ہیں یا ایسی جنت کے حصول کی خاطر عمل کرنا جس کے پھل ہمیشہ رہنے والے اس کے سائے بہت گھنے ہیں۔ وہاں وہ سب کچھ ہوگا جو دل چاہے گا اور آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔ “
پس یہی وہ حالت ہے جس کے ذریعے سے یہ معرفت حاصل ہوتی کہ بندے کو توفیق الٰہی سے نوازا گیا ہے یا اس کو اپنے حال پر چھوڑ دیا گیا ہے ؟ اسے نفع حاصل ہوا ہے یا خسارہ ؟ اسی لئے اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ مال اور بیٹے دنیا کی زندگی کی زیب وزینت ہیں اور اس سے آگے کچھ نہیں۔ انسان کے لئے جو کچھ باقی رہ جاتا اور جو اسے فائدہ اور خوشی دیتا ہے وہ باقی رہنے والی نیکیاں ہیں اور وہ واجب اور مستحب نیکی کے تمام کاموں کو شالم ہیں مثلاً : حقوق اللہ، حقوق العباد، نماز، زکوۃ، صدقہ، حج، عمرہ، تسبیح، تحمید، تہلیل، قرأت قرآن، طلب علم، نیکی کا حکم دینا برائی سے روکنا، صلہ رحمی، والدین کے ساتھ حسن سلوک، بیویوں کے حقوق پورے کرنا، غلاموں اور جانوروں کے حقوق کا احترام کرنا اور مخلوق کے ساتھ ہر لحاظ سے اچھا سلوک کرنا، یہ تمام باقی رہنے والی نیکیاں ہیں یہی وہ نیکیاں ہیں جن کا اجر اللہ تعالیٰ کے ہاں بہتر ہے اور انہی سے اچھی امیدیں وابستہ کی جاسکتی ہیں۔ ان کا اجر وثواب باقی رہتا ہے اور ابد الآباد تک بڑھتا ہے۔ ان کے اجر وثواب اور نفع کی ضرورت کے وقت امید کی جاسکتی ہے۔
پس یہی وہ کام ہیں کہ سبقت کرنے والوں کو ان کی طرف سبسقت کرنی چاہیے، عمل کرنے والوں کو انہی کے لئے آگے بڑھنا چاہیے اور جدوجہد کرنے والوں کو ان کے حصول کے لئے جدوجہد کرنی چاہیے۔ غور کیجیے کہ جب اللہ تعالیٰ نے دنیا کی زندگی کے حال اور اس کے اضمحلال کی مثال دی تو اس کی دو قسمیں بیان کیں :
(1) دنیاوی زندگی کی زیب وزینت، جس سے انسان بہت کم فائدہ اٹھاتا ہے۔ پھر بغیر کسی فائدے کے یہ دنیا زائل ہوجاتی ہے اور اس کا نقصان انسان کی طرف لوٹتا ہے بلکہ بسا اوقات اس کا نقصان اس کے لئے لازم ہوجاتا ہے۔ یہ مال اور بیٹے ہیں۔
Ayah 18:49آیت 49
اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے دن کا حال بیان کرتا ہے کہ اس میں پریشان کن ہولناکیاں اور تڑپا دینے والی سختیاں ہوگی، چناچہ فرمایا : (ویوم نسیر الجبال) ” اور جس دن ہم چلائیں گے پہاڑ “ یعنی اللہ تعالیٰ ان کو ان کی جگہ سے ہٹا کر انکو ریت کے ٹیلے بنا دے گا، پھر ان کو دھنکی ہوئی اون کی مانند کر دے گا پھر وہ مضمحل ہو کر غبار کی مانند اڑ جائیں گی اور زمین ایک ہموار میدان نظر آئے گی جس میں کوئی نشیب و فراز نہ ہوگا اللہ تعالیٰ اس زمین پر تمام مخلوق کو اکٹھا کرے گا کسی کو باقی نہیں چھوڑے گا۔ وہ اگلوں پچھلوں سب کو صحراؤں کے پیٹوں سے اور سمندروں کی گہرائیوں سے نکال کر ایک جگہ اکٹھا کرے گا۔ جب ان کے اجزا بکھر چکے ہوں گے اور وہ پارہ پارہ ہوچکے ہوں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو نئی زندگی عطا کرے گا۔
