42. Surah Ash-Shura

الشورىConsultation · 53 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 42:30–43

وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِیْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍؕ Open ayah 42:30 in the Quran reader

اور جو مصیبت تم پر واقع ہوتی ہے تو وہ تمہارے اپنے ہی کاموں کی وجہ سے آتی ہے اور وہ (اللہ) بہت سے گناہ تو معاف کردیتا ہے۔

وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ١ۖۚ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ Open ayah 42:31 in the Quran reader

اور تم زمین میں اللہ کو عاجز نہیں کرسکتے اور اللہ کے سوا نہ کوئی تمہارا دوست ہے اور نہ مدد گار۔

وَ مِنْ اٰیٰتِهِ الْجَوَارِ فِی الْبَحْرِ كَالْاَعْلَامِؕ Open ayah 42:32 in the Quran reader

اور اسی کی نشانیوں میں سے سمندری جہاز ہیں جو گویا پہاڑ ہیں۔

اِنْ یَّشَاْ یُسْكِنِ الرِّیْحَ فَیَظْلَلْنَ رَوَاكِدَ عَلٰى ظَهْرِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍۙ Open ayah 42:33 in the Quran reader

اگر اللہ چاہے تو ہوا کو ٹھرا دے اور جہاز اس کی سطح پر کھڑے رہ جائیں تمام صبر اور شکر کرنے والوں کے لیے ان باتوں میں اللہ کی قدرت کے نمونے ہیں۔

اَوْ یُوْبِقْهُنَّ بِمَا كَسَبُوْا وَ یَعْفُ عَنْ كَثِیْرٍ٘ Open ayah 42:34 in the Quran reader

یا ان کے اعمال کے سبب ان کو تباہ کر دے اور بہت سے قصور معاف کر دے

وَّ یَعْلَمَ الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا١ؕ مَا لَهُمْ مِّنْ مَّحِیْصٍ Open ayah 42:35 in the Quran reader

اور ( انتقام اس لے لیا جائے کہ) جو لوگ ہماری آتیوں میں جھگڑتے ہیں وہ جان لیں کہ ان کے لیے چھٹکارا نہیں۔

فَمَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَمَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَۚ Open ayah 42:36 in the Quran reader

لوگو ! جو مال و متاع تم کو دیا گیا ہے وہ دنیا کی زندگی کا عارضی فائدہ ہے اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ بہتر اور قائم رہنے والا ہے یعنی ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے اور اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں

وَ الَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ كَبٰٓئِرَ الْاِثْمِ وَ الْفَوَاحِشَ وَ اِذَا مَا غَضِبُوْا هُمْ یَغْفِرُوْنَۚ Open ayah 42:37 in the Quran reader

اور جو بڑے بڑے گناہوں اور بےحیائی کے کاموں سے پرہیز کرتے ہیں اور جب غصہ آتا ہے تو معاف کردیتے ہیں۔

وَ الَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمْ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ١۪ وَ اَمْرُهُمْ شُوْرٰى بَیْنَهُمْ١۪ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَۚ Open ayah 42:38 in the Quran reader

اور اپنے رب کا حکم مانتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں اور اپنے کام آپس کے مشورے سے کرتے ہیں اور جو مال ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔

وَ الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَهُمُ الْبَغْیُ هُمْ یَنْتَصِرُوْنَ Open ayah 42:39 in the Quran reader

اور جب ان پر ظلم اور زیادتی ہو تو مناسب طریقے سے بدلہ لیتے ہیں۔

وَ جَزٰٓؤُا سَیِّئَةٍ سَیِّئَةٌ مِّثْلُهَا١ۚ فَمَنْ عَفَا وَ اَصْلَحَ فَاَجْرُهٗ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 42:40 in the Quran reader

اور برائی کا بدلہ تو اسی طرح کی برائی ہے مگر جو در گزر کرے اور معاملے کو درست کر دے تو اس کا بدلہ اللہ کے ذمہ ہے، اس میں شک نہیں کہ وہ ظلم کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔

وَ لَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهٖ فَاُولٰٓئِكَ مَا عَلَیْهِمْ مِّنْ سَبِیْلٍؕ Open ayah 42:41 in the Quran reader

