Ayah 39:29کسائی نے کہا رجلا کو نصب دی گئی ہے کیونکہ یہ مثلا کی تفسیر و وضاحت ہے اگر تو چاہے تو حرف جر کے حذف کے ساتھ اسے نصب دے تقدیر کلام یہ ہوگی ضرب اللہ مثلا برجل۔
فراء نے کہا : متشکسون کا معنی ہے مختلفون یعنی مختلف۔ مبرد نے کہا : اس کا معنی ہے سخت ترش۔ یہ شکس یشکس شکسا فھو شکس سے مشتق ہے جس طرح عسر یعسر عسر فھو عسر ہے یہ کہا جاتا ہے رجل شکس ‘ شرس ‘ ضرس ‘ ضبس یہ بھی کہا جاتا ہے : رجل ضبس و ضبیس اس کا معنی ہے بد خلق سخت مزاج ہونا ‘ یہ جوہری نے کہا۔ رجل شکس سخت اخلاق والا۔ راجز نے کہا :
شکس عبوس عنبس غدور
محل استدلال شکس ہے۔
یہ لفظ استعمال کیا جاتا ہے قوم شکس جس طرح رجل صدق اور قوم صدق ہے۔
شکس شکاسۃ بھی استعمال ہوتا ہے۔ فراء نے نے حکایت بیان کی ہے رجل شکس یہ قیاس ہے یہ اس آدمی کے لئے ضرب المثل ہے جس نے کثیر معبودوں کی عبادت کی۔
و رجلا سلاما لرجل جو ایک آقا کا خالص علام ہو یہ اس آدمی کی مثال ہے جو اللہ وحدہ لا شریک کی عبادت کرتا ہے ھل یستوین مچلا کیا وہ برابر ہو سکتے ہیں ‘ یعنی وہ غلام جو جماعت کی خدمت کرتا ہے جو اس کی ملکیت میں شریک ہیں ان کے اخلاق مختلف ہیں نیتیں متضاد ہیں اسے کوئی آدمی نہیں ملتا مگر اسے کھینجچنا ہے اور اس سے خدمت لیتا ہے وہ ان سے مشقت ‘ تکلیف اور عظیم مصیبت پاتا ہے اس کے باوجود کسی کو بھی اپنی خدمت کے ساتھ راضی نہیں کر پاتا کیونکہ اس کے ذمہ بہت ہی زیادہ حقوق ہیں۔ وہ علام جو ایک آقا کی خدمت کرتا ہے اس کے ساتھ کوئی جھگڑا نہیں کرتا جب وہ اس کی اطاعت کرے گا تو وہ اس کا قدردان ہوگا اور جب وہ لغزش کرے گا تو مالک اس کی لغزش سے درگزر کرے گا تو ان دونوں میں سے کون زیادہ تھکاوٹ اٹھاتا ہے اور کون زیادہ ہدایت پر ہے۔
اہل کوفہ اور اہل مد ینہ نے اسے ور جل سلما پڑ ھا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ مجا ہد، حضرت حسن بصر ی، عا صم جحد ری، ابو عمر و، ابن کثیر اور یعقوب نے ور جل سالما ہے ؛ پڑھا ہے ؛ ابو عبید نے اسے ہی پسند کیا ہے کیونکہ اس میں تفسیر صحیح ہے کہا ؛ سا لم خا لص، مشترک کی ضد ہے اور سلم، حرب، (جنگ) کی ضد ہے یہاں جنگ کا کوئی موقع نہیں، نحاس نے کہا۔ یہ استدلال لازم نہیں کیونکہ جب لفظ کے دو معنی ہوں تو اسے ان میں سے اولی پر محمول کیا جاتا ہے اگرچہ سلم حرب کی ضد ہے اس کا کفئی اور موقع ہوتا ہے یہ اسے طرح تیرے لیے یہ کہا جاتا ہے۔ فی ہذا لمنزل شرکاء فصار سالک اس گھر میں شریک ہوتے تھے پس یہ تیرے لیے خالص ہوچکا ہے، سالم میں بھی اس پر وحی چیز لازم ہوگی اس پر وہی چیز لازم ہوگی جو اس نے غیر پر لازم کیا ہے یہ جملہ کہا جاتا ہے شئی اس میں کوئی بیما ری نہیں۔ دونوں قراتیں حسن ہیں آئمہ نے ان کو پڑھا ہے ابو حاتم نے اہل مد ینہ کی قراءت سلما کو پسند کیا ہے۔ اس میں کوئی جھگرا نہیں۔ سعید بن جبیر، عکرمہ، ابو العالیہ اور نصر نے سلما پڑھا ہے سلما دونوں مصدر ہیں تقدیر کلام یہ ہوئی رجلاذا سلم مضاف کو حذف کردیا مثلا تمیز کی حثیت سے صفت ہے معنی ہوگا کیا ان دونوں کی صفات اور حا لات برابر ہوں گے، تمیزوا حد پر اکتفا کیا گیا ہے کیونکہ جنس کو بیان کرنا مقصود ہے۔ الحمد اللہ۔ ان میں سے اکثر حق کو نہیں جانتے کہ اس کی اتباع کر تے
Ayahs 39:30–3130 ۔ 31:۔۔ بیشک آپ نے بھی دنیا سے انتقال فرما نا ہے اور انہوں نے بھی مرنا ہے، پھر تم سب روز حشر اپنے رب کے حضور میں آ پس میں جھگڑئو گے ابن محیصن، ابن ابی عبلہ، عیسیٰ بن ابی اسحاق نے اسے انک ما ئت وا نھم مائتن پڑ ھا ہے یہ اچھی قراءت ہے، حضرت عبد زبیر نے بھی یہی قراءت کی ہے اس قسم کا الف شاز قراءتوں میں حزف کردیا جاتا ہے۔ انہ لما را اض من ھذا الطعا م۔ حضرت حسن بصر ی، فراء اور کسائی نے میت پڑھا ہے یہ لم یمت و سیموت سے مشتق ہے المیت جب تخفیف کے ساتھ پڑھیں اس سے مراد وہ شخص جس سے روح الگ ہوجائے اسی وجہ یہاں اس میں تخفیف نہیں کی گئی۔ قتا دہ نے کہا ؛ نبی کر یم ﷺ کو آپ کی ذات اور تمہیں تمہاری ذا توں کی موت کی خبردی گئی۔ ثا بت بنانی نے کہا، ایک آ دمی صلہ بن اشیم نے اسے کہا، قر یب ہو اور کھانا کھا ئو مجھے میرے بھائی کی موت کی خبر بہت عرصہ پہلے دی گی آنے والے نے کہا، وہ کیسے جبکہ میں تیرے پاس پہلا خبر لا نیولا۔ ہوں۔ صلا بن اشیم نے کہا ؛ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس کی موت کی خبر دی ہے اور یہ پڑ ھا انک میت وانا نھم میتون (1) یہ نبی کر یم ﷺ کو خطا ب ہے اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو آپ کی موت اور ان کی خبر دی۔ اس کی