پس لوگ صفیں باندھے اس کے سامنے پیش ہوں گے تاکہ وہ ان سے جوابدہی کیر، ان کے اعمال دیکھ کر ان کے بارے میں عدل پر مبنی فیصلہ کرے گا جس میں کوئی ظلم وجور نہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا : (لقد جئتمونا کما خلقنکم اول مرۃ) ” تم اسی طرح ہمارے سامنے حاضر ہوگئے ہو، جس طرح ہم نے تمہیں پہلی مرتبہ (اکیلا اکیلا) پیدا کیا تھا۔ “ یعنی لوگ مال و متاع، اہل و عیال اور قبیلے کنبے کے بغیر اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوں گے۔ ان کے ساتھ صرف وہی اعمال ہوں گے جو وہ کرتے رہے تھے اور نیکی اور بدی ساتھ ہوگی جس کا اکتساب کرتے رہے ہوں گے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :” آیت) تم اسی طرح ہمارے سامنے تن تنہا حاض رہو گئے ہو جس طرح ہم نے تمہیں پہلی مرتبہ (اکیلا اکیلا) پیدا کیا تھا اور جو کچھ ہم نے تمہیں عطا کیا تھا تم اسے اپنے پیچھے چھوڑ آئے ہو اور ہمیں تمہارے ساتھ تمہارے وہ سفارشی بھی نظر نہیں آتے جن کے متعلق تم سمجھتے تھے کہ وہ اللہ کے شریک ہیں۔ “
اس مقام پر اللہ تعالیٰ منکرین آخرت سے مخاطب ہو کر فرمائے گا جب کہ وہ اس کا مشاہدہ اپنی آنکھوں سے کرلیں گے : (بل زعمتم الن نجعل لکم موعداً ) ” لیکن تم نے یہ خیال کر رکھ اتھا کہ ہم نے تمہارے لئے کوئی وقت مقرر ہی نہیں کیا۔ “ یعنی تم اعمال کی سزا و جزا کا انکار کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ نے تمہیں ساتھ اس جزا و سزا کا وعدہ کر رکھا تھا، لو ! اس کا وعدہ آگیا تم نے اسے دیکھ لیا اور اس کا مزا چکھ لیا۔ اس وقت وہ اعمال نامے حاضر کئے جائیں گے جن کو کراماً کاتبین کلھا کرتے تھے۔ ان کو دیکھ کر دل اڑنے لگیں گے ان کے وقوع سے غم اور مشقتیں بڑھ جائیں گی۔ جن کو دیکھ کر ٹھوس اور سخت چٹانیں بھی پگھل جائیں گی اور مجرم ڈریں گے۔ جب وہ دیکھیں گے کہ ان اعمال ناموں میں ان کے اعمال لکھے ہوئے ہیں اور ان کے تمام اقوال و افعال ان اعمال ناموں میں محفوظ ہیں، تو بول اٹھیں گے۔ (آیت) ” ہائے افسوس ! کیسی ہے یہ کتاب، نہیں چھوڑا اس نے چھوٹی بات کو نہ بڑی بات کو، مگر اس نے ان کو شمار کرلیا۔ “ یعنی کوئی چھوٹا یا بڑا گناہ ایسا نہیں جو اس میں لکھا ہوا اور محفوظ نہ ہو اور کوئی کھلایا چھپا، رات کے وقت کیا ہوا یا دن کے وقت کیا ہوا گناہ ایسا نہیں جو بھولے سے لکھنے سے رہ گیا ہو۔
(ووجدوا ما عملوا حاضراً ) ” اور پائیں گے جو کچھ انہوں نے کیا، سامنے۔ “ وہ اس کا انکار نہیں کرسکیں گے۔ (ولا یظلم ربک احداً ) ” اور آپ کا رب کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔ “ اس وقت ان کو ان کے اعمال کی جزا دی جائے گی، وہ ان اعمال کا اقرار کریں گے، ان اعمال کی بنا پر رسوا ہوں گے اور ان پر عذاب واجب ہوجائے گا۔ (آیت) ” یہ سب کچھ ان اعمال کی جزا ہے جو تم نے آگے بھیجے تھے اور اللہ اپنے بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں۔ “ بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کے فضل و عدل سے باہر نہیں نکلیں گے۔
