Ayah 47:25ان الذین ارتدوا علی ادبارھم من بعد ماتبین لھم الھدی الشیطن سول لھم واملی لھم
بیشک جو لوگ پشت کے بل (دین سے) لوٹ گئے ‘ بعد اسکے کہ سیدھا راستہ ان کو صاف معلوم ہوگیا ‘ شیطان نے ان کو چقمہ دیا ہے اور ان کو دور دور کی سوجھائی ہے۔
اِرْتَدُّوْا عَلآی اَدْبَارِھِمْ یعنی سابق کفر کی طرف لوگ گئے۔ حضرت عروہ نے کہا : ان لوگوں سے مراد ہیں کفار اہل کتاب۔ توریت میں انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے اوصاف پڑھے تھے ‘ اسلئے بعثت سے پہلے ہی وہ حضور ﷺ کو جانتے تھے ‘ لیکن جب آپ معبوث ہوئے تو انہوں نے ماننے سے انکار کردیا۔ حضرت ابن عباس ‘ ضحاک اور سدی کے نزدیک منافق مراد ہیں۔
الشَّیْطٰنُ سَوَّلَ لَھُمْ ۔ سوّل سوال سے مشتق ہے اور سوال کا معنی ہے استرخاء ‘ یعنی شیطان نے کبیرہ گناہوں کا ارتکاب کرا کے ان کیلئے آسان بنا دیا۔ بعض کے نزدیک سَوّل ‘ سَوَل سے مشتق ہے ‘ یعنی ان کو خواہشات پر آمادہ کیا۔
سوَل کا معنی ہے آرزو۔
اَمْلٰی لَھُمْ یعنی شیطان نے ان کی امیدیں اور آرزوئیں بہت لمبی بڑھا دیں۔
Ayah 47:26ذلک بانھم قالوا للذین کرھوا ما نزل اللہ سنطیعکم فی بعض الامر وا اللہ یعلم اسرارھم
یہ اس سبب سے ہے کہ لوگوں نے ان اشخاص سے جو اللہ کے اتارے ہوئے احکام کو ناپسند کرتے ہیں ‘ یہ کہا کہ ہم بعض باتوں میں تمہارا کہنا مان لیں گے اور اللہ ان کی خفیہ باتیں کرنے کو جانتا ہے۔
ذٰلِکَ یعنی شیطان کی طرف سے یہ فریب دہی اور طویل ترین ہوا و ہوس کی ترغیب اس سبب سے ہے کہ
بِاَنَّھُمْ قَالُوْا یعنی یہودی کافروں نے منافقوں سے ‘ یا منافقوں نے یہودی کافروں سے ‘ یا ایک فریق نے مشرکوں سے کہا۔
سَنُطِیْعُکُمْ فِیْ بَعْضِ الْاَمْرِ یعنی بعض امور میں ہم تمہارے کہے پر چلیں گے ‘ یا تمہارے بعض مشروں پر عمل کریں گے ‘ جیسے تمہارے کہنے کے مطابق ہم جہاد میں (مسلمانوں کے ساتھ) شریک نہیں ہوں گے ‘ یا تمہارے کہنے سے تمہارے ساتھ مل کر ہم بھی نکلیں گے ‘ یا محمد ﷺ کی دشمنی میں ہم تمہارے ساتھ شریک ہوں گے۔
وَاللّٰہُ یَعْلَمُ اِسْرَارَھُمْ یہودیوں یا منافقوں کی پوشیدہ باتوں میں سے ایک بات یہ بھی تھی جو اللہ نے ظاہر کردی۔
Ayah 47:27فکیف اذا توفتھم الملئکۃ یضربون وجوھھم وادبارھم۔ سو ان کا کیا حال ہوگا جب فرشتے ان کی جانیں قبض کرتے ہوں گے (اور) ان کے چہروں پر اور پشتوں پر مارتے جاتے ہوں گے ‘
Ayah 47:28ذلک بانھم اتبعوا ما اسخط اللہ وکرھوا ضوانہ فاحبط اعمالھم یہ اس وجہ سے ہوگا کہ جو طریقہ اللہ کی ناراضگی کا تھا ‘ یہ اسی پر چلے اور اس کی رضامندی سے نفرت کی ‘ سو اللہ نے ان کے سب اعمال اکارت کر دئیے۔
فَکَیْفَ استفہام تعجبی ہے (پس تعجب ہے کہ بچنے کی یہ کیا تدبیر کریں گے جبکہ) ملائکہ ان کی روحیں قبض کریں گے (لوہے کے ہتھوڑوں اور گرزوں سے) ان کے چہروں اور پیٹھوں پر چوٹیں لگاتے ہوئے۔
ذٰلِکَ ایسا اس وجہ سے ہوگا کہ یہ اس بات پر چلے جو اللہ کی ناراضگی اور غضبناکی کی موجب تھی۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : یعنی توریت کی صراحتوں کو انہوں نے چھپایا اور محمد ﷺ کی نبوت کا انکار کیا۔
وَکَرِھُوْا اور ایسے کاموں سے نفرت کی جو اللہ کی خوشنودی کے موجب ہیں ‘ یعنی ایمان ‘ جہاد اور دوسری طاعتوں سے نفرت کی ‘ اسی وجہ سے اللہ نے ان کا اعمال کو اکارت کردیا۔
Ayah 47:29ام حسب الذین فی قلوبھم مرض ان لن یخرج اللہ اضغانھم۔ کیا وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض ہے ‘ یہ خیال کرتے ہیں کہ اللہ کبھی انکی دلی عداوتوں کو ظاہر نہیں کرے گا ‘
Ayah 47:30ولو نشاء لارینکھم فلعرفتھم بسیمھم ولتعرفنھم فی لحن القول اور اگر ہم چاہے تو آپ کو ان کا پورا پتہ بتا دیتے ‘ سو آپ ان کو حلیہ سے پہچان لیتے۔ اور آپ ان کو طرز کلام سے ضرور پہچان لیں گے۔
اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِھِمْ مَّرَضٌ۔ ام منقطعہ ہے ‘ کلام سابق سے اعراض پر دلالت کر رہا ہے اور استفہام انکاری ہے۔ مرض سے مراد ہے نفاق ‘ یعنی منافق خیال کرتے ہیں۔
اَنْ لَّنْ یُّخْرِجَ اللّٰہُ اَضْغَانَھُمْ کہ اللہ اپنے رسول ﷺ اور ان (منافقوں) کے دلوں کے اندر چھپے ہوئے کینے ظاہر نہیں کر دے گا۔
فَلَعَرَفْتَھُمْ بِسِیْمٰھُمْ پھر علامات اور نشانات سے آپ ان کو پہچان لیں۔ بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا : اس آیت کے اترنے کے بعد رسول اللہ ﷺ سے منافقوں کی کوئی بات پوشیدہ نہیں رہی ‘ آپ منافقوں کو ان کی خصوصی علامات دیکھ کر پہچان لیتے تھے۔
لَحْنِ الْقَوْلِ کلام کو اس کے اصلی رخ سے ہٹا کر تعرض اور تو یہ کی طرف موٹ دینے کو لَحْن القول کہتے ہیں۔ منافق ایسا ہی کرتے تھے ‘ بصورت تعریض رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کی عیب چینی کرتے تھے ‘ ان کا مذاق اڑاتے تھے اور مذمت بہ لباس مدح کرتے تھے۔
بغوی نے لکھا ہے : اس کے بعد جو منافق ‘ رسول اللہ ﷺ کے سامنے بات کرتا تھا ‘ آپ (اس کی اصلی غرض کو) پہچان جاتے تھے۔
