27. Surah An-Naml

النملThe Ant · 93 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayah 27:41

قَالَ نَكِّرُوْا لَهَا عَرْشَهَا نَنْظُرْ اَتَهْتَدِیْۤ اَمْ تَكُوْنُ مِنَ الَّذِیْنَ لَا یَهْتَدُوْنَ Open ayah 27:41 in the Quran reader

پھر سلیمان (علیہ السلام) نے) کہا اس کے لئے اس کے تخت کی صورت بدل دو ہم دیکھیں کہ اسے اس کا پتہ لگ جاتا ہے یا وہ انہیں لوگوں میں ہے جنہیں پتہ نہیں لگتا،47۔

47۔ (تاکہ اس سے خود ملکہ کے عاقل وذہین ہونے نہ ہونے کا فیصلہ ہوجائے)
Ayah 27:42

فَلَمَّا جَآءَتْ قِیْلَ اَهٰكَذَا عَرْشُكِ١ؕ قَالَتْ كَاَنَّهٗ هُوَ١ۚ وَ اُوْتِیْنَا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهَا وَ كُنَّا مُسْلِمِیْنَ Open ayah 27:42 in the Quran reader

خیر جب وہ آئی تو اس سے کہا گیا کہ کیا تمہارا تخت ایسا ہی ہے ؟ وہ بولی کہ ہاں یہ تو گویا وہی ہے،48۔ اور ہم کو حکم (ایمانی) اس کے پیشتر ہی (حاصل) ہوچکا ہے اور ہم مطیع ہوچکے ہیں،49۔

48۔ ملکہ نے جواب بڑی فہم و دانش سے دیا۔ نہ سرے سے انکارہی کردیا، اور کہہ دیا کہ نہیں وہ نہیں ہے۔ اور نہ جھٹ اقرار کرلیا کہ ہاں یہ تو وہی ہے۔ بلکہ جواب بین بین دیا۔ کہ ہاں یہ ہے تو اسی کی مثل، اسی جیسا، گویا اس کے اصل مادہ اور موجود بدلی ہوئی ہیئت، دونوں کی رعایتیں ملحوظ رکھ لیں۔ توریت میں بھی دربار سلیمانی میں ملکہ بلقیس کی حاضری کا ذکر ہے۔ (1۔ سلاطین 10: 1۔ 13) مگر قرآن مجید سے ایک بالکل مختلف صورت میں۔ 49۔ ملکہ کہتی ہے کہ ہم لوگ اس معجزہ کے صدور سے پہلے ہی ایمان لاچکے ہیں، اور دل سے آپ کے فرمانبردار ہوچکے ہیں۔ (آیت) ” العلم “ علم یہاں علم توحید ونبوت کے معنی میں ہے۔ العلم باللہ وبصحۃ نبوۃ سلیمان قبلھذہ المعجزۃ (کبیر)
Ayah 27:43

وَ صَدَّهَا مَا كَانَتْ تَّعْبُدُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّهَا كَانَتْ مِنْ قَوْمٍ كٰفِرِیْنَ Open ayah 27:43 in the Quran reader

اور اس کو غیر اللہ کی عبادت نے روک رکھا تھا اور وہ کافر قوم کی تھی،50۔

50۔ قرآن کہتا ہے کہ ایسی عاقل وصاحب فہم خاتون جو چند روز تک ایمان نہیں لائی، سو اسے بت پرستی، خدا پرستی سے روکے رہی تھی، غیر اللہ کی عبادت کی عادت روکے رہی تھی، اور عادت اس لیے پڑی تھی، کہ آنکھ کھول کر اس نے اردگرد کفر ہی کفر دیکھا تھا۔
Ayah 27:44

قِیْلَ لَهَا ادْخُلِی الصَّرْحَ١ۚ فَلَمَّا رَاَتْهُ حَسِبَتْهُ لُجَّةً وَّ كَشَفَتْ عَنْ سَاقَیْهَا١ؕ قَالَ اِنَّهٗ صَرْحٌ مُّمَرَّدٌ مِّنْ قَوَارِیْرَ١ؕ۬ قَالَتْ رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ وَ اَسْلَمْتُ مَعَ سُلَیْمٰنَ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 27:44 in the Quran reader

اس سے کہا گیا کہ محل میں داخل ہو تو جب اس نے اس کو دیکھا اسے پانی خیال کیا،51۔ اور اپنی دونوں پنڈلیاں کھول دیں،52۔ (سلیمان (علیہ السلام) نے) کہا یہ تو ایک محل ہے شیشوں سے بنایا ہوا،53۔ وہ بولی اے میرے پروردگار میں نے اپنے اوپر ظلم کیا تھا اور (اب) میں سلیمان کے ساتھی (ہوکر) اللہ پروردگار عالم پر ایمان لے آئی،54۔