Ayahs 18:50–51آیت 50
اللہ تبارک و تعالیٰ آدم اور ان کی اولاد کے ساتھ ابلیس کی عداوت کا ذکر کرتا ہے، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے آدم کی تعظیم و تکریم اور اپنے حکمل کی تعمیل کے لئے فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ آدم کو سجدہ کریں۔ پس انہوں نے حکم کی تعمیل کی۔ (آیت) ” سوائے ابلیس کے، وہ جنوں میں سے تھا، پس اس نے اپنے رب کے حکم کی نافرمانی کی “ اور کہنے لگا (آیت) ” کیا میں اسے سجدہ کروں جسے تو نے مٹی سے پیدا کیا۔ “ اور کہا (انا خیر منہ) (الاعراف 12/8) ” میں اس سے بہتر ہوں۔ “ اس سے واضح ہوگیا کہ وہ اللہ تعالیٰ اور تمہارے جد امجد سے عداوت رکھتا ہے، پھر کیسے تم اس کو اور اس کی ذریت کو دوست بناتے ہو ؟ (بئس للظلمین بدلاً ) ” برا ہے ظالموں کے لئے بدل “ یعنی کتنی بری ہے شیطان کی دوستی اور سرپرستی جو انہوں نے اپنے لئے چینی ہے، جو انہیں صرف فحش اور برے کاموں کا حکم دیتا ہے اور رب رحمٰن کی دوستی اور سرپرستی چھوڑ دی جس کی دوستی میں ہر قسم کی سعادت، فلاح اور سرور ہے۔
اس آیت کریمہ میں پر زور ترغیب ہے کہ شیطان کو دشمن سمجھا جائے اور وہ سبب بھی بیان کردیا گیا جو اس کو دشمن قرار دینے کا موجب ہے، نیز یہ بھی واضح کردیا کہ صرف ظالم شخص ہی اس کو اپنا دوست قرار دیتا ہے اور اس کے شخص کے ظلم سے بڑھ کر کون سا ظلم ہوسکتا ہے جو اپنے حقیقی دشمن کو دوست سمجھے اور اپنے حقیقی اور قابل تعریف دوست کو چھوڑ دے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) ” اللہ ان لوگوں کا دوست اور مددگار ہے جو ایمان لائے، وہ ان کو اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لاتا ہے اور وہ لوگ جو کفر کی راہ اختیار کرتے ہیں ان کے والی اور مددگا رطاغوت ہیں جو ان کی روشنی سے نکال کر تاریکیوں کی طرف لے جاتے ہیں۔ “ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (آیت) ” انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر شیاطین کو دوست اور سرپرست بنا لیا ہے۔ “
Ayah 18:52آیت 52
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے :” میں نے شیاطین (اور ان گمراہی پھیلانے والوں) کو گواہ نہیں بنایا “ (خلق السموت والارض ولاخلق انفسھم ) ” آسمانوں، زمین اور ان کی اپنی تخلیق پر۔ “ یعنی میں نے ان کی پیدائش پر ان کو حاضر کیا نہ ان سے مشورہ لیا پھر وہ ان میں سے کسی چیز کے خلاق کیسے کہلا سکتے ہیں ؟ بلکہ اللہ تعالیٰ تخلیق و تدبیر اور حکمت و تقدیر میں یکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی تمام اشیاء کا خلاق ہے اور وہی اپنی حکمت سے ان میں تصرف کرتا ہے پس کیسے شیاطین کو اللہ کے شریک ٹھہرایا جاتا ہے ان کو والیو مددگار بنایا جاتا ہے اور ان کی اسی طرح اطاعت کی جاتی ہے جس طرح اللہ تعالیٰ ٰکی جاتی ہے، حالانکہ انہوں نے کچھ پیدا کیا ہے نہ کائنات کی پیدئاش پر وہ حاضر تھے اور نہ کائنات کی پیدئاش پر اللہ تعالیٰ کے معاون و مددگار تھے ؟ اسی لئے فرمایا : (وما کنت متخذ المضلین عضدا) ” اور نہیں ہوں میں کہ گمراہ کرنے والوں کو مددگار بناؤں “ یعنی اللہ تعالیٰ کے کسی کام میں معاونین کا ہونا، اللہ تعالیٰ کی شان کے لائق نہیں اور نہ یہ مناسب ہے کہ وہ تدبیر کائنات کا کچھ حصہ ان کے سپرد کر دے کیونکہ وہ تو مخلوق کو گمراہ کرنے میں لگے ہوئے ہیں اور اپنے رب کی عداوت پر کمربستہ رہتے ہیں، اس لئے وہ اسی لائق ہیں کہ وہ ان کو دور رکھے اور اپنے قریب نہ آنے دے۔
جب اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا حال بیان کیا جنہوں نے دنیا میں اس کے ساتھ شرک کیا تھا اور ان کے شرک کا پوری طرح ابطال کیا اور مشرک پر جہالت اور سفاہت کا حکم لگایا تو قیامت کے روز ان کے خود ساختہ شریکوں کی معیت میں ان کا جو حال ہوگا وہ بھی بیان کردیا، چناچہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ ان سے کہے گا : (نادوا شرکآء ی) ” پکارو میرے شریکوں کو۔ “ یعنی تمہارے اپنے زعم باطل کے مطابق میرے جو شریک ہیں ان سب کو بلا لو۔ ورنہ حقیقت یہ ہے کہ زمین و آسمان میں کوئی اللہ تعالیٰ کا شریک نہیں یعنی اب ان خود ساختہ شریکوں کو بلا لو تاکہ تمہیں کوئی فائدہ دے سکیں اور تمہیں ان سختیوں سے نجات دلا سکیں۔ (فدعوھم فلم یستجیبوالھم) ” پس یہ ان کو پکاریں گے مگر وہ ان کو جواب نہ دیں گے۔ “ اس لئے کہ اس روز اقتدار اور فیصلے کا اختیار صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہوگا کسی ہستی کے پاس ذرہ بھر بھی اختیار نہیں ہوگا کہ وہ اپنے آپ کو یا کسی اور کو کوئی نفع پہنچا سکے : (وجعلنا بینھم) ” اور کردیں گے ہم ان کے درمیان “ یعنی مشرکین اور ان کے شریکوں کے درمیان (موبقاً ) ” ہلاکت کا سامان “ یعنی ہلاکت کا گڑھا ان کے درمیان حائل کردیں گے جو ان کو جدا کر دے گا اور ان کو ایک دوسرے سے دور کر دے گا۔ اس وقت ان کی ایک دوسرے کے ساتھ عداوت ظاہر ہوجائے گی، ان کے خود ساختہ شرکاء ان کا انکار کریں گے اور ان سے بیزاری کا اظہار کریں گے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (آیت) ” جب تمام لوگوں کو جمع کیا جائے گا تو اس وقت وہ اپنے پکارنے والوں کے دشمن ہوں گے اور ان کی عبادت کا انکار کریں گے۔ “
Ayah 18:53آیت 53
جب قیامت کے روز حساب کتاب ختم ہوجائے گا اور مخلوق میں سے ہر گر وہ اپنے اعمال کی بنا پر علیحدہ ہوجائے گا اور مجرموں کے بارے میں عذاب کا وعدہ پورا ہوجائے گا۔ پس وہ جہنم میں داخل ہونے سے قبل جہنم کو دیکھیں گے اور گھبرا جائیں گے اور یہ یقین کر کے ان کو اس میں پھینکا جائے گا ان کا قلق بڑھ جائے گا۔ آیت کریمہ میں مذکور (ظن) کے بارے میں اہل تفسیر کہتے ہیں کہ یہاں (ظن) سے مراد یقین ہے۔ پس انہیں یقین ہوجائے گا کہ وہ ضرور جہنم میں داخل ہوں گے۔ (ولم یجدوا عنھا مصرفاً ) ” اور نہیں پائیں گے وہ اس سے پھرجانے کی جگہ “ یعنی کوئی جائے پناہ نہیں جہاں وہ پناہ لے سکیں اور اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر کوئی ان کی سفارش نہیں کرسکے گا۔ اس آیت کریمہ میں تخویف و ترہیب ہے جس سے دل کانپ اٹھتے ہیں۔