وا اللہ یعلم اعمالکم اور اللہ تمہارے اعمال کو جانتا ہے ‘ یعنی اللہ تمہارے اچھے برے اعمال سے واقف ہے ‘ کیونکہ کفر اور زنا اور ان ہی کی طرح کے دوسرے اعمال جن کی برائی فی نفسہٖ اور ذاتی ہے ‘ ان کی خرابی کو تو سب ہی پہچانتے ہیں ‘ لیکن اس کے دوسرے اعمال کی خرابی نیت سے وابستہ ہے اور نیت سے سوائے اللہ کے کوئی واقف نہیں ‘ وہی ارادے اور نیت کے مطابق بدلہ دے گا۔
Ayah 47:31ولنبلونکم حتی نعلم المجھدین منکم والصبرین ونبلوا اخبارکم اور ہم ضرور تم سب کی
آزمائش کریں گے تاکہ تم میں سے ہم ان لوگوں کو معلوم کرلیں جو تم میں سے جہاد کرنے والے ہیں اور جو ثابت قدم رہنے والے ہیں اور تاکہ تمہاری حالتوں کی جانچ کرلیں۔
وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ یعنی جہاد کا حکم دے کر ہم تمہاری جانچ ضرور کریں گے۔
حَتّٰی نَعَلم یعنی جس طرح وجود سے پہلے ہم کو معلوم تھا کہ آئندہ ایسا ہوگا ‘ اسی طرح امتحان کے بعد ہم علم حاصل کرنا چاہتے ہیں ‘ یا نَعْلم کا معنی ہے نمیِّز یعنی ہم چھانٹ دیں گے ‘ الگ الگ کردیں گے (علم سبب ہے اور تمییز ‘ یعنی الگ الگ کردینا اسکا نتیجہ۔ سبب بول کر اس کی جگہ مسبب ‘ یعنی نتیجہ مراد ہے۔ مترجم) یا نعلم سے مراد ہے ہمارے دوست جان لیں۔
الصّٰبِرِیْنَ یعنی جہاد کی مشقتوں پر صبر کرنے والے۔
وَنَبْلُوَا۔ اَخْبَارَکُمْ یعنی ان باتوں کو جانچ لیں جو تمہارے اعمال کی خبر دے رہی ہیں تاکہ اعمال کا حسن و قبح ظاہر ہوجائے ‘ یا یہ مطلب ہے کہ تم جو اپنے ایماندار ہونے اور مسلمانوں کے دوست ہونے کی خبریں دے رہے ہو ‘ ہم انکے جھوٹ سچ ہونے کی جانچ کرلیں۔
Ayah 47:32اللہ الذین کفروا وصدوا عن سبیل اللہ وشاقوا الرسول من بعد ماتبین لھم الھدی لن یضروا
ا اللہ شیئا وسیحبط اعمالھم بیشک جو لوگ کافر ہوئے اور انہوں نے اللہ کے راستہ سے روکا اور رسول کی مخالفت کی ‘ بعد اس کے کہ ان کو سیدھا راستہ نظر آچکا تھا ‘ وہ لوگ اللہ کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکیں گے اور آئندہ اللہ ان کی کوششوں کو مٹا دے گا۔
صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ یعنی ایمان لانے سے اور رسول اللہ ﷺ کی پیروی کرنے سے روکا۔
وَشَآقُّوا الرَّسُوْلَ اور اللہ کے رسول ﷺ کی مخالفت کی۔ اس جگہ الذین کفروا الخ سے بنی قریظہ اور بنی نضیر کے یہودی اور وہ (مکی) کافر مراد ہیں جنہوں نے بدر کی لڑائی میں کافروں کے لشکر کو باری باری سے کھانا کھلایا تھا۔ یہ بارہ سردار تھے ‘ ہر سردار نے اپنی باری کے دن پورے لشکر کو کھانا دیا تھا۔
لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰہِ یعنی اپنے کفر سے وہ اپنے آپ کو ہی ضرر پہنچائیں گے ‘ اللہ کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتے۔
وَسَیُحْبِطُ اَعْمَالَھُمْ اور یقیناً اللہ ان کے اعمال کو اکارت کر دے گا۔ ان کو آخرت میں ثواب نہیں دے گا ‘ نہ دنیا میں ان کو کوئی فائدہ حاصل ہوگا۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : آیت میں وہ لوگ مراد ہیں جنہوں نے بدر کے زمانے میں (کافروں کے لشکر کو) کھانا دیا تھا۔ اسی کی نظیر دوسری آیت بھی ہے (وہ بھی ان ہی لوگوں کے متعلق ہے جنہوں نے بدری کافروں کو کھانا دیا تھا) ارشاد فرمایا : اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمْ لِیَصُدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَسَیُنْفِقُوْنَھَا ثُمَّ تَکُوْنُ عَلَیْھِمْ حَسْرَۃً ثُمَّ یُغْلَبُوْنَ ۔
Ayah 47:33یایھا الذین امنوا اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول ولا تبطلوا اعمالکم اے اہل ایمان ! اللہ کے فرمان پر
چلو اور اللہ کے رسول ﷺ کی اطاعت کرو اور اپنے (اچھے) اعمال اکارت مت کرو۔
حضرت ابن عباس اور عطاء نے کہا : یعنی شک اور نفاق یا غرور سے اپنے اعمال کو رائیگاں نہ کرو۔ کلبی نے کہا : ریا اور دکھاوٹ سے اپنے اعمال کو برباد نہ کرو۔ حسن نے کہا : کبیرہ گناہوں کا ارتکاب کر کے اپنی نیکیاں برباد مت کرو۔
رسول اللہ ﷺ کے صحابی خیال کرتے تھے کہ جس طرح شرک کی موجودگی میں کوئی اچھا عمل مفید نہیں ‘ اسی طرح لا الٰہ الا اللہ کے قائل کو کوئی گناہ ضرر نہیں پہنچائے گا ‘ اس خیال کی تردید میں یہ آیت نازل ہوئی۔ آیت کا یہ سبب نزول ابن ابی حاتم اور محمد بن نصر مروزی نے کتاب الصلوٰۃ میں بحوالۂ ابو العالیہ بیان کیا ہے : اس آیت کے نزول کے بعد صحابہ کو اندیشہ ہوا (اور وہ جان گئے) کہ گناہ سے نیک عمل باطل ہوجاتا ہے۔ بغوی نے بھی ابو العالیہ کی یہ روایت نقل کی ہے۔
مقاتل نے آیت کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ (اپنے ایمان اور خدمت اسلام کا) رسول اللہ ﷺ پر احسان نہ رکھو ‘ ورنہ تمہارے اعمال اکارت ہوجائیں گے۔
مسئلہ : ظاہر روایت میں امام ابوحنیفہ کا قول آیا ہے کہ نماز ‘ روزہ ‘ حج ‘ عمرہ یا کوئی دوسری عبادت اگر شروع کرلی گئی ہو تو اس کو پورا کرنا واجب ہے ‘ بلاعذر شرع بیچ میں سے منقطع کردینا جائز نہیں۔ کذا ذکر صاحب الہدایۃ والقدوری وغیرہما۔
