Ayah 1:2پس الحمد للہ رب العلمین کا مطلب یہ ہے کہ میں نے خود اپنی حمد کی ہے اس سے پہلے کہ عالمین میں سے کوئی میری حمد کرتا اور میں نے اپنی خود حمد ازل میں بغیر کسی علت کے کی تھی اور مخلوق جو میری حمد کرتی ہے وہ علل کی وجہ سے ہوتی ہے۔ ہمارے علماء نے فرمایا : مخلوق جس کو کمال کلی عطا نہیں کیا گیا اس کا اپنی تعریف کرنا اچھا نہیں تاکہ وہ اپنے لئے منافع حاصل کرے اور اپنے آپ سے نقصان دور کرے۔
بعض علماء نے فرمایا : جب اللہ تعالیٰ کو معلوم تھا کہ اس کے بندے اس کی حمد سے عاجز ہیں تو اس نے اپنی حمد ازل میں خود ہی کی۔ پس اس کے بندوں نے انتہائی کوشش کی اس کی حمد سے عاجزی کا اظہار ہے۔ کیا آپ نے ملاحظہ نہیں فرمایا کہ سید المرسلین ﷺ نے کیسے عجز کا اظہار فرمایا : ارشاد فرمایا : لا احصو ثناء علیک۔ (1) (میں تیری ثناء نہیں کرسکتا) ۔
اور یہ شعر پڑھو :
اذا نحن اثنینا علیک بصالح فانت کما نثنی وفوق الذی نثنی
اور جب ہم کسی کرم کی وجہ سے تیری ثنا کرتے ہیں تو تو واقعی اسی طرح ہے جس طرح ہم تیری تعریف کرتے ہیں اور تو اس سے بلند مرتبہ ہے جو ہم تیری تعریف کرتے ہیں۔
بعض علماء نے فرمایا : اس نے ازل میں اپنی حمد خود فرمائی جب اس نے اپنے بندوں پر نعمتوں کی کثرت کو دیکھا اور ان کے شکر کے قیام کے عجز کو دیکھا تو اس نے اپنی تعریف کی اور ان کی طرف سے اپنی تعریف خود کی تاکہ ان کے سامنے نعمت مزید خوشگوار ہوجائے اس حیثیت سے کہ اس نے لوگوں سے احسان کا بوجھ بھی ساقط کردیا۔
مسئلہ نمبر 7: ساتوں قراء اور جمہور لوگوں کا الحمد کی دال پر رفع پڑھنے میں اجماع ہے۔ سفیان بن عیینہ، رؤبہ بن عجاج سے الحمد میں دال کا نصب مروی ہے اور یہ فعل کے اظہار کی تقدیر پر ہے (2) ۔ بعض علماء نے فرمایا : الحمد للہ رفع کے ساتھ مبتدا اور خبر میں اور خبر کی سبیل فائدہ دینا ہوتا ہے۔ اس میں کیا فائدہ ہے ؟ جواب یہ ہے کہ سیبویہ نے کہا : جب کوئی شخص الحمد للہ رفع کے ساتھ پڑھتا ہے تو اس میں اسی قسم کا معنی ہوتا ہے جو تیرے اس قول میں ہے : حمدت اللہ حمد اً مگر وہ جو الحمد کو رفع دے رہا ہے وہ یہ خبر دے رہا ہے وہ یہ خبر دے رہا ہے کہ اس کی طرف سے حمد اور تمام مخلوق کی طرف سے حمد للہ کے لئے ہے اور وہ جو الحمد کو نصب دیتا ہے وہ خبر دیتا ہے کہ تنہا اس کی طرف سے حمد اللہ کے لئے ہے۔ سیبویہ کے علاوہ علماء نے فرمایا : وہ یہ کلام اللہ تعالیٰ کے عفو، مغفرت، اس کی تعظیم اور اس کی بزرگی بیان کرنے کے لئے کرتا ہے اور خبر کے معنی کے خلاف ہے، اس میں سوال کا معنی ہے۔ حدیث میں ہے “ جس کو میرے ذکر نے مجھ سے سوال کرنے سے مشغول رکھا میں اس سے افضل دوں گا جو میں سوال کرنے والوں کو دوں گا ” (3) ۔
بعض علماء نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کا اپنی حمدو ثناء کرنا بندوں کو یہ سکھانے کے لئے ہے۔ اس صورت میں مفہوم یہ ہوگا کہ تم الحمد للہ کہو۔ طبری نے کہا : الحمد للہ تعریف ہے اس کے ساتھ اس نے اپنی ہی تعریف کی اور اس کے ضمن میں اپنے بندوں کو حکم فرمایا کہ تم بھی اس کی تعریف کرو۔ گویا یوں فرمایا : الحمد للہ کہو۔ اسی طرح ہوگا کہ ایاک نعبد کہو۔ عرب اس طرح حذف کرتے ہیں کہ ظاہر کلام اس حذف پر دلالت کرتا ہے۔ جس طرح شاعر نے کہا :
واعلم اننی ساکون رمسا اذا سار النواعج لا یسیر
فقال السائلون لمن حفرتم فقل القائلون لھم وزیر
میں جانتا ہوں کہ ہوجاؤں گا جب تیز رفتار اونٹنیاں نہیں چلیں گی۔ سوال کرنے والوں نے کہا کس کے لئے قبر کھود رہے ہو جواب دینے والوں نے کہا ان کا وزیر ہے۔
مطلب یہ ہے کہ جس کے لئے قبر کھودی جا رہی ہے وہ وزیر ہے۔ پس اس کو حذف کردیا گیا کیونکہ ظاہر کلام اس پر دلالت کر رہا تھا اور یہ عرب کلام میں کثیر ہے (1) ۔ ابن ابی عبلہ سے الحمد للہ دال اور لام کے ضمہ کے ساتھ پڑھنا مروی ہے اس بنا پر کہ دوسرا حرف اعراب میں پہلے حرف کو تابع کردیا گیا ہو۔ با کا لفظ متجانس ہوجائے اور لفظوں میں تجانس کا طلب کرنا عربوں کے کلام میں بہت زیادہ ہے۔ مثلاً اجؤک، وھو منحدر من الجبل (o) ۔ اس میں دال اور جیم کو ضمہ کے ساتھ پڑھا گیا ہے۔ شاعر کا قول ہے : اضرب السآمین امک ھابل۔ اس مصرعہ میں ہمزہ کے ضمہ کی وجہ سے نون ضمہ کے ساتھ پڑھا گیا ہے۔ اہل مکہ کی قراءت میں مردفین راء پر ضمہ پڑھا گیا ہے میم کی اتباع کرتے ہوئے۔ اسی طرح مقتلین میں میم کی اتباع میں قاف پر ضمہ پڑھا گیا ہے۔ اس طرح عرب کہتے ہیں : لامک یعنی لام کی اتباع میں ہمزہ کو کسرہ دیتے ہیں۔ نعمان بن بشیر کے لئے یہ کہا :
ویل امھا فی ھواء الجو طالبۃ ولا کھذا الذی فی الارض مطلوب
اس شعر میں ہمزہ کو کسرہ دیا ہے۔
اصل میں ویل، لامھا تھا پہلے لام کو حذف کیا گیا اب کسرہ کے بعد ہمزہ پر ضمہ بھاری تھا پھر اس ہمزہ کو لام کی طرف منتقل کردیا پھر لام کو میم کی طرح حرکت دی گئی۔ حسن بن ابی الحسن اور زید بن علی سے مروی ہے، الحمد للہ۔ یعنی دال کے کسرہ کے ساتھ پڑھا گیا ہے پہلے حرف کو حرکت میں دوسرے حرف کی اتباع کرائی گئی (2) ۔
مسئلہ نمبر 8: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے رب العلمین۔ یعنی اللہ تعالیٰ تمام جہانوں کا مالک ہے، ہر چیز جس کا وہ مالک ہے وہ اس کا رب ہے۔ پس الرب کا مطلب المالک ہے اور “ الصحاح ” میں الرب، اللہ تعالیٰ کے اسماء میں سے ایک اسم ہے۔ اس لئے بغیر نسبت واضافت کے کسی دوسرے کے لئے نہیں بولا جائے گا، لوگ زمانہ جاہلیت میں مالک کے لئے رب کا لفظ بولتے تھے۔ حارث بن حلزہ نے کہا :
وھو الرب والشھید علی یوم الحیارین والبلاء بلاء
اس میں رب، مالک کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔
