36. Surah Yaseen

يسYaseen · 83 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayahs 36:41–42

وَ اٰیَةٌ لَّهُمْ اَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّیَّتَهُمْ فِی الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ Open ayah 36:41 in the Quran reader

اور ان کیلئے ایک نشانی یہ بھی ہے کہ ہم نے ان کی اولاد کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کیا

وَ خَلَقْنَا لَهُمْ مِّنْ مِّثْلِهٖ مَا یَرْكَبُوْنَ Open ayah 36:42 in the Quran reader

اور ہم نے انکے لئے اسی (کشتی) جیسی چیزیں (اور بھی) پیدا کیں جن پر یہ لوگ سوار ہوتے ہیں،29۔

29۔ اللہ ہی نے اپنی قدرت و حکمت وشفقت سے بندوں کو اس عقل وتدبیر کی تعلیم دی جس سے اس نے دریا اور سمندر کے پانی سے سواری کا کام لینا۔ اس کے طول وعرض کا عبور کرنا، اس کے مناسب حال کشتی بنانا، پھر کشتی چلانا وغیرہ وغیرہ سیکھ لیا۔ (آیت) ” الفلک المشحون “۔ لدی پھندی کشتیوں سے صاف اشارہ بحری تجارت کی جانب ہے۔ بڑے بڑے تجارتی جہاز، اور سامان سے کھچا کھچ لدے ہوئے اسٹیمر سب اس کے تحت میں آجاتے ہیں۔ (آیت) ” من مثلہ “۔ کے اطلاق میں بڑی وسعت ہے، اسٹیمر، لائیز، کروز، آبدوز کشتیاں، غرض ہر قسم کی بحری سواریاں ہی نہیں، بلکہ اس کے علاوہ ریل، موٹر، لاری، طیارہ، ہوائی جہاز وغیرہ سب ہی کچھ اس کے تحت میں آسکتے ہیں۔ عن مجاھد اناالابل سفن البر (جصاص) فسرہ مجاھد بالانعام والابل وغیرھا (روح) والقول الثانی انہ للابل والدواب وکل مایرکب۔ قرطبی) ” من “۔ بیان کیلئے بھی مانا گیا ہے اور تبعیض کے لئے بھی۔ تحتمل ان تکون للبیان وان تکون للتبعیض (روح)
Ayah 36:43

وَ اِنْ نَّشَاْ نُغْرِقْهُمْ فَلَا صَرِیْخَ لَهُمْ وَ لَا هُمْ یُنْقَذُوْنَۙ Open ayah 36:43 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہیں انہیں غرق کردیں، تو نہ انکا کوئی فریاد رس ہو اور نہ یہ رہائی پائیں،30۔

30۔ نہ کوئی جل دیوتا ہے اور نہ کوئی اور فریاد رس، جو غرق ہونے سے بچا سکے اور موت سے چھڑا سکے .... آیت میں تریدد اس سلسلہ کے تمام مشرکانہ خیالات کی آگئی۔ یہ تو اخباروں میں آئے دن خبریں ہوائی جہازوں اور طیاروں کی، گرگر کر پاش پاش ہونے کی چھپتی رہتی ہیں آیت ان پر کتنی منطبق ہے ! وایرلس (لاسلکی) وغیرہ کے آلات سب دھرے کے دھرے رہ جاتے اور کوئی مدد تو تو کیا آئے خبر بھی باہر والوں کو مدتوں نہیں پہنچ پاتی، اور پھر لاشوں کو سمندر کی گہرائیوں سے، یا پہاڑوں پر جمی ہوئی برف کے تودوں کے اندر سے کھود کھود کر یا گھنے جنگلوں کے اندر سے ڈھونڈ ڈھونڈ کرنکالنے کے مرحلے تو اور بھی صعب تر ہیں۔
Ayah 36:44

اِلَّا رَحْمَةً مِّنَّا وَ مَتَاعًا اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 36:44 in the Quran reader

مگر ہاں یہ ہماری ہی مہربانی ہے اور ان کو ایک وقت معین تک فائدہ دینا مقصود ہے،31۔

31۔ (چنانچہ اسی لیے اس قادر مطلق و حکیم برحق نے مہلت دے رکھی ہے) بےبس اور بےکس بندوں کے لئے کتنا بڑا سہارا (آیت) ” الا رحمۃ منا “۔ کا ہے۔
Ayah 36:45

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اتَّقُوْا مَا بَیْنَ اَیْدِیْكُمْ وَ مَا خَلْفَكُمْ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 36:45 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اس (عذاب) سے ڈرو جو تمہارے سامنے اور جو تمہارے پیچھے ہے تاکہ تم پر رحمت کی جائے،32۔