کیا ضیافت بھی ایسا عذر ہے جس میں شریک ہونے کیلئے نفلی روزہ توڑا جاسکتا ہے ؟ کسی نے اس عذر کو تسلیم کیا ہے ‘ کسی نے نہیں تسلیم کیا۔ بعض کا قول ہے کہ زوال سے پہلے اس کو (روزہ توڑنے کا) عذر مانا جائے گا ‘ زوال کے بعد نہیں مانا جائے گا۔ ہاں اگر زوال کے بعد نفلی روزہ نہ توڑنے میں والدین کی نافرمانی ہو رہی ہو تو اس کو عذر تسلیم کیا جائے گا۔ اگر نفل روزہ یا نفل نماز شروع ہونے کے بعد توڑ دی تو امام ابوحنیفہ اور امام مالک کے نزدیک قضاء واجب ہے۔
منتقٰی کی روایت میں آیا ہے کہ نفل روزہ بغیر عذر کے توڑ دینا امام ابوحنیفہ کے نزدیک جائز ہے ‘ مگر اس کا بدل بطور قضاء ادا کرنا (یعنی روزہ رکھنا) ہوگا۔
امام شافعی اور امام احمد کے نزدیک (نفل) عمرہ اور حج (شروع کرنے کے بعد) پورا کرنا واجب ہے اور توڑ دیا تو قضاء واجب ہوگی۔ نفل نماز ‘ روزہ اور دوسرے نوافل کا یہ حکم نہیں ہے ‘ شروع کرنے کے بعد ان کو پورا کرنا مستحب ہے اور توڑ دینا جائز ہے اور توڑنے کے بعد کوئی قضاء واجب نہیں ہے۔
ہماری دلیل : بیشک آیت کا مطلب یہ ہے کہ شک ‘ نفاق ‘ ریا ‘ دکھاوٹ ‘ طلب شہرت اور دوسرے گناہوں سے اپنے اعمال خیر کو باطل مت کرو ‘ لیکن لا تبطلوا کا صیغہ (باعتبار لغت کے) عام ہے۔ تمام اعمال خیر کو پورا کرنے سے پہلے توڑ دینا اور بگاڑ دینا بھی اس کی ممانعت میں داخل ہے ‘ کیونکہ نفل نماز ‘ روزہ وغیرہ کا وہ حصہ جو ادا کیا جا چکا ہو ‘ قربت ‘ عبادت اور (خیر کا) عمل ہے اور باقی جو رہ گیا ‘ وہ بھی قربت اور عبادت ہے۔ اب اگر کسی کبیرہ گناہ سے یا ریا اور غرور اور طلب اور طلب شہوت کے زیر اثر اس کو توڑ دیا تو وہ عمل خیر اکارت ہوجائے گا۔
ہمارے مسلک کی تائید متعدد احادیث سے بھی ہوتی ہے :
حضرت عائشہ کا بیان ہے ‘ عروہ نے اس کو نقل کیا ہے کہ حضرت حفصہ کے پاس بطور ہدیہ بکری کا کچھ گوشت آیا۔ ہم دونوں کا روزہ تھا۔ ہم نے روزہ توڑ دا اور جب رسول اللہ ﷺ اندر تشریف لائے تو ہم نے اس بات کا تذکرہ آپ سے کیا۔ حضور ﷺ نے فرمایا : تم دونوں (اس) روزہ کے عوض دوسرا روزہ رکھنا۔ رواہ احمد من طریق سفیان بن حصین عن عروۃ ‘ ورواہ الترمذی من طریق جعفر بن برقان عن عروۃ۔ ترمذی کی روایت ان الفاظ کے ساتھ ہے : میں اور حفصہ دونوں روزہ دار تھیں۔ کچھ کھانا ہمارے سامنے لایا گیا ‘ ہم کو خواہش ہوئی ‘ ہم نے اس میں سے کچھ کھالیا ‘ پھر (جب) رسول اللہ ﷺ تشریف لائے تو مجھ سے پہلے حفصہ نے آگے بڑھ کر کہا : یا رسول اللہ ﷺ ! ہم (دونوں) روزہ دار تھیں ‘ کھانا سامنے آیا ‘ ہم کو اشتہاء تھی ‘ ہم نے اس میں سے کچھ کھالیا۔ فرمایا : اس کی جگہ کسی اور دن قضاء رکھ لینا۔
ابو داؤد اور نسائی نے یہ حدیث زمیل بن عروہ کی روایت سے نقل کی ہے ‘ لیکن بخاری نے اس روایت کو معطل قرار دیا ہے ‘ کیونکہ نہ زمیل کا عوہ سے سماع ثابت ہے ‘ نہ یزید کا زمیل سے۔
ترمذی نے لکھا ہے کہ یہ حدیث صالح بن ابی الاخضر اور محمد بن علی بن ابی حفصہ نے بروایت زہری بحوالۂ عروہ از ام المؤمنین حضرت عائشہ بیان کی ہے اور مالک بن انس اور عبیدا اللہ بن عمرو اور زیاد بن سعد اور دوسرے حفاظ حدیث نے بروایت زہری از ام المؤمنین مرسلاً نقل کی ہے۔ اس روایت میں عروہ کا نام نہیں آتا ‘ یہی زیادہ صحیح ہے ‘ کیونکہ ابن جریج کا بیان ہے کہ میں نے زہری سے پوچھا : کیا یہ حدیث آپ نے عروہ سے بحوالۂ امام المؤمین حضرت عائشہ بیان کی تھی ؟ زہری نے کہا : اس بابت میں نے عروہ سے کچھ نہیں سنا۔ ہاں ! سلیمان بن عبدالملک کے دور خلافت میں کچھ لوگوں نے بعض ایسے اشخاص کی طرف اس حدیث کی نسبت کی جنہوں نے حضرت عائشہ سے اس کے متعلق دریافت کیا تھا۔
ابن ہمام نے کہا : بخاری کی یہ تنقید اس شرط پر مبنی ہے کہ راوی کا مروی عنہ سے (ملا اور) سننا بخاری کے نزدیک ضروری ہے ‘ لیکن قول مختار یہ ہے کہ دونوں کا ہم عصر ہونا (حوالۂ روایت کیلئے) کافی ہے (دونوں کی ملاقات ضروری نہیں) اگر بخاری اور ترمذی کا اس روایت کو معطل قرار دینا تسلیم کرلیا جائے تو یہ جرح صرف اس طریق روایت پر ہو سکے گی ‘ دوسرے طریق روایت پر نہ ہوگی۔ ابن حبان نے ایک حدیث اپنی صحیح میں جریر بن حازم کی روایت سے بیان کی ہے۔ جریر نے بروایت یحییٰ بن سعید از عروہ از ام المؤمنین اس کو نقل کیا ہے ‘ حضرت عائشہ نے فرمایا : میں اور حفصہ صبح کو نفلی روزے سے تھیں ‘ الحدیث۔
ابن ابی شیبہ نے ایک اور طریق سے بروایت خصیف از سعید بن جبیر بیان کیا کہ حضرت عائشہ نے فرمایا (الحدیث) طبرانی نے معجم میں خصیف کی روایت از عکرمہ از ابن عباس بیان کی ہے کہ حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ روزے سے تھیں ‘ الحدیث۔ بزار نے ایک اور طریق سے بروایت حماد بن ولید از عبیدا اللہ بن عمر اور از نافع از عبد اللہ بن عمر بیان کیا ہے کہ حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ روزے سے تھیں ‘ الحدیث۔ اس اسناد میں حماد بن ولید ضعیف ہے۔