رب کا معنی سردار بھی ہوتا ہے۔ اسی مفہوم میں اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں استعمال ہوا ہے : اذکرنی عند ربک (یوسف : 42) (یعنی اپنے مالک کے پاس میں ذکر کرنا) اور حدیث میں ہے ان تلد الا مۃ رب تھا۔ (3) ۔ یعنی لونڈی اپنے سردار کو جنم دے گی۔ اور ہم نے اپنی کتاب “ التذکرہ ” میں اس کا ذکر کیا ہے۔ اور الرب سے مراد مصلح، مدبر، جابر اور قائم (نگران) بھی ہوتا ہے۔ الہروی وغیرہ نے کہا : جو شخص کسی شے کی اصلاح کرتا ہے اور اسے مکمل کرتا ہے اس کے لئے بولا جاتا ہے : ربہ یریہ فھو رب لہ وراب۔ اسی وجہ سے علماء کو ربانیون کہا جاتا ہے جو کتب کے مطالعہ میں رہتے ہیں۔ اور حدیث میں ہے ھل لک من نعمۃ تربھا علیہ (1) ۔ یعنی کیا تیرے پاس کوئی نعمت ہے جس کی تو دیکھ بھال کرتا ہے اور اس کی اصلاح کرتا ہے اور الرب بمعنی معبود بھی استعمال ہوتا ہے۔ شاعر کا قول ہے :
ارب یبول الثعلبان براسہ لقد ذل من بالت علیہ الثعالب (2)
اور یہ لفظ زبادتی اور کثرت کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ رباہ وربیہ وربتہ (یعنی اس سے اسے زیادہ کردیا) یہ معنی نحاس نے بیان کیا ہے۔ “ الصحاح ” میں ہے : رب فلان ولدہ یربہ ربا، ورببہ وترببہ کا معنی ہے رباہ اور المویوب کا مطلب ہے الیربی۔ جس میں کثرت کی گئی ہو۔
مسئلہ نمبر 9: بعض علماء نے فرمایا : یہ اسم (رب) اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم ہے کیونکہ اسے پکارنے والے کثرت سے پکارتے ہیں اور قرآن حکیم میں غور کرنے سے بھی یہی پتہ چلتا ہے جیسا کہ سورة آل عمران، سورة ابراہیم وغیرہ میں ہے۔ یہ وصف رب اور مربوب کے درمیان تعلق کا شعور دیتا ہے ساتھ ساتھ اپنے ضمن میں ہر حال میں مہربانی، رحمت اور مخلوق کے اس کی طرف محتاج ہونے کا بھی رکھتا ہے۔
اس کے اشتقاق کے بارے میں اختلاف ہے۔ بعض نے کہا : یہ التربیۃ سے مشتق ہے۔ اللہ تعالیٰ مخلوق کا مدبر اور مربی ہے۔ اسی مفہوم میں ہے : ربائبکم التی فی حجورکم (النساء :23) (تمہاری بیویوں کی بیٹیاں جو تمہاری گودوں میں (پرورش پارہی) ہیں) بیوی کی بیٹی کو ربیبۃ کہا جاتا ہے کیونکہ اس کا خاوند اس کی تربیت کرتا ہے۔ پس اس بنا پر کہ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کا مدبر اور مربی ہے تو یہ فعل کی صفت ہوگی اور اس بنا پر کہ الرب بمعنی مالک اور سردار ہے تو یہ ذات کی صفت ہوگی۔
مسئلہ نمبر 10: جب رب پر الف لام داخل ہو تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ یہ خاص ہوتا ہے کیونکہ الف لام عہد کے لئے ہوگا۔ اور اگر ہم الف لام حذف کردیں تو اللہ اور اس کے بندوں کے درمیان مشترک ہوگا۔ کہا جاتا ہے : اللہ رب العباد، (اللہ بندوں کا رب ہے) زید رب الدار (زید گھر کا مالک ہے) اللہ تعالیٰ رب الارباب ہے، وہ مالک ومملوک کا مالک ہے وہ ہر ایک کا خالق و رازق ہے۔ اس کے علاوہ ہر رب، غیر خالق اور غیر رازق ہے ہر مملوک، مالک بنایا گیا ہے اس کے بعد کہ وہ مالک نہ تھا اور اس سے ملکیت چھینی بھی جائے گی، مخلوق میں سے مالک کسی چیز کا مالک ہوتا ہے اور کسی چیز کا مالک نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ کی صفت ان معانی کے مخالف ہے اور خالق و مخلوق کی صفت کے درمیان یہی فرق ہے۔
مسئلہ نمبر 11: العلمین، اہل تاویل کا العلمین کے بارے میں بہت اختلاف ہے۔ قتادہ نے کہا : العالمون، جمع ہے عالم کی اور عالم سے مراد اللہ کے سوا ہر موجود ہے اور لفظاً اس کا واحد نہیں ہے جیسے رھط اور قوم کا لفظاً واحد نہیں ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : ہر زمانہ کے لوگ عالم ہیں۔ یہ حسین بن فضل کا قول ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اتاتون الذکران من العلمین (الشعراء) اس آیت میں العلمین سے مراد لوگ ہیں۔ حجاج نے کہا :
فخندف ھامۃ ھذا العالم
جریر بن خطفی نے کہا :
تنصفہ البریۃ وھو سام ویضحی العالمون لہ عیالا
اس شعر میں العالمون لوگوں کے لئے استعمال ہوا ہے۔
حضرت ابن عباس نے فرمایا : عالمون سے مراد جن وانس ہیں اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : لیکون للعلمین نذیرا (الفرقان) (اور آپ ﷺ جن وانس کو ڈرانے والے تھے نہ کہ چوپاؤں کو) ۔ فراء اور ابو عبیدہ نے کہا : العالم سے مراد ہر ذی عقل ہے اور یہ چار امم ہیں : انسان، جن، ملائکہ اور شیاطین۔ بہائم، چوپاؤں کو عالم میں نہیں کہا جاتا کیونکہ یہ جمع ذی عقل کی جمع ہوتی ہے۔
اعثی نے کہا :
ما ان سمعت بمثلھم فی العالمینا میں نے ذی عقل لوگوں میں ان کی مثل نہیں سنا۔
زید بن اسلم نے کہا : اس سے مراد وہ ہیں جن کو رزق دیا جاتا ہے۔ اسی قسم کا قول ابو عمروبن علاء کا ہے کہ وہ روحانیون ہیں۔ حضرت ابن عباس کے قول کا معنی بھی یہی ہے، ہر ذی روح جو زمین کی سطح پر چلا۔ وہب بن منبہ نے کہا : اللہ تعالیٰ کے اٹھارہ ہزار عالم ہیں دنیا ان عالموں میں سے ایک عالم ہے۔ حضرت ابو سعید خدری نے کہا : اللہ تعالیٰ کے چالیس ہزار عالم ہیں۔ دنیا، مشرق سے مغرب تک ایک عالم ہے۔ مقاتل نے کہا : عالمون، اسی ہزار عالم ہے، چالیس ہزار عالم خشکی میں ہیں اور چالیس ہزار عالم سمندر میں ہیں۔ ربیع بن انس نے ابو العالیہ سے روایت کیا ہے، فرمایا : جن ایک عالم ہے، انسان ایک عالم ہے، اس کے علاوہ زمین کے چار کونے ہیں، ہر کونے میں پندرہ ہزار عالم ہیں اللہ تعالیٰ نے سب کو اپنی عبادت کے لئے تخلیق فرمایا ہے۔ میں کہتا ہوں : ان اقوال میں سے صحیح ترین قول یہ ہے کہ عالم ہر مخلوق وموجود کو شامل ہے اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : قال فرعون وما رب العلمین قال رب السموت والارض وما بینھما (الشعراء)
اور یہ علم اور علامۃ سے ماخوذ ہے کیونکہ یہ اپنے موجد پر دلالت کرتا ہے اسی طرح زجاج نے کہا : عالم سے مراد ہر وہ چیز ہے جسے اللہ تعالیٰ نے دنیا وآخرت میں پیدا فرمایا۔ خلیل نے کہا : العلم، العلامۃ اور المعلم ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو کسی چیز پر دلالت کرے۔ عالم چونکہ دال ہے اپنے خالق ومدبر پر اور یہ واضح ہے۔
ذکر کیا جاتا ہے کہ ایک شخص نے حضرت جنید کے سامنے کہا : الحمد للہ تو حضرت جنید نے اسے کہا : اسے مکمل کرو جس طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ تم کہو : رب العلمین اس شخص نے پوچھا : العالمین کون ہیں حتیٰ کہ تم اللہ کے ساتھ اس کا ذکر کرتے ہو ؟ حضرت جنید نے فرمایا : اے بھائی ! تم کہو کیونکہ حادث کا جب قدیم کے ساتھ ملا کر ذکر کیا جاتا ہے تو حادث کا کوئی اثر باقی نہیں رہتا
