39. Surah Az-Zumar

الزمرThe Groups · 75 ayahsتفسیر القرطبی

Ayahs 39:53–59

قُلْ یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًا١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 39:53 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ میری طرف سے لوگوں سے) کہہ دو کہ اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے خدا کی رحمت سے ناامید نہ ہونا خدا تو سب گناہوں کو بخش دیتا ہے (اور) وہ تو بخشنے والا مہربان ہے

وَ اَنِیْبُوْۤا اِلٰى رَبِّكُمْ وَ اَسْلِمُوْا لَهٗ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَكُمُ الْعَذَابُ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ Open ayah 39:54 in the Quran reader

اور اس سے پہلے کہ تم پر عذاب آ واقع ہو اپنے پروردگار کی طرف رجوع کرو اور اسکے فرمانبردار ہوجاؤ (ورنہ) پھر تم کو مدد نہیں ملے گی

وَ اتَّبِعُوْۤا اَحْسَنَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَكُمُ الْعَذَابُ بَغْتَةً وَّ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَۙ Open ayah 39:55 in the Quran reader

اور اس سے پہلے کہ تم پر ناگہاں عذاب آجائے اور تم کو خبر بھی نہ ہو اس نہایت اچھی (کتاب) کی جو تمہارے پروردگار کی طرف سے نازل ہوئی ہے پیروی کرو

اَنْ تَقُوْلَ نَفْسٌ یّٰحَسْرَتٰى عَلٰى مَا فَرَّطْتُّ فِیْ جَنْۢبِ اللّٰهِ وَ اِنْ كُنْتُ لَمِنَ السّٰخِرِیْنَۙ Open ayah 39:56 in the Quran reader

کہ (مبادا اس وقت) کوئی متنفس کہنے لگے کہ (ہائے ہائے) اس تقصیر پر افسوس ہے جو میں نے خدا کے حق میں کی اور میں تو ہنسی ہی کرتا رہا

اَوْ تَقُوْلَ لَوْ اَنَّ اللّٰهَ هَدٰىنِیْ لَكُنْتُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 39:57 in the Quran reader

یا یہ کہنے لگے کہ اگر خدا مجھ کو ہدایت دیتا تو میں بھی پرہیزگاروں میں ہوتا

اَوْ تَقُوْلَ حِیْنَ تَرَى الْعَذَابَ لَوْ اَنَّ لِیْ كَرَّةً فَاَكُوْنَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 39:58 in the Quran reader

یا جب عذاب دیکھ لے تو کہنے لگے کہ اگر مجھے پھر ایک دفعہ دنیا میں جانا ہو تو میں نیکوکاروں میں ہوجاؤں

بَلٰى قَدْ جَآءَتْكَ اٰیٰتِیْ فَكَذَّبْتَ بِهَا وَ اسْتَكْبَرْتَ وَ كُنْتَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 39:59 in the Quran reader

(خدا فرمائے گا) کیوں نہیں میری آیتیں تیرے پاس پہنچ گئی ہیں مگر تو نے ان کو جھٹلایا اور شیخی میں آگیا اور تو کافر بن گیا