پا نچ وجوہ ہو سکتی (1) آ خرت سے ڈرانا مقصود ہوتا ہے (2) عمل پر برا نگییختہ کرنے کے کے لئے اس کا ذکر کیا (3) موت کی تمہید کے طور اس کا ذکر کیا (4) آپ کی موت میں اختلاف نہ کریں جس طرح پہلی امتوں نے دوسروں کی موت میں میں اختلاف کیا یہاں تک کہ جب حضرت عمر ؓ آپ ﷺ کی کا انکار کیا تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے اسی آیت سے استدلال کیا تو حضرت عمر ؓ رک گئے (5) تاکہ اللہ تعالیٰ اس امر سے اگاہ کر دے کہ اللہ تعالیٰ نے اس معاملہ میں مخلوق کو برابر رکھا ہے جبکہ دوسرے معا ملات میں با ہم فضلیت موجود ہے تاکہ تسلی زیا دہ ہوجائے اور حسرت کم ہوجائے۔ ثم انکم یوم القیامتہ عند ربکم تختیصم اس مراد کافر اور مومن، ظالم کا مظلوم کا جھگڑا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور دوسرے علماء نے کہا ؛ حدیث میں اس کا طویل ذکر ہے خصوصیت قیامت کے روز اس حد تک جا پہنچے گی کہ روح اور جسم آپس جھگرا کریں گے۔ حضرت زبیر ؓ نے کہا۔ جب یہ آیت نا زل ہوئی ہم نے عرض کی۔ یا رسول اللہ ﷺ جو معاملات ہما رے درمیان ہوتے رہے خصو صی گناہوں کے ساتھ کیا ان کے با رے میں ہما رے ساتھ تکرار کیا جائے گا ؟ فرمایا یہاں تک کہ ہر صاحب حق دیا جائے گا۔ حضرت زبیر ؓ نے کہا اللہ کی قسم ! بیشک معا ملہ سخت ہے ( ٍ 1) ۔ ابن عمر ؓ نے کہا ؛ ہم نے کچھ وقت گزار ہم یہ خیال کرتے تھے کہ یہ آیت ہمارے اور اہل کتاب کے با رے میں نازل ہوئی ہے ثم انکم یوم القیا مت عند ربکم تختصمون ہم کہتے ؛ ہم کہتے ؛ ہم کیسے جھگڑیں گے جبکہ ہمارا نبی ﷺ اور ہما دین ہے ایک ہے یہاں تک کہ ہم نے بعض کی گردنیں اڑاتے دیکھا تو مجھے علم ہوگیا کہ یہ آیت ہما رے با رے میں نا زل ہوئی ہے۔ حضرت ابو سعید خدری ؓ نے کہا کرتے تھے ہمارا رب ایک ہے ہمارا نبی ﷺ ایک ہے ہمارا دین ایک ہے دین ایک ہے یہاں تک کہ ہم نے بعض کو تلواروں کے ساتھ بعض کی گردنیں اڑاتے دیکھا تو مجھے علم ہوگیا کہ یہ آیت ہمارے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ حضرت ابو سعید خدری ؓ نے کہا ؛ ہم کہا کرتے تھے ہمارا نبی ہے اور نبی ایک ہے تو ہے یہ جھگڑہ کیسا۔ جب جنگ صفین کا موقع آیا اور ہم سے بعض نے نعض پر تلواروں سے حملہ کیا تو ہم نے کہا ؛ وہ یہی ہے۔ حضرت ابرا ہیم نخعی نے کہا ؛ جب یہ آیت نا زل ہوئی تو رسول ﷺ کے صحا بہ ؓ کہنے لگے ؛ ہما رے درمیان ہماری درمیان خصوصیت کیا ہوگی۔ ؟ جب حضرت عثمان ؓ شہید ہوگئے تو صحابہ ؓ نے کہا ؛ یہی ہما رے درمیان خصوصیت ہوگی۔ ایک قول کہا گیا ہے ؛ ان کے مراد اللہ تعالیٰ کی با رگاہ میں فیصلہ طلب کرنا ہے ظالم کی نیکوں سے اس کے ظلم کے برابر حق لیا جائے گا اور جس کے لئے حق ثا بت ہوا اس کو دے دیا جائے گا یہ حکم تمام مظا لم کے با رے میں ہے جس طرح حضرت ابوہریرہ ہہ ؓ ؓ میں ہے جس حضرت ابوہریرہ ؓ کی حد یث سے ثا بت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرما یا۔ کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہے، صحا بہ ؓ نے عرض کی ہمارے درمیان مفلس وہ جس کے پاس درہم نہ ہو اور سامان نہ ہو فرمایا ان میں میری امت میں سے مفلس ہوگا جو قیا مت کے دن نماز روزوں اور زکوت کے ساتھ آئے گا کہ اس نے اس کو گا لیاں دی ہو نگی اس پر تہمت لگائی ہوگی اس کا مال کھا یا ہوگا، اس کا خون بہا یا ہوگا اس کو ما را ہوگا اس کو اس کو اس کی نیکوں سے بد لہ جائے گا اور دو سرے کو اس نیکیوں سے دیا جائے گا اگر اس کی نیکیاں واجبات ادا کرنے سے پہلے ختم ہوگئیں تو مظلوم کی برائیاں لی جائیں گی اور ظالم پر پھنک دی جائیں گی پھر اسے جہنم میں پھینک دیا جائے گا، امام مسلم نے نقل کیا ہے سو رہ آل عمران میں بحث گزر چکی ہے۔ بخا ری شر یف میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا، جس آ دمی کا کسی کا کسی پر عزت یا کسی حوالے سے کوئی ظلم ہو تو آج ہی اس سے معا فی لے لے اس سے پہلے کہ اس کے پاس کوئی دینار اور درہم نہ رہے اگر اس کا کوئی عمل صالح گیا تو اس کے ظلم کے کے مطا بق اس سے لیا جائے گا اگر اس کی نیکیاں نہ ہو نگی تو مظلوم کے گناہ لیے جائیں گے (1) حد یث مسند یہی ہے، ، سب سے پہلے خوصومات دنیا میں ہوں گی، ، ہم نے تمام بحث التذ کرہ میں ذکر کردی ہے،۔
Ayahs 39:32–3532 ۔ 35:۔ پس اس سے زیا دہ وہ ظالم کون ہے جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتا ہے اور تکذیب کرتا ہے اور تکذیب کرتا ہے اس کی جب وہ اس کے پاس آیا، کیا جہنم میں کفار کا ٹھکانا نہیں ہے۔ اور وہ ہستی جو اس سچ کو لے کر آئی اور جنہوں نے اس سچائی کی تصد یق کی یہی ہیں جو پرہیز گار ہیں۔ انہیں ملے گا جو چا ہے گے اپنے رب کے پاس سے، یہ صلہ ہے محسوس کا تاکہ ڈھانپ لے اللہ تعالیٰ ان سے ان کے بدترین اعمال کو اور عطا فرمائے انہیں انکے بہترین اعمال کا جو وہ کرتے تھے، ،