32۔ (اور تم قریب وبعید ہر قسم کے عذاب سے محفوظ ہوجاؤ) (آیت) ’ ’ ما بین ایدیکم “۔ وہ عذاب جو سامنے کا ہے۔ یعنی اس دنیا کا عذاب اور اس کا ہر وقت احتمال۔ (آیت) ” وما خلفکم “ وہ عذاب جو آخرت میں پیش آئے گا اور اس کا وقوع یقینی ہے۔ (آیت) ” لعلکم ترحمون “۔ دعوت تقوی اسی جلب رحمت کی غرض سے دی جارہی ہے۔
Ayahs 36:46–47

وَ مَا تَاْتِیْهِمْ مِّنْ اٰیَةٍ مِّنْ اٰیٰتِ رَبِّهِمْ اِلَّا كَانُوْا عَنْهَا مُعْرِضِیْنَ Open ayah 36:46 in the Quran reader

اور ان کے پروردگار کی نشانیوں میں سے کوئی بھی نشان ایسا ان کے پاس نہیں آتا کہ یہ اس سے ترتابی نہ کرتے ہوں

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ١ۙ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنُطْعِمُ مَنْ لَّوْ یَشَآءُ اللّٰهُ اَطْعَمَهٗۤ١ۖۗ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 36:47 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ نے جو کچھ تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے خرچ کرو، تو کافر مومنوں سے کہتے ہیں کہ کیا ہم ان لوگوں کو کھانے کو دیں جنہیں اگر خدا چاہے تو (بہت کچھ) کھانے کو دے دے تم تونری کھلی غلطی میں پڑے ہوئے ہو،33۔

33۔ یہ بیان ہے منکرین کی مستقل قساوت قلب اور عدم تاثر کا۔ (آیت) ” من ایۃ ‘ من زائدہ تاکید واستغراق کے لئے ہے۔ متکبرین رؤساء قریش سے جب کہا جاتا تھا کہ غریبوں مسکینوں کی اعانت کرو (جو عموما مسلمان ہی تھے) تو وہ طنزیہ جواب یہ دیتے تھے کہ ہم سے ان غریبوں کی اعانت کو کہتے ہو۔ حالانکہ تمہیں یہ بھی کہتے ہو کہ تمہارا خدا رزاق مطلق ہے، وہ جس کو چاہے روزی دے، تو خود وہ کیوں نہیں انہیں روزی دیتا۔ طنز عجیب مہمل تھا۔ خدا کی رزاقی بھی تو اسی کی ہر صفت کی طرح اسی عالم اسباب میں انسانوں ہی کے واسطہ سے ظہور کرتی ہے۔ مسلمانوں کا یہ دعوی کب تھا کہ اللہ تعالیٰ اس دنیا میں عادۃ رزاق بلاواسطہ اور بلاذریعہ اسباب ہے۔ (آیت) ” انفقوا ممارزقکم اللہ “۔ یعنی اپنی آمدنیوں میں سے خدا کی راہ میں خرچ کرتے رہو ..... قریش کے امراء ودولتمند عموما کافر تھے اور مسکین افراد عموما مسلمان۔
Ayahs 36:48–50

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 36:48 in the Quran reader

اور یہ کہتے ہیں کہ (آخر) یہ وعدہ کب (پورا) ہوگا اگر تم سچے ہو

مَا یَنْظُرُوْنَ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً تَاْخُذُهُمْ وَ هُمْ یَخِصِّمُوْنَ Open ayah 36:49 in the Quran reader

یہ لوگ بس ایک آواز سخت کے منتظر ہیں کہ وہ انہیں آپکڑے گی اور یہ لوگ آپس میں لڑجھگڑ رہے ہوں گے

فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ تَوْصِیَةً وَّ لَاۤ اِلٰۤى اَهْلِهِمْ یَرْجِعُوْنَ۠ Open ayah 36:50 in the Quran reader

پھر نہ تو وصیت کرنے کی فرصت ہوگی اور نہ اپنے گھروالوں کے پاس واپس جاسکیں گے،34۔

34۔ قیامت کے فوری وناگہانی وقوع اور اس کی ہولناکیوں کا بیان ہے۔ (آیت) ” ھذا الوعد “۔ یعنی وعدۂ قیامت۔ (آیت) ” متی .... صدقین “۔ سوال محض طنز وتعریض سے تھا۔ (آیت) ” صیحۃ واحدۃ “۔ مراد صورکا نفخہ اول ہیجب سب کے سب ہلاک ہوجائیں گے۔ (آیت) ” صحیۃ “۔ صیغہ نکرہ کی تنوین اظہار عظمت و جلالت کیلئے ہے۔ (آیت) ” توصیۃ “۔ یعنی کسی قسم کی بھی وصیت۔ وصیت کا اشارہ تک۔ التنکیر فی التوصیۃ للتعمیم اے لایقدر علی توصیۃ ما (کشاف)
Ayahs 36:51–52

وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَاِذَا هُمْ مِّنَ الْاَجْدَاثِ اِلٰى رَبِّهِمْ یَنْسِلُوْنَ Open ayah 36:51 in the Quran reader

اور صورپھونکا جائے گا سو وہ لوگ یک بیک قبروں سے (نکل نکل) اپنے پروردگار کی طرج جلدی جلدی چلنے لگیں گے

قَالُوْا یٰوَیْلَنَا مَنْۢ بَعَثَنَا مِنْ مَّرْقَدِنَا١ؐٚۘ هٰذَا مَا وَعَدَ الرَّحْمٰنُ وَ صَدَقَ الْمُرْسَلُوْنَ Open ayah 36:52 in the Quran reader

کہیں گے ہائے ہماری کم بختی کس نے ہم کو ہماری خواب گاہوں سے اٹھایا ؟ یہ وہی ہے جس کا (خدائے) رحمن نے وعدہ کیا تھا اور پیغمبروں نے سچ کہا تھا،35۔

35۔ (چنانچہ یہ وقوع قیامت انھیں سچے وعدوں کا ظہور ہے) (آیت) ” ھذا ..... المرسلون “۔ یہ پورا ٹکڑا قیامت کے دن فرشتوں کی زبان سے ادا ہوگا۔ (آیت) ” نفخ فی الصور “۔ مراد صور کا نفخہ ثانی ہے۔ جب وہ از سر نو زندہ ہو کر اکٹھے ہوجائیں گے۔ (آیت) ” مرقدنا “۔ مرقد صورۃ واحد ہے، مراد جمع ہے۔ یراد بالمفرد الجمع اے مراقدنا (روح) برزخ کی درمیانی زندگی حشر برپا ہوجانے پر خواب کی زندگی معلوم ہوگی، اسی لئے اہل حشر اس کو مرقد سے تعبیر کریں گے۔
Ayah 36:53

اِنْ كَانَتْ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً فَاِذَا هُمْ جَمِیْعٌ لَّدَیْنَا مُحْضَرُوْنَ Open ayah 36:53 in the Quran reader

وہ بس ایک زور کی آواز ہوگی جس سے سب یکایک جمع ہو کر ہمارے سامنے حاضر کردیئے جائیں گے،36۔

36۔ حق تعالیٰ کو قیامت برپا کرنے میں نہ کسی خاص اہتمام کی ضرورت ہوگی۔ نہ مشقت وتعب کی۔ بس ایک نفخ صور بالکل کافی ہوگا۔
Ayah 36:54

فَالْیَوْمَ لَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْئًا وَّ لَا تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 36:54 in the Quran reader

پھر اس دن کسی شخص پر ذرا بھی ظلم نہ ہوگا اور تم کو بدلہ بھی بس انہیں کاموں کا ملے گا جو تم کیا کرتے تھے،37۔

37۔ وہ دن عدل کامل کے ظہور کا ہوگا۔ دودھ کا دودھ، پانی کا پانی، ہر ایک معاملہ کا الگ ہو کر رہے گا۔
Ayahs 36:55–57

اِنَّ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ الْیَوْمَ فِیْ شُغُلٍ فٰكِهُوْنَۚ Open ayah 36:55 in the Quran reader

اہل جنت بیشک اس روز اپنے مشغلہ میں خوش دل ہوں گے

هُمْ وَ اَزْوَاجُهُمْ فِیْ ظِلٰلٍ عَلَى الْاَرَآئِكِ مُتَّكِئُوْنَ Open ayah 36:56 in the Quran reader

وہ اور ان کی بیویاں سایوں میں مسہریوں پر تکیہ لگائے بیٹھی ہوں گی

لَهُمْ فِیْهَا فَاكِهَةٌ وَّ لَهُمْ مَّا یَدَّعُوْنَۚۖ Open ayah 36:57 in the Quran reader