مسئلہ نمبر 12: رب میں رفع اور نصب جائز ہے۔ نصب، مدح کی بنا پر اور رفع قطع (1) کی بنا پر۔ یعنی عبارت یوں ہوگی : ھو رب العالمین۔
Ayah 1:3مسئلہ نمبر 13: الرحمن الرحیم۔ رب العلمین سے اپنی صفت بیان کرنے کے بعد اپنی تعریف ان کلمات سے فرمائی کہ وہ بہت مہربان اور ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے، چونکہ رب العلمین کی صفت سے متصف ہونے میں ترہیب تھی اس لئے ساتھ ہی الرحمن الرحیم ذکر فرما دیا کیوں کہ اس میں ترغیب تھی تاکہ اس کا خوف اور اس کی طرف رغبت دونوں کو اپنی صفات میں جمع کرلے، پس یہ اس کی طاعت اور نافرمانی سے اجتناب میں مددگار ثابت ہوں گی جیسا کہ ارشاد فرمایا : نبئ عبادی ای انا الغفور الرحیم وان عذابی ھو العذاب الالیم (الحجر) (بتا دوسرے بندوں کو کہ میں بلاشبہ بہت بخشنے والا از حد رحم کرنے والا ہوں (اور یہ بھی بتا دو کہ) میرا عذاب بھی دردناک عذاب ہے) ۔
اور فرمایا : غافر الذنب وقابل الثوب شدید العقاب ذی الطول (غافر :3) (گناہ بخشنے والا اور توبہ قبول فرمانے والا، سخت سزا دینے والا، فضل وکرم فرمانے والا ہے) ۔
اور صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اگر مومن وہ سزا جان لے جو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے تو کوئی جنت کا “ طمع بھی نہ کرے اور اگر کافر اللہ کی رحمت جان لے تو کوئی جنت سے مایوس نہ ہو ” (2) ۔
الرحمن اور الرحیم دونوں اسموں کے معانی گزر چکے ہیں پس دوبارہ ذکر کرنے کی ضرورت نہیں۔
Ayah 1:4مسئلہ نمبر 14: ملک یوم الدین۔ محمد بن سمیع نے مالک کو نصب کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس میں چار لغات ہیں : 1۔ مالک، 2۔ ملک، 3۔ ملک۔۔۔ ملک سے مخففہ۔۔۔۔ 4۔ ملیک۔
شاعر نے کہا :
وایام لنا غر طوال عصینا الملک فیھا ان ندینا
ہمارے لئے روشن لمبے دن تھے۔ ان میں ہم نے بادشاہ کی اطاعت کرنے میں نافرمانی کی۔
اور ایک شاعر نے کہا :
فاقنح بما قسم الملیک فانما قسم الخلائق بیننا علامھا
میں اس پر قناعت کرتا ہوں جو مالک نے تقسیم فرمایا اور طباع کو ان کے جاننے والے نے ہمارے درمیان تقسیم فرمایا۔
اس شعر میں الخلائق سے مراد وہ فطرت ہے جس پر انسان پیدا کیا جاتا ہے، نافع سے ملک میں کسرہ کا اشباع مروی ہے۔ اس شخص کی لغت پر جو حرکات میں اشباع کرتا ہے ملکی پڑھا گیا ہے۔ یہ بھی عربوں کی ایک لغت ہے، جس کو مہدوی وغیرہ نے ذکر کیا ہے۔
مسئلہ نمبر 15: علماء کا اس میں اختلاف ہے کہ ملک زیادہ بلیغ ہے یا مالک۔ دونوں قراءتیں نبی کریم ﷺ ، حضرات ابوبکر اور عمر رضی للہ عنہما سے مروی ہیں۔ امام ترمذی نے ان کو ذکر فرمایا ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : ملک، یہ مالک سے زیادہ بلیغ ہے کیونکہ ہر ملک مالک ہوتا ہے اور ہر مالک، ملک نہیں ہوتا۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ ملک کا امر، ہر مالک میں اس کی ملک میں نافذ ہوتا ہے حتیٰ کہ وہ مالک، ملک کی تدبیر سے ہی تصرف کرتا ہے۔ ابو عبیدہ اور مبرد نے یہ کہا ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : مالک زیادہ بلیغ ہے کیونکہ وہ انسانوں اور دوسری چیزوں کا مالک ہوتا ہے۔ پس مالک ازروئے تصرف کے زیادہ بلیغ اور عظیم ہے کیونکہ شرع کے قوانین کا اجراء اس کی طرف سے ہوتا ہے پھر مالک کے پاس تملک میں زیادتی ہوتی ہے۔
ابو علی نے کہا : ابوبکر بن سراج نے ان لوگوں سے حکایت کیا ہے جنہوں نے ملک کی قراءت کو پسند کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رب العلمین کے ساتھ اپنی توصیف فرمائی کہ وہ ہر چیز کا مالک ہے۔ اس لئے مالک کی قراءت کا کوئی فائدہ نہیں ہے کیونکہ اس طرح تو تکرار ہوجائے گا۔
ابو علی نے کہا : اس میں کوئی حجت نہیں کیونکہ قرآن حکیم میں اس انداز میں بہت سی اشیاء آئی ہیں عام مقدم ہوتا ہے پھر خاص کا ذکر ہوتا ہے جیسے ھو اللہ الخالق البارئ المصور۔ خالق عام ہے۔ پھر المصور کا ذکر فرمایا کیونکہ اس میں صنعت اور حکمت کے وجود پر تنبیہ ہے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے وبالاخرۃ ھم یوقنون (البقرہ) یہ الذین یؤمنون بالغیب (البقرہ :3) کے بعد ذکر فرمایا، جبکہ غیب کا کلمہ آخرت اور دوسری غائب چیزوں کو شامل تھا لیکن آخرت کی عظمت اور اس کے اعتقاد کے وجوب پر تنبیہ اور منکرین کفار کا رد کرنے کے لئے پھر ذکر فرمایا۔ اسی طرح فرمایا : الرحمن الرحیم ہے۔ پہلے الرحمن ذکر فرمایا جو عام ہے اس کے بعد الرحیم ذکر فرمایا کیونکہ وکان بالمومنین رحیما کے ارشاد میں مومنین کے ساتھ اس کی رحمت تخصیص ہے (1) ۔
ابو حاتم نے کہا : مالک۔ خالق کی مدح میں ملک سے زیادہ بلیغ ہے اور ملک مخلوق کی مدح میں مالک سے زیادہ بلیغ ہے۔ ان کے درمیان فرق یہ ہے کہ مخلوق میں سے مالک کبھی ملک نہیں ہوتا جبکہ اللہ تعالیٰ مالک ہوگا تو ملک بھی ہوگا۔ یہ قول قاضی ابوبکر بن عربی نے پسند کیا ہے اور انہوں نے اس کی تین وجوہ ذکر فرمائی ہیں :
1۔ تو مالک کو خاص اور عام کی طرف مضاف کرتا ہے اور تو کہتا ہے : مالک الدار والارض والثوب (گھر کا مالک، زمین کا مالک، کپڑے کا مالک) جس طرح تو کہتا ہے : مالک الملوک (بادشاہوں کا مالک) ۔
2۔ مالک کا اطلاق زیادہ اور تھوڑی ملکیت والے پر ہوتا ہے۔ جب تو ان دونوں قولوں میں غوروفکر کرے گا تو دونوں کو ایک پائے گا۔
3۔ تو کہتا ہے : مالک الملک، جبکہ تو ملک الملک نہیں کہتا۔