اس آدمی سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولتا ہے اور یہ گمان رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اولاد اور شریک ہے اور قرآن کی تکذیب کرتا ہے الیس میں ہمزہ استقفہام تقریری ہے یعنی کیا جہنم انکار کرنے والوں کے لئے ٹھکانہ نہیں یہ ثوی بالمکان سے مشتق ہے جب وہ وہیں ٹھہرے اس کا قصد ثواء ثویا آتا ہے جس طرح مضی فعل کا مصدر ہے مضاء اور مضیا آتا ہے اگر یہ اثوا سے مشتق ہوتا تو مثوی ہوتا یہ اس بات پر دال ہے کہ ثوی ہی فصیح لغت ہے۔ ابو عبیدنے اثوی نقل کیا ہے۔ اعشی کا قول ذکر کیا :
اثوی و قصر لیلۃ لیزودا و مضی و اخلف من قتیلۃ موعدا۔
محل استدلال اثوی ہے۔
اصمعی صرف ثوی کو ہی جانتا ہے اور شعر کو روایت کرتا ہے کہ اژوی استفہام کے طریقہ پر ہے اثویت غیری متعدی ہوتا ہے اور وہ متعدی نہیں۔
والذی جاء بالصدق و صدق بہ اولئک ھم المتقون۔ والذی مبتدا ہونے کی حیثیت میں محل رفع میں ہے اس کی خبر اولئک ھم المتقون ہے الذی جاء بالصدق و صدق بہ کی تعبیر میں اختلاف ہے۔ حضرت علی شیر خدا ؓ نے کہا : الذی جاء بالصدق سے مراد نبی کریم ﷺ ہیں اور صدق بہ سے مراد حضرت ابوبکر صدیق ؓ ہیں۔ مجاہد نے کہا : اس سے مراد نبی کریم ﷺ اور حضرت علی شیر خدا ؓ ہیں۔ سدی نے کہا : الذی جاء بالصدق سے مراد جبریل امین اور الذی صدق بہ سے مراد مومن ہیں (1) ‘ اس پر استدلال اولئک ھم المتقون سے کیا۔
نخعی اور مجاہد نے کہا : الذی جاء بالصدق و صدق بہ سے مراد مومن ہیں جو قیامت کے روز قرآن کے ساتھ آئیں گے اور کہیں گے : یہ ہے وہ چیز جو تم نے ہمیں عطا کی اس میں جو کچھ ہے ہم نے اس کی پیروی کی اس تعبیر کی صورت میں الذی جمع کے معنی میں ہوگا جس طرح من جمع میں ہوتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اسم کی طوالت کی وجہ سے اس کے آخر سے نون حذف ہے۔ شعبی نے یہ تاویل کی ہے کہ یہ واحد ہے اور کہا الذی جاء بالصدق سے مراد حضور ﷺ کی ذات ہے اسی وجہ سے اس کی خبر جماعت جس طرح جس آدمی کی تعظیم مقصود ہے اس کے لئے کہا جاتا ہے : ھو فعلوا ‘ زید فعلوا ‘ کذا کذا۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ ہر آدمی کے حق میں عام ہے جس نے اللہ تعالیٰ کی توحید کی طرف دعوت دی ‘ یہ حضرت ابن عباس اور دوسرے علماء نے کہا : طبری نے اسے پسند کیا۔ حضرت ابن مسعود کی قراءت میں ہے والذی جاء و ابالصدق و صدقوبہ یہ قراءت تفسیر کے طریقہ پر ہے ابو صالح کو فی کی قراءت والذی جائبالصدق و صدق بہ ہے یعنی صدق مخفف ہے یعنی اس کے بدلے میں سچ بولا یعنی اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں سچ کا اظہار کیا۔ سورة بقریہ میں الذی کے متعلق گفتگو پہلے گزر چکی ہے کہ یہ واحد اور جمع دونوں طرح ہوتا ہے۔
لھم ما یشاء ون عبدربھم یعنی جنت میں نعتموں میں سے جو چاہیں گے وہ ہونگی جس طرح یہ جملہ کہا جاتا ہے : لک اکرام عندی یعنی میری طرف سے تجھے اکرام پہنچے گا ذلک جزوا المحسنین۔ یعنی دنیا ميں ثنا اور آخرت میں ثواب ہوگا۔
لیکفر اللہ عنھم یعنی صدقوا۔ لیکفر اللہ عنھم۔ انہوں نے صدقہ کیا تاکہ اللہ تعالیٰ ان کی خطائیں معاف فرما دے ‘ سوا الذی عملوا ‘ یعنی اللہ تعالیٰ انہیں عزتوں سے نوازیں گے اور اسلام سے قبل جو عمل وہ کرتے رہے اس پر اللہ تعالیٰ ان کا مواخذہ نہیں فرمائے گا اور جو وہ دنیا میں اعمال حسنہ کرتے رہے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں اس پر اجر عطا فرمائے گا اور وہ جنت ہے۔
Ayahs 39:36–3736 ۔ 37:۔ الیس اللہ بکاف عبدہ ‘۔ کاف سے یاء حذف کردی گئی ہے کیونکہ یاء خود بھی ساکن ہے اور اس کے بعد تنوین بھی ساکن ہے اصل تو یہ تھا کہ وقف میں یاء کو حذف نہ کیا جاتا کیونکہ تنوین زائل ہے مگر اسے حذف کردیا گیا ہے تاکہ عملم ہو کہ فصل میں بھی یہی صورتحال ہے عربوں میں ایسے بھی ہیں کہ وقف کی صورت میں بھی یاء کو باقی رکھتے ہیں وجہ اس کی اصل کو ملحوظ رکھنا ہے وہ کہتے ہیں : کافی عام قراء کی قراءت عبدہ ہے مراہ حضور ﷺ کی ذات ہے اللہ تعالیٰ کی ذات مشرکین کی وعید اور ان کے مکر کے لئے کافی ہے۔ حمزہ اور کسائی نے عبادہ پڑھا ہے (1) وہ انیباء ہیں یا انبیاء اور مومن ہیں۔ ابو عبید نے جمع کے صیغہ کی قراءت کو پسند کیا ہے کیونکہ اس کے بعد یہ قول ہے و یخو فونک بالذین من دونہ یہ بھی احتمال ہے العبد لفظ جنس ہو جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ان الانسان لفی خسر۔ ) العصر ( اس تاویل کی بناء پر پہلی قراءت دوسری قراءت کی طرف راجع ہے کفایت بتوں کے شر کے لئے ہے کیونکہ مشرکین مومنوں کو بتوں کے سامنے ڈرایا کرتے تھے یہاں تک کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا : و کیف اخاف ما اشرکتم ولا تخافون انکم اشرکتم باللہ) الانعام (81: جرحانی نے کہا : اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندے اور کافر بندے کو ثواب دے کر اور عقاب دے کر کافی ہے۔