ان کے لئے وہاں میوے ہوں گے اور ان کے لئے وہ (سب کچھ) جو کچھ وہ مانگیں گے،38۔

38۔ (بلکہ بلاطلب بھی پاتے رہیں گے) نقشہ جنت کی غیر فانی راحتوں اور لاثانی آسائشوں کا پیش ہورہا ہے۔ (آیت) ” فی شغل “۔ شغل سے ہر وہ دل پسند مشغلہ مراد ہے جو ذوق کو بالکل گھیر لے۔ العارض الذی یذھل الانسان (راغب) ھو الشان الذی یصدر المرء ویشغلہ عما سواہ من شؤنہ لکونہ اھم عندہ من الکل (روح) اور انسان کے دل پسندمشغلوں کا نہ حصرممکن ہے نہ شمار۔ اور لفظ شغل کے صیغہ نکرہ سے مقصود بھی لذتوں کی وسعت واہمیت کا اظہار ہے۔ (آیت) ” مایدعون “۔ کی وسعت اطلاق و جامعیت قابل لحاظ ہے۔ جسمانی، دماغی، روحانی، ہر قسم کی ہر ممکن لذت، راحت، مسرت نعمت اس کے عموم میں آگئی، اہل جنت جو کچھ بھی چاہیں گے، جو کچھ بھی مانگیں گے سب ہی کچھ ان کیلئے حاضر وموجود ہوگا۔ (آیت) ” یدعون “۔ کی تفسیر یہاں یتمنون سے بھی کی گئی ہے گویا مانگنے کی ضرورت بھی نہ ہوگی۔ ادھر تمنا پیدا ہوئی اور ادھر وہ شے حاضر وموجود ہوگئی۔۔ قیل یتمنون (کشاف) اے یتمنون ویشتھون (معالم) لیکن اگر (آیت) ” یدعون “۔ کو طلب ہی کے معنی میں رکھا جائے جب بھی کیا مضائقہ ہے بلکہ کسی لذیذ ومحبوب شے کا طلب کرنا، جب کہ اس کا مل جانا اور فورا مل جانا اور فورا مل جانا یقینی ہو، بجائے خود ایک لذت ہے۔
Ayah 36:58

سَلٰمٌ١۫ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِیْمٍ Open ayah 36:58 in the Quran reader

سلام انہیں کہا جائے گا پروردگار مہربان کی طرف سے،39۔

39۔ یعنی حق تعالیٰ کریم ورحیم کی طرف سے انہیں سلام پہنچتا رہے گا، خواہ فرشتوں کے واسطہ سے خواہ بلاواسطہ وبراہ راست ....... اہل جنت کا یہ انتہائی اکرام ہے۔ اکرام کا کوئی درجہ اس کے بعد ممکن بھی کیا ہے۔ والمعنی ان اللہ یسلم علیھم بواسطۃ الملائکۃ اوبغیر واسطۃ مبالغۃ فی تعظیمھم (کشاف) ھو اکمل الاشیاء وھو اخرھا الذی لاشیء فوقہ (کبیر)
Ayah 36:59

وَ امْتَازُوا الْیَوْمَ اَیُّهَا الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 36:59 in the Quran reader

اور آج الگ ہوجاؤ اے مجرمو،40۔

40۔ (اہل ایمان سے) (آیت) ” المجرمون “۔ مجرموں سے مراد کفر وشرک کے مجرم ہیں۔ (آیت) ” الیوم “۔ سے ظاہر ہے کہ یوم حشر مراد ہے۔
Ayahs 36:60–62

اَلَمْ اَعْهَدْ اِلَیْكُمْ یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ اَنْ لَّا تَعْبُدُوا الشَّیْطٰنَ١ۚ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 36:60 in the Quran reader

کیا میں نے تم کو تاکید نہیں کردی تھی اے اولاد آدم کہ تم شیطان کی فرمانبرداری نہ کرنا وہ تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے

وَّ اَنِ اعْبُدُوْنِیْ١ؔؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ Open ayah 36:61 in the Quran reader

اور یہ کہ تم عبادت میری ہی کرنا یہی سیدھا راستہ ہے

وَ لَقَدْ اَضَلَّ مِنْكُمْ جِبِلًّا كَثِیْرًا١ؕ اَفَلَمْ تَكُوْنُوْا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 36:62 in the Quran reader

وہ تم میں سے ایک بڑی مخلوق کو گمراہ کرچکا ہے سو کیا تم اتنا نہیں سمجھتے تھے ؟ ،41۔