Ayah 18:54آیت 54
اللہ تبارک و تعالیٰ قرآن مجید کی عظمت و جلالت اور اس کے عموم کا ذکر کرتے ہوئے آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے قرآن کریم میں ہر قسم کی مثال بیان کی ہے یعنی ہر وہ راستہ واضح کردیا ہے جو علوم نافعہ اور سعادت ابدیہ تک پہنچاتا ہے اور ہر اس طریق سے آگاہ فرما دیا ہے جو انسان کو شر اور ہلاکت سے بچاتا ہے۔ پس اس قرآن کریم میں حلال و حرام، جزائے اعمال، ترغیب و ترہیب کی مثالیں ہیں، سچی خبریں ہیں جو اعتقاد طمانیت اور روشنی کے اعتبار سے دلوں کے لئے فائدہ مند ہیں۔ یہ چیز واجب ٹھہراتی ہے کہ قرآن کریم کو اطاعت وانقیاد اور کسی بھی امر میں عدم منازعت کے ساتھ تسلیم کیا جائے۔۔۔ مگر اس کے باوجود اکثر لوگ، حق کے واضح ہوجانے کے بعد بھی، باطل دلائل کے ساتھ حق کے بارے میں جھگڑتے ہیں۔ (آیت) ” اور ہے انسان سب چیز سے زیادہ جھگڑا لو ‘ یعنی بہت جھگڑا لو اور بحثیں کرنے والا ہے، حالانکہ یہ اس کے لائق ہے نہ یہ قرین انصاف ہے اور اس کا اللہ پر ایمان نہ لانے کا سبب یہ نہیں کہ اس کو بیان کرنے اور اس کی حجت وبرہان کو واضح کرنے میں کوئی کمی رہ گئی ہے بلکہ ظلم وعناد، ان کے اس رویے کا موجب ہے۔ ورنہ اگر ان پر عذاب اور وہ سختیاں اور مصیبتیں آجاتیں جو پہلے لوگوں پر آئی تھیں تو ان کا یہ حال نہ ہوتا، اس لئے فرمایا :
Ayah 18:55آیت 55
یعنی لوگوں کو ایمان لانے سے کس چیز نے منع کیا ہے حالانکہ ہدایت جس سے راہ راست اور گمراہی، حق اور باطل کے درمیا نفرق واضح ہوتا ہے ان تک پہنچ چکی ہے اور ان پر حجت قائم ہوچکی ہے۔۔۔ ان کے ایمان نہ لانے کی یہ وجہ بھی نہیں کہ حق واضح نہیں ہوا بلکہ ان کے ایمان نہ لانے کی وجہ ظلم وتعدی ہے۔ پس اب کوئی چیز باقی نہیں رہی سوائے اس کے کہ سنت الٰہی کے مطابق وہی عذاب آجائے جو پہلی قوموں پر آیا تھا ؟ جب وہ ایمان نہ لاتے تو ان پر عذاب بھیج دیا جاتا یا عذاب ان کے سامنے آجاتا اور وہ اپنی آنکھوں سے اسے دیکھ لیتے۔۔۔ مطلب یہ ہے کہ پس انہیں ڈرنا چاہیے اور اپنے کفر سے توبہ کرلینی چاہیے قبل اس کے کہ ان پر عذاب ٹوٹ پڑے جسے روکا نہیں جاسکتا۔
Ayahs 18:56–58آیت 56