اور جس پر ظلم ہوا ہو اگر وہ اس کے بعد انتقام لے تو ایسے لوگوں پر کچھ الزام نہیں۔

اِنَّمَا السَّبِیْلُ عَلَى الَّذِیْنَ یَظْلِمُوْنَ النَّاسَ وَ یَبْغُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 42:42 in the Quran reader

الزام تو ان لوگوں پر ہے جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور ملک میں ناحق فساد پھیلاتے ہیں یہی لوگ ہیں جن کو تکلیف دینے والا عذاب ہوگا

وَ لَمَنْ صَبَرَ وَ غَفَرَ اِنَّ ذٰلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ۠ Open ayah 42:43 in the Quran reader

اور جو صبر کرے، قصور معاف کر دے تو یہ ہمت کے کام ہیں۔

مصیبتیں اپنے اعمال کی وجہ سے ہی آتی ہیں تشریح : ان آیات میں بیشمار حکمت کی باتیں بتائی گئی ہیں جن کو سمجھ لینا اور ان پر عمل کرنا نہ صرف آسان ہے بلکہ زندگی کو آسان بناتا ہے اور پھر اللہ کی خوشنودی کا باعث بھی بنتا ہے۔ سب سے پہلے تو یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ بڑا رحمن اور رحیم ہے۔ کچھ قدرتی آفات تو اللہ کے حکم سے فضائی رد و بدل کے لیے آتی ہیں۔ کچھ گناہوں کی سزا کے طور پر قدرتی آفات کی شکل میں آتی ہیں مثلاً طوفان نوح وغیرہ اور بہت سی ایسی آفات ہیں جو انسان خود اپنے اوپر مسلط کرلیتا ہے۔ مثال کے طور پر 1945 میں امریکہ نے ناگا سا کی اور ہیرو شیما پر ایٹم بم گرا کر ظلم و ستم اور دہشت و بربریت کی ایسی مثال قائم کی کہ جو مدتوں تک انسانی تاریخ میں پڑھی جاتی رہے گی۔ یہ تباہی انسان نے خود اپنے لیے تیار کی اور استعمال بھی کی۔ اس طرح موجودہ صنعتی ترقی فضائی آلودگی کا باعث بن رہی ہے اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ انسان اللہ تعالیٰ کی خوبصورت اور صحت مند خوش گوار فضا اور کائناتی نظام کو کس طرح اپنے ہاتھوں سے نقصان پہنچا رہا ہے۔ اوزون کی تہہ جو ہمیں سورج کی غیر ضروری تپش سے بچاتی ہے وہ اس فضائی آلودگی سے پھٹنا شروع ہوچکی ہے جس کا اثر پوری دنیا کے موسموں پر پڑ رہا ہے دنیا میں جہاں برف پڑتی تھی اور گرمیوں میں کبھی پنکھے کی ضرورت محسوس نہ ہوتی تھی اب گرمی کی شدت اس قدر بڑھ گئی ہے کہ اے سی استعمال ہونے لگے ہیں۔ انسان نے تو بیشمار غلط کام شروع کر رکھے ہیں ابھی تو اللہ کی رحمت اس پر موجود ہے کہ اس کے کاموں کی پوری پوری سزا اس کو نہیں مل رہی۔ تھوڑی تھوڑی مل رہی ہے۔ یہ اللہ کا دستور ہے کہ وہ معاف کردینے کو بےحد پسند کرتا ہے۔ اسی لیے اس نے مسلمان کی زندگی کے آداب میں یہ بات لازمی رکھ دی ہے کہ اگر کوئی تمہارے ساتھ زیادتی کرے تو بدلہ میں تم بھی اس کے ساتھ اتنی ہی زیادتی کرو۔ یہ اجازت اس لیے دی گئی ہے کہ ظالم حد سے نہ بڑھ جائے بلکہ اس کو یہ معلوم ہو کہ مد مقابل اتنا بھی گیا گزرا نہیں کہ جواب میں کچھ بھی نہ ہوگا۔ یوں معاشرے میں اعتدال اور نظم و ضبط پیدا کیا جاسکتا ہے پھر یہ کہا گیا کہ اگر معاف کردینے کی کچھ گنجائش ہو تو ضرور معاف کردیا کرو کیونکہ صبر کرنے اور معاف کردینے کا بہت بڑا درجہ ہے یہ کام اللہ کو بےحد پسند ہے۔ پھر غصہ کو بےحد ناپسند کیا گیا ہے یہاں تک کہ غصہ کو حرام کہا گیا ہے۔ کیونکہ غصہ فوری طور پر انسان کی عقل کو مار کر پاگل کردیتا ہے اور پھر اس پاگل پن میں انسان سے بہت ہی برے کام ہوجاتے ہیـں یوں کہہ سکتے ہیں کہ غصہ میں ایک انسان شیطان کا بھائی بن جاتا ہے۔ اور انسان کا سب سے بڑا بوجھ غصہ ہے “۔ ایک حدیث میں ہے کہ پہلوان وہ نہیں جو کسی کو پچھاڑ دے بلکہ پہلوان تو وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے نفس (اپنے آپ) کو قابو میں رکھے “ (صحیح بخاری و مسلم) حضرت محمد ﷺ کی زندگی ہمارے سامنے بہترین نمونہ ہے۔ اہل عرب نے آپ پر کس قدر ظلم و ستم کیے مگر آپ ﷺ صبر و استقامت سے کام نہ لیتے تو آج ہمارے سامنے آپ پر نازل ہونے والا قران آپ ﷺ کی دی ہوئیـ شریعت اور آپ ﷺ کا سکھایا ہوا دین دنیا کے کسي خطہ میں دکھائی نہ دیتا۔ ہاں یہ ضرور ہوا کہ جہاں بھی مسلمانوں نے دین میں سستی کی وہاں انہوں نے مٹنا شروع کردیا۔ ورنہ دین اسلام کے دیئے ہوئے اصول زندگی دنیا و آخرت میں کامیابی کی ضمانت دیتے ہیں۔ ایک شخص پیغمبر اسلام ﷺ کے پاس آیا اس نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ ، مجھے کوئی ایسی بات بتائیے جس کو میں اپنی زندگی بنا لوں اور وہ بات مختصر ہوتا کہ میں اسے بھول نہ جاؤں آپ نے جواب دیا ” غصہ نہ کرو “۔ (مؤطا امام مالک، صفحہ 652) آخر میں مسلمان کے چند ایک فرائض شمار کرلیے جائیں۔ 1 ۔ اللہ کی وحدانیت، حاکمیت اور قدرت پر پورا یقین رکھنا۔ 2 ۔ نیکی کے راستے اختیار کرنا 3 ۔ صبر و شکر سے کام لینا 4 ۔ انتقام لیتے وقت ظلم و زیادتی سے بچنا۔ 5 ۔ غصہ پر قابر پا کر بہادری کا ثبوت دینا۔ 6 ۔ کوئی ایسا کام نہ کرنا جس سے دنیا، کائنات اور انسانوں کو نقصان پہنچے، ان کے حسن کی حفاظت کرنا۔ 7 ۔ رب کا حکم ماننا، بےحیائی اور برائی سے بچنا۔ 8 ۔ نماز پڑھنا، زکوٰۃ دینا اور ہر کام آپس میں مشورہ سے کرنا۔ 9 ۔ برائی کا بدلہ انتہائی احسن طریقہ سے لینا۔ 10 ۔ انتقام لینے کی بجائے معاملہ اللہ کے سپرد کردینا۔ 11 ۔ ظلم و ستم اور فساد نہ پھیلانا 12 ۔ دنیا کی زندگی کو عارضی سمجھنا اور آخرت پر نظر رکھنا۔ کتنی خوبصورت باتیں ہیں، بھلا ایسا انسان دنیا میں خوش کیوں نہ رہے گا اور آخرت میں اس کو بہترین ٹھکانا کیوں نہ ملے گا ؟ ضرور ملے گا۔ اللہ نے فرمایا ہے : اس کا بدلہ اللہ کے ذمہ ہے اور جو لوگ اوپر دیے گئے تمام اصولوں سے روگردانی کرتے ہیں یعنی پورا نہیں کرتے وہ بھلا سکون کی زندگی کیسے گزار سکتے ہیں ؟ ایسے ہی لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : یہی لوگ ہیں جن کو تکلیف دینے والا عذاب ہوگا اب غور کریں تو پتہ چل جائے گا کہ مسلمان اور کفار برابر نہیں ہوسکتے۔ فرعون نے کیا تھا جو دعویٰ خدائیـ کا شداد بھی بہشت بنا کر ہوا خدا نمرود بھی خدا ہی کہلاتا تھا برملا بات ہے سمجھنے کی آگے کہوں میں کیا یاں تک جو ہوچکا ہے سو ہے وہ بھی آدمی (نظیر اکبر آبادی) مطلب یہ ہے تقویٰ اور پرہیزگاری سے انسان اللہ کا مقبول بن جاتا ہے مگر جو نافرمانی کی راہ اختیار کرتا ہے تو وہ اللہ کا دشمن اور شیطان کا بھائی بن جاتا ہے یعنی اللہ کے دربار سے نکالا ہوا ناپسندیدہ انسان ایسے ہی لوگوں کے لیے جہنم کی وعید سنائی گئی ہے۔
Ayahs 42:44–46

وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ وَّلِیٍّ مِّنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ وَ تَرَى الظّٰلِمِیْنَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ یَقُوْلُوْنَ هَلْ اِلٰى مَرَدٍّ مِّنْ سَبِیْلٍۚ Open ayah 42:44 in the Quran reader

اور جس شخص کو اللہ گمراہ کرے تو اس کے بعد اس کا کوئی دوست نہیں اور تم ظالموں کو دیکھو گے کہ جب وہ دوزخ کا عذاب دیکھیں گے تو کہیں گے کیا دنیا میں واپس جانے کا کوئی راستہ ہے۔

وَ تَرٰىهُمْ یُعْرَضُوْنَ عَلَیْهَا خٰشِعِیْنَ مِنَ الذُّلِّ یَنْظُرُوْنَ مِنْ طَرْفٍ خَفِیٍّ١ؕ وَ قَالَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ الْخٰسِرِیْنَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ اَهْلِیْهِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ فِیْ عَذَابٍ مُّقِیْمٍ Open ayah 42:45 in the Quran reader

اور تم ان کو دیکھو گے دوزخ کے سامنے لائے جائیں گے ذلت سے، عاجزی کرتے ہوئے چھپی اور نیچی نگاہ سے دیکھ رہے ہوں گے اور مومن لوگ کہیں گے کہ خسارہ اٹھانے والے تو وہ ہیں جنہوں نے قیامت کے دن اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو خسارے میں ڈالاخبردار ! بیشک ظالم لوگ ہمیشہ کے عذاب میں پڑے رہیں گے۔

وَ مَا كَانَ لَهُمْ مِّنْ اَوْلِیَآءَ یَنْصُرُوْنَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ سَبِیْلٍؕ Open ayah 42:46 in the Quran reader

اور اللہ کے سوا ان کے کوئی دوست نہ ہوں گے کہ جو اللہ کے سوا ان کی مدد کرسکیں اور جس کو اللہ گمراہ کرے اس کے لیے ہدایت کا کوئی رستہ نہیں

گمراہ لوگوں کا قیامت کے دن برا حشر ہو گا تشریح : ان آیات میں غیب کی ایک بہت بڑی ڈرانے والی خبر دی گئی ہے۔ اس دنیا میں ان کو خبر دار کیا جا رہا ہے کہ ان کی زندگیاں خود ان کے لیے اور ان کے عزیز و اقارب کے لیے شرمندگی اور عذاب کا باعث ہیں اور مرنے کے بعد بھی ہوں گی۔ کیونکہ دنیا میں تو ان کے لیے یہ محاورہ ہے کر برا تو ہو برا اور آخرت میں عذاب جہنم ان کے لیے تیار کیا جا چکا ہے جس کا نقشہ ان آیات میں کھینچا گیا ہے اس وقت مومن لوگ عذاب میں ڈالے جانے والے لوگوں پر افسوس کا اظہار کر رہے ہوں گے۔
Ayahs 42:47–50

اِسْتَجِیْبُوْا لِرَبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ١ؕ مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ یَّوْمَئِذٍ وَّ مَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِیْرٍ Open ayah 42:47 in the Quran reader

ان سے کہہ دو کہ اس سے پہلے کہ وہ دن اللہ کی طرف سے آموجود ہو جو ٹلنے والا نہیں اپنے رب کا حکم قبول کرلو۔ اس دن تمہارے لیے نہ کوئی پناہ کی جگہ ہوگی اور نہ ہی تم اپنے گناہوں سے انکار کرسکو گے

فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ حَفِیْظًا١ؕ اِنْ عَلَیْكَ اِلَّا الْبَلٰغُ١ؕ وَ اِنَّاۤ اِذَاۤ اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَةً فَرِحَ بِهَا١ۚ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ فَاِنَّ الْاِنْسَانَ كَفُوْرٌ Open ayah 42:48 in the Quran reader

پھر اگر یہ منہ پھیر لیں تو ہم نے تم کو ان پر نگہبان بنا کر نہیں بھیجا تمہارا کام تو صرف احکام کا پہنچا دینا ہے۔ اور جب ہم انسان کو اپنی رحمت کا مزہ چکھا دیتے ہیں تو اس سے خوش ہوجاتا ہے اور اگر ان کو انہی کے اعمال کی وجہ سے کوئی سختی پہنچتی ہے تو سب احسانوں کو بھول جاتا ہے، بیشک انسان بڑا ناشکرا ہے۔

لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ؕ یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ اِنَاثًا وَّ یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ الذُّكُوْرَۙ Open ayah 42:49 in the Quran reader

تمام بادشاہت اللہ ہی کی ہے آسمانوں کی بھی اور زمین کی بھی وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے جسے چاہتا ہے بیٹیاں عطاء کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹے بخشتا ہے۔

اَوْ یُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَّ اِنَاثًا١ۚ وَ یَجْعَلُ مَنْ یَّشَآءُ عَقِیْمًا١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌ قَدِیْرٌ Open ayah 42:50 in the Quran reader

یا پھر بیٹے اور بیٹیاں دونوں ہی عنایت کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے بےاولاد رکھتا ہے وہ تو جاننے والا اور قدرت والا ہے “۔

اللہ کو کوئی پوچھنے والا نہیں تشریح : یہاں پھر دہرایا گیا ہے کہ نیکی ہی نجات کا راستہ ہے اگر اختیار کرلو گے تو اپنا ہی بھلا ہوگا نہیں کرو گے تو پھر سوچ لو تمہارا کوئی مدد گار، سفارش کرنے والا اور بچانے والا کوئی نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ تمام اختیارات صرف اور صرف اللہ ہی کے ہاتھ میں ہیں۔ ہر قسم کی نعمت، عزت اور آسائش دینے والا صرف اللہ ہی ہے تمام حکمتیں اس کو معلوم ہیں۔ جس کے لیے جو بہترین سمجھتا ہے وہ اس کو دیتا ہے۔ یہاں خاص طور پر ان پیروں فقیروں کی طرف جانے سے منع کیا گیا ہے جن کے پاس لوگ اپنی مرادیں مانگنے کے لیے جاتے ہیں خاص طور سے اولاد مانگنے جاتے ہیں یہ بڑی سخت شرک کی بات ہے۔
Ayahs 42:51–53

وَ مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ اِلَّا وَحْیًا اَوْ مِنْ وَّرَآئِ حِجَابٍ اَوْ یُرْسِلَ رَسُوْلًا فَیُوْحِیَ بِاِذْنِهٖ مَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیٌّ حَكِیْمٌ Open ayah 42:51 in the Quran reader

اور کسی بندے کے لیے ممکن نہیں کہ اللہ اس سے بات کرے مگر الہام کے ذریعے سے یا پردے کے پیچھے سے یا کوئی فرشتہ بھیج دے تو وہ اللہ کے حکم سے جو اللہ چاہے القا کرے بیشک وہ عالی رتبہ اور حکمت والا ہے

وَ كَذٰلِكَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا١ؕ مَا كُنْتَ تَدْرِیْ مَا الْكِتٰبُ وَ لَا الْاِیْمَانُ وَ لٰكِنْ جَعَلْنٰهُ نُوْرًا نَّهْدِیْ بِهٖ مَنْ نَّشَآءُ مِنْ عِبَادِنَا١ؕ وَ اِنَّكَ لَتَهْدِیْۤ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍۙ Open ayah 42:52 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے تمہاری طرف روح القدس کے ذریعے سے قرآن بھیجا ہے تم نہ تو کتاب کو جانتے تھے اور نہ ایمان کو، لیکن ہم نے اس کو نور بنایا ہے کہ اس سے ہم اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتے ہیں ہدایت کرتے ہیں اور بیشک اے محمد تم سیدھا رستہ دکھاتے ہو۔

