79. Surah An-Naazi'aat

النازعاتThose who drag forth · 46 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayahs 79:40–41

وَ اَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ وَ نَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوٰىۙ Open ayah 79:40 in the Quran reader

اور جو کوئی ڈرا ہوگا اپنے پروردگار کے سامنے کھڑا ہونے سے اور نفس کو خواہش سے روکا ہوگا

فَاِنَّ الْجَنَّةَ هِیَ الْمَاْوٰىؕ Open ayah 79:41 in the Quran reader

تو ایسے کا ٹھکانا جنت ہی ہے،17۔

17۔ اب ذکر فرمانبرداروں کا ہورہا ہے۔ ان کا ٹھکانا جنت کے سوا اور کہیں نہیں۔ (آیت) ” ھی الماوی “۔ میں ھی کلمہ تخصیص ہے۔ ونھی النفس عن الھوی، ھوی سے مراد حرام خواہش ہے، تو جس نے نفس کو حرام خواہشوں سے روکا رکھا “۔ کے معنی یہ ہوئے کہ جس نے عقیدہ صحیح کے ساتھ عمل صالح کو بھی جمع رکھا۔ عن الھوی۔ ھوی کے عموم میں ایسی خواہش داخل ہے جسے نفس محبوب رکھے، اور اس میں رضاء حق و خشیت الہی کا کوئی لحاظ نہ ہو، محققین اہل سنت کہتے ہیں۔ کہ ہر ذکر و عبادت و مجاہدہ بھی، جو کتاب وسنت سے ماخوذ نہ ہو، لذات نفس ہی کے لیے کیا جاتا ہے۔ اور ھوی کے حکم میں داخل ہے، اور اسی لئے باطل فرقوں کو اہل بدعت کی طرح اہل ہوی کہنا بھی درست ہے۔ صوفیہ محققین نے آیت سے ضبط نفس کی فضیلت پر استدلال کیا ہے (آیت) ” خاف مقام ربہ “۔ صوفیہ عارفین نے خوف کے تین درجے بتائے ہیں۔ پہلا درجہ یہ کہ قول اور عمل میں مؤاخذۂ اخروی کا دھڑکا لگا رہے۔ یہ مقام اہل تقوی کا ہوتا ہے۔ دوسرا درجہ یہ کہ وقوع خطاولغزش سے محبوب کی نظر سے گرجانے کا دھڑکا لگا رہے۔ یہ مقام اہل محبت کا ہے۔ تیسرا درجہ یہ ہے کہ کسی نتیجہ کے خیال کے بغیر محض ہیبت و عظمت ذات سے لرزتا رہے۔ یہ مقام عبدیت ہے۔ اور عبد محض کا مرتبہ کہتے ہیں کہ متقین وعشاق دونوں سے بلند تر ہے۔
Ayahs 79:42–43

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَیَّانَ مُرْسٰىهَاؕ Open ayah 79:42 in the Quran reader

یہ لوگ آپ سے قیامت کی بابت سوال کرتے ہیں کہ اس کا وقوع کب ہوگا

فِیْمَ اَنْتَ مِنْ ذِكْرٰىهَاؕ Open ayah 79:43 in the Quran reader

سو اس کے بیان (کرنے) سے آپ کو کیا سروکار ؟ ،18۔

18۔ یعنی آپ (علیہ السلام) کو جب خود ہی اس کے وقت کا علم تعین کے ساتھ نہیں دیا گیا ہے تو آپ (علیہ السلام) انہیں کیا بتائیں گے۔ (آیت) ” یسئلونک “۔ یعنی یہ سوال، تعریض و انکار کی راہ سے کررہے ہیں۔
Ayahs 79:44–45

اِلٰى رَبِّكَ مُنْتَهٰىهَاؕ Open ayah 79:44 in the Quran reader

اس کا مدار تو (صرف) آپ کے پروردگار کی طرف سے ہے

اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُنْذِرُ مَنْ یَّخْشٰىهَاؕ Open ayah 79:45 in the Quran reader

آپ تو بس اسی کو ڈراسکتے ہیں، جو اس سے خوف رکھتا ہو،19۔

19۔ اور جن کے دلوں میں سرے سے قیامت کا عقیدہ اور اس کی طرف سے اندیشہ ہی نہیں، ان کے لئے آپ کی ساری تبلیغ بےاثر ہے۔ (آیت) ” یخشھا “۔ ضمیر ھا، الساعۃ کی طرف ہے۔
Ayah 79:46

كَاَنَّهُمْ یَوْمَ یَرَوْنَهَا لَمْ یَلْبَثُوْۤا اِلَّا عَشِیَّةً اَوْ ضُحٰىهَا۠ Open ayah 79:46 in the Quran reader

جس روز یہ اس کو دیکھیں گے (انہیں یہ معلوم ہوگا کہ) گویا یہ لوگ صرف ایک شام یا (دن کے) اول حصہ میں رہے ہیں،20۔

20۔ یعنی دنیوی عمر کی ساری مدت طویل انہیں سمٹ سمٹا کر بہت ہی مختصر معلوم ہوگی، اور جس عذاب کی جلدی آج طنزوتعریض کی راہ سے مچا رہے ہیں۔ جب وہ آہی جائے گا، تو اسے واقعۃ بھی یہ بہت ہی جلد آپڑنے والاسمجھیں گے۔ انتہائے ہر اس ویاس کے وقت دنیا میں طویل گزشتہ مدت چشم زدن میں گزری ہوئی معلوم ہوتی ہے۔