ابن حصار نے کہا : اس کی وجہ یہ ہے کہ مالک سے مراد ملک پر دلالت ہے اور یہ ملک کو متضمن نہیں ہے اور ملک دونوں امروں کو شامل ہے پس مبالغہ کی وجہ سے اولیٰ ہے۔ اور یہ کمال کو بھی متضمن ہے اسی وجہ سے وہ دوسرے تمام بادشاہوں پر ملک کا مستحق ہے۔ کیا تو نے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ملاحظہ نہیں فرمایا : ان اللہ اصطفہ علیکم وزادہ بسطۃ فی العلم والجسم (البقرہ : 247) ( بیشک اللہ تعالیٰ نے چن لیا ہے اسے تمہارے مقابلہ میں اور زیادہ دی ہے اسے کشادگی علم میں اور جسم میں) اسی وجہ سے نبی کریم ﷺ نے فرمایا : الا مامۃ فی قریش (1) ۔ اور قریش، عرب قبائل میں سے افضل ہیں اور عرب، عجم سے افضل و اشرف ہیں۔ اقتدار اور اختیار کو متضمن ہیں۔ یہ الملک میں ضروری امر ہے اگر وہ قادر، مختار نہ ہو اور اس کا حکم اور امر نافذ نہ ہو تو دشمن اس پر جبر کرے گا اور غیر اس پر غالب آجائے گا اور اس کی رعیت ذلیل ورسوا ہوجائے گی اور یہ سخت پکڑ، امر، نہی، وعدہ، وعید کو بھی متضمن ہے۔
آپ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا قول ملاحظہ نہیں فرمایا : وما لی لا اری الھد ھد ام کان من الغائبین لا عذبتہ عذابا شدیدا (النمل) اس کے علاوہ بھی امور عجیبہ عمدہ معانی ملک میں پائے جاتے ہیں جو مالک میں نہیں پائے جاتے۔ میں کہتا ہوں : بعض علماء نے حجت پکڑی ہے کہ ملک زیادہ بلیغ ہے کیونکہ مالک میں ایک حرف زائد ہے اور اس کے قاری (پڑھنے والے) کے لئے دس نیکیاں زیادہ ہوں، جبکہ ملک کے پڑھنے والے کے لئے دس نیکیاں کم ہوں گی۔ میں کہتا ہوں : یہ صیغہ کے اعتبار سے ہے نہ کہ معنی کے اعتبار سے ہے۔ ملک کے ساتھ قرأت ثابت ہے، اور ملک میں جو معنی پایا جاتا ہے وہ مالک میں نہیں ہے جیسا کہ ہم نے بیان کردیا ہے۔ واللہ اعلم۔
مسئلہ نمبر 16: کسی کا یہ نام نہیں رکھا جائے گا اور اس کے ساتھ صرف اللہ تعالیٰ کو پکارا جائے گا۔ بخاری اور مسلم نے “ حضرت ابوہریرہ سے روایت کیا ہے، فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قیامت کے روز اللہ تعالیٰ زمین کو اپنے قبضہ میں لے گا اور آسمان کو اپنے دائیں ہاتھ میں لپیٹ لے گا۔ پھر فرمائے گا : میں الملک ہوں، زمین کے بادشاہ کہاں گئے ” (2) اور حضرت ابوہریرہ ؓ نے نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : اللہ کے نزدیک ناپسندیدہ ترین نام اس شخص کا ہے جسے مالک الاملاک کہا جائے (3) ۔ مسلم میں یہ زائد ہے۔ “ اللہ کے سوا کوئی مالک نہ ہوگا ” (4) ۔ سفیان نے کہا : ملک الاملاک شاھان شاہ کی مثل ہے۔ امام احمد بن حنبل نے کہا : میں نے ابو عمر وشیبانی سے اخنع کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا : اس کا معنی اوضع (گھٹیا) ہے۔ ان سے ہی مروی ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قیامت کے روز اللہ کی بارگاہ میں باعث ناراضگی اور برا ترین شخص وہ ہوگا جسے ملک الاملاک کہا جاتا ہوگا، اللہ کے سوا کوئی ملک نہیں ہے (5) ۔ ابن حصار نے کہا اسی طرح ملک یوم الدین اور مالک الملک ہے اس میں تو اختلاف نہیں ہونا چاہئے کہ تمام مخلوق پر یہ نام رکھنا حرام کیا گیا ہے جس طرح ملک الاملاک حرام کیا گیا ہے، اور رہا مالک اور ملک بطور وصف ذکر کرنا۔
مسئلہ نمبر 17: ان کے ساتھ اس کو موصوف کرنا جائز ہوگا جو ان دونوں مفہوموں کے ساتھ متصف ہو۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ ان اللہ قد بعث لکم طالوت ملکا۔ بیشک اللہ تعالیٰ نے مقرر فرما دیا ہے تمہارے لئے طالوت کو اسی طرح نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ناس من امتی عرض علی غذاۃ فی سبیل اللہ یرکبون ثبج ھذا البحر ملوکا علی الاسرۃ او مثل الملوک علی الاسرۃ (1) یعنی میری امت کے کچھ لوگ مجھ پر پیش کئے گئے جو اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والے تھے وہ اس سمندر کے وسط پر سوار تھے (جیسے) تختوں پر بادشاہ ہوتے ہیں یا فرمایا بادشاہوں کی مثل تختوں پر سوار تھے۔
مسئلہ نمبر 18: اگر کوئی یہ کہے کہ ملک یوم الدین کیسے فرمایا جبکہ یوم الدین ابھی آیا ہی نہیں اور اپنی ایسی چیز کی ملکیت سے صفت بیان کرنا کیسے صحیح ہے جس کو اس نے ابھی پایا ہی نہیں ؟ اسے کہا جائے گا کہ مالک اسم فاعل کا صیغہ ہے ملک یملک سے۔ اور اسم فاعل عرب کلام میں اپنے مابعد کی طرف مضاف کیا جاتا ہے اور وہ فعل مستقبل کے معنی میں ہوتا ہے اور عربوں کے نزدیک یہ کلام معقول، پختہ اور صحیح ہوتی ہے۔ جیسے تو کہتا ہے : ھذا ضارب زید غداً یعنی وہ کل زید کو مارے گا اور اسی طرح ھذا حاج بیت اللہ فی العامل المقبل، اس کا مطلب ہے آئندہ سال وہ حج کرے گا۔ کیا آپ نے ملاحظہ نہیں فرمایا کہ فعل اس کی طرف منسوب کیا گیا ہے حالانکہ اس نے ابھی وہ فعل کیا نہیں اور اس سے مراد استقبال لیا گیا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ملک یوم الدین استقبال کی تاویل پر ہے یعنی وہ مالک ہوگا روز جزا کا یا وہ روز جزا کا مالک ہوگا جب وہ دن آئے گا۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ مالک کی تاویل قدرت کی طرف لوٹنے والی ہوگی یعنی وہ روز جزا میں قادر ہوگا، یا یہ معنی کہ وہ روز جزا پر قادر ہوگا اور اسے پیدا کرنے پر قادر ہے کیونکہ کسی شے کا مالک اسی شے میں تصرف کرنے والا اور اس پر قادر ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ تمام اشیاء کا مالک ہے اور اپنے ارادہ کے مطابق انہیں پھیرنے والا ہے اس پر اسے کوئی چیز مانع نہیں ہے۔ پہلی وجہ عربی زبان کے اصول سے زیادہ مس کرنے والی ہے اور اس کے ضابطہ کے مطابق زیادہ جاری ہونے والی ہے۔ یہ ابو القاسم الزجاجی کا قول ہے۔
تیسری وجہ یہ ہے کہ اگر کہا جائے کہ یہاں یوم الدین کی ملکیت کی تخصیص کیوں کی گئی ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اور دوسری چیزوں کا بھی مالک ہوگا۔ جواباً کہا جائے گا کہ لوگ دنیا میں ملک میں جھگڑا کرنے والے تھے جیسے فرعون، نمرود وغیرہما، لیکن اس دن اس کی ملک میں کوئی اس سے جھگڑا کرنے والا نہ ہوگا تمام لوگ سر جھکائے ہوئے ہوں گے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : لمن الملک الیوم (غافر :16) آج بادشاہی کس کے لئے ہے، ساری مخلوق جواب دے گی : للہ الواحد القھار اللہ واحد قہار کی ہے۔ اسی لئے فرمایا : ملک یوم الدین یعنی اس دن میں نہ کوئی مالک ہوگا، نہ قاضی ہوگا، نہ کوئی جزا دینے والا ہوگا سوائے اللہ تعالیٰ کے، پاک ہے وہ ذات کوئی معبود برحق نہیں سوائے اس کے۔