طبرانی نے سب طریقوں سے جدا ‘ الاوسط میں اس طرح بیان کیا ہے ‘ موسیٰ بن ہارون از محمد ابن مہران جمال از محمد بن ابی سلمہ مکی از محمد بن عمریہ از ابو سلمہ از ابوہریرہ ‘ حضرت ابوہریرہ نے فرمایا کہ حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ کے پاس کوئی ہدیہ آیا۔ دونوں روزے دار تھیں ‘ لیکن دونوں نے اس میں سے کچھ کھالیا اور پھر رسول اللہ ﷺ سے اس کا تذکر کردیا۔ حضور ﷺ نے فرمایا : اس کے بجائے اور ایک دن روزہ رکھ لینا اور دوبارہ ایسا نہ کرنا۔
ابن ہمام نے کہا : اس حدیث کا ثبوت ناقابل تردید ہے ‘ خواہ ہر طریق روایت ضعیف ہو۔ لیکن طرق روایت کی کثرت اس کو ناقابل تردید بنا رہی ہے ‘ پھر ہر طریق ضعیف بھی نہیں ہے۔ بعض طرق جو قابل اعتبار ہیں ‘ استدلال میں ان کو پیش کیا جاسکتا ہے۔
میں کہتا ہوں : حدیث مرسل ہمارے نزدیک احتجاج میں پیش کی جاسکتی ہے۔
ابن جوزی نے کہا کہ حدیث میں جو افطار کردہ روزے کے بدلے میں کسی ایک دن روز ہر کھنے کا حکم دیا ہے ‘ یہ حکم استحبابی ہے (وجوبی اور لزومی نہیں ہے) ۔
حقیقت میں ابن جوزی کی یہ تاویل تقاضاء لفظ کے خلاف ہے اور بلا کسی موجب کے مقتضاء حکم کی خلاف ورزی (امر کا اصل مقتضٰی وجوب ہے ‘ اگر کہیں وجوب کا معنی نہ بن سکتا ہو تو استحباب ‘ ندب ‘ مساوات وغیرہ کی طرف رجوع کیا جاسکتا ہے اور وجوب کے علاوہ تمام معانی مجازی ہیں اور حقیقت کو چھوڑ کر بغیر کسی مانع اور موجب کے مجازی معنی مراد لینا جائز نہیں۔ مترجم) بلکہ آیت ولا تبطلوا اعمالکم تو وجوب کی (جو صیغۂ امر کا اصل تقاضا ہے) تائید و تاکید کر رہی ہے۔
ایک شبہ
آیت مذکورہ سے تعلیم حدیث کی تاکید و تائید نہیں ہوتی بلکہ آیت اور حدیث میں باہم اختلاف ہے ‘ آیت سے تو شروع کرنے کے بعد افطار کی ممانعت ظاہر ہو رہی ہے ‘ افطار کے بعد قضاء واجب ہونے پر آیت دلالت نہیں کرتی اور حدیث سے ثابت ہو رہا ہے کہ افطار جائز ہے ‘ جبکہ اس کے عوض ایک دن کا روزہ رکھ لیا جائے۔
ازالہ
ہم کہتے ہیں : آیت میں افطار کی ممانعت کی گئی ہے اور یہی چیز وجوب قضاء پر دلالت کر رہی ہے ‘ کیونکہ افطارو ابطال کی ممانعت کا معنی ہی یہ ہے کہ اس عمل کو پورا کیا جائے (بیچ میں نہ توڑا جائے) اور کسی بات کے واجب ہونے کا اقتضاء یہ ہے کہ اگر اس بات کی پوری تکمیل نہ کی گئی ہو تو اس کے عوض وہ عمل کیا جائے جس کو شرعاً مثل معقول کہا جاتا ہے ‘ بشرطیکہ مثل معقول موجود ہو سکے۔ رہی حدیث ‘ تو اس میں کوئی لفظ ایسا نہیں جو افطار کے جواز پر دلالت کر رہا ہو۔ صرف وجوب قضاء (بر تقدیر افطار) پر حدیث دلالت کر رہی ہے اور وجوب قضاء اسی وقت ہوگا ‘ جب پہلے اس عمل کی تکمیل واجب ہو ‘ اور افطار حرام ہے ‘ بلکہ حدیث میں لفظ لا تعودا صراحۃً حرمت افطار پر دلالت کر رہا ہے۔ ظاہر روایت میں امام ابوحنیفہ کا یہی قول آیا ہے۔
اسی مضمون کی کچھ حدیثیں اور بھی آئی ہیں۔ دارقطنی نے لکھا ہے کہ طلحہ بن یحییٰ نے اپنی پھوپھی کی روایت سے حضرت عائشہ کا بیان نقل کیا۔ ام المؤمنین نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس اندر تشریف لائے اور فرمایا : (آج) میں روزہ رکھنا چاہتا ہوں (یعنی حضور ﷺ نے روزہ کی نیت کرلی) اپ کی خدمت میں کچھ حلوا بطور ہدیہ پیش کیا گیا تو فرمایا : (اب) میں کھا لوں گا ‘ اور آج کے روزہ کے بجائے اور کسی دن روزہ رکھ لوں گا۔ دارقطنی نے کہا : یہ آخری جملہ محمد بن عمرو ابو العباس باہلی کے سوا اور کسی نے ابن عیینہ کی روایت میں ذکر کیا جانا نہیں بیان کیا ‘ شاید محمد بن عمرو کو اشتباہ ہوگیا۔ حافظ ابن حجر نے کہا : نسائی نے بحوالۂ محمد بن منصور ابن عیینہ کی روایت اس زائد لفظ کے ساتھ بیان کی ہے۔ امام شافعی نے ابن عیینہ سے (اسی زائد لفظ کے ساتھ) یہ حدیث روایت کی ہے اور ذکر کیا کہ ابن عیینہ نے حدیث میں اس لفظ کا اضافہ اپنی وفات سے ایک سال پہلے کیا تھا۔ حافظ ابن حجر نے لکھا ہے : آخر عمر میں ابن عیینہ کے دماغ میں کچھ تغیر ہوگیا تھا۔
دارقطنی نے اپنی سند سے بوساطت محمد بن ابی حمید ‘ ابراہیم بن عبید کا بیان نقل کیا ہے کہ حضرت ابو سعید خدری نے کچھ کھانا بنوایا اور رسول اللہ ﷺ کی مع صحابہ کے دعوت کی۔ ایک شخص بولا : میرا تو آج روزہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تیرے بھائی نے تیرے لئے (کھانا) بنوایا ہے ‘ روزہ توڑ لے اور اس کی جگہ کسی اور دن روزہ رکھ لینا۔ دارقطنی نے کہا : یہ حدیث مرسل ہے۔ ابن جوزی نے لکھا ہے : محمد بن ابی حمید کچھ نہیں ہے۔ نسائی نے کہا : یہ قابل اعتبار نہیں ہے۔ ابن حبان نے کہا : اس کو حجت میں پیش نہیں کیا جاسکتا۔
دارقطنی نے لکھا ہے کہ حضرت جابر بن عبد اللہ راوی ہیں کہ ایک صحابی نے رسول اللہ ﷺ کیلئے کھانا بنوایا اور رسول اللہ ﷺ کی مع صحابہ کے دعوت کی۔ جب کھانا لایا گیا تو ایک شخص (کھانے سے) الگ ہٹ گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تیرے بھائی نے تو تکلیف اٹھا کر تیرے لئے کھانا بنوا اور تو کہہ رہا ہے کہ میں روزہ دار ہوں۔ کھا اور اس کی بجائے کسی دن روزہ رکھ لینا۔ اس روایت کی اسناد میں ایک راوی عمر بن حلیف ہے ‘ ابن عدی اور ابن حبان نے کہا : اس شخص کو احادیث وضع کرلینے کا ملزم کہا جاتا ہے۔ دارقطنی نے حضرت ثوبان کی روایت سے بیان کیا کہ رمضان کے علاوہ رسول اللہ ﷺ کا کسی اور دن روزہ تھا۔ کچھ اندرونی احتباس کی وجہ سے آپ کو تکلیف ہونے اور قے آنے لگی ‘ آپ نے قے کردی اور پانی منگوا کر وضو کیا ‘ پھر روزہ توڑ دیا۔ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! کیا قے ہونے سے وضو فرض ہوجاتا ہے۔ فرمایا : اگر فرض ہوتا تو تم کو قرآن میں (اس کا حکم) ملتا۔ پھر دوسرے روز حضور ﷺ نے روزہ رکھا ‘ اور فرمایا : یہ (روزہ) کل کا روزہ توڑنے کی بجائے ہے۔ میں نے خود حضور ﷺ کو فرماتے سنا تھا۔ اس کی سند میں ایک راوی عتبہ بن سکن ہے ‘ دارقطنی نے اس کو متروک الحدیث کہا ہے۔