صِرَاطِ اللّٰهِ الَّذِیْ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ اَلَاۤ اِلَى اللّٰهِ تَصِیْرُ الْاُمُوْرُ۠ Open ayah 42:53 in the Quran reader

یعنی اللہ کا راستہ جو آسمانوں اور زمین کی سب چیزوں کا مالک ہے۔ دیکھو سب کام اللہ کی طرف رجوع ہوں گے اور وہی ان میں فیصلہ کرے گا۔

وحی الٰہی کا طریقہ تشریح : ان آیات میں وحی الٰہی کی تین صورتیں بیان کی گئی ہیں جو درج ذیل ہیں۔ 1۔ دل میں کسی بات کا ڈال دینا یا خواب میں بتلادینا اس یقین کے ساتھ کہ یہ اللہ ہی کی طرف سے ہے جیسے ام موسیٰ کے دل میں یہ بات ڈالی گئی کہ وہ انہیں ایک صندوق میں بند کرکے دریا میں بہا دیں۔ 2۔ پردے کے پیچھے سے کلام کرنا جیسے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) سے کوہ طور پر کیا گیا تھا۔ 3۔ فرشتے کے ذریعے اپنی وحی بھیجنا جیسے جبرئیل امین (علیہ السلام) اللہ کا پیغام لے کر آتے اور پیغمبروں کو سناتے۔ ڈاکٹرمحمد حمید اللہ بڑی خوبصورت وضاحت کرتے ہیں۔ ” ایک مرتبہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ آدم (علیہ السلام) سے لے کر اب تک اللہ نے ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی بھیجے، جن میں 315 رسول تھے گویا 315 صحیفے نازل ہوئے باقی ایک لاکھ تیئس ہزار چھ سو پچاسی پیغمبروں نے اپنے پہلے نبی کی کتاب پر عمل کیا، ظاہر ہے کہ سارے پیغمبر مختلف زمانوں اور دنیا کے مختلف ملکوں میں آئے ہوں گے اور ان کی زبانیں بھی مختلف ہوں گی۔ (ازخطبات بہاولپور صفحہ 162) بہر حال مسلمان تمام آسمانی کتابوں کو مانتا ہے۔ اب یہ بات کہ اللہ کو اس پیغام رسانی (بھیجنے) کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ تو جواب یہی ہوگا کہ انسانوں کی روحانی تربیت کے لیے انہی میں سے کوئی بہترین انسان راہ دکھانے کے لیے اٹھایا جاتا رہا کیونکہ انسانی فطرت ہے کہ اکثر برائی کی طرف زیادہ بڑھنے لگتے ہیں تو ان کی ہدایت کا یہی ذریعہ ہے۔ اب کیونکہ رسول کا سلسلہ ختم ہوچکا ہے تو اب یہ فرض علماء فضلاء اور نیک بندوں بلکہ ہر بندے اور بندی کے ذمہ لگا دیا گیا ہے کہ نبی ﷺ کی دی ہوئی کتاب قرآن پاک اور شریعت کو خوب اچھی طرح سمجھیں اس پر عمل کریں اور ہر صورت دوسروں کو سکھائیں۔ نیکی کا حکم دیں، برائی سے منع کریں۔ اب وحی کے بارے میں کچھ بات ہوجائے۔ مشرکین پہلے بھی اور آج بھی وحی سے انکار کرتے آئے ہیں۔ مگر ہم مسلمان ہونے کے ناطے جب قرآن میں وحی کے بارے میں پڑھتے ہیں تو یقین کرتے ہیں۔ کیونکہ ہم اللہ کو وحدہ لا شریک لہ مانتے اور ہمارا کلمہ لا الہ الا اللہ ہمیں وحدانیت کی تعلیم دیتا ہے اور قرآن اسی کا بھیجا ہوا ہے اور قرآن ہدایت کا راستہ دکھانے کے لیے نور ہے اور یہ تمام ہدایت حکمت اور موجودہ آنے والے واقعات اور کائنات و انسان کی بناوٹ کے راز یہ سب نبی ٔ اُمی ﷺ کو اللہ نے اسی کتاب روشن کے ذریعے ہی بتائے ہیں یہی دلیل ہے نبی کے سچ ہونے کی ہم نے اس کے بارے میں آیت 51 سے 53 تک صاف صاف اور آسان لفظوں میں پڑھ لیا ہے اب اس میں شک و شبہ کی نہ گنجائش ہے نہ ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کو نور کہا ہے اور حدیث میں یوں آتا ہے : حضرت عبیدہ ملی کی ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” اے قرآن خوانی کرنے والو ! قرآن کو تکیہ مت بناؤ بلکہ اس کی تلاوت کرو اور اسے علانیہ اور خوش الحانی کے ساتھ پڑھو اور اس میں جو مضامین ہیں ان پر فوراً غور کرو کیونکہ اس طرح امید کی جاسکتی ہے کہ تمہیں کامیابی نصیب ہو اس کا ثواب حاصل کرنے میں جلدی نہ کرو کیونکہ آخرت میں اس کا ثواب لازمی ہے۔ “ اسی طرح سفیان بن عینیہ نے کہا : غور و فکر کرنا روشنی ہے جو تمہارے دل میں داخل ہوتی ہے وہ کہا کرتے تھے کہ جب آدمی کے اندر سوچ کا مادہ ہو تو ہر چیز میں اس کے لیے نصیحت اور عبرت ہوگی۔ جب اللہ کی حقیقت کسی بندے پر ظاہر ہوجاتی ہے تو اس کے ذہن میں ایک نئی روشنی آجاتی ہے۔ اور اس کی روح میں ایک خاص قسم کی پاکیزگی پیدا ہوجاتی ہے اور اس کا دل دماغ، بولناچلنا، سونا جاگنا غرض ہر کام اللہ کی رضا کے لیے ہوتا ہے گویا اس کو اپنے رب سے پیار ہوجاتا ہے۔ اس کو نہ کوئی خوف رہتا ہے اور نہ ڈر ایسا بندہ ایک مضبوط بندہ بن جاتا ہے۔ اور ایک مضبوط بندے کی تعریف ہم یوں کرسکتے ہـیں۔ وہ آسائشوں آرزؤں اور دینوی عیش و آرام سے بےنیاز ہوتا ہے۔ اس میں تکبر نہیں ہوتا وہ کسی کو تکلیف یا رنج پہنچانا پسند نہیں کرتا، انتہائی نرم مزاج خوش خلق اور نیک نیت مخلص انسان ہوتا ہے۔ اسی لیے وہ پر سکون ہوتا ہے اور کوئی بھی فیصلہ کرتے ہوئے اس کو نہ دیر لگتی ہے اور نہ پریشانی ہوتی ہے۔ ایسے لوگ اللہ پر پورا بھروسہ رکھتے ہیں اور وہ موت سے بھی نہیں ڈرتے اس وقت بھی ان کے لبوں پر مسکراہٹ ہوتی ہے۔ ایک پاکیزہ روح اور صاف دل رکھنے والے بندے کی تعریف حضور ﷺ یوں کرتے ہیں، ” رب العزت کو آسمان و زمین سما نہیں سکتے مگر مومن کا دل “۔ یعنی مومن کا دل پوری کائنات سے زیادہ وسیع اور پاکیزہ ہوتا ہے۔ ایسے ہی لوگ اللہ کے مقبول یعنی ولی اللہ کہلانے کے حق دار ہوتے ہیں رب العزت اپنے ایسے محبوب بندے کی قدر اس طرح کرتا ہے کہ وہ خود اس کا دل دماغ، ہاتھ آنکھیں اور زبان بن جاتا ہے۔ اور یوں بندہ اپنی ہمت کے مطابق اللہ کا ذکر کرتا رہتا ہے اور اللہ اپنی رحمت فضل و کرم اور مہربانی سے اس بندے کا ذکر زمین و آسمان میں پھیلا دیتا ہے۔ جیسا کہ نبی پاک ﷺ کی ذات پاک ہمارے سامنے ہے۔ اور آپ کی زندگی کا وہ پہلو بھی ہمارے سامنے ہے کہ آپ ﷺ نے اللہ کی راہ میں کس قدر جان ماری، مشکلات، پریشانیاں اور تکلیفیں خوش ہو کر برداشت کیں تب جا کر کہیں یہ مرتبہ حاصل کیا۔ رہتی دنیا تک ان کا نام دنیا کے تمام مسلمان عزت و احترام سے لیتے رہیں گے ان کے دیے ہوئے قرآن اور اسوہ حسنہ کی روشنی میں زندگیاں گزار کر دنیا و آخرت میں مسرت و شادمانی کامیابی اور نجات حاصل کرتے رہیں گے۔ اللہ ہمیں اس پر ثابت قدم رکھے۔ آمین۔ خلاصہ سورة الشوریٰ یہ سورت بھی توحید و رسالت اور حقانیت قرآن کے موضوع پر مشتمل ہے کیونکہ ثواب و عقاب کا انحصار انہیں سے ہے جو کوئی ان پر ایمان لے آیا اور ان کے تقاضوں کو پورا کیا تو وہ کا میاب وکامران ہے اور جس نے ان سے بےرخی اختیار کی وہ ناکام اور نامراد ہے جہنم اس کا ٹھکانا بنے گی اور یقینا وہ برا ٹھکا نا ہے۔ اللہ کے رسول کا فرمان ہے : جس نے سچے دل سے کلمہ لا ا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پڑھا وہ جنت میں جائے گا۔ “ اور یہ بھی آپ کا فرمان ہے کہ ” بھلائی کی طرف متوجہ کرنے والے کو ان تمام انسانوں کے برابر ثواب اور اجر ملے گا جو قیامت تک اس بھلائی کو اختیار کیے رہیں گے۔ “ ایک سچے اور پکے مسلمان کی زندگی بذات خود تبلیغ کا ذریعہ بن جاتی ہے کیونکہ اس کی زندگی اور روح یعنی اعمال اور الفاظ اس قدر پاکیزہ، با معنی، خوبصورت اور دل کو بھانے والے ہوتے ہیں کہ ہر ملنے والا دیکھنے والا اسلام کی برکتوں سے خود بخود واقف ہوجاتا ہے اور وہ بےاختیار اسلام کی طرف راغب ہونے لگتا ہے۔ (شعور حیات از محمد یوسف اصلاحی) یہاں ہم ایک چھوٹی سی کہانی علامہ اقبال کی زبانی بیان کرتے ہیں۔ ایک غیر مسلم بڑے آفسیر اپنے گھر آئے تو بیوی نے کہا میں مسلمان ہوگئی ہوں، میاں حیران ہوئے پوچھا، یہ رستہ تجھے کس نے دکھایا ہے ؟ تو بولی یہ راستہ ایک غریب خستہ حال دھوبن نے دکھایا۔ میں جب اس سے پریشان حالی کی بات کرتی ہوں تو وہ جواب دیتے ہوئے کہتی۔ بڑے پر سکون لہجہ میں مسکرا کر کہتی ہے : اللہ مالک ہے، اس کا بڑا شکر ہے، وہ بڑا مہربان ہے، اس کے شکر کا حق ادا نہیں ہوتا، بی بی کوئی فکر کی بات نہیں سب کا اللہ مالک ہے ‘۔ یہ سب سن کر مجھے سخت ندامت ہوئی کہ جو سکون اور خوشی اس خستہ حال غریب دھوبن کو حاصل ہے۔ دنیا کی ہر نعمت حاصل ہونے کے باوجود مجھے میسر نہیں، یقینا یہ اس کے دین کی برکت ہے اور اس کا دین واقعی اللہ کا سچا دین ہے۔ اسی لیے میں نے اپنے اللہ کا کلمہ پڑھا اور ایمان لے آئی۔ آپ بھی اپنے اللہ کا کلمہ پڑھیں اور اس پر ایمان لے آئیں۔ آپ نے دیکھا غریب مسکین محنت کش دھوبن نے کوٹھیوں میں رہنے والی امیر عورت کو اپنے کردار افعال اور الفاظ سے اسلام کی دولت سے مالا مال کردیا۔ اسلام اللہ کا دین ہے اس میں بڑی کشش ہے، بےپناہ تاثیر ہے اور جذب کرنے کی غیر معمولی قوت ہے۔ سوچئے کہ آپ کس طرح اسلام کی نمائندگی کا حق ادا کر رہے ہیں، اور آپ کی زندگی سے اسلام کی کیا ترجمانی ہو رہی ہے ؟ دعا : اے اللہ میں تجھ سے ہدایت، تقوی درگزر اور غنیٰ مانگتی ہوں۔ اے اللہ میں تجھ سے مانگتی ہوں تندرستی ایمان کے ساتھ اور ایمان حسن اخلاق کے ساتھ “۔ (مستدرک حاکم عن ابی ہریرہ ؓ