مسئلہ نمبر 19: اگر اللہ تعالیٰ کی صفت بیان کی جائے کہ وہ ملک ہے تو یہ اس کی ذات کی صفات سے ہوگی۔ اگر مالک کے ساتھ صفت بیان کی جائے تو یہ اس کے فعل کی صفات سے ہوگی۔
مسئلہ نمبر 20: الیوم سے مراد طلوع فجر سے لے کر غروب شمس تک وقت ہے پھر یہ عاریۃً یا مجازاً قیامت کے آغاز سے لے کر جنتیوں کے جنت میں داخل ہونے تک اور دوزخیوں کے دوزخ میں داخل ہونے تک کے لئے بولا جاتا ہے کبھی الیوم پورے دن کی ایک گھڑی کے لئے بھی بولا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : الیوم اکملت لکم دینکم (المائدہ :3) یوم کی جمع ایام ہے۔ اصل میں ایوام تھا پھر ادغام کیا گیا بعض اوقات، شدت کو الیوم سے تعبیر کرنے میں کہا جاتا ہے۔ یوم الیوم، جیسے کہا جاتا ہے : لیلۃ لیلاء۔ راجز نے کہا :
نعم اخو الھیجاء فی الیوم الیمی۔
ہیجا کا بھائی شدت میں کتنا اچھا تھا۔
اس مصرعہ میں الیمی میں قلب کیا گیا ہے۔ واؤ کو مؤخر کیا گیا ہے اور میم کو مقدم کیا گیا ہے۔ پھر واؤ کو یاء سے قلب کیا گیا ہے کیونکہ وہ طرف کلمہ میں ہے جیسا کہ عرب دلو کی جمع میں ادل کہتے ہیں۔
مسئلہ نمبر 21: الدین۔ اس کا مطلب اعمال پر جزا اور اعمال کا حساب ہے۔ حضرات ابن مسعود، ابن عباس، ابن جریج اور قتادہ وغیرہم نے اسی طرح فرمایا ہے۔ نبی کریم ﷺ سے بھی یہ مروی ہے۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد بھی ہے : یومئذ توفیھم دینھم الحق (النور : 25) اس آیت میں دین سے مراد حساب ہے۔ فرمایا : الیوم تجزی کل نفس بما کسبت (غافر : 17) اور فرمایا الیوم تجزون ما کنتم تعملون (الجاثیہ : 28) اور فرمایاء انا لمدینون (صافات) یعنی ہم جزا دئیے جائیں گے اور ہمارا محاسبہ کیا جائے گا۔ لبید نے کہا :
حصادک یوماً ما زرعت وانما یدان الفتی یوما کما ھودائن
تو اس دن وہی کاٹے گا جو تو نے بویا، جو ان کو جزا دی جائے گی جو وہ کرنے والا ہوگا۔
ایک اور نے کہا :
اذا ما رمونا رمیناھم ودنا ھم مثل ما یقرضونا
جب انہوں نے ہم پر تیر پھینکے تو ہم نے ان پر تیر پھینکے اور ہم نے انہیں جزا دی جیسا انہوں نے ہمارے ساتھ کیا تھا۔ ایک اور نے کہا :
واعلم یقینا ان ملکک زائل واعلم بان کما تدین تدان
جان لو کہ تمہاری حکومت ختم ہونے والی ہے اور جان لو جیسا کرو گے ویسا بھرو گے۔
اہل لغت نے بیان کیا ہے : دنتہ بفعلہ دینا (مصدر) دال کے فتحہ اور کسرہ کے ساتھ ہے۔ اس کا معنی ہے : میں نے اسے جزا دی، اسی سے ہے : الدیان۔ اللہ تعالیٰ کی صفت ہے یعنی جزا دینے والا ہے۔ حدیث شریف میں ہے : الکیس من دان نفسہ (1) (عقلمند وہ ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کرتا ہے) بعض نے فرمایا : الدین سے مراد فیصلہ ہے۔ یہ بھی حضرات ابن عباس سے مروی ہے۔ اسی معنی میں طرفہ کا قول ہے۔
لعمرک ما کا نت حمولۃ معبد علی جدھا حربا لدینک من مضر
تیری عمر کی قسم معبد کے اونٹ کنویں پر تیرے فیصلہ کی وجہ سے مضر قبیلہ سے جنگ کرنے کے لئے نہیں تھے۔
دین کے یہ تینوں معانی قریب قریب ہیں۔ الدین کا معنی طاعت بھی ہے۔ اس معنی میں عمرو بن کلثوم کا شعر ہے۔
وایام لنا غر طوال عصینا الملک فیھا ان ندینا
ہمارے لئے روشن لمبے دن تھے۔ ہم نے ان میں بادشاہ کی اطاعت کرنے میں نافرمانی کی۔
پس یہ دین کا لفظ مشترک ہے۔
مسئلہ نمبر 22: ثعلب نے کہا : دان الرجل کا مطلب ہے اس نے اطاعت کی اور دان کا مطلب یہ بھی ہے کہ اس نے نافرمانی کی۔ دان اس وقت بھی بولا جاتا ہے جب کوئی عزت پائے اور اس وقت بھی بولا جاتا ہے جب کوئی ذلیل ہو اور اس وقت بھی بولا جاتا ہے جب کوئی غالب آئے۔ پس یہ لفظ اضداد میں سے ہے۔ الدین کا اطلاق عادت اور شان پر بھی ہوتا ہے جیسا ہے کہ ایک شاعر نے کہا :
کدینک من ام الحویرث قبلھا جیسا کہ تیری شان ام الحویرث کی طرف سے ہے۔
مثقب نے اپنی اونٹنی کا ذکر کرتے ہوئے کہا :
تقول اذا درأت لھا وفینی اھذا دینہ ابدا ودینی
وہ اونٹنی کہتی ہے جب میں اس کا تنگ زمین پر بچھا دیتا ہوں یہ اس کی اور میری ہمیشہ کی عادت ہے۔
الدین بادشاہ کی عملداری کو بھی کہتے ہیں۔ زہیر نے کہا :
لئن حللت بجو فی بنی اسد فی دین عمرو وحالت بیننا فدک
اگر تو بنی اسد میں جو کے مقام پر عمرو کی عملداری میں اترے گا تو ہمارے درمیان فدک کا مقام حائل ہوگا۔
شاعر نے عمرو کی طاعت کی جگہ مراد لی ہے۔
الدین سے مراد بیماری بھی ہے۔ لحیانی سے مروی ہے، اس نے کہا :
یا دین قلبک من سلمی وقد دینا
اس میں دین بمعنی مرض استعمال کیا ہے۔
Ayah 1:5مسئلہ نمبر 23: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ایاک نعبد۔ اللہ تعالیٰ نے غائب کے صیغوں سے خطاب کے صیغہ کی طرف رجوع فرمایا کلام میں رنگینی پیدا کرنے کے لئے کیونکہ سورت کے آغاز سے لے کر یہاں تک اللہ تعالیٰ کے متعلق خبر تھی اور اس کی ثنا تھی۔ جیسا اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وسقھم ربھم شرابا طھوراً (الدہر) (اور پلائے گا انہیں ان کا پروردگار نہایت پاکیزہ شراب) ۔ پھر آگے مخاطب کی ضمیر ذکر فرمائی۔ فرمایا : ان ھذا کان لکم جزآءً (الدہر :22) ( انہیں کیا جائے گا) یہ تمہارا صلہ ہے۔ اسی طرح اس کا الٹ بھی قرآن میں ہے یعنی پہلے مخاطب کے صیغے اور پھر غائب کے صیغے ذکر فرمائے۔
حتی اذا کنتم فی الفلک وجرین بھم (یونس :22) یہاں تک کہ جب تم سوار ہوتے ہو کشتیوں میں اور وہ چلنے لگتی ہیں مسافروں کو لے کر) اس کا ذکر آگے آئے گا۔
نعبد کا معنی ہے نطیع (ہم عبادت کرتے ہیں) عبادت کا مطلب طاعت اور عجز و انکساری کا اظہار کرنا ہے۔ طریق معبد اس راستہ کو کہتے ہیں جو چلنے والوں کے لئے آسان بنایا گیا ہو۔ یہ ہر وی کا قول ہے۔ بندہ جب یہ کہتا ہے تو یہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کا اقرار ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے لئے عبادت کو ثابت کرتا ہے، کیونکہ لوگ اللہ تعالیٰ کے سوا بتوں وغیرہ کو بھی پوجتے ہیں۔ وایاک نستعین۔ یعنی ہم تجھے سے ہی مدد، تائید اور توفیق طلب کرتے ہیں۔ سلمی نے “ حقائق ” میں کہا : میں نے محمد بن عبد اللہ بن شاذان کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے ابو حفص فرغانی کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ جس نے ایاک نعبد وایاک نستعین کا اقرار کیا وہ جبر وقدر سے بری ہوگیا۔
