Ayahs 74:39–56اللہ کے مقبول بندوں کی پر سکون زندگیاں اور دوزخیوں کا اقرار جرم
تشریح : یہاں داہنی طرف والے نیک لوگ۔ اس بات کی تصدیق کی جارہی ہے۔ جو میدان حشر میں ہونے والی ہے اور جو ہم مسلمانوں کا عقیدہ ہے۔ جو اس بات کی ضمانت ہے کہ اس عقیدہ پر ایمان رکھنے والے ہر برا کام کرنے سے پہلے یہ ضرور سوچتے ہیں کہ ایک دن اللہ کے سامنے اپنے اس برے کام کا انجام عذاب کی صورت میں ضرور ملے گا۔ تو یہی یاد دہانی کروائی گئی ہے کہ مرنے کے بعد ہم ضرور زندہ کیے جائیں گے۔ اعمال نامے ملنے کی صورت یہ ہوگی کہ کچھ کو دائیں طرف سے کچھ کو بائیں طرف سے پیچھے سے اعمال نامے دئیے جائـیں گے۔ یہاں ان لوگوں کا ذکر ہے جن کو داہنی طرف سے اعمال نامے دئیے جائیں گے جو اس بات کی نشانی ہوگی کہ یہ خوش نصیب جنت میں جائیں گے۔ جنت کیا ہے ؟ اس کی وضاحت کئی دفعہ کی جا چکی ہے کہ انتہائی خوبصورت پر سکون اور بہترین ٹھکانا ہوگا۔ وہاں جانے والے لوگ جہنم میں جانے والے لوگوں کو پوچھیں گے کہ تم جہنم میں کیوں ڈالے گئے تو وہ وجہ بتائیں گے۔ غور سے سنئے ان کی اتنی سخت سزا کی وجہ۔
1 ۔ نماز نہیں پڑھتے تھے۔
2 ۔ فقیروں کو کھانا نہیں کھلاتے تھے۔
3 ۔ اہل باطل سے ملکر حق سے انکار کرتے تھے۔
4 ۔ روز جزا کو جھٹلاتے تھے۔
5 ۔ یہاں تک کہ انہیں موت آگئی۔ یعنی عمل نیک اور مغفرت کا وقت نکل گیا۔
ایسے ہی بدنصیب لوگوں کے لیے کہا گیا ہے کہ ان کے پاس نصیحت یعنی کتاب ہدایت پہنچی مگر انہوں نے اس وقت ایسا رویہ اختیار کیا کہ جیسے عربی کا محاورہ ہے کہ بد کے ہوئے گدھے ہیں جو شیر سے ڈر کر بھاگیں۔ یہ لوگ نصیحت ملنے پر بڑی عجیب و غریب شرطیں لگاتے تھے جو صرف وقت گزاری کا بہانہ تھا۔ ورنہ قرآن سے بڑا معجزہ اور کیا ہوسکتا ہے تو اب وہ اپنی ناعاقبت اندیشی کے بدلے میں اپنی گناہوں میں گزاری ہوئی زندگیوں کا خمیازہ دوزخ کی صورت میں بھگتیں گے اور یہ عذاب ان کے لیے ہمیشہ کا عذاب ہوگا۔ کوئی سفارش کام نہ دے گی۔ یہاں سفارش کا مفہوم یہ نہیں جو دنیا میں کی جاتی ہے۔ اس سفارش کی وضاحت فضیلہ الشیخ کی زبانی سنئے ،” خرت کی شفاعت کو ہم دو قسم میں تقسیم کرتے ہیں۔
1 ۔ منفی شفاعت ” جو بےسود ہوگی۔
2 ۔ مثبت شفاعت جو مفید اور سود مندہو گی۔ (اور یہ اللہ کی اجازت سے ہوگی)
1 ۔ منفی شفاعت کی دو صورتیں ہوں گی۔ پہلی اہل جاہلیت جو یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ جن بتوں کی وہ پرستش کرتے ہیں قیامت کے دن وہ ان کی سفارش اللہ سے کریں گے۔ دوسری اہل بدعت اور ضلالت جو یہ سمجھتے ہیں کہ فرشتے نبی ﷺ رسول اولیاء اور صالحین یا کسی اور کی شفاعت انہیں حاصل ہوگی۔ ان ہر دو شفاعتوں کا آخرت میں کوئی وجود نہ ہوگا۔ جیسا کہ اللہ نے فرمایا۔ اور اگر بالفرض کوئی سفارش کرے گا بھی ” تو یہ ان کو کچھ نفع نہ دے گی۔ (مدثر :48)
دوسری ہے مثبت شفاعت : اس کی بھی دو قسمیں ہیں۔
1 ۔ سیدنامحمد ﷺ کی سفارشات۔
2 ۔ رسول اللہ ﷺ کے علاوہ دیگر انبیاء اولیاء اور صالحین کی سفارشات۔