یعنی ہم رسولوں کو عبث اور بےفائدہ نہیں بھیجتے نہ ان کو اس لئے مبعوث کرتے ہیں کہ لوگ ان کو معبود بنالیں اور نہ اس لئے کہ وہ خود معبود ہونے کا دعویٰ کریں بلکہ ہم نے انہیں صرف اس لئے مبعوث کیا ہے تاکہ وہ لوگوں کو ہر بھلائی کی طرف بلائیں اور ہر برائی سے روکیں اطاعت کرنے پر ان کو دنیاوی اور اخروی ثواب کی خوشخبری سنائیں اور نافرمانی کرنے پر دنیاوی اور اخروی عذاب سے ڈرائیں۔ پس رسولوں کو بھیج کر اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر حجت قائم ہوگئی۔ بایں ہمہ ظالم کفار باطل ہتھکنڈوں کے ساتھ حق کو نیچا دکھانے کے لئے جھگڑتے ہیں۔ پس جہاں تک ممکن ہوا کفار حق کے ابطال اور اس کے نیچا دکھانے کے لئے باطل کی مدد میں کشواں رہے، انہوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور اس کی آیات کا تمسخر اڑایا اور ان کے پاس جو کچھ علم تھا اسی پر اتراتے رہے۔ مگر اللہ تعالیٰ اپنے نور کو مکمل کئے بغیر نہیں رہتا اگرچہ کفار کو یہ بات ناپسند ہی کیوں نہ ہو، وہ حق کو باطل پر غالب کرتا ہے۔ (آیت) ” بلکہ ہم تو باطل پر حق کے ذریعے سے چوٹ لگاتے ہیں جو اس کو نیست و نابود کردیتی ہے، اور باطل دیکھتے ہی دیکھتے مٹ جاتا ہے۔ “
یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت اور اس کی رحمت ہے کہ اس کا باطل ہتکنڈوں کے ذریعے سے حق کے خلاف جھگڑنے والے باطل پسندوں کو مقرر کرنا، حق کے ظہور اور اس کے شواہد و دلائل کی توضیح، باطل اور اس کے فساد کے ظاہر ہونے کا سب سے بڑا سبب ہے۔ کیونکہ : (بضدھا تتبین الاشیاء) ” اشیاء اپنی ضد ہی سے واضح ہوتی ہیں۔ “
Ayahs 18:59–73آیت 59
اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس بندے سے بڑھ کر کوئی ظالم اور اس سے بڑا کوئی مجرم نہیں جسے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ذریععے سے نصیحت کی جائے، اس کے سامنے حق اور باطل، ہدایت اور ضلالت کو واضح کردیا گیا ہو، اسے برے انجام سے ڈرایا گیا اور آخرت کے ثواب کی ترغیب دی گئی ہو اور وہ روگردانی کرے، نصیحت نہ پکڑے، اپنے کر تتوں سے باز نہ آئے اور اپنے ہاتھوں کی کمائی سے انجان بنا رہے اور اللہ عالم الغیوب کو اپنے اوپر نگران نہ سمجھے۔ پس یہ اس روگرداں شخص کے ظلم سے بڑا ظلم ہے جس کے پاس اللہ تعالیٰ کی آیات نہیں پہنچیں اور اس کو ان آیات کے ذریعے سے نصیحت نہیں کی گئی۔۔۔ یہ بھی اگرچہ ظالم ہے مگر وہ پہلا شخص اس سے زیادہ بڑا ظالم ہے کیونکہ علم اور بصیرت رکھتے ہوئے گناہ کرنے والا لاعلمی سے گناہ کرنے والے سے زیادہ بڑا گناہ گار ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے آیات الٰہی سے اس کے اعراض، اپنے گناہوں کو بھول جانے اور حالت شر پر راضی رہنے کے سبب سے اس کو سزا دی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اسے عمل ہے کہ ہدیات کے دروازے اس پر بند ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے قلب پر پردے ڈال دیئے ہیں یعنی مضبوط پردوں نے اس کو آیات الٰہی کے تفقہ سے محروم کر رکھا ہے اگرچہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو سنتا ہے مگر ان میں ایسا تفقہ حاصل کرنا جو قلب کی گہرائی میں اتر جائے اس کے بس کی بات نہیں۔