51۔” اس کو دیکھا “ ، یعنی محل کے صحن کو دیکھا، عبارت میں مضاف مقدر ہے۔ یہ صحن شفاف شیشہ سے بنا ہوا تھا، دیکھنے میں پانی کی طرح جھلجھلا رہا تھا۔ 52۔ (جیسا کہ عموما دامن اٹھانے اور پانچے سمیٹتے وقت ہوجاتا ہے) یہ پائنچہ اٹھانے اور دامن سمیٹنے کا ذکر تالمود اور روایات یہود میں بتصریح مذکور ہے۔ ملاحظہ ہو تفسیر انگریزی، بغرض نکاح عورت پر نظر کرنے کی اجازت کی احادیث میں تو صراحت ہے ہی، فقہاء نے استنباط قرآن کے اس مقام سے بھی کیا ہے۔ 53۔ (اور اس کا صحن تک شفاف شیشوں سے پٹا ہوا ہے۔ دامن اٹھانے کی ضرورت نہیں) قصر سلیمانی کے تجمل وتزئین کا نقشہ، جو زیفس قدیم یہودی مؤرخ کے حوالہ سے، انگریزی تفسیر میں درج ہوچکا ہے۔ 54۔ ملکہ، حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی روحانی عظمت ونبوت کی قائل تو پہلے ہی ہوچکی تھی، اب جب یہ مشاہدہ کرلیا کہ دنیوی سلطنت و لباس وحشم میں بھی سلیمان (علیہ السلام) کا مرتبہ مجھ سے کہیں بڑھا ہوا ہے، اور ایسے کی محافظت دوسرے خطرات سے پناہ دینے میں کافی ہوجائے گی، تو اپ کھلم کھلا ایمان لے آئی۔ (آیت) ” مع سلیمن “۔ یعنی سلیمان (علیہ السلام) کے طریق پر۔ (آیت) ” اسلمت۔ ” کنا مسلمین “۔ میں بھی اقرار ایمان کا ہے، مگر اس سے مقصود اخبار ہے اور ایمان مطلوب یعنی انشاء وہ اسی صیغہ سے حاصل ہوا ہے “ (تھانوی (رح) بلقیس کے ایمان لانے کا ذکر توریت میں بھی موجود ہے۔ (1۔ سلاطین۔ 10: 6۔ 9) نیز 2۔ تورایخ۔ 9: 8) روایات یہود میں ہے کہ اس کے بعد ملکہ بلقیس حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے عقد میں آگئیں۔ اور روایات اسلامی بھی اس باب میں کچھ ایسی ہی ہیں۔ اگرچہ قرآن مجید و حدیث صحیح اس باب میں خاموش ہیں۔ والاظھر فی کلام الناس انہ تزوجھا، ولیس لذلک ذکر فی الکتب ولا فی خبر مقطوع بصحتہ (کبیر)
Ayah 27:45

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ فَاِذَا هُمْ فَرِیْقٰنِ یَخْتَصِمُوْنَ Open ayah 27:45 in the Quran reader

اور ہم نے قوم ثمود کے پاس ان کے بھائی صالح (علیہ السلام) کو بھیجا کہ تم اللہ کی عبادت کرو،55۔ سو ان میں دو فریق ہوگئے باہم جھگڑنے والے،56۔

55۔ (شرک وکفر چھوڑ کر) قوم ثمود وحضرت صالح دونوں پر حاشیے سورة الاعراف (پ 8) میں گزر چکے۔ 56۔ (دین کے باب میں) یعنی بجائے اس کے کہ سب کے سب دعوت توحید پر متفق ہوجاتے، صرف ایک فریق ایمان لایا۔ باقی لوگ ان سے جھگڑنے لگے۔
Ayah 27:46

قَالَ یٰقَوْمِ لِمَ تَسْتَعْجِلُوْنَ بِالسَّیِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ١ۚ لَوْ لَا تَسْتَغْفِرُوْنَ اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 27:46 in the Quran reader

صالح (علیہ السلام) نے) کہا اے میری قوم والو، تم لوگ نیکی کے بجائے عذاب کیوں جلدی مانگ رہے ہو ؟ ،57۔ تم لوگ اللہ سے مغفرت ہی کیوں نہیں طلب کرتے جس سے تمہارے اوپر رحمت ہو

57۔ (آیت) ” الحسنۃ “ یعنی توبہ و ایمان یا عافیت ورحمت۔ المراد بالحسنۃ الثواب (کبیر) العافیۃ والرحمۃ (معالم) (آیت) ” السیءۃ “۔ یعنی عذاب۔ المراد بالسیءۃ العقاب۔ (کبیر) البلاء والعقوبۃ (معالم) حسب دستور یہ کافر قوم بھی بجائے ایمان لانے کے یہی کہنے لگی کہ عذاب ہے کہاں ؟ لاکردکھاؤ عذاب، اگر سچے پیغمبر ہو ! قبل یہاں بھی پیشتر کے بجائے ” بجائے “ کے معنی میں ہے۔
Ayah 27:47

قَالُوا اطَّیَّرْنَا بِكَ وَ بِمَنْ مَّعَكَ١ؕ قَالَ طٰٓئِرُكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ تُفْتَنُوْنَ Open ayah 27:47 in the Quran reader

وہ بولے ہم تو تمہیں اور تمہارے ساتھیوں کو منحوس سمجھ رہے ہیں،58۔ (صالح (علیہ السلام) نے) کہا تمہاری نحوست تو اللہ کے علم میں ہے البتہ تم ہی وہ لوگ ہو کہ عذاب میں پڑو گے،59۔

58۔ (کہ جب سے تم نے یہ نیا مذہب کھڑا کیا ہے قوم میں انتشار پیدا ہوگیا ہے) 59۔ (اپنے اسی کفر کی بدولت) (آیت) ” طیرکم “۔ نحوست یعنی اسباب نحوست۔ حضرت نے فرمایا کہ تمہارے اعمال کفریہ اللہ کو خوب معلوم ہیں اور موجودہ مسائل انہی اعمال کفریہ کا ثمرہ ہیں۔ سوا بھی کیا ہوا ہے، ابھی تو تمہیں اس کفر کی بدولت عذاب میں مبتلا ہونا ہے۔ طائرکم اے السبب الذی منہ یجیء خیرکم وشرکم عند اللہ (کبیر)
Ayah 27:48

وَ كَانَ فِی الْمَدِیْنَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ یُّفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا یُصْلِحُوْنَ Open ayah 27:48 in the Quran reader

اور شہر میں تو شخص تھے جو ملک میں فساد کیا کرتے تھے اور اصلاح نہ کرتے تھے،60۔

60۔ یعنی وہ سرتاسر مفسد ہی مفسد تھے۔ صالحیت کی صلاحیت بھی گویا ان میں نہ تھی۔
Ayah 27:49