53 ۔ 59:۔ قل یعبادی الذین اسرفوا علی انفسھم لا یقنطو امن (رح) اگر تو چاہے تو یاء کو حذف کر دے کیونکہ ندا بھی حذف کا موقع ہے۔ نحا نے کہا : اس میں نمایاں ترین وہ روایت ہے جسے محمد بن اسحاق نے نافع سے وہ حضرت ابن عمر ؓ اور وہ حضرت عمر ؓ سے نقل کرتے ہیں (1) جب ہم نے ہجرت کا ارادہ کرلیا تو میں ‘ ہشام بن عاص بن وائل سہمی اور عیاش بن ابی ربعہ بن عتبہ نے عہد و پیمان کیا کہا : ہمارے اکٹھے ہونے کی جگہ بنو غفار کا کنواں ہے ہم نے کہا : جو ہم سے پیچھے رہ گیا تو وہ محبوس سمجھا جائے گا پس اس کا ساتھ اپنا سفر جاری رکھے ہیں اور عیاش عتبہ پہنچ گئے اور ہشام کو ہم سے روک لیا گیا اسے آزمائش میں ڈالا گی اپس وہ فتنہ میں مبتلا ہوگیا ہم مدینہ میں کہا کرتے تھے : یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کو پہچانا ‘ اللہ کے رسول پر ایمان لائے پھر انہیں آزمائش میں ڈالا گیا جو انہیں لاحق ہوگئی ہم ان کے لئے کوئی توبہ نہیں دیکھتے وہ اپنے دلوں میں بھی یہی تصور کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں یہ نازل فرمایا : حضرت عمر ؓ نے کہا : میں نے اپنے ہاتھ سے اس ایت کو لکھا پھر اسے ہشام کی طرف بھیج دیا ‘ ہشام نے کہا : جب خط میرے پاس پہنچا تو میں اسے لے کر ذی طوی کی طرف نکلا میں نے کہا : اے اللہ ! مجھے اس کی سمجھ عطا فرما دے تو میں پہچان گیا کہ یہ آیت میرے بارے میں ہی نازل ہوئی ہے میں لوٹا اپنے اونٹ پر بیٹھا اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوگیا۔ سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے : مشرکوں میں سے کچھ لوگوں نے قتل کیے تو بہت زیادہ قتل کیے انہوں نے بدکاری کی تو بہت زیادہ بدکاری کی (1) انہوں نے نبی کریم ﷺ سے عرض کی یا انہوں نے نبی کری ﷺ کی طرف پاغام بھیجا جس چیز کی طرف آپ دعوت دیتے ہیں وہ بہت اچھی ہے کیا آپ ہمیں بتائیں گے کہ ہمارے لئے توبہ ہے : تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا : قل لعبادی الذین اسرفوا علی انفسھم۔ امام بخاری نے اس کے ہم معنی روایت نقل کی ہے وہ سورة فرقان میں گزر چکی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ وہ اہل مکہ کے بارے میں نازل ہوئی انہوں نے کہا : حضرت محمد ﷺ گمان کرتا ہے کہ جس نے بتوں کی پوجا کی اور جس نے ایسے نفس کو قتل کیا جس کا قتل کرنا حرام تھا اسے نہیں بخشا جائے گا تو ہم کیسے ہجرت کریں اور اسلام قبول کریں جب کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور معبودوں کی عبادت کی اور ہم نے ایسے نفوس کو قتل کیا جسے قتل کرنا اللہ تعالیٰ نے حرام کیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ آیت مسلمانوں کی ایک جماعت کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے عبادت کے معاملہ میں اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا اور انہیں خوف تھا کہ ان کی توبہ ان گناہوں کی وجہ سے قبول نہ ہوگی جو دور جاہلیت میں ان سے ہوئے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور عطا نے کہا : یہ آیت وحشی کے حق میں نازل ہوئی جس نے حضرت حمزہ کو شہید کیا تھا اس نے یہ گمان کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ اس کا اسلام قبول نہیں کرے گا۔ ابن جریج نے عطا سے وہ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت نقل کرتے ہوئے کہ وحشی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضرہوا عرض کی : اے محمد ﷺ میں آپ سے پناہ مانگنے کے لئے آیا ہوں مجھے پناہ دیجئے تاکہ میں اللہ کا کلام سنوں۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” میں یہ پسند کرت اتھا کہ میں تجھے پناہ کے بغیر دیکھوں مگر جب تو پناہ چاہتے ہوئے آگیا ہے تو تو میری پناہ میں ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا کلام سنے “۔ اس نے کہا : میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا ‘ میں نے اس نفس کو قتل کیا جسے اللہ تعالیٰ نے حرام کیا تھا اور میں نے بدکاری کی کیا اللہ تعالیٰ میری توبہ قبول فرمائے گا تو رسول اللہ ﷺ خاموش ہوگئے یہاں تک کہ یہ آیت نازل فرمائی : والذین لا یدعون مع اللہ الھا اخر ولا یقتلون النفس التی حزم اللہ الا بالحق ولا یزنون) الفرقان (68: رسول اللہ ﷺ نے اس پر یہ آیت تلاوت کی اس نے عرض کی : میں ایک شرط لگانا چاہتا ہوں ممکن ہے میں کوئی نیک عمل نہ کرسکوں میں آپ کی پناہ میں ذ رہنا چاہتا ہوں تاکہ میں اللہ تعالیٰ کا کلام سنوں تو یہ آیت نازل ہوئی : ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ و یغفر مادون ذلک لمن یشاء) النساء (48: رسول اللہ ﷺ نے اسے بلایا اور اس پر آیت کی تلاوت کی اس نے عر کی : ممکن ہے میں ان لوگوں میں سے ہوں جن کے بارے میں وہ نہ چاہے میں آپ کی پناہ چاہتا ہوں یہاں تک کہ میں اللہ تعالیٰ کا کلام سنوں تو یہ آیت نازل ہوئی : قل یعبادی الذین اسرفوا علی انفسھم لا تقنطوا من رحمۃ اللہ) الزمر (53: اس نے عرض کی : اب میں کوئی شرط نہیں دیکھتا تو وہ مسلمان ہوگیا۔ حماد بن سلمہ نے ثابت سے وہ وہشہر بن حوشب سے وہ حضرت اسماء ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو یہ پڑھتے ہوئے سنا : قل یعبادی الذین اسرفو علی انفسھم لا تقنطوا من رحمۃ اللہ ان اللہ یغفرالدنوب جمعیا اسے کوئی پرواہ نہیں کیونکہ وہ غفور و رحیم ہے (1) ۔ حضرت ابن مسعود کے مصحف میں ہے ان اللہ یغفر الذنوب جمیعا لمن یشاء۔ ابو جعفر نحاس نے کہا : یہ دونوں قرائتیں تفسیر ہیں یعنی اللہ تعالیٰ جس کے حق میں چاہتا ہے اسے بخش دیتا ہے اللہ تعالیٰ نے ان کی پہچان کرا دی ہے جن کو وہ بخشنا چاہتا ہے وہ توبہ کرنے والا ہے یا جس نے گناہ صغیرہ تو کیا اور اس کا گناہ کبیرہ نہ تھا اور اس پر راہنمائی کی کہ وہ ما بعد کلام سے تائب ہونے کا ارادہ کرتا ہے و انیبوا الی ربکم تائب کے تمام گناہ بخش دیئے جاتے ہیں اس پر یہ آیت دلالت کرتی ہے و انی الغفار لمن تاب) ظہ (82: یہ ایسا امر ہے جس پر کوئی اشکال نہیں۔ حضرت علی بن طالب ؓ نے فرمایا : اس آیت سے بڑھ کر کوئی وسعت والی آیت نہیں قل یعبادی الذین اسرفوا علی انفسھم لا تقنطو من رحمۃ اللہ یہ بحث سورت سبحان) الاسرائ ( میں گزر چکی ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر نے کہا : قرآن حکیم میں سب سے امید والی آیت یہ ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے اس کا رد کیا ہے کہ اور کہا : قرآن حکیم میں سب سے امید والی ایت و ان ربک لذو مغفرۃ للناس علی ظلمھم) الرعد (6: ہے سورة الرعد میں یہ بات گزر چکی ہے اسے ولا تقنطوا یعنی نون کے فتحہ اور کسرہ کے ساتھ پڑھا گیا ہے ‘ سورة ہجر میں اس کی وضاحت گزر چکی ہے۔ و انیبوا الی ربکم یعنی اطاعت کے ساتھ اس کی طرف لوٹ آئو جب اس امر کی وضاحت کی کہ جس نے شرک سے توبہ کی اللہ تعالیٰ اسے بخش دیتا ہے اب تو بہ اور اس کی بارگاہ کی طرف لوٹنے کا حکم دیا۔ انابہ کا معنی ہے اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹنا ہے۔ و اسلموا لہ اس کے سمانے خضوع کا اظہار کرو اور اس کی اطاعت کرو۔ من قبل ان یاتیکم العذاب قبل اس کے کہ دنیا میں عذاب آجائے ثم لا تنصرون۔ پھر تمہیں اس کے عذاب سے محفوظ نہیں رکھا جائے گا۔ حضرت جابر ؓ سے حدیث مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : من السعادۃ ان یطیل اللہ عمر المزفی الطاعۃ و یرزقہ الانابۃ و ان من الشقادۃ ان یعمل المر ئو یعجب بعملہ (1) یہ سعادت میں سے ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں انسان کی عمر کو لمبا کرے اور اسے انابت) اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ( کی توفیق دے اور شقاوت میں سے یہ بھی ہے کہ انسان عمل کرے اور اپنے عمل پر عجب کا اظہار کرے۔ واتبعوا احسن ما انزل الیکم من ربکم میں قبل ان یاتیکم العذاب بغتۃ و انتم لا تشعرون۔ احسن ما انزل سے مراد قرآن حکیم ہے۔ اور یہ سب کا سب حسن ہے حضرت حسن بصری نے جو کہا اس کا معنی ہے اس کی اطاعت کو لازم پکڑو اور اس کی معصیت اور اجتناب کرو (2) ۔ سعدی نے کہا : احسن سے مراد وہ ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں حکم دی ا ہے۔ ابن زید نے کہا : اس سے مراد محکمات ہیں اور متشابہ کا علم اس کے عالم کے سپرد کردو کہا : اللہ تعالیٰ نے کئی کتابیں نازل کیں تو رات ‘ اجنیل ‘ زبور اور قرآن حکیم کو نازل کیا اور اس کی اتباع کا حکم دیا ‘ یہی احسن ہے اور وہ معجزہ ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے۔ یہ احسن ہے کیونکہ یہ تمام کتابوں کے لئے ناسخ اور ان پر غالب ہے تمام کتابیں منسوخ ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد عفو ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم کو عفو اور قصاص میں اختیار دیا۔ ایک قول یہ کیا گیا : اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم کو جس کا علم دی اجب کہ وہ قرآن نہیں ہے پس وہ حسن ہے اور جو قرآن آپ کی طرف وحی کیا گیا ہے وہ احسن ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اللہ تعالیٰ نے تمہاری طرف سابقہ امتوں کی جو خبریں نازل کی ہیں وہ احسن ہیں۔ انتقول نفس یحسرتی ‘ ان محل نصب میں ہے تقدیر کلام یہ ہے کہ کر امۃ ان تقول کر فیوں کے نزدیک یہ تقدیر ہے لٔلا تقول بصریوں کے نزدیک حزر ان تقول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : تقدیر کلام یہ ہے ان تقول نفس کیونکہ اس سے نفوس میں سے بعض نفوس ہیں وہ اکفر کا نفس ہے۔ یہ جائز ہے اس سے مراد وہ نفس ہو جو انفس میں ممتاز ہے یا اس وجہ سے کہ وہ کفر میں شدید جھگڑا کرتا ہے یا اسے عظیم عقاب دیا جائے گا۔ یہ بھی جائز ہے کہ اس سے مراد کثرت ہو جسطرح اعشی نے کہا : و رب یقیع لوھتفت بجوہ اتانی کریم ینفض الراس مغضا (3) یہاں کریم سے مراد معززین کے جماعتیں ہیں یہاں ایک کریم مراد نہیں جس طرح یہ ہے رب بلدقطعت ‘ رب بطل قارعت ان دو مثالوں میں بھی کثرت کا ہی ارادہ ہے یا حسرت اصل میں یا حسرتی تھا یاء کو الف سے بدل دیا گیا کیونکہ یہ حرف خفیف ہے اور آواز کو لمبا کرنے کے ساتھ استغاثہ میں زیادہ موثر ہے بعض اوقات اس کے آخر میں ھاء لا حق کر دیت یہیں فراء نے شعر پڑھا ہے : یا مرحباہ بحمار ناجیہ ازا اتی قربتہ للسانیہ محل استدلال مرحباہ ہے۔ بعض اوقات وہ الف کے بعد یاء کو لاحق کردیتے ہیں تاکہ وہ اضافت پر دلات کرے۔ ابو جعفر نے بھی اسے اسی طرح پڑھا ہے یا حسرتای حسرت سے مراد شرمندگی ہے۔ علی مافرطت فی جسب اللہ حضرت حسن بصری نے کہا : فی جنب اللہ سے مراد اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے (1) ۔ ضحاک نے کہا : اللہ عزوجل کے ذکر میں کہا یعنی قرآن اور اس پر عمل کرنا۔ ابو عبیدہ نے کہا : فی جنب اللہ سے مراد اللہ تعالیٰ کے ثواب میں۔ فراء نے کہا : جنب سے مراد قرب اور پڑوس ہے یہ جملہ کہا جاتا ہے : فلان یعیش فی جنب فلان یعنی فلاں ‘ فلاں کے پڑوس یا پناہ میں رہتا ہے اسی سے الصاحب الجنب ہے یعنی میں نے اس کے جوار اور قرب کی طلب میں یعنی جنت کی طلب میں کوتاہی کی ہے۔ زجاج نے کہا : یعنی میں نے اس راستہ میں کوتاہی کی جو اللہ تعالیٰ کا راستہ ہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے مجھے دعوت دی۔ عرب کسی شے کی طرف جانے والے راستہکو جنب کہتے ہیں ‘ تو کہتا ہے : تجرعت فی جنبک غصا یہاں فی جنب کا معنی تیرے لئے تیرے سبب سے اور تیری رضا کی خاطر۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : فی جنب اللہ سے مراد ہے اس جانب میں جو اللہ تعالیٰ کی رضا اور ثواب کی طرف لے جاتی ہے عرب جانب کو جنب کہتے ہیں۔ شاعر نے کہا : الناس جنب والامیر جنب یعنی لوگ ایک جانب میں ہیں اور امیر دوسری جانب میں ہے۔ ابن عرفہ نے کہا : میں نے اللہ تعالیٰ کا امر ترک کردیا یہ جملہ کہا جاتا ہے مافعلت ذلک فی جنب حاجتی۔ یعنی میں نے یہ کام اپنی ضرورت کی وجہ سے نہیں کیا ‘ کثیر نے کہا : الا ستقین اللہ فی جنب عاشق (2) کیا تو عاشق کے معاملہ میں اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتی۔ مجاہد نے بھی اسی طرح کہا یعنی میں نے اللہ تعالیٰ کا امر ضائع کردیا (3) نبی کریم ﷺ سے مروی ہے : ” کوئی آدمی کسی مجلس میں نہیں بیٹھا ‘ نہ چلنے والی جگہ چلا اور نہ کسی بستر پر لیٹا جس میں وہ اللہ تعالیٰ کو یاد نہیں کرتا مگر قیامت کے روز وہ اس پر حسرت میں نہیں بیٹھا ‘ نہ چلنے والی جگہ چلا اور نہ کسی بستر پر لیٹا جس میں وہ اللہ تعالیٰ کی یاد نہیں کرتا مگر قیامت کے روز وہ اس پر حسرت میں ہوگا “۔ ابو دائود نے اسی معنی کی رویت نقل کی ہے ابراہیم تیمی نے کہا : قیامت کے روز حسرتوں میں سے ایک یہ ہوگی کہ انسان اپنے اس مال کی جو اللہ تعالیٰ نے اسے عطا کیا تھا قیامت کے روز غیر کے میزان میں دیکھے گا جس کا دوسرے فرد وارث بنا تھا اور اس میں حق کے مطابق عمل کیا تو عمل کرنے والے کے لئے اجر ہوگا اور دوسرے پر بوجھ ہوگا۔ اور حسرتوں میں سے ایک سے حسرت یہ بھی ہوگی کہ ایک بندہ اپنے علام کو دیکھے گا جو اللہ تعلای نے اسے دنیا میں عطا کیا تھا وہ مقام و مرتبہ میں مالک سے زیادہ اللہ تعالیٰ کے قریب ہوگا یا ایک آدمی کو دیکھ گا جسے وہ دنیا میں نابینا پہچانتا تھا اب قیامت کے روز وہ بینا ہے اور وہ خود نابینا ہے۔ و ان کنت لمن السخرین۔ یعنی تو نہیں ہے مگر دنیا میں قرآن ‘ رسول اور اللہ کے اولیاء سے استہزاء کرنے والوں میں سے (1) ۔ قتادہ نے کہا : یعنی اس کے لئے یہ ات کافی نہیں کہ اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کو ضائع کیا یہاں تک کہ اس نے اطاعت گزاروں کا مذاق اڑانا شروع کردیا ان کنت حال ہو نیکی حیثیت سے منسوب ہے گویا کہا : میں نے کوتاہی کی جب کہ میں مذاق کرنے والا تھا یعنی میں نے مذاق اڑانے کی حالت میں کوتاہی کی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ میں نہیں تھا مگر مذاق ‘ کھیل اور باطل میں یعنی میری سب کاوش غیر اللہ کی عبادت میں تھیں۔ او تقول لو ان اللہ ہدینی لکنت من المتقین۔ یا یہ نفس کہے گا : کاش ! اللہ تعامی میری راہنمائی اپنے دین کی طرف کرتا تو میں شرک اور معاصی سے بچنے والوں میں سے ہوت ایہ قول ” اگر اللہ تعالیٰ مجھے ہدایت دیتا تو میں ہدایت یافتہ ہوجاتا “ سچا قول ہے یہ مشرکینکے اس استدلال کے قریب ہے جس کی خبر اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں ہے : سیقول الذین اشرکوا لو شاء اللہ ما اشرکنا) الانعام (148: یہ کلمہ حق ہے جس کے ساتھ باطل کا ارادہ کیا گیا جس طرح حضرت علی شیر خدا ؓ نے فرمایا جب ایک خارجی نے کہا : لا حکم الا اللہ۔ او تقول حین تری العذاب لو ان لی کرۃ فاکون من المحسنین۔ یعنی جب وہی نفس عذاب دیکھے گا تو وہ کہے گا : کاش ! میرے لئے دوبارہ لوٹنا ہوتا فاکون تمنی کے جواب کے طور پر منصوب ہے اگر تو چاہے تو یہ کرۃ پر معطوف ہو کیونکہ اس کا معنی ہے ان اکر جس طرح شاعر نے کہا : للبس عباء ۃ و تقر عینی احب الی من لبس الشفوف فراء نے یہ شعر پڑھا : فما لک منھا غیر زکر و خشیۃ و تسال عن رکبانھا بن یسمو (2) یہاں و تسال کو نصب الذکری کے محل کی وجہ سے ہے کیونکہ کلام کا معنی ہے فمالک منھا الا ان تذکر یہی صورت حال للبس عباء ۃ و تقر میں ہے کیونکہ اس کا معنی ہے لان البس عباء ۃ و تقر ابو صالح نے کہا : بنی اسرائیل کے ایک عالم میں رقعہ پایا کہ ایک آدمی طویل عرصہ تک اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتا ہے وہ اپنے حق میں اپنے عمل کا اختتام جہنمی کے عمل سے کرتا ہے تو وہ جہنم میں داخل ہوجاتا ہے ایک آدمی طویل عرصہ تک اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں عمل پیرا رہتا ہے پھر وہ اپنے حق میں اپنے عمل کا اختتام جنتی کے عمل سے کرتا ہے تو وہ جنت میں داخل ہوجاتا ہے اس نے کہا : میں کس وجہ سے اپنے آپ کو تھکائوں اس نے عمل ترک کردیا اور فسق و معصیت میں شروع ہوگیا ابلیس نے اسے کہا : تیری عمر طویل ہے تو دنیا سے اندوز ہولے پھر توبہ کرلینا وہ فسق میں شروع ہوگیا اور اپنا مال فجور میں خرچ کرنے لگا موت کا فرشتہ اس کے پاس اس حالت میں آیا جب وہ لذیز ترین عمل میں مصروف تھا تو اس نے کہا : ہائے افسوس ! جو میں نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں کوتاہی کی میری عمر شیطان کی اطاعت میں گزر گئی اس نے اس وقت شرمندگی کا اظہار کیا جس وقت سرمندگی اسے نفع دینے والی نہ تھی ‘ اللہ تعالیٰ نے اس کی خبر قرآن میں نازل کی۔ قتادہ نے کہا : اس کی کئی صنفیں ہیں ان میں سے ایک صنف نے کہا : یحسرتی علی مافرطت فی جنب اللہ ایک صنف نے کہا : لو انا اللہ ہدینی لکنت من المتقین۔ ایک صنف نے کہا : لو ان لی کرۃ فاکون من المحسنین۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی کلام کا رد کرتے ہوئے کہا : بلی قد جاء تک ایتی۔ زجاج نے کہا : بلی ‘ نفی کا جواب ہے کلام میں نفی نہیں لیکن لو ان اللہ ہداینی کا معنی ہے ما ھد انی اس نے مجھے ہدایت نہیں دی گویا اس قائل نے کہا : میری راہنمائی نہیں کی گئی تو کہا گیا : کیونکہ نہیں تیرے لئے ہدایت کا راستہ واضح کیا گیا اگر تو ارادہ کرتا کہ تو ایمان لائے تو تیرے لئے ایمان لانا ممکن تھا ایتی سے مراد قرآن ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا : آیات سے مراد معجزات ہیں یعنی دلیل واضح ہوگئی اور تو نے اسکا انکار کردیا اور اس کو جھٹلا دیا۔ واستکبرت و کنت من الکفرین۔ تو نے ایمان لانے سے تکبر کیا کہا : و استکبرت و کنت یہ مذکر کو خطاب ہے کیونکہ نفس کا لفظ مذکر اور مونث پر واقع ہوتا ہے یہ کہا جاتا ہے : ثلاثۃ انفس مبرد نے کہا : عرب کہتے ہیں نفس واحد یعنی ایک انسان۔ ربیع بن انس نے حضرت ام سلمہ ؓ سے وہ نبی کریم ﷺ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے یوں قراءت کی قد جاء تک ایتی فکذبت بھا واستکبرت و کنت من الکفرین۔ اعمش نے اسے یوں پڑھا بلی قد جاء تک ایتی یہ مذکر پر دال ہے (1) ۔ ربیع بن انس حضرت ام سلمہ ؓ سے نہیں ملے مگر قراءت جائز ہے کیونکہ نفنس کا لفظ مذکر اور مونث دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ اس قراءت کا بعض لوگوں نے انکار کیا ہے اور کہا : پھر اس صورت میں تاء کو کسرہ دیتے ہوئے یہ پڑھنا واجب ہوگا و کنت من الکوافرا و من الکافرات۔ نحاس نے کہا : یہ لازم نہیں کیا تو نہیں دیکھتا کہ اس سے پہلے ان تقول نفس ہے پھر فرمایا : و انت کنت لمن السخرین من السواخر اور من الساخرات نہیں فرمایا تاء کے کسرہ کی صورت میں تقدیر کلام یہ ہوگی واستکبرت و کنت من الجمع الساخرین او من الناس الساخرین او من القوم الساخرین۔
Ayahs 39:60–64

وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ تَرَى الَّذِیْنَ كَذَبُوْا عَلَى اللّٰهِ وُجُوْهُهُمْ مُّسْوَدَّةٌ١ؕ اَلَیْسَ فِیْ جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْمُتَكَبِّرِیْنَ Open ayah 39:60 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے خدا پر جھوٹ بولا تم قیامت کے دن دیکھو گے کہ ان کے منہ کالے ہو رہے ہوں گے کیا غرور کرنے والوں کا ٹھکانہ دوزخ نہیں ہے ؟

وَ یُنَجِّی اللّٰهُ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا بِمَفَازَتِهِمْ١٘ لَا یَمَسُّهُمُ السُّوْٓءُ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 39:61 in the Quran reader

اور جو پرہیزگار ہیں انکی (سعادت اور) کامیابی کے سبب خدا انکو نجات دے گا نہ تو ان کو کوئی سختی پہنچے گی اور نہ وہ غمناک ہوں گے

اَللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ١٘ وَّ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ وَّكِیْلٌ Open ayah 39:62 in the Quran reader

خدا ہی ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے اور وہی ہر چیز کا نگران ہے

لَهٗ مَقَالِیْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ۠ Open ayah 39:63 in the Quran reader

اسی کے پاس آسمانوں اور زمین کی کنجیاں ہیں اور جنہوں نے خدا کی آیتوں سے کفر کیا وہی نقصان اٹھانے والے ہیں

قُلْ اَفَغَیْرَ اللّٰهِ تَاْمُرُوْٓنِّیْۤ اَعْبُدُ اَیُّهَا الْجٰهِلُوْنَ Open ayah 39:64 in the Quran reader

کہہ دو کہ اے نادانو ! تم مجھ سے یہ کہتے ہو کہ میں غیر خدا کی پرستش کرنے لگوں

60 ۔ 64:۔ و یوم القیمۃ تری الذین کذبوا علی اللہ وجو ھھم مسودۃ ان کا یہ حال اس وجہ سے ہے کہ انہیں اللہ تعالیٰ کی عضب اور ناراضگی نے گھیر رکھا ہے۔ اخفش نے کہا : تری ‘ وجوھھم مسودۃ میں عمال نہیں کیونکہ وہ مبتدا اور خبر ہے۔ زمحشری نے کہا : اگر تری سے مراد رویۃ بصر لال جائے تو یہ جملہ حال ہوگا اگر رویۃ قلب مراد ہو تو یہ اس کا دوسرا مفعول ہوگا (1) ۔ الیس فی جھنم مثوی للمتکبرین۔ رسول اللہ ﷺ نے کبر کے معنی کی وضاحت کی فرمایا : سفہ الحق و غمص الناس حق کی ناقدری کرنا اور لوگوں کو حقیر جاننا اور ان کی حقارت بیان کرنا۔ سورة بقرہ اور دوسری آیات میں یہ بحث گزر چکی ہے ہے حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ نے نبی کریم ﷺ سے روایت نقل کی ہے : یحشر المتکبرون یوم القیمۃ کالذریلحقھم الصفار حتی یوتی بھم الی سحن جہنم متکبرون کو قیامت کے روز کیڑیوں کی صورت میں اٹھایا جائے گا انہیں حقات لاحق ہوگی یہاں تک کہ انہیں جہنم کی طرف لے جائے جائے گا (2) ۔ و ینجی اللہ الذین اتقوا اے ینجی بھی پڑھا گیا ہے یعنی جو شرک اور نافرمانیوں سے بچتے رہیں بممفازتھم مفازۃ کا واحد کا صیغہ ہے عام قراءت یہی ہے کیونکہ یہ مصدر ہے۔ کو فیوں نے بمفاز اتھم پڑھا ہے (3) ۔ یہ جائز ہے جس طرح تو کہتا ہے بسعادتھم اس آیت کی تفسیر حضرت ابوہریرہ رضی کی حدیث میں ہے جو نبی کریم ﷺ سے مروی ہے : ” اللہ تعالیٰ ہر انسان کے ساتھ اس کا عمل بھی اٹھائے گا مومن کا عمل اس کے ساتھ خوبصورت ترین اور عمدہ ترین خوشبو کے ساتھ ہوگا جب کبھی بھی رعب یا خوف ہوگا تو اس آدمی کو کہے گا : تو خوفزدہ نہ ہو تو اس سے مراد نہیں اور نہ ہی تو اس سے مقصود ہے ‘ جب یہ بات کافی دفعہ ہوچکی ہوگی تو وہ کہے گا : تو کتنا ہی خوبصورت ہے تو کون ہے ؟ وہ کہے گا : تو مجھے نہیں پہچانتا میں تیرا نیک عمل ہوں تو نے میرے بوجھل ہونے کے باوجود اٹھائے رکھا اللہ کی قسم ! اب میں تجھے اٹھائوں گا اور تیرا دفاع کروں گا اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : و ینجی اللہ الذین اتقوا بمفازتھم لا یمسھم السوء ولا ھم یحزنون۔ وکیل سے مراد نگہبان اور امور بجا لانے والا ‘ یہ بحث پہلے گزر چکی ہے۔ لہ مقام لید السموت والارض اس کا واحد مقلید ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا واحد مقلاہ ہے اکثر اس میں اقلید استعمال ہوتا ہے۔ مقالید سے مراد چابیاں ہیں ‘ یہ حضرت اب عباس ؓ اور دوسرے علماء سے مروی ہے۔ سدی نے کہا : اس سے مراد آسمانوں اور زمین کے خزانے ہیں۔ دوسرے علماء نے کہا : آسمان کے خزانوں سے مراد بارش ہے اور زمین کے خزانوں سے مراد نباتات ہیں اس میں ایک اور لغت اقالید ہے اسی تعبیر کی بنا پر اس کی واحد اقلید ہے جو ہری نے کہا : اقلید سے مراد چابی ہے مقلد کا معنی بھی چابی ہے جس طرح منجل ہے بعض اوقات اس کے ساتھ اس کو باٹا جاتا ہے جس طرح قت) صحرائی بوٹی ( کو باٹا جاتا ہے جب اس سے رسی بنائی جائے اس کی جمع مقالید ہے اقلد البحر علی خلق کثیر یعنی سمندر نے انہیں غرق کردیا گو یا اس نے ان پر دروازہ بند کردیا۔ بیہقی نے حضرت ابن عمرؓ سے روایت نقل کی ہے کہ حضرت عچمان بن عفان ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے اللہ تعالیٰ کے فرمان : لہ مقالید السموت والارض کی تفسیر کے بارے میں پوچھا (1) تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” کسی نے بھی مجھے اس بارے میں نہیں پوچھا وہ لا الہ الا اللہ ‘ اللہ اکبر ‘ سبحان اللہ وبحمدہ ‘ استغفر اللہ ‘ لا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم ھوالاول والاخر والظاہر و الباطن یحی و یمیت بیدہ الخیر و ھو علی کل شیر قدیر ہے (2) ثعلبی نے اپنی تفسیر میں یہ روایت نقل کی ہے اور ان کلمات کا اضافہ کیا : ” جس نے صبح اور شام کے وقت دس مرتبہ ان کلمات کو پڑھا اللہ تعالیٰ اسے چھ انعامات سے نوازے گا (1) اس کی ابلیس سے حفاظت کرے گا (2) بارہ ہزار فرشتے اس کے پاس حاضر ہونگے (3) اسے ایک قنطار اجر دیا جائے گا (4) اس کا درجہ بلند کیا جائے گا (5) اللہ تعالیٰ حورعین سے اس کی شادی کرے گا (6) اس کے لئے اتنا اجر ہوگا جتنا اجر اس آدمی کو دیا جائے جس نے قران ‘ تورات ‘ انجیل اور زبور پڑھی ہوگی اس کے لئے مزید اس آدمی جیسا اجر ہوگا جس نے حج اور عمرہ کیا ہوگا جس کا حج اور عمرہ قبول ہوگا اگر وہ اس رات فوت ہوجائے تو وہ شہید کی موت مرے گا “۔ حارث نے حضرت علی شیر خدا ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے مقالید کی تفسیر کے بارے میں سوال کیا فرمایا : اے علی ! تو نے عظیم مقالید کے بارے میں سوال (3) جب تو صبح کرے یا شام کرے تو تو کہے : لا الہ الا اللہ ‘ اللہ اکبر ‘ سبحان اللہ الحمد للہ ‘ استغفر اللہ لا حولا ولا قوۃ الا باللہ الاول والاخر والظاہر و الباطن لہ الملک ولہ الحمد بیدہ الخیر و ھو علی کل شی قدیر جس نے صبح کے وقت انہیں دس بار کہا اور جس نے شام کے وقت دس بار کہا اللہ تعالیٰ اسے چھ انعامات سے نوازے گا (1) شیطان اور اس کے لشکروں سے اسے محفوظ رکھے گا انہیں اس پر کوئی غلبہ حاصل نہیں ہوگا (2) اسے جنت میں ایک قنطار دیا جائے گا جو ترازو میں احد پہآر سے بڑھ کر ہوگا (3) اس کا درجہ بلند کیا جائے گا جسے نیک لوگ ہی حاصل کریں گے (4) اللہ تعالیٰ اس کی شادی حورعین سے فرمائے گا (5) اس کے پاس بارہ فرشتے حاضرہوتے ہیں جو ان کلمات کو ان کے حق میں ” رق منشور “ میں لکھتے ہیں اور قیامت کے روز اس کے حق میں گواہی دیں گے (6) اس کے لئے اتنا اجر ہوگا گویا اس نے تو رات ‘ انجیل ‘ ابور ‘ اور فرقان کی قراءت کی ہے اور اس آدمی کی طرح اجر ہوگا جس نے حج اور عمرہ کیا جس کا حج اور عمرہ اللہ تعالیٰ نے قبول کیا اگر وہ اس دن ‘ اس رات یا اس مہینے میں فوت ہوگیا تو وہ شہید کے طور پر لکھا جائے گا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مقالید سے مراد اطاعت ہے یہ جملہ کہا جاتا ہے : القی الی فلان بالمقالید یعنی اس نے اسے جس بھی امر کا حکم دیا اس میں اس نے اطاعت کی۔ آیت کا معنی یہ ہے آسمانوں اور زمینوں میں جو کوئی ہے سب اس کی اطاعت کرتے ہیں۔ والذین کفرو بایت اللہ اولئک ھم الخسرون۔ آیات سے مراد قرآن ‘ دلائل اور دلالات ہیں اس کے بارے میں گفتگو پہلے گزر چکی ہے۔ قتل افغیر اللہ تامرونی اعبد یہ اس وقت ہوا جب انہوں نے نبی کریم ﷺ کو اس امر کی دعوت دی جس پر وہ قائم تھے یعنی بتوں کی وہ عبادت کیا کرتے تھے انہوں نے کہا : یہ تیرے آباء کا دین ہے غیر پر نسب اعبد فعل کی وجہ سے ہے تقدیر کلام یہ ہوگی اعبد غیر اللہ فیما تا مروننی یہ بھی جائز ہے کہ حرف جار کے حذف کی بناء پر تامرونی اسے نصب دے تقدیر کلام یہ ہوگی اتا مرونی بغیر اللہ اعبدہ کو ین کہ ان مقدرہ ہے اور ان اور فعل مصدر ہیں یہ غیر سے بدل ہے تقدیر کلام یہ ہے اتا مرونہ بعبادۃ غیر اللہ۔ نافع نے تامرونی پڑھا ہے یعنی ایک نون مخففہ اور یاء کو فتحہ دیا ہے (1) ابن عامر نے تامرونی اپنے اصل پر پڑھا ہے باقی قراء نے ایک نون مشددہ پڑھا ہے جس میں ادغام کا قاعدہ جاری ہے ‘ ابو عبیدہ اور ابو حاتم نے اسے ہی پسند کیا ہے کیونکہ مصحف عثمانی میں اسی طرح ہے۔ نافع نے اسے دوسرے نون کے حذف کے ساتھ پڑھا ہے محذوف دوسرا نون ہوگا کیونکہ تکرار اور ثقل اسی کی وجہ سے واقع ہوتا ہے ‘ دوسری بات یہ بھی ہے کہ پہلے حذف جائز ہی نہیں کیونکہ وہ تو رفع کی علامت ہے۔ سورة الانعام میں اس کی وضاحت اتحاجونی میں گزر چکی ہے اعبد اصل میں ان اعبد تھا جب ان کو حذف کردیا گیا تو اسے رفع دیا گیا یہ کسائی کا قول ہے اسی معنی میں شاعر کا قول ہے۔ الا ایھذا الزاجری احضر الوغی محل استدلال احضر الوغی ہے اصل میں ان احضر تھا۔ اس توجیہ کی صحیح دلیل اس کی قراءت ہے جس نے اسے اعبد منصوب پڑھا ہے۔
Ayahs 39:65–66