(وفی اذانھم وقراً ) ” اور ان کے کانوں میں بوجھ ہے “ یعنی ان کے کانوں میں گرانی ہے جو ان کو آیات الٰہی کے فائدہ مند سماع سے محروم کردیتی ہے اور اگر وہ اسی حالت میں رہیں تو ان کی ہدیات کا کوئی راستہ نہیں۔ (آیت) ” اگر آپ ان کو ہدایت کی طرف بلائیں تو ہرگز ہدیات پر نہ آئیں اس وقت کبھی “ کیونکہ داعی ہدایت کی دعوت پر اسی شخص کے لبیک کہنے کی امید ہوتی ہے جو علم نہیں رکھتا۔ رہے وہ لوگ جنہوں نے آیات الٰہی کو خوب دیکھا، بھالا پھر اندھے پن کا مظاہرہ کیا، انہوں نے راہ حق کو پہچان لیا مگر اسے چھوڑ دیا اور گمراہی کی راہ پر گامزن ہوگئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اس کی یہ سزا دی کہ ان کے دلوں پر تالے ڈال دیئے اور ان پر مہر لگا دی۔۔۔ تو ان لوگوں کی ہدایت کا کوئی راستہ اور کوئی حیلہ نہیں۔
اس آیت کریمہ میں اس شخص کے لئے تخویف و ترہیب ہے جو حق کو پہچان لینے کے بعد اسے ترک کر دے اور یہ کہ اس کے اور حق کے درمیان رکاوٹ کھڑی کردی جائے اور اس کے بعد اس کے لئے کوئی چیز ایسی نہ رہے جو اس کے حق میں اس سے بڑھ کر ڈرانے والی اور اس غلط روی سے اسے روکنے والی ہو۔
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی بےپایاں مغفرت اور رحمت کا ذکر کیا ہے، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ گناہوں کو بخش دیتا ہے، جو کوئی توبہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرتا ہے اور اسے اپنی رحمت سے ڈھانپ لیتا ہے اور اسے اپنے احسان میں شامل کرلیتا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی ان کے گناہوں پر گرفت کرے تو ان پر فوراً عذاب بھیج دے مگر وہ حلم والا ہے وہ سزا دینے میں جلدی نہیں کرتا وہ اپنے بندوں کو مہلت دیتا ہے مہمل نہیں چھوڑتا، جبکہ گناہوں کے آثار کا واقع ہونا ضروری امر ہے اگرچہ اس میں طویل مدت تک تاخیر ہی کیوں نہ ہو۔ اس لئے فرمایا : (آیت) ” بلکہ ان کے لئے ایک وعدہ ہے، ہرگز نہیں پائیں گے اس سے ورے سرک جانے کو جگہ “ یعنی ان کے لئے ایک وقت مقررہ ہے جس میں انہیں ان کے اعمال کی جزا دی جائے گی۔ یہ جزا انہیں ضرور ملے گی اور اس جزا و سزا سے بچنے کی ان کے لئے کوئی گنجائش نہیں۔ اس سے بچنے کے لئے کوئی پناہ گاہ ہے نہ کوئی جائے فرار۔۔۔ اولین و آخرین میں یہی سنت الٰہی ہے کہ وہ عذاب دینے میں جلدی نہیں کرتا بلکہ وہ انہیں توبہ اور انابت کی طرف بلاتا ہے۔ اگر وہ توبہ کر کے رجوع کرلیں تو اللہ تعالیٰ ان کو بخش دیتا ہے اور ان کو اپنی رحمت کے سائے میں لے کر ان سے عذاب کو ہٹا دیتا ہے۔ لیکن اگر وہ اپنے ظلم اور عناد پر جمے رہیں اور وقت مقررہ آجائے تو اللہ تعالیٰ ان پر اپنا عذاب نازل کردیتا ہے۔ بنا بریں فرمایا : (آیت) ” اور یہ بستیاں، ہم نے ان کو ہلاک کردیا جب انہوں نے ظلم کیا “ یعنی ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ خود انکے ظلم کی بنا پر ہم نے انہیں ہلاک کیا۔ (وجعلنا لمھلکم موعداً ) ” اور مقرر کیا تھا ہم نے ان کی ہلاکت کا ایک وعدہ “ یعنی ایک وقت مقرر جس سے وہ آگے ہوئے نہ پیچھے۔