قَالُوْا تَقَاسَمُوْا بِاللّٰهِ لَنُبَیِّتَنَّهٗ وَ اَهْلَهٗ ثُمَّ لَنَقُوْلَنَّ لِوَلِیِّهٖ مَا شَهِدْنَا مَهْلِكَ اَهْلِهٖ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ Open ayah 27:49 in the Quran reader

وہ بولے آپس میں خدا کی قسم کھاؤ کہ ہم شب کے وقت صالح (علیہ السلام) اور ان کے متعلقین کو جاماریں گے پھر ان کے وارث سے کہہ دیں گے،61۔ کہ ہم ان کے متعلقین کے مارے جانے کئے وقت موجود بھی نہ تھے اور ہم بالکل سچے ہیں

61۔ (جو خون کا دعوی کرے گا) یہ ولی یا قریب ترین وارث، تو مومن ہی ہوگا، اور یا پھر محض غیرت قرابت سے طالب قصاص ہوگا، المراد بہ طالب ثارۃ من ذی قرابتہ اذا قتل (روح)
Ayah 27:50

وَ مَكَرُوْا مَكْرًا وَّ مَكَرْنَا مَكْرًا وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 27:50 in the Quran reader

اور ایک چال وہ چلے اور ایک چال ہم چلے اور (ہماری چال کی) انہیں خبر بھی نہ ہوئی،62۔

62۔ (آیت) ” لنقولن لولیہ ما شھدنا، انا لصدقون، ومکروا مکرا “۔ سرکش جاہلی قومیں جس طرح دولت ایمان و توحید سے معری ہوئی ہیں، عموما اسی طرح راستی ودیانت واخلاق سے بھی کو ری رہی ہیں۔
Ayahs 27:51–52

فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ مَكْرِهِمْ١ۙ اَنَّا دَمَّرْنٰهُمْ وَ قَوْمَهُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 27:51 in the Quran reader

سودیکھئے ان کی چال کا کیا انجام ہوا ہم نے ان کو اور ان کی قوم سب کو ہلاک کرڈالا

فَتِلْكَ بُیُوْتُهُمْ خَاوِیَةًۢ بِمَا ظَلَمُوْا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 27:52 in the Quran reader

سو یہ ان کے گھر ہیں جو ویران پڑے ہیں ان کے کفر کے باعث بیشک اس (واقعہ) میں بڑا نشان ہے،63۔ ان لوگوں کے لئے جو صاحب علم ہیں

63۔ (اللہ قدرت و حکمت اور انبیاء کی صداقت کا) مدائن صالح کے کھنڈر ملک شام جاتے ہوئے تجارت پیشہ اہل مکہ کے قافلوں کی راہ میں برابر پڑتے رہتے تھے۔
Ayah 27:53

وَ اَنْجَیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَ Open ayah 27:53 in the Quran reader

اور ہم نے ایمان وتقوی والوں کو نجات دے دی،64۔

64۔ نجات اپنے عذاب سے بھی، اور نجات کفار کی سازش قتل سے بھی۔
Ayah 27:54

وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ وَ اَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ Open ayah 27:54 in the Quran reader

اور لوط (کو بھی ہم نے پیغمبر بنا کر بھیجا تھا) جب کہ انہوں نے اپنی قوم والوں سے کہا کہ ارے کیا تم یہ بےحیائی کا کام کرتے ہو، درآنحالیکہ سمجھ رکھتے ہو،65۔

65۔ یعنی یہ تو بہت موٹی اور معمولی سمجھ بوجھ کی بات ہے۔ اس حرکت کے بیہودہ ہونے میں کسی قسم کا خفاء یا غموض نہیں۔ (آیت) ” ولوطا “۔ میں عامل مقدر ہے۔ یعنی وارسلنا لوطا قصۂ لوط وقوم لوط پر حاشیے سورة الاعراف (پ 8) میں گزر چکے۔
Ayah 27:55

اَئِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِّنْ دُوْنِ النِّسَآءِ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُوْنَ Open ayah 27:55 in the Quran reader

ارے ! تم مردوں کے ساتھ شہوت رانی کرتے ہو عورتوں کو چھوڑ کر ! مگر ہاں تم لوگ ہی ہو جاہلیت میں (مبتلا) ،66۔

66۔ دین فطرت کی طرح دین جاہلیت کا بھی ایک مستقل نظام ہے، زندگی کے ہر شعبہ پر حاوی، جاہلی عقائد، جاہلی عبادات جاہلی اخلاق، جاہلی معاملات وغیرہا۔ اسی جاہلی اخلاق ومعاشرت کا ایک مظہر غیر طبعی بہیمانہ شہوت رانیاں بھی ہیں۔ جن سے ہر سلیم الفطرت انسان ہی کو نہیں، حیوانات تک کو گھن آتی ہے۔ آج جاہلیت فرنگ میں پھر یہی بدکاریاں نئے نئے خوشنما ناموں کے ساتھ دنیا کے سامنے لوٹ کر آرہی ہیں۔ (آیت) ” اتاتون “ اور ” ائنکم “۔ دونوں میں ہمزہ استفہام کمال استعجاب کے لیے ہے۔ ترجمہ میں ” ارے “ دونوں جگہ اسی مفہوم کے لیے ہے۔
Ayahs 27:56–58

فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اَخْرِجُوْۤا اٰلَ لُوْطٍ مِّنْ قَرْیَتِكُمْ١ۚ اِنَّهُمْ اُنَاسٌ یَّتَطَهَّرُوْنَ Open ayah 27:56 in the Quran reader

سو ان کی قوم کوئی جواب نہ دے سکی بجز اس کے کہ آپس میں یہ کہنے لگے کہ لوط والوں کو اپنی بستی سے نکال دو یہ لوگ بڑے پاک صاف بنتے ہیں سو ہم نے لوط اور ان کے متعلقین کو نجات دے دی