وَ لَقَدْ اُوْحِیَ اِلَیْكَ وَ اِلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكَ١ۚ لَئِنْ اَشْرَكْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 39:65 in the Quran reader

اور (اے محمد ﷺ تمہاری طرف اور ان (پیغمبروں) کی طرف جو تم سے پہلے ہوچکے ہیں یہی وحی بھیجی گئی ہے کہ اگر تم نے شرک کیا تو تمہارے عمل برباد ہوجائیں گے اور تم زیاں کاروں میں ہوجاؤ گے

بَلِ اللّٰهَ فَاعْبُدْ وَ كُنْ مِّنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 39:66 in the Quran reader

بلکہ خدا ہی کی عبادت کرو اور شکر گزاروں میں ہو

65 ۔ 66:۔ و لقد اوحی الیک و الی الذین من قبلک لین اشرکت ایک قول یہ کیا گیا ہے : کلام میں تقدیم و تاخیر ہے تقدیر کلام یہ ہوئی لقد اوحی الیک لئن اشرکت و اوحی الی الذین من قبلک کذلک ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ اپنے طریقہ پر ہے۔ مقاتل نے کہا : یعنی اپ کی طرف اور آپ سے قبل انبیاء کی طرف توحید کی وحی کی گئی اور توحید محذوف ہے پھر فرمایا : لئن اشرکت یا محمد۔ اے محمد ﷺ اگر آپ شرک کیں لیحبطن عملک تو تیرے عمل بربار ہوجائیں گے یہ خاض نبی کریم ﷺ کو خطاب ہے۔ ایک قولیہ کیا گیا ہے : خطاب نبی کریم ﷺ کو ہے اور مراد آپ کی امت ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کو علم ہے کہ آپ شرک نہیں کرتے اور آپ سے شرک واقع نہیں ہوتا۔ احباط کا معنی باطل کرنا اور فاسد کرنا ہے۔ قشیری نے کہا : جس نے ارتداد کیا تو اس کو سابقہ اطاعتیں نفع نہ دیں گی لیکن ارتداد کے ساتھ اعمال کا برباد ہونا کفر پر وفات کے ساتھ مشروط ہے اسی وجہ سے فرمایا : من یرتددمنکم عن دینہ قیمت و ھو کافر فاولئک حبطت اعمالھم یہاں مطلق ‘ مقید پر محمول ہے اسی وجہ سے ہم نے کہا : جس نے حج کیا پھر مرتد ہوگیا پھر اسلام کی طرف لوٹ آیا تو اس پر فرض حج کا اعادہ نہیں نہیں۔ میں کہتا ہوں : یہ امام شافعی کا مذہب ہے ‘ امام مالک کے نزدیک اس پر حج واجب ہے اس پر گفتگو سورة بقرۃ میں گزر چکی ہے۔ بل اللہ فاعبد نحاس نے کہا : میری کتاب میں ابو اسحاق سے یہ تحریر ہے کہ لفظ اللہ اسم جلالت نصوبہ ہیجس کا عمل اعبد ہے اس مسئلہ میں بصریوں اور کو فیوں میں کوئی اختلاف نہیں۔ نحاس نے کہا : فراء نے کہا یہ فعل مضمر کی وجہ سے منصوب ہے ‘ یہ مہدوی نے کسائی سے حکایت بیان کی ہے۔ جہاں تک زجاج کا تعلق ہے زجاج نے کہا : یہ مجازات کے لئے ہے اخفش نے کہا : یہ زائدہ ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : فاعبد کا معنی فوحد ہے اس کی وحدانیت بیان کرو۔ دوسرے علماء نے کہا : بلکہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرو اور مشرکین کے برعکس اس کے انعامات کا شکر بجا لائو۔
Ayahs 39:67–68

وَ مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ١ۖۗ وَ الْاَرْضُ جَمِیْعًا قَبْضَتُهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ السَّمٰوٰتُ مَطْوِیّٰتٌۢ بِیَمِیْنِهٖ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 39:67 in the Quran reader