مسئلہ نمبر 24: اگر یہ سوال کیا جائے کہ یہاں مفعول کو فعل پر مقدم کیوں کیا گیا ہے تو جواباً کہا جائے گا اہتمام کی خاطر مقدم کیا گیا ہے۔ عربوں کی یہ عادت ہے کہ اہم کو مقدم کردیتے ہیں۔ ذکر کیا جاتا ہے کہ ایک بدو نے دوسرے بدو کو گالی دی تو جس کو گالی دی گئی اس نے گالی دینے والے سے اعراض کیا۔ گالی دینے والے نے اس سے کہا : ایاک اعنی (میری مراد تو ہی ہے) ۔ اسے دوسرے نے کہا : وعنک اعرض میں تجھ ہی سے اعراض کرتا ہوں۔ دونوں نے اہم کو مقدم کیا۔ اسی طرح بندے اور عبادت کو معبود پر مقدم نہیں کیا گیا۔ پس نعبدک اور نسعتینک، ولا نعبد ایاک ونسعتین ایاک جائز نہیں کہ فعل کو مفعول کی ضمیر پر مقدم کیا جائے، لفظ قرآن کی اتباع کی جائے گی۔ عجاج نے کہا :
ایاک ادعو فتقبل ملقی واغفر خطایای وکثر ورقی
میں تجھ سے ہی التجا کرتا ہوں، میری عاجزی کو قبول فرما، میرے گناہ معاف فرما اور میرے مال سے زیادہ فرما۔
اور ثمر بھی مروی ہے۔ رہا شاعر کا قول :
الیک حتی بلغت ایاکا اونٹنی تیری طرف چلی حتیٰ کہ تیرے پاس پہنچ گئی۔
یہ شاذ ہے اس پر قیاس نہیں کیا جائے گا۔ ورق راء کے کسرہ کے ساتھ ہو تو مراد دراہم اور واو کے فتحہ کے ساتھ ہو تو مراد مال ہوگا۔ آیت میں ضمیر کو مکرر فرمایا تاکہ یہ وہم نہ ہو کہ تیری عبادت کرتے ہیں اور غیر سے مدد چاہتے ہیں۔
مسئلہ نمبر 25: جمہور قراء اور علماء ایاک کو یاء کی شد کے ساتھ پڑھتے ہیں۔ عمرو بن فائدنے ایان کو ہمزہ کے کسرہ اور یاء کی تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔ انہوں نے یاء کی تضعیف کو ناپسند کیا ہے کیونکہ یاء کی تشدید اور اس کے ماقبل کسرہ ہونے کی وجہ سے ثقل لازم آتا ہے یہ قرأت مرغوب نہیں ہے کیونکہ اس صورت میں معنی ہوگا ہم تیرے سورج یا تیری روشنی کی عبادت کرتے ہیں ایاۃ الشمس کا مطلب ہے سورج کی روشنی اور کبھی ہمزہ کو فتح بھی دیا جاتا ہے۔ شاعر نے کہا :
سقتہ ایاۃ الشمس الا لثاتہ اسف فلم تکدم علیہ باثمد
اس میں شاعر نے ایاۃ کو ہمزہ کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔
اگر تو ہا کو گرا دے تو مد کے ساتھ پڑھے گا۔ کہا جاتا ہے : الا یاۃ للشمس کا لھالۃ للقمر یعنی چاند کے اردگرد کے دائرہ کو ہالہ کہتے ہیں اور سورج کے دائرہ کو ایاۃ کہتے ہیں۔ فضل رقاشی نے ایاک ہمزہ کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ مشہور لغت ہے (1) ۔ ابو سوار غنوی نے دونوں جگہ پر ھیاک پڑھا ہے۔ یہ بھی ایک لغت ہے۔ شاعر نے کہا :
فھیاک والامر الذی ان توسعت مورادہ ضاقت علیک مصادرہ
یہاں ھیاک، ایاک کے لئے استعمال ہوا ہے۔
مسئلہ نمبر 26: وایاک نستعین۔
جملہ کا جملہ پر عطف ہے۔ یحییٰ بن وثاب اور اعمش نے نستعین کو نون کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ تمیم، اسد، قیس اور ربیعہ قبائل کی لغت ہے تاکہ مدد طلب کرنے والے پر دلالت کرے، نون کو کسرہ دیا جاتا ہے جس طرح الف وصل کو کسرہ دیا جاتا ہے۔ نستعین اصل میں نستمعون تھا واؤ کی حرکت عین کو دی تو واو یاء بن گئی۔ اس کا مصدر استعانۃ ہے اصل میں استمعوان تھا۔ واو کی حرکت عین کو دی گئی تو واو الف سے بدل گئی، دوساکن جمع نہیں ہوتے، تو دوسرے الف کو حذف کیا گیا کیونکہ یہ زائدہ تھا۔ بعض نے فرمایا : پہلے الف کو حذف کیا گیا کیونکہ دوسرا معنی کے لئے ہے اور ھاء عوضا لازم ہے (یعنی واو کو حذف کیا تو اس کے عوض آخر میں ھاء لازم ہے۔ )
Ayah 1:6مسئلہ نمبر 27: اھدنا الصراط المستقیم
اھدنا، مربوب کی، رب کی بارگاہ میں دعا اور رغبت ہے۔ معنی یہ ہے کہ ہماری سیدھے راستہ پر رہنمائی فرما اور سیدھے راستہ کی طرف ہمیں ہدایت عطا فرما اور ہمیں اپنی ہدایت کا وہ راستہ دکھا جو تیری عبادت اور تیرے قرب تک پہنچنے والا ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے دعا اور تمام چیزوں کو اس سورت میں رکھ دیا۔ اس کے نصف میں ثنا ہے اور نصف میں حاجات کو جمع کیا گیا ہے۔ یہ اس سورت میں جو دعا ہے وہ اس دعا سے افضل ہے جو دعا کرنے والا خود مانگتا ہے کیونکہ یہ وہ کلام ہے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے کلام فرمایا۔ اور حدیث میں ہے : “ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا سے زیادہ معزز کوئی چیز نہیں ” (2) ۔ بعض علماء نے فرمایا : اس کا معنی ہے ہمیں اپنے فرائض کی ادائیگی میں سنن کے استعمال کی رہنمائی فرما۔ بعض نے فرمایا : اس میں اصل امالہ (مائل کرنا) ہے۔ اس سے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : انا ھدنا الیک (اعراف :156) یعنی ھدنا کا معنی ہم مائل ہوئے ہے۔ نبی کریم ﷺ مرض کی حالت میں مسجد میں تشریف لائے۔ اس کیفیت کو بیان کرتے ہوئے راوی نے کہا : یتھا دٰی اثنین یعنی دو آدمیوں کے درمیان جھک کر چل رہے تھے۔ یہاں یتھادٰی بمعنی یتبایل ہے۔ اس سے الھدیۃ ہے جو ایک شخص کی ملکیت سے دوسرے کی ملکیت کی طرف جاتا ہے۔ اسی سے الھدی اس حیوان کو کہا جاتا ہے جو حرم کی طرف بھیجا جاتا ہے۔ معنی یہ ہے کہ ہمارے دلوں کو حق کی طرف مائل کر دے۔ فضیل بن عیاض نے کہا : الصراط المستقیم سے مراد دلائل کا راستہ ہے، یہ خاص ہے، جبکہ عمومی معنی بہتر ہے۔
محمد بن حنفیہ نے اھدنا الصراط المستقیم کے بارے میں فرمایا : یہ اللہ کا دین ہے، اللہ تعالیٰ اس کے علاوہ بندوں سے کوئی دین قبول نہیں کرتا۔
عاصم احوال نے ابو العالیہ سے روایت کیا ہے، الصراط المستقیم سے مراد رسول اللہ ﷺ اور آپ کے بعد کے دو خلفاء ہیں۔ عاصم نے کہا : میں نے حسن سے کہا : ابو العالیہ کہتے ہیں : الصراط المستقیم سے رسول اللہ ﷺ اور آپ کے دونوں ساتھی (ابو بکر اور عمر ؓ) ہیں۔ حسن نے کہا : انہوں نے سچ کہا اور ٹھیک کہا ہے۔