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ١٘ قَدَّرْنٰهَا مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 27:57 in the Quran reader

بجز لوط کی بیوی کے انہیں ہم نے رہ جانے والوں میں تجویز کرلیا تھا

وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ مَّطَرًا١ۚ فَسَآءَ مَطَرُ الْمُنْذَرِیْنَ۠ Open ayah 27:58 in the Quran reader

اور ہم نے ان کے اوپر ایک نئی طرح کامینہ برسا دیا سو جو لوگ ڈرائے جاچکے تھے سو ان کے لئے مینہ کیسا برا ہوا ! ،67۔

67۔ (اور یہ اس لیے کہ یہ بدنصیب اس پر ذرا ملتفت نہیں ہوئے تھے) (آیت) ” امراۃ لوط “۔ اور عذاب قوم لوط وغیرہ پر حاشیے پہلے گزر چکے۔
Ayah 27:59

قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ وَ سَلٰمٌ عَلٰى عِبَادِهِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰى١ؕ آٰللّٰهُ خَیْرٌ اَمَّا یُشْرِكُوْنَؕ Open ayah 27:59 in the Quran reader

آپ کہہ دیجیے کہ ہر تعریف اللہ ہی کے لئے ہے اور اس کے ان بندوں پر سلام ہو جنہیں اس نے منتخب کیا، آیا اللہ بہتر ہے یا وہ جنہیں یہ (اس کا) شریک کرتے ہیں،68۔

68۔ آگے ایک مستقل خطبہ توحید پر آرہا ہے، یہ ایک آیت اس کے مقدمہ یا تمہید کے طور پر ہے۔ (آیت) ” قل الحمد للہ “۔ خیال رہے کہ حمد الہی زبان پر لانے کا یہ حکم عین ہلاکت کفار کے موقع پر مل رہا ہے۔ جیسا کہ صاحب روح المعانی نے توجہ دلائی ہے۔ اور مرشد تھانوی (رح) نے اس سے مزید استنباط یہ کیا ہے کہ معاندین کی ہلاکت پر مسرور ہونا جب کہ اس کا باعث دنیا نہ ہو، اخلاق فاضلہ کے ذرا بھی منافی نہیں۔ بحمد اللہ جمعہ 11 شوال 1366 ؁ھ بمطابق 29، اگست 1947 ء ؁ کو قبل نماز جمعہ اس انیسویں پارہ کی نظر ثانی سے فراغت ہوئی۔ اور نظر ثالث سے آج سہ شنبہ 17 جمادی الاولی 1369 ؁ھ 7 مارچ 1950 ء ؁ کو قبل نماز ظہر۔
Ayah 27:60

اَمَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ اَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً١ۚ فَاَنْۢبَتْنَا بِهٖ حَدَآئِقَ ذَاتَ بَهْجَةٍ١ۚ مَا كَانَ لَكُمْ اَنْ تُنْۢبِتُوْا شَجَرَهَا١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ بَلْ هُمْ قَوْمٌ یَّعْدِلُوْنَؕ Open ayah 27:60 in the Quran reader

(یا یہ بت بہتر ہیں) یا وہ ذات جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا۔ اور تمہارے لئے آسمان سے پانی اتارا اور اس کے ذریعہ سے بارونق باغ اگائے (ورنہ) تم سے تو ممکن نہ تھا کہ ان کے درختوں کو اگاؤ کیا اللہ کے ساتھ کوئی (اور بھی) خدا ہے ؟ مگر ہاں یہ لوگ ہیں ہی حق سے عدول کرنے والے،69۔

69۔ (چنانچہ اس معاملہ میں بھی توحید کی سیدھی راہ چھوڑ بیٹھے) آیت ماقبل سے لے کر کئی آیتوں تک مسلسل مضمون توحید کا چلا گیا ہے۔ اور شرک کی تمام صورتوں کی تردید ہوتی گئی ہے۔ (آیت) ” ء الہ مع اللہ “۔ آسمان، زمین سب کا پیدا کرنے والا، پانی برسانے والا، نباتات اگانے والا، وہ ایک اور یکتا خدا ہی ہے۔ اس کے سوا نہ کوئی میگھ دیوتا یا بارش کا خدا ہے، نہ ہوا، زراعت وغیرہ کے لئے کوئی دیوی دیوتا اور نہ زمین و آسمان کی خالقیت میں کوئی شریک۔ (آیت) ” ماکان ...... شجرھا “۔ انسان خوب غور کرکے دیکھ لے، کاشتکاری ہو یا باغبانی۔ اس عظیم الشان نظام کے کسی جزء پر بھی اسے قدرت حاصل ہے ؟ کیا زمین میں صلاحیت قبول رکھنا اس کا کام ہے ؟ کیا خاک میں قوت نمورکھ دینا اس کے بس کی بات ہے ؟ کیا وقت مناسب پر اور مقام مناسب پر بارش لانا اس کے اختیار میں ہے ؟ کیا بارش کے قطروں میں یہ اثر رکھ دینا کہ وہ نباتات اگائیں اس کے دخل و تصرف کی چیز ہے ؟ درختوں، پودوں، سبزیوں کو آفتاب کی گرمی ایک خاص درجہ میں پہنچانا کیا اس کے اختیار کی چیز ہے ؟ غرض کھاد، سورج۔ پانی وغیرہ میں پیداواری کی صلاحیتیں اور تاثیرات رکھ دنیا اور ان ساری استعدادوں کو ایک متعین درجہ میں اور مناسب حد تک قوت سے فعل میں لانا، ان میں سے کوئی بھی شے انسان غریب کے دخل و تصرف میں ہے ؟ (آیت) ” ماکان ..... شجرھا “۔ میں جب اس کی نفی ہوگئی کہ اس نظام نباتی کی کوئی سی کڑی بھی انسان کے اختیار کی ہے تو اب معا جرح یہ کی ہے کہ (آیت) ” ء الہ مع اللہ “۔ اچھا تمہارے اپنے بس کی نہ سہی تو پھر کیا کوئی اور غیر اللہ خدائی میں شریک ہے ؟ (آیت) ” یعدلون “۔ عدول سے ہے جس کے معنی حق سے انحراف اور کجی کے ہیں۔ من العدول بمعنی الانحراف اے بل ھم قوم عادتھم العدول عن طریق الحق بالکلیۃ فلذالک یفعلون مایفعلون (روح) عن الحق الذی ھو التوحید (بیضاوی) ان آیات میں (اور اسی طرح اور بھی قرآن کے بیشمار مقامات میں) مسلسل دعوت دی گئی ہے، کائنات اور اس کے اجزاء وعناصر پر نظر کرنے کی۔ یہیں سے عارفین صوفیہ نے لکھا ہے کہ خلائق پر نظر مطلق صورت میں ممنوع نہیں۔ توحید کے منافی صرف وہ نظر ہے جو خود مقصود ہو۔ اور خلائق پر نظر کرنا جب کہ وصول الی الحق کے لئے ہو تو عین مطلوب ہے، اور توحید کے ذرا بھی منافی نہیں۔
Ayah 27:61