و یخوفونک بالذین من دونہ اس کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو بتوں کی مضرت سے خبردار کیا تھا انہوں نے کہا : کیا آپ ہمارے معبودوں کو گالیاں دیتے ہیں اگر آپ ﷺ ان معبودوں کے زکر سے نہیں رکھیں گے تو یہ تجھے پاگل کردیں گے یا تجھے کوئی نقصان پہنچائیں گے۔ قتادہ نے کہا : حضرت خالد بن ولید عزی بت کی طرف گئے تاکہ اسے کلہاڑے کے ساتھ توڑ دیں اس کے خادم نے آپ کو کہا : اے خالد ! میں تجھے اس سے خبردار کرتا ہوں کیونکہ اس میں ایسی طاقت ہے کوئی چیز اس کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ حضرت خالد عزی بت کی طرف بڑھے اور کی تاک رور دی یہاں تک کہ کلہاڑے سے اسے توڑ دیا ان کا حضرت خالد رضي اللہ عنہ کو ڈرانا نبی کریم ﷺ کو ڈرانا تھا کیونکہ نبی کریم ﷺ نے ہی انہیں بھیجا تھا آیت میں یہ چیز داخل ہے کہ وہ اپنے لشکروں کی زیادتی اور قوت کے ساتھ نبی کریم ﷺ کو ڈرایا کرتے تھے جس طرح ارشاد فرمایا ام یقولون نحن جمیع منتصر۔ ) القمر (
و من یضلل اللہ فما لہ من ھاد۔ اس کے بارے میں گفتگو پہلے گزر چکی ہے و من یھد اللہ فمالہ من مضل الیس اللہ بعزیز ذی انتقام۔ یعنی جو اللہ تعلای سے دشمنی رکھے یا اس کے رسولوں سے دشمنی رکھے کیا اللہ تعالیٰ غالب اور انتقام لینے والا نہیں۔
Ayahs 39:38–4138 ۔ 41:۔ ولن سالتھم اے محمد ! ﷺ اگر آپ ان سے پوچھیں لیقولن یہ امر واضح کیا کہ وہ بتوں کی عبادت کرنے کے باوجود یہ اقرار کیا کرتے تھے کہ خالق اللہ تعالیٰ ہی ہے جب اللہ تعالیٰ ہی خالق ہے تو وہ تجھے اپنے ان معبودوں سے کیسے ڈراتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں جب کہ اس کا رسول ہے جس نے ان کی پیدا کیا اور آسمانوں و زمین کو پیدا کیا۔
قل افرائیتم اے محمد ! ﷺ جب انہوں نے یہ اعتراف کرلیا ہے تو اب ان سے کہو : مجھے بتائو اگر اللہ تعالیٰ مجھے تکلیف پہنچانے کا ارادہ کرے تو کیا یہ بت تکلیف کو رفع کردیں گے اور اگر وہ مجھے رحمت سے نوازنا چاہے تو کیا وہ اس رحمت کو روک سکتے ہیں ؟ مقاتل نے کہا : نبی کریم ﷺ نے ان سے سوال کیا تو وہ خاموش ہوگئے۔ دوسرے علماء نے کہا : انہوں نے کہا وہ کسی ایسی چیز کو دور نہیں کرسکتے جو اللہ تعالیٰ نے مقدر کردی ہو لیکن وہ شفاعت کریں گے ‘ تو یہ آیت نازل ہوئی۔
قتل حسبی اللہ ان کے جواب کو ترک کردیا گیا کیونکہ کلام اس پر دلالت کرتی ہے یعنی وہ کہیں گے : نہ وہ کسی مصیبت کو دور کرسکتے ہیں اور نہ رحمت کو روک سکتے ہیں تو پس آپ کہیں : مجھے میرا اللہ کافی ہے اسی پر میں نے بھروسہ کیا اور اسی پر بھروسہ کرنے والے بھروسہ کرتے ہیں۔ توکل کے متعلق گفتگو پہلے گزر چکی ہے۔ نافع ‘ ابن کثیر اور عاصم کے علاوہ کو فیوں نے کاشفات ضرہ پڑھا ہے۔ ابو عمرو ‘ شیبہ اور حضرت حسن کی قراءت میں معروف اور عاصم سے یہی مروی ہے ھل ھن کاشفات ضرہ اور میسکات رحمتہ اصل کے اعتبار سے ان پر تنوین پڑھی ہے ‘ یہی ابو عبیدہ اور ابو حاتم کی قراءت ہے کیونکہ یہ اسم فائل ہے جو استقبال کے معنی میں ہے جب بات ﷺ اس طرح ہے تو تنوین زیادہ مناسب ہے۔
شاعر نے کہا :
الضاربون عمیر عن بیوتھم باللیل یوم عمیر ظالم عادی
محل استدلال عمیرا ہے وہ رات کے وقت عمیر کو اپنے گھروں سے ہی مارنے والے ہیں عمیر کا دن ظالم اور زیادتی کرنے والا ہے۔ اگر اسم ماضی کے معنی میں ہو تو اس میں تنوین جائز نہیں ہوتی تنوین کو حذف کردیا گیا۔ جب تنوین کو حذف کردیا گیا تو دو اسموں کے درمیان کوئی رکاوٹ نہ رہی تو دوسرے اسم کو اضافت کی وجہ سے جر دی گئی کلام عرب میں تنوین کا حذف بہت زیادہ ہے ‘ موجود ہے اور اس اچھا ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ھدیا بلغ الکعبۃ) المائدہ (95: محل استدلال بالغ ہے۔ فرمایا : انا مرسلو الناقۃ محل استدلال مرسلو ہے سیبویہ نے کہا : اس کی مثل غیر محل الصید ہے سیبویہ نے کہا :
ھل انت باعث دینار لحاجتنا