دارقطنی نے اپنی سند سے بیان کیا کہ محمد بن ابی حمید نے بحوالۂ ضحاک بن حمزہ ‘ منصور کی روایت نقل کی کہ حضرت ام سلمہ نے ایک روز نفل روزہ رکھا ‘ پھر توڑ دیا۔ حضور ﷺ نے ان کو حکم دیا کہ اس کی بجائے ایک دن روزہ رکھنا۔
یحییٰ نے کہا : ضحاک کچھ نہیں ہے۔ ابو زرعہ نے کہا : محمد بن ابی حمید بڑا جھوٹا ہے۔
امام شافعی اور امام احمد نے مندرجۂ ذیل احادیث سے اپنے مسلک پر استدلال کیا ہے۔
حضرت جویریہ کی حدیث ہے کہ جمعہ کے روز میں روزہ سے تھی ‘ رسول اللہ ﷺ اندر تشریف لائے اور فرمایا : کیا تم نے کل روزہ رکھا تھا ؟ میں نے جواب دیا : نہیں۔ فرمایا کہ کل کا روزہ رکھو گی ؟ میں نے عرض کیا : نہیں۔ فرمایا : تو روزہ توڑ دو ‘ رواہ البخاری۔
امام احمد نے ابوعمر کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ حضرت جویریہ کے پاس اندر تشریف لے گئے ‘ الحدیث۔
حضرت عائشہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ (صبح کو) ان کے پاس تشریف لاتے اور فرماتے تھے : کیا تمہارے پاس میرے کھانے کیلئے کچھ موجود ہے ؟ حضرت عائشہ جواب دیتیں : کچھ نہیں ہے۔ حضور ﷺ فرماتے : تو (آج) میرا روزہ ہے۔ اس کے بعد (کسی وقت) تشریف لاتے (اور کہیں سے بطور ہدیہ آئی ہوئی کوئی چیز حضرت عائشہ کے پاس ہوتی) تو ام المؤمین عرض کرتیں : ہمارے پاس کچھ ہدیہ کے طور پر آیا ہے اور ہم نے آپ کیلئے اس کو چھپا کر رکھ لیا ہے۔ حضور ﷺ فرماتے : کیا ہے ؟ حضرت عائشہ کہتیں : حیس (ایک خاص قسم کا حلوا) ہے۔ فرماتے : صبح میرا روزہ تھا۔ پھر حضور ﷺ کھالیتے ‘ رواہ مسلم۔ دارقطنی اور بیہقی کی روایت میں حدیث ان الفاظ کے ساتھ ہے : رسول اللہ ﷺ میرے پاس اندر تشریف لائے اور فرمایا : کیا کچھ (کھانے کو) تمہارے پاس ہے ؟ میں نے عرض کیا : نہیں۔ فرمایا : تو اب میں صائم ہوں۔ حضرت عائشہ نے اس کے بعد فرمایا : اک اور دن میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا : کیا تمہارے پاس کچھ ہے ؟ میں نے عرض کیا : جی ہاں۔ فرمایا : اگرچہ میں نے روزہ لازم کرلیا تھا (یعنی روزہ کی نیت کرلی تھی) لیکن اب میں افطار کئے لیتا ہوں۔
حضرت ام سلیم کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ صبح کو ہمارے پاس تشریف لاتے اور (رات سے) روزہ کی نیت کرچکے ہوتے اور فرماتے : کیا تمہارے پاس کچھ ہے ؟ کیا تمہارے پاس کچھ آیا ہے ؟ ہم کہتے : کیا صبح سے آپ کا روزہ نہ تھا۔ فرماتے : کیوں نہیں ‘ لیکن جب نذر اور قضاء رمضان کا روزہ نہ ہو تو توڑ دینے میں کوئی حرج نہیں۔ دارقطنی کی اس روایت میں محمد بن عبیدا اللہ عزرمی ضعیف راوی ہے۔
حضرت ابو جحیفہ کا بیان ہے کہ حضرت سلمان کا حضرت ابو درداء سے رسول اللہ ﷺ نے بھائی چارا کرا دیا۔ (ایک روز) حضرت سلمان ‘ حضرت ابو درداء کی ملاقات کو گئے (اندر جا کر) حضرت ابو درداء کی بیوی کو میلی کچیلی حالت میں دیکھا۔ پوچھا : کیا بات ہے ؟ ام درداء نے کہا : آپ کے بھائی ابو درداء کو دنیا کی کوئی رغبت نہیں (پھر میں کس کیلئے سنگھار کروں ؟ ) اتنے میں حضرت ابو دردا بھی آگئے اور حضرت سلمان کیلئے کھانا بنوایا (کھانا آگیا تو) حضرت ابو درداء نے حضرت سلمان سے کہا : میرا تو روزہ ہے ‘ آپ کھائیے۔ حضرت سلمان نے کہا : جب تک آپ نہیں کھائیں گے ‘ میں بھی نہیں کھاؤں گا۔ چناچہ حضرت ابو درداء نے بھی کھایا۔ جب رات ہوئی تو ابو درداء نماز کیلئے کھڑے ہونے لگے۔ حضرت سلمان نے کہا : اب سو جائیے۔ حضرت ابو درداء سو گئے ‘ پھر (رات میں کسی وقت) نماز پڑھنے اٹھ بیٹھے۔ حضرت سلمان نے کہا : سو جائیے۔ جب آخر رات ہوئی تو حضرت سلمان نے کہا : اب اٹھ جائیے۔ چناچہ دونوں اٹھ کر نماز پڑھنے لگے۔ حضرت سلمان نے حضرت ابو درداء سے کہا : تم پر اپنے رب کا بھی حق ہے اور اپنی جان کا بھی حق ہے اور تم پر تمہاری بیوی کا بھی حق ہے ‘ ہر حق دار کو اس کا حق ادا کرو۔ حضرت ابو درداء نے (صبح کو) رسول اللہ ﷺ کی خد مت میں حاضر ہو کر اس بات کا تذکرہ کیا ‘ حضور ﷺ نے فرمایا : سلمان نے سچ کہا۔