اَمَّنْ جَعَلَ الْاَرْضَ قَرَارًا وَّ جَعَلَ خِلٰلَهَاۤ اَنْهٰرًا وَّ جَعَلَ لَهَا رَوَاسِیَ وَ جَعَلَ بَیْنَ الْبَحْرَیْنِ حَاجِزًا١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَؕ Open ayah 27:61 in the Quran reader

یہ بت بہتر ہیں) یا وہ ذات جس نے زمین کو قرار گاہ بنایا اور اس کے درمیان در میان ندیاں بنائیں اور زمین کی خاطر پہاڑ بوجھل بنائے اور دو دریاؤں کے درمیان حد فاصل بنائی کیا اللہ کے ساتھ کوئی (اور بھی) خدا ہے ؟ مگر ہاں ان میں سے اکثر تو سمجھتے ہی نہیں،70۔

70۔ چناچہ اتنی موٹی سی بات کو نہ کلدانیہ والے سمجھے نہ مصر والے، نہ ہندوستان والے نہ ایران والے۔ نہ یونان والے نہ رومہ والے سب نے اپنے ” کمال تہذیب “ و ” عروج تمدن “ کے زمانہ میں پرستش دوسروں کی کی ہے۔ ملاحظہ ہو تفسیر انگریزی۔ (آیت) ” البحرین “۔ ملاحظہ ہو سورة الفرقان آیت (آیت) ” ھو الذی مرج البحرین “۔ الخ کا حاشیہ۔ (آیت) ” لھا “ یعنی زمین کی خاطر۔ زمینی مصلحتوں کے لحاظ سے۔ اے لصلاح امرھا (روح)
Ayah 27:62

اَمَّنْ یُّجِیْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاهُ وَ یَكْشِفُ السُّوْٓءَ وَ یَجْعَلُكُمْ خُلَفَآءَ الْاَرْضِ١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَؕ Open ayah 27:62 in the Quran reader

) یہ بت بہتر ہیں) یا وہ جو بےقرار کی (فریاد) سنتا ہے جب وہ اسے پکارتا ہے اور مصیبت کو دور کردیتا ہے اور تم کو زمین میں صاحب تصرف بناتا ہے کیا اللہ کے ساتھ کوئی (اور بھی) خدا ہے ؟ تم لوگ بہت ہی کم غور کرتے ہو،71۔

71۔ اوپر کی آیتوں میں حق تعالیٰ کی صفات خالقیت، ناظمیت و ربوبیت پر توجہ دلائی جاچکی۔ اس آیت میں اس کی صفات فریاد رسی اور تصرف تکوینی یاد دلائی گئی ہیں۔ اور پہلی آیتوں میں خطاب خاص اگر عام مشرکوں سے تھا تو اس میں مخاطبت خصوصی مسیح پرستوں، مریم پرستوں اور ہر قسم کے روح پر ستوں اور پیر پرستوں سے ہے۔ (آیت) ” یجیب “۔ اور (آیت) ” یکشف “ سے یہ مطلب نہیں کہ اللہ ہمیشہ بندہ کے حسب مرضی فرماد قبول ہی کرلیتا ہے اور ہمیشہ مصیبت کو دور ہی کردیتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب کبھی بھی فریاد سنی جاتی اور دعاقبول ہوتی ہے تو یہ اللہ ہی کی طرف سے ہوتی ہے کسی اور کی طرف سے نہیں ہوتی۔ (آیت) ” ما تذکرون “۔ مازائد قلت کو مؤکد کرنے کے لئے ہے۔ مامزیدۃ لتاکید معنی القلۃ التی ارید بھا العدم (روح)
Ayah 27:63

اَمَّنْ یَّهْدِیْكُمْ فِیْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ وَ مَنْ یُّرْسِلُ الرِّیٰحَ بُشْرًۢا بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ تَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا یُشْرِكُوْنَؕ Open ayah 27:63 in the Quran reader

(یہ بت بہتر ہیں) یا وہ جو تمہیں راستہ سمجھاتا ہے خشکی اور تری کی تاریکیوں میں اور جو ہواؤں کو بارش سے پہلے بھیجتا ہے (دلوں کو) خوش کردینے کے لئے کیا اللہ کے ساتھ کوئی (اور بھی) خدا ہے ؟ اللہ برتر ہے ان لوگوں کے شرک سے،72۔