41۔ یہ سب ان مجرموں کو قائل کرنے کے لئے ان سے حشر میں کہا جائے گا .... آگے بھی دو آیتوں میں یہی مضمون چلا گیا ہے۔ (آیت) ” لا تعبدوا الشیطن “۔ عبادت یہاں اطاعت کے معنی میں ہے۔ المراد بعبادۃ الشیطن طاعتہ (روح) وعبادۃ الشیطن طاعتہ فی مایوسوس بہ الیھم ویزینہ الیھم (کشاف) اے لاتطیعوا الشیطن (معالم) اطاعت شیطان کی طرف سے شدت نفرت وبیزاری پیدا کرنے کے لئے اسے عبادت سے تعبیر فرمایا گیا۔ عبرعنھا بالعبادۃ لزیادۃ التحذیر والتنفیرعنھا (روح) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ یہ جو بعض صوفیہ نے اپنے لئے بت پرست وغیرہ الفاظ استعمال کئے ہیں، ان سے بھی ان کی مراد اقرار کفر سے نہیں، بلکہ اپنے کو مطیع نفس ظاہر کرنے سے ہے۔
Ayahs 36:63–65

هٰذِهٖ جَهَنَّمُ الَّتِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ Open ayah 36:63 in the Quran reader

یہی ہے جہنم جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا

اِصْلَوْهَا الْیَوْمَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ Open ayah 36:64 in the Quran reader

گھسو اس میں آج اپنے کفر کے بدلے

اَلْیَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰۤى اَفْوَاهِهِمْ وَ تُكَلِّمُنَاۤ اَیْدِیْهِمْ وَ تَشْهَدُ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 36:65 in the Quran reader

آج ہم ان کے منہ پر مہر لگا دیں گے اور ہم سے ان کے ہاتھ کلام کریں گے اور ان کے پاؤں شہادت دیں گے کہ یہ لوگ کیا کیا کرتے رہتے تھے،42۔

42۔ (غرض یہ کہ ان کی کل روئد اد زندگی رتی رتی حق تعالیٰ کے سامنے انھیں کے ہاتھوں پیروں کی زبانی پیش ہوگی) (آیت) ” نختم علی افواھھم “۔ یہ منہ پر مہر لگنا یوں ہوگا کہ وہ کوئی جھوٹی داستان تصنیف کرکے پیش ہی نہ کرسکیں۔ (آیت) ” تکلمنا ...... یکسبون “۔ سورة النور میں اس سے ملتے ہوئے مضمون کی آیت تشھد علیھم السنتھم پر حاشیہ گزر چکا۔
Ayahs 36:66–67

وَ لَوْ نَشَآءُ لَطَمَسْنَا عَلٰۤى اَعْیُنِهِمْ فَاسْتَبَقُوا الصِّرَاطَ فَاَنّٰى یُبْصِرُوْنَ Open ayah 36:66 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہتے ان کی آنکھوں کو مل یا میٹ کردیتے پھر یہ راستہ کی طرف دوڑتے پھرتے، سو ان کو کہاں نظر آتا ؟

وَ لَوْ نَشَآءُ لَمَسَخْنٰهُمْ عَلٰى مَكَانَتِهِمْ فَمَا اسْتَطَاعُوْا مُضِیًّا وَّ لَا یَرْجِعُوْنَ۠ Open ayah 36:67 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہتے تو ان کی صورتیں جہاں کی تہاں مسخ کر ڈالتے نہ یہ آگے کو چل سکتے، نہ پیچھے کو لوٹ سکتے،43۔

43۔ یعنی یہ سب سزائیں ہمارے امکان قدرت میں تھیں، لیکن وہ ان سے اس دنیا میں محفوظ رہے۔ اس سے انہیں مہلت مل گئی اور اصلاح حال کی ذمہ داری ان پر بڑھ گئی۔ (آیت) ” لطمسنا علی اعینھم۔ لمسخنھم علی مکانتھم “۔ یعنی یہ سب سزائیں اسی دنیا میں انہیں ان کی پاداش کفر میں دے دیتے۔
Ayah 36:68

وَ مَنْ نُّعَمِّرْهُ نُنَكِّسْهُ فِی الْخَلْقِ١ؕ اَفَلَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 36:68 in the Quran reader

اور ہم جس کی عمر (بہت) زیادہ کردیتے ہیں تو اسے (اس کی) خلقت میں الٹا کردیتے ہیں سو کیا یہ لوگ (اتنا) نہیں سمجھتے ؟ ،44۔

44۔ یعنی اس روز مرہ کے مشاہدہ سے کیا وہ یہ سبق نہیں لیتے کہ ہم ہر مسخ وتغییر حالت پر قادر ہیں ؟ (آیت) ’ ’ فی الخلق “۔ خلقت یا طبیعت سے مراد انسان کے جسمانی قوی اور رنگ و روغن، حسن و جمال وغیرہ ہیں۔ (آیت) ” ننکسہ “۔ قوی الٹا دینے سے مراد ہے ان کا انقلاب کامل سے ناقص اور اعلی و اشرف سے ارذل واسفل کی طرف۔
Ayah 36:69