میں کہتا ہوں : ان احادیث سے صرف اتنا ثابت ہوتا ہے کہ (نفل) روزہ توڑ دینا جائز ہے ‘ یہ ثابت نہیں ہوتا کہ توڑے ہوئے روزے کی قضاء واجب نہیں ہے ‘ اور حضرت جویریہ کی حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ تنہا جمعہ کا روزہ رکھنا (جب کہ جمعرات یا سنیچر کا روزہ اس کے ساتھ نہ ملایا جائے) مکروہ ہے۔ حضرت ابوہریرہ کی روایت سے اس کی تائید ہوتی ہے ‘ حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (تنہا) جمعہ کا روزہ نہ رکھو ‘ مگر اس صورت میں کہ جمع سے پہلے (جمعرات کے) دن کا روزہ رکھا ہو یا جمعہ کے بعد (سنیچر) کے دن کا رکھو ‘ متفق علیہ۔ دوسرے الفاظ میں حدیث اس طرح آئی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اکیلے جمعہ کا روزہ رکھنے کی ممانعت فرمائی ‘ رواہ مسلم۔ امام شافعی کے مسلک کے ثبوت میں کچھ اور ضعیف حدیثیں بھی پیش کی جاتی ہیں۔
حضرت ام ہانی کی حدیث مختلف طریقوں سے اور مختلف الفاظ میں آئی ہے۔ نسائی نے بحوالۂ حماد بن سلمہ بروایت سماک بن حرب از ہارون بن ام ہانی بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے کچھ شربت نوش فرمایا اور حضرت ام ہانی کو بھی عنایت کیا۔ حضرت ام ہانی نے کہا : میرا روزہ ہے ‘ لیکن میں آپ کے پس خوردہ کو رد کرنا بھی گوارا نہیں کرتی۔ حضور ﷺ نے فرمایا : اگر (تمہارا یہ روزہ) قضاء رمضان کا ہے تو اس کی جگہ کسی اور دن رکھ لینا اور اگر نفل روزہ ہے تو دل چاہے اس کی قضاء رکھ لینا ‘ دل نہ چاہے تو نہ رکھنا۔
امام احمد اور ترمذی وغیرہ نے بروایت سماک از ہارون یہ حدیث ان الفاظ کے ساتھ بیان کی ہے کہ حضرت ام ہانی نے فرمایا : میں رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھی ہوئی تھی۔ خدمت گرامی میں شربت پیش کیا گیا ‘ آپ نے کچھ پیا ‘ پھر مجھے عنایت کردیا اور میں نے پی لیا۔ پھر میں نے کہا : مجھے سے گناہ ہوگیا۔ حضور ﷺ نے فرمایا : کیا گناہ ہوگیا ؟ میں نے عرض کیا : میں روزے سے تھی ‘ روزہ توڑ دیا۔ فرمایا : کیا تم نے کسی روزہ کے بدلہ میں روزہ رکھا تھا ؟ میں نے عرض کیا : نہیں۔ تو فرمایا : تو پھر تمہیں روزہ توڑنے سے کوئی ضرر نہ ہوگا (یعنی گناہ نہ ہوگا) سماک بن حرب اگر روایت میں منفرد ہو تو ناقابل اعتبار ہے ‘ کذا قال النسائی۔
بیہقی نے کہا : اس کی اسناد میں کلام ہے۔ ابن القطان نے کہا : ہارون مجہول ہے (معروف الاحوال نہیں) میں کہتا ہوں : ہارون کو کسی نے ام ہانی کا بیٹا ‘ کسی نے پوتا اور کسی نے نواسہ کہا ہے۔
امام احمد اور ترمذی کے روایت کردہ الفاظ اس بات پر دلالت نہیں کرتے کہ قضاء واجب نہیں ہے۔
ابو داؤد اور دارمی وغیرہ نے بروایت جریر از یزید بن زیاد از عبد اللہ بن حارث بیان کیا کہ حضرت ام ہانی نے فرمایا : جب فتح یعنی فتح مکہ کا دن ہوا تو فاطمہ آکر رسول اللہ ﷺ کے بائیں طرف بیٹھ گئیں ‘ میں دائیں طرف بیٹھی تھی۔ ایک خادمہ ایک برتن میں کچھ شربت لائی۔ میں نے لے کر اس کچھ اس میں سے پیا ‘ پھر (روزہ دار ہونے کا خیال آیا تو) میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! میرا تو روزہ تھا ‘ میں نے روزہ توڑ دیا۔ فرمایا : کیا تم نے قضاء روزہ رکھا تھا ؟ میں نے عرض کیا : نہیں۔ فرمایا : اگر نفلی تھا تو (توڑنے میں) کوئی حرج نہیں۔
امام احمد کی روایت اس طرح ہے : ہم سے محمد بن جعفر نے محمد سے شعبہ نے شعبہ سے حجت نے حجت سے ام ہانی بیان کیا ‘ ام ہانی ‘ حجت کی دادی تھیں کہ فتح کے دن رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے۔ ایک برتن پیش کیا گیا ‘ آپ نے (شربت) پیا ‘ پھر مجھے دے دیا۔ میں نے عرض کیا : میرا تو روزہ ہے۔ فرمایا : نفلی روزہ رکھنے والا اپنے نفس کا مختار ہوتا ہے۔ اگر تم چاہو تو روزہ (قائم) رکھو ‘ چاہو تو توڑ دو ۔
ابو داؤد طیالسی کی روایت بواسطۂ جعدہ از ابو صالح از ام ہانی اس طرح ہے کہ رسول اللہ ﷺ حضرت ام ہانی کے پاس تشریف لائے اور (کچھ) پیا ‘ پھر ام ہانی کو دے دیا ‘ انہوں نے بھی پی لیا اور عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! میں تو روزہ دار تھی۔ حضور ﷺ نے فرمایا : نفل روزہ رکھنے میں آدمی اپنا مختار خود ہے۔ اگر چاہے تو روزہ (قائم) رکھے ‘ چاہے تو توڑ لے۔ ذہبی نے کہا : جعدہ از ابو صالح مجہول ہے۔ بخاری نے کہا : یہ محتاج نظر ہے ‘ پھر یہ واقعہ یوم الفتح کا قرار دینا اور بھی مجروح ہے ‘ کیونکہ فتح رمضان میں ہوئی تھی ‘ رمضان (حاضر) میں (گذشتہ رمضان کے فوت شدہ) روزہ کی قضاء ناقابل فہم ہے ‘ نہ رمضان میں نفلی روزہ ہوتا ہے۔
ابن ہمام نے منتقٰی والی روایت کو مختار مانا ہے کہ امام ابوحنیفہ کے نزدیک نفل روزہ رکھنے والے کو بلاعذر روزہ توڑ دینا جائز ہے اور اس کی دلیل وہ حدیث ہے جس سے امام شافعی نے استدلال کیا ہے اور پھر توڑے ہوئے روزہ کی قضاء واجب ہے اور اس کا ثبوت ان احادیث سے ملتا ہے جو امام ابوحنیفہ نے استدلال میں پیش کی ہیں ‘ اس طرح مختلف احادیث میں توفیق کی صورت نکل آئے گی۔
ابن ہمام نے یہ بھی لکھا ہے کہ آیت ولا تبطلوا اعمالکم میں ابطال سے مراد یہ ہے کہ ایسے اعمال اکارت جائیں گے ‘ ان کا کوئی فائدہ نہ ہوگا ‘ ان کا وجود عدم کے برابر ہوگا ‘ لیکن ابطال اگر بارادۂ قضاء کیا جائے تو اس کی ممانعت پر آیت دلالت نہیں کرتی۔