کیا تو ہماری ضرورت کے لئے دینار بھیجنے والا ہے۔ محل استدلال باعث ہے۔
نابغہ نے کہا :
احکم کحکم فتاۃ الحی اذ نطرت الی حمام شراع وارد الثمر
اس کا معنی وارد الثمد ہے ‘ تنوین کو حذف کردیا گیا۔
قل یقول اعملوا علی مکانتکم انی عامل تم اپنی جگہ کام کرو میں اپنی جگہ پر عمل کرنے والا ہوں یعنی اس جہت پر جو میرے بس میں ہے۔
ابوبکر نے مکانتکم پڑھا۔ سورة الانعام میں یہ بحث گزر چکی ہے۔
یخزیہ اسے دنیا میں ذلیل و رسوا کردیا یہ بھوک اور تلوار کے ساتھ ہے اور آخرت میں دائمی عذات واقع ہوگا۔
انا انزلنا علیک الکتب للناس بالحق ‘ فمن اھتدی فلنفسہ و من ضل فانما یضل علیھا وما انت علیھم بوکیل۔ اس کے بارے میں گفتگو کئی مواقع پر گزر چکی ہے۔
Ayah 39:42مسئلہ نمبر -1 اللہ یتوفی الانفس حیبن موتھا ان کی عمروں کے ختم ہونے پر نفوس کو قبض کرلیتا ہے والتی لم تمت فی منامھا اس کی تعبیر میں اختلاف ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ان کے جسموں میں روحوں کے باقی رکھنے کے ساتھ تصرف سے انیں روک دیتا ہے۔
فیمسک التی قضی علیھا الموت و یرسل الاخری یعنی وہ نفوس جو سوئے ہوتے ہیں انہیں موت کے وقت تک آزادچھوڑ دیت ا ہے ‘ یہ ابن عیسیٰ کا قول ہے۔ فراء نے کہا : معنی ہے وہ نفوس جو نیند میں مرتے ان کی عمروں کے ختم ہونے پر ان کو قبض کرلیتا ہے۔ کہا بعض اوقات قبض کرنا اس کی نیند ہی ہوا کرتی ہے تو اس صورت میں تقدیر کلام اس صورت میں ہوگی
والتی لم تمت و فتھا نومھا۔
حضرت ابن عباس اور دوسرے مفسرین نے کہا : زندوں اور مردوں کی روحین نیند کی حالد میں ملتی ہیں اللہ تعالیٰ جتنا چاہتا ہے وہ آپس میں متعارف ہوتی ہیں جب اللہ تعالیٰ ان سب کے اجسام میں رجوع کا ارادہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ مردوں کی روحوں کو اپنے پاس روک لیتا ہے اور زندوں کی روحوں کو انکی طرف بھیج دیتا ہے۔
سعید بن جبیر نے کہا : اللہ تعالیٰ مردوں کی روحوں کو قبض کرتا ہے جب وہ مرجاتے ہیں (1) اور زندوں کی روحوں کو قبض کرلیتا ہے جو وہ سو جاتے ہیں وہ آپس میں متعارف ہوتی ہیں جتنا اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ وہ متعارف ہوں یرسل کا معنی ہے وہ انہیں واپس کرتا ہے۔
حضرت علی شیر خدا ؓ نے کہا : سونے والے کا نفس جب کہ وہ آسمان میں ہوتا ہے ابھی اسے اس کے جسم کی طرف نہیں لوٹایا جاتا تو وہ سچی خوابیں ہوتی ہیں اور جس چیز کو ان کے بھیجنے کے بعد اور جسموں میں قرار پکڑنے سے پہلے دیکھتا ہے وہ شیطان القا کرتا ہے اور باطل ان میں خیال ڈالتے ہیں تو وہ جھوٹے خواب ہیں۔
ابن زید نے کہا : نیند وفات ہے اور موت بھی وفات ہے۔ نبی کریم ﷺ سے مروی ہے : ” جس طرح تم سوتے ہو اسی طرح تمہیں موت دی جاتی ہے اور جس طرح تم جاگتے ہو اسی طرح تمہیں اٹھایا جائے گا “ (2) ۔ حضرت عمر ؓ نے کہا : نیند موت کا بھائی ہے۔ حضرت جائز بن عبداللہ ؓ سے ایک مرفوع روایت مروی ہے عرض کی گئی : یا رسول اللہ ﷺ کیا جنتی سوئیں گے ؟ فرمایا : لا النوم اخوالموت والجنۃ لا موت فیھا ‘ نہیں نیند موت کے بھائی ہے اور اس جنت میں کوئی موت نہیں ‘ اسے دار قطنی سے روایت کیا ہے۔
حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : انسان میں نفس اور روح ہے دونوں کے درمیان سورج کی شعاع جیسا تعلق ہے نفس کے ساتھ سمجھ اور تمیز ہوتی ہے اور روح کے ساتھ سانس کی حرکت ہوتی ہے جب بندہ سوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کا نفس قبض کرلیتا ہے اور اس کی روح قبض نہیں کرتا ‘ یہ ابن انباری اور زجاج کا قول ہے۔ قشیری ابو نصر نے کہا : یہ بات حقیقت سے بہت ہی دور کیونکہ آیت کا مفہوم یہ ہے کہ دونوں حالتوں میں نفس مقبوض ایک ہی چیز ہے اسی وجہ سے فرمایا : فیمسک التی قضی علیھا الموت و یرسل الاخری انی الی اجل مسمی پس اللہ تعالیٰ دونوں حالتوں یعنی نیند اور حالت موت میں روح کو ہی قبض کرتا ہے جسے حالت نیند میں قبض کرتا ہے تو اس کا معنی ہے اسے بھانپ لیتا ہے یعنی تصرف سے اسے روک دیتا ہے گویا وہ بھی ایسی چیز ہے جس پر قبضہ کرلیا گیا ہے اور جسے موت کی حالت میں قبض کرتا ہے تو اسے روک لیتا ہے اور قیامت تک اسے نہیں چھوڑتا۔
و یرسل الاخری جو چیز اسے روک رہی تھی اس کو زائل کردیتا ہے تو وہ لوٹ آتا ہے جس طرح وہ پہلے تھا نفس کی حالت نیند میں وفات حس کو زائل کرنے ‘ غفلت کو پیدا کرنے اور ادراک کے محل میں آفت کو پیدا کرنے کے ساتھ ہوتی ہے اور حالت نیند میں وفات سے مراد موت پیدا کرنا اور کلی طور پر حس کو ختم کرنا ہوتا ہے فیمسک التی قضی علیھا الموت یعنی اس میں ادراک پیدا نہیں کرتا۔ یہ ہو بھی کیسے سکتا ہے جب کہ اللہ تعالیٰ نے اس میں موت پیدا کردی ہوتی ہے۔