مسئلہ نمبر 28: الصراط کا اصل معنی عرب کلام میں الطریق ہے۔ عامر بن طفیل نے کہا :
شعنا ارضھم بالخیل حتی ترکنا ھم اذل من الصراط
شاعر نے الصراط کو راستہ کے معنی میں استعمال کیا ہے۔
جریر نے کہا :
امیر المومنین علی صراط اذا اعوج الموارد مستقیم
اس شعر میں صراط بمعنی راستہ استعمال کیا ہے یعنی امیر المومنین سیدھے راستہ پر ہے۔
ایک اور نے کہا :
فصد عن نھج الصراط الواضح اس نے واضح راستہ سے روکا۔
نقاش نے بیان کیا کہ رومی لغت میں الصراط کا مطلب الطریق (راستہ) ہے۔ ابن عطیہ نے کہا : یہ ضعیف قول ہے (1) ۔ السراط (سین کے ساتھ) بھی پڑھا گیا اور اس صورت میں یہ الاستراط سے مشتق ہوگا جس کا معنی الابتلاع (نکلنا) ہے۔ گویا راستہ چلنے والوں کو نگل لیتا ہے۔ راء اور صاد کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے اور سین اصل ہے۔ سلمہ نے فراء سے روایت کیا ہے، فراء نے کہا : الذراط۔ خالص زاء کے ساتھ عذرہ، کلب اور بنی القین کی لغت ہے۔ فرمایا : لوگ کہتے ہیں : ازدق جب انہوں نے اصدق کہنا ہوتا ہے۔ کہتے ہیں : الازد اور الاسد ولسق بہ اور لصق بہ۔ الصراط، دوسرے مفعول کی حیثیت سے منصوب ہے، کیونکہ ہدایت کا فعل حرف جر کے واسطہ سے دوسرے مفعول کی طرف متعدی ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : فاھدوھم الی صراط الحجیم (الصافات) اور ہدایت کا فعل بغیر حرف جر کے بھی دوسرے مفعول کی طرف متعدی ہوتا ہے جیسا کہ اس آیت میں ہے۔ المستقیم الصراط کی صفت ہے۔ مستقیم اسے کہتے ہیں جس میں کوئی ٹیڑھا پن اور انحراف (موڑ) نہ ہو۔ اسی سے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وان ھذا صراطی مستقیما فاتبعوہ (انعام :153) مستقیم اصل میں مستقوم تھا۔ واو کی حرکت نقل کر کے ماقبل قاف کو دی گئی پھر واو ماقبل کسرہ کی وجہ سے یاء سے بدل گئی۔
Ayah 1:7مسئلہ نمبر 29: صراط الذین انعمت علیھم
صراط، الصراط سے بدل کل ہے جیسے تو کہتا ہے : جاء بی زید ابوک۔ اس آیت کا مطلب ہے ہمیں ہمیشہ اپنی ہدایت عطا فرما کیونکہ انسان راستہ کی طرف رہنمائی کیا جاتا ہے پھر وہ اس سے بھٹک بھی جاتا ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : اس صراط سے مراد اور صراط ہے۔ اس کا معنی ہے : اللہ تعالیٰ کی معرفت اور اس کا فہم۔ یہ جعفر بن محمد کا قول ہے اور قرآن کی لغت الذین ہی ہے حالت رفع، نصبی اور جری میں اور ہذیل حالت رفعی میں اللذون کہتے ہیں۔ عربوں میں کچھ کہتے ہیں اللذو اور بعض الذی کہتے ہیں (خواہ حالت رفعی ہو نصبی ہو یا جری ہو) جیسا کہ آگے آئے گا۔
علیھم میں دس لغات ہیں : علیھم ھاء کے ضمہ اور میم کے سکون کے ساتھ ھا کے کسرہ اور میم کے سکون کے ساتھ۔ علیھمی ھا اور میم کے کسرہ اور کسرہ کے بعد یاء کے الحاق کے ساتھ۔ علیھمو۔ ھا کے کسرہ، میم کے ضمہ اور ضمہ کے بعد واو کی زیادتی کے ساتھ۔ علیھموھاء اور میم کے ضمہ اور میم کے بعد واؤ کے ادخال کے ساتھ علیھم ھا اور میم کے ضمہ کے ساتھ واو کی زیادتی کے بغیر۔ یہ چھ وجوہ قراء ائمہ سے منقول اور چار وجوہ عربوں سے منقول ہیں قراء کی طرف سے بیان نہیں کی گئیں۔ علیھمی ھا کے ضمہ، میم کے کسرہ اور میم کے بعد یاء کے ادخال کے ساتھ یہ حضرت حسن بصری نے عربوں سے حکایت کیا ہے۔ علیھم ھا کے ضمہ اور میم کے کسرہ کے ساتھ یاء کی زیادتی کے بغیر۔ علیھم ھا کے کسرہ اور میم کے ضمہ کے ساتھ واو کے الحاق کے بغیر۔ علیھم ھاء اور میم کے کسرہ کے ساتھ میم کے بعد یاء کے بغیر۔ یہ تمام صورتیں درست ہیں۔ یہ ابن انباری کا قول ہے۔
مسئلہ نمبر 30: حضرت عمر بن خطاب بن زبیر ؓ نے صراط من انعمت علیھم پڑھا ہے۔ علماء مفسرین کا اختلاف ہے کہ کون لوگ مراد ہیں جن پر انعام کیا گیا ہے۔ جمہور مفسرین نے فرمایا : اس سے مراد انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین ہیں۔ انہوں نے اس آیت سے استدلال کیا ہے۔ ومن یطع اللہ والرسول فاولئک مع الذی انعم اللہ علیھم من النبیین والصدیقین والشھداء والصلحین وحسن اولئک رفیقا (النساء) (اور جو اطاعت کرتے ہیں اللہ تعالیٰ اور (اس کے) رسول کی تو وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام فرمایا یعنی انبیاء اور صدیقین اور شہداء اور صالحین اور کیا ہی اچھے ہیں یہ ساتھی ) ۔
ہدایت تقاضا کرتی ہے کہ یہ لوگ صراط مستقیم پر ہیں اور آیت اور الحمد میں ہی مطلوب ہے اور تمام اقوال کا مرجع یہی ہے۔ اس لئے متعدد اقوال ذکر کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ فاللہ المستعان۔
مسئلہ نمبر 31: اس آیت میں قدریہ اور معتزلہ، امامیہ کا رد ہے کیونکہ وہ یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ انسان سے فعل کے صدور میں انسان کا ارادہ ہی کافی ہے خواہ وہ فعل طاعت ہو یا معصیت ہو کیونکہ ان کے نزدیک انسان اپنے افعال کا خالق ہے وہ اپنے افعال کے صدور میں اپنے رب کا محتاج نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ان کی تکذیب فرمائی کیونکہ انہوں نے صراط مستقیم کی طرف ہدایت کا اس کی بارگاہ سے سوال کیا۔ اگر معاملہ ان کے سپرد ہوتا اور ان کے اختیار میں ہوتا ان کے رب کے پاس یہ معاملہ نہ ہوتا تو وہ ہدایت کا اس سے سوال نہ کرتے اور ہر نماز میں بار بار سوال نہ کرتے۔ اسی طرح مصیبت کے دور کرنے میں اس کی طرف ان کا تضرع دزاری کرنا بھی ہے۔
اور مکروہ سے مراد ہدایت کے مخالف چیز ہے۔ جب انہوں نے کہا : صراط الذین انعمت علیھم غیر المغضوب علیھم ولا الضآلین جس طرح انہوں نے اس سے اپنی ہدایت کا سوال کیا اس طرح انہوں نے سوال کیا کہ انہیں گمراہ نہ کر۔ اسی طرح وہ دعا مانگتے ہیں اور کہتے ہیں : ربنا لا تزغ قلوبنا بعد اذ ھدیتنا (آل عمران : 8)
مسئلہ نمبر 32: غیر المغضوب علیھم والا الضآلین