میں کہتا ہوں : لا تبطلوا کا مصدر ابطال ہے (اور لا تبطلوا کسی خاص ابطال پر دلالت نہیں کر رہا ہے بلکہ اس سے عام ابطال سمجھا جاتا ہے) اور یہ ابطال نکرہ ہے جو نفی (لا) کے بعد آیا ہے ‘ اسلئے ہر ابطال کی ممانعت اس سے معلوم ہوتی ہے۔ اب جو شخص شروع کرنے کے بعد نفل نماز کو توڑ دے یا نفل روزے کو ‘ بہرحال وہ عمل (خیر) کا ناقض ہوگا۔ رہا قضاء کا مسئلہ تو یہ الگ عمل ہے ‘ جس سے پہلے عمل (یعنی نقض عمل) کا تدارک کیا جاتا ہے ‘ لہٰذا بلاعذر (نفل نماز ‘ روزہ وغیرہ کو توڑنا) اس آیت سے ہی ممنوع قرار پاتاے۔ ہاں احادیث سے ضرور ابطال کا جواب ثابت ہوتا ہے ‘ لیکن تعارض کے وقت احادیث آحاد پر آیت کی تقدیم لازم ہے ‘ خصوصاً ایسی صورت میں کہ آیت نقض عمل کی حرمت پر دلالت کر رہی ہے اور احادیث حلت پر اور تحریم کو احتیاطاً تحلیل پر مقدم رکھنا واجب ہے ‘ اسلئے قیاس بھی تحریم ہی کو چاہتا ہے ‘ کیونکہ نفل حج اور عمرہ کو توڑنا (کسی کے نزدیک) جائز نہیں ‘ اگر توڑ دیا تو قضاء واجب ہے (پس نفل نماز ‘ روزہ کا توڑنا بھی جائز نہیں ہوگا ‘ اگر توڑ دیا تو قضاء واجب ہوگی) ۔
Ayah 47:34ان الذین کفروا وصدوا عن سبیل اللہ ثم ما توا وھم کفار فلن یغفر اللہ لھم بیشک جو لوگ
کافر ہوئے اور انہوں نے اللہ کے راستہ سے روکا ‘ پھر وہ کفر کی حالت ہی میں مرگئے ‘ اللہ ان کو کبھی نہیں بخشے گا۔
اس آیت کا تعلق سابق الذکر آیت اِنَّ الَّذِیْنَ کَفُرْوْا وَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ الخ سے ہے اور ان کافروں سے مراد وہ کافر جو جنگ بدر میں مارے گئے تھے اور رسول اللہ ﷺ نے ان کی نعشوں کو ایک گڑھے میں جمع کرا دیا تھا ‘ لیکن (الفاظ میں عموم ہے ‘ اسلئے) آیت کا حکم ان تمام کافروں کیلئے ہے جو کفر پر مرے ہوں۔
Ayah 47:35فلا تھنوا وتدعوا الی السلم وانتم الاعلون وا اللہ معکم ولن یترکم اعمالکم سو تم ہمت نہ ہارو ‘
اور صلح کی طرف مت بلاؤ ‘ اور تم ہی غالب رہو گے اور اللہ تمہارے ساتھ ہے اور تمہارے اعمال میں ہرگز کمی نہیں کرے گا۔
فَلاَ تَھِنُوْا یعنی جہاد میں کمزوری نہ کرو۔
وَتَدْعُوْٓا اِلَی السَّلْمِ یعنی اول کافروں کو صلح کی طرف نہ بلاؤ ‘ اس مطلب پر تدعوا کا عطف تَہِنُوْا پر ہوگا اور دونوں فعل نہی کے ذیل میں آجائیں گے۔ آیت میں کافروں سے صلح کی درخواست کرنے کی ممانعت فرما دی ‘ کیونکہ اس سے اپنی کمزوری اور بزدلی کا اظہار ہوتا ہے۔
وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ یعنی اللہ کی مدد سے تم غالب رہو گے ‘ اللہ نے نیک مؤمنوں کی مدد کا وعدہ فرما لیا ہے۔
وَاللّٰہُ مَعَکُمْ اور اللہ تمہارے ساتھ ہے۔ اللہ کی معیت بےکیف ہے (نہ زمانی ‘ نہ مکانی) اللہ تمہارے ساتھ اس وجہ سے ہے کہ تم مؤمن ہو اور ایمان کا تقاضا ہے کہ اللہ سے محبت ہو اور جس سے محبت ہوتی ہے ‘ آدمی اسی کے ساتھ ہوتا ہے۔
وَلَنْ یَّتِرَکُمْ یعنی اللہ تمہارے اعمال کے ثواب میں کوئی کمی نہیں کرے گا۔
وَتَرَہٗ اس کا حق کم ادا کیا۔
حضرت ابن عباس ‘ مقاتل ‘ قتادہ اور ضحاک نے تفسیری ترجمہ اس طرح کیا : اللہ تمہارے نیک اعمال کی حق تلفی نہیں کرے گا ‘ ان کو اکارت نہیں کر دے گا۔
Ayah 47:36انما الحیوۃ الدنیا لعب ولھو دنیوی زندگی تو بس لہو و لعب ہے۔
یعنی دنیوی زندگی باطل ہے ‘ بےسود ہے ‘ بےکار ہے ‘ اگر اس میں اللہ کی یاد نہ ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : دنیا ملعون ہے۔ اس میں جو کچھ ہے ‘ سوائے ذکر خدا کے ہر چیز ملعون ہے۔
وان تو منوا وتتقوا یؤتکم اجورکم ولا یسئلکم اموالکم۔ اور اگر تم ایمان لے آؤ گے اور تقویٰ اختیار کرو گے تو اللہ تم کو اجر عطا کرے گا اور تم سے تمہارے مال طلب نہیں کرے گا۔
Ayah 47:37ان یسئلکموھا فیحفکم تبخلوا ویخرج اضغانکم اگر وہ تم سے تمہارے مال طلب کرے اور انتہا درجہ تک طلب کرتا رہے تو تم بخل کرنے لگو اور اللہ تمہاری چھپی ہوئی ناگواری ظاہر کر دے۔
وَاِنْ تُؤْمِنُوْا یعنی اگر تم اللہ اور رسول پر ایمان لاؤ گے۔
وَتَتَّقُوْا اور اللہ کے احکام کی تعمیل کرو گے اور ممنوعات سے پرہیز کرو گے۔
یُؤْتِکُمْ اُجُوْرَکُمْ یعنی اللہ تمہارے ایمان اور تقویٰ کا ثواب آخرت میں عطا فرمائے گا ‘ اس صورت میں تمہاری یہ دنیوی زندگی آخرت کی کھیتی ہوجائے گی (جس کا حاصل آخرت میں ملے گا) اور لہو و لعب نہیں رہے گی۔
وَلاَ یَسْءَلْکُمْ اَمْوَالَکُمْ اور تمہارے مال تم سے طلب نہیں کرے گا ‘ یعنی وہ تمہارے مال کا محتاج نہیں ہے ‘ تم کو ایمان وطاعت کا حکم اسلئے دے رہا ہے کہ اسکے بدلے میں تم کو جنت عطا فرما دے۔ یہ مضمون دوسری آیت میں آیا ہے ‘ فرمایا ہے : مَآ اُرِیْدُ مِنْھُمْ مِّنْ رِّزْقٍ ۔
بعض اہل تفسیر نے آیت کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ اللہ صدقات و خیرات کی شکل میں تم سے تمہارا سارا مال نہیں طلب کرے گا بلکہ ایک حقیر ‘ قلیل حصہ یعنی چالیسواں حصہ بلکہ اس سے بھی کم طلب کرے گا۔ جیسے 120 بکریوں میں سے ایک بکری ‘ لہٰذا تم کو غم نہ کرنا چاہئے۔ ابن عیینہ نے یہی تفسیر کی ہے ‘ رفتار آیت بھی اسی مطلب کی مؤید ہے ‘ کیونکہ ایمان وتقویٰ کی ترغیب اور دنیوی زندگی کی مذمت سے (بےوقوفوں کے دماغ میں) یہ وہم پیدا ہوسکتا ہے کہ شاید اللہ اپنے راستہ میں ہمارا سارا مال صرف کرانا چاہتا ہے ‘ اس خیال کو دور کرنے کیلئے فرمایا : اللہ تمہارا سال مال طلب نہیں فرمائے گا۔