مسئلہ نمبر -2 اس آیت کی وجہ سے لوگوں نے نفس اور روح میں اختلاف کیا ہے ‘ کیا یہ دونوں ایک ہی چیز ہیں یا یہ دو چیزیں ہیں جسے ہم نے ذکر کیا ہے ؟ زیادہ ظاہر بات یہ ہے کہ دونوں ایک چیز ہیں اسی پر صحیح آثار دلالت کرتے ہیں جس طرح ہم اس باب میں ذکر کریں گے۔
اسی ضمن میں حضرت ام سلمہ ؓ کی حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ حضرت ابو سلمہ کے ہاں تشریف لے گئے جب کہ ان کی آنکھ کھلی ہوئی تھی تو رسول اللہ ﷺ نے ان کی آنکھ کو بند کردیا پھر فرمایا : الروح اذا قبض تبعہ البصر روح جب قبض کی جاتی ہے تو آنکھ اس کا پیچھا کرتی ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : الم ترو الانسان اذا مات شخص بصرہ کیا تم انسان کو نہیں دیکھتے جب وہ مرتا ہے تو اس کی آنکھ کھل جاتی ہے فرمایا : ” یہ اس لئے ہوتا ہے کیونکہ اس وقت نظر نفس کا پیچھا کرتی ہے “ دونوں روایات کو امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” جب بند نیک ہوتا ہے تو ملائکہ حاضر ہوتے ہیں وہ کہتے ہیں : اے پاکیزہ نفس ! نکلو جب وہ پاکیزہ جسم میں ہوتا ہے تو نکل جب کہ تو تعریف کی گئی ہے تجھے روح و ریحان کی بشارت ہو تجھے راضی رب کی بشارت ہو وہ غصہ میں نہیں ‘ اسے لگاتار یہ بات کی جاتی ہے یہاں تک کہ اسے آسمان کی طرف لے جایا جاتا ہے “ اس کی سند صحیح ہے ‘ اسے ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ ہم نے اس کا ذکر تذکرہ میں کیا ہے۔
صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے : ” جب فرشتے کسی شخص کی روح کو نکالتے ہیں تو اسے دو فرشتے وصول کرلیتے ہیں جو اسے اوپر کی طرف لیجاتے ہیں “
حضرت بلال ؓ نے نوادی والی حدیث) جس میں حضرت بلال کی زمہ داری دی گی تھی کہ وہ نماز کے لئے صحابہ کو بیدار کریں ( میں کہا : یا رسول اللہ ! میرے نفس کو اسی ذات نے اپنی گرفت میں لے لیا جس ذات نے آپ کو نفس کو اپنی گرفت میں لے لیا۔ زید بن مسلم کی حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے اس کے مقابل یہ ارشاد فرمایا : اے لوگو ! اللہ تعالیٰ نے ہماری روحوں کو قبض کرلیا تھا اگر وہ چاہتا تو انہیں ہماری طرف اس وقت کے علاوہ وقت میں لوٹا دیتا “۔
مسئلہ نمبر -3 اس میں صحیح یہ قول ہے کہ ایک لطیف جسم ہے اجسام محسوسہ کے ساتھ چنگل مارے ہوئے ہے اسے کھینچا جاتا ہے اور اسے نکالا جاتا ہے اسے کفن میں لپیٹا جاتا ہے اور اس کفن میں داخل کیا جاتا ہے اسے ہی آسمان کی طرف لے جایا جاتا ہے اسے موت نہیں آتی وہ فنا نہیں ہوتا یہ پاکیزہ خوشبو اور خبیث خوشو والا ہے جس طرح حضرت ابوہریرہ ؓ کی حدیث میں ہے یہ اجسام کی صفات ہیں اعراض کی صفت نہیں ہم نے اس بارے میں تمام اخبار کتاب الذکرہ باحول الموتی والدار الاخرۃ میں ذکر کی ہیں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : فلو لا اذا بلغت الحلقوم۔ ) واقعہ ( اس سے مراد نفس ہے جب وہ جسم سے نکلتا ہے یہ جسم کی صفت ہے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔
مسئلہ نمبر -4 امام بخاری اور امام مسلم حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اذا اوی احدکم الی فراشہ قلیا خذ داخلۃ اذارہ فلینفض بھا فراشہ ولیسم اللہ فانہ لا یعلم ما خلفہ بعد علی فراشہ فاذا اراد ان یضطجع فلیضطجع علی شقہ الایمن ولیقل ‘ سبحانک ربی و ضعت جنبی و بک ارفعہ ان امسکت نفسی فاغفرلھا (1) ۔ جب تم میں سے کوئی اپنے بستر کا ارادہ کرے تو وہ تہبند کے اندر کے حصہ لے اور اس کے ساتھ اپنے بستر کو جھاڑے اور اللہ تعالیٰ کا نام لے کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے بعد کون اس کا نائب رہا جب وہ لیٹنے کا ارادہ کرے تو اپنے دائیں پہلو پر لیٹے اور کہے : اے میرے رب ! تو پاک ہے میں نے اپنا پہلو رکھ دیا ہے اور تجھی کے سہارے میں اسے اٹھائوں گا اگر تو میرے نفس کو روک لے تو اسے بخش دے۔
بخاری ‘ ابن ماجہ ‘ اور ترمذی نے فاغفرلھا کی جگہ فرحمھا کے الفاظ استعمال کئے ہیں اور یہ الفاظ بھی ذکر کئے اگر تو اسے چھوڑ دے تو اس کی حفاظت فرما جن چیزوں سے تو اپنے صالح بندوں کی حفاظت کرتا ہے۔ امام ترمذی نے یہ الفاظ زائد ذکر کئے ہیں : جب وہ بیدار ہو تو کہے : اس ذات کے لئے تمام تعریفیں ہیں جن نے میرے جسم کو عافیت عطا فرمائی میری روح کو میری طرف لوٹا دیا اور اپنے ذکر کا مجھے اذن دیا۔