72۔ آیت میں ربوبیت تکوینی ہی کے بعض اور پہلوؤں کو نمایاں کرکے توحید پر استدلال کیا گیا ہے۔ (آیت) ” رحمتہ۔ رحمۃ “۔ یہاں بارش کے معنی میں ہے۔ یعنی المطر (بیضاوی)
Ayah 27:64

اَمَّنْ یَّبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ وَ مَنْ یَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 27:64 in the Quran reader

) یہ بت بہتر ہیں) یا وہ جو مخلوق کو اول بار پیدا کرتا ہے پھر اس کو دوبارہ پیدا کرے گا اور جو تمہیں رزق دیتا ہے آسمان اور زمین سے کیا اللہ کے ساتھ کوئی (اور بھی) خدا ہے ؟ آپ کہیے تم اپنے (دعوے پر) دلیل پیش کرو اگر تم سچے ہو،73۔

73۔ یعنی حق تعالیٰ کی صفات خالقیت، حاکمیت ورزاقیت تو ظاہر ہی ہیں تم اگر ان کا انتساب کسی اور کی جانب بھی کرتے ہو تو اپنے دعوئے شرک پر کوئی دلیل بھی تو پیش کرو اگر کرسکتے ہو۔
Ayah 27:65

قُلْ لَّا یَعْلَمُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ الْغَیْبَ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ اَیَّانَ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 27:65 in the Quran reader

آپ کہہ دیجیے کہ آسمانوں اور زمین میں جتنی (مخلوق) موجود ہے کوئی بھی غیب کی بات نہیں جانتا بجز اللہ کے اور نہ وہ یہ جانتے ہیں کہ وہ کب (دوبارہ) اٹھائے جائیں گے،74۔

74۔ (چنانچہ یہ وقت قیامت کا تعین بھی انہیں مسائل غیب میں سے ہے) آیت کا مطلب یہ ہوا کہ اللہ کو تو بےبتائے سب کچھ معلوم ہے اور کسی دوسرے کو بےبتائے کچھ بھی معلوم نہیں۔ عقیدۂ آخرت اہم ترین عقائد میں سے ہے اس لئے اس کا ذکر خاص طور پر کیا گیا۔
Ayah 27:66

بَلِ ادّٰرَكَ عِلْمُهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ١۫ بَلْ هُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْهَا١۫٘ بَلْ هُمْ مِّنْهَا عَمُوْنَ۠ Open ayah 27:66 in the Quran reader

بات یہ ہے کہ آخرت کے باب میں ان کا علم نیست ہوچکا بلکہ یہ اس کی طرف سے شک میں ہیں بلکہ یہ اس کی طرف سے اندھے بنے ہوئے ہیں،75۔

75۔ منکرین آخرت کے کئی طبقہ ہیں۔ قرآن نے ان کی نفسیات کی الگ الگ پوری تشریح کردی، ایک طبقہ تو وہ ہے جس کا ظاہری، سطحی، مادی وحسی علم آخرت کے باب میں جواب دے جاتا ہے اور وہ طبقہ اپنے عدم علم پر قانع ومطمئن ہو کر بیٹھ جاتا ہے۔ یہ لوگ (آیت) ” بل ادرک علمھم فی الاخرۃ “۔ کے مصداق ہیں۔ دوسرا طبقہ عدم علم سے آگے قدم بڑھا کر اس عقیدہ پر جرح وقدح شروع کرتا ہے اور اس باب میں تشکیک وار تیاب میں مبتلا رہتا ہے۔ یہ گروہ (آیت) ” بل ھم فی شک منھا “ کے تحت میں آیا۔ تیسرا طبقہ اس سے بھی آگے بڑھ کر اپنی آنکھیں دلائل و شواہد کی طرف سے بند کرلیتا ہے اور اس کے بر سرراہ آنے کی طرف سے قطعی مایوس ہوجاتی ہے۔ ایسوں کے لئے کھلی ہوئی وعید (آیت) ” بل ھم منھا عمون “ کی ہے۔
Ayahs 27:67–68

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا وَّ اٰبَآؤُنَاۤ اَئِنَّا لَمُخْرَجُوْنَ Open ayah 27:67 in the Quran reader

اور یہ کافر کہتے ہیں کہ کیا ہم جب خاک ہوگئے اور (اسی طرح) ہمارے باپ (دادا بھی) تو کیا ہم (قبر سے) نکالے جائیں گے

لَقَدْ وُعِدْنَا هٰذَا نَحْنُ وَ اٰبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ١ۙ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 27:68 in the Quran reader

اس کا تو وعدہ ہم سے اور ہمارے باپ داداؤں سے پہلے سے ہوتا چلا آیا ہے یہ تو بس اگلوں کی بےسند باتیں ہیں،76۔

76۔ (جو نہ آج تک واقع ہو کر رہی ہیں، نہ آیندہ ہو کر رہیں گی) (آیت) ” اساطیر الاولین ‘ پر حاشیہ سورة الانعام پ 7 میں گزر چکا۔ (آیت) ” ء انا کنا ...... ائنا لمخرجون “۔ ہمزۂ استفہام کی تکرار انکار میں تاکید و مبالغہ کے لیے ہے۔ و تکرار المھزۃ للمبالغۃ فی الانکار (بیضاوی)
Ayah 27:69

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 27:69 in the Quran reader

آپ کہے کہ تم زمین پر چلو (پھرو) پھر دیکھو کہ مجرموں کا کیا انجام ہوا ہے ! ،77۔

77۔ (اسی دنیا میں) مطلب یہ کہ جو قومیں خدا کی باغی یعنی توحید وآخرت کی منکر ہوئی ہیں۔ وہ باوجود اپنی ساری ظاہری شوکت و عظمت کے بالآخر اسی دنیا میں کیسی تباہ وبرباد ہو کر وہی ہیں۔ ان کے قلعوں، انکی عمارتوں، ان کے محلوں کے گرے پڑے، ٹوٹے پھوٹے کھنڈر، ان کے آثار قدیمہ عبرت کے لیے کافی ہیں۔ (آیت) ’ سیروا فی الارض “۔ سیر فی الارض اگر تذکرہ و عبرت پذیری کی راہ سے یا اور کسی دینی غرض سے ہو تو خود ایک عبادت بن جاتی ہے۔ لیکن بغیر اس قسم کی کسی غرض ومقصود کے اگر محض تفریح اور تماشہ کے مد میں یا جغرافی معلومات کی فراہمی کے لیے ہے تو عبادت نہیں۔
Ayah 27:70