اِنْ یَّسْءَلْکُمُوْھَا فَیُحْفِکُمْ یعنی اگر وہ تم سے تمہارا سارا مال طلب کرتا اور تم کو دشواری میں ڈال دیتا۔ احفاء کسی کام کو آخری حد تک پہنچانا ‘ مبالغہ کرنا۔ حدیث میں آیا ہے : اُحْفُوا الشَّوَارِبَ یعنی لبوں کو جڑ سے کاٹو۔
تَبْخَلُوْا تو تم بخل کرتے اور مال نہ دیتے۔
وَیُخْرِجُ اَضْغَانَکُمْ اور اللہ تمہارے سینوں میں چھپے ہوئے کینوں کو برآمد کردیتا ‘ یا تمہارا بخل تمہارے کینوں کو ظاہر کردیتا۔ قتادہ نے کہا : اللہ کو معلوم تھا کہ مال طلب کرنے سے کینہ سامنے آجائے گا۔
Ayah 47:38ھانتم ھؤلاء تدعون لتنفقوا فی سبیل اللہ فمنکم میبخل ومن یبخل فانما یبخل عنہ نفسہٖ
وا اللہ الغنی وانتم الفقرء ہاں تم لوگ ایسے ہو کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کیلئے تم کو بلایا جاتا ہے ‘ سو بعض تم میں سے وہ ہیں جو بخل کرتے ہیں اور جو بخل کرتا ہے ‘ وہ خود اپنے سے بخل کرتا ہے۔ اور اللہ تو کسی کا محتاج نہیں اور تم سب محتاج ہو۔
ھٰٓاَنْتُمْ ھآؤُلَآءِ ۔ ھا حرف تنبیہ ہے ‘ انتم مبتدا ہے ‘ ہٰؤلاء اسکی خبر ہے ‘ یا ھٰؤلاء منادیٰ ہے ‘ حرف ندا محذوف ہے اور تَدْعُوْنَ خبر ہے ‘ یا ہٰؤلاء اسم موصول ہے ‘ تدعون صلہ ہے اور موصل صلہ مل کر انتم کی خبر ہے۔
تُدْعَوْنَ لِتُنْفِقُوْا تم کو بلایا جا رہا ہے کہ اتنا مال راہ خدا میں صرف کرو ‘ جتنا اللہ نے تم پر فرض کردیا ہے۔ زکوٰۃ ہو ‘ جہاد کے مصارف ہوں یا کچھ اور ہو ‘ بہرحال تمام فرض مصارف اس میں داخل ہیں۔
فَمِنْکُمْ مَّنْ یَّبْخَلُج یعنی تم میں سے کچھ لوگ فرض کردہ مصارف میں بھی بخل کرتے ہیں۔
عَنْ نَّفْسِہٖ راہ خدا میں خرچ کرنے کا فائدہ اور بخل کرنے کا ضرر خود خرچ کرنے والے یا بخل کرنے والے کی طرف ہی لوٹے گا۔ حضرت ابن مسعود راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم میں سے کون شخص ایسا ہے جس کو اپنے (مملوکہ) مقبوضہ مال سے زیادہ وارثوں (کی ملک اور قبضہ میں پہنچے ہوئے ان) کے مال سے زیادہ محبت ہے ؟ صحابہ نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ ! ہم میں سے تو ہر ایک کو اپنے (کام میں آنے والے) مال سے زیادہ محبت ہوتی ہے۔ فرمایا : تو اپنا مال وہی ہے جو اس نے پہلے بھیج دیا اور وارثوں کا مال وہ ہے جو (مرنے کے بعد) پیچھے چھوڑ گیا ‘ رواہ البخاری والنسائی۔
حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ہر روز صبح کو دو فرشتے اترتے ہیں ‘ ایک کہتا ہے : اے اللہ ! راہ حق میں خرچ کرنے والے کو بدل عنایت فرما۔ دوسرا کہتا ہے : اے اللہ ! روک کر رکھنے والے (بخیل) کے مال کو تلف کر دے ‘ متفق علیہ۔
حضرت اسماء راوی ہیں کہ (مجھ سے) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : خرچ کرو اور گنتی نہ کرو ‘ ورنہ اللہ بھی گن گن کر دے گا۔ اور بھر کر (یعنی جمع کر کے) نہ رکھو ‘ ورنہ اللہ بھی تجھ سے بند کرلے گا ‘ اور تھوڑا دیتی رہ جہاں تک ہو سکے ‘ متفق علیہ۔ حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ فرماتا ہے : اے آدم زاد ! خرچ کر ‘ میں تجھ پر خرچ کروں گا (یعنی تجھے دوں گا) متفق علیہ۔
وَاللّٰہُ الْغَنِیُّ یعنی اللہ کو تمہاری عبادت و صدقات کی ضرورت نہیں۔
وَاَنْتُمْ الْفُقَقَرآء اور تم دنیا و آخرت میں اس کے محتاج ہو ‘ اسلئے اس نے جو چاہا تم کو حکم دیا۔
وان تتولوا یستبدل قوما غیرکم ثم لا یکونوا امثالکم اور (اے عرب ! ) اگر تم (ا اللہ اور اسکے رسول کی
اطاعت سے اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے) روگردانی کرو گے تو اللہ تمہاری جگہ اور لوگوں کو لے آئے گا ‘ پھر وہ تم جیسے نہیں ہوں گے (بلکہ تم سے زیادہ اللہ کے فرمانبردار ہوں گے) ۔
کلبی نے کہا : ان سے مراد بنی کندہ اور بنی نخع ہیں۔ حسن نے کہا : عجمی مراد ہیں۔ عکرمہ نے کہا : اہل فارس اور رومی مراد ہیں۔
حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی تو صحابہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! وہ کون لوگ ہوں گے کہ اگر ہم روگردانی کریں گے تو ان کو ہماری جگہ لے آئے گا اور وہ ہماری طرح نہ ہوں گے ؟ حضور ﷺ نے حضرت سلمان فارسی کی راہ پر ہاتھ مار کر فرمایا : یہ اور اس کی قوم والے ‘ اگر دین ثریا کے پاس چلا جائے ‘ تب بھی فارس کے کچھ لوگ اس کو لے لیں گے ‘ رواہ البغوی والترمذی والحاکم وابن حبان۔ ترمذی اور حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔ 1
سورۂ محمد کی تفسیر مظہری بروز سہ شنبہ 27/جمادی الاوّل 1208 ھ کو ختم ہوئی
ا اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ میرا خاتمہ اس خیر پر ہو جس پر حضور ختم المرسلین ﷺ کے برگزیدہ لوگوں کا ہوا۔ اے اللہ ! اس تفسیر کے ختم ہونے کا ثواب اپنے حبیب محمد رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ اور اولاد اور ازواج مطہرات کی پاک روحوں کو اور اولیاء امت محمدیہ خصوصاً شیخ شمس الدین حبیب اللہ مظہر اور آپ کے تمام مشائخ کو پہنچا دے۔ آمین