امام بخاری نے حضرت حذیفہ ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ رات کے وقت سوتے تو اپنا ہاتھ اپنے رخسار کے نیچے رکھتے پھر کہتے : اللھم یاسمک اموت و احیا اے میرے اللہ ! تیرے نام سے مرتا ہوں اور تیرے نام سے زندہ ہوتا ہوں۔ جب وہ بیدار ہوتے تو کہتے : الحمد اللہ الذی احیانا بعد ما اماتنا و الیہ النشور (2) اس اللہ تعالیٰ کی تمام تر تعریفیں ہیں نے ہمیں موت کے بعد زندہ عطا کی اور اسکی طرف اٹھنا ہے۔
فیمسک التی قضی علیھا الموت یہ عام قراءت ہے فعل معرف ہے اور الموت پر نصب ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے اس پر موت کا فیصلہ کردیا ‘ یہ ابو حاتم اور ابو عبیدہ کا پسندیدہ نقطہ نظر ہے کیونکہ آیت کے شروع میں اللہ یتوقی الانفس پس وہ ہی نفس پر فیصلہ فرماتا ہے۔ اعمش ‘ یحییٰ بن ثاب ‘ ہمزہ اور کسائی نے اسے قضی علیھا الموت پڑھا ہے یعنی فعل مجہول۔ نحاس نے کہا : معنی ایک ہے مگر پہلی قراءت زیادہ واضح اور سیاق کلام کے زیادہ مناسب ہے کیونکہ سب نے اس بات پر اتفاق کیا ہے و یرسل انہوں نے اسے و یرسل نہیں پڑھا۔ آیت میں اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرت ‘ الوہیت میں منفرد ہونے ‘ جو چاہے کرنے زندہ دینے اور موت عطا کرنے پر تنبیہ ہے اس ذات کے علاوہ کوئی اس پر قادر نہیں۔
ان فی ذلک لایت یعنی میت اور سونے والے کا نفس قبض کرنے اور سونے والے نفس کو چھوڑ دینے اور میت کے نفس کو روک لینے میں کئی نشانیاں ہیں۔
اصمعی نے کہا میں نے معتمر کو کہتے ہوئے سنا : انسان کی روح کا تے ہوئے دھاگے کے بنڈل کی طرح ہے روح کو چھوڑا جاتا ہے وہ جاتی ہے پھر اسے لپیٹا جاتا ہے تو وہ آتی ہے اور جسم میں داخل ہوجاتی ہے۔ آیت کا معنی ہے یہ ہے حالت نیند میں روح کا کچھ حصہ چوڑا جاتا ہے اس کا اکثر حصہ بدن میں ہوتا ہے اس کا جو حصہ جسم سے نکلتا ہے اس کے ساتھ اس کا مخفی اتصال موجودہوتا ہے انسان جب بیدار ہوتا ہے تو روح کا وہ حصہ جو پھیل چکا تھا جسم میں موجود اکثر حصہ اسے اپنی طرف کھینچتا ہے تو وہ لوٹ آتی ہے ‘ اس کے علاوہ بھی بات کی گئی۔ سبحان میں ا بحت پہلے گزر چکی ہے۔
Ayahs 39:43–4543 ۔ 45:۔ ام اتخذوا من دون اللہ شفعا بلکہ انہوں نے اپنے بتوں کو شفیع بنا لیا ہے۔ کلام میں ایسی چیز ہے جو لم کو اپنے ضمن میں لئے ہوئے ہے تقدیر کلام یوں ہے لم یتفکروا لیکن انہوں نے اپنے معبودوں کو شفیع بنا لیا ہے۔ قل او لو کانو لا یملکون شیئا اے اے محمد ! انہیں کہو کیا تم انہیں شفیع بناتے ہو اگرچہ یہ شفاعت میں سے کسی چیز کے مالک نہیں اور نہ ہی یہ عقل رکھتے ہیں کیونکہ یہ جمادات ہیں ‘ یہ استفہام انکاری ہے۔ قل للہ الشفاعۃ جمیعا یہ اس میں بیان ہے کہ شفاعت صرف اللہ وحدہ لا شریک کے لئے ہے جس طرح اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : من ذالذی یشفع عندہ الا باذنہ) البقرہ (255: یعنی اس کی شفاعت کے بغیر کوئی شافع نہیں اسی طرح ارشاد باری تعالیٰ : ولا یشفعون الا لمن ارتضی) الانبیائ (28: جمیعا حال کی حیثیت سے منصوب ہے۔ اگر یہ سوال کیا جائے کہ جمعیا دو یا اس سے زائد افراد کے لئے ہوتا ہے جب کہ شفاعت تو واحد ہے۔ جواب اس کا یہ ہے کہ شفاعت مصدر ہے اور مصدر دو اور جمیع افراد کا معنی دیتا ہے۔
وحدہ خلیل کے نزدیک مفعول مطلق کی حیثیت سے منصوب ہے اور یونس کے نزدیک حال کی حیثیت سے منصوب ہے۔ مبرد نے کہا : اشمارت کا معنی ہے منقبض ہونا ‘ یہ حضرت ابن عباس اور مجاہد کا قول ہے (1) قتادہ نے کہا : اس کا معنی ہے نفرت کرنا ‘ تکبر کرنا ‘ کفر کرنا ‘ اور نافرمانی کرنا۔ مٔورج نے کہا : اس کا معنی ہے انکار کرنا۔ اشمزاز کا اصل معنی نفور اور ازورار ہے یعنی نفرت کرنا اور ناپسند کرنا۔
عمرو بن مکتوم نے کہا :
اذا عض الثقاف بھا اشمازت وولتھم عشوزنہ زبونا
اور زید نے کہا : اشماز الرجل کا معنی ہے وہ خوف سے گھبرا گیا مشرکوں سے جب کہا جاتا : لا الہ الا اللہ تو وہ نا پسندیدگی کا اظہار کرتے اور کفر کرتے۔
و اذا ذکر الذین من دونہ اذا ھم یستبشرون۔ یعنی جب بتوں کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے چہرون سے خوشی اور مسرت عیاں ہوتی ہے۔
Ayahs 39:46–4846 ۔ 48:۔ فاطر المسوت والارض یہ منصوب ہے کیونکہ یہ منادی ہے اور مضاف ہے اسی طرح علم الغیب بھی ہے۔ سیبویہ کے نزدیک اس کا نعت ہونا جائز نہیں۔