وَ لَا تَحْزَنْ عَلَیْهِمْ وَ لَا تَكُنْ فِیْ ضَیْقٍ مِّمَّا یَمْكُرُوْنَ Open ayah 27:70 in the Quran reader

اور آپ ان پر غم نہ کیجیے اور جو کچھ یہ چالیں چل رہے ہیں اس سے تنگ نہ ہوجئے،78۔

78۔ (بلکہ اسے مستحضر رکھئے کہ دوسرے انبیاء کے ساتھ بھی برابر یہی معاملہ ہوتا رہا ہے) مشرکین معاندین کی مسلسل وشدید مخالفتوں کی دو ہی اثرات رسول اللہ ﷺ کے قلب مبارک پر پڑسکتے ہیں۔ ایک آپ کا فرط شفقت سے ان کے حق میں غم کھانا اس کی تردید (آیت) ” ولا تحزن علیھم “ میں آگئی۔ دوسرے آپ کے دل کا اس خیال سے کڑھنا کہ کہیں ترقی اسلام کی رفتار میں اس سے رکاوٹ نہ پیدا ہوجائے سو اس کی پوری تردید (آیت) ’ ’ لا تکن فی ضیق مما یمکرون “۔ سے کردی گئی۔ اکبر الہ آبادی (اللہ ان کی تربت کو ٹھنڈا رکھے) نے اپنے ایک شعر میں آیۂ کریمہ کے اس ٹکڑے کی خوب تضمین کی ہے ، ع : آگ ان کی خود ہی دے گی ان کو بھون : لاتکن فی ضیق مما یمکرون :
Ayah 27:71

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 27:71 in the Quran reader

اور یہ پوچھتے ہیں کہ،79۔ یہ وعدہ (آخر) کب پورا ہوگا اگر تم سچے ہو،

79۔ (طنز و استہزاء کے لہجہ میں)
Ayah 27:72

قُلْ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ رَدِفَ لَكُمْ بَعْضُ الَّذِیْ تَسْتَعْجِلُوْنَ Open ayah 27:72 in the Quran reader

آپ کہہ دیجیے کہ جس (عذاب) کی تم جلدی مچا رہے ہو، عجب نہیں کہ اس کا کچھ حصہ تمہارے پاس ہی آلگا ہو،80۔

80۔ چناچہ قحط، قتل، ہزیمت وغیرہ کے تجربے تو اسی دنیا میں ہو کر رہے۔ (آیت) ” ردف لکم “۔ پر نحوی حیثیت سے خاصی بحث ہوئی ہے۔ عام استعمال زبان میں بلاصلہ لام کے ہے۔ ردفہ امرء اردفہ کما یقال تبعہ واتبعہ بعض اہل نحو نے کہا ہے لام اس وقت داخل کیا جاتا ہے جب اضافت کسی فعل کی جانب مقصود ہوتی ہے جیسے تعبرون ویرھبون میں للرء یا تعبرون ولربھم یرھبون (ابن جریر) اور بعض نے کہا ہے کہ اس سے معنی میں زور پیدا ہوگیا ہے اور معنی ” قریب آلگا “ کے ہوگئے ہیں۔ ادخل اللام فی ذلک المعنی لان معناہ دنالھم “۔ ابن جریر نے یہ سب نقل کرکے ترجیح اسی آخری قول کو دی ہے۔ وھذا القول الثانی ھو اولھما عندی بالصواب (ابن جریر) سب سے بےتکلف اور بےغبار قول زمخشری کا ہے کہ ل یہاں تاکید کے لیے ہے۔ جیسا کہ کہیں کہیں ب بھی تاکید کے لیے آئی ہے۔ زیدت اللام للتاکید کالباء فی ولا تلقوا بایدیکم (کشاف) اللام مزیدۃ للتاکید (بیضاوی)
Ayah 27:73

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 27:73 in the Quran reader

اور آپ کا پروردگار لوگوں پر بڑا فضل رکھنے والا ہے،81۔ لیکن اکثر انسان ہی شکر ادا کرتے

81۔ (اور وہ عذاب کو بہت ٹالتا رہتا، اور مہلت بہت دیتا رہتا ہے) ۔ اور کثرت سے منکروں پر، کافروں پر تو اس دنیا میں اس کی نعمتوں کی بارش آخر وقت تک جاری رہتی ہے۔ ہوا بارش، روشنی، کھانا، پانی، کسی پر ایک دن کے لیے بھی بند نہیں ہوتا۔
Ayahs 27:74–75

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَیَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُوْرُهُمْ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ Open ayah 27:74 in the Quran reader

اور بیشک آپ کا پروردگار خوب جانتا ہے جو کچھ ان کے سینہ چھپائے ہوئے

وَ مَا مِنْ غَآئِبَةٍ فِی السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 27:75 in the Quran reader

) اس کو) اور جو کچھ وہ ظاہر کرتے ہیں (اس کو) اور کوئی چیز مخفی آسمان اور زمین میں ایسی نہیں جو کتاب مبین میں درج نہ ہو،82۔