وَ مَا عَلَّمْنٰهُ الشِّعْرَ وَ مَا یَنْۢبَغِیْ لَهٗ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ وَّ قُرْاٰنٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 36:69 in the Quran reader

اور ہم نے آپ کو شعر و شاعری نہیں سکھلائی اور نہ وہ آپ کی شایان ہے،45۔ یہ (قرآن) تو ایک نصیحت اور کھلی ہوئی آسمانی کتاب ہے،46۔

45۔ (بحیثیت آپ کی پیغمبری کے) قرآن مجید کہتا ہے کہ یہ احمق مشرک آپ کے بیان کئے ہوئے مضامین عالیہ کو مؤثر پاکر اسے شاعری کی ساحری قرار دے رہے ہیں، جو ان بیچاروں کا منتہائے فکر ہے۔ شاعری یعنی تخییلی مضمون آفرینی کو مرتبہ نبوت سے مناسبت ہی کیا آپ کے ہاں تو حقائق ہی حقائق ہیں، کہاں یہ، کہاں شاعر کی بہتر سے بہتر خیال بندیاں، وہ تو اس سے کہیں فرو مرتبہ چیز ہے۔ ھذا ردلما کانوا یقولونہ من ان القران شعر والنبی ﷺ شاعر وغرضھم من ذلک ان ما جآء بہ (علیہ الصلوۃ والسلام) من القران افتراء تخیل (روح) (آیت) ” الشعر “۔ شعر یہاں اپنے معروف و متعارف معنی میں مراد نہیں یعنی کلام موزوں ومقفی کامرادف نہیں، بلکہ شعر سے یہاں مراد جھوٹی خیال آرائیاں اور حقیقت وواقعیت سے عاری منصوبہ بندیاں ہیں ...... شعر اور شاعر عربی میں گویا کذب وکاذب ہی کے مرادف ہیں۔ انھا رموابا لکذب فان الشعر یعبربہ من الکذب والشاعر الکاذب حتی سمی قوم الادلۃ الکاذبۃ الشعریۃ (راغب) واما معنی فلان الشعر تخیلات مرغبۃ اومنفرۃ اونحو ذلک وھو مقر الاکاذیب (روح) (آیت) ” وما ینبغی لہ “۔ یہاں سے شعر کی پستی کا استنباط کیا گیا ہے۔ وفی الایۃ دلالۃ علی غضاضۃ الشعر وھی ظاھرۃ فی انہ ﷺ لم یعط طبیعۃ شعریۃ اعتناء بشانہ ورفعا لقدرہ (روح) 46۔ (ایسی پر حقائق و لبریز معارف تعلیمات کو شاعرانہ تخیل آرائی سے مناسبت ہی کیا) (آیت) ” قرآن مبین “۔” کھلی ہوئی کتاب “ اپنی تعلیمات اور اپنے احکام کی وضاحت کے لحاظ سے۔
Ayah 36:70

لِّیُنْذِرَ مَنْ كَانَ حَیًّا وَّ یَحِقَّ الْقَوْلُ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 36:70 in the Quran reader

تاکہ ایسے شخص کو ڈرائے جو زندہ ہو اور تاکہ کافروں پر حجت ثابت ہوجائے،47۔

47۔ (نزول عذاب کے لئے)
Ayah 36:71

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا خَلَقْنَا لَهُمْ مِّمَّا عَمِلَتْ اَیْدِیْنَاۤ اَنْعَامًا فَهُمْ لَهَا مٰلِكُوْنَ Open ayah 36:71 in the Quran reader

کیا ان (مشرک) لوگوں نے اس پر نظر نہیں کی کہ ہم نے ان کے لئے اپنے ہاتھ سے بنائی ہوئی چیزوں میں مویشی پیدا کئے، پھر یہ لوگ ان کے مالک بن گئے،48۔

48۔ (اور اپنے بغیر کسی استحقاق کے انھیں اپنے تصرف وقدرت میں لانے لگے) (آیت) ” مماعملت ایدینا “۔ اظہار تخصیص واہتمام کے لئے ہے۔ ورنہ ظاہر ہے کہ ہر مخلوق اللہ ہی کی بنائی ہوئی ہے۔ (آیت) ” فھم لھا ملکون “۔ آیت اس باب میں نص واضح ہے کہ حیوانات انسان کی ملک ہوتے ہیں، اور انسان کو ان پر تصرفات مالکانہ کے حق حاصل رہتے ہیں۔
Ayahs 36:72–73