اور انہوں نے خدا کی قدر شناسی جیسی کرنی چاہیے تھی نہیں کی اور قیامت کے دن تمام زمین اس کی مٹھی میں ہوگی اور آسمان اسکے داہنے ہاتھ میں لپٹے ہوں گے اور وہ ان لوگوں کے شرک سے پاک اور عالیشان ہے

وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَصَعِقَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُ١ؕ ثُمَّ نُفِخَ فِیْهِ اُخْرٰى فَاِذَا هُمْ قِیَامٌ یَّنْظُرُوْنَ Open ayah 39:68 in the Quran reader

اور جب صور پھونکا جائے گا تو جو لوگ آسمان میں ہیں اور جو زمین میں ہیں سب بیہوش ہو کر گرپڑیں گے مگر وہ جس کو خدا چاہے پھر دوسری دفعہ پھونکا جائے گا تو فوراً سب کھڑے ہو کر دیکھنے لگیں گے

67 ۔ 68:۔ وما قدرو اللہ حق قدرہ مبرد نے کہا : انہیں اللہ تعالیٰ کی جس طرح عظمت بجا لانا تھی ایسی عظمت بجا نہ لائے یہ تیرے اس قول سے ماخوذ ہے : فلان عظیم القدر نحاس نے کہا : اس تعبیر کی بنا پر معنی ہوگا جب انہوں نے اللہ تعالیٰ کی عبادت کے ساتھ دوسرے معبود ان باطلہ کی عبادت کی جب کہ اللہ تعالیٰ ہر شے کا مالک اور خالق ہے تو انہوں نے اللہ تعالیٰ کی کماحقہ تعظیم نہ کی پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت اور عظمت کا ذکر کیا والارض جمیعا قبضۃ ہ یوم القیمۃ والسموت مطویت بیمینہ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی پاکی بیان کی کہ یہ کسی عضو کے ساتھ ہو فرمایا : سبحنہ و تعلی عما یشرکین۔ ترمذی شریف میں حضرت عبداللہ ؓ سے مروی ایک روایت ہے کہ ایک یہودی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا عرض کی : اے محمد ! ﷺ اللہ تعالیٰ تمام آسمانوں کو ایک انگلی پر روکتا ہے اور مخلوقات کو ایک انگلی پر روکتا ہے پھر فرمایا ہے : میں بادشاہ ہوں۔ نبی کریم ﷺ ہنسے یہاں تک کہ آپ کی داڑھیں ظاہر ہوگئیں (1) پھر فرمایا : وما قدرو اللہ حق قدرہ) الانعام (91: کہا : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ بجاری و مسلم میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ قات کے روز زمین کو قبض کرے گا اور اشمان کو اپنے دائیں ہاتھ میں لپیٹے گا پھر فرمائے گا : میں بادشاہ ہوں زمن کے بادشاہ کہاں ہیں ؟ “ ترمذی شریف میں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اللہ تعالیٰ کے فرمان والارض جمعیا قبضتہ یوم القیمۃ والسموت مطویت بیمینہ کے بارے میں پوچھا کہا : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ اس روز لوگ کہاں ہوں گے (2) ؟ فرمایا جہنم کے پل پر ایک روایت میں ہے کہ ” اے عائشہ ! صراط پر “ کہا : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان : والارض جمیعا قبضتہ ‘ و یقبض اللہ الارض سے مراد اس کی قدرت اور تمام مخولقات کا احاطتہ ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے : مافلان الفی قبضتی وہ اس سے مراد لیتے ہیں اشیاء اس کی ملک وقدرت میں ہے بعض اوقات قبض اور طے کا معنی کسی شے کو فنا کرنا اور ختم کرنا ہوتا ہے والارض جمیعا قبضتہ یہ احتمال ہے کہ اس سے مراد تمام زمین قیامت کے روز تباہ و برباد ہونے والی ہے۔ الارض سے مراد ساتوں زمین ہیں اس کی دو شہادتیں ہیں۔ والارض جمیعا کیونکہ یہ موقع تفخیمکا ہے اور وہ مبالغہ کا تقاضا کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فرمان : و السموت مطویت بیمینہ سے مراد کسی کدو کاش سے لپیٹنا نہیں اس سے مراد فنا اور تباہ ہونا ہے یہ جملہ کہا جاتا ہے : قد انطوی عنا ماکنا فیہ و جاء نا غیرہ ‘ انطوی عنادھر کا معنی ہے یعنی زمانہ ہم سے گزر گیا ہے۔ لفظ یمین ‘ کلام عرب اور کبھی قدرت اور ملک کے معنی میں ہوتی ہے اس معنی میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : اوما ملکت ایمانکم) النساء (3: سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے لا خذنا منہ بالیمین۔ ) الحاقۃ ( یعنی ہم نے اس کی قوت اور قدرت گرفت میں لے لی۔ فراء اور مبرد نے کہا : یمین کا معنی قدرت اور قدرت ہے دونوں نے یہ شعر پڑھا : اذا مارایۃ رفعت لمجد تلقاھا عرابۃ بالیمین جب کبھی جھنڈا بزرگی کے لئے بلند کیا گیا تو عرابہ نے اسے قوت سے پکڑ لیا۔ ایک اور شاعر نے کہا : و لما رایت الشمس اشرق نورھا تنا ولت منھا حاجتی بیمین جب میں نے سورج کو دیکھا کہ اس کا نور روشن ہے تو میں نے اس سے اپنی حاجت کی بڑی قوت لے لیا۔ قتلت شنعفا ثم فاران بعدہ و کان علی الایات غیر امین یہاں قیامت کو خصوصا ذکر کیا اگرچہ اس کی قدرت ہر چیز کو شامل ہے کیونکہ قیامت کے روز تمام دعوے ختم ہوجائیں گے جس طرح فرمایا : والا مر یو مذ للہ۔ ) الانفطار (19: ملک یوم الدین۔ ) فاتحہ (4: جس طرح سورت فاتحہ میں یہ بحث پہلے گزر چکی ہے اسی وجہ سے حدیث طیبہ میں فرمایا : ثم یقول انا الملک این ملوک الارض (1) پھر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : میں بادشاہ ہوں زمین کے بادشاہ کہاں ہیں ہم نے ” التذکرہ “ میں اس پر مفصل بحث کی ہے اور حضرت ابن عمر ؓ کی حدیث ثم یصوی الارض بمشالہ میں شمال کے ذکر پر گفتگو کی ہے۔ و نفخ فی اصلور فصعق من فی السموت و من فی الارض الا من شاء اللہ ثم نفخ فیہ اخری فاذاھم قیام ینظرون۔ زمین کو زبض کرنے اور آسمان کو لپیٹنے کے درمیان صور پھونکا جائے گا یہ دو نفخے ہونگے ان میں سے پہلے فنخہ کے موقع پر مخلوقات مر جائے گی اور دوسرے نفخہ کے موقع پر وہ زندہ ہونگے بحث سورة نمل اور انعام میں گزر چکی ہے۔ جو صور پھونکے گا وہ حضرت اسرافیل (علیہ السلام) ہونگے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ان کے ساتھ حضرت جبریل امین ہونگے جس طرح حضرت ابو سعید خدری ؓ سے حدیث مروی ہے ‘ صور پھونکنے والوں کے ہاتھوں میں دو سینگ ہیں وہ نظر لگائے ہوئے ہیں کہ کب انہیں حکم دیا جائے (2) ۔ اسے ابن ماجہ نے سنن میں نقل کیا ہے۔ ابو دائود کی کتاب میں حضرت ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صور پھونکنے والے کا ذکر کیا اور کہا : اس کی دائیں جانب حضرت جبریل امین اور بائیں جانب حضرت میکائیل (علیہ السلام) ہیں (3) ۔ جو لوگ اس سے مستثنی ہیں ان کے بارے میں اختلاف ہے ؟ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ شہدا ہونگے جو عرش کے ارد گرد اپنی تلواریں گلے میں لٹکائے ہوئے ہونگے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ ‘ سے ایک مرفوع حدیث مروی ہے جس کا ذکر قشیری نے کیا اور حضرت عبداللہ کی حدیث ہے جسے ثعلبی نے ذکر کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ حضرات جبریل امین ‘ میکائیل ‘ اسرافیل اور ملک الموت (علیہم السلام) ہیں۔ حضرت انس ؓ سے حدیث مروی ہے کہ نبی کری ﷺ نے پڑا و نفخ فی اصور فصعق من فی السموت و من فی الارض الا من شاء اللہ) الزمر (68: تو صحابہ نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! وہ کون لوگ ہیں جن کی استثناء اللہ تعلای نے کی ہے ؟ فرمایا : وہ حضرت جبریل امین ‘ حضرت میکائیل ‘ حضرت اسرافیل اور ملک الموت (علیہم السلام) ہیں اللہ تعالیٰ ارشادفرمائے گا : اے ملک الموت ! میری مخلوق میں سے کون باقی ہے جب کہ وہ خوب جانتا ہے ؟ تو وہ عرض کرے گا : اے میرے رب ! جبریل ‘ میکائیل اور اسرافیل اور تیرا ضعیف بندہ ملک الموت باقی ہے ‘ اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا : اسرافیل اور میکائیل کی روح قبض کرلے تو وہ دونوں مر کے گر پڑیں گے جس طرح وہ پہاڑ ہوں اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا : اے ملک الموت ! تو بھی مر جا تو وہ بھہ مر جائے گا۔ اللہ تعالیٰ جبریل امین سے فرمائے گا : اے جبریل ! کون باقی ہے ؟ تو وہ عرض کرے گا : تو برکتوں والا ہے تو بلند ہے اے صاحب جلال و اکرام ! تیری ذات باقی ہے اور ہمیشہ رہنے والی ہے جب کہ جبریل مرنے والا فانی ہے اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا : اے جبریل ! تیری موت ضروری ہے ‘ وہ سجدہ میں گر پڑے گا وہ اپنے پروں کو پھڑ پھڑا رہا ہوگا : وہ کہے گا اے میرے رب ! تو پاک ہے تو برکتوں والا تو بلند وبالا ہے اے صاحب جلال واکرام ! نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ” جبریل امین کی تخلیق حضرت میکائیکل (علیہ السلام) کی تخلیق پر یوں فضیلت رکھتی ہے جس طرح بڑے پہاڑ کو چھوٹے ٹیلے پر فضیلت ہوا کرتی ہے “ اسے ثعلبی نے ذکر کیا ہے۔ اے نحاس نے بھی ذکر کیا ہے کہ محمد بن اسحاق ‘ یزید قاشی سے وہ حضرت انس بن مالک ؓ سے وہ نبی کریم ﷺ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ الا من شاء اللہ کا مصداق حضرب جبریل ‘ حضرت میکائیل ‘ حاملین عرش ‘ ملک الموت اور حضرت اسرافیل (علیہم السلام) ہیں اس حدیث میں ہے : ان میں موت میں سب سے آخر حضرت جبریل (علیہ السلام) ہونگے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی حدیث جو شہداء کے متعلق ہے وہ اصح ہے جس طرح سورة نمل میں گزر چکا ہے ضحاک نے کہا : مستثنی رضوان حور ‘ مالک اور زبانیہ ہیں۔ حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے کہا : اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات ہے وہ اہل آسمان اور اہل زمین میں سے کسی چیز کو نہیں چھوڑے گا مگر اسے موت کا ذائقہ چکھائے گا (1) ۔ قتادہ نے کہا : اللہ تعالیٰ مستثنی وہ ہیں جو نفحہ اولی سے پہلے مر گئے یعنی اہل آسمان اور اہل زمین مر جائیں گے مگر جن کو پہلے ہی موت آچکی ہے ہے کیونکہ وہ مردہ تھے۔ صحیحین اور ابن ماجہ میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی روایت ہے کہ ایک یہودی نے مدینہ طیبہ کے بازار میں یہ کہا : اس ذات کی قسم جس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو انسانوں پر انتخاب کے ساتھ فضیلت دی (2) ایک انصاری نے اپنا ہاتھ اٹھایا اور اسے تھپڑ مارا کہا : تو یہ بات کرتا ہے جب کہ ہمارے درمیان رسول اللہ ﷺ موجود ہیں ‘ میں نے اس ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے و نفخ فی الصور فصعق من فی السموت و من فی الارض الا من شاء اللہ ثم نفخ فیہ اخری فاذاھم قیام ینظرون۔ میں سب سے پہلے سر اٹھائوں گا تو میں اچانک حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس ہونگا جو عرش کے ایک پائے کو پکڑے ہونگے میں نہیں جانتا کہ انہوں نے اپنا سر مجھ سے پہلے اٹھایا یا وہ ان افراد میں سے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے مستثنی قرار دیا ہے جس نے یہ کہا : میں حضرت یونس بن متی (علیہ السلام) سے بہتر ہوں تو اس نے جھوٹ بولا “ (1) ۔ امام ترمذی نے بھی اس حدیث کا ذکر کیا ہے اور کہا : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ قشیری نے کہا : جس نے استثناء کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور شہداء پر محمول کیا ہے تو یہ وہ لوگ ہیں جو پہلے موت کا ذائقہ چکھ چکے ہیں ۔ مگر وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں زندہ ہیں۔ یہ بھی جائز ہے کہ صعقہ عقل کے زوال کی صورت میں ہو زندگی کے زوال کی صورت میں نہ ہو۔ یہ بھی جائز ہے کہ وہ موت کی صورت میں ہو یہ کوئی بعید نہیں کہ یہ موت اور حیات کی صورت میں ہو ان میں سے ہر ایک کو عقل جائز قرار دیید ہے اس کا وقوع خبر صادق پر موقوف ہے۔ میں کہتا ہوں : حضرت ابوہیرہ ؓ کے بعض احادیث میں آیا ہے فرمایا : ” مجھے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر فضیلت نہ دو کیونکہ لوگوں پر صعقہ طاری ہوگا میں سب سے پہلا وہ شخص ہو نگا جو اس سے افاقہ پائے گا کیا دیکھوں گا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) عرش کی ایک جانب کو پکڑے ہوئے ہونگے میں نہیں جانتا کہ کیا وہ ان لوگوں میں سے ہونگے جن پر صعقہ طاری ہوا تو مجھ سے قبل انہیں افاقہ ہوا یا اللہ تعالیٰ نے اس سے آپ کو مستثنی کیا “ اے امام مسلم نے نقل کیا اسی کی مثل حضرت سعید خدری ؓ سے مروی روایت ہے ” افاقہ “ یہ غشی اور زوال عقل سے ہوا کرتا ہے نہ کہ موت کے بعد زندگی کو لوتانے کی صورت میں ہوا کرتا ہے ‘ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ فاذاھم قیام ینظرون۔ تو اچانک اہل زمین اور اہل آسمان کے مردے زندہ ہونگے جنہیں قبروں سے اٹھایا جائے گا ان کے بدن کی روحیں ان کی طرف لوٹا دی جائیں گی وہ اٹھیں گے کہ دیکھیں انہیں کیا حکم دیا جاتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے وہ اپنے پائوں پر کھڑے ہونگے وہ اس حشر کو دیکھیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا گیا تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ نظر ‘ انتظار کے معنی میں ہوگی یعنی ان کے ساتھ جو معاملہ کیا جانے والا ہے اس کا انتظار کریں گے۔ کسائی نے قیام کو نصب دینا بھی جائز قرار دیا ہے جس طرح تو کہتا ہے فاذازید جالسا) محل استدلال جالسا ہے (
Ayahs 39:69–70