پہلیرسول اللہ ﷺ کو قیامت کے دن متعدد قسم کی سفارشات کا حق ہوگا۔ ان میں سب سے بڑی سفارش اس وقت ہوگی جب آپ ﷺ مقام محمود پر جلوہ گر ہوں گے اور لوگوں کو میدان حشر میں کھڑا رہنے کی تکلیف سے بچائیں گے یہ شفاعت عظمیٰ صرف رسالت مآب ﷺ کے ساتھ مخصوص ہوگی مثبت شفاعت کی دوسری قسم وہ ہے۔ حدیث میں آیا ہے۔ انبیاء علماء اور شہداء (اللہ کے حکم سے) شفاعت کریں گے۔ (ابن ماجہ) ایک اور حدیث میں آیا ہے شہید اپنے گھر کے ستر افراد کی شفاعت کرے گا۔ (ابو داؤد)
آخر میں پر زور انداز میں صاف صاف سمجھا دیا گیا ہے کہ خوب اچھی طرح سمجھ لو جان لو اور یاد رکھ لو کہ ڈرو تو صرف اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور کسی سے ہرگز مت ڈرو اور یہ بھی یاد رکھو کہ بھول چوک معاف کرنے والا صرف رب تعالیٰ ہی ہے۔ وہ غفور رحیم ہے رحمن و رحیم ہے ” الحق الوکیل اور القوی المتین ہے (طاقت والا اور مضبوط)
خلاصہ سورة المدثر
یہ سورت انتہائی شروع میں نازل ہوئی جب کہ آپ ﷺ نے ابھی اعلانیہ تبلیغ شروع نہیں کی تھی تب رب العزت نے آپ ﷺ کو اور تمام امت کو کچھ ایسی باتوں کی تاکید کی ہے جو ایک واعظ مبلغ عالم یا نبی ﷺ کے لیے بےحد ضروری ہیں۔
1 ۔ اللہ کی وحدانیت کا یقین خود کرنا اور لوگوں کو پوری طرح اس بات کا پکا یقین دلانا کہ اللہ ایک ہے۔
2 ۔ بدن کپڑے اور دل و دماغ کو صاف ستھرا رکھیں۔
3 ۔ روح کی پاکیزگی کا خیال یوں رکھیں کہ بری صحبت برے عقیدے اور برے خیالات سے بالکل دورر ہیں۔
4 ۔ ہر کام صرف خلوص نیت سے کریں کسی ذاتی فائدے کے لیے کام نہ کریں صرف اللہ کی خوشنودی حاصل کرنا مقصد ہو۔
5 ۔ اپنے اندر بےپناہ صبر ” تحمل اور یقین کامل پیدا کریں کیونکہ تبلیغ کا کام بےحد مشکل اور صبر آزما ہے کمزور ارادے کا بندہ یہ کام نہیں کرسکتا۔
6 ۔ امیر مغروربد دماغ اور ہٹ دھرم لوگوں کی ہرگز پرواہ نہ کریں کیونکہ ان کے ساتھ ہم (اللہ) خود اچھی طرح نمٹ لیں گے۔ کیونکہ ہم نے جو لوگوں کو مرنے کے بعد زندہ کرنے اور پھر اعمال کا حساب کتاب کر کے جنت اور دوزخ کا پکا بندو بست کیا ہوا ہے تو وہ انہی لوگوں کے لیے کیا گیا ہے۔ نیکو کار جنت میں اور بد کردار کفار و مشرکین دوزخ میں جائیں گے۔ رہ گئی بات سفارش کی تو وہ بھی اللہ کی مرضی کے بغیر نہ ہوگی جیسا کہ اللہ نے فرمایا ہے۔ ان سے کہہ دو کہ سفارش تو تمام تر اللہ کے اختیار میں ہے۔ (زمر : 44)
پھر یہ بات بھی واضح کردی گئی ہے کہ اللہ کی سفارش حاصل کرنے کے لیے دعا کی ضرورت ہے اور دعا کے ساتھ نیک اعمال خاص طور سے توحید پر یقین ” نماز کی پابندی اور آخرت پر یقین۔ ان تمام حدود کو اپنے لیے ضروری کرلینے والا اچھا انسان بن جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے۔
1 ۔ اے خوبصورت لباس کے حریص کفن کو یاد رکھ۔
2 ۔ بنگلہ نما مکان کے شیدائی قبر کا گڑھا مت بھول۔
3 ۔ اے ایمان کی دولت سے دنیا کی دولت کو بہتر سمجھنے والے ” یاد رکھ موت کے وقت تجھ سے ہر چیز چھین لی جائے گی۔
4 ۔ اللہ کے سوا دنیا کی محبت دل سے نکال قبل اس کے کہ تجھے دنیا سے قبر میں ڈال دیا جائے ” کیونکہ جب موت کا وقت آتا ہے تو نہ ایک گھڑی پیچھے ہوتا اور نہ ہی آگے۔
یہ سب باتیں ہماری سوچ کا رخ موڑنے کے لیے کافی ہیں۔ مگر کیا کریں کہ۔
براہیمی نظر پیدا مگر مشکل سے ہوتی ہے
ہوس چھپ چھپ کر سینوں میں بنا لیتی ہے تصویریں
اللہ ہر صورت ہر وقت ہمیں ہر طرح سے اپنی پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین۔ الحمد للہ کہ ” سورة المدثر “ مکمل ہوگئی۔