وَ ذَلَّلْنٰهَا لَهُمْ فَمِنْهَا رَكُوْبُهُمْ وَ مِنْهَا یَاْكُلُوْنَ Open ayah 36:72 in the Quran reader

اور ہم نے ان (مواشی) کو ان کا تابع بنا دیا سو ان میں سے بعض ان کی سواریاں ہیں اور بعض کو وہ کھاتے ہیں

وَ لَهُمْ فِیْهَا مَنَافِعُ وَ مَشَارِبُ١ؕ اَفَلَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 36:73 in the Quran reader

اور ان میں ان لوگوں کے اور بھی نفع ہیں اور پینے کی چیزیں بھی ہیں، سو کیا یہ لوگ شکر نہیں کرتے ؟ ،49۔

49۔ (اور ان نعمتوں کے استحضار کے باوجود کفران نعمت پر تلے ہوئے ہیں) (آیت) ” خلقنالھم۔ وذللنھا لھم “۔ گائے بیل وغیرہ سارے مویشی تو خود انسان کی خدمت کے لئے پیدا کئے گئے ہیں۔ کمال حماقت ہے کہ انسان انھیں کی پرستش میں مبتلا ہوجائے ! ..... مویشی پرستی ہندوستان کے علاوہ مصر وغیرہ اور ملکوں میں بھی عام رہی ہے۔ (آیت) ” مشارب “۔ دودھ، دہی وغیرہ سب اس کے تحت میں آجاتے ہیں۔ (آیت) ” منافع “۔ چوپایوں کی ہڈیوں، بالوں، اور کھالوں کی تجارت، اور ان کے لئے بڑے بڑے کارخانے اور منڈیاں سب اس میں شامل ہوگئیں۔
Ayahs 36:74–75

وَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اٰلِهَةً لَّعَلَّهُمْ یُنْصَرُوْنَؕ Open ayah 36:74 in the Quran reader

اور انہوں نے اللہ کے سوا اور بھی معبود قرار دے رکھے ہیں تاکہ ان سے انہیں مدد ملے

لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَهُمْ١ۙ وَ هُمْ لَهُمْ جُنْدٌ مُّحْضَرُوْنَ Open ayah 36:75 in the Quran reader

(حالانکہ) وہ ان کی (کچھ بھی) مدد نہیں کرسکتے، اور وہ ان کے حق میں ایک فریق ہوجائیں گے لاحاظر کئے ہوئے،50۔

50۔ یعنی ان دیوی دیوتاؤں سے مشرک توقع تو یہ رکھتا ہے کہ وہ اس کے آڑے آئیں گے۔ سو یہ ہونا تو الگ رہا۔ حشر میں وہ اور اس کے فریق مخالف کی حیثیت سے پیش ہوں گے اور الٹے اسی پر الزام رکھیں گے۔
Ayah 36:76

فَلَا یَحْزُنْكَ قَوْلُهُمْ١ۘ اِنَّا نَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ Open ayah 36:76 in the Quran reader

پس آپ کو ان لوگوں کا قول رنج میں نہ ڈالے بیشک ہم ہی جانتے ہیں جو کچھ یہ چھپاتے ہیں اور جو کچھ یہ ظاہر کرتے ہیں،51۔

51۔ (اور ہم ہی ان سے وقت مناسب پر نبٹ لینے کیلئے کافی ہیں) (آیت) ” فلایحزنک قولھم “۔ یعنی جب وہ توحید تک میں ایسی سفاہت کی باتیں کرتے ہیں، تو پھر آپ کو اگر شاعر کہہ دیا، تو اس پر کیوں اتنا کڑھیے۔ اے اذا کان حالھم مع ربھم عزوجل فلاتحزن بسبب قولھم علیک ھو شاعر (روح)
Ayahs 36:77–78

اَوَ لَمْ یَرَ الْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰهُ مِنْ نُّطْفَةٍ فَاِذَا هُوَ خَصِیْمٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 36:77 in the Quran reader

کیا انسان کی نظر میں اس پر نہیں کہ ہم نے اسے نطفہ سے پیدا کیا سو وہ ایک کھلا ہوا معترض بن بیٹھا

وَ ضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَّ نَسِیَ خَلْقَهٗ١ؕ قَالَ مَنْ یُّحْیِ الْعِظَامَ وَ هِیَ رَمِیْمٌ Open ayah 36:78 in the Quran reader

اور ہمارے شان میں عجیب (گستاخانہ) مضمون بیان کیا اور اپنی خلقت کو بھول گیا،52۔ کہنے لگا کون زندہ کرے گا ہڈیوں کو جب کہ وہ بوسیدہ ہوگئی ہوں