صحیح مسلم میں حضرت ابو سلمہ بن عبدالرحمن بن عوف ؓ سے مروی ہے کہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے پوچھا : نبی کریم ﷺ کسی چیز سے نماز کا آغاز کیا کرتے تھے ؟ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے کہا : آپ رات کو اٹھتے تو نماز کا آغاز ان الفاظ سے کرتے اللھم رب جبریل و میکائیل و اسرافیل فاطر السموت والارض عالم الغیب والشھادۃ انت تحکم بین عبادک فیما کانوا فیہ یختلفون اے اللہ ! جبریل ‘ میکائیل و اسرافیل کے رب ! آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے ! اے غیب و شہادت کو جاننے والے ! تو اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرتا ہے ان چیزوں میں جن میں وہ اختلاف کیا کرتے تھے۔
ولو ان للذین ظلموا جو جھوٹ بولیں اور شرک کریں اگر وہ اس دن کے عذاب سے بچنے کے لئے جو کچھ زمین میں ہے سب فدیہ دے دیں۔ یہ بحث سورة آل عمران اور سورة الرعد میں گزر چکی ہے۔
و بدالھم من اللہ مالم یکونو یحتسمون۔ اسی معنی میں وہ روایت کی گئی ہے جسے منصور نے مجاہد سے نقل کیا ہے کہا : انہوں نے ایسے اعمال کیے انہوں نے یہ گمان کیا تھا کہ وہ نیکیاں ہیں جبکہ وہ برائیاں تھیں ‘ یہ سدی کا قول ہے۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ : انہوں نے ایسے اعمال کئے انہوں نے گمان کیا تھا کہ وہ موت سے قبل اس برے عمل سے توبہ پا جائیں گے یہ بھی جائز ہے کہ انہوں نے یہ وہم کیا تھا کہ انہیں توبہ کے بغیر ہی بخش دیا جائے گا تو ان کے لئے اللہ تعالیٰ کی جانب سے وہ ظاہر ہو جس کا وہ گمان نہیں رکھتے تھے ‘ یعنی انہیں جہنم میں داخل کردیا جائے گا۔
سفیان ثوری نے اس آیت کی تفسیر بیان کرتے ہوئے کہا : ریا کاروں کے لئے ہلاکت ہے ‘ ریا کاروں کے لئے ہلاکت ہے یہ ان کی آیت اور ان کا قصہ ہے۔ عکرمہ بن عمار نے کہا : محمد بن منکدر نے موت کے وقت بڑی جزع و فزع کی آپ سے کہا گیا : یہ جزع و فزع کیسی ہے ؟ کہا : میں اللہ تعالیٰ کی ایک آیت سے ڈرتا ہوں و بدا الھم من اللہ مالم یکونو یحتسمون۔ میں ڈرتا ہوں کہ میرے لئے وہ چیز ظاہر ہو جس کا میں گمان نہیں رکھتا تھا۔ ان کے لئے کفر و معاصی کا عقاب ظاہر ہوا اور جس چیز کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے اس نے ان کا احاطہ کرلیا۔
Ayahs 39:49–5249 ۔ 52:۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ آیت حضرت حذیفہ بن مغیرہ کے بارے میں نازل ہوئی۔ قتادہ نے کہا : علی علم یعنی میرے نزدیک کمائی کی کئی صورتیں تھیں ان سے یہ بھی مروی ہے کہ علی علم کا معنی ہے (1) اس خیر کی وجہ سیجو میرے پاس تھی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : علی علم کا معنی ہے اللہ تعالیٰ کی جانب سے اس علم کی بنا پر جو میری فضیلت کے بارے میں موجود تھا حضرت حسن بصری نے کہا : علی علم کا معنی ہے اس علم کی وجہ سے جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے کہ مجھے علم تھا کہ جب دنیا مینعطا کیا گیا ہے تو اللہ تعالیٰ کے ہاں میرا مقام و مرتبہ ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا : بلکہ یہ آزمائش ہے یعنی جو نعمتیں تجھے دی گئی ہیں وہ آزمائش ہیں جس کے ساتھ تجھے آزمایا جائے گا۔ فراء نے کہا : یہاں ہی ضمیر مونث زکر کی گئی ہے کیونکہ فتنہ کا لفظ مونث ہے اگر یہ ھو فتنۃ ہوتا تب بھی جائز تھا۔ نحاس نے کہا تقدیر کلام یہ ہے بل اعطیتہ فتنۃ بلکہ اسے جو میں نے عطا کیا ہے وہ آزمائش ہے۔
قدقالھا ھا ضمیر اس لئے ذکر کی کیونکہ کلمہ مونث ہے۔ الذین من قبلھم اس سے مراد کفار ہیں جس طرح قارون وغیرہ جب اس نے یہ کہا تھا : انما اوتیتہ علی علم عندی) القصص (78:
فما اغنن عنھم ما کانو یکسبون۔ ما نافیہ ہے یعنی اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ان کی اولاد اور اموال نے کچھ نفع نہ دیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ما استفہامیہ ہے ان کے اموال نے انہيں کس چیز کا نفع دی افاصابھم سیات ما کسبوا یعنی ان کے اعمال کی برائیوں کی جزاء۔ سیئہ کی جزاء کو بھی سیئہ کہتے ہیں والذین ظلموا یعنی جنہوں نے اس امت میں شرک کیا تو انہیں بھوک اور تلوار کی صورت میں اعمال کی سزا ملے گی وہ اللہ تعالیٰ کو عاجز کرنے والے نہیں نہ یہ اللہ تعالیٰ کو ناپید پائیں گے اور انہ ہی ان کے سابقین نے انہیں نا پیدا پایا۔ یہ بحث پہلے گزر چکی ہے۔
اولم یعلموا ان اللہ یبسط الرزق لمن یشاء و تقدر ان فیذلک لا یت لقوم یومنون۔ مومن کا خصوصا ذکر کیا ہے کیونکہ وہی آیات میں تدبر کرتا ہے اور ان سے نفع حاصل کرتا ہے اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ رزق کی وسعت بعض اوقات خفیہ تدبیر اور استدراج ہوا کرتا ہے اور اس میں کمی رفعت اور عظمت شان ہوا کرتی ہے۔