علماء کا اختلاف ہے کہ المغضوب علیھم اور الضآلین سے کون مراد ہیں۔ جمہور علماء کا قول یہ ہے کہ المغضوب علیھم سے مراد یہود ہیں اور الضآلین سے مراد نصاریٰ ہیں۔ عدی بن حاتم کی حدیث میں اور ان کے اسلام کے قصہ میں نبی کریم ﷺ سے یہ بات تفسیر سے ذکر کی گئی ہے (1) ۔ اس حدیث کو ابو داؤد طیالسی نے اپنی مسند میں اور ترمذی نے اپنی جامع میں نقل کیا ہے۔ اس تفسیر کی تائید اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے بھی ہوتی ہے جو یہود کے بارے میں وارد ہے وباء و بغضب من اللہ (البقرہ :61) (وہ اللہ کے غضب کے مستحق ہوئے۔ ) اور فرمایا غضب اللہ علیھم (الفتح : 6) (ان پر اللہ کا غضب ہوا) اور نصاریٰ کے بارے میں فرمایا : قد ضلوا من قبل واضلوا کثیرا و ضلوا عن سواء السبیل (المائدہ 77) (جو گمراہ ہوچکی ہے پہلے سے (قوم) اور گمراکر چکے ہیں بہت سے لوگوں کو اور بھٹک چکے ہیں راہ راست سے) بعض علماء فرماتے ہیں : المغضوب علیھم سے مراد مشرکین ہیں اور الضآ لین سے مراد منافقین ہیں۔ اور بعض نے فرمایا : المغضوب علیھم مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے نماز میں اس سورت کی فرضیت کو ساقط کیا۔ الضآلین سے مراد وہ لوگ ہیں جو اس کی قراءت کی برکت سے گمراہ ہوئے۔ یہ قول سلمی نے اپنی “ حقائق ” میں اور ماوردی نے اپنی تفسیر میں حکایت کیا ہے لیکن اس قول کی کوئی حقیقت نہیں۔ ماوردی نے کہا : یہ قول مردود ہے کیونکہ جب اس کے مفہوم میں اخبار آپس میں معارض ہیں اور آثار مقابل ہیں اور اختلاف پھیلا ہوا ہے تو اس پر اس حکم کا اطلاق جائز نہیں ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : المغضوب علیھم سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے بدعتوں کی اتباع کی اور اس وجہ سے ان پر غضب ہوا۔ الضآلین سے سنن ہدیٰ سے گمراہ لوگ مراد ہیں۔
میں کہتا ہوں : یہ قول حسن ہے اور نبی کریم ﷺ کی تفسیر اولیٰ ، اعلیٰ اور احسن ہے۔ علیھم حالت رفعی میں ہے کیونکہ اس کا معنی ان پر غضب کیا گیا۔ لغت میں غضب کا معنی شدت ہے۔ رجل غضوب، یعنی سخت حلق والا شخص۔ الغضوب برے سانپ کو کہتے ہیں اس کی شدت کی وجہ سے۔ الغضبتہ اس ڈھال کو کہتے ہیں جو اونٹ کی جلد سے بنائی جاتی ہے اور تہہ در تہہ ہوتی ہے۔ اس کی شدت کی وجہ سے اسے الغضبۃ کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی صفت میں غضب کا معنی سزا کا ارادہ کرنا ہے۔ یہ ذات کی صفت ہے اور اللہ تعالیٰ کا ارادہ اس کی ذات کی صفات سے ہے۔ یا اس کا معنی نفس عقوبت (سزا) ہے۔ اسی مفہوم میں حدیث استعمال ہوئی ہے : ان الصدقۃ لتطفی غضب الرب۔ (1) (صدقہ اللہ تعالیٰ کے غضب کو بجھا دیتا ہے یہ فعل کی صفت ہے ) ۔
مسئلہ نمبر 33: ولا الضآلین عرب کلام میں الضلال کا مطلب حق کے راستہ اور قصد کے طریقوں سے دور چلا جانا ہے۔ اس معنی میں یہ مثال ہے : ضل اللبن فی الماء، یعنی دودھ پانی میں غائب ہوگیا۔ ء اذا ضللنا فی الارض (السجدہ :10) ۔ یعنی ہم موت کے ساتھ غائب ہوجائیں گے اور مٹی بن جائیں گے۔ شاعر نے کہا :
أ لم تسأل فتخبرک الدیار عن لحی المضلل این ساروا
کیا تو نے نہیں پوچھا کہ تجھے گھے خبر دیتے غائب قبیلہ کے متعلق کہ وہ کہاں چلے گئے۔
الضلضلۃ اس ملائم پتھر کو کہتے ہیں پانی جسے وادی میں گھماتا رہتا ہے۔ اسی طرح الغضبۃ پہاڑ میں اس چٹان کو کہتے ہیں جس کا رنگ پہاڑ سے مختلف ہوتا ہے۔ شاعر نے کہا :
او غضبۃ فی ھضبۃ ما امنعا
مسئلہ نمبر 34: حضرت عمر بن خطاب اور حضرت ابی بن کعب نے غیر المغضوب علیھم وغیر الضالین پڑھا ہے (2) اور ان دونوں حضرات سے راء پر نصب اور جر کا پڑھنا مروی ہے اور جریہ الذین سے علیھم میں ھا اور میم سے بدل ہونے کی وجہ سے ہوگا یا الذین کی صفت کی حیثیت سے ہوگا۔ الذین معرفہ ہے اور اصول یہ ہے کہ معرفہ کی صفت نکرہ سے اور نکرہ کی صفت معرفہ سے نہیں لگائی جاتی۔ لیکن یہاں الذین سے متعین افراد نہیں ہیں بلکہ یہ عام ہے۔ پس یہ تیرے اس قول کے قائم مقام ہوگا : انی لا مربمثلک فاکرمہ۔ یا غیر کا لفظ معرفہ بن گیا ہے کیونکہ یہ دو چیزوں کے درمیان ہے جن کے درمیان کوئی واسطہ نہیں ہے۔ (یعنی دو ضدوں کے درمیان ہے اور دو ضدوں کے درمیان غیر آئے تو معرفہ بن جاتا ہے) جیسے الحی غیر المیت، الساکن غیر المتحرک، القائم القاعد
یہ ترکیب کے دو قول ہیں : پہلا فارسی کا ہے اور دوسرا زمخشری کا ہے اور غیر پر نصب کی دو وجہیں ہیں : یا تو الذین سے حال ہے یا علیھم میں ھا اور میم سے حال ہے۔ گویا تو نے کہا : انعمت علیھم لا مغضوبا علیھم یا استثناء کی بنا پر نصب ہے۔ گویا تو کہتا ہے : الا المغضوب علیھم۔ اور اعنی فعل کے ساتھ نصب جائز ہے۔ خلیل سے یہ حکایت کیا گیا ہے۔
مسئلہ نمبر 35: ولا الضآلین میں جو لا ہے اس کے متعلق علماء کا اختلاف ہے۔ بعض نے فرمایا : یہ زائدہ ہے۔ یہ طبری کا قول ہے۔ اسی سے اللہ تعالیٰ کا قول ہے : ما منعک الا تسجد (اعراف : 12) (اس میں لا زائدہ ہے) ۔ بعض علماء نے فرمایا : یہ تاکید کے لئے داخل کیا گیا ہے تاکہ وہم نہ ہو کہ الضآلین، الذین پر معطوف ہے۔ یہ قول مکی اور مہدوی نے حکایت کیا ہے۔ کو فیوں نے کہا لا بمعنی غیر ہے۔ یہ عمر اور ابی کی قراءت ہے جیسا کہ نیچے گزر چکا ہے۔
مسئلہ نمبر 36: الضآلین اصل میں الضاللین تھا۔ پہلے لام کی حرکت حذف کی گئی پھر لام کو لام میں ادغام کیا گیا۔ پس دو ساکن جمع ہوئے۔ مدۃ الالف اور لام مدغمہ۔ ایوب سختیانی نے ولا الضالین غیر ممدودہ ہمزہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ گویا اس نے التقاء ساکنین سے دوری اختیار کی۔ یہ بھی ایک لغت ہے۔ ابو زید نے حکایت کیا ہے، فرمایا : میں عمرو بن عبید کو اسی طرح پڑھتے سنا ہے : فیومئذ لا یسأل عن ذنبہ انس ولا جان۔ میں نے گمان کیا انہوں نے غلطی کی ہے حتیٰ کہ میں نے عربوں سے سنا : دابۃ وشابۃ۔ ابو الفتح نے کہا : اس لغت پر بہت سے اقوال ہیں۔
اذا ما العوالی بالعبیط احمارت۔ (1)
جب تازہ خون کی وجہ سے نیزوں کی انیاں سرخ ہوگئیں۔
سورة الحمد کی تفسیر ہم مکمل کرتے ہیں۔ سب تعریفیں اور احسان اللہ تعالیٰ کے لئے ہے۔