52۔ (کہ کیسی حقیر چیز سے اسے پیدا کیا، اور کیسی بےبسی کی حالت میں اسے رکھا)
Ayah 36:79

قُلْ یُحْیِیْهَا الَّذِیْۤ اَنْشَاَهَاۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ١ؕ وَ هُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِیْمُۙ Open ayah 36:79 in the Quran reader

آپ کہہ دیجیے انہیں وہی زندہ کرے گا جس نے انہیں اول بار پیدا کیا تھا اور وہی سب طرح کا پیدا کرنا خوب جانتا ہے،53۔

53۔ سو جوا ابداء پر قدرت رکھتا ہے، اس کیلئے اعادہ کیا دشوار ہے، بلکہ جو ابداء پر قادر ہے اسے تو قیاس انسانی کے مطابق اعادہ پر اور زیادہ قادر ہونا چاہیے۔ فیہ من اوضح الدلیل علی ان من قدرعلی الابتداء کان اقدر علی الاعادۃ (جصاص) فقہاء نے یہ بھی لکھا ہے کہ آیت سے قیاس منطقی وفقہی کی حجیت ثابت ہوئی ہے۔ وفیہ الادلالۃ علی وجوب القیاس والاعتبار لانہ الزمھم قیاس النشأۃ الثانیۃ علی الاولی (جصاص) ففی ھذا دلیل علی صحۃ القیاس لان اللہ عزوجل احتج علی منکر البعث بالنشأۃ الاولی (قرطبی) (آیت) ” قال ..... رمیم “۔ ” روشن خیال “۔ منکرین بعث کا بیان ہورہا ہے، جن کی کمی کسی زمانہ بھی بھی نہیں رہی ہے۔ وہی گستاخانہ اور تمردانہ لہجہ میں یہ سوال کرتے رہتے ہیں کہ ہڈیاں جب سڑ گل گئیں تو ان کی حیات ثانی ممکن کیونکر ہے ؟ (آیت) ” من یحی العظام۔ یحیھا “۔ عظام کے ساتھ، احیاء کے اس اتصاف سے بعض فقہاء نے استدلال ہڈی کے ذی حیات یا جاندار ہونے پر کیا ہے لیکن محققین نے کہا ہے کہ یہ احیاء تو اسی مجازی معنی میں ہے، جس معنی میں ارض، (زمین) کیلئے آیا کرتا ہے۔ احتج بعضھم علی ان العظم فیہ حیاۃ فیجعلہ حکم الموت بموت الاصل ویکون میتۃ ولیس کذلک لانہ انما سماہ حیا مجازا (جصاص) والمراد باحیاء العظم ردھا الی ما کانت علیہ غضۃ رطبۃ فی بدن حی حساس (مدارک) لیکن اگر ہڈی میں حیات کا وجود اس کے مناسب حال تسلیم کرلیاجائے، جب بھی کوئی اشکال وارد نہیں ہوتا۔ ہڈی فقہاء اہل سنت میں نجس نہیں۔ طاہر ہے۔ وھی عندنا طاھرۃ (مدارک) (آیت) ” انشاھا اول مرۃ “۔ یعنی ایسی حالت میں انہیں پیدا کردیا جب کہ وہ حیات سے بالکل بیگانہ وبعید تھیں۔
Ayah 36:80

اِ۟لَّذِیْ جَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الشَّجَرِ الْاَخْضَرِ نَارًا فَاِذَاۤ اَنْتُمْ مِّنْهُ تُوْقِدُوْنَ Open ayah 36:80 in the Quran reader

اور وہ ایسا ہے کہ ہرے درخت سے آگ تمہارے لئے پیدا کردیتا ہے پھر تم اس سے (اور) آگ سلگا لیتے ہو،54۔

54۔ (تو جو رطوبت سے آگے پیدا کرتا ہے اس کیلئے جماد میں حیات پیدا کردینا کیا مشکل ہے) (آیت) ” منہ تو قدون “۔ دیا سلائی وغیرہ کے دور سے بہت قبل آگ عموما چقماق سے پیدا کیجاتی تھی۔ اور عرب میں وہ مخصوص درختوں کی رگڑ سے پیدا کی جاتی تھی۔ (آیت) ” جعل ..... نارا “۔ یہاں ضمنا آتش پرستی کا بھی رد آگیا۔ آگ ایسی چیز ہے تو تمامتر مخلوق ہے۔ اس میں معبودیت والوہیت کا شائبہ تک نہیں۔