وَ اَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا وَ وُضِعَ الْكِتٰبُ وَ جِایْٓءَ بِالنَّبِیّٖنَ وَ الشُّهَدَآءِ وَ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْحَقِّ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 39:69 in the Quran reader

اور زمین اپنے پروردگار کے نور سے چمک اٹھے گی اور (اعمال کی) کتاب (کھول کر) رکھ دی جائے گی اور پیغمبر اور گواہ حاضر کئے جائیں گے اور ان میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کیا جائے گا اور بےانصافی نہیں کی جائے گی

وَ وُفِّیَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَا یَفْعَلُوْنَ۠ Open ayah 39:70 in the Quran reader

اور جس شخص نے جو عمل کیا ہوگا اس کا پورا پورا بدلہ مل جائے گا اور جو کچھ یہ کرتے ہیں اسکو سب کی خبر ہے

69 ۔ 72:۔ واشرقت الارض بنور ربھا اس کے اشراق سے مراد اس کا روشن ہونا ہے یہ جملہ کہا جاتا ہے : الشرقت الشمس۔ جس وقت سورج روشن ہوجائے و شرقت الشمس جب وہ طلوع ہوجائے اور بنوربھا کا معنی ہے بعدل ربھا یعنی نور کا معنی عدل ہے (2) یہ حضرت حسن بصری اور دوسرے علماء کا قول ہے۔ ضحاک نے نور معنی حکم کیا ہے ‘ معنی ایک ہی ہے یعنی زمین اللہ تعالیٰ کے عدل اور بندوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کرنے کے لئے روشن ہوگی ظلم تاریکیاں ہیں اور عدل نور ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اللہ تعالیٰ قیامت کے روز نور پیدا کرے گا جو روئے زمین پر پڑے گا تو اس کی وجہ سے زمین روشن ہوجائے گی۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : یہاں جس نور کا ذکر ہے اس سے مراد سورج اور چاند کا نور نہیں بلکہ ایسا نور ہے جسے اللہ تعالیٰ پیدا فرمائے گا جس کے ساتھ زمین روشن ہوجائے گی۔ ایک روایت یہ کی گئی ہے : اس روز زمین چاندی کی ہوگی جو اللہ تعالیٰ کے نور کے ساتھ روشن ہوجائے گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے لئے جلوہ گر ہوگا اس صورت میں معنی ہو کہ زمین ایسے نور سے روشن ہوگی جسے اللہ تعالیٰ پیدا فرمائے گا اللہ تعالیٰ نے نور کو اپنی ذات کے ساتھ مضاف کیا ہے جس طرح ملک کو مالک کی طرف مضاف کیا جاتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ ایسا انسان جس میں اللہ تعالیٰ لوگوں کے درمیان فرمائے گا کیونکہ وہ ایسا دن ہے جس کی رات نہیں۔ حضرت اب عباس ؓ اور عبید بن عمیر نے اسے یوں پڑھا ہے واشرقت الارض جب کہ فعل مجہول ہے (1) یہ قراءت تفسیر کی بناء پخر ہے یہاں کچھ لوگ گمراہ ہوگئے انہوں نے یہ وہم کیا کہ اللہ تعالیٰ نور کی جنس اور محسوس روشنی ہے جب کہ وہ محسوسات کی مشابہت سے بالا ہے جب کہ وہ آسمانوں اور زمین کو منور کرنے والا ہے خلق و انشاء کے اعتبار سے تمام نور اس کی طرف منسوب ہیں۔ ابو جعفر نحاس نے کہا : اللہ تعالیٰ کا فرمان واشرقت الارض بنور ربھا اس حدیث مرفوع کی وضاحت کرتا ہے جو کثیر صحیح سندوں سے مروی ہے : تنظرون الی اللہ عزوجل لا تضامون فی رویۃ (2) اسے چار انداز سے روایت کیا گیا ہے لا تضامون ‘ لا تضارون ‘ لا تضامون ‘ لا تضارون۔ لا تضامون کا معنی ہے انہیں کوئی ظلم لا حق نہیں ہوگا جس طرح تمہیں دنیا میں لاحق ہوتا تھا جب بادشاہوں کو دیکھا جاتا لا تضارون تمہیں کوئی تکلیف لاحق نہ ہوگی لا تضا مون تم ایک دوسرے کو نہ ملو کے دیکھنے کے لئے اس پوچھو۔ لا تضارون تم میں سے بعض بعض کے مخالف نہ ہونگے یہ جملہ کہا جاتا ہے : ضارہ مضارۃ وضرارا۔ یعنی اس کی مخالفت کی۔ ووضع الکتب حضرب ابن عباس ؓ نے کہا : کتاب سے مراد لوح محفوظ ہے۔ قتادہ نے کہا : اس سے مراد کتاب اور وہ صحیفے ہیں جن میں انسانوں کے اعمال ہوتے ہیں انسان اسے اپنے دائیں ہاتھ پکڑے ہوتا ہے یا بائیں ہاتھ میں پکڑے ہوئے ہوتا ہے و جای بالنبین انبیاء کو لا یا جائے گا تو اللہ تعالیٰ ان سے پوچھے گا کہ ان کی امتوں نے انہیں کیا جواب دیا والشھداء اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی امت میں سے دوسری امتوں پر گواہی دیں گے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : وکذلک جعلنکم و امۃ و سطا لتکونو اشھداء علی الناس) البقرہ : (143 ایک قول یہ کیا گیا ہے : شہدا سے مراد وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں شہید ہوئے وہ قیامت کے روز گواہی دیں گے کہ کس نے دین کا دفاع کیا ‘ یہ سدی کا قول ہے۔ ابن زید نے کہا : وہ کراما کاتبین ہیں جو لوگوں کے اعمال کے بارے میں گواہی دیں گے . اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :” وجاءت کل نفس معھا سائق و شھید۔ “ ( ق) سائق اسے حساب کی طرف ہانک کرلے جائے گا اور شہید اس پر گواہی دے گا اس سے مراد وہ فرشتہ ہے جو انسان پر مقرر ہے جس کی وضاحت سورة قاف میں آئیگی و قضی بینھم بالحق حق سے مراد سچائی اور عدل ہے وھم لا یظلمون۔ حضرت سعید بن جبیر نے کہا : ان کی نیکیوں میں سے کوئی کمی نہ کی جائے گی اور ان کی برائیوں پر اضافہ نہ کیا جائے گا ما عملت سے مراد خیر یا شر ہے وھو اعلم بما یفعلون۔ یعنی وہ دنیا میں جو کچھ کرتے رہے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں خوب جانتا ہے اسے کسی کتاب اور شاہد کی کوئی ضرورت نہیں اس کے باوجود اتمام حجت کے لیے کتابیں اور گواہ حاضر کیے جائیں گے۔ 1 ؎۔ المحرر الوجیز، جلد 4 صفحہ 542 2 ؎۔ صحیح بحاری، کتاب التوحید وجوہ یو مئذ، جلد 2، صفحہ 1106
Ayahs 39:71–72

وَ سِیْقَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى جَهَنَّمَ زُمَرًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْهَا فُتِحَتْ اَبْوَابُهَا وَ قَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَاۤ اَلَمْ یَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ یَتْلُوْنَ عَلَیْكُمْ اٰیٰتِ رَبِّكُمْ وَ یُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَ لٰكِنْ حَقَّتْ كَلِمَةُ الْعَذَابِ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 39:71 in the Quran reader

اور کافروں کو گروہ گروہ بنا کر جہنم کی طرف لے جائیں گے یہاں تک کہ جب وہ اسکے پاس جائیں گے تو اس کے دروازے کھول دئیے جائیں گے تو اس کے داروغہ ان سے کہیں گے کہ کیا تمہارے پاس تم ہی میں سے پیغمبر نہیں آئے تھے جو تم کو تمہارے پروردگار کی آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتے اور اس دن کے پیش آنے سے ڈراتے تھے ؟ کہیں گے کیوں نہیں لیکن کافروں کے حق میں عذاب کا حکم متحقق ہوچکا تھا

قِیْلَ ادْخُلُوْۤا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ فَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِیْنَ Open ayah 39:72 in the Quran reader

کہا جائے گا کہ دوزخ کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ ہمیشہ اس میں رہو گے تکبر کرنے والوں کا برا ٹھکانا ہے

(وسیق الذی کفروا۔۔۔ ) وسیق الذین کفروا الی جھنم مرا یہ اس امر کی وضاحت ہے کہ ہر نفس کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا کافر کو آگ کی طرف اور مومن کو جنت کی طرف لے جایا جائے گا زمرا کا معنی جماعتیں ہیں اس کا واحد زمرۃ ہے جس طرح ظلم اور غرفۃ ہے۔ اخفش اور ابو عبید نے کہا : زمر کا معنی متفرق جماعتیں ہیں جن میں سے بعض بعض کے پیچھے ہوتی ہیں۔ شاعر نے کہا : وتری الناس الی منزلہ زمرا تنتابہ بعد زمر تو دیکھے گا لوگ اس کے گھر کی طرف جماعتوں کی صورت میں پے در پے آتے ہیں۔ ایک اور شاعر نے کہا : حتی احزالت زمر بعد زمر ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ زمر کا معنی ہے آواز کے ساتھ اسے دور کرنا اور جھڑکنا جس طرح مزمار کی آوازہوتی ہے فتحت ابوابھا یہ اذکا جواب ہے، یہ کل سات دروازے ہیں سورة حجر میں اس کی بحث گزر چکی ہے۔ خزنتھا اس کی واحد خازن ہے جس طرح سادن کی جمع سد نہ ہوتی ہے یہ بات انہیں دھمکانے اور شرمندہ کرنے کے لیے ہوگی الم یاتکم رسل منکم۔ ایت ربکم سے مراد انبیاء پر نازل ہونے والی کتابیں ہیں ینذرونکم جو تمہیں خبردار کرتے تھے قالوا بلی یعنی انہوں نے کہا : تحقیق ہمارے پاس آچکی ہے، یہ ان کی طرف سے اعتراف ہے کہ ان کے خلاف دلیل قائم ہوچکی ہے ولکن حقت کلمۃ العذاب علی الکفرین۔ اس کا مصداق اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : لا ملئن جھنم من الجنۃ والناس اجمعین۔ ( السجدہ) انہیں کہا جائے گا : جہنم میں داخل ہو جائو۔ اس کے دروازوں کے بارے میں گفتگوگزر چکی ہے۔ وہب نے کہا : جہنم کے داروغے آگ کے ہنٹروں کے ساتھ ان کا سامنا کریں گے اور اپنے ہنٹروں کے ساتھ انہیں دھکا دیں گے وہ ایک ہی دھکے کے ساتھ ربیعہ اور مضر کی تعداد کے برابر انہیں آگ میں پھینک دیں گے یہ متکبروں کا کتنا ہی برا ٹھکانہ ہے۔ مثنوی المتکبرین کے بارے میں بھی بحث پہلے گزر چکی ہے۔