82۔ یعنی حق تعالیٰ کو براہ راست علم تو ہے ہی۔ باقی باضابطہ اور ظاہری طور پر بھی ہر چیز خداوندی رجسٹر میں درج ہے۔ (آیت) ” کتب مبین “۔ سے مراد لوح محفوظ ہے جس میں ہر چیز چھوٹی بڑی، اگلی پچھلی لکھی ہوئی موجود ہے۔ وھو ام الکتاب الذی اثبت ربہ کل ما ھو کائن من لدن ابتداء خلق خلقہ الی یوم القیامۃ (ابن جریر) اے فی اللوح المحفوظ (معالم)
Ayah 27:76

اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ یَقُصُّ عَلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اَكْثَرَ الَّذِیْ هُمْ فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 27:76 in the Quran reader

بیشک یہ قرآن بنی اسرائیل پر بہت سی ان باتوں کو ظاہر کرتا ہے جن میں وہ اختلاف رکھتے ہیں،83۔

83۔ یعنی بنی اسرائیل پر بہت سے وہ حقائق روشن کردیئے جن کے باب میں وہ غلط فہمیوں میں مبتلا تھے۔ اور جن صداقتوں کو وہ بھلا چکے تھے انہیں پھر سے روشن کردیا۔ یہود اپنے صحائف میں دانستہ ونادانستہ بہت کچھ تحریف و تصرف کرچکے تھے، قرآن نے جچے تلے فیصلے ان امور میں صادر فرمادیئے۔ (آیت) ” اکثر “۔ یہاں کثیر کے معنی میں ہے۔
Ayah 27:77

وَ اِنَّهٗ لَهُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 27:77 in the Quran reader

اور بیشک وہ ایمان والوں کے حق میں ہدایت و رحمت ہے،84۔

84۔ یعنی ہدایت خاص و رحمت بالاختصاص۔ ورنہ عموما ہدایت و رحمت تو ساری دنیا کے لیے ہے۔ مفسر تھانوی (رح) نے کہا کہ ھدایت باعتبار طاعات کے اور رحمت بلحاظ ثمرات کے۔
Ayah 27:78

اِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ بِحُكْمِهٖ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْعَلِیْمُۙۚ Open ayah 27:78 in the Quran reader

بیشک آپ کا پروردگار ان کے درمیان فیصلہ اپنے حکم سے کردے گا اور وہ غلبہ والا ہے علم والا ہے،85۔

85۔ (اسے اپنے فیصلہ کے صادر کرنے اور نافذ کرنے میں دیر ہی کیا لگ سکتی ہے) یہاں فیصلہ سے مراد قیامت کے دن کا عملی فیصلہ ہے۔ ورنہ شرعی وعقلی فیصلہ تو آج بھی اسی دنیا میں موجود ہے۔
Ayah 27:79

فَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّكَ عَلَى الْحَقِّ الْمُبِیْنِ Open ayah 27:79 in the Quran reader

سو آپ اللہ پر توکل رکھیے بیشک آپ صریح حق پر ہیں،86۔

86۔ (اس لیے آپ معاندین منکرین کے مکر وکید کی مطلق پروانہ کیجئے اس عالم الغیب پر ان کی ایک ایک چال روشن ہے۔ امداد ونصرت اس قوت والے کی طرف سے ان کی نہیں۔ آپ کی ہوگی)
Ayah 27:80

اِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى وَ لَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ Open ayah 27:80 in the Quran reader

آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے،87۔ اور نہ بہروں کو (اپنی) پکار سناسکتے ہیں جبکہ وہ پیٹھ پھیر کر چل دیں،87۔ اور نہ بہروں کو (اپنی) پکار سنا سکتے ہیں جب کہ وہ پیٹھ پھیر کر چل دیں،88۔

87۔ (کوئی ایسی آواز و کلام جواب ان کے حق میں نافع ہو) مطلب یہ ہے کہ یہ معاندین تو مردوں کی طرح ہیں، ان سے توقع ہی فہم وہدایت کی بیکار ہے۔ انما شبھوا بالموتی لعدم انتفاعھم باستماع مایتلی علیھم کما شبھوا بالصم (بیضاوی) بعض علماء نے آیت سے یہ مستنبط کیا ہے کہ مردے مطلقا کلام نہیں سن سکتے۔ حالانکہ یہاں مقصود صرف تشبیہ ہے، اور اس کی بناء پر عرف وظاہر پر ہے۔ کوئی مسئلہ فقہی بیان نہیں ہورہا ہے اور پھر کافروں سے سمع وبصر کی نفی تو اور بھی متعدد مقامات پر قرآن میں آئی ہے۔ جس طرح وہاں مراد معرفت وادراک لی گئی ہے یہاں بھی نفی سمع نفی قبول ہی پر محمول ہوگی۔ اس کے علاوہ موتی کا اطلاق تو جسد مردہ پر ہوتا ہے۔ روح کے سننے نفی تو اس سے بھی نہیں ہوتی۔ اور بعض محققین نے یہ نکتہ بھی لکھا ہے کہ (آیت) ” تسمع “۔ باب افعال سے ہے۔ یعنی تم ان میں قوت سماع نہیں پیدا کرسکتے اور سماع عادی جو نام ہے تصادم صوت وسامعہ کا وہ ظاہر ہے کہ مردوں میں مفقود ہے۔ 88۔ (اور سننا ہی نہ چاہیں) مقصود اس تشبیہ سے بھی اس کا اظہار ہے کہ جب کوئی نفع حاصل کرنے کا ارادہ ہی نہ کرے، بلکہ اس کے برعکس کا ارادہ کرلے تو کوئی اسے نفع پہنچا سکتا ہی نہیں۔ فان اسماعھم فی ھذہ الحالۃ ابعد (بیضاوی) یہ سنانے اور نفع پہنچانے کی نفی جب حضرات انبیاء سے کی جارہی ہے تو کسی شیخ یا مرشد غریب کے اختیار میں کب ہدایت کا دل میں اتار دینا ہے !